بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 17: سبق 17: سورہ الحجرات، سورہ الحدید — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ﴾

آیت 2۔ میں بارگاہِ نبوی ﷺ کا کیا ادب سکھایا گیا؟

جواب۔ سکھایا گیا ادب

جواب اہل ایمان کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی آواز کو نبی کریم ﷺ کی آواز پر بلند نہ کریں۔ آپ ﷺ سے بات کرتے وقت اس طرح اونچی آواز میں بات نہ کریں جیسے عام لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ اس بے ادبی کا نقصان یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے تمام نیک اعمال برباد (ضائع) ہو سکتے ہیں اور اسے پتہ بھی نہیں چلے گا۔
2 مختصر جوابات

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُون

آیت میں کس رویے کو ناسمجھی قرار دیا گیا؟

جواب ۔ ناسمجھی والا رویہ

جواب جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو ان کے نجی حجروں (کمروں) کے باہر سے اونچی آواز میں پکارتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے اس بےصبری اور ادب کے منافی عمل کو ناسمجھی اور بے عقلی قرار دیا ہے۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ آپ ﷺ کے باہر تشریف لانے کا انتظار کریں۔
3 مختصر جوابات

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾

اس آیت میں اہل ایمان کو کیا تلقین کی گئی؟ (آیت نمبر 10)

جواب۔ تلقین و ہدایت

جواب اس آیت میں تمام مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی قرار دیا گیا ہے۔ اہل ایمان کو تلقین کی گئی ہے کہ جب بھی دو مسلم گروہوں یا بھائیوں کے درمیان کوئی اختلاف یا لڑائی ہو، تو فوراً ان کے درمیان صلح اور اصلاح کرواؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
4 مختصر جوابات

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾

اس آیت میں کیا تعلیمات دی گئی ہیں؟ (آیت نمبر 11)

اس آیت میں چار بڑے معاشرتی عیوب سے منع کیا گیا

جواب۔ بیان کردہ تعلیمات

1 کوئی مرد دوسرے مردوں کا اور کوئی عورت دوسری عورتوں کا مذاق (تمسخر) نہ اڑائے، ہو سکتا ہے وہ جن کا مذاق اڑا رہے ہیں اللہ کی نظر میں ان سے بہتر ہوں
2 ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیں
3 ایک دوسرے کے برے اور چڑانے والے نام نہ رکھیں (برے القاب سے نہ پکاریں)۔
4 ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا بہت بری بات ہے، اور جو توبہ نہیں کرتے وہ ظالم ہیں۔
5 مختصر جوابات

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسّسوا

اس آیت میں کس چیز سے بچنے کی ہدایت؟ (آیت نمبر 12)

جواب۔ بچنے کی ہدایت

جواب اس آیت میں اہل ایمان کو کثرت سے بدگمانی (زیادہ تر گمان کرنے) سے بچنے کی ہدایت دی گئی ہے، کیونکہ کچھ گمان سراسر گناہ ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی دوسروں کے عیب تلاش کرنے یعنی تجسس (جاسوسی) کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
6 مختصر جوابات

وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ﴾

اس آیت میں غیبت کی مذمت کس نداز میں کی گئی؟ (آیت نمبر 12)

مذمت کا انداز

جواب جواب۔ غیبت (پیٹھ پیچھے برائی کرنے) کی مذمت انتہائی ہولناک اور تمثیلی انداز میں کی گئی ہے۔ فرمایا گیا کہ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ ظاہر ہے تم اس سے نفرت کرو گے۔ یعنی غیبت کرنا اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر سنگین گناہ ہے۔
7 مختصر جوابات

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ﴾

اس آیت میں سچے اہل ایمان کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟ (آیت نمبر 15)

اس آیت میں حقیقی اور سچے مؤمنین کی تین بنیادی صفات ذکر کی گئی

جواب۔ بیان کردہ صفات

1 وہ اللہ اور اس کے رسول پر پکا اور سچا ایمان لاتے ہیں۔
2 ایمان لانے کے بعد وہ کبھی بھی کسی قسم کے شک و شبہ میں نہیں پڑتے (ان کا یقین کامل ہوتا ہے)۔
3 وہ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد (کوشش و قربانی) کرتے ہیں۔ اللہ نے ایسے ہی لوگوں کو ”صادقون“ یعنی (ایمان میں) سچے قرار دیا ہے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰیؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ ﴿۳﴾

ترجمہ و مفہوم کریں۔

ترجمہ

”بیشک وہ لوگ جو رسول اللہ کے پاس اپنی آوازیں دھیمی رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے چن لیا (یا آزما لیا) ہے۔ ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔“

مفہوم

جواب اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کا ادب سکھایا گیا ہے۔ جو لوگ آپ ﷺ کے سامنے عاجزی اور احترام سے اپنی آواز دھیمی رکھتے ہیں، اللہ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے خالص کر دیا ہے۔ ایسے باادب لوگوں کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور انہیں آخرت میں بڑا ثواب ملے گا۔
9 تفصیلی جوابات

وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ ﴿

ترجمہ و مفہوم کریں

ترجمہ

”اور لیکن اللہ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا، اور تمہارے لیے کفر، گناہ اور نافرمانی کو ناپسندیدہ بنا دیا۔ یہی لوگ ہدایت والے ہیں“

اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے سچے مومنوں کے دلوں میں درج ذیل چیزوں کا نظامِ محبت و نفرت قائم کیا ہے:

اہلِ ایمان کے دلوں میں ڈالی گئی محبت اور نفرت:

1 محبت و زینت — ایمان کی محبت اور اس کی خوبصورتی دلوں میں بسا دی
2 نفرت و ناپسندیدگی — کفر (اللہ کا انکار)، فسوق (احکامِ الٰہی کی علانیہ خلاف ورزی/گناہ)، اور عصیان (ہر قسم کی نافرمانی) سے ان کے دلوں میں شدید نفرت ڈال دی ہے۔
10 تفصیلی جوابات

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿۱۱﴾

ترجمہ و مفہوم کریں

ترجمہ

اے ایمان والو! نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور آپس میں ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو، اور نہ ایک دوسرے کو برے لکبوں (ناموں) سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد فاسق نام پڑنا بہت برا ہے۔ اور جو توبہ نہ کریں، تو وہی لوگ ظالم ہیں“

اس آیت میں معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کے لیے تین بڑی برائیوں سے روکا گیا ہے

1 تمسخر (مذاق اڑانا) — کسی کو حقیر سمجھ کر اس کا مذاق اڑانے سے منع کیا گیا، کیونکہ اللہ کے ہاں مقبولیت کا معیار ظاہری حالت نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔
2 طعنہ زنی ( وَ لَا تَلْمِزُوْۤا ) — ایک دوسرے پر عیب لگانے یا زبان سے کچوکے لگانے سے روکا گیا۔ آیت میں ”اپنے آپ کو طعنہ نہ دو“ کا لفظ استعمال ہوا، جس کا مطلب ہے کہ مسلمانوں کا آپس میں ایسا رشتہ ہے کہ اگر تم دوسرے کو طعنہ دیتے ہو تو گویا خود کو دیتے ہو۔
3 برے القاب (نام بگاڑنا) — کسی کو ایسے نام سے پکارنا جو اسے ناگوار گزرے، سخت گناہ ہے۔ ایمان لانے کے بعد بھی ایسی جاہلانہ عادات رکھنا انسان کو فاسق (نافرمان) بنا دیتا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْاؕ اَنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ ﴿۱۳﴾

ترجمہ و مفہوم کریں۔

ترجمہ

اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا، باخبر ہے:؎؎

یہ آیت نسلی اور خاندانی غرور کا جڑ سے خاتمہ کرتی ہے۔

وضاحت

1 انسانی مساوات — اللہ نے واضح کیا کہ تمام انسانوں کا اصل و نسب ایک ہی ہے (آدم و حوا علیہ السلام)، اس لیے کوئی ذات یا نسل دوسری سے برتر نہیں ہے۔
2 قبیلوں کا مقصد — برادریوں اور قبیلوں کا مقصد صرف ”تعارف“ (ایک دوسرے کی پہچان) ہے، فخر یا لڑائی جھگڑا نہیں ہے۔
3 فضیلت کا معیار — اللہ کی عدالت میں عزت، مرتبے اور فضیلت کا معیار خاندان، دولت، رنگ یا زبان نہیں، بلکہ صرف اور صرف تقویٰ ہے۔ (پرہیزگاری اور اللہ کا خوف

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

سورہ الحجرات میں بیان کی گئی معاشرتی برائیاں اور ان کے نقصانات

سورہ الحجرات میں امن و امان اور بھائی چارے کو تباہ کرنے والی درج ذیل برائیوں کا ذکر کیا گیا ہے:

1 بغیر تحقیق خبروں پر یقین کرنا (آیت 6) — کسی فاسق کی افواہ پر یقین کر کے کارروائی کرنا۔ نقصان۔ اس سے انسان نادانی میں اپنے ہی کسی بھائی یا قوم کو نقصان پہنچا بیٹھتا ہے اور بعد میں شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔
2 تمسخر اور مذاق اڑانا (آیت 11) — دوسروں کو حقیر جاننا۔ نقصان۔ اس سے لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہے، حسد پیدا ہوتا ہے اور باہمی نفرتیں جنم لیتی ہیں۔
3 طعنہ زنی اور عیب جوئی (آیت 11) — دوسروں کی خامیاں اچھالنا۔ نقصان۔ معاشرے میں عزتیں غیر محفوظ ہو جاتی ہیں اور باہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔
4 برے القاب رکھنا (آیت 11) — لوگوں کے چڑانے والے نام رکھنا۔ نقصان۔ اس سے رنجشیں بڑھتی ہیں اور انسان گناہِ فسق کا مرتکب ہوتا ہے۔
5 بدگمانی (آیت 12 - اِجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ ) — دوسروں کے بارے میں برا سوچنا۔ نقصان۔ بدگمانی سے دلوں میں دوری آتی ہے اور یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔
6 تجسس (آیت 12 - وَ لَا تَجَسَّسُوْا ) — دوسروں کے چھپے ہوئے عیبوں اور رازوں کی ٹوہ میں رہنا۔ نقصان۔ اس سے دوسروں کی پردہ دری ہوتی ہے اور معاشرتی امن تباہ ہوتا ہے۔
7 غیبت (آیت 12 - وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ) — کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا۔ نقصان۔ قرآن نے اسے ”اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے“ کے برابر قرار دیا ہے۔ یہ معاشرتی یکجہتی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔
13 سرگرمیاں

سورہ الحجرات کی آیات 1 تا 5 کی روشنی میں بارگاہِ رسالت ﷺ کے آداب

ان ابتدائی آیات میں صحابہ کرامؓ اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کی تعظیم کے اصول سکھائے گئے ہیں:

1 اپنی رائے کو مقدم نہ رکھنا — اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے سامنے اپنی مرضی، عقل یا رائے کو آگے نہ بڑھایا جائے ( لا تُقَدِّمُوا )۔
2 آواز دھیمی رکھنا (آیت 2) — نبی کریم ﷺ کی گفتگو کے دوران اپنی آواز کو آپ ﷺ کی آواز سے بلند نہ کیا جائے۔
3 عام لوگوں کی طرح نہ پکارنا (آیت 2) — آپ ﷺ سے بات کرتے ہوئے اس طرح اونچی آواز میں بات نہ کی جائے جیسے عام لوگ آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں۔ (ادب نہ کرنے والوں کے اعمال ضائع ہونے کا اندیشہ ہے)۔
4 عاجزی اور وقار (آیت 3) — آپ ﷺ کی محفل میں انتہائی وقار، دھیمے لہجے اور تقویٰ کے جذبے کے ساتھ بیٹھا جائے۔
5 صبر و انتظار (آیت 4-5) — آپ ﷺ کے حجرہ مبارک سے باہر آنے کا اکرام کے ساتھ انتظار کیا جائے، باہر کھڑے ہو کر شور مچا کر یا نام لے کر نہ پکارا جائے، کیونکہ یہ بے صبری اور بے ادبی ہے۔
14 سرگرمیاں

مسلمانوں کے باہمی اتفاق و اتحاد کی اہمیت و فضیلت (قرآن و حدیث کی روشنی میں)

اسلام نے مسلمانوں کے باہمی اتحاد پر بہت زیادہ زور دیا ہے

1 قرآن مجید کی روشنی میں — سورہ آل عمران میں اللہ کا فرمان ہے۔ ”اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ (فرقہ بندی) میں نہ پڑو۔“ (آل عمران: 103)
2 قرآن مجید کی روشنی میں — سورہ الحجرات میں فرمایا۔ مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کر ا دیا کرو۔
3 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں — نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ ”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔“ (صحیح بخاری)
4 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں — آپ ﷺ نے فرمایا، ”مؤمنوں کی مثال ان کی باہمی محبت، رحم دلی اور شفقت میں ایک جسم کی طرح ہے۔ جب جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے، تو پورا جسم بیداری اور بخار میں اس کا شریک ہوتا ہے۔“ (صحیح مسلم)
5 مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — آج کے دور میں مسلمانوں کے مابین اتحاد قائم کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
6 مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — قرآن و سنت کو محور بنانا — فروعی اور مسلکی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اسلام کے بنیادی عقائد (توحید، رسالت اور قرآن) پر اکٹھے ہونا۔
7 مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — فرقہ واریت اور تکفیر کی ممانعت — ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے بازی اور نفرت انگیز تقاریر پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔
8 مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — برداشت اور حسنِ ظن کا فروغ — دوسرے مسالک اور نظریات کے مسلمانوں کے لیے دلوں میں وسعت پیدا کرنا اور بلاوجہ بدگمانی سے بچنا۔
9 مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — مشترکہ تعلیمی نصاب — دینی مدارس اور عصری اداروں کے نصاب میں اسلامی اخلاقیات، معاشرتی حقوق اور اتحادِ امت کے ابواب شامل کرنا۔
10 مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — میڈیا اور سوشل میڈیا کا مثبت استعمال — انٹرنیٹ اور میڈیا پر ایسی باتوں کی تشہیر کو روکا جائے جو تفرقہ پیدا کرتی ہیں، اور صرف اتحاد و محبت کی باتیں پھیلائی جائیں۔
11 مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — فلاحی امور میں مشترکہ تعاون — زلزلہ، سیلاب یا کسی بھی آفت کے وقت تمام مکاتبِ فکر کا مل کر انسانیت اور مسلمانوں کی خدمت کرنا دلوں کو قریب لاتا ہے۔
12 مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — سورہ الحجرات کے اخلاقی چارٹر پر عمل — غیبت، تجسس، تمسخر اور برے القاب جیسی برائیوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر چھوڑ کر ہی حقیقی اسلامی بھائی چارہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.