گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 8: سبق 8: سورۃ البقرہ (آیات 261 تا 286) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

اَلَّذِینَ یُنفِقُونَ اَموَالَهُم فِی سَبِیلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتبِعُونَ ما انفَقُوا مَنًّا وَّ لَا اَذًی لَّهُم اَجرُهُم عِندَ رَبِّهِموَ لَا خَوفٌ عَلَیهِم وَ لَا هُمۡ یَحزَنُونَ﴿۲۶۲﴾

آیت میں انفاق کے حوالے سے کیا ہدایات دی گئی ہیں اور اس پر کس انعام کا ذکر ہے ؟

انفاق کے حوالے سے ہدایات

مذکورہ انعام

1 خلوصِ نیت اور پاکیزگی — مال صرف اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔
2 احسان نہ جتانا — مال دینے کے بعد زبان سے یہ نہ جتایا جائے کہ ہم نے تم پر احسان کیا ہے۔
3 اذیت نہ دینا — مدد کرنے کے بعد سامنے والے کو طعنے دے کر یا کسی بھی عمل سے تکلیف یا اذیت نہ پہنچائی جائے
4 رب کے پاس اجر — ان کا پورا بدلہ اور اجر براہِ راست اللہ رب العزت کے پاس محفوظ ہے۔
5 لاخوف ولا حزن — قیامت کے دن انہیں پچھلے احوال کا کوئی خوف نہیں ہوگا اور دنیا کی محرومیوں یا انجام پر وہ غمگین نہیں ہوں گے۔
2 مختصر جوابات

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًی ؕ وَاللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ ۔

آیت میں کس چیز کو کس چیز سے بہتر قرار دیا گیا ہے؟

ترجمہ

بھلی بات کہنا اور درگزر کرنا (معاف کر دینا) اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد اذیت (تکلیف) پہنچائی جائے، اور اللہ تعالیٰ غنی (بے نیاز) اور حلیم (بردبار) ہے

جواب اس آیت میں اچھی بات کہنے (نرم گفتگو کرنے) اور معاف کر دینے کو اس صدقہ (خیرات) سے بہتر قرار دیا گیا ہے جس کے بعد سائل کو تکلیف یا اذیت دی جائے ۔(احسان جتایا جائے)
3 مختصر جوابات

يَاایُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا ٱلْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِأَاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغْمِضُوا فِيهِ وَٱعْلَمُوٓا أَنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌ

آیت کی رو سے ردی چیز کو صدقہ کرنے کے حوالے سے کیا حکم دیا گیا ہے؟

ترجمہ

اے ایمان والو! اپنی پاک کمائیوں میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو، اور خرچ کرتے ہوئے خاص ناقص اور گھٹیا مال دینے کا ارادہ نہ کرو، حالانکہ (اگر وہی مال تمہیں دیا جائے تو) تم اسے چشم پوشی (نظر انداز) کیے بغیر ہرگز قبول نہ کرو گے، اور جان رکھو کہ اللہ بے پرواہ (اور) سراہا گیا ہے۔

آیت کا حکم اور مفہوم

1 عمدہ مال خرچ کرنے کا حکم — مومنین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی حلال و پاک کمائی اور زمین سے نکالی گئی عمدہ پیداوار میں سے بہترین حصہ اللہ کی راہ میں دیں
2 ردی مال دینے سے ممانعت — برے اور گھٹیا مال کا قصد نہ کرو کہ اسے صدقہ کے طور پر دو
3 دلیلِ حکمت — اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ گھٹیا اور ردی چیزیں تم خود بھی لینا پسند نہیں کرتے مگر یہ کہ اس پر آنکھیں بند کر لو (یعنی مجبوری میں یا ناخوشی سے قبول کرو)؛ تو جو چیز تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے، وہ اللہ کی راہ میں کیسے دیتے ہو؟
4 اللہ کی بے نیازی — اللہ تعالیٰ کو تمہارے ردی مال کی کوئی حاجت نہیں ہے، وہ غنی (بے نیاز) اور لائقِ حمد (تعریف کے لائق) ہے۔
4 مختصر جوابات

الذین یاکلون الربوا ۔۔۔من المس ۔

آیت میں سود خوروں کی قیامت کے دن کیا کیفیت ہو گئی ؟

ترجمہ

سود خور قیامت کے دن شیطان کے چھوئے ہوئے پاگل شخص کی طرح اٹھیں گے۔ یہ حالت اس لیے ہوگی کہ وہ سود اور تجارت کو برابر سمجھتے تھے، جبکہ اللہ نے تجارت حلال اور سود حرام کیا ہے۔ جو نصیحت کے بعد رک گیا، گزشتہ معاملات معاف کر دیے گئے، اور جو دوبارہ سود میں پڑا، وہ جہنمی ہے۔

قیامت کے دن سود خور کی کیفیت

1 پاگل پن کی حالت — وہ قبروں سے ایسے اٹھیں گے جیسے جن یا شیطان کے اثر سے کوئی پاگل ہو کر لڑکھڑاتا ہے
2 وجہ — یہ سزا اس بات کی ہوگی کہ وہ دنیا میں کہتے تھے کہ سود بھی تجارت کی طرح حلال اور جائز ہے۔
3 اللہ کا فیصلہ — اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے، اس لیے قیامت کے روز ان کی یہ ذلت آمیز حالت ان کے اس عقیدے اور عمل کا بدلہ ہوگی۔
5 مختصر جوابات

الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

آیت میں کن لوگوں کے لیے خوف اور غم سے نجات کا اجر بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

جو لوگ اپنے مال رات اور دن میں، پوشیدہ اور ظاہر (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہیں، تو ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، اور نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

جواب سورہ البقرہ کی آیت 274 ان لوگوں کے لیے خوف اور غم سے نجات کا اجر بیان کرتی ہے جو رات دن، چھپے اور کھلے اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔
6 مختصر جوابات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِين ۔

آیت میں مؤمنین کو کیا نصیحت کی گئی ہے؟

ترجمہ

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم ایمان والے ہو

مؤمنین کو نصیحت و ہدایت

1 اللہ کا ڈر (تقویٰ) — ایمان کا تقاضا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچے۔
2 سود کا خاتمہ — لوگوں پر جو سود کا بقایا قرض یا رقم باقی ہے، اسے فوراً چھوڑ دیں اور وصول نہ کریں۔
3 ایمان کا امتحان — سچے مومن ہونے کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ حکمِ الٰہی پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے سودی لین دین سے مکمل توبہ کر لیں۔
7 مختصر جوابات

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءامَنُوإِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰٓأَجَلٍ مُّسَمًّى فٱكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بٱلْعَدْلِ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ ٱللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـًٔا

آیت میں مالی معاملات لکھنے کے حوالے سے کاتب کو کیا ہدایات دی گئی ہیں ؟

ترجمہ

اے ایمان والو! جب تم ایک مقرر مدت تک کے لیے قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ لکھے اور کوئی لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے اللہ نے سکھایا ہے، پس اسے چاہیے کہ وہ لکھ دے اور وہ شخص املا (بول کر لکھوائے) جس پر حق (قرض) لازم آتا ہے اور وہ اپنے رب اللہ سے ڈرے اور اس (حق) میں سے کچھ کم نہ کرے۔

کاتب (لکھنے والے) کے لیے ہدایات

1 عدل و انصاف — کاتب پر لازم ہے کہ وہ فریقین کے درمیان تمام معاہدہ پورے انصاف اور دیانت داری کے ساتھ تحریر کرے۔
2 لکھنے سے انکار نہ کرنا — جسے اللہ نے لکھنے کی صلاحیت اور علم عطا کیا ہے، وہ کسی کو لکھنے کی ضرورت پڑنے پر انکار نہ کرے۔
3 غیر جانبدار رہنا — کاتب کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نہ تو کسی کے ساتھ ناانصافی کرے اور نہ ہی فریقین کو نقصان پہنچائے
4 حکم کی پابندی — املا وہ شخص کروائے جس پر قرض ہے، اور کاتب اسی کے مطابق ہو بہو لکھے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَت أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

اور جو لوگ اپنے مال اللہ کی رضا حاصل کرنے اور اپنے دلوں کو (ایمان پر) مضبوط کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال ایک ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی زمین پر ہو، اس پر زوردار بارش ہو تو وہ دوگنا پھل لائے، اور اگر اسے زوردار بارش نہ بھی ملے تو ہلکی پھوار ہی کافی ہو، اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے

مفہوم و تشریح

1 خلوصِ نیت — جو لوگ دکھاوے یا شہرت کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے صدقہ و خیرات کرتے ہیں
2 ثابت قدمی — ان کا یہ عمل ان کے اندر پختہ یقین اور ایمان کی مضبوطی کا باعث بنتا ہے۔
3 اونچے باغ کی مثال — ان کے عملِ خیر کی قبولیت اور پاکیزگی کی مثال اونچے ٹیلے پر بنے اس سرسبز باغ جیسی ہے جو ہمیشہ ہوا اور روشنی سے فیض یاب ہوتا ہے۔
4 بارش اور پھوار — زیادہ صدقہ ہو یا کم، نیت خالص ہو تو اللہ تعالی اس کا اجر بھرپور اور دوگنا عطا فرماتا ہے، جیسے زیادہ بارش یا ہلکی پھوار دونوں ہی زرخیز زمین کے باغ کو سرسبز رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہیں
9 تفصیلی جوابات

مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

آیت میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے اجر کو مثال کے ذریعے کیسے بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے (اس سے بھی) زیادہ بڑھا کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

مثال کے ذریعے اجر کی وضاحت

1 ایک دانے کی کاشت — اللہ تعالیٰ نے ایک روپے یا ایک نیکی (مال جو خلوص سے خرچ کیا جائے) کو ایک بیج یا دانے سے تشبیہ دی ہے۔
2 سات بالیاں اور سات سو دانے — جس طرح زمین میں ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی کے اندر سو دانے ہوں، تو وہ ایک دانہ کل ملا کر سات سو دانے بن جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ راہِ خدا میں خرچ کرنے والے کے ایک روپے کا ثواب سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہے۔
3 لامحدود اضافہ — مثال پر بس نہیں کیا بلکہ آگے فرمایا کہ “اللہ جس کے لیے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ (گنا) اضافہ فرما دیتا ہے” کیونکہ اس کا فضل اور خزانہ بہت وسیع ہے اور وہ نیتوں کے اخلاص کو خوب جانتا ہے
10 تفصیلی جوابات

إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفَقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اگر تم صدقہ و خیرات اعلانیہ (ظاہر کر کے) دو تو یہ بھی اچھا ہے (اس سے دوسرے لوگوں کو بھی ترغیب ملتی ہے)، اور اگر تم انہیں چھپا کر فقراء و محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ اور اللہ اس کے بدلے تمہارے کچھ گناہ معاف کر دے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔

اہم نکات

1 اعلانیہ صدقہ — ظاہر کر کے صدقہ دینا بھی جائز اور اچھا ہے، بالخصوص جب مقصد دوسروں کو نیکی کی دعوت دینا یا ترغیب دلانا ہو۔
2 پوشیدہ صدقہ — کو چھپا کر ضرورت مندوں تک پہنچانا ریاکاری (نمود و نمائش) سے بچنے اور اخلاص کی وجہ سے زیادہ بہتر اور افضل ہے۔
3 گناہوں کا کفارہ — مال خرچ کرنے اور صدقہ دینے کی پاداش میں اللہ تعالیٰ انسان کے صغیرہ گناہ مٹا دیتا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ۔

آیت میں احسان جتا کر خرچ کرنے والوں کے لیے کیا مثال بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

اے ایمان والو! اپنے صدقے احسان جتا کر اور تکلیف دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ یومِ آخرت پر۔ پس اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنا پتھر جس پر مٹی کی تہہ ہو، پھر اس پر زوردار بارش برسے تو اسے بالکل صاف پتھر (بے مٹی کا) چھوڑ دے۔ یہ لوگ اپنی کمائی (اعمال) میں سے کسی چیز پر قابو نہیں پا سکیں گے اور اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

قرآن مجید نے ریاکاری (دکھاوے) اور احسان جتلا کر یا تکلیف دے کر صدقہ ضائع کرنے والے کی مثال ایک ایسے چکنے اور صاف پتھر (صفوان) سے دی ہے جس کے اوپر مٹی کی ہلکی تہہ جمی ہوتی ہے۔ بظاہر وہ مٹی دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے وہاں کھیتی یا پودا اگ سکتا ہے، لیکن جب اس پر کوئی زوردار اور موسلا دھار بارش (وَابِل) برستی ہے، تو وہ ساری مٹی بہا کر لے جاتی ہے اور وہ پتھر کا پتھر بالکل ویسا ہی ننگا اور چکنا رہ جاتا ہے جس پر ایک ذرہ مٹی بھی باقی نہیں رہتی۔

احسان جتا کر خرچ کرنے والوں کے لیے بیان کردہ مثال

1 ظاہری دھوکا — جیسے مٹی والے پتھر پر بارش پڑنے سے زمین کچھ پیدا نہیں کر پاتی، اسی طرح دکھاوے اور احسان جتانے والے کا عمل بظاہر بہت بڑا لگتا ہے مگر اندر سے بالکل خالی ہوتا ہے۔
2 حاصل وصول — بارش اس مٹی کو صاف کر کے پتھر کو بنجر کر دیتی ہے، ویسے ہی احسان جتانے والے کی نیت کی کھوٹ اس کے سارے ثواب کو ایسے مٹا دیتی ہے کہ آخرت میں اسے اپنی اس کمائی کا کوئی بدلہ نہیں ملتا۔
12 تفصیلی جوابات

وَمَا أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ ۗ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ ۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

مفہوم و تشریح

1 مال خرچ کرنا اور نذر — بندہ اللہ کی رضا کے لیے راہِ خدا میں صدقہ کرے یا گناہ و ریا کاری میں خرچ کرے، اور جیسی بھی منت مانے، اللہ اسے جانتا ہے۔
2 اللہ کا علم — کوئی عمل، نیت یا خرچ اللہ سے چھپا نہیں ہے، وہ سب کا بہترین بدلہ دینے والا ہے۔
3 ظالموں کے لیے وعید — جو لوگ اللہ کے حکم کے خلاف مال خرچ کرتے ہیں یا حقوق تلف کرتے ہیں، عذابِ الہی کے وقت ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
13 تفصیلی جوابات

وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمُهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ وَاللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ۔

آیت میں دوران سفر لین دین کے معاملات لکھنے کا حوالے سے کیا ہدایات دی گئی ہیں ؟

ترجمہ

اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو رہن (گروی رکھی ہوئی چیز) پر قبضہ ہو، پھر اگر تم میں سے ایک دوسرے پر بھروسہ کرے تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے وہ امانت واپس کرے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے، اور گواہی نہ چھپاؤ، اور جو اسے چھپائے گا تو اس کا دل گناہگار ہے، اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے۔

دورانِ سفر لین دین کی ہدایات

1 لکھنے والا نہ ہو — اگر سفر میں لین دین ہو اور کوئی دستاویز لکھنے والا موجود نہ ہو۔
2 گروی رکھنا (رہن) — تو قرض کے بدلے کوئی چیز بطور رہن (قبضہ میں) رکھی جائے۔
3 بھروسہ اور امانت — اگر رہن رکھنا بھی ممکن نہ ہو اور فریقین ایک دوسرے پر زبانی اعتماد کریں، تو امانت دار پر لازم ہے کہ وہ حق پوری دیانت داری سے واپس کرے۔
4 گواہی نہ چھپانا — لین دین یا حق کی بات میں گواہی چھپانے سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ گواہی چھپانا دل کا گناہ ہے۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

سورۃ البقرہ میں انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے جو تفصیل ذکر کی گئی ہے اس کے اہم نکات لکھیں ؟

سورۃ البقرہ میں انفاق فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں خرچ کرنے) کا عظیم اجر، سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ اضافہ، احسان اور ایذا رسانی سے بچنے کی سخت تاکید اور اچھے مال میں سے پاکیزہ چیزیں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

انفاق فی سبیل اللہ کے اہم نکات

1 عظیم اجر و ثواب — اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے جس سے سات بالیاں اگیں اور ہر یالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ جسے چاہے مزید بڑھوتری عطا فرمائے۔
2 احسان جتانا اور تکلیف دینا منع — خرچ کرنے کے بعد احسان جتانا (کسی کو جتا کر شرمندہ کرنا) یا تکلیف دینا (ایذا دینا) صدقے کے ثواب کو ضائع کر دیتا ہے۔
3 خالص نیت — انفاق صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ لوگوں کو دکھانے یا شہرت حاصل کرنے کے لیے۔
4 بہترین اور حلال مال خرچ کرنا — کم یا گھٹیا مال چھانٹ کر دینے کے بجائے اپنی حلال اور پسندیدہ کمائی میں سے پاکیزہ مال اللہ کی راہ میں دینے کا حکم ہے۔
5 منافقانہ ریاکاری کا ابطال — دکھاوے کے لیے خرچ کرنے والے کی مثال اس چکنے پتھر جیسی ہے جس پر مٹی ہو اور زوردار بارش اسے صاف کر کے بالکل ننگا کر دے۔
6 محتاجوں کی شناخت — صدقہ ان حاجت مندوں کا حق ہے جو اللہ کے راستے میں ایسے پھنسے ہیں کہ زمین پر سفر نہیں کر سکتے اور غفلت کی وجہ سے لوگ انہیں مالدار سمجھتے ہیں۔
15 سرگرمیاں

سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کی اہمیت ، فضیلت اور پڑھنے کے اوقات بتائیں

اہمیت اور فضیلت اور پڑھنے کے اوقات

1 اہمیت اور فضیلت — کفایت — رات کو یہ دو آیات پڑھنا انسان کے لیے تمام آفات اور شر سے بچاؤ اور عبادت کے لحاظ سے کافی ہو جاتا ہے۔
2 اہمیت اور فضیلت — عرش کے نیچے کا خزانہ — یہ آیات عرش کے نیچے کے خزانوں میں سے عطا کی گئی ہیں۔
3 اہمیت اور فضیلت — حفاظت — رات کو تلاوت کرنے سے شیطان اور برے اثرات سے گھر کی حفاظت ہوتی ہے۔
4 پڑھنے کے اوقات — رات کا وقت — عشاء کے بعد یا سونے سے بالکل پہلے
16 سرگرمیاں

قرآن و حدیث کی روشنی میں سود کی حرمت اور انفرادی اور اجتماعی نقصانات لکھیں

قرآن و حدیث کی روشنی میں سود (رِبا) کی حرمت قطعی اور حتمی ہے، اور اس کے انفرادی و اجتماعی نقصانات بہت تباہ کن ہیں۔ قرآن مجید میں سود کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے، جبکہ احادیث میں اسے کبیرہ گناہ بتایا گیا ہے۔

1 قرآن و حدیث کی روشنی میں حرمت — سخت ترین اعلان — سورۃ البقرہ (آیت 279) میں اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے اور فرمایا کہ اگر توبہ نہ کرو تو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔
2 قرآن و حدیث کی روشنی میں حرمت — دگنا چگنا کھانے کی ممانعت — سورۃ آل عمران (آیت 130) میں واضح حکم ہے کہ ایمان والو! دگنا چگنا سود مت کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ فلاح پاؤ۔
3 قرآن و حدیث کی روشنی میں حرمت — شیطان کا اثر — سورۃ البقرہ (آیت 275) میں ارشاد ہے کہ سود کھانے والے قیامت کے دن اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھو کر پاگل کر دیا ہو۔
4 قرآن و حدیث کی روشنی میں حرمت — لعنت — صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کا لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ یہ سب گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔
5 قرآن و حدیث کی روشنی میں حرمت — سنگین گناہ — سنن ابن ماجہ کی حدیث کے مطابق سود کے ستر سے زیادہ گناہ ہیں، جن میں سب سے ہلکا گناہ ایسا ہے جیسے کوئی اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے۔
6 انفرادی نقصانات — دعا کی قبولیت میں رکاوٹ — سود خور کا رزق حرام ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتی ہیں۔
7 انفرادی نقصانات — دل کی سختی اور خود غرضی — انسان کے اندر سے ہمدردی، رحم اور اخوت کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ صرف اپنی دولت بڑھانے کی فکر کرتا ہے۔
8 انفرادی نقصانات — بے برکتی — سود بظاہر مال بڑھاتا ہے لیکن باطنی طور پر اس میں سکون، اطمینان اور برکت ختم ہو جاتی ہے۔
9 انفرادی نقصانات — اخلاقی زوال — انسان لالچی، بخیل اور طمع کا شکار ہو جاتا ہے۔
10 اجتماعی نقصانات — دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز — سود کی وجہ سے غریب مزید غریب اور امیر مزید امیر تر ہو جاتا ہے، جس سے معاشرے میں طبقاتی خلیج بڑھتی ہے۔
11 اجتماعی نقصانات — معاشی استحصال — غریب اور محنت کش طبقہ قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے اور پوری زندگی سودی جکڑ بندیوں سے نکل نہیں پاتا۔
12 اجتماعی نقصانات — کاروبار اور پیداوار کا نقصان — سرمایہ کار محنت اور رسک والے حقیقی کاروبار میں پیسہ لگانے کے بجائے سودی اداروں میں رقم رکھ کر بغیر محنت کے منافع کماتے ہیں، جس سے معیشت رک جاتی ہے۔
13 اجتماعی نقصانات — معاشرتی بے چینی اور جرائم — غربت اور بے روزگاری بڑھنے سے معاشرے میں چوری، خودکشی، بدامنی اور جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔
17 سرگرمیاں

سیرت طیبہ اور آپﷺ کے فرامین کی روشنی میں لین دین کے معاملات لکھیں

سیرت طیبہ اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں لین دین کے معاملات میں امانت، دیانت، سچائی اور نرمی اپنانے کا حکم ہے، جن میں لین دین کی دستاویز (لکھنا)، گواہ بنانا، اور وقت پر قرض کی ادائیگی یا مہلت دینا شامل ہیں۔

لین دین کے بنیادی اصول

1 معاملات کو لکھنا — قرآن پاک (سورۃ البقرہ: 282) کے مطابق جب بھی ادھار کا لین دین کرو تو اسے ایک مقررہ وقت تک کے لیے لکھ لو تاکہ کسی نزاع کی گنجائش نہ رہے۔
2 سچائی اور وضاحت — خرید و فروخت میں عیب چھپانے سے منع کیا گیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ سچا اور امانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔
3 گواہ بنانا — لین دین کے وقت گواہ مقرر کرنا اور بوقتِ ضرورت دستاویز پر گواہوں کے دستخط یا تصدیق کرنا سنتِ عملی ہے۔
4 ادائیگی میں آسانی — آپﷺ نے اس شخص پر رحمت کی دعا فرمائی جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی (فراخ دلی) سے کام لیتا ہے۔
5 مہلت دینا — اگر کوئی تنگدست مقروض ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مہلت دینا یا اس کا قرض معاف کر دینا اللہ کے نزدیک بہت بڑا ثواب ہے۔
18 سرگرمیاں

سورہ البقرہ آیت 1 تا 286 میں تمام اہم آیات کے شان نزول لکھیں

اہم آیات اور ان کا پس منظر (شانِ نزول)

1 تحویلِ قبلہ کی آیات (آیت 142 تا 150) — پس منظر۔ مدینہ آنے کے بعد سولہ یا سترہ مہینے تک مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے، جب کہ نبی کریم ﷺ کی دلی خواہش تھی کہ کعبہ کو قبلہ بنایا جائے۔ جب قبلہ تبدیل کرنے کا حکم آیا تو یہودیوں اور منافقین نے اعتراض کیا اور شور مچایا کہ پہلے قبلے سے کیوں ہٹ گئے، جس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
2 آیتِ سود (آیت 275 تا 281) — پس منظر۔ اسلام سے پہلے عرب میں سودی کاروبار عام تھا۔ بنو عمرو بن عمیر اور بنو مغیرہ (قبیلہ ثقیف) کے درمیان سود کے لین دین پر تنازع ہوا تو مکہ کے گورنر عتاب بن اسید نے آپ ﷺ کو خط لکھا، جس پر سود کو سختی سے حرام قرار دینے کی یہ آیات نازل ہوئیں۔
3 آیتِ قرض (آیت 282 - آیت الدائن) — پس منظر۔ قرآن کی یہ طویل ترین آیت لین دین اور قرض کے معاملات میں لکھ پڑھ کرنے اور گواہ بنانے کے ضابطے کو واضح کرنے کے لیے نازل ہوئی تاکہ باہمی حقوق محفوظ رہیں۔
4 سورہ بقرہ کی آخری دو آیات (آیت 285 تا 286 - آمن الرسول) — پس منظر۔ معراج کی رات جب رسول اللہ ﷺ آسمان پر تشریف لے گئے تو آپ کو تحائف میں پانچ وقت کی نمازیں اور یہ آخری آیات عطا ہوئیں جو امت کے لیے مغفرت اور دعا کا عظیم الشان سرمایہ ہیں۔
5 منافقین کے بارے میں آیات (آیت 14) — آیت — وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا۔۔۔ (اور جب یہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے)۔
6 منافقین کے بارے میں آیات (آیت 14) — شانِ نزول — یہ آیت عبداللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ ایک بار ان کا سامنا حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم سے ہوا۔ ابن ابی نے منافقت سے ان صحابہ کی خوب تعریفیں کیں۔ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو اپنے شیطانوں (یہودیوں اور کافر دوستوں) سے جا کر کہا کہ ہم تو ان کا مذاق اڑا رہے تھے، جس پر یہ آیت اتری۔
7 صفا اور مروہ کی سعی (آیت 158) — آیت — إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ۔۔۔ (بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں)۔
8 صفا اور مروہ کی سعی (آیت 158) — شانِ نزول — جاہلیت کے دور میں مشرکین نے صفا پہاڑی پر “اساف” اور مروہ پر “نائلہ” نامی بت رکھے ہوئے تھے اور وہ ان کا طواف کرتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد صحابہ کرامؓ نے وہاں سعی کرنے کو گناہ سمجھا اور ہچکچائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر واضح کیا کہ صفا مروہ کی سعی بتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی نشانیوں کی وجہ سے ہے، لہذا حج و عمرہ میں یہاں سعی کرنا لازم ہے۔
9 دین میں زبردستی کی ممانعت (آیت 256) — آیت — لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ۔۔۔ (دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے)۔
10 دین میں زبردستی کی ممانعت (آیت 256) — شانِ نزول — انصارِ مدینہ (قبیلہ اوس و خزرج) کی یہ عادت تھی کہ جن کی اولاد زندہ نہیں بچتی تھی، وہ منت مانتے تھے کہ اگر اگلا بچہ زندہ رہا تو اسے یہودی یا عیسائی بنا دیں گے۔ جب بنو نضیر (یہودی قبیلے) کو مدینہ سے جلاوطن کیا گیا تو ان میں انصار کے وہ بچے بھی شامل تھے جو یہودی بن چکے تھے۔ انصار کے والدین نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو زبردستی مسلمان کریں گے اور یہودیوں کے ساتھ نہیں جانے دیں گے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ دین کے معاملے میں کسی پر زبردستی نہیں کی جائے گی۔
11 خیرات اور صدقات کی ترغیب (آیت 261-262) — آیت — مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔۔۔ (ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں)۔
12 خیرات اور صدقات کی ترغیب (آیت 261-262) — شانِ نزول — یہ آیات خاص طور پر حضرت عثمان غنی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے حق میں نازل ہوئیں۔ غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے چار ہزار درہم (اپنا آدھا مال) بارگاہِ رسالت میں پیش کیا اور حضرت عثمان غنیؓ نے جیشِ عسرت (تنگدستی کے لشکر) کے لیے ایک ہزار اونٹ اور بڑا مالی تعاون پیش کیا، جس پر اللہ نے ان کے اخلاص کو سراہا۔
13 سود کی حرمت (آیت 278) — آیت — يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا۔۔۔ (اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو)۔
14 سود کی حرمت (آیت 278) — شانِ نزول — فتح مکہ کے بعد بنو عمرو بن عمیر (قبیلہ ثقیف) اور بنو مغیرہ (قبیلہ مخزوم) کے درمیان جاہلیت کے زمانے کے سودی بقایاجات پر جھگڑا ہوا۔ بنو مغیرہ نے کہا کہ اسلام میں سود حرام ہو چکا ہے اس لیے ہم اب سود نہیں دیں گے۔ معاملہ مکہ کے گورنر عتاب بن اسید کے ذریعے حضور ﷺ تک پہنچا، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرما کر پچھلا تمام سود بھی معاف کرنے اور آئندہ سختی سے باز رہنے کا حکم دیا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.