سورۃ البقرہ (آیات 67 تا 71) میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم (بنی اسرائیل) کے درمیان گائے کے ذبیحہ پر ہونے والا تفصیلی مکالمہ درج ذیل مراحل پر مشتمل ہے:
1
پہلا مرحلہ: ذبح کا حکم اور قوم کا اصرار — حضرت موسیٰؑ کا فرمان — اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو۔
2
پہلا مرحلہ: ذبح کا حکم اور قوم کا اصرار — قوم کا جواب — کیا آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں؟
3
پہلا مرحلہ: ذبح کا حکم اور قوم کا اصرار — حضرت موسیٰؑ کا جواب — میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں میں شامل ہو جاؤں (یعنی اللہ کا حکم سنانا مذاق نہیں ہوتا)۔
4
دوسرا مرحلہ: گائے کی عمر کا سوال — قوم کا سوال — اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں بتائے کہ وہ گائے کیسی ہو؟
5
دوسرا مرحلہ: گائے کی عمر کا سوال — حضرت موسیٰؑ کا جواب — اللہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بالکل بوڑھی ہو اور نہ بالکل بچی، بلکہ دونوں کے درمیان کی عمر (جوان) ہو۔ اب جو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو۔
6
تیسرا مرحلہ: گائے کے رنگ کا سوال — قوم کا سوال — اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟
7
تیسرا مرحلہ: گائے کے رنگ کا سوال — حضرت موسیٰؑ کا جواب — اللہ فرماتا ہے کہ وہ گہرے زرد (سونے جیسے) رنگ کی گائے ہو، جس کا رنگ دیکھنے والوں کو خوشی اور مسرت پہنچائے۔
8
چوتھا مرحلہ: گائے کی صفات اور حتمی فیصلہ — قوم کا سوال — اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ مزید واضح کرے کہ وہ کیسی ہو؟ گائے ہم پر مشتبہ ہو گئی ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور ہدایت پا لیں گے۔
9
چوتھا مرحلہ: گائے کی صفات اور حتمی فیصلہ — حضرت موسیٰؑ کا جواب — اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہو جس سے خدمت نہ لی جاتی ہو، نہ وہ زمین جوتتی ہو اور نہ کھیتوں کو پانی دیتی ہو۔ وہ بالکل تندرست اور بے عیب ہو، جس میں کوئی دوسرا رنگ نہ ہو۔
10
چوتھا مرحلہ: گائے کی صفات اور حتمی فیصلہ — قوم کا آخری جواب — اب آپ نے بالکل سچی اور واضح بات پیش کر دی ہے۔