بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 13: سبق 13: حم السجدہ، سورہ الشوریٰ — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ وَفِي آذَانِنَا وَقْرٌ وَمِن بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ إِنَّنَا عَامِلُون۔

آیت 5: عربی، ترجمہ اور کفار کے کس ردِ عمل کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اور انہوں نے کہا: ہمارے دل اس (توحید) سے غلافوں (پردوں) میں ہیں جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (بہرہ پن) ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک بڑا حجاب (اوٹ) ہے، سو آپ اپنا کام کیجیے، ہم یقیناً اپنا کام کرنے والے ہیں“۔

اس آیت میں کفارِ مکہ کی طرف سے دعوتِ توحید کے جواب میں انتہائی سخت، گستاخانہ اور مایوس کن ردِ عمل کا ذکر ہے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے صاف کہہ دیا کہ:

کفار کا ردِ عمل (وضاحت):

1 دلوں پر غلاف — ہمارے دلوں پر ایسے پردے پڑے ہیں کہ آپ کی توحید کی باتیں ہمارے دل میں اثر ہی نہیں کر سکتیں۔
2 کانوں میں بوجھ — ہمارے کان بہرے ہو چکے ہیں، ہمیں آپ کی دعوت سنائی نہیں دیتی۔
3 درمیان میں حجاب — ہمارے اور آپ کے درمیان ایک پکا اور مستقل حجاب (دیوار) حائل ہے جس کی وجہ سے ہمارا آپ کا کوئی میل جول نہیں ہو سکتا۔
4 اعلانِ لاتعلقی — تم اپنا کام جاری رکھو (جو کرنا ہے کرو)، ہم اپنے کفر اور بت پرستی پر قائم رہ کر اپنا کام کرتے رہیں گے۔
2 مختصر جوابات

فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ

آیت 13: میں اعراض کرنے والوں کی کیا سزا بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

”پھر اگر یہ لوگ منہ موڑ لیں (اعراض کریں) تو آپ فرما دیجیے: میں تمہیں کڑک (ناگہانی عذاب) سے ڈراتا ہوں، جو عاد اور ثمود کی کڑک جیسی ہوگی“۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو توحید اور حق سے منہ موڑتے ہیں، ایک خوفناک دنیاوی عذاب کی سزا سے خبردار کیا ہے:

اعراض کرنے والوں کی سزا (وضاحت):

1 صاعقہ (خوفناک کڑک/عذاب) — اعراض کرنے والوں کی سزا ایک ایسی ہلاکت خیز کڑک اور گرج چمک والا عذاب ہے جو انسان کو پگھلا کر یا راکھ بنا کر رکھ دے۔
2 سابقہ قوموں کی مثال — انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے، تو ان کا انجام بھی قومِ عاد اور قومِ ثمود جیسا ہوگا، جن پر تیز آندھی اور چنگھاڑ (کڑک) کا عذاب نازل ہوا تھا اور وہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیے گئے تھے۔
3 مختصر جوابات

﴿فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ﴾

آیت 16: قومِ عاد کا کیا انجام ہوا؟

ترجمہ

”تو ہم نے ان پر ان کے منحوس دنوں میں ایک تیز آندھی بھیجی تاکہ دنیا کی زندگی میں ہم انہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں اور بیشک آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے اور ان کی مدد نہ ہوگی۔“

آیت کی رو سے انجام

جواب قومِ عاد کو ان کے تکبر کی وجہ سے دنیا ہی میں ایک خوفناک، تیز اور ٹھنڈی آندھی (ریاح صرصر) کے ذریعے تباہ کر دیا گیا، جس نے انہیں ذلیل و رسوا کر دیا اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑھ کر ہوگا۔
4 مختصر جوابات

﴿حَتّٰىۤ اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾

آیت 20: قیامت کے دن انسان کے خلاف گواہی دینے والے اعضا کون سے ہوں گے

ترجمہ

”یہاں تک کہ جب وہ (سب) آگ کے پاس آ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں سب ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔“

آیت کی رو سے اعضا

جواب قیامت کے دن انسان کے اپنے کان، آنکھیں اور کھالیں (جلد) اس کے گناہوں کے خلاف سچی گواہی دیں گے۔
5 مختصر جوابات

﴿وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ﴾

آیت 26: تلاوتِ قرآن کے وقت کفار کی روش کیا ہوتی ہے؟

ترجمہ

”اور کافر بولے اس قرآن کو نہ سنو اور اس (کی تلاوت) کے دوران غوغا (شور و غل) کرو شاید تم غالب آ جاؤ۔“

آیت کی رو سے کفار کی روش

جواب کفار ایک دوسرے کو تاکید کرتے تھے کہ نہ خود قرآن سنیں اور نہ دوسروں کو سننے دیں، بلکہ جب قرآن پڑھا جائے تو شور مچائیں، تالیاں بجائیں اور آوازیں کسیں تاکہ قرآن کی آواز دب جائے۔
6 مختصر جوابات

﴿وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ﴾

آیت 33: سب سے بہتر بات کس کی ہے؟

ترجمہ

”اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے کہ بیشک میں مسلمان ہوں۔“

آیت کی رو سے سب سے بہتر بات

جواب کائنات میں سب سے بہترین گفتگو اس شخص کی ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دے، خود نیک عمل کرے اور فخر سے اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرے۔
7 مختصر جوابات

﴿وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖۚ-وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ﴾

آیت 51: خوشی اور غم میں انسان کا کیا رویہ بیان ہوا؟

ترجمہ

”اور جب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو (لمبی) چوڑی دعائیں مانگنے والا بن جاتا ہے۔“

آیت کی رو سے رویہ

جواب انسان کی ناشکری بیان ہوئی ہے کہ خوشی اور نعمت ملنے پر وہ تکبر کرتا ہے اور اللہ کو بھول جاتا ہے، لیکن جیسے ہی کوئی غم یا مصیبت آتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں مانگنے لگ جاتا ہے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ﴾

آیت 30

ترجمہ

”بیشک جنہوں نے کہا: ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔“

وضاحت

جواب اس آیت میں ایمان کے بعد استقامت (ثابت قدمی) کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مطابق استقامت یہ ہے کہ انسان احکامِ الٰہی پر مضبوطی سے جم جائے اور لومڑی کی طرح حیلے بہانے نہ تلاش کرے۔ ایسے لوگوں کو موت کے وقت، قبر میں اور حشر میں فرشتے تسلی دیتے ہیں کہ وہ نہ آنے والے حالات سے ڈریں اور نہ دنیا چھوڑنے کا غم کریں، بلکہ جنت کی خوشخبری پائیں۔
9 تفصیلی جوابات

اس سورت کا تعارف بیان کریں

جواب (جواب ) کتاب سے
10 تفصیلی جوابات

﴿فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْــٴَـمُوْنَ﴾

آیت 38: ترجمہ و وضاحت کریں

ترجمہ

”تو اگر یہ تکبر کریں تو جو (فرشتے) تمہارے رب کے پاس ہیں وہ رات اور دن اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور وہ اکتاتے نہیں۔“

وضاحت

جواب مکہ کے کفار اللہ کے سامنے جھکنے اور سجدہ کرنے سے تکبر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ انسان سرکشی کرتے ہیں تو اللہ ان کی عبادت کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ کے مقرب فرشتے دن رات بغیر تھکے اور بغیر اکتائے اس کی تسبیح و عبادت میں مصروف ہیں۔ (یہ آیتِ سجدہ ہے، اسے پڑھنے یا سننے پر سجدۂ تلاوت واجب ہوتا ہے)۔
11 تفصیلی جوابات

﴿لَا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖؕ-تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ﴾

آیت 42: قرآن مجید کی حقانیت اور تحفظ

ترجمہ

”باطل نہ اس کے سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ حکمت والے، سب تعریفوں والے (اللہ) کی طرف سے نازل کردہ ہے۔“

وضاحت

جواب یہ آیت قرآن مجید کے الہامی اور محفوظ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی باطل قوت نہ تو قرآن کے دلائل کو جھٹلا سکتی ہے، نہ اس میں کوئی تحریف یا تبدیلی کر سکتی ہے اور نہ ہی اس کے احکامات میں کوئی نقص نکال سکتی ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود حکیم و حمید خدا نے لیا ہے۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

﴿وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَاؕ-قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴾

آیت 21: انسان کا اپنی جلد سے مکالمہ

ترجمہ

”اور وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ وہ کہیں گی: ہمیں اس اللہ نے نطق (بولنے کی طاقت) دی جس نے ہر چیز کو کلام کی طاقت دی ہے اور اسی نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جا رہے ہو۔“

مکالمہ

جواب جب مجرموں کے اپنے اعضا (کھال) ان کے خلاف گواہی دیں گے، تو انسان حیران و پریشان ہو کر اپنی جلد سے شکوہ کرے گا کہ ”تم تو میرا اپنا حصہ ہو، تم نے میرے ہی خلاف گواہی کیوں دی؟“ تب کھالیں جواب دیں گی کہ ”ہم مجبور ہیں، ہمیں اس قادرِ مطلق خدا نے بولنے کا حکم دیا ہے جو ہر چیز کو طاقتِ گواہی دینے پر قادر ہے۔“
13 سرگرمیاں

سورہ حم السجدہ میں زمین کے بارے میں بیان کردہ حقائق

اس سورت میں کائنات اور زمین کی تخلیق کے حوالے سے اہم ترین سائنسی و ایمانی حقائق بیان کیے گئے ہیں (آیات 9 تا 12):

1 دو دنوں میں تخلیق — اللہ تعالیٰ نے زمین کو ابتدائی طور پر دو دنوں (مراحل) میں پیدا فرمایا۔
2 پہاڑوں کا قیام — زمین کو توازن دینے کے لیے اس کے اوپر مضبوط پہاڑ جمائے گئے۔
3 برکت اور غذائی وسائل — زمین کے اندر تمام جانداروں کے لیے رزق اور غذائی ضرورتیں چار دنوں (مراحل) میں مقرر کر دی گئیں، جو تمام سائلین کے لیے برابر ہیں۔
4 مردہ زمین کا زندہ ہونا (آیت 39) — زمین کے بارے میں یہ بھی بیان ہوا کہ وہ خشک اور بے جان پڑی ہوتی ہے، لیکن جیسے ہی اللہ اس پر بارش برساتا ہے، وہ لہلہانے لگتی ہے۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ مردوں کو بھی اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا۔
14 سرگرمیاں

مسلمانوں کو قرآن سے دور کرنے کی سازشیں اور تعلق مضبوط کرنے کے طریقے

آج مسلمانوں کو قرآن سے کس طرح دور کیا جا رہا ہے؟ اور قرآن مجید سے اپنا تعلق کیسے مضبوط کریں؟

1 آج مسلمانوں کو قرآن سے کس طرح دور کیا جا رہا ہے؟ — فکری و ذہنی خلفشار — انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مغربی تہذیب کے منفی اثرات کے ذریعے مسلمانوں، خصوصاً نوجوانوں کی توجہ قرآن و دین سے ہٹائی جا رہی ہے۔
2 آج مسلمانوں کو قرآن سے کس طرح دور کیا جا رہا ہے؟ — صرف تبرک سمجھنا — قرآن کو صرف ثواب، مردوں کو بخشوانے، یا الماریوں میں سجانے کی کتاب بنا دیا گیا ہے، اس کے فہم اور عملی زندگی میں نفاذ کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔
3 آج مسلمانوں کو قرآن سے کس طرح دور کیا جا رہا ہے؟ — مادیت پرستی — دنیا کمانے کی دوڑ اور مادی فوائد میں اس قدر مشغول کر دیا گیا ہے کہ قرآن پڑھنے اور سمجھنے کا وقت ہی نہیں بچتا۔
4 آج مسلمانوں کو قرآن سے کس طرح دور کیا جا رہا ہے؟ — ترجمہ و تفسیر سے دوری — عربی زبان نہ سمجھنے کی وجہ سے اکثریت قرآن کے احکامات اور اس کے پیغامِ ہدایت سے ناواقف ہے۔
5 قرآن مجید سے اپنا تعلق کیسے مضبوط کریں؟ — روزانہ تلاوت کا معمول — روزانہ چاہے ایک رکوع یا چند آیات ہی کیوں نہ ہوں، پابندی کے ساتھ تلاوت کی جائے۔
6 قرآن مجید سے اپنا تعلق کیسے مضبوط کریں؟ — ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ مطالعہ — قرآن کو سمجھنے کے لیے مستند ترجمہ و تفسیر کا سہارا لیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ہمارا رب ہم سے کیا مطالبہ کر رہا ہے۔
7 قرآن مجید سے اپنا تعلق کیسے مضبوط کریں؟ — عملی زندگی میں نفاذ — جو کچھ قرآن سے سیکھیں، اسے اپنے اخلاق، معاملات اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔
8 قرآن مجید سے اپنا تعلق کیسے مضبوط کریں؟ — قرآنی مجالس کا انعقاد — گھروں اور مساجد میں درسِ قرآن کی محافل قائم کی جائیں تاکہ بچوں اور نوجوانوں میں قرآن کا فہم عام ہو۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.