اس آیت میں جاہلیت کی ایک رسم کو ختم کرتے ہوئے واضح حکم دیا گیا ہے کہ منہ بولے بیٹے (لے پالک) حقیقی بیٹے نہیں بن جاتے۔ محض زبان سے کہہ دینے سے نسب تبدیل نہیں ہوتا، لہٰذا انہیں ان کے اصل باپوں کے نام سے ہی پکارا جائے۔ سورہ الاحزاب میں منہ بولے بیٹوں (لے پالک بچوں) کے بارے میں واضح اور مفصل احکام بیان کیے گئے ہیں۔ اسلام سے قبل عرب میں منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا، لیکن سورہ الاحزاب کی آیات نے اس تصور کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ ان احکام کی تفصیل درج ذیل ہے:
1
۱۔ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے نہیں — اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ کسی کو بیٹا کہہ دینے سے وہ سچ مچ کا بیٹا نہیں بن جاتا۔
2
۱۔ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے نہیں — قرآنی حکم — ”اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے (حقیقی) بیٹے بنایا، یہ تو تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔“ (آیت: ۴)
3
۱۔ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے نہیں — یہ صرف زبان کا ایک بول ہے، جس سے حیاتیاتی (Biological) یا خون کا رشتہ قائم نہیں ہوتا۔
4
۲۔ اصل والدین کے نام سے پکارنے کا حکم — اسلام نے جاہلیت کے اس رواج کو روکا کہ بچے کو اس کے پالنے والے باپ کا نام دیا جائے۔
5
۲۔ اصل والدین کے نام سے پکارنے کا حکم — قرآنی حکم — ”ان (لے پالک بچوں) کو ان کے باپ ہی کے نام سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔“ (آیت: ۵)
6
۲۔ اصل والدین کے نام سے پکارنے کا حکم — اگر اصل باپ کا نام معلوم ہو تو بچے کی نسبت اسی کی طرف ہونی چاہیے۔ شناختی دستاویزات اور پکارنے میں اصل باپ کا نام ہی استعمال ہوگا۔
7
۳۔ اصل باپ معلوم نہ ہونے کی صورت میں حکم — اگر کسی بچے کے حقیقی والدین کا علم نہ ہو تو ان کے لیے ایک متبادل رشتہ طے کیا گیا۔
8
۳۔ اصل باپ معلوم نہ ہونے کی صورت میں حکم — قرآنی حکم — ”پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔“ (آیت: ۵)
9
۳۔ اصل باپ معلوم نہ ہونے کی صورت میں حکم — انہیں اپنا بیٹا کہنے کے بجائے ”دینی بھائی“ یا ”دوست“ کہا جائے گا۔
10
۴۔ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کی اجازت — عرب میں منہ بولے بیٹے کی طلاق یافتہ یا بیوہ بیوی سے نکاح کو حقیقی بہو کی طرح حرام سمجھا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسم کو عملی طور پر توڑنے کے لیے نبی کریم ﷺ کا نکاح حضرت زینب بنت جحش (جو حضرت زید بن حارثہ کی مطلقہ تھیں) سے کروایا۔
11
۴۔ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کی اجازت — قرآنی حکم — ”پھر جب زید نے اس سے اپنی غرض پوری کر لی (طلاق دے دی) تو ہم نے اس سے آپ کا نکاح کر دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جب وہ ان سے اپنی غرض پوری کر لیں۔“ (آیت: ۳۷)
12
۴۔ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کی اجازت — منہ بولا بیٹا چونکہ حقیقی بیٹا نہیں ہوتا، اس لیے اس کی سابقہ بیوی سے نکاح شرعاً بالکل جائز ہے۔
13
۵۔ دیگر شرعی اثرات (خلاصہ) — سورہ الاحزاب کے ان احکام کی روشنی میں فقہاء نے درج ذیل امور بھی واضح کیے ہیں:
14
۵۔ دیگر شرعی اثرات (خلاصہ) — وراثت — منہ بولا بیٹا پالنے والے والد کی جائیداد کا خودبخود شرعی وارث نہیں بنتا (البتہ پالنے والا والد اپنی زندگی میں اس کے لیے ایک تہائی (1/3) جائیداد تک کی وصیت کر سکتا ہے)۔
15
۵۔ دیگر شرعی اثرات (خلاصہ) — پردہ — منہ بولا بیٹا جب بڑا ہو جائے تو وہ اس گھر کی خواتین (پالنے والی ماں اور بہنوں) کے لیے نامحرم ہوتا ہے، اس لیے شرعی پردے کے احکام لاگو ہوتے ہیں۔