سورۃ البقرہ میں خالصتاً حج (عمرہ کے بغیر) کے حوالے سے جو اہم ترین نکات اور احکام ذکر کیے گئے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
1
وقت اور ایامِ حج — مقررہ مہینے — حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں (شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے ابتدائی دن)۔
2
وقت اور ایامِ حج — نیت کی پابندی — جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت (احرام) کر لے، اس پر حج فرض ہو جاتا ہے۔
3
وقت اور ایامِ حج — ایامِ تشریق کا قیام — منیٰ کے مخصوص دنوں میں اللہ کو یاد کریں۔
4
وقت اور ایامِ حج — ایامِ تشریق میں رخصت — منیٰ میں دو دن قیام کر کے جلدی لوٹنے یا تیسرے دن تک تاخیر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ انسان متقی ہو۔
5
احرام کی حالت کے آداب — حش باتوں سے پرہیز — احرام کے دوران بیوی سے میل ملاپ یا شہوانی گفتگو بالکل حرام ہے۔
6
احرام کی حالت کے آداب — نافرمانی کی ممانعت — حج کے دوران ہر قسم کے گناہ اور اللہ کی نافرمانی سے بچنا لازم ہے۔
7
احرام کی حالت کے آداب — لڑائی جھگڑے کی ممانعت — سفرِ حج اور قیامِ حج کے دوران کسی سے بھی بحث و تکرار یا لڑائی جھگڑا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
8
احرام کی حالت کے آداب — زادِ راہ کی اہمیت — حج کے سفر پر نکلتے وقت اپنے ساتھ کھانے پینے کا خرچ (زادِ راہ) لازمی رکھو، اور سب سے بہترین زادِ راہ تقویٰ (پرہیزگاری) ہے۔
9
مناسکِ حج (عرفات اور مزدلفہ) — تجارت کی اجازت — حج کے دنوں میں رزقِ حلال کمانے یا تجارت کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
10
مناسکِ حج (عرفات اور مزدلفہ) — میدانِ عرفات سے واپسی — جب تم عرفات کے میدان سے (وقوفِ عرفات کے بعد) واپس لوٹو، تو مشعر الحرام (مزدلفہ) کے پاس قیام کرو۔
11
مناسکِ حج (عرفات اور مزدلفہ) — ذکرِ الٰہی — مزدلفہ میں اللہ کو کثرت سے یاد کرو، بالکل اسی طرح جیسے اس نے تمہیں ہدایت دی ہے۔
12
مناسکِ حج (عرفات اور مزدلفہ) — برابری کا اصول — عرفات سے اسی راستے اور طریقے سے واپس لوٹو جیسے عام لوگ لوٹتے ہیں (تاکہ امیر اور غریب کی تفریق ختم ہو)۔
13
مناسکِ حج (عرفات اور مزدلفہ) — استغفار — مناسک کی ادائیگی کے دوران اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہو، کیونکہ وہ غفور و رحی
14
حج کے بعد کی ہدایات — حج کے بعد ذکر — جب حج کے تمام مناسک پورے کر لو، تو اللہ کو اس طرح یاد کرو جیسے اپنے باپ دادا کا تذکرہ فخر سے کرتے ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
15
حج کے بعد کی ہدایات — حج کی جامع دعا — مناسک کے بعد صرف دنیا مانگنے والوں کے بجائے وہ دعا مانگو جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی اور عذابِ جہنم سے نجات کے لیے ہے (رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)۔