آپ ان کے مال سے صدقہ (زکوٰۃ) لیں، اس کے ذریعے آپ انہیں پاک کریں اور ان کے لیے دعا کریں۔
اس مبارک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو درج ذیل عملی ہدایات عطا فرمائی ہیں:
آیت میں نبی کریم ﷺ کو دی گئی ہدایات
1زکوٰۃ و صدقات کی وصولی — مسلمانوں کے اموال سے زکوٰۃ یا صدقہ بطورِ فریضہ یا کفارہ وصول کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ مالی عبادت کا نظام قائم ہو۔
2تطہیر و تزکیہ (پاک صاف کرنا) — آپ ﷺ کو ہدایت کی گئی کہ مال کا یہ حصہ لے کر ان کے دلوں کو بخل، لالچ اور گناہوں کی آلودگی سے پاک کریں اور ان کے اخلاق و کردار کو نکھاریں۔
3دعائے مغفرت اور خیر — آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان کے حق میں دعا فرمائیں۔
4اطمینانِ قلب کا ذریعہ بننا — آپ ﷺ کی دعا کا مقصد ان کو یہ یقین دلانا اور تسلی دینا تھا کہ ان کا صدقہ قبول ہو گیا ہے اور اللہ نے ان کی توبہ معاف فرما دی ہے، جس سے انہیں دلی سکون ملتا ہے
اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لیے اور کفر (کی تائید) کے لیے اور ایمان والوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے اور ایسے شخص کے لیے گھات کی جگہ بنانے کے لیے جو اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کر چکا ہے، اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا کوئی ارادہ نہیں کیا تھا، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بے شک وہ بالکل جھوٹے ہیں
قرآن نے اس مسجد کی تعمیر کے چار مقاصد بیان کیے ہیں:
مسجدِ ضرار کے مقاصد اور احکام (آیات 107 تا 110) — چار اہم مقاصد
1ضراراً — مسلمانوں کو ضرر اور تکلیف پہنچانا۔
2كفراً — کفر کی اشاعت اور تقویت۔
3تفرقہ — مسلمانوں کی اجتماعی شیرازہ بندی اور صفوں میں تفریق ڈالنا۔
4إرصاداً — اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمن (ابو عامر راہب) کے لیے انتظار گاہ یا مورچہ بنانا۔
5منافقین کا جھوٹ — وہ نبی کریم ﷺ کو یقین دلانے کے لیے قسمیں کھاتے تھے کہ ہم نے یہ مسجد صرف بیماروں اور ضعیفوں کی سہولت کے لیے بنائی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا۔
6نبوی حکم — اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اس میں نماز پڑھنے سے سختی سے منع فرمایا۔ جس کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو بھیج کر اس مسجد کو گرانے اور جلانے کا حکم دیا۔
بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اس بات کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، پس مارتے ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ اس کا سچا وعدہ تورات، انجیل اور قرآن میں (موجود) ہے۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ پس تم اپنے اس سودے پر خوشیاں مناؤ جو تم نے اس سے کیا ہے، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
سودے کی تفصیل
1خریدار اور فروخت کنندہ — اللہ تعالیٰ خریدار ہے اور مومن بندے بیچنے والے ہیں۔
2قیمت اور سامان — سامان جان اور مال ہے، اور اس کی قیمت ابدی جنت ہے۔
3شرطِ سودا — اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، دین کی سربندی کے لیے لڑنا، اور حق کی راہ میں جاں فشانی دکھانا۔
4وعدے کی ضمانت — یہ سچا وعدہ تورات، انجیل اور قرآن تینوں الہامی کتابوں میں درج ہے۔
5اصل کامیابی — اس دنیا میں دین کی سربلندی اور آخرت میں جنت کا حصول ہی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔
آیت میں ہدایت اور گمراہی کے حوالے سے کیا حقیقت واضح فرمائی گئی ہے؟
ترجمہ
اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد اسے گمراہ کر دے، جب تک کہ انہیں صاف نہ بتا دے کہ کس چیز سے انہیں بچنا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
ہدایت اور گمراہی کے حوالے سے حقیقت
1تیمِ حجت (احکام کی وضاحت) — اللہ تعالیٰ اپنے عدل اور رحمت کے تحت کسی کو بغیر بتائے گناہگار یا گمراہ نہیں ٹھہراتا، جب تک شریعت کا حکم اور ممانعت واضح نہ ہو جائے۔
2لاعلمی پر مواخذہ نہیں — حکمِ الٰہی ظاہر ہونے سے پہلے اگر کسی سے انجانے میں کوئی غلطی ہو جائے تو اسے گمراہی نہیں کہا جاتا۔
3ذمہ داری کا تعین — ہدایت اور گمراہی کا فیصلہ احکام کی ترسیل اور واضح وضاحت کے بعد ہوتا ہے۔
اے ایمان والو! ان کافروں سے جنگ کرو جو تمہارے قریب ہیں اور چاہیے کہ وہ تم میں سختی پائیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں (متقیوں) کے ساتھ ہے
مؤمنین کے لیے ہدایات
1قریبی دشمن سے ابتدا — جنگ اور دفاع کا یہ اصول دیا گیا ہے کہ جو کفار مسلمانوں کے علاقہ یا مرکز کے زیادہ قریب ہوں،پہلے ان سے نمٹا جائے (ترتیبِ قرب)۔
2سختی اور دلیری — کافروں کو مسلمانوں کے اندر کمزوری یا بزدلی کے بجائے طاقت، بہادری اور سختی محسوس ہونی چاہیے۔
3تقویٰ اور بھروسہ — حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی مدد حاصل کرنے کے لیے پرہیزگاری اور تقویٰ کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں کیونکہ اللہ کی معیت متقیوں کے ساتھ ہے
کیا یہ لوگ (منافقین) دیکھتے نہیں ہیں کہ یہ ہر سال ایک یا دو بار کسی نہ کسی مصیبت یا آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں
آیت میں منافقین کو تنبیہ
1بار بار کی آزمائشیں — منافقین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اللہ تعالی انہیں ہر سال قحط، بیماری یا مختلف مشکلات کی شکل میں ایک دو مرتبہ آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔
2غفلت رویہ — اس کے باوجود وہ ہوش میں نہیں آتے اور اپنے نفاق اور برے اعمال سے توبہ نہیں کرتے۔
3عبرت نہ پکڑنا — وہ ان دنیوی عذابوں اور آزمائشوں سے کوئی سبق یا نصیحت حاصل نہیں کرتے، جو کہ ان کی سخت دلی اور گمراہی کی سب سے بڑی علامت ہے
آیت میں کسی نئے سورت کے نزول پر منافقین کی کیا کیفیت بیان ہوئی ہے؟
ترجمہ
اور جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں (کہ) کیا تمہیں کسی نے دیکھا ہے؟ پھر وہ پھر جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں، اس لیے کہ وہ سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔)
نئی سورت کے نزول پر منافقین کی کیفیت
1آپس میں اشارے کرنا — نئی سورت نازل ہونے پر وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر آنکھوں سے اشارے کرتے تھے۔
2ڈر اور خوف — وہ ڈرتے تھے کہ کہیں مسلمانوں کو ان کی کمزوری یا منافقت کا پتہ نہ چل جائے۔
3بھاگ نکلنے کی فکر — موقع پاتے ہی وہ مجلس سے چپکے سے کھسک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چلے جاتے۔
4دلوں کا پھر جانا — اللہ تعالیٰ نے ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں کو حق سے پھیر دیا۔
اور تمہارے آس پاس کے دیہاتیوں میں سے کچھ منافق ہیں اور کچھ مدینہ والے (بھی) وہ منافقت پر اڑ گئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے
مفہوم اور تشریح
1پوشیدہ منافقین — مدینہ منورہ اور اس کے اردگرد کے دیہات میں کچھ ایسے لوگ رہتے تھے جو ظاہر اسلام کا ڈھونگ رچاتے تھے مگر دل سے کافر و منافق تھے۔
2نفاق پر اڑنا — وہ منافقت میں اتنے پکے اور سرکش ہو چکے تھے کہ انہوں نے اسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔
3پوشیدہ حقیقت کا علم — اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا کہ ظاہری حالات کی وجہ سے آپ ہر منافق کو نہیں جانتے، لیکن اللہ اپنی صفتِ علیم کے تحت ان کے دلوں کے سارے راز جانتا ہے۔
4دوہرا عذاب اور عذابِ عظیم — ان منافقین کو دنیا میں دو مرتبہ عذاب دیا جائے گا (ایک رسوائی اور دوسرا مالی و جانی نقصان یا موت کی شکل میں)، اور آخرت میں انہیں جہنم کے بہت بڑے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آیت میں اللہ کی رضا اور جنت کا وعدہ کن لوگوں سے کیا گیا ہے؟
ترجمہ
اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، اور اس نے ان کے لیے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے
جن لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے ان کی تفصیل
1سابقینِ اولین مہاجرین — وہ مکہ مکرمہ اور دیگر علاقوں کے مسلمان جو سب سے پہلے ایمان لائے اور ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے۔
2سابقینِ اولین انصار — مدینہ کے وہ مخلص مسلمان جنہوں نے نبی کریم ﷺ اور مہاجرین کا استقبال کیا اور ہر کڑے وقت میں ان کی مدد و نصرت کی۔
3تابعین اور پیروکار — وہ تمام لوگ جو قیامت تک اچھے عمل، اخلاص اور احسان کے ساتھ ان مہاجرین اور انصار کے راستے پر چلیں۔
آیت میں کسی نئی سورت کے نزول پر مؤمنین کی کیا کیفیت بیان ہوئی ہے
ترجمہ
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (مذاق کے طور پر) پوچھتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے؟ سو جو لوگ ایمان لائے ہیں، اس سورت نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور وہ خوشیاں منا رہے ہیں
مومنین کی کیفیت
1ایمان میں اضافہ — اللہ کی نئی آیات یا سورت کے نازل ہونے سے مومنوں کے دلوں کا یقین اور بھروسہ اور زیادہ پکا ہو جاتا ہے۔
2خوشی اور مسرت — وہ نئی سورت سن کر رنجیدہ ہونے کے بجائے خوش ہوتے ہیں اور باہم مسرت محسوس کرتے ہیں۔
(یہ مومنین وہ ہیں جو) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اللہ کی حمد و ثنا کرنے والے، روزہ رکھنے والے (یا راہِ خدا میں سفر کرنے والے)، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ کی مقرر کردہ حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور (اے نبی!) ایسے مومنوں کو خوشخبری سنا دیجیے
اس آیت میں اہل ایمان کے نو نمایاں اوصاف بیان کیے گئے ہیں جو پچھلی آیت (111) میں اللہ کے ساتھ جان و مال کا سودا کرنے والے سچے مومنوں کی پہچان ہیں:
مفہوم و تشریح (صفاتِ مومنین)
1التائبون (توبہ کرنے والے) — جو گناهوں سے پشیمان ہو کر بار بار اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
2العابدون (عبادت کرنے والے) — جو صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرتے ہیں۔
3الحامدون (حمد کرنے والے) — جو ہر حال میں (خوشی اور تکلیف میں) اللہ کی تعریف اور شکر ادا کرتے ہیں۔
4السائحون (روزہ رکھنے والے / سیاحت کرنے والے) — اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے مراد نفل روزے رکھنے والے ہیں جو نفس کی خواہشات کو توڑتے ہیں۔
5الراكعون الساجدُونَ (رکوع اور سجدہ کرنے والے) — جو نماز کے پابند ہیں اور عاجزی کے ساتھ نمازیں ادا کرتے ہیں۔
6الآمرُونَ بِالْمَعْرُوفِ (نیکی کا حکم دینے والے) — جو معاشرے میں بھلائی اور نیکی کو فروغ دیتے ہیں۔
7والناهون عن المنكر (برائی سے روکنے والے) — جو برائی اور گناہ کے کاموں سے لوگوں کو منع کرتے ہیں۔
8والحافظون لحدود الله (اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے) — جو اللہ کے حلال اور حرام کیے ہوئے احکام کی پابندی کرتے ہیں اور ان سے تجاوز نہیں کرتے۔
9بشر المؤمنين (خوشخبری) — ان تمام صفات کے حاملین کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی اور جنت کی بشارت ہے۔
البتہ تحقیق تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آیا ہے، اسے تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے تمہاری بھلائی پر، وہ حریص (فکرمند) ہے مومنوں پر، نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔
نبی کریم ﷺ کی اعلیٰ صفات
1من أنفسكم (تم ہی میں سے ہونا) — آپ ﷺ کا انسان اور بشری جنس سے ہونا تاکہ لوگ آپ سے مانوس ہو سکیں اور آپ کے احکام پر آسانی سے عمل کر سکیں۔
2عزيز عليه ما عنتم (تکلیف پر گراں گزرنا) — امت کو دنیا کی کسی مشقت، تکلیف یا آخرت کے عذاب میں مبتلا دیکھنا آپ ﷺ کو سخت ناگوار اور تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے۔
3حريص عليكم (بھلائی کے حریص) — آپ ﷺ کو ہر وقت انسانوں بالخصوص اپنی امت کی ہدایت اور فلاح کی شدید ترین آرزو رہتی ہے کہ وہ جہنم سے بچ کر جنت کے حقدار بن جائیں۔
4رءوف رحيم (شفقت اور رحمت) — مومنوں کے ساتھ آپ کا رویہ انتہائی شفیق، نرم دل اور سراپا رحمت و مہربانی پر مبنی ہے۔
سرگرمیاں
14سرگرمیاں
مسجد ضرار اور اس کے اسباق
مسجدِ ضرار وہ متنازع عمارت تھی جسے نبی کریم ﷺ کے دورِ مبارک میں مدینہ کے کچھ منافقین نے مسجد کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے، تفرقہ ڈالنے اور سازشیں کرنے کے لیے تعمیر کیا تھا۔ اللہ تعالی نے وحی کے ذریعے اس کے ناپاک عزائم ظاہر کیے اور اسے ڈھانے کا حکم دیا۔ اس کا تفصیلی ذکر سورۃ التوبہ (آیات 107-108) میں موجود ہے۔
پس منظر اور حقیقت اور اہم اسباق اور عبرتیں
1پس منظر اور حقیقت — تعمیر کا مقصد — منافقین نے قبا کے مقام پر مسجد قبا کے قریب ہی یہ عمارت بنائی اور بظاہر یہ عذر پیش کیا کہ یہ بیماروں اور معذوروں کے لیے ہے جو دور نہیں جا سکتے۔
2پس منظر اور حقیقت — اصل سازش — اس کا اصل مقصد مسلمانوں کی صفوں میں پھوٹ ڈالنا، باہمی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور روم کے حامی ابو عامر راہب جیسے دشمنانِ اسلام کے لیے پناہ گاہ فراہم کرنا تھا۔
3پس منظر اور حقیقت — انہدام — جب نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو اللہ کے حکم پر آپ نے چند صحابہ (حضرت مالک بن دخششم اور حضرت معن بن عدی رضوان اللہ علیہم) کو بھیج کر اس عمارت کو گرا کر جلا دینے کا حکم دیا۔
4اہم اسباق اور عبرتیں — نام کی فریب کاری — محض نیکی یا دین کا نام استعمال کرنے سے ہر کام مقدس نہیں ہو جاتا؛ نیت اور عملی مقاصد کا درست ہونا لازمی ہے۔
5اہم اسباق اور عبرتیں — تفرقہ بازی کی مذمت — مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور گروہ بندی پیدا کرنا منافقین کا ہتھکنڈا ہے، جس سے سختی سے بچنا چاہیے۔
6اہم اسباق اور عبرتیں — سازشی عناصر سے ہوشیار رہنا — دینی یا فلاحی اداروں کی آڑ میں ملک و ملت کے خلاف خفیہ سرگرمیوں اور سازشوں پر گہری نظر رکھنا اور انہیں ختم کرنا ضروری ہے۔
15سرگرمیاں
سورۃ التوبہ میں ذکر تین صحابہ کی توبہ کی قبولیت کا واقعہ
سورۃ التوبہ میں غزوۂ تبوک سے پیچھے رہنے والے تین سچے صحابہ کرام: حضرت کعب بن مالکؓ، حضرت مرارہ بن ربیعؓ، اور حضرت ہلال بن امیہؓ کی توبہ کی قبولیت کا ذکر ہے۔ انہوں نے جھوٹے بہانے بنانے کے بجائے سچ بولا، جس پر پچاس دن کے سماجی بائیکاٹ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔
1واقعہ کا پس منظر اور سچائی — غزوۂ تبوک — یہ تینوں مخلص صحابہ بغیر کسی عذر کے اس غزوہ میں پیچھے رہ گئے تھے۔
2واقعہ کا پس منظر اور سچائی — اعترافِ جرم — جب آپ ﷺ مدینہ واپس تشریف لائے، تو دوسرے منافقین نے جھوٹے عذر پیش کیے جنہیں آپ ﷺ نے قبول کر لیا۔ لیکن ان تینوں حضرات نے بالکل سچ بولا کہ ان کے پاس پیچھے رہنے کا کوئی عذر نہیں تھا۔
3واقعہ کا پس منظر اور سچائی — معاملہ التوا میں — آپ ﷺ نے ان تینوں کا معاملہ اللہ کے حکم پر چھوڑ دیا اور مسلمانوں کو ان سے بات چیت کرنے اور میل جول رکھنے سے منع کر دیا۔
4بائیکاٹ اور آزمائش — سماجی تنہائی — مدینہ کے لوگوں نے ان سے بولنا چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ ان کی اپنی بیگمات کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ ان سے الگ رہیں۔
5بائیکاٹ اور آزمائش — تنگ دامانی — زمین اتنی تنگ محسوس ہوئی کہ وہ اپنی جانوں سے اکتانے لگے۔ یہ آزمائش پورے پچاس دن اور رات جاری رہی۔
6توبہ کی قبولیت اور بشارت — قرآنی اعلان — پچاس دن پورے ہونے پر فجر کی نماز کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ کی آیت 118 نازل فرمائی جس میں ان کی توبہ قبول کرنے کا اعلان ہوا۔
7توبہ کی قبولیت اور بشارت — خوشخبری — مسجد میں ایک شخص نے بلند آواز سے حضرت کعب بن مالکؓ کو توبہ قبول ہونے کی مبارکباد دی، اور خوشی میں کعبؓ نے اپنے کپڑے صدقہ کر دیے۔
16سرگرمیاں
سورۃ التوبہ میں "کونوامع الصدقین" کی روشنی میں نیک صحبت کے فوائد اور بری صحبت کے نقصانات
سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 119 میں "کونوامع الصدقین" (سچوں کے ساتھ ہو جاؤ) کے تحت نیک صحبت کے فوائد اور بری صحبت کے نقصانات درج ذیل ہیں:
نیک صحبت کے فوائد اور بری صحبت کے نقصانات
1نیک صحبت کے فوائد — انسان کو سچائی اور نیکی کی راہ پر استقامت ملتی ہے۔
2نیک صحبت کے فوائد — گناہوں اور جھوٹ سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔
3نیک صحبت کے فوائد — دل میں اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے۔
4نیک صحبت کے فوائد — اخلاق اور کردار بلند ہوتے ہیں۔
5بری صحبت کے نقصانات — انسان آہستہ آہستہ جھوٹ اور برائی کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
6بری صحبت کے نقصانات — دین سے دوری اور غفلت پیدا ہوتی ہے۔
7بری صحبت کے نقصانات — معاشرے میں عزت اور وقار ختم ہوتا ہے۔
8بری صحبت کے نقصانات — برے اعمال اچھے لگنے لگتے ہیں، جو انسان کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
17سرگرمیاں
اسلام میں ظاہری طہارت اور باطنی پاکیزگی کی ا ہمیت
اسلام میں ظاہری طہارت اور باطنی پاکیزگی کی بنیادی اہمیت یہ ہے کہ یہ ایمان کا حصہ، عبادت کی قبولیت کی شرط اور اللہ کی محبت کا ذریعہ ہیں۔ قرآن و سنت میں ظاہر و باطن دونوں کے سنوارنے پر زور دیا گیا ہے۔
ظاہری طہارت کی اہمیت اور باطنی پاکیزگی (تزکیہ نفس) کی اہمیت
1ظاہری طہارت کی اہمیت — نصف ایمان — حدیثِ مبارکہ کے مطابق "صفائی آدھا ایمان ہے" (صحیح مسلم)۔
2ظاہری طہارت کی اہمیت — عبادت کی شرط — نماز اور طواف کے لیے وضو، غسل اور بدن و لباس کا پاک ہونا لازمی ہے۔
3ظاہری طہارت کی اہمیت — قرآنی فرمان — اللہ تعالیٰ کو پاک صاف رہنے والے پسند ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے: "بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے" (البقرۃ: 222)۔
4باطنی پاکیزگی (تزکیہ نفس) کی اہمیت — شرک و گناہ سے دوری — باطنی طہارت کا مطلب دل کو شرک، کینہ، حسد، غرور اور ریا کاری سے پاک کرنا ہے۔
5باطنی پاکیزگی (تزکیہ نفس) کی اہمیت — کامیابی کا ضامن — قرآن میں ارشاد ہے: "فلاح پا گیا وہ جس نے اس (نفس) کو پاک کیا" (الشمس: 9)۔
6باطنی پاکیزگی (تزکیہ نفس) کی اہمیت — قلبِ سلیم — قیامت کے دن صرف وہی شخص کامیاب ہوگا جو اللہ کے پاس "قلبِ سلیم" (صحیح اور پاک دل) لے کر حاضر ہوگا۔
18سرگرمیاں
سورۃ التوبہ میں مہاجرین اور انصار میں سے "السابقون الاولون "کا تذکرہ ہے ۔اس آیت کے مصداق صحابہ کے فضائل وخدمات لکھیں
سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 100 میں "السابقون الاولون" سے مراد وہ مقدس مہاجرین اور انصار صحابہ ہیں جنہوں نے اسلام کی ابتدائی دور میں سبقت کی؛ جیسے کہ دونوں قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے والے، بیعتِ عقبہ یا غزوہ بدر اور بیعتِ رضوان میں شریک ہونے والے حضرات۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا ہے۔
مفہوم اور مصداق اور نمایاں فضائل و خدمات
1مفہوم اور مصداق — مہاجرینِ اولین — مکہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والے اور دین کی خاطر اپنا گھر بار، مال اور وطن چھوڑنے والے صحابہ۔
2مفہوم اور مصداق — انصارِ اولین — مدینہ کے وہ مخلص قبیلےجنہوں نے نبی کریم ﷺ کو پناہ دی اور اسلام کی نصرت کی۔
3نمایاں فضائل و خدمات — رضائے الٰہی کی بشارت — اللہ نے فرمایا کہ وہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔
4نمایاں فضائل و خدمات — جنت کا وعدہ — ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے گئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔
5نمایاں فضائل و خدمات — عظیم قربانیاں — انہوں نے کٹھن حالات میں جان و مال کا نذرانہ پیش کیا اور دینِ اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
2شانِ نزول — یہ آیت ہجرتِ مدینہ کے اس یادگار واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ مکہ سے نکل کر غارِ ثور میں روپوش ہوئے تھے اور کفار غار کے دہانے تک پہنچ گئے تھے۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا: "غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے"۔
2شانِ نزول — یہ آیت حضرت کعب بن مالکؓ، حضرت مرارہ بن ربیعؓ اور حضرت ہلال بن امیہؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ مخلص صحابہ بغیر کسی منافقت یا برے ارادے کے، محض سستی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شامل ہونے سے رہ گئے تھے۔ واپسی پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے بائیکاٹ کا حکم دیا جو 50 دن جاری رہا۔ جب ان پر زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ ہو گئی اور انہوں نے سچی توبہ کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما کر یہ آیت نازل کی۔
2شانِ نزول — یہ آیات غزوۂ حنین کے پس منظر میں نازل ہوئیں۔ فتحِ مکہ کے بعد مسلمانوں کی تعداد 12 ہزار ہو گئی تھی، جس پر بعض مسلمانوں کے دل میں یہ خیال آیا کہ آج ہمیں کثرت کی وجہ سے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا۔ لیکن جنگ کے آغاز میں دشمن کے اچانک حملے سے مسلمانوں میں افراتفری مچ گئی۔ یہ آیات مسلمانوں کو یاد دلانے کے لیے نازل ہوئیں کہ فتح کثرت سے نہیں بلکہ اللہ کی مدد سے ملتی ہے۔
2شانِ نزول — یہ آیت حرقوص بن زہیر (جو ذوالخویسرہ کے نام سے مشہور تھا اور خارجیوں کا جدِ امجد بنا) کے واقعے پر نازل ہوئی۔ جب نبی کریم ﷺ غنیمت یا صدقات کا مال تقسیم فرما رہے تھے، تو اس نے آ کر گستاخی کی اور کہا: "اے محمد! عدل کیجیے"۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ منافقین مال ملنے پر خوش ہوتے ہیں اور نہ ملنے پر ناراض ہو جاتے ہیں۔
2شانِ نزول — جب نبی کریم ﷺ نے غزوۂ تبوک کے لیے صدقے کی ترغیب دی تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور دیگر روایات کے مطابق، بعض صحابہ نے بڑے بڑے مال پیش کیے تو منافقین نے کہا یہ "ریاکاری" ہے۔ جبکہ کچھ غریب صحابہ (جیسے حضرت ابو عقیل انصاریؓ) رات بھر مزدوری کر کے صرف ایک صاع (چند کلو) کھجوریں لے آئے، تو منافقین نے مذاق اڑایا کہ اللہ کو اس کے چند کھجوروں کی کیا ضرورت ہے۔ اس پر اللہ نے منافقین کی اس بدتمیزی کا جواب دینے کے لیے یہ آیت اتاری۔
24شان نزول
مشرکین سے براءت کا اعلان
1پس منظر — سن 9 ہجری میں جب مسلمانوں کا اقتدار عرب میں مضبوط ہو گیا تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو روانہ کیا تاکہ حج کے بڑے مجمع میں مشرکین سے معاہدوں کے خاتمے اور چار مہینے کی مہلت کا اعلان کریں۔
25شان نزول
بخل اور عہد شکنی
1شان نزول — تفاسیر میں یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ مدینہ کے ایک شخص (جن کا نام ثعلبہ بن حاطب مشہور ہے) نے دعا کی درخواست کی تھی کہ اللہ اسے مالدار کرے تو وہ حق ادا کرے گا، مگر جب مال بڑھا تو اس نے زکوٰۃ دینے سے منہ موڑ لیا، جس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
26شان نزول
غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے والے
1شان نزول — یہ آیت مدینہ کے ان چند مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو غزوۂ تبوک میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ جب وہ نادم ہوئے اور توبہ کی تو انہوں نے خود کو مسجد کے ستونوں سے باندھ لیا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے عذر کو قبول فرما کر انہیں کھولا۔
27شان نزول
مسجدِ ضرار کا واقعہ
1شان نزول — منافقین کی ایک جماعت نے مسجدِ قبا کے بالمقابل پھوٹ ڈالنے اور سازشیں کرنے کے لیے ایک اور مسجد بنائی تھی۔ جب نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک سے واپس آئے تو وحی کے ذریعے اس حقیقت سے آگاہی کے بعد آپ ﷺ نے اسے گرانے اور جلانے کا حکم دیا۔
28شان نزول
سورۃ التوبہ کی آیت 19 کا شانِ نزول حضرت عباس بن عبدالمطلب اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے درمیان فخر مباہات اور بعض صحابہ کرام کے باہمی مباحثے کے پس منظر میں نازل ہوئی۔
شانِ نزول کے اہم واقعات
1حضرت عباسؓ کا فخر — جنگ بدر میں قیدی بننے کے بعد حضرت عباسؓ نے فرمایا کہ اگر تم ہجرت اور جہاد میں آگے ہو، تو ہم بھی بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے (سقایہ) جیسے فریضے انجام دیتے ہیں۔
2صحابہ کی بحث — مسجدِ حرام کی آبادی، حاجیوں کی خدمت اور جہاد فی سبیل اللہ میں سے کون سا عمل افضل ہے، اس پر صحابہ کرام (جیسے حضرت طلحہ بن شیبہ اور حضرت عباسؓ) کے درمیان چرچا ہوا۔
3حکومتی فیصلہ — حضرت عمر بن خطابؓ نے اس پر انہیں روکا اور بعد میں معاملہ [سنن نسائی / صحیح مسلم کی روایات کے مطابق] بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں پیش ہوا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کرنے کے لیے یہ آیت اتاری کہ ایمان اور جہاد کا درجہ کعبہ کی خدمت یا حاجیوں کو پانی پلانے پر فوقیت رکھتا ہے
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔