بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 14: سبق 14: سورہ الشوریٰ — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

﴿وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا وَتُنذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ﴾

آیت میں قرآن حکیم کے نزول کا کیا مقصد بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

”اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی زبان میں قرآن کی وحی کی ہے تاکہ آپ مکہ والوں کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ارد گرد رہتے ہیں ڈر سنائیں، اور آپ جمع ہونے کے اس دن (قیامت) سے ڈرائیں جس میں کوئی شک نہیں، (اس دن) ایک گروہ جنت میں ہوگا اور دوسرا گروہ دوزخ میں ہوگا۔“

قرآن کے نزول کا مقصد:

1 انذار (ڈرانا) — مکہ مکرمہ (ام القریٰ) اور اس کے ارد گرد کے تمام لوگوں کو اللہ کے عذاب سے خبردار کرنا۔
2 قیامت کے دن سے باخبر کرنا — لوگوں کو قیامت کے اس دن کے ہولناک انجام سے ڈرانا جس دن سب اکٹھے کیے جائیں گے اور انسان اپنے اعمال کی بنا پر جنت یا جہنم کا مستحق بنے گا۔
2 مختصر جوابات

﴿فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ ۖ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ ۖ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِن كِتَابٍ ۖ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ ۖ اللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۖ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ ۖ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ۖ اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ﴾

آیت 15: نبی ﷺ کو کیا تلقین کی گئی؟

ترجمہ

”پس (اے نبی!) آپ اسی (دین) کی طرف دعوت دیجیے اور اسی پر قائم رہیے جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے، اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے اور کہہ دیجیے: میں ہر اس کتاب پر ایمان لایا جو اللہ نے نازل فرمائی، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا اور تمہارا رب ہے۔ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال، ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں، اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔“

نبی ﷺ کو کی گئی تلقینات:

1 دعوتِ دین — دینِ اسلام کی طرف مسلسل لوگوں کو بلانا۔
2 استقامت — اللہ کے احکامات پر مضبوطی سے قائم رہنا۔
3 خواہشات کی نفی — منکرینِ حق اور گمراہ لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا۔
4 کتب پر ایمان کا اعلان — یہ واضح کرنا کہ آپ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔
5 عدل و انصاف — لوگوں کے مابین کامل عدل قائم کرنے کا حکم۔
3 مختصر جوابات

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَابَّةٍ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ﴾

آیت 29: کن چیزوں کو اللہ کی نشانیاں قرار دیا گیا؟

ترجمہ

”اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور ان جانداروں کا پیدا کرنا بھی جو اس نے ان میں پھیلا دیے ہیں، اور وہ ان (سب) کے جمع کرنے پر بھی جب چاہے گا بڑا قادر ہے۔“

اللہ کی نشانیاں:

1 آسمانوں اور زمین کی تخلیق — اتنی وسیع و عریض کائنات کو بغیر ستونوں کے بنانا اور سنبھالنا۔
2 جانداروں کا پھیلاؤ (دابّہ) — زمین و آسمان میں ہر قسم کی چلنے پھرنے والی مخلوقات اور جانداروں کو پیدا کرنا اور پھیلانا۔
3 دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت — ان تمام جانداروں کو موت کے بعد دوبارہ قیامت کے دن اکٹھا کرنے کی الٰہی قدرت۔
4 مختصر جوابات

﴿وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ﴾

آیت 37: اہل ایمان کی کن صفات کا ذکر ہے

ترجمہ

”اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔“

اہلِ ایمان کی صفات:

1 کبیرہ گناہوں سے اجتناب — بڑے بڑے گناہوں سے خود کو دور رکھنا۔
2 بے حیائی سے دوری — ظاہری اور باطنی فحش کاموں سے بچنا۔
3 غصے کے وقت عفو و درگزر — غصہ آنے کی صورت میں انتقام لینے کے بجائے معافی کا راستہ اختیار کرنا۔
5 مختصر جوابات

﴿وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾

آیت 38: ” اور اہل ایمان کی مزید کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

”اور جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز قائم رکھی اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔“

اہلِ ایمان کی صفات:

1 فرمانبرداری — اپنے رب کی پکار پر لبیک کہنا اور اس کے احکام ماننا۔
2 اقامتِ نماز — نماز کی پابندی کرنا اور اسے اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرنا۔
3 باہمی مشورت (شوریٰ) — اپنے اجتماعی اور انفرادی معاملات کو آپس کے مشورے سے طے کرنا۔
4 انفاق فی سبیل اللہ — اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے نیک کاموں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرنا۔
6 مختصر جوابات

﴿وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾

آیت 43: کن کاموں کو ہمت کے کام قرار دیا گیا؟

ترجمہ

”اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا، تو یقیناً یہ بڑی ہمت (اور عزم) کے کاموں میں سے ہے۔“

ہمت اور عزم کے کام:

1 صبر کرنا — تکلیفوں، اذیّتوں اور جفاؤں پر دل کو قابو میں رکھنا اور واویلا نہ کرنا۔
2 درگزر کرنا (معاف کرنا) — بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود سامنے والے کو دل سے معاف کر دینا۔
7 مختصر جوابات

﴿... وَإِنَّا إِذَا أَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَإِنَّ الْإِنسَانَ كَفُورٌ﴾

آیت 48: انسان کا کیا طرزِ عمل (رحمت اور برائی پہنچنے پر) بیان ہو رہا ہے؟

ترجمہ

”۔۔۔ اور جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتا ہے (خوش ہو جاتا ہے)، اور اگر انہیں ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو انسان بڑا ہی ناشکرا بن جاتا ہے۔“

انسان کا طرزِ عمل:

1 رحمت ملنے پر — جب اللہ تندرستی، مال و دولت یا خوشحالی دیتا ہے، تو انسان غرور، تکبر اور عیش و عشرت میں مست ہو جاتا ہے اور اسے اپنی ذاتی قابلیت سمجھنے لگتا ہے۔
2 برائی/مصیبت پہنچنے پر — جب انسان کے اپنے گناہوں اور غلطیوں کی وجہ سے اس پر کوئی تکلیف یا تنگی آتی ہے، تو وہ فوراً مایوس ہو جاتا ہے اور اللہ کی سابقہ تمام نعمتوں کو بھول کر شدید ناشکری (کفرانِ نعمت) کا مظاہرہ کرتا ہے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

شَرَعَ لَکُم ۔۔۔۔ تتفرقون فیہ

آیت 13 — ترجمہ و مفہوم

ترجمہ

”اللہ نے تمہارے لیے دین کا وہی راستہ مقرر فرمایا ہے جس کی اس نے نوح (علیہ السلام) کو تاکید فرمائی تھی اور جس کی وحی ہم نے (اے محمد ﷺ) آپ کی طرف کی ہے اور جس کی تاکید ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی تھی (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ مشرکین پر وہ بات بہت بھاری گزرتی ہے جس کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے لیے چن لیتا ہے اور اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو رجوع کرے“

مفہوم و تشریح

جواب اس آیتِ مبارکہ کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک تمام انبیاءِ کرام کا اصل دین (توحید، آخرت، اور اطاعتِ الٰہی) ایک ہی تھا۔ جزوی شریعتیں اور طریقے بدلے مگر بنیادی عقائد نہیں بدلے۔ مسلمانوں کو یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ اسی سچے دین کی پیروی کریں اور پچھلی امتوں کی طرح گروہ بندیوں اور فرقہ واریت کا شکار نہ ہوں۔
9 تفصیلی جوابات

سورہ شوریٰ کا تعارف

جواب کتاب پر
10 تفصیلی جوابات

أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدیر

سورہ الشوریٰ: آیت نمبر (50) ترجمہ و مفہوم

ترجمہ

یا وہ انہیں بیٹے اور بیٹیاں دونوں ملا کر عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ (بے اولاد) بنا دیتا ہے، بیشک وہ سب کچھ جاننے والا، بڑی قدرت والا ہے۔“

یہ آیت (پچھلی آیت 49 کے تسلسل میں) انسانی زندگی پر اللہ تعالیٰ کی کامل حاکمیت اور مشیت کو واضح کرتی ہے۔ کائنات کی تمام نعمتیں، بشمول اولاد، صرف اللہ کے اختیار میں ہیں۔ وہ انسانی تقسیم کو چار حالتوں میں بیان فرماتا ہے:

مفہوم و تشریح

1 کسی کو صرف بیٹیاں دینا
2 کسی کو صرف بیٹے دینا
3 کسی کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں دینا
4 کسی کو بالکل اولاد نہ دینا (بانجھ رکھنا)
جواب اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے کیونکہ وہ علیم (بہتر جاننے والا)قدیر (ہر چیز پر قادر) ہے۔
11 تفصیلی جوابات

سورہ شوریٰ کے بنیادی مضامین

جواب کتاب سے
12 تفصیلی جوابات

وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ﴿۵۱﴾

سورہ الشوریٰ: آیت نمبر 51

ترجمہ

اور کسی بشر کی یہ مجال نہیں کہ اللہ اس سے (روبرو) کلام کرے مگر یہ کہ وحی کے ذریعے (دل میں بات ڈال دے) یا پردے کے پیچھے سے (بات کرے) یا کوئی فرشتہ (پیغام بر) بھیجے، پس وہ اس کے حکم سے جو اللہ چاہے وحی پہنچائے، بیشک وہ بلند مرتبہ، بڑی حکمت والا ہے۔“

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں تک اپنا پیغام پہنچانے یعنی وحی کے تین طریقے بیان فرمائے ہیں:

مفہوم و تشریح

1 وحیِ مستقیم (الہام) — اللہ تعالیٰ کا کسی نبی کے دل میں براہِ راست کوئی بات یا خواب کے ذریعے پیغام ڈال دینا
2 من ورآء حجاب (پردے کے پیچھے سے) — آواز سنائی دے لیکن متکلم نظر نہ آئے، جیسے کوہِ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام ہوا۔
3 ارسالِ رسول (فرشتے کے ذریعے) — حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے انبیاء تک وحی پہنچانا، جو کہ سب سے عام طریقہ تھا

سرگرمیاں

13 سرگرمیاں

”اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ“

آیت کی روشنی میں انبیاء کی بعثت کے مقاصد بیان کریں

اس آیت کا ٹکڑا انبیاءِ کرام کی آمد کے دو سب سے بڑے اور اہم مقاصد کو بیان کرتا ہے:

الف) اقامتِ دین (دین کو قائم کرنا) اور ب) تفرقہ بازی کا خاتمہ اور اتحادِ امت

1 الف) اقامتِ دین (دین کو قائم کرنا) — جامع نفاذ — دین صرف چند عبادات کا نام نہیں، بلکہ زندگی کے پورے نظام (سیاست، معیشت، معاشرت) پر اللہ کے قانون کو نافذ کرنا ’اقامتِ دین‘ ہے۔
2 الف) اقامتِ دین (دین کو قائم کرنا) — حاکمیتِ الٰہی — زمین پر انسانوں کی خود ساختہ حاکمیت کو ختم کر کے صرف اللہ کی حاکمیت قائم کرنا انبیاء کا اولین مقصد تھا۔
3 ب) تفرقہ بازی کا خاتمہ اور اتحادِ امت — امتِ واحدہ کا قیام — انبیاء کی بعثت کا مقصد انسانیت کو رنگ، نسل، اور زبان کے تعصبات سے نکال کر ایک مرکز (توحید) پر جمع کرنا تھا۔
4 ب) تفرقہ بازی کا خاتمہ اور اتحادِ امت — اختلافات کا حل — جب بھی لوگ صراطِ مستقیم سے بھٹک کر فرقوں میں بٹ گئے، اللہ نے انبیاء بھیجے تاکہ وہ حق واضح کر کے تفرقہ ختم کریں
14 سرگرمیاں

سورہ شوریٰ کی رو سے مشورہ کی اہمیت

اس سورت کا نام ہی ”الشوریٰ“ (مشورہ) ہے، جس سے اس کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ سورت کی آیت نمبر 38 میں سچے مسلمانوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا: ”وَ اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ“ (اور ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں)۔

1 فیصلوں میں برکت — مشورہ کرنے سے انفرادی لغزشوں کا امکان ختم ہو جاتا ہے اور اجتماعی عقل سامنے آتی
2 معاشرتی ہم آہنگی — باہمی مشاورت سے معاشرے کے افراد میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے اور دلوں کی کدورتیں دور ہوتی ہیں۔
3 سنتِ نبوی و الٰہی نظام — خود رسول اللہ ﷺ کو (باوجود کامل عقل اور وحی کے) صحابہ سے مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ امت کے لیے یہ ایک مستقل اصول بن جائے۔
15 سرگرمیاں

اسلامی نظامِ مشاورت اور موجودہ ملکی (مغربی جمہوری) نظام کا موازنہ

اسلامی نظامِ مشاورت (شوریٰ) اور موجودہ دور کے ملکی/جمہوری نظام میں بنیادی اور اصولی فرق پائے جاتے ہیں جن کا موازنہ درج ذیل جدول سے واضح ہوتا ہے:

1 خصوصیت / پہلو — اسلامی نظامِ مشاورت (شوریٰ) — موجودہ ملکی نظام (مغربی جمہوریت)
2 اعلیٰ حاکمیت — حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ شوریٰ قرآن و سنت کے خلاف قانون نہیں بنا سکتی۔ — حاکمیتِ اعلیٰ عوام یا پارلیمنٹ کے پاس ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ اکثریت سے کوئی بھی قانون بدل سکتی ہے۔
3 ارکان کا معیار — ارکان (اہلِ حل و عقد) کے لیے تقویٰ، علم، امانت داری، اور عقل شرط ہے۔ — ارکان کے لیے صرف اکثریتی ووٹ حاصل کرنا شرط ہے۔ کردار یا علم کی لازمی قید نہیں ہوتی۔
4 قانون سازی کی حد — صرف ان معاملات میں جہاں قرآن و سنت خاموش ہوں یا تشریح مقصود ہو۔ — ہر قسم کے معاملات، حتیٰ کہ اخلاقی و مذہبی قوانین کو بھی اکثریت سے بدلا جا سکتا ہے۔
5 فیصلے کی بنیاد — فیصلہ حق اور دلیل کی بنیاد پر ہوتا ہے، محض کثرتِ رائے لازمی نہیں۔ — فیصلہ خالصتاً اکثریت کی بنیاد (قوتِ تعداد) پر ہوتا ہے، خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔
6 امیدواری کا اصول — اسلام میں عہدہ مانگنے والے کو عہدہ نہیں دیا جاتا۔ — موجودہ نظام میں خود مہم چلانا اور ووٹ مانگنا لازمی جزو ہے۔

شان نزول

16 شان نزول

سورہ حم السجدہ (فصلت)

1 آیت 6 ۔ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلی — شانِ نزول: مشرکینِ مکہ کے اس رویے کے جواب میں نازل ہوئی جب وہ آپ ﷺ سے بشر ہونے کے علاوہ الہٰی احکامات کی کوئی اور عجیب و غریب قسم طلب کرتے یا آپ کی رسالت کو عام انسان ہونے کی وجہ سے تسلیم کرنے میں پس و پیش کرتے تھے۔
2 آیت 26 ۔ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ — شانِ نزول: مکہ کے کفار نے آپس میں طے کیا تھا کہ جب بھی محمد ﷺ قرآن پڑھیں تو شور مچاؤ، تالیاں بجاؤ اور ہنگامہ کھڑا کر دو تاکہ کوئی بھی شخص قرآن کا کلام نہ سن سکے۔ اس ناپاک مشورے پر یہ آیت نازل ہوئی۔
3 آیت 30 ۔ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا — شانِ نزول: حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ یہ ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو توحید کا اقرار کرنے کے بعد موت تک فرائضِ الہٰی اور دینِ حق پر ڈٹے رہے۔
17 شان نزول

شان نزول سورہ شوریٰ

آیت 23۔ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى اور آیت 38 ۔ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُھم

1 آیت 23۔ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى — شانِ نزول: تفاسیر (جیسے تفسیر ابنِ کثیر) میں منقول ہے کہ جب انصار اور مہاجرین نے مدینہ میں نبی ﷺ کی مالی مدد کرنی چاہی یا قریش نے آپ ﷺ سے کہا کہ تم ہمارے رشتہ دار ہو اس لیے اپنی تبلیغ کا کوئی معاوضہ یا قرابت کا لحاظ مانگو، تب اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کرنے کے لیے نازل فرمایا کہ میں تم سے کوئی دنیوی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میرے قرابت داروں (اہلِ بیت) سے محبت اور حسنِ سلوک رکھو۔
2 آیت 38 ۔ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُھم — شانِ نزول: یہ آیت ان مومنین کی مدح میں نازل ہوئی جو اپنے تمام اہم خاندانی اور اجتماعی فیصلے باہمی مشورے سے طے کرتے تھے، جو کہ جاہلی عصبیت کے برعکس اسلامی معاشرے کا خاص شیوہ بنا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.