الذین کفروا و صدو عن سبیل اللہ اضل اعمالھم
آیت کے مطابق کن لوگوں کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں
درج ذیل اعمال کرنے والوں کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔
انجا م۔
بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
الذین کفروا و صدو عن سبیل اللہ اضل اعمالھم
آیت کے مطابق کن لوگوں کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں
درج ذیل اعمال کرنے والوں کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔
انجا م۔
فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ
قیدیوں کے ساتھ کس سلوک کا حکم ہے؟ (آیت: 4)
جواب۔ قیدیوں کے ساتھ سلوک کا حکم: اس آیت میں جنگ کے دوران دشمن کو مغلوب کرنے کے بعد قیدیوں کے بارے میں دو بنیادی احکام دیے گئے ہیں:
وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِنْ قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ
نافرمان بستیوں کا کیا انجام ہوا؟ (آیت: 13)
جواب۔ نافرمان بستیوں کا انجام:
وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ مُحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُمْ
جہاد کے حکم پر منافقین کی کیا کیفیت بیان ہوئی؟ (آیت: 20)
جواب ۔ منافقین کی کیفیت:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَنْ لَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغَانَهُمْ
منافقین کے کس گمان کا ذکر ہے (آیت: 29)
جواب۔ منافقین کا گمان
هَا أَنْتُمْ هَٰؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمِنْكُمْ مَنْ يَبْخَلُ ۖ وَمَنْ يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَفْسِهِ ۚ وَاللَّهُ الْغَنِيُّ وَأَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ ۚ
بخل کرنے والوں کے بارے میں کیا وعید آئی ہے۔ (آیت: 38)
جواب۔ بخل کرنے والوں کے بارے میں حکم:
وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ
حکمِ الٰہی سے منہ پھیرنے والوں کو تنبیہ (آیت: 38 - آخری حصہ)
جواب۔ منہ پھیرنے والوں کو تنبیہ:
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ
(آیت 2) ترجمہ وضاحت کریں۔
”اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور اس (کتاب) پر بھی ایمان لائے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی ہے اور وہی ان کے رب کی طرف سے حق ہے، اللہ نے ان کے گناہ دور کر دیے اور ان کے حال کی اصلاح فرما دی۔“
مفہوم و وضاحت
فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَٰكِنْ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ * سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ * وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ
(آیات 4 تا 6) ترجمہ و وضاحت کریں۔
”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ وہ عنقریب انہیں ہدایت دے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔ اور انہیں اس جنت میں داخل کرے گا جس کی معرفت اس نے انہیں کرا دی ہے۔“
مفہوم و وضاحت
إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ
(آیت 12)
”بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور جو لوگ کافر ہوئے وہ (دنیا میں) فائدے اٹھاتے ہیں اور (غفلت سے) اس طرح کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں اور آگ ان کا ٹھکانا ہے۔“
مفہوم و وضاحت
مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۖ فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۖ وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ...
(آیت 15) آیت میں جنت کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں
”اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے (یہ ہے) کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں چھوڑتا، اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ نہیں بدلا، اور پینے والوں کے لیے لذت بخش شراب کی نہریں ہیں، اور صاف کیے ہوئے شہد کی نہریں ہیں، اور ان کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے...“
اس آیت میں جنت کی چار بڑی نہروں کا ذکر ہے:
جنت کی صفات ۔ اور جنت کے متعلق حدیث
دنیا کی ناپائیداری کے حوالے سے احادیث
سورہ محمد میں قتال فی سبیل اللہ کے احکام، مجاہدین و شہداء کی فضیلت
سورہ محمد کو ”سورہ قتال“ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں جہاد کے واضح احکام ہیں۔
قتال کے احکام اور ترغیب کی آیات اور مجاہدین کی فضیلت اور شہداء کا انجام
منافقین کی خامیاں اور ان کے نقصانات (سورہ محمد کی روشنی میں)
سورہ محمد میں منافقین کے کرتوتوں کو بے نقاب کیا گیا ہے:
منافقین کی خامیاں اور منافقت کے نقصانات
ہمارے معاشرے کی خامیاں اور ان کی اصلاح کے طریقے
موجودہ دور میں ہمارے مسلم معاشرے میں بھی منافقانہ علامات اور اخلاقی خامیاں پیدا ہو چکی ہیں۔
معاشرتی خامیاں اور اصلاح کے طریقے (کیسے ٹھیک کیا جائے؟)
آیت 20 اور 21 (جہاد کا حکم اور منافقین کا ردعمل)
آیت 4 (جنگ کے قیدیوں سے متعلق احکام)
آیت 14 (مومنوں کے دل ٹھنڈے ہونے کا بیان)
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔