سیدہ مریمؑ بنت عمران اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ، عفیفہ اور پاکباز خاتون تھیں جن کا ذکر قرآن کریم میں بالخصوص اور احادیثِ مبارکہ میں بالعموم انتہائی عقیدت اور عظمت کے ساتھ آیا ہے۔ آپؑ کی ولادت، بچپن، عبادت اور حضرت عیسیٰؑ کی بن باپ پیدائش کا واقعہ اور احادیث میں آپؑ کی فضیلت درج ذیل ہے:
سیدہ مریمؑ کا واقعہ (قرآن و سیرت کی روشنی میں) اور احادیث کی روشنی میں سیدہ مریمؑ کی فضیلت
1
سیدہ مریمؑ کا واقعہ (قرآن و سیرت کی روشنی میں) — نذر اور ولادت — حضرت مریمؑ کی والدہ (حنا بنت فاقود) نے دل میں منت مانی کہ جو بھی اولاد ہوگی اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گی۔ جب بیٹی (مریمؑ) پیدا ہوئی تو اللہ نے اسے شرفِ قبولیت بخشا اور بہترین پرورش فرمائی۔
2
سیدہ مریمؑ کا واقعہ (قرآن و سیرت کی روشنی میں) — کفالتِ زکریاؑ — جب سیدہ مریمؑ بیت المقدس پہنچیں تو کاہنوں میں قرعہ اندازی ہوئی کہ ان کا کفیل کون بنے گا۔ یہ سعادت حضرت زکریا علیہ السلام کے حصے میں آئی، جنہوں نے محراب میں ان کے لیے الگ جگہ بنائی جہاں وہ عبادت کرتی تھیں۔ حضرت زکریاؑ جب بھی محراب میں جاتے، وہاں بے موسم کے پھل پاتے۔
3
سیدہ مریمؑ کا واقعہ (قرآن و سیرت کی روشنی میں) — بشارۃ اور ولادتِ عیسیٰؑ — جب آپؑ عبادت میں مصروف تھیں تو فرشتوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دی۔ تنہائی میں جب دردِ زہ کا مرحلہ آیا تو اللہ نے تروتازہ کھجوریں اور چشمہ جاری کیا۔
4
سیدہ مریمؑ کا واقعہ (قرآن و سیرت کی روشنی میں) — قوم کا امتحان اور معجزہ — جب آپؑ نوزائیدہ بچے (عیسیٰؑ) کو لے کر قوم کے پاس آئیں تو لوگوں نے طعنے دیے۔ مریمؑ نے روزے (خاموشی) کا حکم ہونے پر اشارہ کیا کہ بچے سے پوچھو۔ شیرخوار حضرت عیسیٰؑ نے گہوارے سے بول کر اپنی ماں کی پاکدامنی کی گواہی دی۔
5
احادیث کی روشنی میں سیدہ مریمؑ کی فضیلت — اپنے زمانے کی بہترین عورت — نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَفْضَلُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَأَفْضَلُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ خَدِيجَةُ» (ترجمہ: تمام جہان کی عورتوں میں سب سے افضل مریم بنت عمران ہیں اور اس زمانے کی [یا اس امت کی] سب سے افضل خدیجہ ہیں)۔
6
احادیث کی روشنی میں سیدہ مریمؑ کی فضیلت — شیطان کے اثر سے محفوظ — صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی آدم میں سے ہر بچے کی پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا (چبھتا) ہے جس کی وجہ سے وہ روتا ہے، سوائے مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے۔
7
احادیث کی روشنی میں سیدہ مریمؑ کی فضیلت — قرآن میں منفرد مقام — اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران (آیت 42) میں ارشاد فرمایا: «يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» (اے مریم! بے شک اللہ نے تجھے چن لیا اور تجھے پاک کر دیا اور تمام جہان کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا)۔ قرآن کریم میں کسی اور خاتون کا نام صریحاً بطورِ نام ذکر نہیں کیا گیا۔