بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 23: سبق 23: المنافقون، التغابن، طلاق، تحریم — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

سورہ المنافقون آیت 1۔ کے مطابق منافقین نبی ﷺ کے پاس آکر کیا گواہی دیتے تھے

جواب

جواب منافق نبی کریم ﷺ کے پاس آکر کہتے تھے: نَشهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِ یعنی ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں“، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اس قول میں جھوٹے ہیں کیونکہ ان کے دل میں ایمان نہیں تھا۔
2 مختصر جوابات

آیت 4 (ھم العدو فاحذرھم — آیت میں منافقوں کو کیا تنبیہ کی گئی؟

جواب

جواب اس آیت میں تنبیہ کی گئی ہے کہ منافقین بظاہر جسم و صورت اور باتوں میں اچھے لگتے ہیں، لیکن بزدل اور کھوکھلے ہوتے ہیں؛ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ یعنی ”یہی تمہارے پکے دشمن ہیں، ان سے بچ کر رہو“۔
3 مختصر جوابات

لَن يَغِرَ ٱللَّهُ لَهُ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهدِي ٱلْقَوْمَ ٱلْفَاسِقِينَ

آیت 6: اس آیت میں منافقین کی کیا محرومی بیان کی گئی ہے

جواب

جواب اس آیت کی رو سے منافقین کی یہ محرومی بیان کی گئی ہے کی ان کے حق میں برابر ہے کہ آپ ان کے لیے معافی مانگیں یا نہ مانگیں، اللہ انھیں ہرگز معاف نہیں کرے گا کیونکہ اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
4 مختصر جوابات

لَا تُلهِكُم أَموَٰلُكُم وَلَآ أَولَٰدُكُم عَن ذِكرِ ٱللَّهِ

آیت 9: اس آیت میں اہل ایمان کو کیا نصیحت کی گئی ہے

جواب

جواب اہل ایمان کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ ”تمہارے مال اور اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کریں“، اور جو ایسا کریں گے وہی خسارے میں ہوں گے۔
5 مختصر جوابات

يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

سورہ التغابن آیت 4: اس آیت میں اللہ کے علم کی کیا شان بیان کی گئی ہے

جواب

جواب اس آیت میں اللہ کے علم کی یہ شان بیان کی گئی ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے، جو تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو سب سے آگاہ ہے اور دلوں کے رازوں تک کو جانتا ہے۔
6 مختصر جوابات

قُل بَلٰی وَ رَبِّی لَتُبعَثُنَّ ثُم لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلتُمۡ

سورہ تغابن آیت 7 میں مرنے کے بعد اٹھائے جانے کے حوالے سے کیا بتایا گیا؟

جواب

جواب ۔ مرنے کے بعد اٹھائے جانے کے بارے میں کافروں کے اس دعویٰ کا رد کیا گیا کہ وہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے، اور فرمایا: یعنی ”کہہ دیجیے کہ کیوں نہیں! میرے رب کی قسم! تم ضرور اٹھائے جا پھر تمہیں بتلایا جائے گا جو تم نے کیا“۔
7 مختصر جوابات

فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسَطَعُموَ اسمَعُوا وَ اَطِیعُو ا وَ اَنفِقُوا خَیرًا لِّاَنفُسِکُمۡ

سوارہ تغابن آیت 16 میں اہل ایمان کو کیا ہدایت دی گئی؟

جواب

جواب اہل ایمان کو ہدایت دی گئی ہے کہ یعنی ”اللہ سے ڈرو جتنی تمہاری استطاعت ہے، اور (اس کا حکم) سنو اور اطاعت کرو اور اپنے لیے مال خرچ کرو“، اور جو شخص اپنے دل کی تنگی (بخل) سے بچا لیا گیا وہی کامیاب ہے۔
8 مختصر جوابات

اِنۡ تُۡقۡرِضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعِفۡہُ لَکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ

سورہ تغابن آیت 17 میں قرض حسنہ دینے پر کن انعامات کا ذکر ہے؟

جواب

جواب قرض حسنہ دینے پر انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یعنی ”اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا“، اور اللہ بڑا قدر شناس اور بردبار ہے۔

تفصیلی جوابات

9 تفصیلی جوابات

يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَٰكِنَّ لَا يَعْلَمُونَ

سورہ منافقون (آیت 8) ترجمہ و تشریح کریں

ترجمہ

وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ واپس لوٹ کر گئے تو عزت والا ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا، حالانکہ عزت صرف اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے ہے، لیکن منافق نہیں جانتے۔

تشریح

جواب یہ قول عبد اللہ بن ابی بن سلول (رئیس المنافقین) کا تھا جو اس نے غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر مسلمانوں کے خلاف کہی تھی۔ اس نے غرور میں آکر کہا کہ مدینہ پہنچ کر طاقتور (وہ خود کو سمجھتا تھا) کمزور (معاذ اللہ! نبی کریم ﷺ) کو نکال دے گا۔ اللہ تعالی نے اس کے اس گھمنڈ کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ حقیقی عزت اللہ، اس کے رسول اور اہلِ ایمان کا خاصہ ہے، کافر اور منافق اس حقیقت سے ناواقف ہیں۔
10 تفصیلی جوابات

وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا وَوَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

سورہ منافقون (آیت 11) ترجمہ و تشریح کریں۔

ترجمہ

اور جب کسی کا مقررہ وقت آ جاتا ہے تو اللہ اسے ہرگز ہرگز مہلت نہیں دیتا، اور اللہ تمہارے سب اعمال سے خوب باخبر ہے۔

تشریح

جواب اس آیت میں مال اور اولاد کی محبت میں پڑ کر اللہ کی یاد اور انفاق سے غافل رہنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ موت کا وقت طے شدہ ہے، جب وہ آ جائے تو ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں ہوتی۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ مال کے پیچھے پاگل ہونے کے بجائے اپنے اعمال درست کرے کیونکہ اللہ ہر عمل سے باخبر ہے۔
11 تفصیلی جوابات

يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ وَمَن يُؤْمِن بَّلِيلِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

سورہ تغابن (آیت 9) ترجمہ و وضاحت کریں

ترجمہ

جس دن وہ تمہیں جمع کرنے کے دن جمع کرے گا، وہ ہار جیت کا دن ہوگا۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، اللہ اس کے گناہ مٹا دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

تشریح

جواب قیامت کے دن کو ”يوم التغابن“ (نفع و نقصان یا دھوکے کا دن) اس لیے کہا گیا ہے کہ اس دن اہل جنت کافروں اور منافقوں کے مقابلے میں نفع میں رہیں گے اور کافر اپنے کفر کی وجہ سے شدید خسارے اور گھاٹے میں پڑ جائیں گے۔ ایمان اور عملِ صالح ہی اس دن نقصان سے بچنے کا واحد ذریعہ ہیں۔
12 تفصیلی جوابات

َا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

سورہ تغابن آیت 14 — ترجمہ و شان نزول

ترجمہ

اے ایمان والو! بے شک تمہاری بیویاں اور تمہارے بچے تمہارے بعض دشمن ہیں، سو ان سے ہوشیار رہو، اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا، مہربان ہے۔

شا ن نزول

1 واقعہ ہجرت میں رکاوٹ — مکہ مکرمہ میں جب کچھ لوگ مسلمان ہوئے اور انہوں نے مدینہ ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کے اہل خانہ (بیویوں اور بچوں) نے محبت یا مجبوری کی بنا پر انہیں جانے سے منع کیا۔
2 پشیمانی اور غصہ — جب وہ لوگ بعد میں ہجرت کر کے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ پہلے سے موجود مسلمانوں نے دین کی سمجھ حاصل کر رکھی ہے۔ اس پر انہیں اپنے بیوی بچوں پر سخت غصہ آیا جنہوں نے انہیں نیکی کے اس کام سے روکا تھا، اور انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے اہل خانہ کو اس بات کی سزا دیں گے۔
3 الہی ہدایت — اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان کی محبت کبھی کبھی انسان کو احکامِ الٰہی سے غافل کر کے دشمن جیسا نقصان پہنچا دیتی ہے، لہٰذا بچ کر رہو لیکن اگر وہ غلطی پر نادم ہوں یا تم انہیں معاف کر دو تو اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والوں کو معاف فرماتا ہے

سرگرمیاں

13 سرگرمیاں

نفاق کی علامات، منافقین مدینہ کا کردار اور انجام (سورہ منافقون کی رو سے)

1 نفاق کی علامات: — زبان سے کچھ اور دل میں کچھ رکھنا (قول و فعل کا تضاد)۔
2 نفاق کی علامات: — جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے غلط فیصلوں یا بیانات کو سچ ثابت کرنا۔
3 نفاق کی علامات: — مال و دولت اور ظاہری جسمانی ٹھاٹھ پر اترانا مگر اندر سے بزدل ہونا۔
4 نفاق کی علامات: — اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا مذاق اڑانا اور رکاوٹیں ڈالنا۔
5 مدینہ کے منافقین کا کردار: — وہ مسلمانوں کے ساتھ بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتے لیکن اندر سے کفار کے ہمنوا تھے۔
6 مدینہ کے منافقین کا کردار: — وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے اور مسلمانوں میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتے تھے۔
7 مدینہ کے منافقین کا کردار: — عبد اللہ بن ابی کی قیادت میں انہوں نے ہمیشہ اسلامی اجتماعیت کو کمزور کرنے کی ناکام کوششیں کیں۔
8 انجام: — دنیا میں رسوائی ان کا مقدر بنی، اور اللہ نے وحی کے ذریعے ان کے راز فاش کر دیے۔
9 انجام: — آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم کا نچلا ترین طبقہ (درک الاسفل من النار) ہو گا جہاں انہیں کوئی مددگار نہیں ملے گا۔
14 سرگرمیاں

سورہ تغابن (آیت 14 تا 18) میں اہل ایمان کے لیے مفید امور

1 تقویٰ اختیار کرنا — حتی الامکان اللہ کے احکام کی تعمیل اور نافرمانی سے بچنا۔
2 سمع و طاعة — اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو غور سے سننا اور دل سے ماننا۔
3 انفاق فی سبیل اللہ — اپنی ذات پر مال خرچ کرنے کے ساتھ اللہ کی راہ میں دل کھول کر دینا، جو نفس کی بخل سے نجات کا ذریعہ ہے۔
4 قرض حسنہ — اللہ کو قرضِ حسنہ دینا (خلوصِ نیت سے صدقہ و خیرات کرنا) جس کا کئی گنا اجر اور مغفرت کا وعدہ ہے۔
15 سرگرمیاں

قرآن و سنت کی رو سے انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت اور فضائل

فضائل:

1 اہمیت: قرآن مجید میں بارہا نماز کے ساتھ زکوٰۃ اور انفاق کا حکم آیا ہے۔ یہ مال کی پاکیزگی اور معاشرے میں معاشی توازن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
2 قرآن میں انفاق کی مثال اس دانے جیسی دی گئی ہے جس سے سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔
3 حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔
4 صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ اس میں برکت ہوتی ہے۔
16 سرگرمیاں

مصائب پر مومن کا طرزِ عمل اور سیرت طیبہ کی مثال

1 طرزِ عمل: مومن مصیبت یا آزمائش آنے پر صبر کرتا ہے، جزع فزع نہیں کرتا اور ”إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ پڑھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر تکلیف اللہ کے اذن سے ہے اور اس میں بھی کوئی بہتری پوشیدہ ہے۔
جواب سیرتِ نبوی ﷺ: طائف کا سفاکانہ واقعہ ہو یا شعبِ ابی طالب کی گھٹن، غزوہ احد میں دندانِ مبارک کی شہادت ہو یا فرزندِ ارجمند حضرت ابراہیم کا وصال؛ نبی کریم ﷺ نے ہر مشکل گھڑی میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ احد کے دن زخمی ہونے کے باوجود آپ ﷺ نے شکر اور دعا کا اسلوب اپنایا، ناشکری یا بددعا کی بجائے عفو و درگزر کا مظاہرہ فرمایا۔
17 سرگرمیاں

۔ اللہ کی صفات (سورہ تغابن کی رو سے)

1 غفور و رحیم — اللہ تعالیٰ اپنے ماننے والوں کی غلطیاں معاف کرنے والا اور ان پر رحم کرنے والا ہے۔
2 علیم الغیب والشہادہ — وہ چھپی ہوئی اور کھلی ہوئی ہر چیز کو اچھے سے جانتا ہے۔
3 عزیز — وہ بہت زیادہ طاقتور اور زبردست ہے جس پر کوئی غلبہ نہیں پا سکتا۔
4 حکیم — وہ ہر کام حکمت اور دانائی کے ساتھ کرنے والا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.