بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 16: سبق 16: سورہ الفتح — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا

(آیت 1) کس خوشخبری کا ذکر ہے؟

جواب۔ خوشخبری کی وضاحت

جواب اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو ”فتح مبین“ (واضح فتح) کی خوشخبری دی گئی ہے۔ مفسرین اور صحابہ کرام (مثلاً حضرت عمر فاروقؓ) کے مطابق اس فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ بظاہر یہ ایک معاہدہ تھا، لیکن اس نے مکہ کی فتح اور اسلام کی عالمگیر اشاعت کے راستے کھول دیے، اسی لیے اللہ نے اسے کھلی فتح قرار دیا۔
2 مختصر جوابات

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا

آیت: (نبی ﷺ کی کون سی صفات کا ذکر ہے؟ (آیت 8)

اس آیت میں حضور ﷺ کی تین اہم صفات بیان کی گئی ہیں:

جواب ۔ نبی ﷺ کی صفات

1 شَاهِدًا (گواہی دینے والا) — آپ ﷺ دنیا میں اللہ کی توحید کے گواہ ہیں اور قیامت کے دن امتوں پر گواہی دیں گے۔
2 مُبَشِّرًا (خوشخبری دینے والا) — ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو جنت اور اللہ کی رضا کی خوشخبری دینے والے۔
3 نَذِيرًا (ڈرانے والا) — کفر اور نافرمانی کرنے والوں کو اللہ کے عذاب اور جہنم سے ڈرانے والے۔
3 مختصر جوابات

لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا

(آیت 9) اللہ اور رسول ﷺ کے کیا حقوق بیان ہوئے ہیں

جواب

1 مشترکہ حق — اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر سچا ایمان لانا ( لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ )۔
2 رسول ﷺ کے حقوق — آپ ﷺ کی مدد و نصرت کرنا ( تُعَزِّرُوهُ ) اور آپ ﷺ کا بے حد ادب و احترام کرنا ( تُوَقِّرُوهُ )۔
3 اللہ کا خاص حق — صبح اور شام صرف اللہ کی تسبیح و پاکیزگی بیان کرنا ( تُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا )۔
4 مختصر جوابات

سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا... (آیت 11)

آیت 11 میں پیچھے رہ جانے والوں کے کیا عذ بیان ہوئے؟

جواب ۔ پیچھے رہ جانے والوں کا عذر

جواب حدیبیہ کے سفر پر نہ جانے والے منافقین اور بدویوں نے یہ عذر (بہانہ) پیش کیا کہ ”ہمیں ہمارے مال اور بال بچوں کی دیکھ بھال نے مصروف کر دیا تھا“ (جس کی وجہ سے ہم آپ کے ساتھ نہ چل سکے)، لہذا آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا کر دیں۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ صرف ان کی زبان کا دعویٰ تھا، دل کا نہیں۔
5 مختصر جوابات

لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا (آیت 18)

بیعت رضوان میں شامل صحابہ کرام رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ پر اللہ تعالیٰ نے کیا انعامات فرمائے ؟

درخت کے نیچے بیعت کرنے والے 1400 صحابہ پر اللہ نے درج ذیل انعامات کیے:

جواب۔ اللہ کے انعامات

1 اللہ ان تمام مومنین سے ہمیشہ کے لیے راضی ہو گیا۔
2 اللہ نے ان کے دلوں کا اخلاص دیکھ کر ان پر سکینت (اطمینان اور سکون) نازل فرمائی۔
3 انہیں انعام کے طور پر فتحِ قریب (خیبر کی فتح) عطا فرمائی۔
4 انہیں بہت زیادہ مالِ غنیمت سے نوازا۔
6 مختصر جوابات

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ... (آیت 29)

اس آیت میں صحابہ کرام کی کیا صفات بیان ہو رہی ہیں؟

جواب۔ صحابہ کرام کی صفات

1 وہ کفر اور کافروں کے مقابلے میں نہایت سخت اور مضبوط ہیں۔
2 وہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے نہایت رحم دل اور شفیق ہیں۔
3 وہ کثرت سے رکوع اور سجدے (نمازیں) کرتے نظر آتے ہیں۔
4 ان کی تمام عبادات کا مقصد صرف اللہ کا فضل اور اس کی رضا حاصل کرنا ہے۔
5 کثرتِ سجود کی وجہ سے ان کے چہروں پر نورانی علامت (اثرِ سجدہ) موجود ہے۔
7 مختصر جوابات

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (آیت 29 کا آخری حصہ)

آیت میں اہلِ ایمان سے اللہ کے کس وعدہ کا ذکر ہے؟

اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام اور قیامت تک آنے والے ان تمام لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، دو بڑے وعدے فرمائے ہیں:

جواب۔ اللہ کا وعدہ

1 ان کے تمام گناہوں کی مغفرت (بخشش) کا وعدہ۔
2 آخرت میں اجرِ عظیم (بہت بڑے بدلے یعنی جنت) کا وعدہ۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ (الفتح: 10)

ترجمہ و وضاحت کریں:

ترجمہ

”بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ (درحقیقت) اللہ ہی سے بیعت کر رہے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے، پھر جس نے عہد شکنی کی تو اس کی عہد شکنی کا نقصان اسی کی اپنی ذات کو ہوگا، اور جس نے اس عہد کو پورا کیا جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو وہ عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔“

تشریح و وضاحت

جواب یہ آیت بیعتِ رضوان کے موقع پر نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کے جذبۂ فداکاری کو اس درجہ قبول فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کو اللہ سے بیعت قرار دیا۔ سیدنا عثمانؓ کی جان کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی اس بیعت کو ایمان کی بنیاد قرار دیا گیا۔
9 تفصیلی جوابات

﴿وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾ (الفتح: 14)

ترجمہ و تشریح کریں۔ عربی:

ترجمہ

”اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔“

تشریح و وضاحت

جواب اس آیت میں ان منافقین اور اعراب (دیہاتیوں) کا رد ہے جو حدیبیہ کے سفر میں پیچھے رہ گئے تھے اور سوچ رہے تھے کہ مسلمان مکہ سے زندہ سلامت واپس نہیں آئیں گے۔ اللہ نے واضح کیا کہ کائنات کا کل اختیار اس کے پاس ہے، وہی فتح و نصرت دینے والا ہے۔
10 تفصیلی جوابات

﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا﴾ (الفتح: 28)

ترجمہ و تشریح کریں :

ترجمہ

”وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ اُمّت میں بھیجا تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے، اور اللہ (اس حقانیت کی) گواہی کے لیے کافی ہے۔“

تشریح و وضاحت

جواب یہ آیت صلح حدیبیہ کی بظاہر دبتی ہوئی شرائط پر مسلمانوں کی تسلی کے لیے نازل ہوئی۔ اللہ نے پیشگوئی فرمائی کہ یہ صلح دراصل ایک ”فتحِ مبین“ ہے جس کا آخری نتیجہ اسلام کا پوری دنیا پر غالب ہونا ہے۔ مکہ کی فتح اور جزیرہ نما عرب میں اسلام کا پھیلاؤ اسی کا مظہر بنا۔

سرگرمیاں

11 سرگرمیاں

نبی ﷺ کے ادب و تعظیم کے حوالے سے صحابہ کے واقعات

صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش مکہ کے سفیر عروہ بن مسعود ثقفی نے واپس جا کر مکہ والوں کو صحابہ کے ادب کا جو حال سنایا، وہ تاریخ کا حصہ ہے:

1 وضو کا پانی — عروہ نے مکہ جا کر کہا: ”اے قریش! میں نے قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار دیکھے ہیں، لیکن خدا کی قسم! میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جس کے درباری اس کی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد (ﷺ) کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں۔“
2 لعابِ مبارک اور بال — جب آپ ﷺ تھوکتے یا کھنکھارتے تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ پر لے لیتا اور اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا۔
3 ادبِ گفتگو — جب آپ ﷺ کوئی حکم دیتے تو اس کی تعمیل کے لیے سب دوڑ پڑتے، جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو سب خاموش ہو جاتے اور تعظیم کے مارے آپ ﷺ کی طرف نظر بھر کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔
12 سرگرمیاں

صلحِ حدیبیہ کا وقیات بیان کریں۔

یہ واقعات ذوالقعدہ 6 ہجری میں پیش آئے، جب رسول اللہ ﷺ 1400 صحابہ کرام کے ہمراہ عمرہ کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے مگر کفارِ قریش نے انہیں حدیبیہ کے مقام پر روک دیا۔ تفاسیر اور قرآنِ مجید کی روشنی میں ان واقعات، سیدنا عثمان غنیؓ کے مقام اور الٰہی انعامات کی تفصیل درج ذیل ہے:

1 1۔ صلحِ حدیبیہ کے واقعات (تفاسیر کی روشنی میں) — مفسرین کرام (جیسے ابنِ کثیر اور قرطبی) کے مطابق صلح حدیبیہ کے دوران درج ذیل اہم واقعات پیش آئے:
2 1۔ صلحِ حدیبیہ کے واقعات (تفاسیر کی روشنی میں) — خوابِ رسول ﷺ — حضور ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ صحابہ کے ساتھ امن سے مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کر رہے ہیں۔
3 1۔ صلحِ حدیبیہ کے واقعات (تفاسیر کی روشنی میں) — قریش کی ہٹ دھرمی — قریش نے مسلمانوں کو مکہ آنے سے روکنے کے لیے خالد بن ولید کی قیادت میں دستہ بھیجا، جس پر آپ ﷺ نے راستہ بدل کر حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔
4 1۔ صلحِ حدیبیہ کے واقعات (تفاسیر کی روشنی میں) — پانی کا معجزہ — حدیبیہ کا کنواں خشک تھا، آپ ﷺ نے اس میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور تیر گاڑ دیا، جس سے پانی ابل پڑا اور پورے لشکر نے سیر ہو کر پانی پی لیا۔
5 1۔ صلحِ حدیبیہ کے واقعات (تفاسیر کی روشنی میں) — مذاکرات کا آغاز — قریش کی طرف سے بديل بن ورقاء اور عروہ بن مسعود جیسے لوگ آئے، جنہوں نے واپسی پر قریش کو بتایا کہ صحابہ رسول اللہ ﷺ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور ان کے وضو کا پانی بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے۔
6 1۔ صلحِ حدیبیہ کے واقعات (تفاسیر کی روشنی میں) — سہیل بن عمرو کی آمد — آخر میں قریش نے سہیل بن عمرو کو صلح نامہ لکھنے کے لیے بھیجا۔
7 2۔ بیعتِ رضوان کے واقعات اور پس منظر — جب قریش نے مکہ میں داخلے کی اجازت نہ دی تو آپ ﷺ نے سفارتی بات چیت کے لیے ایک نمائندہ بھیجنے کا فیصلہ کیا:
8 2۔ بیعتِ رضوان کے واقعات اور پس منظر — حضرت عثمانؓ کی سفارت — حضور ﷺ نے سیدنا عثمان غنیؓ کو مکہ بھیجا کیونکہ مکہ میں ان کا قبیلہ بنو امیہ مضبوط تھا اور وہ محفوظ رہ سکتے تھے۔
9 2۔ بیعتِ رضوان کے واقعات اور پس منظر — شہادت کی افواہ — قریش نے حضرت عثمانؓ کو مکہ میں روک لیا، اسی دوران حدیبیہ کے میدان میں یہ افواہ پھیل گئی کہ عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا ہے۔
10 2۔ بیعتِ رضوان کے واقعات اور پس منظر — درخت کے نیچے بیعت — اس نازک صورتحال پر رسول اللہ ﷺ نے بید (کیکر) کے ایک درخت کے نیچے صحابہ سے موت یا فرار نہ ہونے پر بیعت لی۔ اسی کو بیعتِ رضوان کہا جاتا ہے۔
11 3۔ سورہ الفتح کی روشنی میں حضرت عثمانؓ کا کردار اور مقام — سورہ الفتح کی روشنی میں سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کا مقام انتہائی بلند ثابت ہوتا ہے:
12 3۔ سورہ الفتح کی روشنی میں حضرت عثمانؓ کا کردار اور مقام — بیعت کا سبب — بیعتِ رضوان کا پورا واقعہ حضرت عثمانؓ کی جان کی حفاظت اور ان کا خون کا بدلہ لینے کے لیے منعقد ہوا، جو ان کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
13 3۔ سورہ الفتح کی روشنی میں حضرت عثمانؓ کا کردار اور مقام — رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ عثمانؓ کا ہاتھ — حضرت عثمانؓ مکہ میں ہونے کی وجہ سے خود وہاں موجود نہیں تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو عثمانؓ کا ہاتھ قرار دیا اور اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھ کر ان کی طرف سے بیعت لی۔
14 3۔ سورہ الفتح کی روشنی میں حضرت عثمانؓ کا کردار اور مقام — قرآنی مہر — سورہ الفتح کی آیت 10 میں اللہ نے فرمایا: ”جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے“۔ چونکہ آپ ﷺ کا ہاتھ عثمانؓ کا ہاتھ بنا، اس لیے حضرت عثمانؓ اس فضیلت میں براہِ راست شامل ہیں۔
15 4۔ سورہ الفتح میں نبی ﷺ اور صحابہ پر انعامات کا ذکر — اللہ تعالیٰ نے سورہ الفتح میں حدیبیہ اور بیعتِ رضوان کے شرکاء پر مادی اور روحانی انعامات کی برسات فرمائی:
16 4۔ سورہ الفتح میں نبی ﷺ اور صحابہ پر انعامات کا ذکر — اللہ کی دائمی رضا — آیت 18 میں فرمایا: ”یقیناً اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے“۔ اسی وجہ سے انہیں ”اصحابِ شجرہ“ کہا جاتا ہے۔
17 4۔ سورہ الفتح میں نبی ﷺ اور صحابہ پر انعامات کا ذکر — سکینت کا نزول — اللہ نے صحابہ کے دلوں کے اخلاص کو دیکھ کر ان پر خاص اطمینان اور سکون (سکینت) نازل فرمایا، جس سے ان کا اضطراب ختم ہو گیا۔
18 4۔ سورہ الفتح میں نبی ﷺ اور صحابہ پر انعامات کا ذکر — فتحِ مبین اور فتحِ قریب — مکہ سے واپسی پر سورہ فتح نازل ہوئی جس میں صلح حدیبیہ کو کھلی کامیابی قرار دیا گیا اور بہت جلد ہونے والی فتح (فتحِ خیبر اور فتحِ مکہ) کی خوشخبری دی گئی۔
19 4۔ سورہ الفتح میں نبی ﷺ اور صحابہ پر انعامات کا ذکر — کثیر غنائم کا وعدہ — اللہ نے مسلمانوں سے بہت سی مادی غنائم (مالِ غنیمت) کا وعدہ فرمایا جو انہیں آنے والی فتوحات میں حاصل ہوئیں۔
20 4۔ سورہ الفتح میں نبی ﷺ اور صحابہ پر انعامات کا ذکر — مغفرت اور تکمیلِ نعمت — نبی کریم ﷺ کے لیے رہتی دنیا تک گناہوں کی معافی کا اعلان (تاکہ امت مایوس نہ ہو) اور آپ پر اللہ کی نعمتوں کی تکمیل کا مژدہ سنایا گیا۔
21 5 ۔ صلحِ حدیبیہ کی شرائط — مذاکرات کے بعد درج ذیل اہم شرائط پر صلح نامہ طے پایا:
22 5 ۔ صلحِ حدیبیہ کی شرائط — مسلمان اس سال بغیر عمرہ کیے واپس جائیں گے اور اگلے سال آئیں گے۔
23 5 ۔ صلحِ حدیبیہ کی شرائط — اگلے سال مسلمان صرف تین دن مکہ میں ٹھہریں گے اور تلواریں میان میں ہوں گی۔
24 5 ۔ صلحِ حدیبیہ کی شرائط — مکہ کا کوئی شخص (مسلمان ہو کر) مدینہ جائے گا تو اسے واپس کرنا ہوگا، لیکن مدینہ سے کوئی مکہ آئے گا تو قریش اسے واپس نہیں کریں گے۔
25 5 ۔ صلحِ حدیبیہ کی شرائط — عرب کے قبائل کو اختیار ہوگا کہ وہ جس کے ساتھ چاہیں (مسلمانوں یا قریش) اتحاد کر لیں۔
26 5 ۔ صلحِ حدیبیہ کی شرائط — یہ معاہدہ 10 سال کے لیے نافذ رہے گا اور اس دوران کوئی جنگ نہیں ہوگی۔
جواب ظاہری طور پر یہ شرائط دب کر طے ہوئی تھیں، لیکن اس امن کے دور میں اسلام اتنی تیزی سے پھیلا کہ اگلے دو سالوں میں اتنے لوگ مسلمان ہوئے جتنے پچھلے 19 سالوں میں نہیں ہوئے تھے، اور یہی صلح فتحِ مکہ کا پیش خیمہ بنی۔

شان نزول

13 شان نزول

صلح حدیبیہ اور پہلی آیت

1 ”بے شک ہم نے آپ کو صریح فتح عطا کی ہے
جواب شانِ نزول: جب نبی کریم ﷺ عمرے کے ارادے سے روانہ ہوئے تو کفارِ مکہ نے انہیں روک دیا۔ طویل مذاکرات کے بعد صلحِ حدیبیہ طے پائی، جسے بظاہر کچھ صحابہ نے اپنے حق میں کمزوری سمجھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو ”فتحِ مبین“ (بڑی فتح) قرار دے کر نازل فرمایا کیونکہ اس نے مستقبل میں اسلام کی بڑی فتوحات کی راہ ہموار کی“
14 شان نزول

بیعتِ رضوان اور اٹھارہویں آیت

1 ”بے شک اللہ مومنوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے
جواب شانِ نزول: جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو قریش کے پاس سفیر بنا کر بھیجا گیا اور ان کی شہادت کی افواہ پھیلی، تو آپ ﷺ نے ایک کیکر کے درخت کے نیچے صحابہ سے موت پر بیعت لی جو ”بیعتِ رضوان“ کہلائی۔ اس وفاداری کے صلے میں اللہ نے ان کی مغفرت اور رضا کا اعلان فرمایا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.