گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 10: سبق 10: سورۃ آل عمران (آیات 31 تا 63) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

آیت میں اللہ کی محبت کے حصول کے لیے کس بات کو ضروری قرار دیا گیا ہے؟ نیز آیت کے مطابق نبی ﷺ کی اتباع کرنے پر کن انعامات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اے پیغمبر!) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اس آیتِ مبارکہ کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور مغفرت حاصل کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل پیروی اور اطاعت (اتباعِ رسول ﷺ) کو لازمی اور ضروری قرار دیا گیا ہے۔ آیت کا واضح پیغام یہ ہے کہ اللہ سے محبت کا دعویٰ تب ہی سچا اور مقبول ہو سکتا ہے جب انسان کی زندگی کے تمام معاملات رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہوں۔

اتباعِ رسول ﷺ پر ملنے والے انعامات

1 اللہ کی محبت کا حصول — بندہ جب نبی ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ہے تو بدلے میں اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمانے لگتا ہے۔
2 گناہوں کی مغفرت — اللہ تعالی اس کی خطاؤں اور گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔
3 مغفرت اور رحمت کی ضمانت — اللہ کی صفتِ غفور و رحیم کا فیض بندے شاملِ حال ہو جاتا ہے۔
2 مختصر جوابات

إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

آیت میں سیدنا عمران کی بیوی نے کس چیز کی نذر مانی تھی؟

ترجمہ

جب عمران کی بیوی نے کہا: اے میرے رب! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے، میں اسے تیری نذر کرتی ہوں، ہر قسم کی دنیا داری سے آزاد (وقف)، سو تو اسے میری طرف سے قبول فرما، بےشک تو ہی سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے۔

نذر کی تفصیل

1 وقفِ خدا — پیٹ میں موجود بچے کو دنیاوی کاموں اور فرائض سے آزاد (محرراً) کر کے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کرنے کا عہد کیا۔
2 مقصد — بچے کو دنیا داری سے بچا کر صرف اللہ کی رضا اور اس کے گھر کی خدمت کے لیے مخصوص کرنا
3 مختصر جوابات

فَنَادَتْهُ الْملاٰىِٕكَةُ وَهُوَ قَآىِٕمٌ يُصَلِّيْ فِى الْمِحْرَابِ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ

آیت میں سیدنا یحییٰ کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں ؟

ترجمہ

پھر فرشتوں نے اسے آواز دی اس وقت جب وہ عبادت گاہ میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ بیشک اللہ آپ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے ایک فرمان کی تصدیق کرنے والے ہوں گے اور سردار ہوں گے اور اپنی عورتوں سے بے تعلق رہنے والے اور نبی ہوں گے صالحین میں سے۔

اس مبارک آیت میں سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی درج ذیل چار اہم صفات بیان کی گئی ہیں:

سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی صفات (آیت کی روشنی میں)

1 مصدقاً بكلمة من الله (تصدیق کرنے والے) — وہ اللہ کے خاص کلمہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔
2 سیداً (سردار) — وہ اپنی قوم میں علم، تقویٰ، عبادت اور بزرگی کے لحاظ سے سردار اور باعزت ہوں گے۔
3 حصوراً (حصور) — اس کے معنی عفت اور پاکدامنی کے ہیں؛ یعنی وہ نفسانی خواہشات اور گناہوں سے بالکل دور رہنے والے اور پاکدامن ہوں گے۔
4 نبياً من الصالحين (نبی اور صالح) — وہ اللہ کے برحق نبی ہوں گے اور صفتِ صلاح و تقویٰ میں بلند مقام رکھنے والے نیک لوگوں میں سے ہوں گے۔
4 مختصر جوابات

قالَ رَبِّ اجعَل لِّي اٰيَةً ؕ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمزًا ؕ وَاذكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَّسَبِّح بِالعَشِيِّ وَالاِبکَارِ

آیت کی رو سے سیدنا زکریا کی کیا نشانی مقرر کی گئی ؟

ترجمہ

زکریا نے کہا: “اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما۔” اللہ نے فرمایا: “نشانی یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے اشارے کے سوا بات نہ کر سکے گا۔ اور اپنے رب کو بہت یاد کرنا اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہنا۔

جواب سیدنا زکریا کی نشانی یہ مقرر کی گئی کہ وہ تین دن تک لوگوں سے زبانی کلام نہیں کر سکیں گے اور صرف اشاروں سے بات کریں گے۔
5 مختصر جوابات

إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۖ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ

آیت کی رو سے سیدنا عیسیٰؑ نے اپنی قوم کو کیا وعظ و نصیحت کی؟

ترجمہ

بےشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، پس اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے

وعظ و نصیحت کے اہم نکات

1 توحید کی دعوت — اللہ کو اپنا اور سب کا اکیلا رب ماننے کا حکم دیا۔
2 عبادت کا حکم — صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرنے پر زور دیا۔
3 صراط مستقیم — اس عقیدے کو سیدھا اور سچا راستہ قرار دیا۔
6 مختصر جوابات

فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ

آیت میں کفار کے متعلق کیا بیان ہوا؟

ترجمہ

سو جو لوگ کافر ہوئے، میں انہیں دنیا اور آخرت میں سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔

کفار کے متعلق بیان

1 دنیا کا عذاب — کفار پر دنیا میں بھی سختی، ذلت، یا اللہ کے حکم سے مومنین کے ہاتھوں شکست اور مصیبتیں آئیں گی۔
2 آخرت کا عذاب — انہیں آخرت میں جہنم کی آگ اور ناقابل برداشت سزا ملے گی۔
3 مددگار کا نہ ہونا — اس عذاب سے بچانے والا یا ان کی مدد کرنے والا کوئی بھی نہیں ہوگا۔

تفصیلی جوابات

7 تفصیلی جوابات

قُل أَطِيعُواْ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

آپ کہہ دیجیے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو بے شک اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔

اہم باتیں

1 حکم — اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کا کہنا ماننا فرض ہے۔
2 انتباہ — حکم نہ ماننا اور منہ پھیرنا کافروں کا طریقہ ہے۔
3 نتیجہ — اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اطاعت سے باہر ہو جائیں
8 تفصیلی جوابات

اِذ قَالَتِ المَلٰٓئِکَۃُ یٰمَریَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنہُ اسمُہُ المَسِیحُ عِیسَی ابنُ مَریَمَ وَجِیہًا فِی الدُّنیَا وَ الاٰخِرَۃِ وَ مِنَ المُقَرَّبِینَ

آیت میں فرشتوں نے سیدہ مریمؑ کو کس بات کی خوشخبری دی؟

ترجمہ

(اور یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اللہ تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے، جو دنیا اور آخرت میں باوقار (عزت والا) اور اللہ کے مقربین میں سے ہوگا۔

خوشخبری کی اہم باتیں

1 اللہ کا کلمہ — پیدا ہونے والی بابرکت ہستی اللہ کے حکم اور اس کے خاص “کلمہ” (کن) سے وجود میں آئے گی۔
2 مبارک نام — ان کا نام 'المسیح عیسیٰ بن مریم' رکھا جائے گا۔
3 عزت و وجاہت — وہ دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں صاحبِ عزت، باوقار اور بلند مرتبہ ہوں گے۔
4 قربِ الٰہی — وہ اللہ تعالیٰ کے خاص مقرب اور برگزیدہ بندوں میں شامل ہوں گے
9 تفصیلی جوابات

قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِىۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِىۡ بَشَرٌ ​ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ​ ؕ اِذَا قَضٰٓى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

(مریم علیہا السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا جبکہ مجھے تو کسی بشر (آدمی) نے چھوا تک نہیں۔ ارشاد ہوا: اللہ اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس سے صرف اتنا کہتا ہے کہ “ہو جا” تو وہ ہو جاتا ہے۔

سورہ آل عمران کی آیت 47 حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش سے متعلق ہے۔ اس کا مفصل مفہوم اور تفسیر درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے

1 حضرت مریم کا تعجب — جب فرشتوں نے حضرت مریم کو ایک پاکیزہ بیٹے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی بشارت دی، تو انہوں نے حیرت کا اظہار کیا۔ ان کا سوال کوئی اعتراض یا شک نہیں تھا، بلکہ ایک فطری انسانی حیرت تھی کہ ظاہری اسباب (شوہر یا مرد کے ملاپ) کے بغیر بچہ کیسے ممکن ہے۔
2 اللہ کی صفتِ تخلیق (یَخْلُقُ) — اللہ تعالیٰ نے مریم علیہا السلام کے تعجب پر جواب دیا کہ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ عام طور پر افزائشِ نسل کے لیے “یَفْعَلُ” (وہ کرتا ہے) کا لفظ آتا ہے، لیکن یہاں “یَخْلُقُ” (وہ پیدا کرتا ہے) فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اسباب کا محتاج نہیں، وہ عدم سے بھی چیزوں کو وجود بخش سکتا ہے۔
3 قانونِ قدرت پر حاکمیت — اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جس طرح اس نے آدم علیہ السلام کو بغیر ماں اور باپ کے پیدا کیا، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کرنا بھی اس کی قدرت میں ہے۔
4 لفظ “کُن” (ہو جا) کی طاقت — آیت کا آخری حصہ اللہ کی مطلق قدرت کو ظاہر کرتا ہے:
5 اللہ کو کچھ بھی پیدا کرنے کے لیے کسی مادی مینوفیکچرنگ یا وقت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
6 جب وہ کسی چیز کا ارادہ (فیصلہ) کر لیتا ہے، تو صرف حکم دیتا ہے “کُن” (ہو جا) اور وہ چیز فوراً وجود میں آ جاتی ہے۔
10 تفصیلی جوابات

وَأُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللَّهِ ۖ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُؤْمِنِينَ

آیت میں سیدنا عیسیٰ کے کن معجزات کا ذکر کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور میں مادرِ زاد اندھے اور سفید داغ والے (کوڑھی) کو تندرست کرتا ہوں، اور اللہ کے حکم سے مُردوں کو زندہ کرتا ہوں، اور جو کچھ تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو وہ تمہیں بتاتا ہوں۔ بے شک اس میں تمہاری بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان والے ہو۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات (آیت کی روشنی میں)

1 مٹی سے پرندہ — مٹی کے پتلے میں پھونک مار کر اللہ کے حکم سے اسے زندہ پرندہ بنانا۔
2 شفا — پیدائشی اندھوں اور کوڑھ (سفید داغ) کے مریضوں کو تندرست کرنا۔
3 مردوں کو زندہ کرنا — اللہ کے اذن سے مردوں کو دوبارہ زندگی دینا۔
4 غیب کی خبریں — لوگوں کے کھائے ہوئے اور گھروں میں چھپے ہوئے کھانوں کے بارے میں بتانا۔
11 تفصیلی جوابات

رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ۔ وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

اے ہمارے رب! ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے نازل کیا اور ہم نے رسول کی پیروی کی، پس تو ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔ اور کافروں نے (عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف) چال چلی اور اللہ نے بھی تدبیر فرمائی، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر فرمانے والا ہے

آیت 53 کا مفہوم — آیت 54 کا مفہوم

1 مومنین اللہ کے حضور عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی وحی اور اس کے رسول پر پورا ایمان رکھتے ہیں، اور التجا کرتے ہیں کہ حق کی گواہی دینے والے نیک لوگوں میں ان کا شمار کیا جائے۔
12 تفصیلی جوابات

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ

آیت میں سیدنا عیسیٰ ؑ کی مثال دیتے ہوئے سیدنا آدمؑ کی حوالے سے کیا بتایا گیا؟

ترجمہ

بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے جسے اللہ نے مٹی سے بنایا پھر اسے فرمایا: “ہوجا” تو وہ فوراً ہوگیا۔

سیدنا آدمؑ کے حوالے سے اہم نکتہ

1 بغیر ماں باپ کے تخلیق — سیدنا آدمؑ کو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ بغیر باپ کے بلکہ بغیر ماں اور باپ دونوں کے محض مٹی سے پیدا کیا۔
2 قدرتِ خداوندی کا مظہر — اگر سیدنا عیسیٰؑ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ “خدا” یا “خدا کے بیٹے” ہیں، تو سیدنا آدمؑ تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے، اس لحاظ سے وہ اس کے زیادہ مستحق ہوتے۔
3 اللہ کا حکم — دونوں کی تخلیق اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ کی قدرت کے لیے کسی روایتی واسطے یا سبب کی ضرورت نہیں، وہ جب کسی چیز کو فرماتا ہے “ہو جا” تو وہ فوراً ہو جاتی ہے

سرگرمیاں

13 سرگرمیاں

نبی کریمﷺ کی محبت کی اہمیت و فضیلت کے حوالے سے تین احادیث لکھیں

نبی کریمﷺ کی محبت ایمان کا حصہ ہے اور اس کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں، جن میں سے تین درج ذیل ہیں:

احادیث مبارکہ

1 پہلی حدیث — حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: “تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”
2 دوسری حدیث — حضرت انس بن مالکؓ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: “جس شخص میں تین باتیں ہوں گی، وہ ایمان کی حلاوت (مزہ) پا لے گا: ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اسے سب سے زیادہ محبوب ہوں، دوسری یہ کہ وہ کسی انسان سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے، اور تیسری یہ کہ وہ کفر میں واپس جانے کو ایسا ناپسند کرے جیسا کہ آگ میں ڈالا جانا ناپسند کرتا ہے۔” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
3 تیسری حدیث — حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریمﷺ سے پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ آپﷺ نے فرمایا: “تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟” اس نے عرض کیا: میں نے اس کے لیے کوئی زیادہ نماز، روزہ یا صدقہ تو تیار نہیں کیا، مگر میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: “تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم نے محبت کی۔” (صحیح بخاری)
14 سرگرمیاں

سیدہ مریمؑ کا واقعہ اور حدیث کی روشنی میں ان کی فضیلت لکھیں

سیدہ مریمؑ بنت عمران اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ، عفیفہ اور پاکباز خاتون تھیں جن کا ذکر قرآن کریم میں بالخصوص اور احادیثِ مبارکہ میں بالعموم انتہائی عقیدت اور عظمت کے ساتھ آیا ہے۔ آپؑ کی ولادت، بچپن، عبادت اور حضرت عیسیٰؑ کی بن باپ پیدائش کا واقعہ اور احادیث میں آپؑ کی فضیلت درج ذیل ہے:

سیدہ مریمؑ کا واقعہ (قرآن و سیرت کی روشنی میں) اور احادیث کی روشنی میں سیدہ مریمؑ کی فضیلت

1 سیدہ مریمؑ کا واقعہ (قرآن و سیرت کی روشنی میں) — نذر اور ولادت — حضرت مریمؑ کی والدہ (حنا بنت فاقود) نے دل میں منت مانی کہ جو بھی اولاد ہوگی اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گی۔ جب بیٹی (مریمؑ) پیدا ہوئی تو اللہ نے اسے شرفِ قبولیت بخشا اور بہترین پرورش فرمائی۔
2 سیدہ مریمؑ کا واقعہ (قرآن و سیرت کی روشنی میں) — کفالتِ زکریاؑ — جب سیدہ مریمؑ بیت المقدس پہنچیں تو کاہنوں میں قرعہ اندازی ہوئی کہ ان کا کفیل کون بنے گا۔ یہ سعادت حضرت زکریا علیہ السلام کے حصے میں آئی، جنہوں نے محراب میں ان کے لیے الگ جگہ بنائی جہاں وہ عبادت کرتی تھیں۔ حضرت زکریاؑ جب بھی محراب میں جاتے، وہاں بے موسم کے پھل پاتے۔
3 سیدہ مریمؑ کا واقعہ (قرآن و سیرت کی روشنی میں) — بشارۃ اور ولادتِ عیسیٰؑ — جب آپؑ عبادت میں مصروف تھیں تو فرشتوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دی۔ تنہائی میں جب دردِ زہ کا مرحلہ آیا تو اللہ نے تروتازہ کھجوریں اور چشمہ جاری کیا۔
4 سیدہ مریمؑ کا واقعہ (قرآن و سیرت کی روشنی میں) — قوم کا امتحان اور معجزہ — جب آپؑ نوزائیدہ بچے (عیسیٰؑ) کو لے کر قوم کے پاس آئیں تو لوگوں نے طعنے دیے۔ مریمؑ نے روزے (خاموشی) کا حکم ہونے پر اشارہ کیا کہ بچے سے پوچھو۔ شیرخوار حضرت عیسیٰؑ نے گہوارے سے بول کر اپنی ماں کی پاکدامنی کی گواہی دی۔
5 احادیث کی روشنی میں سیدہ مریمؑ کی فضیلت — اپنے زمانے کی بہترین عورت — نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَفْضَلُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَأَفْضَلُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ خَدِيجَةُ» (ترجمہ: تمام جہان کی عورتوں میں سب سے افضل مریم بنت عمران ہیں اور اس زمانے کی [یا اس امت کی] سب سے افضل خدیجہ ہیں)۔
6 احادیث کی روشنی میں سیدہ مریمؑ کی فضیلت — شیطان کے اثر سے محفوظ — صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی آدم میں سے ہر بچے کی پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا (چبھتا) ہے جس کی وجہ سے وہ روتا ہے، سوائے مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے۔
7 احادیث کی روشنی میں سیدہ مریمؑ کی فضیلت — قرآن میں منفرد مقام — اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران (آیت 42) میں ارشاد فرمایا: «يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» (اے مریم! بے شک اللہ نے تجھے چن لیا اور تجھے پاک کر دیا اور تمام جہان کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا)۔ قرآن کریم میں کسی اور خاتون کا نام صریحاً بطورِ نام ذکر نہیں کیا گیا۔
15 سرگرمیاں

نذر کا مفہوم اور اس کے احکامات لکھیں

نذر کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی زبان سے کسی نیکی یا عبادت کو اپنے اوپر لازم کر لے، جو شریعت میں فرض یا واجب نہ ہو۔ نذر کے احکامات میں نذر کا منعقد ہونا، اس کا پورا کرنا اور اس کے شرائط شامل ہیں۔

نذر کے احکامات

1 لغوی معنی — کسی کام کو اپنے اوپر لازم کرنا یا وعدہ کرنا۔
2 اصطلاحی معنی — کسی ایسی عبادت یا نیکی (مثلاً روزہ، نماز، صدقہ) کا اپنے اوپر واجب کر لینا جو اصل شریعت میں لازم نہ تھی۔
3 وجوبِ وفا — اگر نذر کسی جائز اور نیک کام کی مانی جائے، تو اسے پورا کرنا واجب اور فرض ہو جاتا ہے۔
4 گناہ کا کام — اگر نذر کسی گناہ یا نافرمانی کے کام کی ہو، تو اسے پورا کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ اس کا پورا کرنا گناہ ہے اور اس پر کفارہ لازم ہوتا ہے۔
5 غیر اللہ کی نذر — غیر اللہ (جیسے بزرگانِ دین، اولیاء یا قبروں) کے نام کی نذر ماننا یا دینا شرعاً حرام اور ناجائز ہے۔
6 شرائطِ صحت — نذر کے درست ہونے کے لیے شرط ہے کہ نذر ماننے والا مسلمان، عاقل، بالغ ہو اور وہ نذر مقصود (یعنی عبادت) ہو۔
16 سرگرمیاں

سیدنا عیسیٰ ؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے حوالے سے اور دنیا میں دوبارہ آمد کے حوالے سے لکھیں

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے اور آخری زمانے میں دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کا عقیدہ قرآن کریم کی صریح آیات اور احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے۔ ان کا آسمان پر اٹھایا جانا اور نزول درج ذیل نکات پر مشتمل ہے:

آسمان پر اٹھایا جانا (رفعِ عیسیٰ) اور دنیا میں دوبارہ آمد (نزولِ عیسیٰ)

1 آسمان پر اٹھایا جانا (رفعِ عیسیٰ) — قرآن کا فیصلہ — اللہ تعالی نے سورۃ النساء (آیت 157-158) میں واضح فرمایا کہ یہودیوں نے آپ کو قتل یا سولی نہیں دی بلکہ اللہ نے آپ کو اپنی طرف اٹھالیا۔
2 آسمان پر اٹھایا جانا (رفعِ عیسیٰ) — زندہ اٹھایا جانا — اسلامی عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم و روح کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور وہیں حیات ہیں۔
3 دنیا میں دوبارہ آمد (نزولِ عیسیٰ) — احادیثِ متواترہ — آپ کا آخری زمانے میں نازل ہونا درجنوں احادیث سے ثابت ہے جنہیں امت کا اجماع حاصل ہے۔
4 دنیا میں دوبارہ آمد (نزولِ عیسیٰ) — مقامِ نزول — صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپ دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے اتریں گے۔
5 دنیا میں دوبارہ آمد (نزولِ عیسیٰ) — کردار اور مقصد — آپ دجال کا خاتمہ کریں گے، شریعتِ محمدی ﷺ کے مطابق فیصلہ کریں گے، اسلام کی تائید کریں گے اور دنیا میں عدل و انصاف قائم کریں گے۔
6 دنیا میں دوبارہ آمد (نزولِ عیسیٰ) — وفات — نزول کے بعد آپ ایک طویل مدت زمین پر گزاریں گے، شادی کریں گے، وفات پائیں گے اور مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کے پہلو میں دفن ہوں گے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.