گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 5: سبق 5: سورۃ البقرہ (آیات 164 تا 210) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 19 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِۘ وَالَّذِیْنَ اٰمَنوا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِۘ وَلَوْ يَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَۙاَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاۙوَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ

آیت کریمہ میں بعض لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنے باطل معبودوں کے ساتھ کیا طرز عمل بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنا لیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں اور کاش وہ ظالم دیکھیں جب وہ عذاب کو دیکھیں گے (تو انہیں معلوم ہو جائے گا) کہ تمام قوت اللہ ہی کی ہے اور یہ کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

باطل معبودوں کے ساتھ طرز عمل کی تفصیل

1 برابری اور شرک — وہ اللہ کے علاوہ دوسروں کو اللہ کا ہمسر اور مدمقابل مانتے ہیں
2 اللہ جیسی محبت — وہ اپنے ان گھڑے ہوئے معبودوں، بتوں یا سرداروں سے ایسی عقیدت اور محبت رکھتے ہیں جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔
3 اطاعت اور تقدیس — وہ ان کی خاطر جان دینے کو تیار ہوتے ہیں، ان کے نام پر نذر و نیاز کرتے ہیں اور ان کے سامنے ایسے عاجز ہوتے جیسے اللہ کے سامنے ہونا چاہیے۔
2 مختصر جوابات

انَّمَا يَأْمُرُكُم بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ۔

آیت کے مطابق شیطان انسان کو کن امور کی تلقین کرتا ہے ؟

ترجمہ

وہ تمہیں صرف برائی اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور یہ (حکم دیتا ہے) کہ تم اللہ کے بارے میں وہ کچھ کہو جو خود تمہیں معلوم نہیں

اس مبارک آیت کے مطابق شیطان انسان کو درج ذیل تین بنیادی امور کی ترغیب و تلقین کرتا ہے:

شیطان کی تلقین کردہ امور (آیت کی روشنی میں)

1 السوء (برائی) — ہر وہ عام گناہ اور برا کام جو شریعت اور عقل کی رو سے ناپسندیدہ اور مضر ہو۔
2 الفحشاء (بے حیائی) — وہ شدید اور حد سے بڑھی ہوئی برائیاں اور گناہ، جن کی قباحت مسلم ہے (جیسے زنا، چوری، انتہائی بخل یا دائرہ شریعت سے نکل جانے والے افعال)۔
3 اللہ پر افترا پروازی (بغیر علم کے بات کہنا) — دین اور شریعت کے معاملے میں اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرنا جن کا کوئی شرعی ثبوت نہ ہو؛ جیسے اپنی طرف سے حلال کو حرام یا حرام کو حلال قرار دینا، یا دین میں خود ساختہ عقائد اور بدعات گھڑنا۔
3 مختصر جوابات

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۚ أَوَ لَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ

آیت میں کفار کی جانب سے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کی اتباع سے انکار پر کیا دلیل پیش کی گئی ہے؟

ترجمہ

“اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں: بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں اور نہ ہی ہدایت یافتہ ہوں؟”

احکامِ الہٰی سے انکار پر کفار کا عذر اور اس کا ردّ

1 کفار کی دلیل (آباء پرستی) — جب کفار کو اللہ کے نازل کردہ احکام، توحید اور شریعت کی طرف دعوت دی جاتی تو وہ وحی الہٰی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ عذر پیش کرتے کہ وہ صرف اسی طریقے اور روش پر چلیں گے جس پر انہوں نے اپنے باپ دادا اور بڑوں کو پایا ہے ۔
2 اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش کردہ تردید و دلیل — اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ عذر کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا وہ اب بھی اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید جاری رکھیں گے، اگرچہ ان کے باپ دادا دین کی سمجھ بوجھ، عقل اور صراطِ مستقیم (ہدایت) سے بالکل بے بہرہ اور محروم تھے؟ یعنی عقل کا تقاضا یہ ہے کہ گمراہ اور بے عقل لوگوں کی پیروی کرنے کے بجائے حق اور دلیلِ شرعی کی پیروی کی جائے۔
4 مختصر جوابات

ايَّاما مَّعدُودَات ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّة مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدْيَة طَعَامُ مِسكِينࣲ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْر لَّهُۥ وَأَن تَصومُواْ خَيْر لَّكُم إِن كُنتُم تَعلَمُونَ

آیت میں مریض اور مسافر کے لیے رمضان کے روزوں کے حوالے سے کیا رخصت بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

(یہ) گنتی کے چند دن (ہیں)، پس جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں (ان کی) گنتی پوری کر لے۔ اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہیں (مگر سخت مشقت محسوس کرتے ہیں)، ان پر فدیہ ایک مسکین کا کھانا کھلانا ہے۔ پھر جو کوئی اپنی خوشی سے نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے، اور تمہارا روزہ رکھ لینا تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

مریض اور مسافر کے لیے رخصت کی تفصیل

1 روزہ مؤخر کرنے کی اجازت — بیمار اور مسافر کو یہ اختیار اور رخصت دی گئی ہے کہ وہ رمضان میں روزے نہ رکھیں۔
2 قضا کا حکم — صحت یابی کے بعد یا سفر ختم ہونے پر اتنے ہی روزے بعد کے دنوں میں رکھ کر گنتی پوری کرنا لازم ہے۔
3 آسانی اور رحمت — شریعت نے اس حکم کے ذریعے بیماروں اور مسافروں پر بوجھ یا مشقت ڈالنے سے منع فرمایا ہے اور بعد میں قضا کرنے کا آسان متبادل رکھا ہے۔
5 مختصر جوابات

وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

آیت میں ایک دوسرے اموال کے متعلق مسلمانوں کو کیا تعلیم دی گئی ہے؟

ترجمہ

اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا (ناحق) طریقے سے کھاؤ اور نہ حاکموں (عدالتوں یا افسروں) کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے، حالانکہ تم جانتے ہو۔

اموال کے متعلق دی گئی اہم تعلیمات

1 ناحق مال سے اجتناب — کسی بھی غیر شرعی اور غلط طریقے (جیسے سود، جوئے، چوری، غصب، خیانت یا دھوکے) سے دوسرے کا مال حاصل کرنا حرام ہے۔
2 رشوت اور عدالتی فریب کی ممانعت — عدالت یا حکام کو رشوت دینا یا جھوٹے گواہ اور دلائل پیش کرکے کسی کی جائیداد پر ناجائز قبضہ جمانا سخت ترین گناہ ہے
3 ظاہری عدالتی فیصلے سے حق نہیں بدلتا — اگر کوئی شخص جھوٹے دلائل سے حاکم یا جج کو اپنے حق میں فیصلہ دینے پر مجبور کر بھی لے تو پھر بھی حرام مال حلال نہیں ہوجاتا۔
4 علم کا تقاضا — یہ تمام کام انسان اس وقت کرتا ہے جب اسے بخوبی علم ہوتا ہے کہ وہ ظلم کررہا ہے اور یہ مال اس کا نہیں ہے، اس لیے جان بوجھ کر ایسا گناہ کرنا ایمانی تقاضوں کے منافی ہے۔
6 مختصر جوابات

الشهْرُ الحَرَامُ بِالشهْرِ الحَرَامِ وَالحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ۔

آیت میں زیادتی کے جواب میں کیا اصول بیان کیا گیا؟

ترجمہ

حرمت والے مہینے کا بدلہ حرمت والا مہینہ ہے اور تمام حرمتوں کا بدلہ برابر ہے۔ پس جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر اسی قدر زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر کی ہے۔ اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

زیادتی کے جواب میں بیان کردہ اصول

1 تناسب اور برابری — جوابی کارروائی صرف اسی حد تک جائز ہے جتنی زیادتی یا ظلم آپ کے خلاف کیا گیا ہو، اس سے تجاوز کرنا منع ہے۔
2 حدود کا پاس — بدلہ لیتے وقت بھی اپنے جذبات پر قابو رکھنا اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود سے باہر نہ نکلنا ضروری ہے۔
3 تقویٰ کی پابندی — زیادتی کا جواب دیتے ہوئے بھی تقویٰ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مدد صرف متقی اور پرہیزگار لوگوں کے شاملِ حال ہوتی ہے۔
7 مختصر جوابات

الحَجُّ أَشهُرٌ مَّعلُومَٰت ٌمَن فَرَضَ فِيهِنَّ ٱلحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي ٱلحَجِّ وَمَا تَفعَلُواْ مِنْ خَيرٍ يَعلَمهُ ٱللَّهُ وَتَوَزَّدُواْ فَإِنَّ خَيرَ ٱلزَّادِ ٱلتَّقوَىٰ وَٱتَّقُونِ يَٰأُولِي ٱلأَلبَابِ۔

آیت کے مطابق حج فرض ہونے کے بعد کن امور سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے؟

ترجمہ

حج کے مہینے مقرر ہیں، جو شخص ان مہینوں میں حج لازم کر لے، تو حج میں نہ کوئی شہوت کی بات کرے، نہ کوئی گناہ کرے، اور نہ کوئی جھگڑا کرے۔ اور تم جو بھی بھلائی کرو گے، اللہ اسے جانتا ہے۔ اور سفر کا توشہ ساتھ لے لو، کیونکہ سب سے بہتر توشہ تقویٰ ہے، اور اے عقل والو! مجھ سے ڈرو۔

حج کے دوران بچنے کی تاکید کردہ امور

1 الرفث — شہوت انگیز باتیں یا جماع کی باتیں کرنا۔
2 الفسوق — اللہ کی نافرمانی اور گناہ کے کام کرنا۔
3 الجدال — لغو بحث، تکرار اور جھگڑا کرنا۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور جو لوگ (دنیا میں) پیروکار بنے تھے کہیں گے: کاش ہمیں ایک بار پھر (دنیا میں) لوٹنا مل جائے تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہو جائیں جیسے یہ آج ہم سے بیزار ہو گئے ہیں۔ اسی طرح اللہ ان کے اعمال کو ان کے لیے سراسر حسرت (اور پچھتاوا) بنا کر دکھائے گا، اور وہ ہرگز آگ سے نکلنے والے نہیں ہیں۔

مفہوم و تشریح

1 پیروکاروں کی بے بسی — قیامت کے روز جب کافروں اور مشرکین کے بڑے پیشوا اپنے ماننے والوں سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے اور کہیں گے کہ ہمارا ان سے کوئی واسطہ نہیں، تو وہ عام پیروکار شدید دل شکستہ اور شرمندہ ہوں گے۔
2 محض زبانی تمنا — وہ حسرت سے تمنا کریں گے کہ کاش انہیں دنیا میں دوبارہ جانے کا ایک موقع مل جائے تاکہ وہ ان گمراہ رہنماؤں سے ویسا ہی لاتعلق ہونے کا عملی ثبوت دیں جیسا وہ اب ان سے برتاؤ کر رہے ہیں، لیکن وہاں کی تمنا کا کوئی فائدہ نہیں۔
3 اعمال کا حسرت بننا — جن اعمال کو وہ دنیا میں بڑی پونجی اور کامیابی سمجھ کر فخر سے کرتے رہے تھے، آخرت میں وہی اعمال ان کے لیے عذاب اور مسلسل پچھتاوے کا سبب بن جائیں گے
4 دائمی عذاب — وہ لوگ جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے جلیں گے اور کسی صورت وہاں سے نجات یا باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔
9 تفصیلی جوابات

إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۔

آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپانے اور ان پر تھوڑا سا معاوضہ لینے والوں کے لیے کیا انجام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے حقیر (تھوڑی سی) قیمت حاصل کرتے ہیں، وہ لوگ اپنے پیٹوں میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں بھرتے، اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات تک نہیں کرے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حق کو چھپانے اور اس کے عوض دنیا کا قلیل فائدہ حاصل کرنے والوں کی درج ذیل سزائیں اور انجام بیان کیے ہیں:

آیات کو چھپانے اور معاوضہ لینے والوں کا انجام

1 پیٹ میں آگ بھرنا — جو مال یا رشوت وہ حق کو چھپا کر حاصل کرتے ہیں، وہ درحقیقت جہنم کی آگ ہے جسے وہ اپنے پیٹوں میں بھر رہے ہیں۔
2 اللہ کا کلام نہ کرنا — قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے غضب ناک ہو کر بات بھی نہیں کرے گا، جو کہ شدید بے عزتی اور ناراضی کی علامت ہے۔
3 پاک نہ کرنا — اللہ تعالیٰ انہیں گناہوں کی غندگی سے پاک نہیں فرمائے گا اور نہ ہی ان کی مغفرت کا فیصلہ ہوگا۔
4 دردناک عذاب — ان کے لیے آخرت میں ایک ایسا عذاب تیار ہے جو انہیں سخت جسمانی اور روحانی تکلیف دے گا۔
10 تفصیلی جوابات

وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً ۚ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

اور کافروں کی مثال اس شخص جیسی ہے جو کسی ایسی چیز کو پکارتا ہے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتی (وہ) بہرے، گونگے، اندھے ہیں، سو وہ کچھ نہیں سمجھتے نہیں۔

مفہوم

1 کافروں کی مثال — اس آیت میں کافروں کو ایسے جانوروں یا نادان ہستی کی طرح بتایا گیا ہے جو اپنے چرواہے کی صرف آواز یا پکار سنتے ہیں لیکن اس کا اصلی مطلب یا حقیقت نہیں سمجھ سکتے۔
2 بہرے، گونگے، اندھے — ان کے دل اور عقل حق بات سننے، بولنے اور دیکھنے سے محروم ہو چکے ہیں۔
3 عقل سے دوری — وہ اللہ کی دی ہوئی عقل اور سمجھ کا استعمال نہیں کرتے، اس لیے حق کو نہیں پاتے۔
11 تفصیلی جوابات

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۔

آیت میں کن چیزوں کی حرمت کا ذکر ہے نیز کس شرط کے ساتھ ان کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے؟

ترجمہ

اس نے تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا ہے جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو۔ پھر جو شخص سخت مجبور ہو جائے، اس حال میں کہ نہ تو وہ نافرمانی کرنے والا ہو اور نہ ہی حد سے بڑھنے والا، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے

حرمت کا ذکر کردہ اشیاء اور استعمال کی اجازت اور شرط

1 حرمت کا ذکر کردہ اشیاء — میتہ — جانور جو خود بخود مر جائے یا جسے شرعی طریقے کے مطابق ذبح نہ کیا گیا ہو۔
2 حرمت کا ذکر کردہ اشیاء — دم — بہتا ہوا خون۔
3 حرمت کا ذکر کردہ اشیاء — لحم الخنزیر — خنزیر (سؤر) کا گوشت اور اس کے تمام اجزاء
4 حرمت کا ذکر کردہ اشیاء — ما أہل بہ لغیر اللہ — وہ جانور یا چیز جو ذبح یا نذر و نیاز کے وقت اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر پکاری یا نامزد کی گئی ہو۔
5 استعمال کی اجازت اور شرط — حالتِ مجبوری (اضطرار) — اگر کسی جان کو شدید بھوک یا پیاس کی وجہ سے ہلاکت کا خطرہ لاحق ہو جائے اور حلال غذا میسر نہ ہو۔
6 استعمال کی اجازت اور شرط — شرطِ اول (غیر باغ) — کھانے والے کی نیت نافرمانی یا لذت و خواہش حاصل کرنے کی نہ ہو۔
7 استعمال کی اجازت اور شرط — شرطِ دوم (ولا عادٍ) — وہ اتنی ہی مقدار میں استعمال کرے جتنی جان بچانے کے لیے ضروری ہے، پیٹ بھرنے یا حد سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
12 تفصیلی جوابات

كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے (تو) اگر وہ کچھ مال چھوڑے تو اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے اچھے طریقے سے وصیت کرجائے۔ یہ پرہیزگاروں پر حق (لازم) ہے۔

آیت کا مفہوم و تشریح

1 وصیت کی تاکید — اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جب انسان کو اپنی موت کے آثار نظر آنے لگیں اور وہ مال دار ہو (کچھ مال چھوڑنے والا ہو) تو وہ اپنے والدین اور دیگر قریبی رشتہ داروں کے لیے جو وارث نہ بن سکیں یا جن کا حق بنتا ہو، اچھے اور منصفانہ طریقے سے وصیت کر کے جائے۔
2 دستور کے مطابق — “بالمعروف” کا مطلب ہے کہ وصیت نہ تو اتنی زیادہ ہو کہ دوسرے ورثاء کا حق مارا جائے اور نہ ہی ناانصافی پر مبنی ہو۔
3 منسوخیت کا حکم طابق — ابتداء میں اسلام میں میراث کے باقاعدہ احکام نازل ہونے سے پہلے والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کرنا فرض یا واجب تھا۔ بعد میں جب سورۃ النساء میں میراث کی آیات (حصصِ میراث) نازل ہوئیں، تو اس حکم کو تبدیل (منسوخ) کر دیا گیا۔ اب رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق کسی وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ غیر وارث رشتہ داروں یا فلاحی کاموں کے لیے کل مال کے ایک تہائی (1/3) حصے تک وصیت کی جا سکتی ہے
13 تفصیلی جوابات

وَأَنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى ٱلتَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُواْ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ ۔

آیت میں کیا ہدایات دی گئی ہیں؟

ترجمہ

اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی (احسان) اختیار کرو، بیشک اللہ نیکوکاروں (احسان کرنے والوں) سے محبت فرماتا ہے۔

آیت میں دی گئی ہدایات و احکام

1 اللہ کی راہ میں خرچ کرنا — اللہ کی رضا، دین کی سربندی، جہاد اور فلاحی کاموں کے لیے دل کھول کر مال خرچ کرنے کا حکم ہے۔
2 ہلاکت سے بچنا — مال خرچ کرنے سے گریز کرنے یا بخل سے کام لے کر اپنے آپ کو اور معاشرے کو کمزور کر کے تباہی و بربادی میں خود نہ ڈالنے کی سخت تاکید ہے۔
3 نیکی اور احسان اپنانا — زندگی کے ہر معاملے میں اچھے طریقے سے کام کرنے اور احسان کا رویہ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
4 اللہ کی محبت کا حصول — نیکی اور حسنِ سلوک کرنے والے لوگ اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں، اس لیے مومن کو ہمیشہ محسن بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

سورۃ البقرہ میں اللہ نے جن چیزوں میں عقل والوں کے لیے نشانیاں بیان فرمائی ہیں ان امور کی فہرست بنائیں

سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے عقل والوں کے لیے نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے: آسمان و زمین کی تخلیق، رات اور دن کا بدلنا، اور وہ کشتیاں جو لوگوں کو فائدہ دینے کے لیے سمندر میں چلتی ہیں۔

نشانیوں کی تفصیل

1 آسمان اور زمین — زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کا نظام عقل مندوں کے لیے بڑی نشانی ہے
2 رات اور دن — رات اور دن کا باری باری آنا اور ان کا ایک دوسرے کے پیچھے آنا۔
3 سمندر کی کشتیاں — وہ کشتیاں جو لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر سمندر میں چلتی ہیں۔
4 بارش اور زندگی — آسمان سے پانی برسانا اور اس کے ذریعے زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرنا۔
5 ہواؤں کا چلنا — ہواؤں کا رخ بدلنا اور بادلوں کا آسمان اور زمین کے درمیان حکم کا پابند رہنا۔
15 سرگرمیاں

سورۃ البقرہ میں دنیا اور آخرت کی بھلائی کی جو دعا کی گئی ہے دعا مع ترجمہ لکھیں

ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

1 اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ (دوزخ) کے عذاب سے بچا۔
16 سرگرمیاں

سورۃ البقرہ میں حج کے حوالے سے جو تفصیل ذکر کی گئی ہے اس کے اہم نکات لکھیں

سورۃ البقرہ میں خالصتاً حج (عمرہ کے بغیر) کے حوالے سے جو اہم ترین نکات اور احکام ذکر کیے گئے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

1 وقت اور ایامِ حج — مقررہ مہینے — حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں (شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے ابتدائی دن)۔
2 وقت اور ایامِ حج — نیت کی پابندی — جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت (احرام) کر لے، اس پر حج فرض ہو جاتا ہے۔
3 وقت اور ایامِ حج — ایامِ تشریق کا قیام — منیٰ کے مخصوص دنوں میں اللہ کو یاد کریں۔
4 وقت اور ایامِ حج — ایامِ تشریق میں رخصت — منیٰ میں دو دن قیام کر کے جلدی لوٹنے یا تیسرے دن تک تاخیر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ انسان متقی ہو۔
5 احرام کی حالت کے آداب — حش باتوں سے پرہیز — احرام کے دوران بیوی سے میل ملاپ یا شہوانی گفتگو بالکل حرام ہے۔
6 احرام کی حالت کے آداب — نافرمانی کی ممانعت — حج کے دوران ہر قسم کے گناہ اور اللہ کی نافرمانی سے بچنا لازم ہے۔
7 احرام کی حالت کے آداب — لڑائی جھگڑے کی ممانعت — سفرِ حج اور قیامِ حج کے دوران کسی سے بھی بحث و تکرار یا لڑائی جھگڑا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
8 احرام کی حالت کے آداب — زادِ راہ کی اہمیت — حج کے سفر پر نکلتے وقت اپنے ساتھ کھانے پینے کا خرچ (زادِ راہ) لازمی رکھو، اور سب سے بہترین زادِ راہ تقویٰ (پرہیزگاری) ہے۔
9 مناسکِ حج (عرفات اور مزدلفہ) — تجارت کی اجازت — حج کے دنوں میں رزقِ حلال کمانے یا تجارت کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
10 مناسکِ حج (عرفات اور مزدلفہ) — میدانِ عرفات سے واپسی — جب تم عرفات کے میدان سے (وقوفِ عرفات کے بعد) واپس لوٹو، تو مشعر الحرام (مزدلفہ) کے پاس قیام کرو۔
11 مناسکِ حج (عرفات اور مزدلفہ) — ذکرِ الٰہی — مزدلفہ میں اللہ کو کثرت سے یاد کرو، بالکل اسی طرح جیسے اس نے تمہیں ہدایت دی ہے۔
12 مناسکِ حج (عرفات اور مزدلفہ) — برابری کا اصول — عرفات سے اسی راستے اور طریقے سے واپس لوٹو جیسے عام لوگ لوٹتے ہیں (تاکہ امیر اور غریب کی تفریق ختم ہو)۔
13 مناسکِ حج (عرفات اور مزدلفہ) — استغفار — مناسک کی ادائیگی کے دوران اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہو، کیونکہ وہ غفور و رحی
14 حج کے بعد کی ہدایات — حج کے بعد ذکر — جب حج کے تمام مناسک پورے کر لو، تو اللہ کو اس طرح یاد کرو جیسے اپنے باپ دادا کا تذکرہ فخر سے کرتے ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
15 حج کے بعد کی ہدایات — حج کی جامع دعا — مناسک کے بعد صرف دنیا مانگنے والوں کے بجائے وہ دعا مانگو جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی اور عذابِ جہنم سے نجات کے لیے ہے (رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)۔
17 سرگرمیاں

رمضان اور قرآن کا آپس میں گہرا تعلق کیسے ہے نیز رمضان میں کرنے والے کاموں کی فہرست بنائیں

رمضان اور قرآن کا گہرا تعلق اس بات سے ہے کہ اس مبارک مہینے میں قرآن پاک نازل ہوا، اور اس میں تلاوتِ قرآن، تراویح اور اس پر غور و فکر کرنے پر خاص زور دیا گیا ہے۔ رمضان میں کرنے والے اہم کام یہ ہیں: قرآن مجید کی تلاوت، تراویح کی ادائیگی، اور صدقہ و خیرات۔

تعلقِ رمضان اور قرآن اور رمضان کے اہم کام

1 تعلقِ رمضان اور قرآن — نزولِ قرآن — اللہ تعالی نے اسی مہینے (لیلۃ القدر) میں قرآن کو آسمانِ دنیا سے زمین پر اتارا۔
2 تعلقِ رمضان اور قرآن — مدارسہ اور تکرار — حضرت جبرئیل علیہ السلام ہر رات رمضان میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ قرآن کا دور (تکرار) کرتے تھے۔
3 تعلقِ رمضان اور قرآن — ہدایت کا ذریعہ — یہ مہینہ لوگوں کو قرآن کے ذریعے سیدھا راستہ دکھانے کے لیے چنا گیا۔
4 رمضان کے اہم کام — تلاوتِ قرآن — روزانہ قرآن پاک کا ایک یا زائد پارہ پڑھنا اور اس کا ترجمہ سمجھنا۔
5 رمضان کے اہم کام — نمازِ تراویح — رات کو باجماعت تراویح کا اہتمام کرنا جس میں پورا قرآن سنا جاتا ہے۔
6 رمضان کے اہم کام — صدقہ و خیرات — غریبوں، مسکینوں اور نادار لوگوں کو کھانا کھلانا اور مالی مدد کرنا۔
7 رمضان کے اہم کام — ذکر و دعا — دن اور رات میں استغفار، تسبیح اور دعائیں کثرت سے مانگنا۔
8 رمضان کے اہم کام — اعتکاف — اخری عشرے میں مسجد میں بیٹھ کر دنیا سے کٹ کر اللہ کی عبادت کرنا۔
18 سرگرمیاں

سورۃ البقرہ میں حرمت والے مہینوں میں قتال کے حوالے سے جو آیات وارد ہوئی ہیں اس کا پس منظر ،حرمت والے مہینوں کی تعداد اور اس میں قتال کے مخصوص احکام کے بارے میں بتائیں

سورۃ البقرہ میں حرمت والے مہینوں میں قتال کے بارے میں حکم نازل ہوا۔ حرمت والے مہینوں کی کل تعداد چار ہے جن میں قتال بڑا گناہ ہے، لیکن اگر دشمن زیادتی کرے یا پہلے حملہ کرے تو مسلمانوں کو دفاع کا حق حاصل ہے۔

1 پس منظر — نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک اسلامی فوجی دستے نے ماہِ حرام (رجب) میں ایک کافر (عمرو بن الحضرمی) کو قتل کر دیا اور کچھ مال غنیمت و قیدی حاصل کیے۔ مسلمانوں کو علم نہیں تھا کہ رجب کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ کفارِ مکہ نے اس واقعے پر مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ وہ حرمت والے مہینوں کا احترام نہیں کرتے۔ اس پر سورۃ البقرہ کی آیت نازل ہوئی
2 حرمت والے مہینوں کی تعداد اور نام — تعداد — چار مہینے
3 حرمت والے مہینوں کی تعداد اور نام — نام — ذی القعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب
4 قتال کے مخصوص احکام — بنیادی حکم — ان مہینوں میں جنگ و جدال کرنا اور خونریزی کرنا بڑا گناہ اور جرم ہے۔
5 قتال کے مخصوص احکام — بڑا گناہ — قرآن نے واضح کیا کہ مسلمانوں سے دین حق چھیننا، مسجدِ حرام سے روکنا اور لوگوں کو نکالنا اللہ کے نزدیک ان مہینوں کی بے حرمتی سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔
6 قتال کے مخصوص احکام — دفاعی اجازت (قصاص) — اگر کافر یا دشمن ان مہینوں کی حرمت کو خود توڑ دیں اور مسلمانوں پر حملہ کریں، تو مسلمانوں کو بھی جوابی کارروائی کا حق ہے کیونکہ حرمتوں کا بھی بدلہ (قصاص) ہے۔
19 سرگرمیاں

اعتکاف کے معنی ، اس کی اقسام ،احکامات اور فضائل لکھیں

اعتکاف کے معنی

1 لغوی معنی — کسی چیز کو لازم پکڑنا، اور شرع میں عبادت کی نیت سے مسجد میں ٹھہرنا ہے۔
2 اصطلاحی معنی — بشرائطِ شرعیہ اللہ کی عبادت کی نیت سے مسجد میں قیام کرنا۔
3 اعتکاف کی اقسام — واجب — نذر (منت) کا اعتکاف، جو منت ماننے سے لازم ہو جاتا ہے۔
4 اعتکاف کی اقسام — سنتِ مؤکدہ علی الکفاية — رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف (محلّے کے کسی ایک فرد کے کرنے سے سب کی طرف سے ادا ہو جاتا ہے)۔
5 اعتکاف کی اقسام — نفل — مسنون یا واجب کے علاوہ کسی بھی وقت چند گھنٹے یا چند دن کا اعتکاف (اس کے لیے روزہ شرط نہیں)۔
6 اہم احکامات — مقام — مردوں کے لیے صرف اس مسجد میں اعتکاف درست ہے جہاں باجماعت نماز ہوتی ہو، اور عورت کے لیے گھر کی مخصوص جگہ (مسجدِ بیت) میں ہے۔
7 اہم احکامات — شرائط — نیت، طہارت (باوضو رہنا)، اور مسنون/واجب اعتکاف کے لیے روزہ دار ہونا۔
8 اہم احکامات — مفسدات — بلا عذرِ شرعی مسجد سے باہر نکلنا، صحبت یا بیوی سے تعلق رکھنا، اور ایسا مرض جس سے اعتکاف ٹوٹ جائے۔
9 فضائل — گناہوں کی مغفرت — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اعتکاف کرنے والا گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اسے تمام نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔
10 فضائل — لیلۃ القدر کا حصول — رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کی وجہ سے شبِ قدر (لیلۃ القدر) کی عبادت کا یقینی موقع مل جاتا ہے۔
11 فضائل — اللہ کا قرب — بندہ دنیا کے جھمیلوں سے کٹ کر یکسو ہو کر اللہ کے دربار میں بیٹھ جاتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.