1
تحویلِ قبلہ کی آیات (آیت 142 تا 150) — پس منظر۔ مدینہ آنے کے بعد سولہ یا سترہ مہینے تک مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے، جب کہ نبی کریم ﷺ کی دلی خواہش تھی کہ کعبہ کو قبلہ بنایا جائے۔ جب قبلہ تبدیل کرنے کا حکم آیا تو یہودیوں اور منافقین نے اعتراض کیا اور شور مچایا کہ پہلے قبلے سے کیوں ہٹ گئے، جس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
2
آیتِ سود (آیت 275 تا 281) — پس منظر۔ اسلام سے پہلے عرب میں سودی کاروبار عام تھا۔ بنو عمرو بن عمیر اور بنو مغیرہ (قبیلہ ثقیف) کے درمیان سود کے لین دین پر تنازع ہوا تو مکہ کے گورنر عتاب بن اسید نے آپ ﷺ کو خط لکھا، جس پر سود کو سختی سے حرام قرار دینے کی یہ آیات نازل ہوئیں۔
3
آیتِ قرض (آیت 282 - آیت الدائن) — پس منظر۔ قرآن کی یہ طویل ترین آیت لین دین اور قرض کے معاملات میں لکھ پڑھ کرنے اور گواہ بنانے کے ضابطے کو واضح کرنے کے لیے نازل ہوئی تاکہ باہمی حقوق محفوظ رہیں۔
4
سورہ بقرہ کی آخری دو آیات (آیت 285 تا 286 - آمن الرسول) — پس منظر۔ معراج کی رات جب رسول اللہ ﷺ آسمان پر تشریف لے گئے تو آپ کو تحائف میں پانچ وقت کی نمازیں اور یہ آخری آیات عطا ہوئیں جو امت کے لیے مغفرت اور دعا کا عظیم الشان سرمایہ ہیں۔
5
منافقین کے بارے میں آیات (آیت 14) — آیت — وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا۔۔۔ (اور جب یہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے)۔
6
منافقین کے بارے میں آیات (آیت 14) — شانِ نزول — یہ آیت عبداللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ ایک بار ان کا سامنا حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم سے ہوا۔ ابن ابی نے منافقت سے ان صحابہ کی خوب تعریفیں کیں۔ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو اپنے شیطانوں (یہودیوں اور کافر دوستوں) سے جا کر کہا کہ ہم تو ان کا مذاق اڑا رہے تھے، جس پر یہ آیت اتری۔
7
صفا اور مروہ کی سعی (آیت 158) — آیت — إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ۔۔۔ (بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں)۔
8
صفا اور مروہ کی سعی (آیت 158) — شانِ نزول — جاہلیت کے دور میں مشرکین نے صفا پہاڑی پر “اساف” اور مروہ پر “نائلہ” نامی بت رکھے ہوئے تھے اور وہ ان کا طواف کرتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد صحابہ کرامؓ نے وہاں سعی کرنے کو گناہ سمجھا اور ہچکچائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر واضح کیا کہ صفا مروہ کی سعی بتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی نشانیوں کی وجہ سے ہے، لہذا حج و عمرہ میں یہاں سعی کرنا لازم ہے۔
9
دین میں زبردستی کی ممانعت (آیت 256) — آیت — لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ۔۔۔ (دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے)۔
10
دین میں زبردستی کی ممانعت (آیت 256) — شانِ نزول — انصارِ مدینہ (قبیلہ اوس و خزرج) کی یہ عادت تھی کہ جن کی اولاد زندہ نہیں بچتی تھی، وہ منت مانتے تھے کہ اگر اگلا بچہ زندہ رہا تو اسے یہودی یا عیسائی بنا دیں گے۔ جب بنو نضیر (یہودی قبیلے) کو مدینہ سے جلاوطن کیا گیا تو ان میں انصار کے وہ بچے بھی شامل تھے جو یہودی بن چکے تھے۔ انصار کے والدین نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو زبردستی مسلمان کریں گے اور یہودیوں کے ساتھ نہیں جانے دیں گے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ دین کے معاملے میں کسی پر زبردستی نہیں کی جائے گی۔
11
خیرات اور صدقات کی ترغیب (آیت 261-262) — آیت — مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔۔۔ (ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں)۔
12
خیرات اور صدقات کی ترغیب (آیت 261-262) — شانِ نزول — یہ آیات خاص طور پر حضرت عثمان غنی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے حق میں نازل ہوئیں۔ غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے چار ہزار درہم (اپنا آدھا مال) بارگاہِ رسالت میں پیش کیا اور حضرت عثمان غنیؓ نے جیشِ عسرت (تنگدستی کے لشکر) کے لیے ایک ہزار اونٹ اور بڑا مالی تعاون پیش کیا، جس پر اللہ نے ان کے اخلاص کو سراہا۔
13
سود کی حرمت (آیت 278) — آیت — يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا۔۔۔ (اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو)۔
14
سود کی حرمت (آیت 278) — شانِ نزول — فتح مکہ کے بعد بنو عمرو بن عمیر (قبیلہ ثقیف) اور بنو مغیرہ (قبیلہ مخزوم) کے درمیان جاہلیت کے زمانے کے سودی بقایاجات پر جھگڑا ہوا۔ بنو مغیرہ نے کہا کہ اسلام میں سود حرام ہو چکا ہے اس لیے ہم اب سود نہیں دیں گے۔ معاملہ مکہ کے گورنر عتاب بن اسید کے ذریعے حضور ﷺ تک پہنچا، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرما کر پچھلا تمام سود بھی معاف کرنے اور آئندہ سختی سے باز رہنے کا حکم دیا۔