بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 11: سبق 11: سورہ الاحزاب — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

يٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ

آیت میں دی گئی اہم تلقین اور ہدایات تحریر کریں

ترجمہ

”اے نبی! اللہ سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ سننا۔ بیشک اللہ علم والا، حکمت والا ہے۔“

آیت میں دی گئی اہم تلقین اور ہدایات

1 تقویٰ کی تلقین — آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اللہ کے خوف اور اس کی فرمانبرداری (تقویٰ) پر پہلے سے بڑھ کر استقامت اور مداومت کے ساتھ قائم رہیں۔
2 کافروں اور منافقوں سے لاتعلقی — کافروں اور منافقوں کے ایسے مشوروں یا دباؤ کو ہرگز قبول نہ کریں جو دین اور شریعت کے خلاف ہوں۔
3 اللہ کی حکمت پر یقین — اس بات کا دھیان رکھیں کہ اللہ ہر چیز کا انجام جانتا ہے اور اس کا ہر حکم کمالِ حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔
2 مختصر جوابات

مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِّن قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ ۚ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ ۚ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَاهِكُمْ ۖ وَاللَّهُ يَقُولُ ووالْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السبیل۔ الحق وھو یھدی السبیل۔

آیت 4: منہ بولے بیٹوں کے بارے میں کیا احکامات بیان ہوئے؟

ترجمہ

”اللہ نے کسی آدمی کے دھڑ میں دو دل نہیں بنائے، اور نہ تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری مائیں بنایا ہے، اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے۔ یہ تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

اس آیت میں جاہلیت کی ایک رسم کو ختم کرتے ہوئے واضح حکم دیا گیا ہے کہ منہ بولے بیٹے (لے پالک) حقیقی بیٹے نہیں بن جاتے۔ محض زبان سے کہہ دینے سے نسب تبدیل نہیں ہوتا، لہٰذا انہیں ان کے اصل باپوں کے نام سے ہی پکارا جائے۔ سورہ الاحزاب میں منہ بولے بیٹوں (لے پالک بچوں) کے بارے میں واضح اور مفصل احکام بیان کیے گئے ہیں۔ اسلام سے قبل عرب میں منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا، لیکن سورہ الاحزاب کی آیات نے اس تصور کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ ان احکام کی تفصیل درج ذیل ہے:

1 ۱۔ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے نہیں — اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ کسی کو بیٹا کہہ دینے سے وہ سچ مچ کا بیٹا نہیں بن جاتا۔
2 ۱۔ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے نہیں — قرآنی حکم — ”اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے (حقیقی) بیٹے بنایا، یہ تو تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔“ (آیت: ۴)
3 ۱۔ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹے نہیں — یہ صرف زبان کا ایک بول ہے، جس سے حیاتیاتی (Biological) یا خون کا رشتہ قائم نہیں ہوتا۔
4 ۲۔ اصل والدین کے نام سے پکارنے کا حکم — اسلام نے جاہلیت کے اس رواج کو روکا کہ بچے کو اس کے پالنے والے باپ کا نام دیا جائے۔
5 ۲۔ اصل والدین کے نام سے پکارنے کا حکم — قرآنی حکم — ”ان (لے پالک بچوں) کو ان کے باپ ہی کے نام سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔“ (آیت: ۵)
6 ۲۔ اصل والدین کے نام سے پکارنے کا حکم — اگر اصل باپ کا نام معلوم ہو تو بچے کی نسبت اسی کی طرف ہونی چاہیے۔ شناختی دستاویزات اور پکارنے میں اصل باپ کا نام ہی استعمال ہوگا۔
7 ۳۔ اصل باپ معلوم نہ ہونے کی صورت میں حکم — اگر کسی بچے کے حقیقی والدین کا علم نہ ہو تو ان کے لیے ایک متبادل رشتہ طے کیا گیا۔
8 ۳۔ اصل باپ معلوم نہ ہونے کی صورت میں حکم — قرآنی حکم — ”پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔“ (آیت: ۵)
9 ۳۔ اصل باپ معلوم نہ ہونے کی صورت میں حکم — انہیں اپنا بیٹا کہنے کے بجائے ”دینی بھائی“ یا ”دوست“ کہا جائے گا۔
10 ۴۔ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کی اجازت — عرب میں منہ بولے بیٹے کی طلاق یافتہ یا بیوہ بیوی سے نکاح کو حقیقی بہو کی طرح حرام سمجھا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسم کو عملی طور پر توڑنے کے لیے نبی کریم ﷺ کا نکاح حضرت زینب بنت جحش (جو حضرت زید بن حارثہ کی مطلقہ تھیں) سے کروایا۔
11 ۴۔ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کی اجازت — قرآنی حکم — ”پھر جب زید نے اس سے اپنی غرض پوری کر لی (طلاق دے دی) تو ہم نے اس سے آپ کا نکاح کر دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جب وہ ان سے اپنی غرض پوری کر لیں۔“ (آیت: ۳۷)
12 ۴۔ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کی اجازت — منہ بولا بیٹا چونکہ حقیقی بیٹا نہیں ہوتا، اس لیے اس کی سابقہ بیوی سے نکاح شرعاً بالکل جائز ہے۔
13 ۵۔ دیگر شرعی اثرات (خلاصہ) — سورہ الاحزاب کے ان احکام کی روشنی میں فقہاء نے درج ذیل امور بھی واضح کیے ہیں:
14 ۵۔ دیگر شرعی اثرات (خلاصہ) — وراثت — منہ بولا بیٹا پالنے والے والد کی جائیداد کا خودبخود شرعی وارث نہیں بنتا (البتہ پالنے والا والد اپنی زندگی میں اس کے لیے ایک تہائی (1/3) جائیداد تک کی وصیت کر سکتا ہے)۔
15 ۵۔ دیگر شرعی اثرات (خلاصہ) — پردہ — منہ بولا بیٹا جب بڑا ہو جائے تو وہ اس گھر کی خواتین (پالنے والی ماں اور بہنوں) کے لیے نامحرم ہوتا ہے، اس لیے شرعی پردے کے احکام لاگو ہوتے ہیں۔
3 مختصر جوابات

إِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا ۔

آیت 10: اہل ایمان کی کس آزمائش کا ذکر (جنگِ خندق)؟

ترجمہ

”جب وہ (دشمن) تم پر تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے چڑھ آئے، اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے۔“

اہل ایمان کی آزمائش

جواب اس آیت میں غزوۂ خندق (احزاب) کے موقع پر مسلمانوں پر آنے والی شدید ترین آزمائش کا ذکر ہے۔ کفار نے مدینہ کو ہر طرف سے گھیر لیا تھا، بنو قریظہ نے وعدہ خلافی کردی اور کفار سے مل گئے۔ جس سے خوف اور گھبراہٹ کی شدت کی وجہ سے مسلمانوں کی آنکھیں پتھرا گئیں اور دل حلق کو آ گئے تھے۔ یہ ان کے صبر، استقامت اور اللہ پر یقین کا ایک سخت امتحان تھا۔
4 مختصر جوابات

قُل لَّن يَنفَعَكُمُ الْفِرَارُ إِن فَرَرْتُم مِّنَ الْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ وَإِذًا لَّا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلًا

آیت 16: منافقین کو موت سے فرار پر کیسے خبردار کیا گیا؟

ترجمہ

”آپ فرما دیجیے: اگر تم موت یا قتل سے بھاگتے ہو تو یہ بھاگنا تمہیں ہرگز کچھ نفع نہ دے گا اور اس صورت میں تم بہت ہی کم فائدہ (زندگی کا) اٹھا سکو گے۔“

خبردار کرنے کا انداز

جواب اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اس رویے پر تنبیہ فرمائی جو جہاد سے جان چھڑانے کے لیے جھوٹے بہانے بناتے تھے۔ انہیں خبردار کیا گیا کہ موت یا قتل کے ڈر سے میدانِ جنگ سے بھاگنا انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا، کیونکہ اگر وہ بھاگ کر بچ بھی گئے تو دنیا کی یہ فانی زندگی چند روزہ ہے اور آخرِ کار انہیں موت کا سامنا کرنا ہی ہے۔
5 مختصر جوابات

وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا

آیت 22: کفار کے لشکر دیکھ کر مومنین کا کیا طرزِ عمل تھا؟

ترجمہ

”اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکروں کو دیکھا تو بول اٹھے: یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا، اور اس (منظر) نے ان کے ایمان اور اطاعت گزاری کو اور زیادہ بڑھا دیا۔“

مومنین کا طرزِ عمل

جواب منافقین کے برعکس، سچے مومنین نے جب دشمن کے ٹڈی دل لشکروں کو دیکھا تو وہ گھبرانے کے بجائے خوش ہوئے۔ ان کا طرزِ عمل یہ تھا کہ انہوں نے اسے اللہ اور رسولؐ کے وعدوں کو سچائی کی دلیل سمجھا، جس کے نتیجے میں ان کا ایمان مضبوط ہو گیا اور انہوں نے خود کو مکمل طور پر اللہ کی رضا اور اطاعت کے سپرد کر دیا۔
6 مختصر جوابات

وَمَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا

آیت 31: امہات المؤمنین کو کیا خوشخبری دی گئی؟

ترجمہ

”اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور نیک عمل کرے گی، ہم اسے اس کا اجر دوگنا دیں گے اور ہم نے اس کے لیے عزت کا رزق (جنت میں) تیار کر رکھا ہے۔“

خوشخبری

جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات (امہات المؤمنین) کو یہ خوشخبری دی گئی کہ اگر وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی فرمانبرداری اور نیک اعمال پر کاربند رہیں گی تو انہیں عام خواتین کے مقابلے میں دگنا ثواب (اجر) ملے گا اور ان کے لیے جنت میں نہایت باعزت رزق تیار کیا گیا ہے۔
7 مختصر جوابات

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَا تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا

آیت 33: امہات المؤمنین کو کن امور کی تلقین کی گئی ؟

ترجمہ

”اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے حسن و سنگھار کی نمائش نہ کرتی پھرو، اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو! تم سے ہر قسم کی ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک صاف کر دے۔“

اس آیت میں امہات المؤمنین کو درج ذیل اہم ترین امور کی تلقین کی گئی ہے:

تلقین کردہ امور

1 اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ قیام پذیر رہنا۔
2 زمانۂ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار کی عوامی نمائش (تبرّج) سے بچنا۔
3 نماز کی پابندی کرنا۔
4 زکوٰۃ ادا کرنا۔
5 ہر معاملے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل فرمانبرداری کرنا۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا إِلَى أَوْلِيَائِكُمْ مَعْرُوفًا كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا﴾

سورہ الاحزاب: آیت 6 ترجمہ و وضاحت کریں

ترجمہ

”یہ نبی مومنوں کے ساتھ ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب اور حق دار ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں، اور رشتہ دار اللہ کی کتاب میں دوسرے مومنوں اور مہاجرین کے مقابلے میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں، مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی احسان کرنا چاہو۔ یہ بات کتاب (الہی) میں لکھی ہوئی ہے۔“

تفصیلی وضاحت:

1 نبی ﷺ کی اولویت — آیت کے اس حصے کا مطلب ہے کہ مسلمانوں پر نبی اکرم ﷺ کا حق ان کی اپنی جانوں، مال اور اولاد سے بھی زیادہ ہے۔ اگر انسان کا اپنا نفس کسی چیز کا تقاضا کرے اور رسول اللہ ﷺ کا حکم اس کے برعکس ہو، تو مومن پر واجب ہے کہ وہ اپنی خواہش کو چھوڑ کر نبی ﷺ کے حکم کی اطاعت کرے۔ آپ ﷺ امت پر خود ان کی جان سے بھی زیادہ مہربان اور خیر خواہ ہیں۔
2 امہات المومنین کا مرتبہ — نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات کو امت کی مائیں قرار دیا گیا ہے۔ یہ مامتا احترام، تعظیم اور نکاح کی حرمت میں ہے (یعنی آپ ﷺ کے بعد ان سے کوئی نکاح نہیں کر سکتا)، تاہم وراثت اور پردے کے احکام میں وہ عام ماؤں کی طرح نہیں ہیں بلکہ ان سے بھی پردہ واجب تھا۔
3 وراثت کے احکام کی اصلاح — اسلام کے ابتدائی دور میں ہجرت اور بھائی چارے (مواخات) کی بنیاد پر بھی وراثت تقسیم ہوتی تھی۔ اس آیت نے اس حکم کو منسوخ کر کے واضح کیا کہ وراثت کا اصل حق دار قریبی رشتہ دار (ذوی الارحام) ہیں۔ البتہ کوئی شخص اپنی زندگی میں وصیت کے ذریعے اپنے غیر مسلم یا دینی بھائیوں کو ہدیہ یا مال دے سکتا ہے جسے ”معروف“ کہا گیا ہے۔
9 تفصیلی جوابات

﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا﴾

سورہ الاحزاب: آیت 7 ترجمہ و وضاحت کریں

ترجمہ

”اور (یاد کرو) جب ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (خصوصاً) آپ سے، اور نوح سے، اور ابراہیم سے، اور موسیٰ سے، اور عیسیٰ بن مریم سے، اور ہم نے ان سے بڑا پختہ عہد لیا۔“

تفصیلی وضاحت:

1 میثاقِ انبیاء (پختہ عہد) — اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس خاص اور پختہ عہد (میثاقِ غلیظ) کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے دنیا میں انبیاء کرام کو مبعوث کرنے سے پہلے ارواح کی دنیا میں یا ان کی بعثت کے وقت لیا تھا۔
2 عہد کی نوعیت — اس عہد کا مقصد یہ تھا کہ تمام انبیاء دینِ حق کی تبلیغ کریں گے، ایک دوسرے کی تصدیق اور مدد کریں گے، اور اللہ کے احکام پہنچانے میں کسی ملامت کی پروا نہیں کریں گے۔
3 اُلو العزم انبیاء کا خصوصی ذکر — اگرچہ یہ عہد تمام انبیاء سے لیا گیا تھا، لیکن آیت میں پانچ جلیل القدر (اُلو العزم) انبیاء کا نام خصوصی طور پر لیا گیا: حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ۔ نبی اکرم ﷺ کا نام سب سے پہلے ذکر کر کے آپ ﷺ کی افضلیت اور مرکزی مقام کو واضح کیا گیا۔
10 تفصیلی جوابات

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا﴾

سورہ الاحزاب: آیت 9۔ ترجمہ و وضاحت کریں

ترجمہ

”اے ایمان والو! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو (غزوہ خندق میں) تم پر ہوئی، جب تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے، تو ہم نے ان پر ایک تیز ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (فرشتے) بھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تھے، اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔“

تفصیلی وضاحت:

1 غزوہ خندق (احزاب) کا پس منظر — یہ آیت سن 5 ہجری میں ہونے والے غزوہ خندق کے پس منظر میں نازل ہوئی۔ کفارِ مکہ، یہود اور دیگر عرب قبائل نے مل کر تقریباً 10 ہزار کا لشکر تیار کیا اور مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ شدید آزمائش کا وقت تھا کیونکہ مدینہ کے اندر موجود منافقین اور بنو قریظہ کے یہود نے بھی غداری کر دی تھی۔
2 غیبی امداد — جب یہ محاصرہ طول پکڑ گیا اور مسلمان شدید سردی اور بھوک کی حالت میں تھے، تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی غیبی مدد فرمائی۔ اللہ نے ایک شدید اور ٹھنڈی آندھی بھیجی جس نے کافروں کے خیمے اکھاڑ دیے، ان کی ہانڈیاں الٹ دیں اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔
3 لشکرِ ملائکہ — ہوا کے ساتھ اللہ نے فرشتوں کے لشکر بھیجے جنہوں نے کفار کو ہراساں کیا۔ اس طرح بغیر کسی خون خرابے کے دشمن کا لشکر راتوں رات میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گیا، اور اللہ نے مومنوں کو فتح عطا فرمائی۔
11 تفصیلی جوابات

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا﴾

سورہ الاحزاب: آیت 21 میں اہلِ ایمان کو کیا تعلیم دی گئی؟

ترجمہ

”بیشک تمہارے لیے رسول اللہ (کی ذات) میں بہترین نمونہ (اسوہ حسنہ) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔“

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے مسلمانوں کو یہ بنیادی اصول اور تعلیم دی ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی حاصل کرنے کا واحد طریقہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہے۔

اہلِ ایمان کو رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے دی گئی تعلیم

1 عملی نمونہ — مسلمانوں کو بتایا گیا کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی محض پڑھنے یا سننے کے لیے نہیں بلکہ عملی طور پر اپنانے کے لیے ہے۔ عبادت ہو یا سیاست، خاندانی معاملات ہوں یا جنگی حالات (جیسے غزوہ خندق کی سختیاں)، آپ ﷺ کا اسوہ ہی ہدایت کا معیار ہے۔
2 پیروی کی شرط — اس اسوہ حسنہ سے فائدہ وہی اٹھا سکتا ہے جس کے دل میں اللہ سے ملاقات کا شوق، آخرت پر پختہ یقین اور زبان پر اللہ کا کثرت سے ذکر ہو۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

اہل بیت اطہار علیہم السلام کے فضائل و مناقبت پر احادیث

اہل بیت اطہارؑ (حضرت علیؑ، حضرت فاطمہ زہراؑ، حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسینؑ) کی شان میں بے شمار احادیث مرویات ہیں۔ چند درج ذیل ہیں:

1 حدیثِ ثقلین — رسول اللہ ﷺ نے حجت الوداع کے موقع پر فرمایا: ”میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم نے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے؛ ایک اللہ کی کتاب (قرآن) اور دوسری میری عترت یعنی میرے اہل بیت۔“ (جامع ترمذی)
2 حدیثِ کساء — حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک صبح نبی ﷺ نے کالی چادر اوڑھی ہوئی تھی، وہاں حضرت حسن، حسین، فاطمہ اور علی آئے۔ آپ ﷺ نے ان سب کو چادر کے اندر لیا اور سورہ احزاب کی آیتِ تطہیر پڑھی: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔“ (صحیح مسلم)
3 محبتِ اہل بیت کا معیار — حضور ﷺ نے حضرت علی، فاطمہ، حسن اور حسین کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”جو تم سے لڑے، میری اس سے جنگ ہے اور جو تم سے صلح رکھے، میری اس سے صلح ہے۔“ (جامع ترمذی)
4 حسن و حسینؑ کے فضائل — آپ ﷺ نے فرمایا: ”حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔“ (جامع ترمذی)
13 سرگرمیاں

امہات المومنین میں سے تین ازواج مطہرات کے فضائل

1 ۱۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا — پہلی زوجہ اور مونس — آپ ﷺ کی سب سے پہلی بیوی تھیں جنہوں نے اس وقت آپ ﷺ کی تصدیق کی جب دنیا نے جھٹلایا۔ اپنے تمام مال سے اسلام کی مالی مدد فرمائی۔
2 ۱۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا — جنت کی بشارت — حضرت جبرائیلؑ نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ خدیجہ کو اللہ کا سلام کہیں اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک ایسے محل کی بشارت دیں جہاں نہ کوئی شور ہوگا نہ کوئی تکلیف۔ (صحیح بخاری)
3 ۲۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا — علمی مقام — امہات المومنین میں سب سے زیادہ عالمہ اور فقیہہ تھیں۔ انہوں نے حضور ﷺ سے 2210 احادیث روایت کیں، اور بڑے بڑے صحابہ پیچیدہ مسائل میں ان سے رجوع کرتے تھے۔
4 ۲۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا — فضیلت — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید (عرب کا بہترین کھانا) کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے۔“ (صحیح بخاری)
5 ۳۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا — حکمت اور تدبر — آپ نہایت عقلمند اور صائب رائے رکھنے والی خاتون تھیں۔ غزوہ حديبية کے موقع پر جب صحابہ کرام صلح کے صدمے میں قربانی کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے، تو حضرت ام سلمہ کی حکیمانہ مشورت پر عمل کرتے ہوئے حضور ﷺ نے پہلے خود قربانی کی، جسے دیکھ کر تمام صحابہ نے فوری اطاعت کی۔
6 ۳۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا — زہد و تقویٰ — انہوں نے اسلام کی خاطر دو مرتبہ ہجرت کی (حبشہ اور مدینہ) اور علمِ حدیث کی ترویج میں بڑا حصہ لیا۔
14 سرگرمیاں

نبی ﷺ مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ ہیں (سیرت کے مختلف پہلو)

نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ جامعیت کا وہ اعلیٰ شاہکار ہے جس کا ہر پہلو انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:

1 بطورِ معلم اور مربی — آپ ﷺ نے دنیا کو جہالت کے اندھیروں سے نکالا۔ آپ ﷺ کا طریقہ تدریس انتہائی شفیق تھا، آپ ﷺ غصہ کیے بغیر بات کو تین بار دہراتے تاکہ سب سمجھ جائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔“
2 بطورِ عادل حکمران اور سیاست دان — مدینہ کی اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے آپ ﷺ نے عدل و انصاف کا مثالی نظام قائم کیا۔ فرمایا: ”اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ میثاقِ مدینہ کے ذریعے مختلف مذاہب کے درمیان پرامن بقائے باہمی کا معاہدہ کیا۔
3 بطورِ سپہ سالار — جنگوں کے دوران بھی آپ ﷺ نے اخلاقی ضوابط مقرر کیے۔ بوڑھوں، بچوں، عورتوں کو قتل کرنے اور درختوں کو کاٹنے یا عبادت گاہوں کو گرانے سے سخت منع فرمایا۔ میدانِ جنگ میں آپ ﷺ خود سب سے زیادہ بہادر ثابت ہوتے تھے۔
4 بطورِ سربراہِ خانہ (خاندانی زندگی) — آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ انتہائی خوش اخلاقی سے پیش آتے، گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے اور بچوں (خصوصاً حضرت فاطمہؑ) سے بے پناہ محبت فرماتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔“
5 عفو و درگزر اور امانت داری — مکہ کے کافروں نے آپ ﷺ پر ظلم ڈھائے لیکن فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے ”لا تثریب علیکم الیوم“ (آج تم پر کوئی گرفت نہیں) کہہ کر سب کو معاف کر دیا۔ آپ ﷺ کی سچائی کا یہ عالم تھا کہ جانی دشمن بھی آپ ﷺ کو ”صادق اور امین“ کہتے تھے اور اپنی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھتے تھے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.