گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 4: سبق 4: سورۃ البقرہ (آیات 122 تا 163) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

اِذ ابتَلَى اِبرٰهِيمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ‌ ؕ قَالَ اِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا‌ ؕ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي‌ ؕ قَالَ لَا يَنَالُ عَهدِي الظَّالِمِينَ‏ ۔

آیت کریمہ کی رو سے سیدنا ابراہیم ؑ کو کیاخطاب دیا گیا؟

ترجمہ

“اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا تو انہوں نے وہ پوری کر دکھائیں۔ اللہ نے فرمایا: میں تمہیں لوگوں کا امام (پیشوا) بنانے والا ہوں۔ ابراہیم نے عرض کیا: اور میری اولاد میں سے بھی؟ فرمایا: میرا یہ عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔”

سورہ البقرہ کی اس آیت کریمہ کی رو سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو امام (لوگوں کے لیے امام) کا خطاب دیا گیا ہے۔

اہم نکات

1 منصبِ امامت — اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تمام لوگوں کا امام مقرر کیا۔
2 آزمائش کا ذکر — حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب یہ رتبہ اپنی اولاد کے لیے بھی مانگا، تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ میرا یہ وعدہ ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔
2 مختصر جوابات

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ۔

آیت کریمہ میں شہر مکہ کے حوالے سے کیا دعا مانگی گئی؟

ترجمہ

“اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم نے عرض کیا: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے اور اس کے رہنے والوں میں سے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لائیں، انہیں طرح طرح کے پھلوں کا رزق عطا فرما۔ (اللہ نے) فرمایا: اور جو کفر کرے گا تو میں اسے بھی تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے دوں گا، پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف جانے پر مجبور کر دوں گا، اور وہ پلٹنے کی بہت بری جگہ ہے۔”

شہر مکہ کے حوالے سے مانگی گئی دعا کی تفصیل:

1 امن کی درخواست — حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے مکہ کو پُر امن شہر بنانے کی دعا کی تاکہ یہاں خون خرابہ اور لوٹ مار نہ ہو۔
2 رزق اور پھلوں کی دعا — آپ نے دعا کی کہ اس غیر آباد اور بے آب و گیاہ وادی میں رہنے والوں کے لیے دنیا کی نعمتیں اور مختلف قسم کے پھل بطورِ رزق مہیا کیے جائیں۔
3 اہلِ ایمان کے ساتھ تخصیص — آپ نے یہ دعا بالخصوص ان لوگوں کے لیے کی جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لانے والے ہوں، تاہم اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق اور دنیا کا فائدہ کافر کو بھی عارضی طور پر ملے گا, لیکن آخرت میں ہر ایک کا انجام اس کے عمل کے مطابق ہوگا۔
3 مختصر جوابات

وَوصَّىٰ بِهَآ إِبْرَٰهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَٰبَنِيَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰ لَكُمُ ٱلْدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ۔

آیت کریمہ میں سیدنا ابراہیم ؑ کی کس وصیت کا ذکر ہے ؟

ترجمہ

اور اسی (دین) کی وصیت کی تھی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے بھی (کہ) اے میرے بیٹو! بے شک اللہ نے تمہارے لیے یہی دین (اسلام) پسند فرمایا ہے، تو تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔

اس آیت کریمہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس وصیت کا ذکر ہے جس میں انہوں نے اپنی اولاد کو دینِ اسلام (فرمانبرداری اور توحید) پر ثابت قدم رہنے اور صرف حالتِ اسلام میں ہی موت آنے کی دعا و تلقین کی تھی۔

1 دینِ الٰہی کا انتخاب — اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہی دین (اسلام) پسند فرما لیا ہے۔
2 ثابت قدمی کی تلقین — موت جب بھی آئے، صرف مسلمان کی حیثیت سے آئے۔
4 مختصر جوابات

الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْؕ-وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ

آیت کریمہ کی رو سے یہود نبی ﷺ کو کیسے پہچانتے تھے؟

ترجمہ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا فرمائی ہے، وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتا ہے۔

جواب آیت کے مطابق یہود نبی ﷺ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے تھے، کیونکہ تورات میں آپ ﷺ کا حلیہ اور ہجرت کی علامات موجود تھیں۔ ان میں سے ایک گروہ جان بوجھ کر اس حق کو چھپاتا تھا۔ اس آیت کی تفسیر کے مطابق یہود کو آپ کی نبوت کا مکمل یقین تھا۔
5 مختصر جوابات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ۔

آیت میں اہل ایمان کو کیا تلقین کی گئی ہے؟

ترجمہ

“اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ساتھ مدد حاصل کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”

اہم نکات

1 صبر کی تلقین — مشکلات اور مصائب میں حوصلہ اور استقامت رکھنے کا حکم۔
2 نفس کی خواہشات اور گناہوں کے سامنے ڈٹ جانے کی ہدایت۔
3 نماز کی تلقین — ہر پریشانی میں نماز کے ذریعے روحانی مدد مانگنا اللہ سے تعلق مضبوط کرنے اور سکون پانے کا ذریعہ ۔
4 اللہ کی معیت — صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی خاص رحمت اور مدد کا وعدہ۔
6 مختصر جوابات

الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

آیت کریمہ میں مصیبت آنے پر کیا ہدایت دی گئی ہے؟

ترجمہ

وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

اہم ہدایات و نکات

1 صبر کا اظہار — مصیبت کے وقت گھبرانے یا ناشکری کرنے کے بجائے اللہ کے فیصلے پر راضی رہنے کا درس۔
2 رجوع الی اللہ — یہ اقرار کرنا کہ انسان اور اس کا سب کچھ اللہ کی ملکیت ہے اور سب کو اسی کے پاس واپس جانا ہے۔
3 اجر و تسلی — اس کلمے کو پڑھنے سے انسان کو دلی سکون ملتا ہے اور اللہ کی طرف سے بہترین اجر کی بشارت ملتی ہے
7 مختصر جوابات

انَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ۔

آیت میں کفر کی حالت پر مرنے والوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ کافر ہی تھے، تو انہی لوگوں پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔

انجام کی تفصیل اور اہم نکات

1 اللہ کی لعنت — کافر اور حق کا انکار کرنے والے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور قرب سے ہمیشہ کے لیے دور کر دیے جاتے ہیں۔
2 فرشتوں کی لعنت — آسمانی فرشتے بھی ایسے بدبخت لوگوں پر لعنت بھیجتے ہیں جو کفر کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔
3 انسانوں کی لعنت — تمام انسان (یا مومنین) بھی قیامت کے دن یا اپنی اِس حالتِ زار پر اُن سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اُن پر لعنت کرتے ہیں۔
4 برے خاتمے کی سزا — اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ کفر پر مرنا انسان کے لیے سب سے بڑی بدبختی اور ابدی عذاب کا پروانہ ہے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ۖ وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَرُّكَّعِ السُّجُودِ

آیت کو ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (خانہ کعبہ) کو لوگوں کے لیے رجوع اور اجتماع کا مرکز اور جائے امن بنایا، اور حکم دیا کہ مقامِ ابراہیم کو جائے نماز بنا لو، اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرے اس گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھو۔

مفہوم اور تشریح

1 مرجع اور امن کی جگہ — بیت اللہ (خانہ کعبہ) کو اللہ تعالیٰ نے ایسا محبوب مرکز بنایا ہے کہ لوگ بار بار کھینچ کر یہاں آتے ہیں اور دلوں کا شوق کبھی کم نہیں ہوتا۔ یہ امن کا گہوارہ ہے جہاں ہر قسم کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔
2 مقامِ ابراہیم — اس سے وہ مبارک پتھر مراد ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تھی۔ طواف کے بعد اس مقام کے پاس دو رکعت نفل پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
3 گھر کی پاکیزگی — حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو حکم دیا گیا کہ اس گھر کو ظاہری گندگی، بت پرستی اور شرک کی آلودگیوں سے بالکل پاک رکھیں تاکہ عبادت گزار یکسو ہو کر طواف، اعتکاف اور نماز ادا کر سکیں۔
9 تفصیلی جوابات

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠

آیت میں رسول ﷺ کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

اے ہمارے رب! اور ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتوں کی تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب پاکیزہ فرما دے۔ بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔

رسول اکرم ﷺ کی صفات (آیت کی روشنی میں)

1 منہم (انہی میں سے ہونا) — آپ ﷺ کا اسی قوم اور بشر میں سے ہونا تاکہ لوگ آپ کے حالات، سچائی اور زبان سے پوری طرح مانوس اور مطمئن ہوں۔
2 یتلوا علیہم آیاتک (آیات کی تلاوت کرنا) — لوگوں کو اللہ تعالی کے احکامات اور قرآن مجید کے الفاظ پڑھ کر سنانا۔
10 تفصیلی جوابات

قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ﴾

آیت کو ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

(اے مسلمانو!) کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس (کتاب) پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو (صحیفے یا احکام) ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد (اسباط) کو دیئے گئے، اور جو کچھ موسیٰ اور عیسیٰ کو ملا اور جو کچھ تمام نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے عطا ہوا۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (اللہ) کے فرمانبردار (مسلمان) ہیں۔

مفہوم و تشریح

1 جامع ایمان — اس آیت میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت اور تمام انبیاءِ کرام (علیہم السلام) پر بغیر کسی تفریق کے ایمان لائیں۔
2 انبیاء میں عدم تفریق — اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تمام انبیاء کو سچا مانتے ہیں، بعض کو ماننا اور بعض کا انکار کرنا کفر ہے۔ ہم کسی ایک پیغمبر کو بھی جھٹلاتے نہیں۔
3 اطاعت و فرمانبرداری — آخری جملہ “ونحن له مسلمون” اس بات کا اقرار ہے کہ ہمارا دین اسلام ہے اور ہم نے اپنی گردنیں صرف اللہ کے حکم کے آگے جھکائی ہوئی ہیں۔
11 تفصیلی جوابات

وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِنْ لَا تَشْعُرُونَ

آیت میں اللہ کے راستے میں جان دینے والوں کے بارے میں کیا فرمایا ؟

ترجمہ

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہو کہ یہ مُردہ ہیں، (وہ مُردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں ۔

اللہ کے راستے میں جان دینے والوں (شہداء) کے بارے میں فرمانِ الٰہی کے اہم نکات:

1 مُردہ نہ کہنے کی ممانعت — زبان یا دل سے بھی یہ گمان یا اعلان کرنے سے سختی سے روکا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے ختم ہو گئے یا مر گئے ۔
2 حقیقی زندگی — انہیں عالمِ برزخ میں ایک خاص اور حقیقی زندگی حاصل ہوتی ہے۔
3 انسانی ادراک کی محدودیت — عام انسان اپنی ظاہری حواس کے ذریعے اس پُراسرار اور اعلیٰ حیات کا ادراک یا احساس نہیں کر سکتے، اسی لیے فرمایا گیا کہ “تم شعور نہیں رکھتے”۔
12 تفصیلی جوابات

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِيْ وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِيْ عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۔

آیت کو ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور اے حبیب! تم جہاں سے آؤ اپنا منہ مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) کی طرف کرو، اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں بھی ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو تاکہ لوگوں کے پاس تمہارے خلاف کوئی دلیل یا اعتراض نہ رہے، سوائے ان ظالموں کے جو ان میں سے ناانصافی کرتے ہیں، تو تم ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرو۔ اور (یہ حکم اس لیے ہے) تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں اور تاکہ تم سیدھی راہ پاؤ۔

مفہوم و تشریح

1 قبلہ کی حتمی تعیین — اس آیت میں تیسری بار اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ نماز کے وقت حضور اکرم ﷺ اور تمام مسلمانوں کو خواہ وہ کہیں بھی ہوں، اپنا رخ خانہ کعبہ (مسجدِ حرام) کی طرف ہی رکھنا ہے۔
2 اعتراضات کا ازالہ — بیت المقدس سے کعبہ کی طرف قبلہ تبدیل کرنے پر یہود اور مشرکینِ مکہ طرح طرح کے اعتراضات اور طعنے دیتے تھے۔ اس حکمِ الٰہی کے بعد مخالفین کے تمام بہانے اور اعتراضات ختم ہوگئےکہ اب مسلمانوں کا قبلہ وہ ابراہیمی قبلہ ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
3 صرف اللہ کا خوف — جو لوگ ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اب بھی اعتراض کرتے ہیں، وہ ظالم ہیں۔ اللہ نے مسلمانوں کو ہدایت دی کہ ان مخالفین کے طعنوں یا غصے سے نہ ڈرو، بلکہ صرف اللہ کی ناراضی سے ڈرو اور اسی کے احکام کی پابندی کرو۔
4 اتمامِ نعمت اور ہدایت — قبلہ کے اس اسلامی اور متفقہ حکم کو ماننا اللہ کی عظیم نعمت کی تکمیل ہے، جو مسلمانوں کو دنیا و آخرت میں سیدھی راہ (ہدایت) پر گامزن رکھتی ہے۔
13 تفصیلی جوابات

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ

آیت میں اہل ایمان کو کن کن اشیاء سے آزمائے جانے کا ذکر ہے ؟

ترجمہ

“اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔”

اس آیت مبارکہ میں درج ذیل پانچ چیزوں کے ذریعے امتحان کا ذکر کیا گیا ہے۔

1 الخوف (خوف/ڈر) — دشمن کا خوف یا زندگی میں پیش آنے والے خطرات۔
2 الجوع (بھوک) — قحط سالی یا کھانے پینے کی تنگ دستی۔
3 نقص من الأموال (اموال کا نقصان) — کاروبار میں خسارہ، غلہ یا مال و دولت کا ضائع ہونا۔
4 الأنفُس (جانوں کا نقصان) — پیاروں، عزیز و اقارب یا دوست احباب کی وفات اور شہادت۔
5 الثَّمَرات (پھلوں/پیداوار کی کمی) — باغوں، فصلوں اور زرعی پیداوار میں گھاٹا یا نقصان۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

سورہ البقرہ میں انبیاء کی دعائیں مع ترجمہ مع حوالہ تحریر کریں

سورہ البقرہ میں انبیاء کرام کی چند اہم دعائیں درج ذیل ہیں: حضرت ابراہیمؑ کی دعا، حضرت آدمؑ کی دعا اور حضرت یعقوبؑ کی اولاد کی دعا۔

1 حضرت آدمؑ کی دعا (توبہ اور مغفرت) — رَبَّنَا ظَلَمنَا اَنفُسَنَا وَاِن لَّم تَغفِر لَنَا وَتَرحَمنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الخٰسِرِينَ (سورۃ البقرہ: 23)
2 حضرت آدمؑ کی دعا (توبہ اور مغفرت) — “اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔”
3 حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی دعا (قبولیت اور اطاعت) — رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرحیم۔ (سورۃ البقرہ: 128)
4 حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی دعا (قبولیت اور اطاعت) — “اے ہمارے رب! ہم دونوں کو اپنا فرماں بردار بنا، اور ہماری اولاد سے بھی ایک امت فرماں بردار اپنی بنا، اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے سکھا، اور ہماری توبہ قبول کر؛ بے شک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔”
5 حضرت ابراہیمؑ کی دعا (شہر مکہ کے لیے امن اور رزق) — رَبِّ اجعَل هٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَّرزُق اَهلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ (سورۃ البقرہ: 126)
6 حضرت ابراہیمؑ کی دعا (شہر مکہ کے لیے امن اور رزق) — “اے میرے رب! اس جگہ کو امن والا شہر بنا اور یہاں کے رہنے والوں کو پھلوں سے رزق دے۔”
15 سرگرمیاں

رزق حلال کی اہمیت پر تین احادیث لکھیں

رزق حلال کی اہمیت اور فضیلت پر احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں: حلال کمائی فرائض کے بعد اہم فریضہ ہے، پاکیزہ خوراک قبولیت دعا کا ذریعہ ہے، اور اپنے ہاتھ کی محنت سب سے بہتر کمائی ہے۔

1 پہلی حدیث (حلال کی تلاش فرض کے بعد فریضہ) — طَلَبُ كَسْبِ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ (فرائضِ دین کی ادائیگی کے بعد حلال رزق تلاش کرنا بھی ایک فرض ہے)۔ (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا)
2 دوسری حدیث (پاک خوراک اور قبولیتِ دعا) — أطِبْ طَعْمَكَ تَكُنْ مُسْتَجَابَ الدَّعْوَةِ (اپنی خوراک کو پاک صاف رکھو، مستجاب الدعوات [جس کی دعا قبول ہو] ہو جاؤ گے)۔ (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
3 تیسری حدیث (ہاتھ کی کمائی کی فضیلت) — مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عمَلِ يَدِهِ (کسی شخص نے کبھی اس سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو وہ اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھائے)۔ (مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا)
16 سرگرمیاں

ہمیں کیسے لوگوں کو اپنا رہ نما اور پیشوا بنانا چاہیے؟

ہمیں ایسے لوگوں کو اپنا رہنما اور پیشوا بنانا چاہیے جو علم و حکمت، تقویٰ و پرہیزگاری، اور سچائی و امانت داری کے پیکر ہوں۔ ان کی بنیادی خوبیاں درج ذیل ہیں:

اچھے رہنما کی خوبیاں

1 علم اور بصیرت — جو دین اور دنیا کی درست سمجھ رکھتے ہوں اور اندھی تقلید کی بجائے دلیل سے بات کریں۔
2 کردار اور امانت — جو اپنے قول و فعل میں سچے ہوں، وعدہ پورا کریں اور جھوٹ یا خیانت سے پاک ہوں۔
3 خلوص اور خدمت کا جذبہ — جو ذاتی فائدے یا لالچ کے بغیر لوگوں کی بھلاہی اور خدمت کے لیے کام کریں۔
4 عاجزی اور انصاف — جو طاقتور ہو کر بھی عاجز رہیں اور سب کے ساتھ انصاف کا برتاؤ کریں۔
17 سرگرمیاں

سیدنا ابراہیمؑ کے قصے کے اہم نکات اور عملی نکات لکھیں

سیدنا ابراہیمؑ کا قصہ توحید کی خاطر عظیم قربانیوں، نمرود کے مقابلے، اور اللہ کی دوستی (خلیل اللہ) کی روشن مثال ہے۔ اس کے اہم نکات میں بت شکنی اور آگ کا معجزہ، ہجرت اور قربانی کا امتحان، اور خانہ کعبہ کی تعمیر شامل ہیں۔

1 اہم واقعات اور منازل — توحید کی دعوت اور بت شکنی — آپؑ نے اپنے والد آزر اور قوم کو بت پرستی سے روکا اور اکیلے ہی ان کے بڑے بتوں کو توڑ کر حق کا اعلان کیا۔
2 اہم واقعات اور منازل — آگ کا معجزہ — بت توڑنے پر جابر بادشاہ نمرود نے آپؑ کو جلتی ہوئی آگ میں ڈالا، مگر اللہ کے حکم سے وہ آگ آپؑ کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی بن گئی۔
3 اہم واقعات اور منازل — راہِ خدا میں ہجرت — آپؑ نے دین کی خاطر اپنا وطن عراق چھوڑا اور شام، فلسطین اور حجاز کی طرف ہجرت کی۔
4 اہم واقعات اور منازل — خانہ کعبہ کی تعمیر — آپؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کے ساتھ مل کر مکہ میں خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھائیں اور حج کی دعوت دی۔
5 اہم واقعات اور منازل — عظیم قربانی — خواب میں بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کا حکم ملنے پر دونوں نے سرِ تسلیم خم کیا، جسے اللہ نے فدیے کے ساتھ ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید بنا دیا۔
6 اہم واقعات اور منازل — (ب) سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قصے سے ملنے والے اہم عملی نکات درج ذیل ہیں، جنہیں ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اپنا سکتے ہیں
7 حق اور سچائی پر ڈٹ جانا — تنہا کھڑے ہونے کا حوصلہ — جب پوری قوم شرک میں مبتلا تھی، آپؑ اکیلے حق پر قائم رہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ اگر دنیا میں سب لوگ غلط راستے پر ہوں، تب بھی آپ کو اکیلے سچے راستے پر چلنے کی جرات کرنی چاہیے۔
8 حق اور سچائی پر ڈٹ جانا — باطل کے سامنے نڈر ہونا — جابر بادشاہ نمرود کے سامنے بغیر کسی خوف کے کلمہ حق کہنا سکھاتا ہے کہ طاقتور کے سامنے بھی سچ بولنے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔
9 اللہ پر کامل توکل (بھروسہ) — نتائج اللہ پر چھوڑنا — جب آپؑ کو آگ میں ڈالا جا رہا تھا، تو آپؑ نے مخلوق سے مدد مانگنے کے بجائے فرمایا “حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَکِيلُ” (ہمیں اللہ کافی ہے)۔ عملی زندگی میں اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے حصے کی محنت کرے اور نتیجہ اللہ کے فیصلے پر چھوڑ دے۔
10 بہترین خاندانی تربیت اور فرماں برداری — اولاد کی تربیت — جب حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کو قربانی کا خواب سنایا، تو بیٹے نے فوراً تسلیم کیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپؑ نے اپنے بیٹے کی ایسی بہترین تربیت کی تھی کہ وہ بھی اللہ کی رضا پر راضی ہو گئے
11 بہترین خاندانی تربیت اور فرماں برداری — باہمی مشاورت — اہم ترین فیصلے میں بھی آپؑ نے اپنے جوان بیٹے سے رائے مانگی۔ یہ سکھاتا ہے کہ گھر کے معاملات میں بچوں کو شامل کرنا اور ان کی رائے لینا ایک بہترین نبوی طریقہ ہے۔
12 مسلسل جدوجہد اور قربانی کا جذبہ — کمفرٹ زون سے نکلنا — اللہ کے حکم پر اپنا وطن چھوڑنا، اور پھر اپنی بیوی اور معصوم بچے کو مکہ کے بے آب و گیاہ ریگستان میں چھوڑ آنا یہ سکھاتا ہے کہ اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے بعض اوقات اپنے آرام، مال اور پیاروں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔
13 تعمیری سوچ اور مستقبل کی فکر — مستقبل کی نسلوں کے لیے دعائیں — خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت آپؑ نے صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کی ہدایت، امن اور رزق کے لیے دعائیں مانگیں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کو خود غرض نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اپنی اگلی نسلوں کے ایمان اور مستقبل کی فکر کرنی چاہیے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.