وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ وَفِي آذَانِنَا وَقْرٌ وَمِن بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ إِنَّنَا عَامِلُون۔
آیت 5: عربی، ترجمہ اور کفار کے کس ردِ عمل کا ذکر ہے؟
اور انہوں نے کہا: ہمارے دل اس (توحید) سے غلافوں (پردوں) میں ہیں جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (بہرہ پن) ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک بڑا حجاب (اوٹ) ہے، سو آپ اپنا کام کیجیے، ہم یقیناً اپنا کام کرنے والے ہیں“۔
اس آیت میں کفارِ مکہ کی طرف سے دعوتِ توحید کے جواب میں انتہائی سخت، گستاخانہ اور مایوس کن ردِ عمل کا ذکر ہے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے صاف کہہ دیا کہ:
کفار کا ردِ عمل (وضاحت):