گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 6: سبق 6: سورۃ البقرہ (آیات 211 تا 242) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔

آیت میں خیر اور شر کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناپسند ہے، اور بعید نہیں کہ ایک چیز تمہیں ناپسند ہو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور بعید نہیں کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہ تمہارے حق میں بری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

آیت میں خیر اور شر کا بیان

1 ظاہری ناپسندیدگی — انسان کو بعض اوقات جنگ یا تکلیف دہ حکم مشکل اور برا لگتا ہے۔
2 حقیقی بہتری — جو چیز انسان کو ناپسند ہوتی ہے (جیسے جہاد یا مشقت)، اللہ کے نزدیک اس میں بہت زیادہ خیر اور بھلائی ہو سکتی ہے۔
3 ظاہری پسندیدگی — انسان کو بعض چیزیں اچھی اور محبوب لگتی ہیں (جیسے آرام یا مال ودولت کی محبت میں جہاد سے پیچھے رہنا)۔
4 حقیقی نقصان — وہی پسندیدہ چیز انسان کے لیے شر اور نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
5 الہی علم — انسان کا علم محدود ہے، جبکہ اللہ ہر انجام کو جانتا ہے، اس لیے اس کا ہر فیصلہ بندے کے لیے سراسر خیر ہوتا ہے۔
2 مختصر جوابات

یسٔلُونَكَ عَنِ ٱلشَّهْرِ ٱلْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ ۖ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَكُفْرٌۢ بِهِۦ وَٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِۦ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ ٱللَّهِ ۚ وَٱلْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ ٱلْقَتْلِ ۗ وَلَا يَزَالُونَ يُقَتِلُونَكُمْ حَتَّىٰ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ ٱسْتَطَعُوا۟ ۚ وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِۦ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمالُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْاخِرَةِ ۖ وَأُولئِكَ أَصْحبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ

آیت میں کفار کا مسلمانوں سے کس حد تک لڑتے رہنے کا ذکر ہے؟

ترجمہ

لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں جنگ کرنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ فرما دیجیے: اس مہینے میں جنگ کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ لیکن اللہ کی راہ سے روکنا، اس کے ساتھ کفر کرنا، مسجد حرام سے (لوگوں کو) روکنا اور اس کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔ اور فتنہ انگیزی قتل سے بھی بڑھ کر سخت گناہ ہے۔ اور یہ کافر ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر وہ بس چل سکیں تو تمہیں تمہارے دین سے پھیر کر واپس کر دیں۔ اور جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے اور مرتے وقت کافر ہو، تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جاتے ہیں، اور یہی لوگ دوزخ والے ہیں، ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

1 کفار کا اصل مقصد — ان کی جنگ صرف زمین یا مال کے لیے نہیں، بلکہ مسلمانوں کے ایمان کو ختم کرنے کے لیے ہے
2 مسلسل دشمنی — وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور مسلسل لڑتے رہیں گے جب تک مسلمانوں کو مرتد (دین سے پھرنے والا) نہ بنا دیں۔
3 شرط (اگر ان کا بس چلے) — آیت میں الفاظ ہیں “إِنِ اسْتَطَاعُوا” یعنی اگر وہ اس بات کی طاقت اور بس رکھتے ہوں، تو وہ تمہیں کافر بنا کر ہی دم لیں۔
3 مختصر جوابات

وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ ۗ وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا ۚ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ ۗ أُولَٰئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ ۖ وَاللَّهُ يَدْعُ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ ۖ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

آیت میں مشرک عورتوں سے نکاح کے بارے میں کیا ہدایت دی گئی ہے؟

ترجمہ

“اور (مومنو!) مشرک عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا، کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے، اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح مومن عورتوں کا) مشرک مردوں سے نکاح نہ کرنا جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں، کیونکہ مشرک مرد خواہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے، اس سے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے جنت اور بخشش کی طرفلاتا ہے اور لوگوں کے لیے اپنے احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

مشرک عورتوں سے نکاح کے بارے میں ہدایات

1 نکاح کی ممانعت — مشرک (بت پرست یا غیر توحید پرست) عورتوں سے اس وقت تک نکاح کرنا حرام ہے جب تک وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو کر ایمان نہ لے آئیں۔
2 ظاہری حسن پر ترجیح — اگر کوئی مشرک عورت اپنے حسن و جمال یا مال و دولت کی وجہ سے اچھی بھی معلوم ہو، تب بھی ایک ایماندار باندی (لونڈی) اس مشرکہ سے نکاح میں بدرجہا بہتر ہے۔
3 بنیادی سبب — مشرک لوگ اپنے عقائد و افکار کے ذریعے جہنم کی طرف لے جانے والے اعمال کا سبب بنتے ہیں، جبکہ نکاح کا مقصد دین اور آخرت کی سلامتی ہونا چاہیے۔
4 مختصر جوابات

نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلَاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ

آیت میں مؤمنین کو کیا نصیحت کی گئی ہے؟

ترجمہ

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں، پس اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ، اور اپنے واسطوں کچھ آگے بھیجو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم کو اس سے ملنا ہے، اور ایمان والوں کو خوشخبری سنا دو۔

نصیحتیں

1 گھر بار اور نسل — بیویوں کو نسل کی کھیتی قرار دیا گیا ہے جہاں سے اولاد پیدا ہوتی ہے۔
2 طریقہ کار — اپنی خواہش کے مطابق باقاعدہ اور جائز طریقے سے اس تعلق کو استعمال کریں۔
3 آخرت کی تیاری — اچھے اعمال آگے بھیجیں تاکہ اللہ کے حضور کام آئیں۔
4 تقویٰ — اللہ سے ڈرتے رہیں اور یاد رکھیں کہ ایک دن اسی کے پاس جانا ہے۔
5 مختصر جوابات

فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِن بَعدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوجًا غَيرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَومٖ يَعلَمُونَ

آیت کی رو سے شوہر کی جانب سے بیوی کو تیسری طلاق دیے جانے کے بعد کیا حکم بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

“پھر اگر وہ (شوہر اسے تیسری بار) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے، پھر اگر وہ (دوسرا شوہر بھی اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے کی طرف واپس لوٹ آئیں (بشرطیکہ) دونوں یہ سمجھیں کہ وہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں وہ ان لوگوں کے لیے واضح کرتا ہے جو علم رکھتے ہیں ۔

تیسری طلاق کے بعد کا حکم

1 حرمتِ غلیظہ — دو طلاقوں کے بعد جب شوہر بیوی کو تیسری طلاق دے دیتا ہے، تو وہ عورت اس پر سختی سے حرام ہو جاتی ہے اور وہ پہلا شوہر بغیر حلالہ کے اس سے رجوع یا نکاح نہیں کر سکتا۔
2 شرطِ حلالہ — عورت کا اس پہلے شوہر کے لیے دوبارہ حلال ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ وہ قانوناً کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور وہ دوسرا شوہر اپنی مرضی و رغبت سے صحبت کے بعد اسے طلاق دے دے یا فوت ہو جائے۔
3 دوبارہ نکاح کی اجازت — دوسرے شوہر کی طلاق کے بعد اگر پہلا شوہر اور وہ عورت باہم یہ محسوس کریں کہ وہ اب میاں بیوی کے حقوق اور اللہ کی مقرر کردہ حدیں ٹھیک طریقے سے قائم رکھ سکیں گے، تو ان کا آپس میں دوبارہ نکاح کر لینا جائز اور گناہ سے پاک ہے۔
6 مختصر جوابات

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ ۚ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ ۗ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَشُورَى فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ۗ وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْكُمْ بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعلموا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

آیت میں رضاعت ( بچے کو دودھ پلانے) کی مدت کتنی بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس شخص کے لیے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے۔ اور جس کا بچہ ہے (یعنی باپ) اس پر دستور کے مطابق ان ماؤں کا کھانا اور کپڑا ذمہ ہے۔ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی۔ نہ کسی ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور نہ اس باپ کو اس کے بچے کی وجہ سے۔ اور وارث پر بھی اسی طرح کی ذمہ داری ہے۔ پھر اگر دونوں باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنے بچوں کو کسی اور سے دودھ پلوانا چاہو تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں،

مدت رضاعت کے اہم احکام

1 مکمل مدت — دو سال
2 باہمی رضامندی سے پہلے دودھ چھڑانا — اگر ماں باپ باہمی مشورے اور رضا مندی سے دو سال سے پہلے بھی دودھ چھڑانا چاہیں تو اس کی اجازت ہے۔
3 نان نفقہ — بچے کے باپ پر ماں کا خرچہ اور لباس معروف طریقے سے لازم ہے۔
7 مختصر جوابات

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ ۔

آیت میں مطلقہ خواتین کے حوالے سے پرہیز گاروں کو کیا تعلیم دی گئی ہے؟

ترجمہ

اور طلاق دی گئی عورتوں کے لیے بھی دستور کے مطابق کچھ نہ کچھ سامان (نان نفقہ) دینا لازم ہے، پرہیزگاروں پر یہ ایک حق ہے۔

مطلقہ خواتین کے حوالے سے پرہیزگاروں کے لیے تعلیم

1 حسنِ سلوک اور نفقہ — طلاق یافتہ عورتوں کو رخصت کرتے وقت یا عدت کے دوران ان کی مالی حالت کا خیال رکھتے ہوئے معروف طریقے سے خرچہ یا سامان دینا لازم کیا گیا ہے۔
2 تقویٰ کا تقاضا — اس عمل کو متقی اور پرہیزگار لوگوں پر حق اور ذمہ داری قرار دیا گیا ہے، تاکہ طلاق کے بعد عورت بے سہارا نہ ہو اور باوقار طریقے سے زندگی گزار سکے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

يَسْلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ ۖ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ ۚ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۗ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّىٰ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا ۚ وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ وَأُولَئِكَ أَكْبَرُ النَّارِ هُمْ فِيهَاتُ خَالِدُونَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

(اے نبی!) لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں قتال کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ فرما دیجئے کہ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے، لیکن اللہ کی راہ سے روکنا، اس کا انکار کرنا، مسجدِ حرام سے روکنا اور اہل مسجد کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔ فتنہ انگیزی قتل سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ کفار تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے تاکہ تمہیں دین سے پھیر دیں، اگر وہ طاقت رکھیں۔ تم میں سے جو دین سے پھر جائے اور کفر کی حالت میں مرے، تو ان کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہو گئے اور یہی جہنمی ہیں

مفہوم و تشریح

1 ماہِ حرام میں قتال کا مسئلہ — یہ آیت ایک اسلامی دستے کی جانب سے اتفاقاً محترم مہینوں میں لڑائی کے تناظر میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ اگرچہ ماہِ حرام میں جنگ گناہ ہے، لیکن مسلمانوں پر مظالم، ان کو دین سے روکنا، مسجدِ حرام سے محرومی اور اہل مکہ کو نکالنا اس سے کہیں بڑے گناہ ہیں۔
2 فتنے کی سنگین سزا — معاشرے میں کفر و شرک کا فتنہ پھیلانا یا دین سے روکنا، قتل سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے
3 کفار کی دائمی عداوت — کفارمسلمانوں کے دشمن ہیں اور وہ مسلمانوں کو دینِ اسلام سے پھیرنے کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔
4 ارتداد کا انجام — جوشخص اسلام چھوڑ کر کفر کی حالت میں مرے، تو اس کے دنیا و آخرت کے تمام نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا
9 تفصیلی جوابات

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم ۖ مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ ۔

آیت میں جنت میں داخلے کے حوالے سے کس خیال کی تردید کی گئی ہے ؟

ترجمہ

کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر ابھی ان لوگوں جیسی حالت نہیں بیتی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں؟ انہیں سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور انہیں اس طرح ہلا ڈالا گیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھ کے ایمان والے بھی پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ آگاہ ہ ہو جاؤ کہ بیشک اللہ کی مدد قریب ہے

تردید کا خلاصہ

1 بلا آزمائش جنت کا تصور — اس خیال کی نفی کی گئی ہے کہ صرف زبانی دعویٰ ایمان سے بغیر امتحان کے جنت مل جائے گی
2 پہلی امتوں کا طریقۂ امتحان — واضح کیا گیا کہ پچھلی قوموں اور انبیاء کو بھی سخت غربت، بیماریوں اور مصائب سے گزارا گیا اور شدید ترین حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
3 ثابت قدمی کی شرط — جنت کا حصول قربانی، آزمائش میں صبر اور استقامت کا متقاضی ہے۔
10 تفصیلی جوابات

ان َّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا وَجَاهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ اُولٰٓىِكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ ۙ وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہی لوگ اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔

مفہوم

1 سچے مومن — جو لوگ دل سے ایمان لائے، دین کی خاطر گھر بار چھوڑا (ہجرت کی) اور اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لیے اپنی جان و مال سے کوشش کی (جہاد کیا)۔
2 اللہ کی رحمت کے حق دار — یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کے اصل امیدوار ہیں کیونکہ انھوں نے اپنے ایمان کو عمل سے سچ کر دکھایا
3 مغفرت اور رحمت — اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کی لغزشیں معاف فرماتا ہے اور ان پر اپنا خاص فضل و کرم کرتا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَىٰ قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَعَعْنَتَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾

آیت میں یتیموں کے حوالے سے کیا تعلیمات بیان کی گئی ہیں ؟

ترجمہ

“(اور تم سے پوچھتے ہیں یتیموں کا حال)۔ کہہ دو کہ ان کی اصلاح کرنا بہتر ہے اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ فساد کرنے والے کو درست کام کرنے والے سے خوب جانتا ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے۔”

یتیموں کے حوالے سے تعلیمات

1 اصلاح اور بہتری — یتیموں کے مال اور ان کے معاملات میں بہتری اور بھلائی کا راستہ اختیار کرنا سب سے بہترہے۔
2 گھل مل کر رہنا (شرکت) — ان کے ساتھ کھانے پینے یا کاروبار میں میل جول اور شرکت کرنا جائز ہے کیونکہ وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔
3 نیت کی درستی — اللہ تعالیٰ فساد کرنے والے (یتیم کا مال کھانے والے) اور اصلاح کرنے والے (ان کا بھلا چاہنے والے) کو اچھی طرح پہچانتا ہے۔
12 تفصیلی جوابات

لويُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَت قُلُوبُكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

اور اللہ ان قسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرمائے گا جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے، ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جن کا تمہارے دلوں نے قصد کیا ہو، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا حلم والا ہے۔

مفہوم و تشریح

1 لغو قسم — اس سے مراد وہ قسمیں ہیں جو انسان کے ارادے کے بغیر، صرف بات چیت کی عادت یا رو رو میں زبان سے نکل جاتی ہیں (جیسے عام بول چال میں “نہیں واللہ!” یا “ہاں واللہ!” کہہ دینا)، جن سے پختہ قسم کھانے کی نیت نہیں ہوتی۔ اس پر کوئی گناہ یا کفارہ نہیں ہے۔
2 دلی ارادہ (قصد) — گرفت اور مواخذہ اس قسم پر ہے جو انسان پورے ارادہ، دلی پختگی اور جان بوجھ کر کھاتا ہے۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے تو وہ گناہِ کبیرہ ہے۔
3 اللہ کی صفتِ غفور و حلیم — اللہ تعالی اپنے بندوں کی کمزوریوں اور نادانستہ خطاؤں پر درگزر فرماتا ہے، وہ غفور (بخشنے والا) اور حلیم (بردبار) ہے کہ فوری عذاب نازل نہیں فرماتا بلکہ توبہ کا موقع دیتا ہے۔
13 تفصیلی جوابات

يَسَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَۖ قُل مَا أَنفَقتُم مِّن خَيرٖ فَلِلوَالِدَينِ وَٱلأَقرَبِينَ وَٱليَتَٰمَىٰ وَٱلمَسَٰكِينِ وَٱبنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا تَفعَلُواْ مِن خَيرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٞ

آیت کی روشنی میں مال خرچ کرنے کے کیا مصارف بیان ہوئے ہیں ؟

ترجمہ

آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں، کہہ دو جو مال بھی تم خرچ کرو وہ ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا حق ہے، اور جو نیکی تم کرتے ہو سو بے شک اللہ خوب جانتا ہے۔

اس آیت میں نفلی صدقات و خیرات اور مالی تعاون کے مستحقین درج ذیل 5 اہم طبقات کو قرار دیا گیا ہے

مال خرچ کرنے کے مصارف (آیت کی روشنی میں)

1 والدین: (الوالدين) — خرچ کرنے اور مالی حسن سلوک میں سب سے پہلا اور مقدم حق انسان کے ماں باپ کا ہے۔
2 قریبی رشتہ دار (الأقربين) — والدین کے بعد بھائی، بہن، چچا، پھوپھی اور دیگر قریبی خونی رشتہ دار آتے ہیں جو مالی امداد کے زیادہ مستحق ہیں۔
3 یتیم (اليتامى) — وہ بچے جن کے والد کا سایہ اٹھ چکا ہو اور وہ اپنی معاشی کفالت خود نہ کر سکتے ہوں۔
4 مسکین / محتاج (المساكين) — وہ نادار اور غریب افراد جو تنگیِ معاش یا معذوری کی وجہ سے محتاج ہوں اور جن کی ضروریات پوری نہ ہوتی ہوں۔
5 مسافر (ابن السبيل) — وہ راہ گیر یا مسافر جو سفر کے دوران مال ختم ہونے یا کسی مجبوری کی بنا پر محتاج ہو گیا ہو، خواہ وہ اپنے وطن میں مالدار ہی کیوں نہ ہو

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

سورۃ البقرہ میں جتنی دفعہ "یسئلونک " کا عنوان ذکر کیا گیا ہے اور جس حوالے سے ذکر کیا گیا ہے اس کی فہرست بنائیں

سورۃ البقرہ میں کلمہ “يسألونك” اور “ويسألونك” کل 7 دفعہ ذکر ہوا ہے۔ ان تمام مواقع کی فہرست اور ان کے موضوعات درج ذیل ہیں

مواضع اور موضوعات

1 چاند کی حالتیں (الأهلة) — ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ﴾ (چاند کے گھٹنے بڑھنے اور اس کی حکمت کے بارے میں)۔
2 مال خرچ کرنا — ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ﴾ (کیا اور کس کو خرچ کیا جائے)۔
3 عزت والے مہینے (الشهر الحرام) — ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ﴾ (حرمت والے مہینوں میں لڑائی کا حکم)۔
4 شراب اور جوا (الخمر والميسر) — ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ﴾ (ان کے گناہ اور نفع کے بارے میں)۔
5 مال خرچ کرنے کی مقدار (ماذا ينفقون - تکرار) — ﴿وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ﴾ (کتنا مال صدقہ و خیرات کیا جائے، جس کا جواب “العفو” یعنی ضرورت سے زائد دیا گیا)۔
6 یتیموں کے امور (اليتامى) — ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى﴾ (یتیموں کے ساتھ میل جول اور ان کے حقوق کا انتظام)۔
7 حیض کا مسئلہ (المحيض) — ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ﴾ (ایامِ حیض میں عورتوں سے تعلق کا حکم)۔
15 سرگرمیاں

سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ " الصلوٰۃ الوسطٰی" (درمیانی نماز) کی حفاظت کی تاکید فرمائی ہے ۔درمیانی نماز کا مصداق اور اس کے فضائل لکھیں

سورۃ البقرہ کی آیت 238 میں اللہ تعالیٰ نے تمام نمازوں کی پابندی کے ساتھ الصلوٰۃ الوسطیٰ (درمیانی نماز) کی حفاظت کی خصوصی تاکید فرمائی ہے۔ اس سے مراد جمہور صحابہ اور احادیث کی روشنی میں نمازِ عصر ہے، جبکہ بعض کے نزدیک یہ نمازِ فجر بھی ہے ۔

درمیانی نماز کا مصداق اور فضائل و اہمیت

1 درمیانی نماز کا مصداق — نمازِ عصر (راجح قول) — احادیثِ صحیحہ (جیسے غزوۂ خندق کا واقعہ) میں نبی کریم ﷺ نے صلوٰۃ وسطیٰ کی تشریح نمازِ عصر فرمائی ہے۔
2 درمیانی نماز کا مصداق — دفتری/کاروباری مصروفیت — اس وقت لوگ دن بھر کے کاموں، تھکاوٹ اور کاروبار میں شدید مصروف ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی حفاظت کرنا زیادہ اہم اور آزمائش کا باعث ہے۔
3 فضائل و اہمیت — فرشتوں کی موجودگی — اس وقت دن اور رات کے فرشتے (پہرہ دار) جمع ہوتے ہیں اور بندے کی عبادت کے گواہ بنتے ہیں۔
4 فضائل و اہمیت — خصوصی اجر و حفاظت — اس کی پابندی کرنے والے کے لیے دنیاوی غفلتوں سے بچاؤ اور آخرت میں عظیم اجر کا وعدہ ہے۔
5 فضائل و اہمیت — ترک کرنے پر سخت نقصان — احادیث میں آیا ہے کہ جس کی نمازِ عصر چھوٹ جائے، اس کا گویا اہل و مال لوٹ لیا گیا ہو۔
16 سرگرمیاں

سورۃ البقرہ کی روشنی میں فتنہ و فساد کا مفہوم ،جہات اور اس کے نقصانات لکھیں

سورۃ البقرہ کی روشنی میں فتنہ و فساد کا مفہوم، اس کی جہات اور نقصانات یہ ہیں: منافقین اور بدعنوانوں کا فساد فی الارض، حق چھپانا، اور معاشرتی بگاڑ۔

1 فتنہ و فساد کا مفہوم — لغوی معنی — گمراہی، آزمائش، ہلاکت اور حق سے دوری۔
2 فتنہ و فساد کا مفہوم — اصطلاحی مفہوم — اللہ کی زمین پر امن، عدل اور دین کی حکمرانی کو ختم کر کے ظلم، شرک، اور نافرمانی پھیلانا۔
3 فتنہ و فساد کی جہات (اقسام و صورتیں) — زبان و عمل کا تضاد — منافقین کا یہ دعویٰ کرنا کہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں، حالانکہ دراصل وہی فسادی ہوتے ہیں ۔
4 فتنہ و فساد کی جہات (اقسام و صورتیں) — دین میں رکاوٹ — لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنا اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا۔
5 فتنہ و فساد کی جہات (اقسام و صورتیں) — معاشرتی تباہی — زمین پر فساد پھیلانا، کمزوروں پر ظلم کرنا اور رشتہ داروں کے حقوق پامال کرنا۔
6 فتنہ و فساد کے نقصانات — اللہ کی ناراضی — اللہ تعالی فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
7 فتنہ و فساد کے نقصانات — ہلاکت اور خسارہ — ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں ناکام اور نقصان اٹھانے والے ہوتے ہیں۔
8 فتنہ و فساد کے نقصانات — امن کا خاتمہ — معاشرے سے سکون ختم ہو جاتا ہے اور باہمی نفرتیں بڑھتی ہیں۔
17 سرگرمیاں

طلاق ،خلع اور عدت کے احکامات تفصیل سے لکھیں

طلاق، خلع اور عدت کے احکامات اسلامی شریعت میں خاندانی زندگی کے خاتمے اور اس کے بعد کے حقوق و فرائض کو واضح کرتے ہیں، جن میں طلاق شوہر کی طرف سے رشتہ نکاح ختم کرنا، خلع بیوی کی جانب سے مال کے عوض علیحدگی لینا اور عدت وہ مقررہ مدت ہے جو عورت کو نکاح کے خاتمے کے بعد گزارنی ہوتی ہے۔

1 طلاق کے احکامات — تعریف اور اقسام — طلاق کا مطلب نکاح کا بندش ختم کرنا ہے۔ یہ بنیادی طور پر دو طرح کی ہوتی ہے: طلاقِ رجعی (جس میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق ہوتا ہے) اور طلاقِ بائن یا مغلظہ (جس سے نکاح فوراً ختم ہوجاتا ہے اور رجوع کا حق نہیں رہتا)۔
2 طلاق کے احکامات — رجوع کا حق — ایک یا دو طلاقِ رجعی کے بعد شوہر عدت کے اندر زبانی یا عملی طور پر رجوع کر سکتا ہے، اس کے لیے نئے نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی۔
3 طلاق کے احکامات — تین طلاقیں — اگر ایک ساتھ یا الگ الگ تین طلاقیں دے دی جائیں تو طلاقِ مغلظہ واقع ہو جاتی ہے، جس کے بعد حلالہ شرعی کے بغیر سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا۔
4 خلع کے احکامات — تعریف — بیوی کا شوہر کو مہر یا کوئی مالی معاوضہ دے کر یا باہمی رضامندی سے نکاح ختم کرانے کا نام خلع ہے۔
5 خلع کے احکامات — طلاقِ بائن — خلع کے ذریعے عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے اور نکاح فوراً ختم ہوجاتا ہے۔
6 خلع کے احکامات — دوبارہ نکاح — خلع کے بعد اگر شوہر نے پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو تو باہمی رضا مندی اور نئے نکاح و مہر کے ساتھ دوبارہ ساتھ رہنے کا حق حاصل رہتا ہے، اس کے لیے حلالہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
7 عدت کے احکامات — مدت (حیض والی عورت) — طلاق یا خلع کے بعد اگر عورت کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت تین مکمل ماہواریاں (حیض) ہے۔
8 عدت کے احکامات — حاملہ عورت — اگر عورت حاملہ ہو تو طلاق یا خلع کی عدت بچے کی پیدائش (وضع حمل) تک ہے۔
9 عدت کے احکامات — بغیر حیض والی عورت — اگر عورت یاسِ میاس (بڑھپا) کی وجہ سے حیض نہ آنے کی عمر میں ہو تو عدت تین اسلامی مہینے ہوتی ہے۔
10 عدت کے احکامات — عدت کے تقاضے — عدت کے دوران عورت کے لیے گھر میں رہنا لازم ہے، بلا ضرورتِ شدید باہر نکلنا یا سفر کرنا منع ہے، اور اس دوران زیب و زینت یا دوسری جگہ نکاح کا پیغام قبول کرنا جائز نہیں ہوتا۔
18 سرگرمیاں

مختلف نشہ آور اشیاء کے استعمال کے دائمی تباہ کن اثرات اور نقصانات لکھیں

نشہ آور اشیاء کے استعمال کے دائمی اور تباہ کن اثرات میں دماغی امراض، دل کی بیماریاں اور جگر کی خرابی شامل ہیں۔ یہ مستقل بیماریاں انسان کے جسم اور معاشرے کو برباد کر دیتی ہیں۔

جسمانی نقصانات اور نفسیاتی اور سماجی اثرات

1 جسمانی نقصانات — دماغی کمزوری — یادداشت کا ختم ہونا اور سوچنے کی صلاحیت کا متاثر ہونا۔
2 جسمانی نقصانات — دل کے امراض — دل کا فیل ہونا اور خون کا دباؤ بڑھنا۔
3 جسمانی نقصانات — جگر اور معدے کی تباہی — ہیپاٹائٹس اور کینسر کا خطرہ بڑھ جانا۔
4 نفسیاتی اور سماجی اثرات — شدید ڈپریشن — ذہنی تناؤ، پاگل پن اور خودکشی کے خیالات۔
5 نفسیاتی اور سماجی اثرات — خاندانی تباہی — گھر کا سکون ختم ہونا اور رشتوں کا ٹوٹنا۔
6 نفسیاتی اور سماجی اثرات — معاشی زوال — نوکری کا ختم ہونا اور مالی قرضوں میں ڈوب جانا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.