بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 1: سبق 1: سورہ النسآء — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبا

سورہ النساء کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی افزائش کے حوالے سے کیا بتایا؟

ترجمہ

”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیں، اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتوں (کو توڑنے) سے بچو، بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔“

اس آیت میں انسانی نسل کے آغاز اور اس کے پھیلاؤ کے بارے میں چند نہایت اہم حقائق بیان کیے گئے ہیں:

افزائشِ نسل کے حوالے سے اہم نکات

1 واحد نقطہ آغاز — تمام انسانوں کا اصل اور مرکز ایک ہی ہے، یعنی حضرت آدم علیہ السلام۔
2 تخلیقِ زوج — انسانی نسل کو آگے بڑھانے کے لیے اسی ایک جان سے ان کا جوڑا (حضرت حوا علیہا السلام) کو پیدا کیا گیا۔
3 نسل کا پھیلاؤ — حضرت آدم اور حضرت حوا کے ملاپ سے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بے شمار مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔
4 مساوات کا درس — کیونکہ سب کی اصل ایک ہی ہے، اس لیے رنگ، نسل یا زبان کی بنیاد پر کسی کو کسی پر برتری حاصل نہیں ہے۔
5 خاندانی روابط کی اہمیت — آیت کے آخر میں ”الْأَرْحَامَ“ (رحم کے رشتوں) کا ذکر کر کے یہ واضح کیا گیا کہ افزائشِ نسل کے نتیجے میں بننے والے رشتوں اور قرابت داریوں کا احترام لازمی ہے۔
2 مختصر جوابات

وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا

سورۃ النساء کی آیت نمبر 2 میں بہت بڑا گناہ ( حُوبًا كَبِيرًا ) کس عمل کو قرار دیا گیا ہے۔

ترجمہ

”اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو۔ اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔“

اس آیت کی روشنی میں مفسرین (جیسے تفسیر ابن کثیر) نے درج ذیل تین بنیادی باتوں کو واضح کیا ہے جن کا ارتکاب ”حُوبًا كَبِيرًا“ یعنی بہت بڑا گناہ ہے:

آیت میں کن اعمال کو بڑا گناہ کہا گیا ہے؟

1 یتیموں کا مال روک کر رکھنا — جب یتیم بچے بالغ اور سمجھدار ہو جائیں، تو ان کی امانتیں دیانت داری سے ان کے حوالے نہ کرنا۔
2 مال کی بددیانتی سے تبدیلی — یتیم کا اچھا اور قیمتی مال (جیسے تندرست جانور یا اعلیٰ زمین) خود لے لینا اور اس کے بدلے اپنا گھٹیا یا عیب دار مال ان کے کھاتے میں ڈال دینا۔
3 مال کا خلط ملط کرنا — یتیموں کے پیسوں یا جائیداد کو اپنے مال کے ساتھ اس نیت سے ملا دینا کہ موقع پا کر اسے خود ہڑپ کر لیا جائے۔
جواب قرآن مجید نے یتیموں کے حقوق کی پامالی اور ان کے مال پر قبضہ کرنے کو انتہائی سخت الفاظ میں منع فرمایا ہے کیونکہ یتیم معاشرے کا بے بس اور کمزور ترین حصہ ہوتے ہیں۔
3 مختصر جوابات

فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا ﴿٣﴾

ایک نکاح پر اکتفا کرنے کی ہدایت کس صورت میں ہے؟

ترجمہ

پھر اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو پھر ایک ہی (عورت) پر اکتفا کرو یا جو تمہاری ملکیت میں آ چکی ہوں، یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم ناانصافی سے بچ جاؤ۔

جواب آیت کے مطابق ایک نکاح پر اکتفا کرنے کی ہدایت اس صورت میں دی گئی ہے جب مرد کو یہ خوف ہو کہ وہ ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل اور برابری کے حقوق قائم نہیں رکھ سکے گا۔
4 مختصر جوابات

وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ۖ ﴿٦﴾

آیت 6: یتیموں کے اموال کب ان کے حوالے کرنے کا حکم ہے؟

ترجمہ

اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں، پھر اگر تم ان میں ہوشیاری اور صلاحیت (تمیز) دیکھو تو ان کے اموال ان کے حوالے کر دو۔

1 آیت کے مطابق یتیموں کے اموال ان کے حوالے کرنے کی تاکید دو شرطیں پوری ہونے پر کی گئی ہے:
2 جب وہ نکاح کی عمر (بلوغت) کو پہنچ جائیں۔
3 جب ان کے اندر رشد (سوجھ بوجھ، مال سنبھالنے کی صلاحیت اور ہوشیاری) نظر آئے۔
5 مختصر جوابات

وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا ﴿٨﴾

آیت 8: ترکے کی تقسیم کے وقت غیر وارثوں کے حوالے سے کیا تعلیم دی گئی ہے؟

ترجمہ

اور جب (ترکے کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور مسکین حاضر ہوں تو انہیں بھی اس (مال) میں سے کچھ دے دو اور ان سے بھلی (اور نرم) بات کہو۔

1 سوال کا جواب — ترکے کی تقسیم کے وقت جو رشتہ دار، یتیم اور مسکین وارث نہ ہوں، ان کے حوالے سے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اخلاقی طور پر مال میں سے کچھ نہ کچھ حصہ انہیں بھی دے دیا جائے تاکہ ان کی دلجوئی ہو سکے، اور ان سے اچھے اور نرم انداز میں بات چیت کی جائے۔
6 مختصر جوابات

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ

(آیت کا ابتدائی حصہ) کے مطابق بیوی اور شوہر کا حصہ تحریر کریں

ترجمہ

”اور تمہارے لیے آدھا حصہ ہے اس مال کا جو تمہاری بیویاں چھوڑ مریں، اگر ان کی کوئی اولاد نہ ہو۔ پھر اگر ان کی اولاد ہو تو تمہارے لیے ان کے ترکے سے چوتھائی حصہ ہے، اس وصیت کے بعد جو وہ کر گئیں یا قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور ان (بیویوں) کے لیے چوتھائی حصہ ہے اس مال میں سے جو تم چھوڑ جاؤ اگر تمہاری کوئی اولاد نہ ہو۔ پھر اگر تمہاری اولاد ہو تو ان کے لیے تمہارے ترکے کا آٹھواں حصہ ہے، اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے یا قرض کی ادائیگی کے بعد۔“

اس آیت مبارکہ کی روشنی میں شوہر اور بیوی کے حصے درج ذیل دو حالتوں پر منحصر ہیں:

آیت کی رو سے شوہر اور بیوی کا حصہ

1 شوہر کا حصہ — اگر فوت ہونے والی بیوی کی کوئی اولاد (نرینہ یا مادہ) نہ ہو، تو شوہر کو نصف (1/2) حصہ ملے گا۔ اگر بیوی کی اولاد موجود ہو، تو شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا۔
2 بیوی کا حصہ — اگر فوت ہونے والے شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو، تو بیوی (یا سب بیویوں) کو چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا۔ اگر شوہر کی اولاد موجود ہو، تو بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) ہو جائے گا۔
عام غلطی

(نوٹ: یہ تمام حصے مرنے والے کے ذمے واجب الادا قرضے چکانے اور جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد تقسیم ہوں گے)۔

7 مختصر جوابات

وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ

آیت میں کیسے شخص کے لیے ذلت آمیز عذاب ہے؟

ترجمہ

”اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کردہ حدوں سے آگے نکل جائے گا، اللہ اسے آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس کے لیے ذلت آمیز عذاب ہے۔“

اس آیت کریمہ کی رو سے درج ذیل صفات کے حامل شخص کے لیے ذلت آمیز عذاب کی وعید ہے:

آیت میں کیسے شخص کے لیے ذلت آمیز عذاب ہے؟

1 اللہ اور رسول کی نافرمانی — جو شخص جان بوجھ کر اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو پسِ پشت ڈالے۔
2 حدود اللہ کو توڑنا — جو شخص اللہ کی مقرر کردہ حدوں (خصوصاً وراثت کے قوانین اور حقوق) کو پامال کرے اور اپنی مرضی سے مال تقسیم کر کے دوسروں کا حق مارے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

﴿وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا﴾

سورہ النساء، آیت 5 — ترجمہ اور مفہوم بیان کریں۔

ترجمہ

”اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لیے قیامِ زندگی کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو، البتہ انہیں کھانے اور پہننے کے لیے دو اور انہیں نیک (اور بھلی) بات کہو۔“

مال کی حفاظت کا حکم: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اپنا یا یتیموں کا مال ایسے نادان، کم عقل یا نابالغ بچوں اور عورتوں کے ہاتھ میں نہ دیں جو مال کی قدر نہیں جانتے اور اسے فضول خرچی میں اڑا دیں گے۔

1 مال بقا کا ذریعہ ہے — مال کو ”قِیَاماً“ (گزران اور معیشت کی استواری کا سبب) کہا گیا ہے، یعنی یہ معاشی نظام کو چلانے کا اہم ستون ہے۔
2 کفالت اور نرم گفتگو — سرپرستوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان نادان لوگوں کے مال کی خود حفاظت کریں، اسی مال سے ان کے کھانے پینے اور لباس کا انتظام کریں، اور ان کا دل رکھنے کے لیے ان سے محبت اور نرمی سے بات کریں۔
9 تفصیلی جوابات

﴿وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾

سورہ النساء، آیت 5 — ترجمہ کریں اور بتائیں اس مثال سے کیا بات سمجھائی جا رہی ہے؟

ترجمہ

”اور چاہیے کہ وہ لوگ (یتیموں کے معاملے میں) ڈریں جو اگر اپنے پیچھے بے بس اور کمزور بچے چھوڑ جاتے تو ان کو اپنے بچوں کے حق میں کیسا خوف ہوتا، پس انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور سیدھی، راست (اور منصفانہ) بات کرنی چاہیے۔“

اس مثال سے کیا بات سمجھائی جا رہی ہے؟

1 احساسِ ہمدردی بیدار کرنا — اللہ تعالیٰ نے سرپرستوں کو ایک لاجواب نفسیاتی مثال کے ذریعے یہ بات سمجھائی ہے کہ وہ یتیموں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو وہ مرنے کے بعد اپنے کمزور بچوں کے لیے دوسروں سے چاہتے ہیں۔
2 برابری کا اصول — اگر آپ کو یہ ڈر ہے کہ آپ کے مرنے کے بعد آپ کی یتیم اولاد کو کوئی لوٹے یا ان پر ظلم کرے، تو آج آپ بھی دوسروں کی یتیم اولاد کے حقوق پر ڈاکہ نہ ڈالیں۔
3 تقویٰ اور انصاف — یتیموں کے مال اور وراثت کے معاملات میں اللہ کا خوف دل میں رکھیں اور وصیت یا تقسیم کے وقت ہمیشہ سچی اور سیدھی بات کریں۔
10 تفصیلی جوابات

﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾

سورہ النساء، آیت 13 — ترجمہ کریں اور بتائیں عظیم کامیابی کا وعدہ کن سے ہے؟

ترجمہ

”یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، اللہ اسے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بہت بڑی (عظیم) کامیابی ہے۔“

اس آیت کی رو سے عظیم کامیابی (الفوز العظیم) کا وعدہ ان لوگوں سے ہے جو:

عظیم کامیابی کا وعدہ کن سے ہے؟

1 اللہ اور اس کے رسولؐ کی مکمل اطاعت کرتے ہیں
2 اللہ کی مقرر کردہ حدوں (قوانین) پر سختی سے عمل کرتے ہیں — خصوصاً وراثت اور ترکے کی منصفانہ تقسیم کے ان احکام پر جو اس آیت سے بالکل پہلے (آیات 11 اور 12 میں) بیان ہوئے ہیں۔ جو لوگ یتیموں، بیواؤں اور دیگر حقداروں کو ان کا شرعی حصہ دیتے ہیں، وہ اس ابدی کامیابی کے حقدار ہیں۔
11 تفصیلی جوابات

﴿وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلًا﴾

سورہ النساء، آیت 22 — ترجمہ کریں ۔ اس آیت میں کس نکاح سے منع کیا گیا ہے؟

ترجمہ

”اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں ان سے نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہو چکا سو ہو چکا، یقیناً یہ بڑی بے حیائی کا کام ہے، اور اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے، اور بہت ہی برا راستہ ہے۔“

کس نکاح سے منع کیا گیا ہے؟ اور اس کی کیا مذمت کی گئی ہے؟

1 کس نکاح سے منع کیا گیا ہے؟ — اس آیت میں باپ کی منکوحہ (سگی ماں کے علاوہ سوتیلی ماؤں، دادیوں یا نانیوں) سے نکاح کرنے کو قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ زمانہ جاہلیت (اسلام سے پہلے) میں یہ رواج تھا کہ باپ کے مرنے کے بعد بیٹے اس کی بیویوں (اپنی سوتیلی ماؤں) کو بھی وراثت کا مال سمجھ کر ان سے نکاح کر لیتے تھے، اسلام نے اس قبیح رسم کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔
2 اس کی کیا مذمت کی گئی ہے؟ — آیت میں اس فعل کی مذمت تین انتہائی سخت الفاظ کے ساتھ کی گئی ہے:
3 اس کی کیا مذمت کی گئی ہے؟ — فَاحِشَةً (کھلی بے حیائی) — یہ اخلاقی طور پر حد درجے گرپڑی اور شرمناک حرکت ہے۔
4 اس کی کیا مذمت کی گئی ہے؟ — مَقْتًا (باعثِ غضب و نفرت) — یہ ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے اور معاشرے میں بھی اس شخص سے شدید نفرت کی جاتی ہے۔
5 اس کی کیا مذمت کی گئی ہے؟ — سَاءَ سَبِيلًا (بہت ہی برا راستہ) — یہ خاندانی نظام، معاشرتی اقدار اور انسانی غیرت کو تباہ کرنے والا سب سے بدترین راستہ ہے۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

یتیموں کے متعلق احکامات اور حسنِ سلوک کی ہدایات

سورہ النساء میں یتیموں کے حقوق کے تحفظ پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اہم احکامات درج ذیل ہیں:

1 مال کی حفاظت — یتیموں کا مال ان کے سپرد کرو اور اپنے اچھے مال کو ان کے برے مال سے نہ بدلو۔
2 ملاوٹ کی ممانعت — یتیموں کے مال کو اپنے مال میں ملا کر نہ کھاؤ، یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
3 سرپرستوں کے لیے حکم — اگر سرپرست مالدار ہو تو یتیم کے مال سے کچھ نہ لے، اور اگر غریب ہو تو مناسب حد تک (اجرت کے طور پر) کھائے۔
4 مال کی سپردگی — جب یتیم نکاح کی عمر (بلوغت) کو پہنچ جائیں اور ان میں سمجھداری دیکھو، تو ان کا مال گواہوں کی موجودگی میں ان کے حوالے کر دو۔
5 سخت وعید — جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے۔
13 سرگرمیاں

سورہ النساء میں بیان کردہ ورثاء اور ان کے حصے (چارٹ)

سورہ النساء کی آیات 11، 12 اور 176 میں وراثت کے حصے مقرر کیے گئے ہیں۔ بنیادی ورثاء اور ان کے حصوں کا چارٹ درج ذیل ہے:

1 وارث — حالت / شرط — مقررہ حصہ
2 بیٹی — اکیلی ہو (کوئی بھائی یا بہن نہ ہو) — 1/2 (نصف)
3 دو یا زائد بیٹیاں — دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں (کوئی بیٹا نہ ہو) — 2/3 (دو تہائی سب میں برابر)
4 بیٹا اور بیٹی — دونوں موجود ہوں — 2:1 (مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر)
5 والدین (ماں اور باپ) — اگر مرنے والے کی اولاد (بیٹا یا بیٹی) موجود ہو — 1/6 (چھٹا حصہ) دونوں کے لیے الگ الگ
6 ماں — اگر مرنے والے کی اولاد نہ ہو اور نہ ہی بہن بھائی ہوں — 1/3 (ایک تہائی)
7 ماں — اگر مرنے والے کی اولاد نہ ہو لیکن دو یا زائد بہن بھائی ہوں — 1/6 (چھٹا حصہ)
8 شوہر — اگر بیوی فوت ہو جائے اور اس کی اولاد نہ ہو — 1/2 (نصف)
9 شوہر — اگر بیوی فوت ہو جائے اور اس کی اولاد موجود ہو — 1/4 (ایک چوتھائی)
10 بیوی / بیویاں — اگر شوہر فوت ہو جائے اور اس کی اولاد نہ ہو — 1/4 (ایک چوتھائی ‑ سب بیویوں میں برابر)
11 بیوی / بیویاں — اگر شوہر فوت ہو جائے اور اس کی اولاد موجود ہو — 1/8 (آٹھواں حصہ ‑ سب بیویوں میں برابر)
12 اخیانی بھائی/بہن — ماں شریک ایک بھائی یا ایک بہن ہو (جب مرنے والے کے نہ بچے ہوں نہ والدین) — 1/6 (چھٹا حصہ)
13 اخیانی بھائی/بہن — ماں شریک بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں — 1/3 (ایک تہائی میں سب برابر کے شریک)
14 حقیقی یا علاتی بہن — اکیلی ہو (جب مرنے والا کلالہ ہو یعنی اولاد اور باپ نہ ہوں) — 1/2 (نصف)
15 دو یا زائد بہنیں — دو یا زیادہ بہنیں ہوں (جب مرنے والا کلالہ ہو) — 2/3 (دو تہائی)
14 سرگرمیاں

نکاح کے لیے حلال اور حرام عورتیں (کالم)

سورہ النساء کی آیت 22 سے 24 میں محرمات (جن سے نکاح حرام ہے) اور جن سے نکاح حلال ہے، ان کی تفصیل دی گئی ہے:

1 جن عورتوں سے نکاح کی ممانعت ہے (حرام) — جن عورتوں سے نکاح کی اجازت ہے (حلال)
2 مائیں (دادی، نانی سب شامل ہیں) بیٹیاں (پوتیاں، نواسیاں) بہنیں (سگی، علاتی، اخیانی) پھوپھیاں (والد کی بہنیں) خالائیں (ماں کی بہنیں) بھتیجیاں (بھائی کی بیٹیاں) بھانجیاں (بہن کی بیٹیاں) رضاعی مائیں (جنہوں نے بچپن میں دودھ پلایا ہو) رضاعی بہنیں (جنہوں نے اسی ماں کا دودھ پیا ہو) ساس (بیوی کی ماں) ربیبہ (بیوی کی وہ بیٹی جو اس کے پہلے شوہر سے ہو، بشرطیکہ بیوی سے خلوت ہو چکی ہو) بیٹوں کی بیویاں (بہوئیں) دو سگی بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا وہ عورتیں جو پہلے ہی کسی کے نکاح میں ہوں (شوہردار) باپ کی منکوحہ (سوتیں مائیں ‑ جن سے باپ نے نکاح کیا ہو) — ان محرمات کے علاوہ تمام پاکدامن عورتیں وہ عورتیں جنہیں مہر دے کر نکاح میں لایا جائے بیوائیں اور مطلقہ عورتیں (عدت گزرنے کے بعد) مشرک عورتوں کے علاوہ اہل کتاب (یہودی و عیسائی) عورتیں بیک وقت چار تک عورتیں (بشرطیکہ عدل کیا جائے)
15 سرگرمیاں

اسلامی قانونِ میراث کی اہمیت اور جامعیت

اسلامی قانونِ میراث، عدل و انصاف، معاشی استحکام اور انسانی حقوق کا ایک جامع ضابطہ ہے جو معاشرے کے پسماندہ طبقات کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسلام نے دورِ جاہلیت کے ان تمام ظالمانہ قوانین کا خاتمہ کیا جہاں صرف جنگ لڑنے والے مردوں کو وارث مانا جاتا تھا اور خواتین، بچوں اور یتیموں کو محروم کر دیا جاتا تھا۔

اسلامی قانونِ میراث کی اہمیت اور جامعیت

1 ربانی نظام — یہ نظام کسی انسان کا بنایا ہوا نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ہے
2 معاشی توازن — دولت کو چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے روکتا ہے اور گردش میں لاتا ہے۔
3 حقوق کا تحفظ — خاندان کے ہر فرد (مرد، عورت، صغیر، کبیر) کا حصہ طے کر کے جھگڑوں کا خاتمہ کرتا ہے۔
4 جامعیت — انسان کی موت کے فوراً بعد اس کے ترکے کی تقسیم کا خودکار اور منصفانہ طریقہ پیش کرتا ہے
16 سرگرمیاں

سورہ نساء میں خواتین، یتیموں اور کمزوروں کے حقوق

سورہ نساء کی ابتدائی آیات اور خاص طور پر آیت 7، 11، اور 12 میں ان طبقات کے حقوق کو انتہائی واضح انداز میں اجاگر کیا گیا ہے:

لاپرواہی برتنے والوں کے لیے وعیدیں

1 خواتین کا مستقل حصہ — اسلام نے عورت (ماں، بیوی، بیٹی، بہن) کو پہلی بار مستقل وارث قرار دیا، چاہے ترکہ کم ہو یا زیادہ۔
2 یتیموں کے مال کی حفاظت — یتیموں کا مال ہڑپ کرنے کی سخت ممانعت کی گئی اور بالغ ہونے تک ان کے مال کی بہترین دیکھ بھال کا حکم دیا گیا۔
3 بچوں اور کمزوروں کا حق — عمر کی کوئی قید نہیں رکھی گئی؛ نومولود بچہ بھی وراثت کا برابر حقدار ہے۔
4 تقسیم کے وقت غریبوں کا خیال — آیت 8 میں حکم ہے کہ تقسیمِ میراث کے وقت اگر دور کے رشتہ دار، یتیم یا مسکین آ جائیں تو انہیں بھی ترکے میں سے کچھ نہ کچھ دیا جائے اور ان سے نرمی سے بات کی جائے۔
5 اللہ تعالیٰ نے میراث کے احکام بیان کرنے کے بعد انہیں اپنی ”حدود“ قرار دیا ہے اور ان کی خلاف ورزی پر سخت ترین وعیدیں سنائی ہیں:
6 جہنم کا دائمی عذاب — سورہ نساء (آیت 14) میں فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا، اسے ہمیشہ کے لیے آگ میں ڈال دیا جائے گا اور اس کے لیے رُسوا کن عذاب ہے۔
7 پیٹ میں آگ بھرنا — یتیموں کا مال ظلم سے کھانے والوں کے بارے میں فرمایا: ”بے شک جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب دہکتی ہوئی آگ میں جائیں گے“ (النساء: 10)۔
8 ایمان کی نفی — وراثت سے محروم کرنا یا اس میں ہیرا پھیری کرنا اللہ کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار ہے، جو انسان کے ایمان کے لیے خطرناک ہے۔
17 سرگرمیاں

وصیت کی اہمیت اور ضرورت

اسلامی شریعت میں میراث کی تقسیم سے پہلے میت کے ذمے دو اہم کاموں کو پورا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے: پہلا قرض کی ادائیگی، اور دوسرا وصیت کا نفاذ۔

1 شرعی حیثیت — وصیت کرنا مستحب اور بعض حالات (جیسے واجب الادا حقوق یا امانتیں ہوں) میں فرض ہو جاتا ہے
2 حدود و قیود — وصیت صرف ایک تہائی (1/3) مال تک کی جا سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔
3 وارث کے لیے وصیت نہیں — رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ”کسی وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی“ (کیونکہ اس کا حصہ اللہ نے پہلے ہی طے کر دیا ہے)۔ وصیت صرف غیر وارث (جیسے یتیم پوتا، کوئی غریب رشتہ دار یا فلاحی ادارہ) کے لیے ہو سکتی ہے۔
4 ضرورت و افادیت — اس کے ذریعے انسان اپنے ایسے قریبی رشتہ داروں کی مالی مدد کر سکتا ہے جو شرعی طور پر وارث نہ بن پا رہے ہوں، یا اپنے نامہ اعمال میں مستقل صدقہ جاریہ کا اضافہ کر سکتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.