گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 9: سبق 9: سورۃ آل عمران (آیات 1 تا 30) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰی عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ۔هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُؕ-لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ

آیت کی رو سے اللہ کی صفات لکھیں

ترجمہ

بیشک اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ زمین میں اور نہ ہی آسمان میں۔ وہی ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں جیسی چاہتا ہے تمہاری صورت بناتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ) زبردست ہے، حکمت والا ہے۔

اللہ کی صفات (آیت کی رو سے)

1 علمِ محیط (ہر چیز کا علم) — زمین اور آسمان کی کوئی بھی چھوٹی یا بڑی چیز اللہ سے چھپی ہوئی نہیں ہے
2 تصویر گری (صورتیں بنانا) — اللہ ہی ماؤں کے پیٹ میں بچوں کی شکلیں اور صورتیں اپنی مرضی اور حکمت کے مطابق بناتا ہے۔
3 وحدانیت (اکیلا ہونا) — اللہ کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق یا معبودِ حقیقی نہیں ہے۔
4 العزیز (زبردست غلبہ والا) — اللہ ایسی زبردست اور غالب ہستی ہے کہ کوئی اسے ہرا نہیں سکتا۔
5 الحکیم (کامل حکمت والا) — اللہ کا ہر کام اور ہر فیصلہ مکمل دانائی اور حکمت پر مبنی ہوتا ہے
2 مختصر جوابات

ُ والرسخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ

آیت میں علم میں پختگی رکھنے والوں کے کس طرز عمل کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اور پختہ علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت تو صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔

علم میں پختگی رکھنے والوں کا طرز عمل

1 پختہ یقین — وہ متشابہات (جن کا مطلب واضح نہ ہو) کے پیچھے نہیں پڑتے بلکہ تسلیم کرتے ہیں۔
2 تسلیم و ایمان — وہ کہتے ہیں کہ محکم اور متشابہ دونوں قسم کی آیات ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور ہم سب پر ایمان لاتے ہیں۔
3 عاجزی — وہ اپنے علم کو محدود مانتے ہوئے اصل مراد کا علم اللہ پر چھوڑتے ہیں
3 مختصر جوابات

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَابِ

اللہ نے لوگوں کے لیے کون سی چیزیں خوش نما بنا دی ہیں؟

ترجمہ

لوگوں کے لیے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کر دیا گیا ہے؛ یعنی عورتیں، اولاد، سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے ڈھیر، نشان زدہ گھوڑے، مویشی اور کھیتی۔ یہ سب دنیا کی زندگی کا سامان ہے، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بہتر ٹھکانہ ہے

قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق درج ذیل دنیاوی چیزوں کی محبت انسان کے لیے دل فریب اور مزین کی گئی ہے:

اللہ نے لوگوں کے لیے کون سی چیزیں خوش نما بنا دی ہیں؟

1 عورتیں — صنفِ مخالف اور رفاقت کی کشش۔
2 اولاد (بیٹے) — نسل کی افزائش اور خاندانی سہارا۔
3 سونے اور چاندی کے خزانے — بے پناہ دولت اور مال و دولت کا جمع کرنا۔
4 نشاندار (عمدہ نسل کے) گھوڑے — سواری اور طاقت کی علامتیں (جو اس دور میں قوت کی مظہر تھیں)۔
5 چوپائے (مویشی) — اونٹ، گائے، بکریاں اور دیگر پالتو جانور۔
6 کھیتی (والحرث) — زمین، فصلیں اور زراعت کا سامان۔
4 مختصر جوابات

ٰالصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالقَانِتِينَ وَالمُنفِقِينَ وَالمُستَغفِرِينَ بِالاَسحَارِ

آیت میں اہل ایمان کی کون سی صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

(یہ وہ لوگ ہیں جو) صبر کرنے والے ہیں، اور سچ بولنے والے ہیں، اور فرمانبردار ہیں، اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں، اور پچھلے پہر (رات کے آخری حصے میں) اللہ سے بخشش مانگنے والے ہیں.

اہل ایمان کی صفات

1 الصابرين — ہر حال میں صبر کرنے والے
2 الصادقین — قول و فعل میں سچے
3 القانتین — اللہ کے آگے عاجزی اور فرمانبرداری کرنے والے
4 المنفقین — اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والے
5 المستغفرین بالاسحار — سحری کے وقت استغفار کرنے والے
5 مختصر جوابات

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

آیت کی رو سے کفار کی کن بد اعمالیوں پر دردناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے؟

ترجمہ

بے شک جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں، تو آپ انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں۔

کفار اور اہل کتاب کی بد اعمالیاں

1 اللہ کی آیات کا کفر — اللہ کی واضح نشانیوں، کتابوں اور احکام کو جھٹلانا اور ان کا انکار کرنا۔
2 انبیاء کا ناحق قتل — اللہ کے برحق پیغمبروں کو بغیر کسی قصور یا حق کے شہید کرنا۔
3 حق پرستوں کا قتل — معاشرے میں نیکی، سچائی اور عدل و قسط کا حکم دینے والے اصلاح پسند لوگوں کو تہِ تیغ کرنا۔
6 مختصر جوابات

تُولِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ

آیت میں اللہ کی کن صفات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور تو دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی درج ذیل قدرت اور صفاتِ عالیہ کا ذکر ہے:

اللہ کی صفات کا ذکر

1 تخلیق و تصرف (دن رات کا نظام) — رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کی صفت؛ یعنی موسموں کے لحاظ سے دن اور رات کا گھٹنا اور بڑھنا اسی کے اذن سے ہے.
2 حیات اور موت کا مالک — مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکالنے کی صفت (جیسے بے جان نطفے سے جاندار پیدا کرنا، یا انڈے سے پرندہ اور مومن سے کافر یا اس کے برعکس
3 رزق کی وسعت — جسے چاہے بغیر حساب (بے شمار اور بے گنتی) رزق دینے کی صفت
7 مختصر جوابات

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَإِلَّا اللَّهَ الْمَصِيرُ

آیت میں اہل ایمان کے لیے کیا سبق ہے؟

ترجمہ

ایمان والے مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست (کارساز یا مددگار) نہ بنائیں، اور جو شخص ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں, مگر یہ کہ تم ان سے بچنے کے لیے کوئی احتیاطی طریقہ (تقیہ/بچاؤ) اختیار کرو۔ اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب) سے ڈراتا ہے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

آیت میں اہل ایمان کے لیے اسباق

1 دلی محبت اور دوستی — مسلمانوں کو اپنے دینی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے کفار سے گہرے قلبی تعلقات اور دلی دوستی قائم کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
2 باطنی رازوں کا تحفظ — مسلمانوں کے اہم راز اور کمزوریاں غیروں کے سامنے ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
3 حالتِ مجبوری کی رخصت — اگر مسلمان کسی جگہ کمزور ہوں اور ان پر جبر یا ظلم کا خوف ہو، تو جان بچانے کے لیے بظاہر نرمی یا مدارات کرنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ دل کا ایمان سلامت رہے۔
4 اللہ کا خوف — مسلمانوں کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی ناراضی سے ڈریں کیونکہ آخری فیصلہ اسی کی عدالت میں ہونا ہے

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی ہے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بیشک تو ہی بہت بڑا عطا کرنے والا ہے۔

مفہوم و تشریح

1 ہدایت پر استقامت کی دعا — اس آیت میں صاحبِ علم اور سمجھدار بندوں کا شیوہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے علم پر غرور کرنے کے بجائے ہمیشہ اللہ کے حضور عاجزی کرتے ہیں اور دعا مانگتے ہیں کہ اے اللہ! حق کی راہ دکھانے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی (ٹیڑھ پن یا گمراہی) پیدا نہ ہونے دینا۔
2 رحمت کا سوال — وہ اللہ کی خاص رحمت کے طلبگار ہوتے ہیں کیونکہ انسان کی ثابت قدمی اور ایمان کی بقا کا دارومدار صرف اور صرف اللہ کے فضل اور رحمت پر ہے۔
3 الوہّاب کی صفت — اللہ کو “الوہّاب” (بڑے عطا کرنے والا) پکارنے کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ ہدایت بھی اسی کی دین ہے اور رحمت کے خزانے بھی اسی کے پاس ہیں۔
9 تفصیلی جوابات

سورۃ ال عمران کا تعارف لکھیں

جواب صفحہ 80 پر ہے
10 تفصیلی جوابات

شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

آیت کا ترجمہ اورمفہوم لکھیں ۔

اللہ نے گواہی دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے بھی اور انصاف پر قائم رہنے والے اہل علم نے بھی، اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو سب پر غالب (اور) کمال حکمت والا ہے۔

مفہوم و تشریح

1 توحید کی سب سے بڑی گواہی — اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت یعنی اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے کی گواہی خود خالقِ کائنات نے اپنی مخلوقات کے نظام، کتابوں اور انبیاء کے ذریعے دی ہے۔
2 فرشتوں اور اہل علم کا مقام — اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کی گواہی میں فرشتوں کے ساتھ ساتھ باعمل اور حق گو اہل علم کا نام شامل فرما کر علم اور علماء کی عظمت اور فضیلت کو بہت بلند کر دیا ہے۔
3 عدلِ الٰہی اور صفاتِ کمال — اللہ تعالیٰ کائنات کے نظام کو پورے انصاف اور عدل کے ساتھ چلا رہا ہے۔ وہ ایسی زبردست طاقت والا (العزیز) ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی ہر کام انتہائی دانائی (الحکیم) کے ساتھ کرنے والا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

سورۃ ال عمران کے چند بنیادی مضامین لکھیں

جواب صفحہ 80 پر ہے
12 تفصیلی جوابات

يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بَعِيدٌ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اس دن ہر شخص اپنے اس بھلے کام کو جو اس نے کیا ہوگا اور اپنے اس برے کام کو جو اس نے کیا ہوگا، سامنے حاضر پائے گا اور تمنا کرے گا کہ کاش اس کے اور اس برے عمل کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہوتا۔ اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے، اور اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔

مفہوم

1 اعمال کی حاضری — قیامت کے دن انسان کے اچھے اور برے تمام اعمال اس کے سامنے پیش کر دیے جائیں گے۔
2 برے اعمال سے نفرت — انسان اپنے برے اعمال کو دیکھ کر شدید گھبرائے گا اور چاہے گا کہ وہ اس سے کوسوں دور ہوں۔
3 خوفِ خدا اور رحمت — اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اپنی نافرمانی کے انجام سے خبردار کیا ہے، ساتھ ہی یہ بھی یاد دلایا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے تاکہ وہ توبہ کریں۔
13 تفصیلی جوابات

سورۃ ال عمران کا شان نزول اور مرکزی مضمون لکھیں

جواب صفحہ 80 پر ہے

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

ان الدین عند اللہ الاسلام " آیت کی رو سے اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے کیسے؟

“ان الدین عند اللہ الاسلام” (بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے) اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اسلام زندگی گزارنے کا ایک پورا اور سچا طریقہ ہے۔ اسلام صرف عبادت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی پوری زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرتا ہے۔

1 زندگی کے شعبے اور رہنمائی — عقائد اور عبادت — توحید، رسالت، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے ذریعے انسان کا تعلق اللہ سے جوڑتا ہے۔
2 زندگی کے شعبے اور رہنمائی — معاشرت اور اخلاق — والدین کے حقوق، رشتہ داروں سے حسن سلوک، پڑوسیوں کے حقوق اور سچائی و ایمانداری سکھاتا ہے
3 زندگی کے شعبے اور رہنمائی — معیشت و تجارت — سود، دھوکہ، اور ناپ تول میں کمی سے منع کرتا ہے جبکہ حلال رزق کمانے کا حکم دیتا
4 زندگی کے شعبے اور رہنمائی — سیاست اور قانون — عدل و انصاف، شوریٰ (مشاورت)، اور قانون کی پاسداری کے اصول دیتا ہے۔
5 زندگی کے شعبے اور رہنمائی — اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات سمجھنے کے لیے اس کے تین بنیادی ستونوں کو دیکھنا ضروری ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنوارتے ہیں
6 معیشت — سود کی ممانعت — غریبوں کا استحصال روکنے کے لیے سود کو حرام قرار دیا۔
7 معیشت — زکوٰۃ کا نظام — مالداروں سے ٹیکس لے کر غریبوں میں تقسیم کرنے کا نظام دیا تاکہ دولت چند ہاتھوں میں نہ رہے۔
8 معیشت — حلال تجارت — کاروبار میں ناپ تول، دھوکہ دہی اور ذخیرہ اندوزی سے سخت منع کیا۔
9 معاشرت — حقوق العباد — والدین، بیوی بچوں، رشتہ داروں اور یہاں تک کہ پڑوسیوں کے حقوق متعین کیے۔
10 معاشرت — مساوات — رنگ، نسل یا زبان کی بنیاد پر نہیں، بلکہ صرف تقویٰ کی بنیاد پر فضیلت رکھی
11 معاشرت — خواتین کے حقوق — تاریخ میں پہلی بار خواتین کو وراثت، نکاح اور ملکیت کا حق دیا۔
12 سیاست اور عدل — انصاف کا نظام — امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون بنایا۔
13 سیاست اور عدل — مشاورت (شوریٰ) — حکومت اور ریاستی فیصلوں کو آپسی مشاورت سے چلانے کا حکم دیا۔
15 سرگرمیاں

سورہ ال عمران میں مذکورہ دعائیں مع ترجمہ لکھیں

سورہ آل عمران میں کل 9 اہم دعائیں مذکور ہیں۔ ان میں راسخون فی العلم (علم والے)، انبیاء علیہ السلام (جیسے حضرت زکریا علیہ السلام) اور مومنین کی دعائیں شامل ہیں۔ تمام دعائیں عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ درج ذیل ہیں:

1 ہدایت پر قائم رہنے کی دعا (آیت 8) — رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
2 ہدایت پر قائم رہنے کی دعا (آیت 8) — اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی ہے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بیشک تو ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔
3 قیامت کے دن جمع ہونے کی التجا (آیت 9) — رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ
4 قیامت کے دن جمع ہونے کی التجا (آیت 9) — اے ہمارے رب! تو یقیناً سب لوگوں کو ایک ایسے دن جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
5 بخشش اور جہنم سے نجات کی دعا (آیت 16) — رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
6 بخشش اور جہنم سے نجات کی دعا (آیت 16) — اے ہمارے رب! ہم ایمان لا چکے، پس ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔
7 پاکیزہ اولاد کے لیے حضرت زکریاؑ کی دعا (آیت 38) — رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ
8 پاکیزہ اولاد کے لیے حضرت زکریاؑ کی دعا (آیت 38) — اے میرے رب! مجھے اپنی بارگاہ سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو دعا کا سننے والا ہے۔
9 سچے ایمان اور اطاعت کی گواہی (آیت 53) — رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ
10 سچے ایمان اور اطاعت کی گواہی (آیت 53) — اے ہمارے رب! ہم اس (کتاب) پر ایمان لائے جو تو نے نازل فرمائی اور ہم نے رسول کی پیروی کی، پس تو ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔
11 ثابت قدمی اور کفر پر فتح کی دعا (آیت 147) — رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
12 ثابت قدمی اور کفر پر فتح کی دعا (آیت 147) — اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کاموں میں جو ہم سے حد سے بڑھ جانا ہوا ہے اسے معاف فرما، اور ہمارے قدم جما دے اور کافر لوگوں پر ہماری مدد فرما۔
13 کائنات پر غور کرنے والوں کی عذاب سے پناہ (آیت 191) — رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
14 کائنات پر غور کرنے والوں کی عذاب سے پناہ (آیت 191) — اے ہمارے رب! تو نے یہ (سب کچھ) بےکار پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے، پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
15 رسوائی سے بچنے اور نیکوں کے ساتھ موت کی دعا (آیت 192-193) — رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ * رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ
16 رسوائی سے بچنے اور نیکوں کے ساتھ موت کی دعا (آیت 192-193) — اے ہمارے رب! تو جسے آگ میں داخل کرے، تو نے اسے رسوا کر دیا، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکارتا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، تو ہم ایمان لے آئے۔ پس اے ہمارے رب! ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمارے گناہ ہم سے دور کر دے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے۔
17 رسولوں کے وعدوں کی تکمیل کی التجا (آیت 194) — رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ
18 رسولوں کے وعدوں کی تکمیل کی التجا (آیت 194) — اے ہمارے رب! اور ہمیں وہ عطا کر جس کا تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے وعدہ کیا ہے، اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
16 سرگرمیاں

غزوہ بدر کے واقعات(تائید،نصرت اور معجزات) لکھیں

غزوہ بدر 17 رمضان 2 ہجری کو پیش آیا، جس میں اللہ تعالی نے 313 مسلمانوں کی غیبی مدد فرمائی، فرشتوں کے ذریعے نصرت نازل کی اور کئی ظاہری و باطنی معجزات ظاہر ہوئے۔

1 تائیدِ الٰہی اور سکینت — بارش کی کرامت — جنگ سے قبل مسلمانوں کو پانی کی کمی کا سامنا تھا اور ریت پاؤں کے نیچے دھنستی تھی۔ اللہ نے رات کو بارش برسائی، جس سے مسلمانوں کے لیے وضو اور غسل کا انتظام ہو گیا، زمین سخت ہو گئی اور کافروں کے قدم کیچڑ کی وجہ سے جم گئے
2 تائیدِ الٰہی اور سکینت — اونگھ کا طاری ہونا — مسلمانوں پر خوف کی حالت میں غیبی سکون اور غودے (اونگھ) طاری کر دی گئی جس سے ان کی تھکن دور ہو گئی۔
3 نصرتِ فرشتگان — فرشتوں کا نزول — اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک ہزار پھر تین ہزار اور فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد کا وعدہ پورا کیا اور میدانِ جنگ میں فرشتے لڑنے کے لیے اتارے گئے۔
4 نصرتِ فرشتگان — دشمن پر رعب — فرشتوں اور تائیدِ خداوندی نے کفارِ مکہ کے دلوں میں ایسا شدید خوف ڈالا کہ ان کی طاقت ٹوٹ گئی۔
5 معجزاتِ نبویﷺ — قتادہ بن نعمان کی آنکھ — حضرت قتادہ بن نعمان کی آنکھ زخمی ہو کر باہر نکل آئی تھی، آپﷺ نے اسے اپنے دستِ مبارک سے واپس اپنی جگہ پر رکھا تو وہ پہلے سے زیادہ صحت مند اور خوبصورت ہو گئی۔
6 معجزاتِ نبویﷺ — لکڑی کا تلوار بننا — حضرت عکاشہ یا دوسرے صحابی کی تلوار ٹوٹ جانے پر آپﷺ نے انہیں ایک شاخ یا لکڑی دی جو ہاتھ میں آتے ہی بہترین اور تیز تلوار بن گئی۔
7 معجزاتِ نبویﷺ — مٹھی بھر مٹی — آپﷺ نے جنگ کے دوران کافروں کی طرف مٹھی بھر کر مٹی پھینکی جو ہر کافر کی آنکھوں میں گھس گئی، جس سے وہ پسپا ہو گئے۔
17 سرگرمیاں

سورۃ ال عمران میں مؤمنین کی صفات جو بیان ہوئی ہیں وہ لکھیں

سورۃ آل عمران میں مؤمنین کی صفات یہ ہیں: وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں، غصہ پیتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔

مؤمنین کی صفات

1 انفاق فی سبیل اللہ — خوشی اور غمی میں اللہ کے لیے مال خرچ کرتے ہیں۔
2 ضبطِ نفس — غصے کو قابو میں رکھتے ہیں۔
3 عفو و درگزر — لوگوں کی غلطیوں کو معاف کرتے ہیں۔
4 احسان — نیک کام اور اچھے رویے اپناتے ہیں کیونکہ اللہ اچھے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
5 استغفار — کوئی برا کام یا گناہ ہو جانے پر فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔
6 عزمِ صبیح — جان بوجھ کر برے کام پر اڑے نہیں رہتے اور توبہ کرتے ہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.