طلاق، خلع اور عدت کے احکامات اسلامی شریعت میں خاندانی زندگی کے خاتمے اور اس کے بعد کے حقوق و فرائض کو واضح کرتے ہیں، جن میں طلاق شوہر کی طرف سے رشتہ نکاح ختم کرنا، خلع بیوی کی جانب سے مال کے عوض علیحدگی لینا اور عدت وہ مقررہ مدت ہے جو عورت کو نکاح کے خاتمے کے بعد گزارنی ہوتی ہے۔
1
طلاق کے احکامات — تعریف اور اقسام — طلاق کا مطلب نکاح کا بندش ختم کرنا ہے۔ یہ بنیادی طور پر دو طرح کی ہوتی ہے: طلاقِ رجعی (جس میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق ہوتا ہے) اور طلاقِ بائن یا مغلظہ (جس سے نکاح فوراً ختم ہوجاتا ہے اور رجوع کا حق نہیں رہتا)۔
2
طلاق کے احکامات — رجوع کا حق — ایک یا دو طلاقِ رجعی کے بعد شوہر عدت کے اندر زبانی یا عملی طور پر رجوع کر سکتا ہے، اس کے لیے نئے نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی۔
3
طلاق کے احکامات — تین طلاقیں — اگر ایک ساتھ یا الگ الگ تین طلاقیں دے دی جائیں تو طلاقِ مغلظہ واقع ہو جاتی ہے، جس کے بعد حلالہ شرعی کے بغیر سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا۔
4
خلع کے احکامات — تعریف — بیوی کا شوہر کو مہر یا کوئی مالی معاوضہ دے کر یا باہمی رضامندی سے نکاح ختم کرانے کا نام خلع ہے۔
5
خلع کے احکامات — طلاقِ بائن — خلع کے ذریعے عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے اور نکاح فوراً ختم ہوجاتا ہے۔
6
خلع کے احکامات — دوبارہ نکاح — خلع کے بعد اگر شوہر نے پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو تو باہمی رضا مندی اور نئے نکاح و مہر کے ساتھ دوبارہ ساتھ رہنے کا حق حاصل رہتا ہے، اس کے لیے حلالہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
7
عدت کے احکامات — مدت (حیض والی عورت) — طلاق یا خلع کے بعد اگر عورت کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت تین مکمل ماہواریاں (حیض) ہے۔
8
عدت کے احکامات — حاملہ عورت — اگر عورت حاملہ ہو تو طلاق یا خلع کی عدت بچے کی پیدائش (وضع حمل) تک ہے۔
9
عدت کے احکامات — بغیر حیض والی عورت — اگر عورت یاسِ میاس (بڑھپا) کی وجہ سے حیض نہ آنے کی عمر میں ہو تو عدت تین اسلامی مہینے ہوتی ہے۔
10
عدت کے احکامات — عدت کے تقاضے — عدت کے دوران عورت کے لیے گھر میں رہنا لازم ہے، بلا ضرورتِ شدید باہر نکلنا یا سفر کرنا منع ہے، اور اس دوران زیب و زینت یا دوسری جگہ نکاح کا پیغام قبول کرنا جائز نہیں ہوتا۔