﴿وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا وَتُنذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ﴾
آیت میں قرآن حکیم کے نزول کا کیا مقصد بیان کیا گیا ہے؟
”اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی زبان میں قرآن کی وحی کی ہے تاکہ آپ مکہ والوں کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ارد گرد رہتے ہیں ڈر سنائیں، اور آپ جمع ہونے کے اس دن (قیامت) سے ڈرائیں جس میں کوئی شک نہیں، (اس دن) ایک گروہ جنت میں ہوگا اور دوسرا گروہ دوزخ میں ہوگا۔“
قرآن کے نزول کا مقصد: