بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 15: سبق 15: سورہ محمد — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

الذین کفروا و صدو عن سبیل اللہ اضل اعمالھم

آیت کے مطابق کن لوگوں کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں

ترجمہ

درج ذیل اعمال کرنے والوں کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔

انجا م۔

1 کفر کرنا — اللہ اور اس کے احکامات کو نہ ماننا۔
2 راہِ خدا سے روکنا — خود بھی گمراہ ہونا اور دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے دور کرنا
3 اللہ نے ایسے لوگوں کے اعمال کو اکارت (ضائع) کر دیا۔
4 ان کے برے اعمال کا بدلہ ان کے اچھے کاموں کو بھی مٹا دیتا ہے۔
2 مختصر جوابات

فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ

قیدیوں کے ساتھ کس سلوک کا حکم ہے؟ (آیت: 4)

ترجمہ

جواب۔ قیدیوں کے ساتھ سلوک کا حکم: اس آیت میں جنگ کے دوران دشمن کو مغلوب کرنے کے بعد قیدیوں کے بارے میں دو بنیادی احکام دیے گئے ہیں:

1 احسان کرنا ( مَنًّا بَعْدُ ) — انہیں بغیر کسی معاوضے یا شرط کے بطور احسان رہا کر دیا جائے۔
2 فدیہ لینا ( فِدَاءً ) — ان سے فدیہ (مالی معاوضہ یا مسلم قیدیوں کا تبادلہ) لے کر انہیں آزاد کیا جائے۔
3 مختصر جوابات

وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِنْ قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ

نافرمان بستیوں کا کیا انجام ہوا؟ (آیت: 13)

جواب۔ نافرمان بستیوں کا انجام:

1 ہلاکت و بربادی — اللہ تعالیٰ نے ماضی کی ان بستیوں کو مکمل طور پر ہلاک کر دیا جو طاقت میں مکہ والوں سے بھی زیادہ شدید تھیں۔
2 بے بسی — جب اللہ کا عذاب آیا تو ان کا کوئی مددگار اور بچانے والا نہیں تھا۔
4 مختصر جوابات

وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ مُحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُمْ

جہاد کے حکم پر منافقین کی کیا کیفیت بیان ہوئی؟ (آیت: 20)

جواب ۔ منافقین کی کیفیت:

جواب موت کی غشی: جب جہاد کا واضح حکم نازل ہوتا ہے تو منافقین خوف کے مارے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو۔ وہ بزدلی اور منافقت کی وجہ سے شدید خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔
5 مختصر جوابات

أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَنْ لَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغَانَهُمْ

منافقین کے کس گمان کا ذکر ہے (آیت: 29)

جواب۔ منافقین کا گمان

جواب کینے کا چھپنا: منافقین یہ گمان کرتے تھے کہ ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو بغض، حسد اور کینہ چھپا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اسے کبھی ظاہر نہیں کرے گا۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ ان کا یہ گمان باطل ہے اور ان کا نفاق ظاہر ہو کر رہے گا۔
6 مختصر جوابات

هَا أَنْتُمْ هَٰؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمِنْكُمْ مَنْ يَبْخَلُ ۖ وَمَنْ يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَفْسِهِ ۚ وَاللَّهُ الْغَنِيُّ وَأَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ ۚ

بخل کرنے والوں کے بارے میں کیا وعید آئی ہے۔ (آیت: 38)

جواب۔ بخل کرنے والوں کے بارے میں حکم:

1 اپنا ہی نقصان — جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کرتا ہے، وہ دراصل کسی اور کا نہیں بلکہ اپنی ہی ذات کا نقصان کرتا ہے اور خود کو اجر و ثواب سے محروم کرتا ہے۔
2 اللہ کی بے نیازی — اللہ غنی (بے نیاز) ہے اور تمام انسان اس کے در کے فقیر اور محتاج ہیں۔
7 مختصر جوابات

وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ

حکمِ الٰہی سے منہ پھیرنے والوں کو تنبیہ (آیت: 38 - آخری حصہ)

جواب۔ منہ پھیرنے والوں کو تنبیہ:

1 قوم کی تبدیلی — اگر تم دین کے احکام اور جہاد سے منہ پھیرو گے تو اللہ تمہیں ہٹا کر تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے گا۔
2 اطاعت گزاری — وہ دوسری قوم تمہاری طرح نافرمان اور بخل کرنے والی نہیں ہوگی، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی سچی فرمانبردار ہوگی۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ

(آیت 2) ترجمہ وضاحت کریں۔

ترجمہ

”اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور اس (کتاب) پر بھی ایمان لائے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی ہے اور وہی ان کے رب کی طرف سے حق ہے، اللہ نے ان کے گناہ دور کر دیے اور ان کے حال کی اصلاح فرما دی۔“

مفہوم و وضاحت

1 ایمان اور عملِ صالح کا تلازمہ — نجات کے لیے صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں، بلکہ نیک اعمال اور رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی مکمل پیروی شرط ہے۔
2 ذنوب کی معافی — سچے دل سے ایمان لانے اور اطاعت کرنے پر اللہ تعالیٰ پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
3 اصلاحِ حال — اللہ تعالیٰ مومنین کے دنیاوی اور اخروی معاملات درست کر دیتا ہے، انہیں ذہنی سکون اور دل کا اطمینان عطا فرماتا ہے۔
9 تفصیلی جوابات

فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَٰكِنْ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ * سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ * وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ

(آیات 4 تا 6) ترجمہ و وضاحت کریں۔

ترجمہ

”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ وہ عنقریب انہیں ہدایت دے گا اور ان کا حال درست کر دے گا۔ اور انہیں اس جنت میں داخل کرے گا جس کی معرفت اس نے انہیں کرا دی ہے۔“

مفہوم و وضاحت

1 اعمال کا تحفظ — شہداء کی قربانیاں اور ان کے نیک اعمال کبھی اکارٹ یا ضائع نہیں ہوتے۔
2 اخروی رہنمائی — ”سَيهْدِيهِمْ“ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت کے راستوں اور مقامات کی طرف رہنمائی فرمائے گا۔
3 ابدی اعزاز — شہداء کو مرنے کے فوراً بعد برزخ میں رزق دیا جاتا ہے اور آخرت میں وہ اس جنت میں جائیں گے جس کی پہچان اللہ نے دنیا میں یا روحوں کو پہلے سے کروا دی ہے۔
10 تفصیلی جوابات

إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ

(آیت 12)

ترجمہ

”بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور جو لوگ کافر ہوئے وہ (دنیا میں) فائدے اٹھاتے ہیں اور (غفلت سے) اس طرح کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں اور آگ ان کا ٹھکانا ہے۔“

مفہوم و وضاحت

1 مومن اور کافر کا موازنہ — مومن کا مقصدِ حیات آخرت کی کامیابی ہے، جبکہ کافر کا مقصد صرف دنیاوی لذتیں حاصل کرنا ہے۔
2 جانوروں جیسی زندگی — جو انسان آخرت سے غافل ہو کر صرف کھانے پینے اور عیش پرستی میں وقت گزارتا ہے، قرآن نے اسے چوپائے (جانور) سے تشبیہ دی ہے۔
3 انجام کار — مومن کے لیے ابدی باغات اور کافر کے لیے جہنم کی تپتی ہوئی آگ ہے۔
11 تفصیلی جوابات

مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۖ فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۖ وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ...

(آیت 15) آیت میں جنت کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں

ترجمہ

”اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے (یہ ہے) کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں چھوڑتا، اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ نہیں بدلا، اور پینے والوں کے لیے لذت بخش شراب کی نہریں ہیں، اور صاف کیے ہوئے شہد کی نہریں ہیں، اور ان کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے...“

اس آیت میں جنت کی چار بڑی نہروں کا ذکر ہے:

جنت کی صفات ۔ اور جنت کے متعلق حدیث

1 جنت کی صفات ۔ — پانی کی نہر ( مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ ) — ایسا پانی جو کبھی خراب نہیں ہوتا، نہ اس کا رنگ بدلتا ہے نہ بو آتی ہے۔
2 جنت کی صفات ۔ — دودھ کی نہر ( لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ ) — ایسا خالص دودھ جو نہ تھنوں سے نکلا، نہ کبھی کھٹا ہوتا ہے اور نہ خراب ہوتا ہے۔
3 جنت کی صفات ۔ — شرابِ طہور کی نہر ( خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ ) — یہ دنیا کی شراب کی طرح گندی اور نشہ آور نہیں، بلکہ انتہائی لذیذ ہے جس سے سردرد یا بہکنے کی کیفیت نہیں ہوتی۔
4 جنت کی صفات ۔ — شہد کی نہر ( عَسَلٍ مُّصَفًّى ) — ایسا صاف اور خالص شہد جو مکھیوں کا نکالا ہوا نہیں، بلکہ بالکل شفاف ہے۔
5 جنت کے متعلق حدیث — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی خیال گزرا۔“ (صحیح بخاری)

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

دنیا کی ناپائیداری کے حوالے سے احادیث

1 حدیث 1 — رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم ایک مسافر ہو یا راستہ عبور کرنے والے ہو۔“ (صحیح بخاری)
2 حدیث 2 — آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! دنیا آخرت کے مقابلے میں صرف اتنی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لاتی ہے۔“ (صحیح مسلم)
3 حدیث 3 — آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر دنیا کی قیمت اللہ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی، تو وہ کسی کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پینے دیتا۔“ (جامع ترمذی)
13 سرگرمیاں

سورہ محمد میں قتال فی سبیل اللہ کے احکام، مجاہدین و شہداء کی فضیلت

سورہ محمد کو ”سورہ قتال“ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں جہاد کے واضح احکام ہیں۔

قتال کے احکام اور ترغیب کی آیات اور مجاہدین کی فضیلت اور شہداء کا انجام

1 قتال کے احکام اور ترغیب کی آیات — دشمن سے آمنا سامنا — جنگ کے میدان میں جب کفار سے مقابلہ ہو تو مضبوطی سے لڑنے کا حکم ہے (آیت 4): ”فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ“ (پس جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں مارو)۔
2 قتال کے احکام اور ترغیب کی آیات — جنگی قیدیوں کا حکم — جب دشمن مغلوب ہو جائے تو انہیں قیدی بناؤ۔ اس کے بعد دو سورتیں ہیں: ”فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً“ یعنی یا تو احسان کر کے مفت چھوڑ دو یا فدیہ (معاوضہ/تبادلہ) لے کر رہا کرو۔
3 قتال کے احکام اور ترغیب کی آیات — بزدلی کی ممانعت — مسلمانوں کو صلح کی ایسی پیشکش کرنے سے روکا گیا جو بزدلی پر مبنی ہو (آیت 35): ”فَلَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَاللَّهُ مَعَكُمْ“ (پس تم بزدلی نہ دکھاؤ اور صلح کی دعوت نہ دو جبکہ تم ہی غالب رہنے والے ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے)۔
4 مجاہدین کی فضیلت اور شہداء کا انجام — مجاہدین کی مالی و جانی قربانی کو اللہ کا قرضِ حسنہ اور دین کی مدد قرار دیا گیا: ”إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ“ (اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا)۔
5 مجاہدین کی فضیلت اور شہداء کا انجام — شہداء کے اعمال کو اللہ کبھی ضائع نہیں کرتا، ان کی روحوں کو تسکین دیتا ہے اور انہیں جنت کا اعلیٰ مقام عطا فرماتا ہے (جیسا کہ اوپر آیات 4-6 میں گزرا)۔
14 سرگرمیاں

منافقین کی خامیاں اور ان کے نقصانات (سورہ محمد کی روشنی میں)

سورہ محمد میں منافقین کے کرتوتوں کو بے نقاب کیا گیا ہے:

منافقین کی خامیاں اور منافقت کے نقصانات

1 منافقین کی خامیاں — جہاد اور قتال سے فرار — جب قتال کا واضح حکم نازل ہوتا ہے تو ان پر موت کی غشی طاری ہونے لگتی ہے (آیت 20): ”رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ“ ۔
2 منافقین کی خامیاں — قرآن میں غور نہ کرنا — ان کے دلوں پر کفر اور نفاق کے تالے لگے ہیں (آیت 24): ”أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا“ ۔
3 منافقین کی خامیاں — دین سے پھر جانا — حق واضح ہونے کے بعد بھی وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور شیطان ان کو دھوکے میں رکھتا ہے۔
4 منافقین کی خامیاں — ظاہری فرمانبرداری، باطنی بغاوت — زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اطاعت کریں گے، لیکن پیٹھ پیچھے اسلام کے دشمنوں سے سازباز کرتے ہیں۔
5 منافقت کے نقصانات — اعمال کی بربادی — ان کے نفاق کی وجہ سے اللہ ان کے تمام اعمال غارت کر دیتا ہے (آیت 28): ”فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ“ ۔
6 منافقت کے نقصانات — رسوائی اور عذاب — موت کے وقت فرشتے ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے ان کی روح قبض کرتے ہیں (آیت 27)۔
15 سرگرمیاں

ہمارے معاشرے کی خامیاں اور ان کی اصلاح کے طریقے

موجودہ دور میں ہمارے مسلم معاشرے میں بھی منافقانہ علامات اور اخلاقی خامیاں پیدا ہو چکی ہیں۔

معاشرتی خامیاں اور اصلاح کے طریقے (کیسے ٹھیک کیا جائے؟)

1 معاشرتی خامیاں — قول و فعل کا تضاد — زبان پر اسلام کا دعویٰ مگر عملی زندگی میں احکامِ الٰہی سے دوری۔
2 معاشرتی خامیاں — قرآن و دین سے دوری — قرآن کو صرف برکت کے لیے پڑھنا، اس کے احکام اور تدبر کو چھوڑ دینا۔
3 معاشرتی خامیاں — مفاد پرستی اور بزدلی — حق بات کہنے سے ڈرنا اور ذاتی یا مالی مفاد کے لیے نظریات کا سودا کرنا۔
4 معاشرتی خامیاں — دشمنانِ اسلام کی نقالی — اسلامی شعائر پر فخر کرنے کے بجائے غیروں کے طرزِ زندگی کو ترجیح دینا۔
5 اصلاح کے طریقے (کیسے ٹھیک کیا جائے؟) — قرآنی تعلیمات کا فروغ اور تدبر — قرآن پاک کو صرف تجوید سے پڑھنے کے ساتھ ساتھ ترجمہ، تفسیر اور تدبر (فہم) کے ساتھ پڑھنے کو تعلیمی اداروں اور گھروں میں لازمی کیا جائے۔
6 اصلاح کے طریقے (کیسے ٹھیک کیا جائے؟) — قول و فعل کی یکسانیت — انفرادی سطح پر ہر شخص اپنی ذات کا محاسبہ کرے کہ جو وہ کہتا ہے، کیا اس پر عمل بھی کرتا ہے؟
7 اصلاح کے طریقے (کیسے ٹھیک کیا جائے؟) — جہاد بالنفس (نفس کی اصلاح) — خواہشاتِ نفسانی اور دنیا کی عارضی محبت کے خلاف مسلسل جدوجہد کی جائے، اور آخرت کی فکر کو اجاگر کیا جائے۔
8 اصلاح کے طریقے (کیسے ٹھیک کیا جائے؟) — امر بالمعروف و نہی عن المنکر — معاشرے میں اچھائی کو پھیلانے اور برائی کو روکنے کے لیے میڈیا، ممبر و محراب اور سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کیا جائے۔

شان نزول

16 شان نزول

آیت 20 اور 21 (جہاد کا حکم اور منافقین کا ردعمل)

جواب شانِ نزول: مفسرین کے مطابق مدینہ میں مسلمانوں کو جب تک جہاد کا واضح حکم نہیں ملا تھا، وہ شدت سے اس کی آرزو کرتے تھے کہ کوئی حکم نازل ہو۔ جب جہاد کا واضح حکم اترا تو منافقین کے دل خوف سے دہل گئے اور وہ موت کے وقت غشی کھانے والوں کی طرح دیکھنے لگے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں: ”اور ایمان والے کہتے ہیں کہ کوئی سورت کیوں نہیں اتاری گئی
17 شان نزول

آیت 4 (جنگ کے قیدیوں سے متعلق احکام)

جواب شانِ نزول: تفاسیر میں مروی ہے کہ یہ آیت جنگِ بدر یا دیگر ابتدائی غزوات کے موقع پر نازل ہوئی۔ اس میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی کہ جب کافروں سے لڑائی میں غلبہ پا لو تو انہیں مضبوطی سے قید کرو، اور پھر جنگ کے خاتمے پر یا تو احسان کرتے ہوئے بلا معاوضہ چھوڑ دو یا فدیہ (معاوضہ) لے کر آزاد کرو۔
18 شان نزول

آیت 14 (مومنوں کے دل ٹھنڈے ہونے کا بیان)

جواب شانِ نزول: یہ آیت ان صحابہ کرام کی تسلی اور غصے کے ازالے کے لیے اتری جنہیں مکہ میں ظلم کا نشانہ بنایا گیا اور مدینہ میں بھی کفار نے ستایا۔ اللہ نے فرمایا کہ کافروں سے قتال کرو، اس کے ذریعے اللہ تمہارے ہاتھوں انہیں سزا دے گا اور مظلوم مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈا کرے گا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.