گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 3: سبق 3: سورۃ البقرہ (آیات 83 تا 121) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنكُمْ وَأَنتُم مُّعْرِضُونَ

آیات کریمہ میں کیا ہدایات دی گئی ہیں ؟

ترجمہ

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اور رشتے داروں، یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھی (بھلائی کرنا)، اور لوگوں سے اچھی بات کہنا، اور نماز قائم رکھنا، اور زکوٰۃ دینا۔ پھر تم میں سے چند افراد کے سوا سب پھر گئے اور تم روگردانی کرنے والے ہو۔

آیات کریمہ میں دی گئی اہم ہدایات

1 توحیدِ باری تعالیٰ — اللہ کے سوا کسی کو معبود نہ سمجھنا اور صرف اسی کی عبادت کرنا۔
2 حسنِ سلوکِ والدین — ماں باپ کے ساتھ ہمیشہ اچھا، فرمانبردارانہ اور مہربان رویہ رکھنا۔
3 رشتہ داروں اور کمزوروں کا خیال — قریبی رشتہ داروں، یتیموں (فیملی کے بغیر بچوں) اور مسکینوں (محتاجوں) کی مالی و اخلاقی مدد کرنا۔
4 شایستہ گفتگو (قولِ حسن) — تمام انسانوں کے ساتھ نرمی، خوش اخلاقی اور اچھی بات زبان پر لانا
5 عبادت اور مالی حقوق — نماز کو باقاعدگی سے قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا
2 مختصر جوابات

بِئسَمَا ٱشتَرَواْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُم أَن يَكفُرُواْ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بَغيًا أَن يُنَزِّلَ ٱللَّهُ مِن فَضلِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِن عِبَادِهِۦۖ فَبَآءُو بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٖ وَلِلكَٰفِرِينَ عَذَاب مُّهِينٞ ﴿۹۰﴾

آیت کریمہ میں کس چیزکو برا کہا گیا ہے؟

ترجمہ

بہت بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا کہ اللہ کی نازل کردہ چیز (قرآن) کے ساتھ محض اس حسد سے کفر کرنے لگے کہ اللہ نے اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہا (وحی) نازل فرمائی۔ پس وہ غضب در غضب کے مستحق ہو گئے اور ان کافروں کے لیے ذلت آمیز عذاب ہے۔

آیت کریمہ میں کس چیز کو برا کہا گیا ہے؟

1 جانوں کا برا سودا — اس آیت میں یہودیوں کے اس عمل کو “بئسما اشتروا به أنفسهم” (انہوں نے اپنی جانوں کا کتنا برا بدلہ یا سودا کیا) کہہ کر برا کہا گیا ہے کہ انہوں نے ہدایت اور ایمان کے مقابلے میں کفر کو خریدا۔
2 حسد اور جلن — اس بات کو برا قرار دیا گیا ہے کہ وہ محض اس حسد اور بغض کی وجہ سے اللہ کی آخری کتاب (قرآن کریم) اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے منکر ہو گئے کہ اللہ تعالی نے اپنی نبوت و رحمت کا فضل بنی اسرائیل کے بجائے کسی اور (یعنی بنی اسماعیل سے تعلق رکھنے والے آخری رسول ﷺ) پر کیوں نازل فرمایا۔
3 مختصر جوابات

وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ

آیت میں جادوگروں سے متعلق کیا حقیقت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

اور وہ اس کے ذریعے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے اللہ کے اذن کے بغیر۔

جادوگروں اور جادو سے متعلق اہم حقائق

1 اللہ کا اذن — جادوگر اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
2 خسارہ — جادو سیکھنا اور سکھانا دنیا و آخرت میں سراسر نقصان اور کفر ہے۔
3 خاندانی انتشار — جادو کا اصل مقصد میاں بیوی کے درمیان جدائی اور فتنے پیدا کرنا ہے۔
4 مختصر جوابات

وَاَقِيمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ ؕ وَمَا تُقَدِّمُوا لِاَنفُسِكُم مِّن خَيرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللّٰهِ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعمَلُونَ بَصِيرٌ ۔

آیت کریمہ میں بھلائی کے متعلق کیا بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور جو بھلائی بھی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے، بیشک اللہ تمہارے سب کام دیکھ رہا ہے۔

آیت کریمہ میں بھلائی (خير) کے متعلق بیان

1 نیکیوں کا محفوظ رہنا — جو بھی نیک عمل، صدقہ یا بھلائی انسان دنیوی زندگی میں آگے (آخرت کے لیے) بھیجتا ہے، وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے پاس مکمل محفوظ اور موجود ملتا ہے۔
2 ذاتی نفع: “لأنفسكم” — (تمہاری اپنی جانوں کے لیے) کے الفاظ سے واضح کیا گیا کہ نیکی کا اصل فائدہ خود کرنے والے کو ہی ملتا ہے۔
3 نگرانیِ الٰہی — آخر میں “بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ” فرما کر یہ باور کرایا گیا کہ انسان کا ذرہ ذرہ عمل اللہ تعالیٰ کی نگراں نظروں کے سامنے ہے، لہٰذا ہر بھلائی کا بہترین بدلہ بروقت ملے گا۔
5 مختصر جوابات

وَ مَنْ اَظلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَن یُّذکَرَ فِیہَا اسمُہٗ وَ سَعٰی فِی خَرَابِھا

آیت کریمہ میں کس کو بڑا ظالم کہا گیا ہے؟

ترجمہ

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اس بات سے روکے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے!

آیت کریمہ میں کس کو بڑا ظالم کہا گیا ہے؟

جواب اس آیت میں اس شخص کو سب سے بڑا ظالم قرار دیا گیا ہے جو اللہ تعالی کے عبادت خانوں اور مساجد میں اللہ کے ذکر (نماز، تلاوت اور عبادت) سے لوگوں کو روکے اور عملاً ان مساجد کو ویران کرنے یا برباد کرنے کی کوشش کرے (خواہ وہ ظاہری طور پر توڑ پھوڑ کر کے ہو یا معنوی طور پر عبادت گزاروں کو داخلے سے منع کر کے). مفسرین کے نزدیک اس کا مصداق وہ مشرکینِ مکہ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو مسجد الحرام سے روکا تھا، یا وہ رومی عیسائی ہیں جنہوں نے بیت المقدس کو ویران کیا تھا.
6 مختصر جوابات

و اذا قضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون ۔

آیت میں اللہ کی کیا شان بیان ہوئی ہے؟

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اور جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے صرف یہ کہتا ہے کہ 'ہو جا' تو وہ ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی شان اور تشریح

1 قدرتِ کاملہ — اللہ کا ارادہ حتمی اور قطعی ہے؛ جو وہ چاہے وہ فوراً ہو جاتا ہے۔
2 بے محنت تخلیق — کائنات کی ہر شے اس کے ایک حکم “کن” (ہو جا) کی محتاج ہے۔
3 لامحدود اختیار — کسی بھی چیز کا وجود میں آنا اس کے حکم کے ساتھ ہی فورا عمل میں آ جاتا ہے۔
7 مختصر جوابات

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِیرًا وَنَذِیرًا۔

آیت کریمہ میں نبی کریمﷺ کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

“بے شک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔”

اس آیت کریمہ میں نبی کریمﷺ کی صفات بشیر (خوشخبری دینے والا) اور نذیر (ڈرانے والا) بیان ہوئی ہیں

صفات کی وضاحت

1 بشیر (خوشخبری دینے والا) — آپﷺ نے ایمان لانے اور اچھے کام کرنے والوں کو جنت اور اللہ کی رضا کی خوشخبری دی۔
2 نذیر (ڈرانے والا) — آپﷺ نے کفر اور برے کام کرنے والوں کو اللہ کے عذاب اور جہنم سے ڈرایا۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

أُوْلَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُوا۟ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا بِالاءَخِرَةِ ۖ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ۔

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی، پس نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔

مفہوم و تشریح

1 دین کے احکامات میں تفریق کرنے اور دنیاوی مفاد کو ترجیح دینے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔
2 جنہوں نے اللہ کے احکام میں سے اپنی مرضی کی باتیں مانیں اور باقی چھوڑ دیں، ان کا ٹھکانہ ذلت اور سخت عذاب ہے۔
3 آخرت کے دائمی اجر کو چھوڑ کر فانی دنیا کو خریدنے والوں کو روزِ جزا نہ عذاب میں تخفیف ملے گی اور نہ کوئی بچانے والا ہوگا۔
9 تفصیلی جوابات

و کانو امن قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جاء ھم ما عرفوا کفروا بہ

آیت کریمہ کی رو سے نبی کریمﷺسے پہلے اور بعد میں یہود کا کیا طرز عمل رہا؟

آیت کے مطابق، نبی کریمﷺ سے پہلے یہود کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ آپﷺ کے واسطے سے کافروں پر فتح کی دعا مانگتے تھے، لیکن آپﷺ کی آمد کے بعد جب وہ نشانیوں سے آپ کو پہچان گئے تو انہوں نے حسد اور ضد کی وجہ سے آپ کا انکار کر دیا۔

نبی کریمﷺ سے پہلے یہود کا طرز عمل اور نبی کریمﷺ کے بعد یہود کا طرز عمل

1 نبی کریمﷺ سے پہلے یہود کا طرز عمل — فتح کی دعا — وہ اپنی کتابوں میں آخری نبیﷺ کی آمد کا علم رکھتے تھے اور جنگوں میں کافروں کے خلاف آپﷺ کے نام کا واسطہ دے کر فتح کی دعا کرتے تھے۔
2 نبی کریمﷺ سے پہلے یہود کا طرز عمل — انتظار — وہ اس بات کے منتظر تھے کہ وہ نبی آئیں گے اور وہ ان کے ساتھ مل کر کافروں کو شکست دیں گے۔
3 نبی کریمﷺ کے بعد یہود کا طرز عمل — پہچان کے باوجود انکار — جب وہ نبی کریمﷺ تشریف لائے اور وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں جو وہ پہلے سے جانتے تھے، تو انہوں نے ماننے کے بجائے کفر کیا۔
4 نبی کریمﷺ کے بعد یہود کا طرز عمل — حسد اور بغض — انہوں نے اس بات پر انکار کیا کہ آخری نبی ان کی اپنی نسل (بنی اسرائیل) میں کیوں نہیں آئے، اور حسد کی راہ اپنائی۔
10 تفصیلی جوابات

قُل إِن كَانَت لَكُمُ ٱلدَّارُ ٱلاٰخِرَةُ عِندَ ٱللَّهِ خَالِصَةً مِّن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُاْ ٱلمَوتَ إِن كُنتُم صَادِقِينَ۔

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

آپ کہہ دیجیے کہ اگر اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر صرف تمہاری ہی خاص ملکیت ہے، تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔

مفہوم

جواب اس آیت میں یہودیوں کے اس دعویٰ کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں اور جنت صرف انہی کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تمہارا یہ دعویٰ سچا ہے کہ آخرت کا گھر صرف تمہارے لیے ہے، تو تم شوق سے موت کی آرزو کرو۔ چونکہ وہ جانتے تھے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی نافرمانیاں کی ہیں اور وہ آخرت میں اپنے انجام سے ڈرتے تھے، اس لیے وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے، جس سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ

آیت کریمہ میں یہود کی کس خواہش کا بیان ہے

ترجمہ

“اور (اے نبی!) آپ انہیں سب لوگوں سے بڑھ کر دنیا کی زندگی کا حریص پائیں گے، یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی زیادہ (وہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں)۔ ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش اسے ہزار برس کی عمر دی جائے، حالانکہ اتنی لمبی عمر مل جانا بھی اسے (اللہ کے) عذاب سے دور نہیں کر سکتا۔ اور اللہ ان کے کاموں کو خوب دیکھ رہا ہے”

یہود کی خواہش کا بیان

جواب اس آیت کریمہ میں یہود کے اس مذموم رویے اور حرص کا تذکرہ ہے کہ وہ موت سے شدید خوفزدہ اور دنیا کی زندگی (خواہ وہ کیسی ہی ذلیل یا محکومانہ ہو) سے پیار کرنے میں تمام لوگوں، یہاں تک کہ شرک کرنے والوں سے بھی بہت آگے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک شخص یہ تمنا کرتا ہے کہ اسے کم از کم ایک ہزار سال کی طویل عمر مل جائے۔ قرآن نے واضح کیا کہ ان کی یہ خواہش کہ انہیں لمبی عمر مل جائے، انہیں آخرت کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ وہ اپنے اعمال بد اور حق سے روگردانی کی وجہ سے جانتے تھے کہ ان کا انجام کیا ہونا ہے، اس لیے وہ عذابِ آخرت کے ڈر سے ہر قیمت پر دنیا کی زندگی کو طول دینا چاہتے تھے۔
12 تفصیلی جوابات

ا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِھا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنہَااَوْ مِثلِھا ؕ اَلَم تَعلَم اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیرٌ ﴿۱۰۶﴾

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

جس آیت کو ہم منسوخ کردیں، یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں، کیا نہیں یہ جانتےکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

مفہوم و پس منظر

1 نسخ کا مطلب — کسی سابقہ شرعی حکم کو بعد والے حکم کے ذریعے ختم کرنا یا اس کی مدت پوری کر دینا۔
2 پس منظر — جب اسلام میں پچھلی شریعتوں کے بعض احکام بدلے گئے یا قرآن میں ایک حکم کے بعد دوسرا حکم آیا تو یہود اور کفار نے طعنے دیے اور اعتراض کیا کہ اللہ کی بات کیوں بدلتی ہے۔
3 حکمت — اللہ اپنے بندوں کی مصلحت اور سہولت کا پورا خیال رکھتا ہے؛ نیا حکم یا تو نفع اور ثواب کے لحاظ سے زیادہ بہتر ہوتا ہے یا بندوں کے لیے عمل میں اس جیسا ہوتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کائنات اور شریعت کے احکام میں تصرف کا پورا اختیار صرف اللہ کی ذات کو ہے کیونکہ وہ ہر شے پر قادر ہے۔
13 تفصیلی جوابات

وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ ۔

آیت میں یہود و نصاری کی کیا حقیقت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

“اور (اے نبی!) ہرگز آپ سے یہودی اور عیسائی راضی نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ آپ ان کے دین کی پیروی اختیار کر لیں۔ آپ فرما دیں کہ بیشک اللہ ہی کی ہدایت (اصل) ہدایت ہے۔ اور اگر آپ نے اپنے پاس علم آ جانے کے باوجود ان کی خواہشات کی پیروی کی، تو اللہ کے مقابلے میں نہ آپ کا کوئی دوست (حمایت کرنے والا) ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔”

یہود و نصاریٰ کی حقیقت

1 حق سے دوری اور ضد — یہود و نصاریٰ کی بنیادی فکری حقیقت یہ بتائی گئی کہ ان کا اختلافِ نظر محض علمی دلیل کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ وہ حق سے اس لیے کتراتے ہیں کہ وہ اسلام کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی مرضی کا دین چاہتے ہیں۔
2 دینِ اسلام سے دلی رضامندی کا عدمِ امکان — ان کی خصلت یہ واضح کی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں سے اس وقت تک خوش یا مطمئن نہیں ہو سکتے جب تک مسلمان اپنے دین کو چھوڑ کر ان کے طریقے اور نظریات نہ اپنا لیں۔
3 ہدایت کا انحصار — اس آیت میں واضح کیا گیا کہ انسانوں کے لیے من مانی خواہشات یا تبدیل شدہ مذاہب کوئی معیارِ حق نہیں ہیں، بلکہ اصل اور سچی ہدایت صرف وہ ہے جو اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

والدین کے ساتھ حسن سلوک پر تین احادیث لکھیں۔

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کے بارے میں تین احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں:

1 سب سے افضل عمل: — حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: “اللہ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا۔” میں نے عرض کیا: “پھر کون سا؟” فرمایا: “والدین کے ساتھ حسنِ سلوک۔
2 جنت کی کنجی: — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “وہ شخص ذلیل و خوار ہو، وہ شخص ذلیل و خوار ہو، وہ شخص ذلیل و خوار ہو (جس نے والدین کو پایا)۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا اور (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔
3 والدین کی رضامندی میں اللہ کی رضا: — نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: “اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضگی میں ہے
15 سرگرمیاں

نیز اولاد کی فرمابرداری کا واقعہ لکھیں

حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حکم پر قربانی کے لیے تیار ہو جانا، تاریخِ انسانی میں اولاد کی فرمانبرداری کا سب سے عظیم اور بے مثال واقعہ ہے۔

واقعہ کی تفصیلات

1 خوابِ ابراہیمی — حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسلسل تین رات خواب دیکھا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں۔
2 بیٹے سے مشورہ — حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا: “اے میرے پیارے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تم بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟”
3 فرمانبردار اولاد کا جواب — حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بغیر کسی جھجک اور خوف کے جواب دیا: “اے میرے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے، آپ اسے کر گزریے۔ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
4 تسلیم و رضا — جب والد نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا اور چھری چلانے لگے، تو اللہ پاک نے ان کی قربانی اور فرمانبرداری کو قبول فرما لیا۔
5 کامیابی کا صلہ — اللہ تعالیٰ نے جنت سے ایک دنبہ بھیج دیا جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح ہوا، اور یہ فرمانبرداری قیامت تک کے لیے سنتِ ابراہیمی (عید الاضحیٰ) بن گئی۔
16 سرگرمیاں

قرآن حکیم کے حقوق لکھیں ۔

قرآن حکیم کے بنیادی حقوق میں اس پر پختہ ایمان لانا، اس کی درست تلاوت کرنا اور اس کے احکام کو سمجھ کر زندگی میں نافذ کرنا شامل ہے۔

قرآن حکیم کے حقوق

1 تصدیق و ایمان — قرآن مجید کے کلامِ الٰہی ہونے پر دل سے مکمل یقین رکھنا۔
2 تلاوت — قواعد و آداب کے ساتھ روزانہ اس کی تلاوت کرنا۔
3 فہم و تدبر — اس کے معانی اور پیغامات کو غور و فکر سے سمجھنا
4 عمل — اس کی تعلیمات کے مطابق اپنی عملی زندگی کو ڈھالنا۔
5 تبلیغ و حفاظت — اس کا پیغام دوسروں تک پہنچانا اور اس کی حرمت کی حفاظت کرنا
17 سرگرمیاں

صلہ رحمی کی اہمیت قرآن و سنت کی روشنی میں لکھیں

اسلام میں صلہ رحمی (رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور تعلق جوڑنے) کو انتہائی بنیادی اور فرض مقام حاصل ہے۔ قرآن و سنت میں اس پر زور دیتے ہوئے اسے رزق اور عمر میں برکت کا ذریعہ، جب کہ قطع رحمی (رشتہ توڑنے) کو اللہ کی رحمت سے دوری اور شدید گناہ بتایا گیا ہے۔

قرآن مجید کی روشنی میں اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

1 قرآن مجید کی روشنی میں — اللہ کا حکم — سورۃ النساء کی پہلی آیت میں تقویٰ کے ساتھ رشتہ داروں (ارحام) کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
2 قرآن مجید کی روشنی میں — تعریفِ مومن — سورۃ الرعد (آیت 21) میں عقلمند اور نیک لوگوں کی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ ان رشتوں کو جوڑتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔
3 قرآن مجید کی روشنی میں — قطع رحمی کی وعید — سورۃ محمد (آیت 22-23) میں رشتہ داریاں توڑنے والوں پر لعنت اور ان کے اعمال کے ضائع ہونے کی سخت تنبیہ کی گئی ہے۔
4 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں — رزق اور عمر میں برکت — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہے کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور عمر لمبی ہو، تو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیے۔
5 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں — جنت کا حصول — ایک شخص نے جنت میں لے جانے والے اعمال کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے اللہ کی عبادت کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا حکم دیا۔
6 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں — اللہ کا وعدہ — (حدیثِ قدسی): اللہ تعالیٰ نے رحم (رشتہ) سے فرمایا کہ جو تجھے جوڑے گا، میں اسے جوڑوں گا اور جو تجھے توڑے گا، میں اس سے تعلق توڑ دوں گا۔
18 سرگرمیاں

ہاروت و ماروت اور جادو کے حوالے سے لکھیں

ہاروت اور ماروت بابل شہر کے دو فرشتے تھے جن کا ذکر قرآن پاک میں سورۃ البقرہ کی آیت 102 میں آیا ہے۔ وہ اللہ کے حکم سے لوگوں کی آزمائش کے لیے جادو سکھاتے تھے لیکن سکھانے سے پہلے وارننگ دیتے تھے کہ ہم صرف فتنہ ہیں، لہٰذا کافر نہ بنو۔

قرآنی پس منظر اور جادو کی حقیقت اور توہمات

1 قرآنی پس منظر — قرآن کے مطابق، یہ دونوں فرشتے بابل نامی جگہ پر موجود تھے۔
2 قرآنی پس منظر — وہ کسی کو بھی جادو سکھانے سے پہلے یہ نصیحت کرتے کہ ہم ایک آزمائش ہیں، تم کفر مت کرو۔
3 جادو کی حقیقت اور توہمات — جادو ایک حقیقت ہے لیکن اس کا نفع اور نقصان اللہ کی مرضی کے تابع ہے۔
4 جادو کی حقیقت اور توہمات — ہاروت و ماروت کے بارے میں عوام میں بعض اسرائیلی روایات بھی مشہور ہیں جن میں فرشتوں کی شان کے خلاف باتیں (جیسے معصیت یا شراب نوشی) منسوب کی جاتی ہیں، جو بے سند اور غلط ہیں۔
5 جادو کی حقیقت اور توہمات — اصل مقصد لوگوں کا امتحان تھا کہ وہ اس علم کو برے کاموں میں استعمال کرتے ہیں یا بچتے ہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.