بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 18: سبق 18: سورہ الحدید — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیم۔

آیت 3 میں اللہ کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں

جواب۔ صفاتِ الہیٰ ۔

1 الاول — وہ ہر چیز سے پہلے ہے، اس کی ابتدا نہیں۔
2 الآخر — وہ ہر چیز کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہنے والا ہے، اس کی انتہا نہیں۔
3 الظاهر — وہ اپنی دلائل اور قدرت کے لحاظ سے سب پر غالب اور ظاہر ہے۔
4 الباطن — وہ حواس اور نظروں سے مخفی اور باریک بین ہے، اور باطن کی ہر بات جانتا ہے۔
5 العلیم — وہ ہر چیز کا مکمل علم رکھنے والا ہے
2 مختصر جوابات

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهُ اَجْرٌ كَرِیم

آیت میں قرض حسنہ کی کیا فضیلت بیان ہوئی؟

جواب۔ قرضِ حسنہ کی فضیلت

جواب راہِ خدا میں خلوصِ نیت سے مال خرچ کرنے کو اللہ نے اپنا قرض قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی اس خرچ کیے ہوئے مال کو اپنے فضل سے کئی گنا بڑھا کر واپس لوٹاتا ہے اور دینے والے کے لیے بہترین اور باعزت اجر کا وعدہ ہے
3 مختصر جوابات

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ ﳓ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْؕ-لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ۔

آیت 19 — اس آیت میں اہل ایمان کو کیا خوشخبری دی گئی؟

جواب۔ اہل ایمان کی خوشخبری

جواب جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر سچا ایمان لاتے ہیں، وہ اللہ کے نزدیک ”صدیقین“ اور ”شہداء“ کا بلند مرتبہ پاتے ہیں۔ ان کے لیے پروردگار کے پاس خاص اجر اور قیامت کے دن روشن نور ہوگا۔
4 مختصر جوابات

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُم ۔

آیت 23 — آیت میں اہل ایمان کو کیا تسلی دی گئی؟

جواب۔ اہل ایمان کے لیے تسلی

جواب یہ تسلی دی گئی ہے کہ دنیا میں جو نعمت یا نقصان بھی پیش آتا ہے، وہ پہلے ہی لوحِ محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔ لہذا جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس پر حد سے زیادہ غم نہ کرو اور جو کچھ خدا تمہیں عطا کرے اس پر غرور و تکبر کے ساتھ اتراؤ نہیں۔
5 مختصر جوابات

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَ الْمِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالقِسطِ

آیت میں کتاب اور میزان نازل کرنے کا کیا مقصد بیان ہوا؟

جواب۔ رسولوں، کتاب اور میزان کا مقصد

جواب اللہ نے انبیاء کو واضح دلیلوں کے ساتھ، اور ان کے ہمراہ کتاب اور ترازو (شریعت و ضابطۂ عدل) اس لیے نازل فرمائے تاکہ معاشرے میں لوگ انضباط کے ساتھ انصاف اور عدل پر قائم ہو سکیں۔
6 مختصر جوابات

وَ رَہبَانِیَّۃَۨ ابتَدَعُوہَا مَا کَتَبنٰہَا عَلَیہِم اِلَّا ابتِغَآءَ رِضوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا

آیت میں رہبانیت کے حوالے سے کیا بتایا گیا؟

جواب۔ رہبانیت کے بارے میں حقیقت

جواب ترکِ دنیا اور جنگلوں/پہاڑوں کی رہبانیت کا یہ طریقہ اللہ نے عیسائیوں پر فرض نہیں کیا تھا، بلکہ یہ خود ان کی نکالی ہوئی بدعت (طریقہ) تھا جسے انہوں نے محض اللہ کی رضا کے لیے اپنایا تھا، مگر وہ اس کی پابندی کا حق ادا نہ کر سکے۔
7 مختصر جوابات

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ

آیت کریمہ میں اہل کتاب کے کسی غلط خیال کی تردید کی گئی ہے؟

جواب۔ غلط خیال کی تردید

جواب اس آیت میں اہل کتاب کے اس گھمنڈ اور غلط خیال کی تردید کی گئی ہے کہ وہ اللہ کے فضل اور رحمت کے خود مختار اجارہ دار یا مالک ہیں۔ اللہ نے واضح کیا کہ نبوت، مغفرت اور رحمت کسی کی جاگیر نہیں، بلکہ فضل صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے عطا فرمائے

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِير

ترجمہو مفہوم بیان کریںٌ

ترجمہ

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر استواء فرمایا (جیسا اس کی شان کے لائق ہے)۔ وہ جانتا ہے جو کچھ زمین کے اندر جاتا ہے اور جو اس سے باہر نکلتا ہے، اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے۔ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔

وضاحت

جواب اللہ تعالیٰ کی کائنات پر مکمل حکمرانی اور اس کے ہمہ گیر علم کا بیان ہے۔ زمین کے اندر جانے والے بیج، پانی یا مردے اور باہر نکلنے والے پودے، اور آسمان سے اترنے والی بارش، فرشتے یا احکام نیز اوپر چڑھنے والے اعمال اور فرشتے سب اس کے احاطہ علم میں ہیں۔ اس کا ”ساتھ“ ہونے سے مراد اس کا علمی احاطہ اور نگہبانی ہے ”وما یعرج فیھا“ کا مفہوم ہے ”اور جو چیز آسمان کی طرف چڑھتی ہے“۔ اس میں بندوں کے اعمالِ صالحہ، دعائیں، فرشتوں کی واپسی اور روحیں شامل ہیں جو زمین سے بلند ہو کر بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوتی ہیں۔
9 تفصیلی جوابات

هُوَ الَّذِي يُنَزِّلسُ عَلَى عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ

ترجمہ و مفہوم کریں

ترجمہ

”وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات نازل کرتا ہے تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائے، اور بے شک اللہ تم پر بڑی شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔“

وضاحت

جواب یہ قرآن مجید کی نزول کا مقصد بیان کرتا ہے کہ انسانیت کفر، جہالت اور گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک رہی تھی، جسے اللہ نے نبی کریم ﷺ پر واضح نشانیاں اور احکام نازل کر کے ایمان، عدل اور ہدایت کے اجالے میں لا کھڑا کیا۔
10 تفصیلی جوابات

مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ

ترجمہ و وضاحت کریں۔

ترجمہ

کوئی مصیبت نہ زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں، وہ ایک کتاب (لوحِ محفوظ) میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ بے شک یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

وضاحت

جواب تقدیر الٰہی پر پختہ یقین دلایا گیا ہے کہ دنیا میں یا انسان کی ذات پر آنے والا ہر چھوٹا بڑا صدمہ یا خوشی پہلے سے طے شدہ اور اللہ کے علم میں ہوتی ہے۔ اس کا مقصد مومن کو غم میں نڈھال ہونے یا غرور میں مبتلا ہونے سے بچانا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلَارُ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْی۔ واللہ بما تعملون خبیر۔

ترجمہ و مفہوم بیان کریں

ترجمہ

تم میں سے وہ شخص برابر نہیں ہے جس نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بہت بڑھ کر ہیں جنھوں نے بعد میں خرچ کیا اور جہاد کیا، اور ان سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے۔

اس آیت میں دو گروہوں کا تقابل کیا گیا ہے

وضاحت و تقابلِ گروہ

1 پہلا گروہ — وہ صحابہ کرامؓ جنہوں نے اسلام کی انتہائی کٹھن اور کمزوری کے دور (فتح مکہ سے قبل) میں مال خرچ کیا اور جان کا نذرانہ پیش کیا۔
2 دوسرا گروہ — وہ صحابہ کرامؓ جنہوں نے اسلام کی طاقت اور غلبے کے بعد (فتح مکہ کے بعد) انفاق اور جہاد کیا۔
جواب تقابل کا حاصل: قربانی اور اخلاص کی اس دوڑ میں مشکل حالات میں ساتھ دینے والے پہلے گروہ کا مقام و مرتبہ زیادہ بلند ہے، اگرچہ اللہ نے دونوں کے لیے اچھے بدلے (جنت) کا وعدہ کیا ہے۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

مومنین اور منافقین کے درمیان گفتگو (مکالمہ)

سورہ الحدید (آیت ۱۳) میں قیامت کے دن پل صراط پر مومنین اور منافقین کے درمیان ہونے والے مکالمے کا ذکر ہے:

1 منافقین کہیں گے — ہمارا انتظار کرو تاکہ ہم بھی تمہارے نور (روشنی) سے کچھ روشنی حاصل کر لیں
2 مومنین جواب دیں گے — پیچھے ہٹ جاؤ، اپنے لیے کہیں اور روشنی تلاش کرو
3 پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی — جس کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔
4 منافقین پکار کر کہیں گے — کیا ہم تمہارے ساتھ دنیا میں نہیں تھے
5 مومنین کہیں گے — ہاں! لیکن تم نے خود کو فتنے میں ڈالا، (اسلام کے بارے میں) انتظارِ بد میں رہے، شک کیا اور جھوٹی امیدوں نے تمہیں دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا۔“
13 سرگرمیاں

لوہے کی خصوصیات اور فوائد

سورہ الحدید میں خصوصی طور پر لوہے کا ذکر (آیت ۲۵ میں ”وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ“ ) کے تحت آیا ہے:

1 شدید قوت و طاقت (بأس شدید) — جنگ کے آلات، تلواریں، ڈھالیں اور دفاعی سامان بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
2 عوامی منافع (منافع للناس) — عمارتوں، پلوں، اوزاروں، روزمرہ کی صنعت اور ٹیکنالوجی کی بنیاد یہی دھات ہے۔
3 مادی و معنوی علامت — لوہا طاقت، استحکام اور عدل کے نفاذ (طاقت کے ذریعے سرکشوں کو قابو کرنے) کی علامت ہے۔
14 سرگرمیاں

انفاق فی سبیل اللہ اور قرض حسنہ

فضیلت و اہمیت

جواب اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا اپنے ہی مستقبل کو سنوارنا ہے۔ قرآن کریم میں اسے ”قرض حسنہ“ (اللہ کو اچھا قرض دینا) کہا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ خالص نیت سے غریبوں، مسکینوں اور دین کی سربندی پر خرچ کرتا ہے اور بدلے میں اللہ اس کے مال کو کئی گناہ بڑھا کر واپس لوٹاتا ہے اور اس کے لیے کریمانہ اجر ہے۔ یہ معاشرے میں دولت کی گردش اور توازن قائم کرتا ہے۔
15 سرگرمیاں

رہبانیت کا پس منظر اور مفہوم

1 رہبانیت سے مراد دنیا، خاندان، لذتوں اور معاشرے سے کٹ کر جنگلوں، غاروں یا عبادت خانوں میں صرف عبادت کے لیے زندگی گزارنا اور ازدواجی تعلق سے گریز کرنا ہے۔
2 پس منظر — یہ طریقہ عیسائیوں نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے خود ایجاد کیا تھا (آیت ۲۵: ”وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ“ )۔ اللہ نے ان پر فرض نہیں کی تھی بلکہ وہ خود اللہ کی رضا کے لیے یہ راستہ لے آئے تھے، لیکن وہ اس کی پوری پابندی نہ کر سکے۔ اسلام نے اس کی نفی کی کیونکہ اسلام میں دنیا میں رہ کر، معاشرتی فرائض انجام دے کر اور حلال ذرائع اختیار کر کے اللہ کو راضی کرنا اصل بندگی ہے۔

شان نزول

16 شان نزول

سورہ الحجرات کی اہم آیات کے شان نزول

1 آیت 1 (بارگاہِ رسالت میں تقدیم) — شان نزول: بعض روایات کے مطابق حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے قبیلہ بنو تمیم کے سردار کے معاملے میں نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کچھ بلند آواز میں کیا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو۔
2 آیت 2 (آواز بلند کرنا) — شان نزول: جب ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی آواز نبی کریم ﷺ کی آواز سے اونچی ہو گئی تو وہ ڈر گئے کہ ان کے اعمال ضائع ہو گئے، تب یہ ادب سکھایا گیا کہ نبی کے حضور آواز بلند نہ کرو۔
3 آیت 6 (آیتِ نبأ - تحقیقِ خبر) — شان نزول: مفسرین کے نزدیک یہ آیت ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی جب انہیں قبیلہ بنی مصطلق کی زکوٰۃ لینے بھیجا گیا اور غلط فہمی کی وجہ سے انہوں نے آ کر اطلاع دی کہ قبیلہ نے مرتد ہو کر زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے، تب حکم آیا کہ کسی فاسق کی خبر کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔
4 آیت 11-12 (استہزا، عیب جوئی، غیبت) — شان نزول: یہ آیات مختلف مواقع پر صحابہ کرام کے باہمی مکالمات، کسی قبیلے یا شخص کا مذاق اڑانے (جیسے بنو تمیم یا صفہ کے غریب صحابہ کے متعلق) اور آپس میں برے القاب پکارنے پر نازل ہوئیں۔
5 آیت 13 (نسلی و قبائلی تفاخر) — شان نزول: فتح مکہ کے دن حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ نے کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی تو بعض لوگوں (عتاب بن اسید یا الحارث بن ہشام) نے اعتراض کیا کہ اس سیاہ فام غلام کے علاوہ کیا اللہ کو کوئی اور اذان دینے کو نہیں ملا؟ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ کے نزدیک سب سے معزز وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔
17 شان نزول

سورہ الحدید کی اہم آیات کا شان نزول

1 آیت 7 (ایمان اور انفاق) — شان نزول: یہ سورت ایسے دور میں نازل ہوئی جب مدینہ کی اسلامی ریاست کو جنگوں (احد وغیرہ) کے موقع پر شدید مالی اور جانی سامان کی ضرورت تھی۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اس خدا پر ایمان لاؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس کا تمہیں امین بنایا گیا ہے۔
2 آیت 10 (فتح سے پہلے اور بعد کا انفاق) — شان نزول: مفسرین کے مطابق یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی جب صلح حدیبیہ یا فتح مکہ سے پہلے مسلمانوں نے انتہائی کسمپرس کے عالم میں مال خرچ کیا؛ اللہ نے واضح فرمایا کہ فتح (صلح یا مکہ) سے پہلے خرچ کرنے اور جہاد کرنے والے بعد والوں کے برابر نہیں ہو سکتے۔
3 آیت 11 (قرضِ حسنہ) — شان نزول: جب نبی کریم ﷺ نے ایک غزوہ کے موقع پر مسلمانوں سے مالی اعانت کی اپیل کی تو حضرت ابو الدحداح انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے باغ کا ایک بڑا حصہ اللہ کی راہ میں بطور قرضِ حسنہ دے دیا، جس پر اللہ نے کئی گنا اضافے کے ساتھ اس کے قبول ہونے کا وعدہ کیا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.