گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 2: سبق 2: سورۃ البقرہ (آیات 40 تا 82) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

آیت کریمہ میں کن دو کاموں سے منع کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، جب کہ تم جانتے ہو۔

سورہ البقرہ کی آیت نمبر 42 میں دو کاموں سے منع کیا گیا ہے۔

1 حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط (مکس) کرنا
2 دیدہ و دانستہ حق کو چھپانا۔
2 مختصر جوابات

وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

آیت کریمہ میں بنی اسرائیل پر کن انعامات کا ذکر ہے ؟

ترجمہ

اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا، (کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا کی ہیں وہ کھاؤ۔ اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنا ہی نقصان کرتے رہے

بنی اسرائیل پر انعامات کی تفصیل

1 الغمام (بادل کا سایہ) — صحرائے سینا کی سخت دھوپ سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خاص بادلوں کا سایہ فراہم کیا۔
2 المن (من) — شہد یا برف کی طرح شیریں اور سفید خوراک جو آسمان سے اترتی تھی۔
3 السلوى (سلویٰ) — ایک قسم کے پرندے (بٹیر) جو بطورِ خوراک مہیا کیے گئے۔
3 مختصر جوابات

وَإِذْ قُلْتُمْ يَٰمُوسَىٰ لَن نَّصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍ وَٰحِدٍ فَٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ ٱلْأَرْضُ مِنْ بَقْلِهَا وَقِثَّآئِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ ٱلَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِٱلَّذِي هُوَ خَيْرٌ ٱهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُمْ مَا سَأَلْتُم وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلذِّلَّةُ وَٱلْمَسْكَنَةُ وَبَآءُو بِغَضَبٍ مِنَ ٱللَّهِ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلنَّبِيِّينَ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ

آیت کریمہ میں بنی اسرائیل پر کیا ملامت کی گئی ہے؟

ترجمہ

اور جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ! ہم ایک کھانے پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے، تو اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار یعنی اس کا ساگ، اس کے ککٹر، اس کا لہسن، اس کی دال اور اس کی پیاز اگائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز لینا چاہتے ہو؟ کسی شہر میں اترو، وہاں تمہیں وہ سب مل جائے گا جو تم مانگتے ہو۔ اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے، اور یہ اس نافرمانی اور سرکشی کا نتیجہ تھا جو وہ کرتے تھے۔

بنی اسرائیل پر کی جانے والی ملامت و اعتراضات

1 ناشکری اور بے صبری — بغیر محنت کے ملنے والے بہترین آسمانی طعام (من وسلویٰ) پر صبر نہ کرنا اور عام زمینی ترکاریوں کی فرمائش کرنا
2 بہتر کو کمتر سے بدلنا — عظیم نعمت کو چھوڑ کر پست اور عام چیزوں کا طلبگار ہونا۔
3 آیات الٰہی کا انکار — اللہ کے احکامات اور نشانیوں کی تکذیب کرنا۔
4 انبیاء کا ناحق قتل — ہدایت دینے والے انبیاء کرام کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانا اور انہیں شہید کرنا۔
5 سرکشی اور نافرمانی — حدود اللہ کو پامال کرنا اور گناہ کی زندگی پر اصرار کرنا۔
4 مختصر جوابات

قَالُواْ ٱدعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَة لَّا فَارِض وَلَا بِكرٌ عَوَانُ بَينَ ذَٰلِكَ فَٱفْعَلُواْ مَا تُؤْمَرُونَ ۔

آیت کریمہ میں بنی اسرائیل کو جس گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا اس کی کیا نشانیان بیان کی گئی ہیں؟

ترجمہ

انہوں نے کہا: “آپ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ وہ گائے کیسی ہو؟” (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: “بلاشبہ وہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہے جو نہ تو بوڑھی ہو اور نہ بالکل کم عمر (بچھیا)، بلکہ ان دونوں کے درمیانی (جوان) عمر کی ہو۔ پس اب وہ کام کر ڈالو جس کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے

گائے کی نشانیاں (آیت 68 اور ماقبل و مابعد کے تناظر میں)

1 عمر — گائے نہ تو زیادہ بوڑھی ہو اور نہ ہی بالکل نو عمر بچی، بلکہ درمیانی (جوان) عمر کی ہو۔
2 رنگ (اگلی آیت 69 میں) — گہری زرد (پیلی) رنگت جو دیکھنے والوں کو بھلی اور خوش کرنے والی ہو۔
3 محنت سے پاک (اگلی آیت 71 میں) — وہ زمین میں ہل چلانے کے لیے نہ جوتی گئی ہو اور نہ ہی کھیتی کو پانی دینے کے لیے استعمال ہوئی ہو۔
4 عیب سے پاک (آیت 71 میں) — تندرست اور بے عیب ہو، جس پر کوئی دوسرا داغ یا نشان نہ ہو
5 مختصر جوابات

فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسَبُونَ

آیت کریمہ میں کن لوگوں کی ہلاکت کا ذکر ہے؟

ترجمہ

پس خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کریں۔ پس خرابی ہے ان کے لیے اس چیز سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھی، اور خرابی ہے ان کے لیے اس چیز سے جو وہ کماتے ہیں۔

اس آیت میں اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر اسے اللہ کی طرف سے بتانے والوں کی ہلاکت کا ذکر ہے۔

ہلاکت کا ذکر

1 جھوٹے کاتب — وہ علماء اور یہود جنہوں نے اپنے ہاتھ سے تورات میں ردوبدل کیا اور احکام کو بدلا۔
2 دفتری فریب — انہوں نے خود ساختہ باتوں کو اللہ کا حکم قرار دیا۔
3 دنیا کا لالچ — اس تحریف کا مقصد دنیا کا حقیر اور قلیل فائدہ حاصل کرنا تھا۔
6 مختصر جوابات

وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَعْدُودَةً ۚ قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ ۖ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

آیت کریمہ میں بنی اسرائیل کے کس دعوے کا ذکر ہے؟

ترجمہ

“اور وہ (یہود) کہتے ہیں کہ ہمیں (دوزخ کی) آگ ہرگز نہیں چھوئے گی سوائے گنتی کے چند دنوں کے، (ذرا) آپ (ان سے) پوچھیں: کیا تم نے اللہ سے کوئی (ایسا) وعدہ لے رکھا ہے؟ (اگر ایسا ہے، پھر) تو اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا، بلکہ تم اللہ کے ذمے وہ بات کہہ رہے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں۔”

بنی اسرائیل کا دعویٰ اور اس کی وضاحت

1 مختصر دعویٰ — ہمیں جہنم کا عذاب نہیں ہوگا، یا ہوا بھی تو صرف چند روز کی سزا ملے گی
2 دعویٰ کی بنیاد — یہودیوں کا خیال تھا کہ چونکہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں یا انہوں نے جتنے دن بچھڑے کی پوجا کی تھی (یا ان کے خود ساختہ حساب کے مطابق جتنا عرصہ دنیا کی عمر ہے)، اتنے ہی دن وہ جہنم میں رہ کر پاک صاف ہو جائیں گے۔
3 قرآنی رد — اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اس بات پر کوئی الہامی پروانہ یا پکا وعده ہے؟ ایسا کچھ نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ اپنے پاس سے اللہ کے ذمے ایسی بے بنیاد اور جھوٹی باتیں لگاتے ہیں جن کا انہیں کوئی علم نہیں ہے۔

تفصیلی جوابات

7 تفصیلی جوابات

وَٱسْتَعِينُوا بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى ٱلْخَٰشِعِينَ

آیت کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں ۔

ترجمہ

کہ صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہو، اور بلاشبہ یہ (نماز) گراں ہے مگر عاجزی کرنے والوں کے لیے۔ خاشعین سے مراد وہ متقی لوگ ہیں جنہیں اللہ سے ملاقات اور اس کی طرف لوٹ کر جانے کا یقین ہے۔

جواب سورۃ البقرہ کی آیت 45 میں مشکلات کے دوران صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جسے صرف عاجز و خشوع اختیار کرنے والے ہی آسان سمجھتے ہیں۔ یہ آیت مصیبتوں کے حل کے لیے تقویٰ اور نماز کی پابندی کی تلقین کرتی ہے
8 تفصیلی جوابات

وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نَّصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا ۖ قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ ۚ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاؤُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ

آیت کریمہ کی رو سے بنی اسرائیل نے سیدنا موسیؑ سے کیا فرمائش کی؟

ترجمہ

اور (وہ وقت یاد کرو) جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم ہرگز ایک کھانے پر صبر نہیں کر سکتے، تو آپ اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کیجیے کہ وہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار یعنی ساگ، ککڑی، گندم/لہسن، مسور کی دال اور پیاز اگائے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم بہتر چیز کے بدلے گھٹیا چیز لینا چاہتے ہو؟ کسی شہر میں اترو، بے شک جو تم مانگتے ہو وہ تمہیں وہاں مل جائے گا۔ اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے۔ یہ اس نافرمانی کا بدلہ تھا جو وہ کرتے تھے اور حد سے بڑھ جاتے تھے

جواب بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمائش کی کہ وہ ایک ہی قسم کے کھانے (من و سلویٰ) پر صبر نہیں کر سکتے، لہٰذا وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ زمین سے پیدا ہونے والی ترکاریاں، ساگ، ککڑی، گندم (یا لہسن/پھلی)، مسور کی دال اور پیاز نکالے۔
9 تفصیلی جوابات

قَالَ اِنَّهٗ يَقُولُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُولٌ تُثِيرُ الاَرضَ وَ لَا تَسقِى الحَرثَ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيهَا‌ ؕ قَالُو لَنَ جِئتَ بِالحَقِّ‌ ؕ فَذَبَحُوهَا وَ مَا كَادُوا يَفعَلُونَ‌ ۚ

آیت کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں۔

ترجمہ

اس نے کہا: وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہے جو سادھی ہوئی نہیں ہے، نہ زمین جوتتی ہے اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہے، بے داغ ہے، اس میں کوئی رنگ نہیں۔ انہوں نے کہا: اب تو آپ نے بالکل ٹھیک بات کہی۔ پھر انہوں نے اسے ذبح کر دیا، حالانکہ وہ ایسا کرتے معلوم نہیں ہوتے تھے۔

مفہوم۔

جواب اس آیت میں بنی اسرائیل کی مزید ہٹ دھرمی کا ذکر ہے۔ جب انہوں نے بار بار سوالات کرکے گائے کی حقیقت کو انتہائی باریک اور مشکل بنا لیا، تو اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانی بتائی کہ وہ گائے بالکل بے عیب، کسی محنت (ہل چلانے یا پانی پلانے) میں نہ لگی ہوئی اور یک رنگ (بے داغ) ہو۔ جب اتنی واضح صفت بتا دی گئی تو وہ مجبور ہو گئے اور اِتراتے ہوئے کہنے لگے کہ اب آپ نے اصل بات بتائی ہے، اور نہ چاہتے ہوئے بھی انہوں نے آخرکار گائے کو ذبح کر ہی دیا۔
10 تفصیلی جوابات

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

آیت کریمہ میں دلوں کی کیا کیفیت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں کی طرح ہیں بلکہ سختی میں ان سے بھی زیادہ سخت ہیں اور پتھروں میں تو کچھ وہ بھی ہیں جن سے نہریں بہہ نکلتی ہیں، اور کچھ وہ ہیں کہ جب پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکل آتا ہے، اور کچھ وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔

اس آیت کریمہ میں دلوں کی درج ذیل کیفیت اور انجام کو بیان کیا گیا ہے:

دلوں کی کیفیت

1 دلوں کی سختی — بار بار نشانیاں اور معجزات دیکھنے کے باوجود بنی اسرائیل کے دل نرم ہونے کے بجائے پتھر کی طرح سخت ہو گئے۔
2 پتھروں سے بھی بدتر — ان کے دلوں کی سختی کا عالم یہ تھا کہ وہ بے جان پتھروں سے بھی بڑھ گئے، کیونکہ پتھروں میں تو پھر بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں جن سے چشمے اور نہریں پھوٹ پڑتی ہیں یا جو اللہ کے خوف سے نیچے گر پڑتے ہیں، لیکن ان کے دل نیکی، نرمی اور خدا کے خوف سے بالکل خالی ہو چکے تھے۔
3 غفلت کا انجام — اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا ہے کہ وہ انسانوں کے ان اعمال اور دلوں کی سختی سے بالکل غافل نہیں ہے، اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔
11 تفصیلی جوابات

بلَىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۔

آیت کریمہ میں کیسے لوگوں کے لیے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے؟

ترجمہ

کیوں نہیں! جس نے گناہ کمایا اور اس کی خطا نے اس کا گھیراؤ کر لیا تو وہی لوگ دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

جہنم کی وعید کا استحقاق

1 شرک اور کفر — مفسرین کے مطابق یہاں “سیئہ” (گناہ) سے مراد بڑا گناہ یعنی کفر و شرک ہے۔
2 گناہوں کا احاطہ — وہ لوگ جن کے تمام اعمال برے ہوں اور جن کے گناہوں اور نافرمانیوں نے انہیں ہر طرف سے اس طرح گھیر لیا ہو کہ توبہ کی کوئی گنجائش یا نیکی کا عمل باقی نہ بچے۔
3 دائمی عذاب — ایسے ہٹ دھرم اور بدعمل لوگ جو ایمان اور صالح اعمال سے خالی ہوں، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

سیدنا موسیٰؑ اور قوم کے درمیان گائے کے حوالے سے مکالمہ پر سولات اور جوابات لکھیں

سورۃ البقرہ (آیات 67 تا 71) میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم (بنی اسرائیل) کے درمیان گائے کے ذبیحہ پر ہونے والا تفصیلی مکالمہ درج ذیل مراحل پر مشتمل ہے:

1 پہلا مرحلہ: ذبح کا حکم اور قوم کا اصرار — حضرت موسیٰؑ کا فرمان — اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو۔
2 پہلا مرحلہ: ذبح کا حکم اور قوم کا اصرار — قوم کا جواب — کیا آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں؟
3 پہلا مرحلہ: ذبح کا حکم اور قوم کا اصرار — حضرت موسیٰؑ کا جواب — میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں میں شامل ہو جاؤں (یعنی اللہ کا حکم سنانا مذاق نہیں ہوتا)۔
4 دوسرا مرحلہ: گائے کی عمر کا سوال — قوم کا سوال — اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں بتائے کہ وہ گائے کیسی ہو؟
5 دوسرا مرحلہ: گائے کی عمر کا سوال — حضرت موسیٰؑ کا جواب — اللہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بالکل بوڑھی ہو اور نہ بالکل بچی، بلکہ دونوں کے درمیان کی عمر (جوان) ہو۔ اب جو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو۔
6 تیسرا مرحلہ: گائے کے رنگ کا سوال — قوم کا سوال — اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟
7 تیسرا مرحلہ: گائے کے رنگ کا سوال — حضرت موسیٰؑ کا جواب — اللہ فرماتا ہے کہ وہ گہرے زرد (سونے جیسے) رنگ کی گائے ہو، جس کا رنگ دیکھنے والوں کو خوشی اور مسرت پہنچائے۔
8 چوتھا مرحلہ: گائے کی صفات اور حتمی فیصلہ — قوم کا سوال — اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ مزید واضح کرے کہ وہ کیسی ہو؟ گائے ہم پر مشتبہ ہو گئی ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور ہدایت پا لیں گے۔
9 چوتھا مرحلہ: گائے کی صفات اور حتمی فیصلہ — حضرت موسیٰؑ کا جواب — اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہو جس سے خدمت نہ لی جاتی ہو، نہ وہ زمین جوتتی ہو اور نہ کھیتوں کو پانی دیتی ہو۔ وہ بالکل تندرست اور بے عیب ہو، جس میں کوئی دوسرا رنگ نہ ہو۔
10 چوتھا مرحلہ: گائے کی صفات اور حتمی فیصلہ — قوم کا آخری جواب — اب آپ نے بالکل سچی اور واضح بات پیش کر دی ہے۔
جواب اس طویل بحث اور حیلے بہانوں کے بعد بالآخر انہوں نے اس مخصوص گائے کو تلاش کیا اور اسے ذبح کیا، حالانکہ وہ اپنی سخت شرائط کی وجہ سے ایسا کرتے معلوم نہیں ہوتے تھے۔
13 سرگرمیاں

قول اور فعل میں تضاد کے حوالے سے ایک حدیث لکھیں

قول اور فعل میں تضاد (یعنی کہنا کچھ اور اور کرنا کچھ اور) کے بارے میں کی یہ حدیث مبارکہ ہے:

جواب قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا، جس سے اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ آگ میں اس طرح چکر لگائے گا جیسے گدھا چکی کے گرد چکر لگاتا ہے۔ جہنم والے اس کے گرد جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے: اے فلاں! تجھے کیا ہوا ہے؟ کیا تو دنیا میں ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا: ہاں! میں تمہیں نیکی کا حکم تو دیتا تھا مگر خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا، اور تمہیں برائی سے روکتا تھا مگر خود وہی کام کرتا تھا۔ (حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا)
14 سرگرمیاں

بنی اسرائیل کی خوش کن خواہش تھی کہ انہیں جھنم کی آگ صرف گنتی کے دن چھوئے گی اسی طرح کی کئی خواہشات ہمارے معاشرے میں بھی پائی جاتی ہیں ان کے بارے میں لکھیں۔

بنی اسرائیل کی طرح ہمارے معاشرے میں بھی کچھ بے بنیاد خوش فہمیاں اور خواہشات پائی جاتی ہیں، جیسے کہ صرف مخصوص اعمال یا نسبتوں کی وجہ سے مغفرت کی یقین دہانی، بغیر عمل کے بخشش کی امید، اور بزرگوں یا مقدس مقامات کے فیض پر مکمل بھروسہ۔

معاشرتی خوش فہمیاں اور خواہشات

1 نسب یا تعلق کا فخر — صرف کسی بزرگ، خاندان یا نسبت کی وجہ سے نجات کی پکی امید رکھنا، چاہے اعمال کیسے بھی ہوں۔
2 محض چند رسومات پر اکتفا — چند مخصوص وظائف، عبادات یا میلاد وغیرہ میں شرکت کو بخشش کا پروانہ سمجھنا۔
3 توبہ کو مؤخر کرنا — زندگی بھر گناہ کرتے رہنا اور یہ سوچنا کہ بڑھاپے یا موت سے پہلے توبہ کر لیں گے اور آگ ہمیں بھی چند دن ہی چھوئے گی۔
4 دوسروں کی نیکیوں کا سہارا — یہ خیال کرنا کہ خاندان کے نیک لوگوں کی شفاعت یا دعا ہمیں خود بخود جنت میں لے جائے گی۔
15 سرگرمیاں

بنی اسرائیل کو اپنے دور کے جہاں والوں پر فضیلت دینے سے کیا مراد ہے

بنی اسرائیل کو اپنے دور کے جہاں والوں پر فضیلت دینے سے مراد انہیں اس وقت کے تمام انسانوں پر ہدایت، انبیاء کی کثرت، اور مادی و روحانی انعامات میں برتری دینا تھا۔

فضیلت کے اسباب اور معنی اور اس فضیلت کی شرط

1 فضیلت کے اسباب اور معنی — ہدایت اور کتاب — انہیں تورات جیسی عظیم کتاب اور آسمانی رہنمائی دی گئی۔
2 فضیلت کے اسباب اور معنی — انبیاء کی آمد — ان میں کثرت سے انبیاء اور رسول بھیجے گئے۔
3 فضیلت کے اسباب اور معنی — معجزات — ان کو دریا کا پھٹنا اور من و سلویٰ جیسے خاص معجزات سے نوازا گیا۔
4 اس فضیلت کی شرط — عارضی برتری — یہ فضیلت مطلق اور ہمیشہ کے لیے نہیں تھی، بلکہ ان کے اپنے دور اور زمانے کے لحاظ سے تھی۔
5 اس فضیلت کی شرط — عمل کی قید — یہ برتری اس وقت تک تھی جب تک وہ اللہ کے احکام پر عمل کرتے رہے اور شکر گزار رہے۔ نافرمانی پر یہ مقام ختم ہو گیا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.