1
قرآن مجید کی روشنی میں — سورہ آل عمران میں اللہ کا فرمان ہے۔ ”اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ (فرقہ بندی) میں نہ پڑو۔“ (آل عمران: 103)
2
قرآن مجید کی روشنی میں — سورہ الحجرات میں فرمایا۔ مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کر ا دیا کرو۔
3
حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں — نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ ”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔“ (صحیح بخاری)
4
حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں — آپ ﷺ نے فرمایا، ”مؤمنوں کی مثال ان کی باہمی محبت، رحم دلی اور شفقت میں ایک جسم کی طرح ہے۔ جب جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے، تو پورا جسم بیداری اور بخار میں اس کا شریک ہوتا ہے۔“ (صحیح مسلم)
5
مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — آج کے دور میں مسلمانوں کے مابین اتحاد قائم کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
6
مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — قرآن و سنت کو محور بنانا — فروعی اور مسلکی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اسلام کے بنیادی عقائد (توحید، رسالت اور قرآن) پر اکٹھے ہونا۔
7
مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — فرقہ واریت اور تکفیر کی ممانعت — ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے بازی اور نفرت انگیز تقاریر پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔
8
مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — برداشت اور حسنِ ظن کا فروغ — دوسرے مسالک اور نظریات کے مسلمانوں کے لیے دلوں میں وسعت پیدا کرنا اور بلاوجہ بدگمانی سے بچنا۔
9
مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — مشترکہ تعلیمی نصاب — دینی مدارس اور عصری اداروں کے نصاب میں اسلامی اخلاقیات، معاشرتی حقوق اور اتحادِ امت کے ابواب شامل کرنا۔
10
مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — میڈیا اور سوشل میڈیا کا مثبت استعمال — انٹرنیٹ اور میڈیا پر ایسی باتوں کی تشہیر کو روکا جائے جو تفرقہ پیدا کرتی ہیں، اور صرف اتحاد و محبت کی باتیں پھیلائی جائیں۔
11
مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — فلاحی امور میں مشترکہ تعاون — زلزلہ، سیلاب یا کسی بھی آفت کے وقت تمام مکاتبِ فکر کا مل کر انسانیت اور مسلمانوں کی خدمت کرنا دلوں کو قریب لاتا ہے۔
12
مسلمانوں کا باہمی اتحاد کیسے ممکن ہے؟ (چند عملی تجاویز) — سورہ الحجرات کے اخلاقی چارٹر پر عمل — غیبت، تجسس، تمسخر اور برے القاب جیسی برائیوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر چھوڑ کر ہی حقیقی اسلامی بھائی چارہ قائم کیا جا سکتا ہے۔