آیت 44: اللہ سے ملاقات کے وقت اہل اِیمان کا استقبال کیسے ہو گا؟
ترجمہ
”جس دن وہ اللہ سے ملیں گے ان کا استقبال ’سلام‘ سے ہوگا، اور اللہ نے ان کے لیے باعزت اجر (جنت) تیار کر رکھا ہے۔“
استقبال کا طریقہ:
جوابسلامتی کا پیغام: مفسرین کے مطابق جب اہل ایمان اللہ رب العزت سے ملاقات کریں گے (خواہ موت کے وقت، قبر سے اٹھتے وقت یا جنت میں داخلے کے وقت)، تو انہیں اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی طرف سے سلامتی اور امن کی بشارت دی جائے گی۔ یہ استقبال سراپا امن، رحمت اور خوشی کا مظہر ہوگا۔
آیت 53: نبی کریم ﷺ کے متعلق اہل ایمان کو کن باتوں سے منع کیا گیا؟
ترجمہ
”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں بلا اجازت نہ جایا کرو، سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لیے بلایا جائے اور تم کھانے کی تیاری کا انتظار کرنے والے نہ ہو (یعنی وقت پر آؤ)۔ لیکن جب تمہیں بلایا جائے تو داخل ہو، پھر جب کھانا کھا چکو تو فوراً منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں دل بہلا کر نہ بیٹھو۔ تمہاری یہ بات نبی کو تکلیف دیتی تھی مگر وہ تم سے شرم کرتے تھے، اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔“
ممنوعہ باتیں (آدابِ بارگاہِ رسالت):
1بلا اجازت دخول — نبی کریم ﷺ کے گھروں میں بغیر اجازت اور بغیر دعوت کے داخل ہونے سے منع کیا گیا۔
2وقت سے پہلے آنا — کھانے کی دعوت ہو تو وقت سے بہت پہلے آ کر بیٹھنے اور کھانے کی تیاری کا انتظار کرنے سے روکا گیا۔
3کھانے کے بعد طویل بیٹھک — کھانا کھانے کے بعد وہیں بیٹھ کر طویل گفتگو یا گپ شپ کرنے سے منع کیا گیا کیونکہ اس سے آپ ﷺ کے گھریلو امور اور آرام میں خلل پڑتا تھا اور آپ ﷺ کو تکلیف ہوتی تھی۔
4مختصر جوابات
ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبین ۔ وکا اللہ بکل شیء علیما۔
آیت 40 ۔ عقیدہ ختم نبوت کا مفہوم، عظمت، اہمیت اور دفاع کے لیے اقدامات تحریر کریں
ترجمہ
عقیدہ ختمِ نبوت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ آپ ﷺ پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ ہی کسی کو کسی بھی قسم کی نبوت مل سکتی ہے۔ قرآن میں آپ ﷺ کو ”خَاتَمَ النَّبِيِّينَ“ (نبیوں کی مہر/آخر) فرمایا گیا ہے۔
1عظمت، اہمیت اور حساسیت: — دین کی بنیاد — یہ عقیدہ اسلام کے بنیادی ترین عقائد میں سے ہے۔ اس پر پورے دین کی عمارت کھڑی ہے۔
2عظمت، اہمیت اور حساسیت: — ایمان کی شرط — اس عقیدے کو مانے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اس میں ادنیٰ شک بھی انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔
3عظمت، اہمیت اور حساسیت: — حساسیت — حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر اور دجالیت ہے، اور ایسے جھوٹے دعویدار کو ماننا بھی کفر ہے۔
4منکرینِ ختمِ نبوت کا حکم: — امتِ مسلمہ کا روزِ اول سے اس بات پر متفقہ اجمتاع ہے کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج (مرتد) ہے اور اس کے پیروکار بھی کافر ہیں، جیسا کہ عہدِ صدیقی میں مسیلمہ کذاب کے خلاف صحابہ نے جہاد کیا۔
5دفاع کے لیے کرنے والے کام:- — تعلیمی بیداری — نئی نسل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں ختمِ نبوت کے دلائل سے روشناس کرانا۔
6دفاع کے لیے کرنے والے کام:- — سیرت کا فروغ — حضور ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی کاملیت کو دنیا کے سامنے واضح کرنا۔
7دفاع کے لیے کرنے والے کام:- — فتنوں کا تعاقب — قلم، زبان اور جدید میڈیا کے ذریعے قادیانیت اور دیگر جھوٹے فتنوں کے اعتراضات کے دندان شکن جوابات دینا۔
8دفاع کے لیے کرنے والے کام:- — قانونی و سیاسی تحفظ — پاکستان کے آئین کی طرح عالمی سطح پر بھی اس عقیدے کے تحفظ کی کوششیں جاری رکھنا۔
آیت 59: پردے کے احکامات، حکمت اور حجاب کی اہمیت بیان کریں
ترجمہ
”اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیجیے کہ وہ (باہر نکلتے وقت) اپنے اوپر اپنی چادروں کا کچھ حصہ لٹکا لیا کریں۔ یہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ (پاکدامن عورتوں کے طور پر) پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔“
1پردے کے احکامات و حکمت: — حکم — مسلم خواتین جب کسی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلیں تو بڑی چادر یا جلباب (عبایا/برقع) سے اپنے جسم اور چہرے کو ڈھانپیں۔
2پردے کے احکامات و حکمت: — حکمت — اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ بیان کیا گیا کہ وہ سڑکوں پر چلتے ہوئے بدقماش لوگوں کے شر اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رہیں، کیونکہ حجاب ان کی حیا اور پاکدامنی کی پہچان بن جاتا ہے۔
3حجاب کا مفہوم، ضرورت و اہمیت: — حجاب کے لغوی معنی ”اوٹ یا پردے“ کے ہیں۔ اصطلاح میں خواتین کا غیر محرم مردوں سے اپنے جسم اور زینت کو چھپانا حجاب کہلاتا ہے۔
4حجاب کا مفہوم، ضرورت و اہمیت: — ضرورت و اہمیت — حجاب معاشرے کو پاکیزہ رکھنے، بے حیائی کے سدِباب اور عورت کی عزت و ناموس کے تحفظ کا الٰہی قلعہ ہے۔ یہ عورت کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کی عفت کا پاسبان ہے۔
5حجاب نہ کرنے کے نقصانات: — معاشرتی بگاڑ — بے پردگی سے معاشرے میں بدنظری، زنا اور فحاشی کو فروغ ملتا ہے۔
6حجاب نہ کرنے کے نقصانات: — تحفظ کا خاتمہ — پردہ نہ کرنے سے عورتیں اوباش مردوں کی نظروں کا نشانہ بنتی ہیں اور ان کا امن و سکون غارت ہوتا ہے۔
7حجاب نہ کرنے کے نقصانات: — روحانی نقصان — اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی ہوتی ہے، جس سے دل کی پاکیزگی اور ایمان کی مٹھاس ختم ہو جاتی ہے۔
آیت 63 اور 65 میں قیامت کا سوال اور کافروں کا ا کیا انجام بیان ہوا؟
ترجمہ
”لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور آپ کو کیا معلوم، شاید قیامت قریب ہی ہو۔ (کافر) اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، نہ کوئی یار پائیں گے اور نہ مددگار۔“
تفسیری جواب:
1قیامت کے متعلق پوچھے جانے والے سوال کا جواب — اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کا اصل وقت صرف اللہ کے علم میں ہے، کسی انسان یا نبی کو اس کی قطعی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ البتہ یہ تنبیہ کی گئی کہ وہ بہت قریب آ چکی ہے، اس لیے تاریخ پوچھنے کے بجائے اس کی تیاری کرنی چاہیے۔
2یہ سوال کون اور کیوں کرتے تھے؟ — یہ سوال مکہ کے مشرکین اور مدینہ کے یہودی و منافقین کرتے تھے۔ ان کا مقصد ایمان لانا یا حقیقت جاننا نہیں تھا، بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کا مذاق اڑانے، آپ ﷺ کی نبوت کا امتحان لینے اور مسلمانوں کو عاجز کرنے کے لیے بطورِ استہزا (تمسخر) یہ سوال کرتے تھے کہ ”اگر آپ سچے ہیں تو بتائیں وہ دن کب آئے گا؟“
”اور نہ کسی مومن مرد کو یہ حق حاصل ہے اور نہ کسی مومن عورت کو کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے اس کام میں کوئی اختیار باقی رہے۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ یقیناً کھلی گمراہی میں بھٹک گیا۔“
شانِ نزول: اور اہلِ ایمان کے لیے حکم:
1شانِ نزول: — یہ آیت رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا رشتہ بھیجا۔ حضرت زینب اور ان کے بھائی نے نسبی برتری (قریشی خاندان) کی وجہ سے پہلے اس رشتے پر ہچکچاہٹ کا اظہار کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلے کے بعد مومن کا اپنا کوئی اختیار نہیں رہتا، جس کے بعد انہوں نے فوراً سرِ تسلیم خم کر دیا اور نکاح ہو گیا۔
2اہلِ ایمان کے لیے حکم: — اس آیت میں امت کو یہ ابدی حکم دیا گیا ہے کہ دین کے معاملات میں ذاتی پسند، خاندانی رسم و رواج یا عقل کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قطعی حکم پر ترجیح دینا حرام ہے۔ سچے مومن کی نشانی مکمل اطاعت الہیٰ ہے۔
”اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں ہاتھ لگانے (خلوتِ صحیحہ) سے پہلے ہی طلاق دے دو، تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدت (واجب) نہیں ہے جسے تم شمار کرو۔ پس انہیں کچھ مال و فائدہ پہنچاؤ اور انہیں اچھے طریقے سے رخصت کر دو۔“
آیت میں بیان کردہ احکامِ عدت:
1بغیر خلوت طلاق پر عدت نہیں — اگر نکاح کے بعد میاں بیوی کے درمیان تنہائی یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو اور طلاق ہو جائے، تو عورت پر کوئی عدت واجب نہیں ہوتی۔ وہ اسی دن کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنے کے لیے آزاد ہے۔
2متاعِ طلاق (فائدہ پہنچانا) — ایسی صورت میں عورت کو کچھ جوڑے یا مال بطور تحفہ (متاع) دینا شوہر پر لازم ہے تاکہ طلاق کی دلشکنی کا ازالہ ہو سکے۔
آیت 55 میں ازواجِ مطہرات کے لیے پردے کی کیا رخصت آئی ہے؟
ترجمہ
”ان (عورتوں) پر کوئی گناہ نہیں ہے اپنے باپوں کے سامنے ہونے میں، نہ اپنے بیٹوں، نہ اپنے بھائیوں، نہ اپنے بھتیجوں، نہ اپنے بھانجوں، نہ اپنی (مسلمان) عورتوں کے اور نہ اپنے مملوکہ (غلاموں اور کنیزوں) کے سامنے ہونے میں۔ اور اللہ سے ڈرتی رہو، بے شک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔“
اس آیت کے تحت ازواجِ مطہرات (اور عام مسلمان عورتوں) کو درج ذیل افراد سے پردہ نہ کرنے (سامنے آنے) کی رخصت دی گئی ہے۔
پردہ نہ کرنے کی رخصت (محارم کی فہرست):
1اپنے حقیقی باپ (دادا، نانا اسی میں شامل ہیں)۔
2اپنے بیٹے (اور پوتے، نواسے)۔
3اپنے بھائی (سگے، علاتی اور اخیافی)۔
4اپنے بھتیجے (بھائیوں کے بیٹے)۔
5اپنے بھانجے (بہنوں کے بیٹے)۔
6اپنی ہم جنس یعنی مسلمان عورتیں۔
7اپنے زیرِ ملکیت غلام یا کنیزیں۔
عام غلطی
(نوٹ: چچا اور ماموں بھی والدین کے حکم میں ہونے کی وجہ سے محرم ہیں)۔
”اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر کسی خطا کے ایذا (تکلیف) دیتے ہیں جو انہوں نے کی ہو، تو یقیناً انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر اٹھا لیا۔“
مفہوم
جواباس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان پر کوئی ایسا عیب لگانا جو اس میں موجود نہ ہو، یا اسے بلاوجہ جسمانی، زبانی یا ذہنی تکلیف پہنچانا بہتان اور کبیرہ گناہ ہے۔ یہ آیت معاشرتی امن، غیبت، چغلی، اور بہتان تراشی کے سخت خلاف اسلام کا ضابطہ پیش کرتی ہے۔
آیت 53 (آدابِ بارگاہِ رسالت ﷺ کے متعلق اہل ایمان کو کیا معاشرتی تعلیم دی گئی ہے
ترجمہ
”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے، (پہلے سے آ کر) کھانا پکنے کا انتظار کرنے والے نہ بنا کرو، ہاں جب بلائے جاؤ تو اندر آیا کرو، پھر جب کھانا کھا چکو تو فوراً منتشر ہو جایا کرو اور باتوں میں دل لگا کر نہ بیٹھے رہا کرو...“
اہلِ ایمان کو دی گئی تعلیمات:
1اجازت کے بغیر داخلہ ممنوع — کسی کے گھر (خصوصاً نبی ﷺ کے گھر) بغیر اجازت اور بن بلائے نہیں جانا چاہیے۔
2وقت کی پابندی — دعوت میں وقت سے بہت پہلے آ کر بیٹھ جانا اور میزبان کے لیے زحمت بننا منع ہے۔
3فراغت کے بعد واپسی — کھانا کھانے کے بعد طویل گپ شپ میں وقت ضائع کرنے کے بجائے فوراً رخصت ہو جانا چاہیے تاکہ اہل خانہ کو تکلیف نہ ہو۔
4حجاب کا حکم — ازواجِ مطہرات سے کوئی سامان مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا جائے۔
”بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔“
درود شریف کے فضائل پر 5 احادیثِ مبارکہ:
1ہدایات: اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ کثرت سے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ درود و سلام پیش کریں۔ یہ عمل سنتِ الہیٰ اور سنتِ ملائکہ ہے، جس کی پیروی مومنین پر لازم کی گئی ہے۔
2دس رحمتوں کا نزول — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا“ (جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے)۔ (صحیح مسلم)
3درجات کی بلندی اور گناہوں کی معافی — آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے، اس کے دس گناہ معاف کرتا ہے، اور اس کے دس درجات بلند فرماتا ہے“۔ (سنن نسائی)
4قیامت کے دن سب سے قریبی شخص — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اَوْلَی النَّاسِ بِي يَوْمَ القِيَامَةِ أَکْثَرَهُمْ عَلَیَّ صَـلَاةً“ (قیامت کے دن لوگوں میں سے میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا جو دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجتا ہو گا)۔ (جامع ترمذی)
5بخیل کون ہے؟ — آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے“۔ (جامع ترمذی)
6جمعہ کے دن درود کی کثرت — آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا ہے... اس دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے“۔ (سنن ابو داؤد)
13سرگرمیاں
سورہ احزاب کی آیت ۳۵ میں مومن مردوں اور عورتوں کی دس اہم صفات
سورہ احزاب (آیت ۳۵) میں اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں دونوں کو یکساں قرار دیتے ہوئے ان کی یہ صفات بیان کی ہیں:
مومن مردوں اور عورتوں کی صفات
1اسلام اور ایمان — اللہ کے فرمانبردار اور اس کی وحدانیت پر سچی یقین رکھنے والے۔
2قنوت اور صدق — دل سے عاجزی و اطاعت کرنے والے اور قول و فعل میں سچے۔
3صبر اور خشوع — مصائب پر صبر کرنے والے اور اللہ کے آگے عاجزی و خشوع رکھنے والے۔
4صدقہ اور صيام — راہِ خدا میں مال خرچ کرنے والے اور کثرت سے روزے رکھنے والے۔
5عفت اور ذکر — اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والے۔
14سرگرمیاں
نبی کریم ﷺ کے لیے خصوصی احکامات اور ہدایات
اس سورت میں نبی ﷺ کے مقام و مرتبہ اور آپ ﷺ سے متعلق چند اہم احکامات نازل ہوئے:
1مقدم بالذات — آپ ﷺ کی جان مومنوں کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ مقدم ہے اور آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں۔
2فیصلے کا اختیار — اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلہ کے بعد کسی مومن مرد یا عورت کو اپنے معاملے میں کوئی اختیار نہیں رہتا۔
3ازواجِ مطہرات کے آداب — نبی ﷺ کی بیویوں کو عام عورتوں سے بلند مقام دے کر حکم دیا گیا کہ وہ غیر محرموں سے نرم لہجے میں بات نہ کریں، بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں اور نماز، زکوٰۃ اور اطاعتِ رسول پر سختی سے کاربند رہیں۔
4حجاب کا حکم — آپ ﷺ کو ہدایت کی گئی کہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور تمام مومن عورتوں سے کہیں کہ وہ باہر نکلتے وقت اپنی چادروں کو اچھے سے اوڑھ لیا کریں تاکہ وہ پہچانی جائیں اور ستائی نہ جائیں
جوابشانِ نزول: تفاسیر (جیسے تفسیر ابن جریر اور درِ منثور) کے مطابق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب جنگِ اُحد کے بعد ابو سفیان اور مکہ کا ایک وفد مدینہ آیا اور منافقین کے سردار عبد اللہ بن اُبی کے پاس ٹھہرا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے تجسس رکھا کہ آپ ہمارے بتوں (لات، عزیٰ اور مناۃ) کے خلاف کچھ نہ کہیں تو ہم بھی آپ سے جنگ نہیں کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو کافروں اور منافقین کی بات نہ ماننے کا حکم دیا۔
جوابشانِ نزول: جمیل بن معمر فہری نامی ایک شخص کے بارے میں مروی ہے کہ وہ بہت تیز حافظہ اور فہم و فراست کا مالک تھا، وہ کہتا تھا کہ میرے سینے میں دو دل ہیں جن سے میں محمد (ﷺ) سے بھی زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔ غزوہ بدر کے موقع پر جب مشرکین کو شکست ہوئی تو جمیل بھی ان میں تھا، تب کفارِ مکہ نے اس کے دو دلوں کی بات بطورِ طنز کہی جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں رکھے۔
جوابشانِ نزول: یہ آیت حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت زینب بنت جحشؓ کے طلاق کے واقعے اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ ان کے نکاح کے سلسلے میں نازل ہوئی۔ اس کا مقصد عرب کے اس جاہلی دستور کو ختم کرنا تھا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹے کی طرح ہوتا ہے اور اس کی مطلقہ بیوی سے نکاح حرام سمجھا جاتا تھا۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔