بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 19: سبق 19: سورہ المجادلہ، سورہ الحشر — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

اَلَّذِیۡنَ یُظٰهِرُوۡنَ مِنۡکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ ٭ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔیۡ وَلَدۡنَهُمۡ ٭ وَاِنَّهُمۡ لَیَقُوۡلُوۡنَ مُنۡکَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا ٭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ

ظہار کرنے والوں کو کس حقیقت سے آگاہ کیا گیا؟ (آیت ۲)

جواب۔ حقیقت

جواب اس آیت کے ذریعے ظہار کرنے والوں کو آگاہ کیا گیا کہ شوہروں کے اس طرح ظہار کردینے سے بیویاں ان کی مائیں نہیں بن جاتیں۔ حقیقی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا (پیدا کیا) ہے۔ بیوی کو ماں قرار دینا ایک نہایت ناپسندیدہ، منکر اور سراسر جھوٹی بات ہے۔
2 مختصر جوابات

فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَهۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ فَإِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡکِيۡنًا ۚ ذٰلِكَ لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِۦ ۚ وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ ۗ وَلِلۡکٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ

ظہار کا کیا کفارہ بیان ہوا؟ (آیت ۴)

جواب۔ کفارہ

جواب ظہار کا کفارہ یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو چھونے (مباشرت کرنے) سے قبل ایک غلام آزاد کریں۔ اگر غلام نہ ملے تو پے در پے (لگاتار) دو مہینے کے روزے رکھیں۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔
3 مختصر جوابات

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الۡاَذَلِّيۡنَ

اللہ اور رسول کی مخالفت کرنے والوں کا کیا انجام بیان ہوا؟ (آیت ۲۰)

جواب۔ انجام

جواب جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت اور دشمنی مول لیتے ہیں، وہ اللہ کے نزدیک تمام مخلوق میں سے سب سے زیادہ ذلیل اور پست لوگوں میں شامل ہوں گے
4 مختصر جوابات

اِنَّمَا الۡنَّجۡوَىٰ مِنَ الۡشَّیۡطٰنِ لِیَحۡزُنَ الَّذِيۡنَ ءامَنُوۡا وَلَیۡسَ بِضَآرِّهِمۡ شَیۡئًا اِلَّا بِإِذۡنِ اللّٰهِ ۚ وَعَلَى اللّٰهِ فَلَیۡتَوَکَّلۡ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ

سرگوشی کے کیا مقاصد بیان ہوئےَ؟ (آیت ۱۰)

جواب۔ مقاصد

جواب گناہ، زیادتی اور نافرمانی پر مبنی پوشیدہ مشورے (سرگوشیاں) شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، اور اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اہلِ ایمان کو رنجیدہ اور غمگین کرے۔ تاہم، اللہ کے اذن کے بغیر شیطان مسلمانوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔
5 مختصر جوابات

اِتَّخَذُوۡۤا اَیۡمَانَهُمۡ جُنَّةً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰهِ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ

اس آیت میں منافقین کا کیا طرزِ عمل بیان ہو رہا ہے۔ (آیت ۱۶)

جواب۔ طرزِ عمل

جواب منافقین کا یہ رویہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی جھوٹی قسموں کو (بچاؤ کے لیے) ڈھال بنا رکھا ہے، جس کی آڑ لے کر وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔
6 مختصر جوابات

اِسۡتَحۡوَذَ عَلَیۡهِمۡ الۡشَّیۡطٰنُ فَاَنۡسٰىهُمْ ذِكۡرَ اللّٰهِ ٭ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ الۡشَّیۡطٰنِ ٭ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبُ الۡشَّیۡطٰنِ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ

جن پر شیطان غلبہ پالے ان کا انجام کیا ہوتا ہے (آیت ۱۹)

جواب۔ انجام

جواب جن لوگوں پر شیطان مکمل غلبہ اور قابو پا لیتا ہے، وہ انہیں اللہ کی یاد بھلا دیتا ہے۔ ایسے لوگ شیطان کا لشکر (گروہ) ہیں اور خبردار! وہی خسارہ اور نقصان اٹھانے والے ہیں
7 مختصر جوابات

کَتَبَ اللّٰهُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ ۚ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ

حقیقی غلبہ کس کا ہے؟ (آیت ۲۱)

جواب حقیقی غلبہ

جواب اس آیت کے مطابق حقیقی غلبہ اللہ اور اس کے رسولوں کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات طے اور تحریر فرما دی ہے کہ وہی اور اس کے سچے پیغمبر غلبہ پائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ زبردست اور بڑی قوت والا ہے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

یوم یبعثھم اللہ جمیعا فیبعثھم بما عملوا ۔ احصٰہ اللہ و نسوہ واللہ علی کل شئی شھیدا۔

آیت 6۔ ترجمہ و مفہوم کریں۔

ترجمہ

”جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا پھر انہیں بتائے گا ان اعمال کے بارے میں جو انہوں نے کیے۔ اللہ نے ان کو شمار کر رکھا ہے اور وہ اسے بھول گئے ہیں، اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔“

مفہوم

جواب انسان اپنے اعمال بھول جاتا ہے مگر اللہ کے پاس ہر چھوٹے بڑے عمل کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ قیامت کے دن انسان کو اس کے ایک ایک عمل سے باخبر کیا جائے گا۔
9 تفصیلی جوابات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

ترجمہ و تشریح بیان کریں۔

ترجمہ

”اے ایمان والو! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہ کرو، اور نیکی اور پرہیزگاری کی باتیں کرو، اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔“

تشریح

1 تناجی (سرگوشی) — اس سے مراد دو یا چند افراد کا ساتھ بیٹھ کر ایسی پوشیدہ بات یا مشورہ کرنا ہے جو دوسرے نہ سن سکیں۔
2 منہی عنہ امور — اسلام میں ایسی پوشیدہ سرگوشیاں یا خفیہ منصوبے بنانا منع ہیں جو کسی پر ظلم (عدوان)، گناہ (اثم) یا رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کا باعث بنیں۔ (جیسا کہ مدینہ کے منافقین مسلمانوں کے خلاف کینے اور سازشیں کرتے تھے)۔
3 مطلوبہ امور — اس کے برعکس، مومنین کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر وہ خفیہ مشورہ کریں تو وہ نیکی (برّ) اور پرہیزگاری (تقویٰ) پر مبنی ہونا چاہیے، جس سے معاشرے میں بہتری پھیلے۔
4 آخرت کا احساس — آیت کے آخر میں اللہ نے یاد دہانی کرائی ہے کہ سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے، اس لیے ہر خفیہ اور ظاہری عمل میں اس کی پکڑ کا ڈر رکھنا چاہیے۔
10 تفصیلی جوابات

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةًؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُؕ-فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ

ترجمہ و تشریح کریں۔

ترجمہ

”اے ایمان والو! جب تم رسول سے تنہائی میں کوئی بات عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو، یہ تمہارے لیے بہت بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے، پھر اگر تم اس پر قدرت نہ پاؤ تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔“

مکمل تشریح

1 پس منظر اور حکم — ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ وہ نبی کریم ﷺ سے تنہائی میں طویل گفتگو یا مشورے کرے۔ اس کثرتِ سوال اور بلاضرورت سرگوشیوں سے آپ ﷺ کو زحمت اور تکلیف ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ منافقین بھی بلاوجہ باتیں کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا تاکہ اس رجحان کی حوصلہ شکنی ہو۔
2 بہتر اور پاکیزہ کیوں؟ — اس حکم میں ایک تو فقراء اور مساکین کی مالی مدد تھی، اور دوسرا انسان کے نفس کا تزکیہ اور طہارت تھی کہ وہ صدقہ دے کر اطاعتِ الٰہی کا ثواب حاصل کرے۔
3 غریبوں کے لیے رخصت — آیت کے آخری حصے میں ان لوگوں کو چھوٹ دی گئی جو مالی حیثیت نہیں رکھتے تھے یا صدقہ دینے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ ایسے غریب افراد کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ معاف ہیں کیونکہ اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔
4 منسوخی (نسخ) — یہ حکم زیادہ طویل عرصہ نافذ نہیں رہا۔ جب صحابہ کرام نے اس خوف سے کہ کہیں وہ غریبوں کی مدد سے محروم نہ رہ جائیں یا مالی بوجھ نہ پڑ جائے، سرگوشیاں کم کر دیں، تو اس کے فوراً بعد اگلی آیت (آیت 13) نازل ہو کر اس پابندی کو ہمیشہ کے لیے معاف اور منسوخ کر دیا گیا
11 تفصیلی جوابات

اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مَّا هُمْ مِّنْكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

ترجمہ و مفہوم لکھیں آیت ۔14

ترجمہ

”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہوں نے ایسی قوم سے دوستی کی جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا؟ وہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے، اور وہ جانتے بوجھتے جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔

مفہوم

جواب منافقین کی دوغلی پالیسی کا ذکر ہے کہ وہ مسلمانوں کے دشمنوں سے خفیہ تعلقات رکھتے ہیں اور اپنے مفاد کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

سورہ المجادلہ کے مطابق آدابِ مجلس

1 مجلس میں جب کشادگی پیدا کرنے (جگہ کھلی کرنے) کا کہا جائے تو جگہ کشادہ کرو۔
2 جب مجلس سے اٹھ جانے کا حکم ملے تو اٹھ جاؤ، اللہ اہل ایمان اور اہل علم کے درجات بلند کرتا ہے۔
3 مجلس میں بیٹھ کر گناہ، ظلم اور نافرمانی کی سرگوشیاں کرنے سے اجتناب کرو۔
4 باہم گفتگو ہمیشہ نیکی، بھلائی اور تقویٰ کے دائرے میں رکھو۔
13 سرگرمیاں

احادیث مبارکہ سے آدابِ مجلس

1 اجازت لینا — نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا کہ جب تین افراد ہوں تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کریں، کیونکہ اس سے تیسرے کو رنج ہوتا ہے (بخاری و مسلم)۔
2 رازداری — مجلس کی باتیں امانت ہوتی ہیں، کسی کی اجازت کے بغیر اس کے راز فاش کرنا درست نہیں۔
3 سلام کرنا — مجلس میں داخل ہوتے وقت اور وہاں سے اٹھتے وقت سلام کرنا مسنون ہے۔
4 ذکرِ الٰہی — جس مجلس میں اللہ کا ذکر اور درود نہ ہو، وہ مجلس حسرت کا باعث بنتی ہے۔
14 سرگرمیاں

سرگوشی کے حوالے سے حدیث

جواب رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، یہاں تک کہ تم لوگوں میں مل جاؤ، کیونکہ یہ بات تیسرے شخص کو غمزدہ کرتی ہے“ (صحیح مسلم)۔
15 سرگرمیاں

ظہار کا مفہوم اور احکام

1 جاہلیت کے دور میں شوہر اپنی بیوی کو کہہ دیتا تھا ” مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے“ (یعنی تم میرے لیے ماں کی طرح محرم ہو)، جسے وہ طلاق اور حرمت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسلام نے اس قبیح رسم کو باطل قرار دیا۔
2 احکام و کفارہ — اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرے اور پھر اپنے کہے سے رجوع کرنا چاہے (بیوی کے ساتھ ازدوجی تعلقات بحال کرنا چاہے) تو بیوی کو چھونے (مباشرت) سے پہلے اسے کفارہ ادا کرنا ہوگا: ایک غلام آزاد کرنا۔
3 اگر غلام نہ ملے تو لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا۔
4 اگر اس کی طاقت بھی نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔
16 سرگرمیاں

حزب اللہ اور حزب الشیطان کی تفصیل

1 حزب اللہ (اللہ کا گروہ) — یہ وہ مخلص لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے احکامات پر سختی سے کاربند رہتے ہیں، جن کے دلوں میں ایمان راسخ ہوتا ہے، جو دنیا میں تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں اور جن کا انجام فلاح اور دائمی کامیابی ہے۔
2 حزب الشیطان (شیطان کا گروہ) — یہ وہ لوگ ہیں جن پر شیطان مسلط ہوچکا ہے، جنہوں نے خدا کی یاد اور احکامات کو بھلا دیا ہے، جو گناہ، سرکشی اور منافقت کا راستہ اپناتے ہیں، اور قرآن کے مطابق یہی لوگ خسارے اور ناکامی کا شکار ہونے والے ہیں۔
17 سرگرمیاں

مضمون: علم روشنی ہے

علم روشنی ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ علم انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر شعور، حق اور ترقی کی راہ دکھاتا ہے۔ یہ فکری بیداری، اخلاقی بہتری اور مادی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ علم ایک ایسی نورانی حقیقت ہے جو انسان کو اندھیروں، جہالت، گمراہی اور توہم پرستی سے نکال کر روشنی، حق شناسی اور شعور کی طرف لے جاتی ہے۔ قرآن پاک نے علم کی فضیلت کو جابجا اجاگر کیا ہے اور صاحبِ علم لوگوں کو بلند مقام سے نوازا ہے۔ علم ہی کی بدولت انسان اپنے خالق و مالک کی پہچانی کرتا ہے، کائنات کے اسرار سمجھتا ہے اور اخلاقی و روحانی بلندی حاصل کرتا ہے۔ جہالت انسان کو پستی کی طرف دھکیلتی ہے جبکہ علم زندگی کے ہر موڑ پر بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

1 جہالت کا خاتمہ — اندھیروں سے رہنمائی — علم انسان کو غلط اور صحیح میں فرق سکھاتا ہے۔
2 جہالت کا خاتمہ — سوچ کی آزادی — یہ توہم پرستی اور خوف کو ختم کرتا ہے۔
3 جہالت کا خاتمہ — شعور کی بیداری — انسان اپنے حقوق اور فرائض کو بہتر طور پر سمجھتا ہے۔
4 انفرادی اور معاشرتی ترقی — معاشرتی استحکام — تعلیم یافتہ معاشرہ جُرم اور ناانصافی سے پاک ہوتا ہے۔
5 انفرادی اور معاشرتی ترقی — معاشی خوشحالی — علم ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرتا ہے۔
6 انفرادی اور معاشرتی ترقی — اخلاقی بلندی — یہ انسان میں برداشت، عاجزی اور انسانیت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
7 سائنسی اور عملی فوائد — نت نئی ایجادات — سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا راز علم میں پوشیدہ ہے۔
8 سائنسی اور عملی فوائد — مشکلات کا حل — علم انسان کو قدرت کی طاقتوں کو مسخر کرنے اور مسائل سے نبرد آزما ہونے کا ہنر دیتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.