گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 7: سبق 7: سورۃ البقرہ (آیات 243 تا 260) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ ۔

آیت کریمہ میں موت کے ڈر سے گھروں سے نکلنے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا معاملہ فرمایا ؟

ترجمہ

کیا تم نے ان لوگوں کے حال پر غور نہیں کیا جو موت کے ڈر کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے، تو اللہ نے ان سے کہا کہ مرجاؤ! پھر اللہ نے انہیں زندہ کر دیا۔ بیشک اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

اللہ تعالیٰ کا معاملہ

1 موت کا حکم — اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ایک ساتھ موت واقع کرنے کا حکم دیا۔
2 دوبارہ زندگی — اس کے بعد ان کی توبہ، دعا یا عبرت کے لیے انہیں دوبارہ زندہ کر کے ایک نئی زندگی عطا فرمائی۔
3 حکمت — اس واقعے کے ذریعے یہ حقیقت واضح کی گئی کہ کوئی بھی شخص تقدیر اور موت سے بھاگ کر کہیں پناہ نہیں لے سکتا، اور زندگی و موت کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔
2 مختصر جوابات

وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔

آیت میں کیا حکم دیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور اللہ کی راہ میں لڑو اور جان لو کہ اللہ سب کچھ سنتا، جانتا ہے۔

1 جہاد کا حکم — مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ محض موت کے خوف سے یا زندگی کی محبت میں میدانِ جنگ یا حق کی راہ میں جدوجہد سے منہ نہ موڑیں۔
2 خوفِ خدا اور آگہی — اس بات کا یقین دلایا گیا ہے کہ انسان کی موت اور زندگی کا فیصلہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور وہ بندوں کی نیتوں، باتوں اور اعمال کو خوب سنتا اور جانتا ہے۔
3 مختصر جوابات

أَلَم تَرَ إِلَى ٱلمَلَإِ مِن بَنِي إِسرَٰءِيلَ مِن بَعدِ مُوسَىٰ إِذ قَالُواْ لِنَبِيِّ لَّهُمُ ٱبعَثۡ لَنَا مَلِكٗا نَّقَاتِل فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ قَالَ هَل عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُواْۖ قَالُواْ وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَد أُخْرِجْنَا مِن دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَاۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقِتَالُ تَوَلَّواْ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنْهُمْ وَٱللَّهُ عَلِيمُ بِٱلظَّٰلِمِينَ ۔

آیت کی رو سے بنی اسرائیل کے سرداروں نے اپنے نبی سے کیا مطالبہ کیا نیز: آیت کے مطابق بنی اسرائیل نے قتال فرض ہو جانے پر کیا طرز عمل اختیار کیا ؟

ترجمہ

کیا آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو نہیں دیکھا، جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دیں تاکہ ہم اللہ کی راہ میں قتال کریں؟ نبی نے فرمایا: کیا ممکن ہے کہ اگر تم پر قتال فرض کر دیا جائے تو تم نہ لڑو؟ انہوں نے کہا: ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں، جب کہ ہمیں ہمارے گھروں اور بچوں سے نکال دیا گیا ہے؟ پھر جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو ان میں سے چند کے سوا سب نے منہ پھیر لیا، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

آیت کی رو سے بنی اسرائیل کا مطالبہ اور ردعمل اور قتال فرض ہونے پر بنی اسرائیل کا طرز عمل

1 آیت کی رو سے بنی اسرائیل کا مطالبہ اور ردعمل — بادشاہ کا تقرر — بنی اسرائیل کے سرداروں نے عزم ظاہر کیا کہ ان کے لیے ایک حاکم یا بادشاہ بنایا جائے۔
2 آیت کی رو سے بنی اسرائیل کا مطالبہ اور ردعمل — جہاد کا عزم — مقصد یہ بیان کیا کہ وہ اس بادشاہ کے تحت اللہ کے راستے میں دشمن سے جنگ کریں گے۔
3 آیت کی رو سے بنی اسرائیل کا مطالبہ اور ردعمل — نبی کا اندیشہ — پیغمبر نے ان کی کمزوری بھانپتے ہوئے فرمایا کہ تم سے بعید نہیں کہ وقت آنے پر تم جہاد سے منہ موڑ لو۔
4 آیت کی رو سے بنی اسرائیل کا مطالبہ اور ردعمل — قوم کا اصرار — انہوں نے کہا کہ ہم پر تو ظلم ہوا ہے، ہمارے وطن اور بچے چھینے گئے ہیں، ہم کیوں نہیں لڑیں گے۔
5 آیت کی رو سے بنی اسرائیل کا مطالبہ اور ردعمل — حقیقت کا ظہور — جب باقاعدہ جہاد کا حکم آیا تو تھوڑے سے مخلص لوگوں کے علاوہ تمام لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔
6 قتال فرض ہونے پر بنی اسرائیل کا طرز عمل — آیت کے مطابق، جب قتال کا مطالبہ پورا ہوا اور اللہ کی طرف سے جہاد فرض کر دیا گیا، تو بنی اسرائیل نے سخت بزدلی کا مظاہرہ کیا۔ چند مخلصین کے علاوہ، جنہوں نے پہلے بڑے دعوے کیے تھے، سب نے اپنے وعدے سے انحراف کیا اور پیٹھ پھیر لی۔
4 مختصر جوابات

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا ۖ قَالُوا أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ۚ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

آیت میں اللہ کی کون سی صفات بیان کی گئی ہیں ؟

ترجمہ

اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا: “بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے۔” وہ کہنے لگے: “اسے ہم پر حکومت کا حق کیسے ہو گیا جبکہ ہم اس سے زیادہ بادشاہی کے مستحق ہیں اور اسے مال کی وسعت بھی نہیں دی گئی؟” نبی نے فرمایا: “بیشک اللہ نے اسے تم پر چن لیا ہے اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ عطا کی ہے۔ اور اللہ جسے چاہے اپنا ملک دیتا ہے، اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے

آیت میں بیان کردہ اللہ کی صفات

1 وَاسِعٌ (وسعت والا) — یعنی اللہ تعالیٰ کا فضل، رحمت، قدرت اور خزانے لامحدود اور بہت وسیع ہیں۔
2 عَلِيْمٌ (سب کچھ جاننے والا) — یعنی وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ کون منصب اور اقتدار کا اہل ہے اور کون نہیں۔
3 يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ” واللہ — اس کے علاوہ اس آیت میں اللہ کی صفتِ مقتدر و مختار (بادشاہی عطا کرنے والا) بھی بیان ہوئی ہے کہ اللہْ (جسے چاہے اپنی سلطنت عطا فرماتا ہے
5 مختصر جوابات

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُؕ-وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍۙ-لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لکِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ

آیت میں اللہ کے کس فضل کا بیان ہے ؟

ترجمہ

تو انہوں نے اللہ کے حکم سے ان کو شکست دی، اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا، اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا۔ اور اگر اللہ لوگوں میں ایک کے ذریعے دوسرے کو دفع نہ کرتا، تو ضرور زمین تباہ ہو جاتی، لیکن اللہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے۔

اللہ کے کس فضل کا بیان ہے؟

جواب اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس عمومی اور دائمی فضل کا بیان ہے کہ وہ زمین کو ظلم، شر اور فساد سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک طاقتور یا حق پر مائل گروہ کے ذریعے دوسرے سرکش اور ظالم گروہ کا دفاع (خاتمہ یا رواداری کا استصال) فرماتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ دفاعی قانون اور نظام نہ ہوتا (کہ برے لوگوں کا ہاتھ روکنے کے لیے اچھے لوگوں کو قوت دی جائے)، تو زمین پر ظالموں کا غلبہ ہو جاتا اور پوری دنیا فساد اور بربادی کا شکار ہو جاتی۔ اس کے علاوہ اس میں حضرت داؤد علیہ السلام کو سلطنت، حکمت اور نبوت و علم کی نعمت سے سرفراز فرمانے کے خاص فضل کا ذکر بھی شامل ہے۔
6 مختصر جوابات

لَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

آیت کے مطابق سیدنا ابراہیمؑ کے کس سوال سے کافر مبہوت ہو گیا؟

ترجمہ

کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا اس بات پر کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی تھی جب ابراہیم نے کہا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے تو وہ بولا میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں ابراہیم نے کہا کہ اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال لا پس وہ کافر ہکا بکا (مبھوت) رہ گیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

جواب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اس چیلنج پر کافر (نمرود) مبہوت ہو گیا کہ مشرق سے نکالتا ہے، تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا!

تفصیلی جوابات

7 تفصیلی جوابات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مَّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو اس دن سے پہلے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوستی اور نہ سفارش، اور کاپی ہی ظالم ہیں۔

مفہوم

جواب اللہ تعالیٰ اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ قیامت کے دن سے پہلے پہلے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو۔ اس دن نہ تو مال کے ذریعے کوئی نیکی خرید سکو گے، نہ کوئی دوست کام آئے گا، اور نہ ہی کسی کی سفارش چلے گی۔ جو لوگ اللہ کے حکم کا انکار کرتے ہیں، وہی اصل ظالم ہیں۔
8 تفصیلی جوابات

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا ۚ قَالُوا أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

آیت کی رو سے بنی اسرائیل نے طالوت کو بادشاہ بنائے جانے پر کیا اعتراض کیا اور اس کا کیا جواب دیا؟

ترجمہ

اور ان سے ان کے نبی نے کہا: “بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔” وہ بولے: “اس کو ہم پر بادشاہی کا حق کیسے پہنچتا ہے، جبکہ ہم اس سے زیادہ بادشاہی کے مستحق ہیں اور اسے مال کی فراوانی بھی نہیں دی گئی؟” نبی نے فرمایا: “بیشک اللہ نے اسے تم پر منتخب فرما لیا ہے اور اسے علم اور جسم میں وسعت (طاقت) زیادہ عطا کی ہے۔ اور اللہ اپنی بادشاہی جسے چاہے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے

بنی اسرائیل کا اعتراض اور اللہ کی طرف سے دیا گیا جواب

1 بنی اسرائیل کا اعتراض — حقِ حکمرانی کا دعویٰ — انہوں نے کہا کہ ہم طالوت کی نسبت بادشاہی کے زیادہ مستحق ہیں (ممکنہ طور پر وہ یہ سمجھتے تھے کہ بادشاہت یہوداہ یا لاوی خاندان کا استحقاق ہے جبکہ طالوت بنجمن کے قبیلے سے تھے اور عام آدمی تھے)۔
2 بنی اسرائیل کا اعتراض — مال کی کمی — انہوں نے طالوت کے غریب ہونے کا طعنہ دیا کہ ان کے پاس اتنی کثرت سے مال و دولت نہیں ہے جو ایک بادشاہ کے شایانِ شان ہو۔
3 اللہ کی طرف سے دیا گیا جواب — الہی انتخاب — نبی نے واضح کیا کہ طالوت کا تقرر کسی خاندانی یا مادی بنیاد پر نہیں بلکہ خود اللہ کے فیصلے کے تحت ہوا ہے اور اللہ نے انہیں تم پر چن لیا ہے۔
4 اللہ کی طرف سے دیا گیا جواب — علمی اور جسمانی برتری — اللہ نے طالوت کو دو ایسی اہم صلاحیتیں کثرت سے دی ہیں جو جنگ اور قیادت کے لیے ضروری ہیں: ایک “علم و حکمت” اور دوسری “جسمانی توانا و مضبوط ساخت”
5 اللہ کی طرف سے دیا گیا جواب — مالی معیار کی نفی — بادشاہی اور اقتدار کا دارومدار مال و دولت پر نہیں ہوتا، بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک اور اقتدار عطا کرتا ہے، اور اس کا یہ فیصلہ اس کے علم اور حکمت پر مبنی ہوتا ہے
9 تفصیلی جوابات

تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم آپ پر سچائی کے ساتھ پڑھتے ہیں اور بے شک آپ یقیناً رسولوں میں سے ہیں۔

مفہوم

جواب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو تسلی دی ہے اور یہ بیان فرمایا ہے کہ قرآن پاک کی یہ آیات بالکل سچی ہیں جنہیں اللہ سچے دلائل کے ساتھ آپ کو سنا رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ آپ اللہ کے برحق اور سچے رسول ہیں۔
10 تفصیلی جوابات

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ءايَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلتَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌۭ مِّمَّا تَرَكَ ءَالُ مُوسَىٰ وَءَالُ هَـٰرُونَ تَحْمِلُهُ ٱلْمَلَٓئِكَةُ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَايَةًۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۔

آیت میں جناب طالوت کی بادشاہت کی کیا نشانی بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا: بے شک اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں جو موسیٰ اور ہارون کی اولاد چھوڑ گئی تھی، اسے فرشتے اٹھا کر لائیں گے۔ بے شک اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان والے ہو

آیت میں جناب طالوت (ساؤل) کی تقرری اور بادشاہت کی تصدیق کے لیے جو واضح معجزاتی نشانی بتائی گئی، وہ “تابوتِ سکینہ” (وہ مقدس صندوق جو بنی اسرائیل سے دشمنوں نے چھین لیا تھا) کا واپس آنا تھا۔ اس نشانی کی درج ذیل خصوصیات بیان کی گئیں۔

طالوت کی بادشاہت کی نشانی

1 سکینت (طمانیت) — اس صندوق میں اللہ کی طرف سے دلوں کا چین اور سکون تھا۔
2 تبرکات — اس میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خاندان کے چھوڑے ہوئے مقدس تبرکات (جیسے عصا اور تورات کے تختیاں یا ان کے آثار) موجود تھے۔
3 فرشتوں کا اٹھانا — اس تابوت کو خود فرشتے اٹھا کر بنی اسرائیل یا طالوت کے پاس لائیں گے
11 تفصیلی جوابات

اللہ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اللہ ان لوگوں کا دوست اور مددگار ہے جو ایمان لائے ہیں، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے، اور جو لوگ کفر کرتے ہیں ان کے مددگار طاغوت (شیطان اور جھوٹے معبود) ہیں، جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں۔ یہی لوگ آگ (جہنم) والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

مفہوم

1 اللہ کی دوستی اور ہدایت — اللہ ایمان لانے والوں کا ساتھی ہے۔ وہ انہیں جہالت، گمراہی اور گناہوں کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت اور اسلام کی روشنی میں لاتا ہے۔
2 طاغوت کا فریب — کافروں کے حامی شیطان اور سرکش طاقتیں ہیں، جو انسان کو حق کی روشنی سے دور کر کے کفر اور نافرمانی کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔
3 انجام — جو لوگ اندھیروں کا راستہ چنتے ہیں اور طاغوت کی پیروی کرتے ہیں، ان کا آخری ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
12 تفصیلی جوابات

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أنَّهُمْ مُلَاقُو اللَّهِ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ

آیت کے مطابق جناب طالوت کے لشکر کا امتحان کس طرح لیا گیا؟

ترجمہ

جب طالوت لشکر کو لے کر روانہ ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اللہ ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے، جو اس کا پانی پئے گا وہ مجھ سے نہیں ہوگا اور جو اسے نہ چکھے گا وہ مجھ سے ہوگا، مگر جو ہاتھ سے ایک چلو بھر لے۔

حضرت طالوت کے لشکر کا امتحان درج ذیل طریقوں سے لیا گیا:

امتحان کی تفصیل

1 نہر سے آزمائش — راستے میں آنے والی ایک نہر سے پانی پینے پر پابندی لگائی گئی۔
2 شرطِ اطاعت — صرف ایک چُلّو (ہاتھ) بھر پانی پینے کی اجازت تھی، پیٹ بھر کر پینے والا وفادار نہ سمجھا گیا۔
3 نتیجہ — اکثر لوگ صبر نہ کر سکے اور نہر سے پانی پی لیا، صرف چند وفادار افراد باقی رہے

سرگرمیاں

13 سرگرمیاں

سورۃ البقرہ میں جناب طالوت اور جالوت کے واقعہ کے اہم نکات لکھیں

سورۃ البقرہ (آیات 246 تا 251) میں حضرت طالوت اور جالوت کا واقعہ بیان ہوا ہے، جس کے اہم نکات میں بنی اسرائیل کی بادشاہ کا مطالبہ، طالوت کا انتخاب، اور حضرت داؤد کا جالوت کو قتل کرنا شامل ہیں۔

اہم نکات

1 بادشاہ کا مطالبہ — بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کریں تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔
2 طالوت کا انتخاب — اللہ نے حضرت طالوت کو ان کا بادشاہ بنایا۔ بنی اسرائیل نے اعتراض کیا کہ ان کے پاس مال و دولت نہیں ہے، مگر نبی نے بتایا کہ اللہ نے انہیں علم اور جسمانی طاقت میں برتری دی ہے۔
3 نہری آزمائش — طالوت نے لشکر کو حکم دیا کہ ایک نہر سے پانی نہ پئیں، جو صرف ایک چلو بھرے گا وہ ساتھ رہے گا؛ زیادہتر لوگ امتحان میں فیل ہو گئے اور تھوڑے سے ایماندار لوگ ساتھ آگے بڑھے۔
4 جالوت سے مقابلہ — جالوت جو کہ طاقتور دشمن تھا، اس کے مقابلے میں طالوت کے ساتھ صرف مٹھی بھر صابر مومنین رہ گئے۔
5 فتح اور داؤدؑ کا کردار — طالوت کے لشکر میں شامل حضرت داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو شکست دی اور اسے قتل کیا، جس کے بعد اللہ نے انہیں بادشاہی اور حکمت عطا کی۔
14 سرگرمیاں

آیت الکرسی میں درج صفات باری تعالیٰ اور اس کے فضائل لکھیں نیز کن مواقعوں پر اسے پڑھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے؟

آیت الکرسی قرآن مجید کی سب سے عظیم اور بابرکت آیت ہے، جو توحید، اللہ تعالیٰ کی کامل حیات، قیومیت، اور اس کی لامتناہی قدرت و عظمت کے انمول اور بنیادی اصولوں پر مشتمل ہے۔

1 صفات باری تعالیٰ — لا إله إلا هو — اللہ ہی معبودِ برحق ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
2 صفات باری تعالیٰ — الحي القيوم — وہ ہمیشہ زندہ (کامل حیات والا) اور پوری کائنات کو اپنے حکم سے قائم رکھنے والا ہے۔
3 صفات باری تعالیٰ — لا تأخذه سنة ولا نوم — اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، وہ ہر وقت کائنات کی نگرانی کرتا ہے۔
4 صفات باری تعالیٰ — مالکیتِ مطلقہ — زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے۔
5 صفات باری تعالیٰ — اذنِ شفاعت — کوئی اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کی سفارش نہیں کر سکتا۔
6 صفات باری تعالیٰ — محیطِ علم — وہ تمام اگلی اور پچھلی چیزوں (ظاہر و پوشیدہ) کا مکمل علم رکھتا ہے۔
7 صفات باری تعالیٰ — وسیع کرسی — اس کی کرسی (سلطنت و اقتدار) آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔
8 صفات باری تعالیٰ — لا یئوده حفظهما — زمین و آسمان کی نگہبانی اسے ذرا بھی نہیں تھکاتی۔
9 صفات باری تعالیٰ — العلی العظیم — وہ سب سے بلند اور بہت عظمت و جلال والا ہے ۔
10 فضائلِ آیت الکرسی — قرآن کی سردار — یہ قرآن کریم کی تمام آیات میں سب سے زیادہ عظمت اور فضلیت والی آیت ہے۔
11 فضائلِ آیت الکرسی — جنت کی بشارت — ہر فرض نماز کے بعد اس کی تلاوت کرنے والے کے جنت میں داخل ہونے کے راستے میں صرف موت حائل ہوتی ہے۔
12 فضائلِ آیت الکرسی — شیطان سے حفاظت — یہ پڑھنے والے کو شیاطین، برائیوں اور آفتوں سے محفوظ رکھتی ہے۔
13 اہم مواقع جن پر پڑھنے کی فضیلت ہے — ہر فرض نماز کے بعد — باقاعدگی سے ہر فرض نماز کے عقب میں پڑھنا۔
14 اہم مواقع جن پر پڑھنے کی فضیلت ہے — سوتے وقت — رات کو بستر پر لیٹتے وقت پڑھنا تاکہ صبح تک اللہ کی حفاظت اور شیطان سے پناہ حاصل رہے۔
15 اہم مواقع جن پر پڑھنے کی فضیلت ہے — صبح و شام کے اذکار — دن اور رات کے آغاز پر حصار اور حفاظت کی نیت سے پڑھنا ۔
15 سرگرمیاں

عروہ الوثقیٰ سے کیا مراد ہے؟

عروہ الوثقیٰ سے مراد مضبوط کڑا” یا “مضبوط حلقہ” کے ہیں۔ قرآنی اصطلاح میں اس سے مراد لا الہ الا اللہ (کلمہ طیبہ)، ایمان اور اسلام ہے، جیسا کہ سورۃ البقرۃ اور سورۃ لقمان میں آیا ہے کہ جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور اس مضبوط کڑے کو تھام لے، اس کا ناطہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔

لغوی اور قرآنی مفہوم

1 عروہ — اس کے معنی دستہ، حلقہ یا قابلِ اعتماد سہارے کے ہیں۔
2 وثقیٰ — یہ مضبوط اور پکی چیز کو کہتے ہیں۔
3 مفسرین کی رائے — زیادہ تر مفسرین کے نزدیک اس سے مراد خالص توحید، دینِ اسلام اور اللہ کا سچا رسی (دین) ہے۔
16 سرگرمیاں

دین میں کوئی زبردستی نہیں وضاحت کریں

دین میں کوئی زبردستی نہیں” (لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ) کا مطلب یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے کے لیے کسی پر جبر یا زور نہیں ڈالا جاتا، کیونکہ حق اور باطل کا راستہ بالکل واضح ہو چکا ہے، اور ایمان انسان کے دل کی رضا اور یقین کا نام ہے۔

بنیادی مفہوم اور اہم نکات

1 بنیادی مفہوم — دل کا یقین — اسلام زبردستی نہیں بلکہ عقل، دل کی تسلی اور سچی سوچ سے مانا جاتا ہے۔
2 بنیادی مفہوم — واضح راستہ — نیکی (ہدایت) اور بدی (گمراہی) کے راستے الگ الگ ظاہر ہو چکے ہیں، اب انسان خود فیصلہ کرتا ہے۔
3 اہم نکات — شروع میں آزادی — کسی کافر کو زبردستی کلمہ پڑھا کر مسلمان نہیں بنایا جا سکتا.
4 اہم نکات — اختیار اور ذمہ داری — اللہ نے انسان کو عقل دی ہے اور اچھے برے کا فرق سمجھایا ہے، پھر فیصلہ اسی پر چھوڑا ہے۔
17 سرگرمیاں

کتنی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آگئیں تاریخی مثالوں سے وضاحت کریں

تاریخ میں کئی بار چھوٹی جماعتوں یا اقلیتوں نے نظم، اتحاد اور حکمت عملی کے ذریعے بڑی جماعتوں کو شکست دی، جن میں بدر کی جنگ، روم اور فارس کی جنگیں، اور ویتنام کی جنگ شامل ہیں۔

تاریخی مثالیں

1 غزوہ بدر (624ء) — مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی جبکہ قریش کا لشکر 1000 کے قریب تھا۔ بہتر نظم و ضبط اور عزم کی وجہ سے چھوٹی مسلم جماعت نے فتح حاصل کی
2 ترک اور منگول فتوحات — ابتدائی دور میں خانہ بدوش قبائل تعداد میں کم ہونے کے باوجود اپنی گھڑ سواری اور جنگی مہارت سے بڑی سلطنتوں پر غالب آئے
3 ویتنام جنگ (1955–1975ء) — ویتنام کے گوریلا جنگجوؤں نے محدود وسائل کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت (امریکہ) کو پسپا کیا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.