گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 21: سبق 21: سورۃ الاحقاف (آیات 1 تا 35) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ

آیت کے مطابق کفار کو جب قرآن سنایا تو وہ کیا کہتے؟

ترجمہ

اور جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کے بارے میں کہتے ہیں: یہ کھلا جادو ہے۔

کفار کا رد

1 قرآن کو جادو قرار دینا — انہوں نے قرآن کے لاجواب فصاحت و بلاغت اور تاثیر کو دیکھ کر اسے معمعہ یا الہٰی کلام ماننے کے بجائے جادو کہہ دیا۔
2 خود ساختہ الزام — اگلی آیت میں (آیت 8) یہ بھی ذکر ہے کہ وہ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ آپ (ﷺ) نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔
2 مختصر جوابات

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ

آیت میں اہل ایمان پر کفارکے کس اعتراض کا ذکر ہے ؟

ترجمہ

اور کافروں نے مسلمانوں کے متعلق کہا: اگر اس (اسلام) میں کچھ بھلائی ہو تو یہ مسلمان اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے، اور جب ان کہنے والوں کو اس قرآن سے ہدایت نہ ملی تو اب کہیں گے کہ یہ ایک پرانا گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔

کفار کے اعتراض کی تفصیل

1 تکبر اور غرور — کفارِ مکہ اپنی سرداری، مال و دولت اور بڑے مرتبے کی وجہ سے مغرور تھے۔
2 کمتر طبقے پر اعتراض — حضرت بلال، عمار، صہیب اور خباب (رضوان الله عليهم) جیسے غریب اور کمزور صحابہ جب پہلے ایمان لائے، تو کفار نے طنز کیا کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ہم جیسے معزز لوگ اسے پہلے مانتے۔
3 ہدایت نہ ملنے پر بہتان — جب کفار نے خود اپنے تکبر کی وجہ سے ہدایت نہ پائی، تو ہار ماننے کے بجائے قرآن کو "پرانا جھوٹ" (افک قدیم) قرار دینے لگے
3 مختصر جوابات

وَمِنْ قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إِمَامًا وَرَحْمَةً وَهَذَا كِتَابٌ مُصَدِّقٌ لِسَانًا عَرَبِيًّا لِيُنْذِرَ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَبُشْرَى لِلْمُحْسِنِينَ

آیت میں قرآن کے کیا اوصاف بیان کیے گیے ہیں؟

ترجمہ

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی، اور یہ (قرآن) عربی زبان میں تصدیق کرنے والی کتاب ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوکاروں کے لیے بشارت (خوشخبری) ہو۔

قرآن کریم کے اوصاف

1 مصدق (تصدیق کرنے والی) — یہ کتاب پچھلی تمام آسمانی کتب (تورات وغیرہ) کی سچائی اور ان میں دیے گئے حق کی تصدیق کرتی ہے۔
2 لساناً عربیاً (عربی زبان) — یہ فصیح اور واضح عربی زبان میں نازل کی گئی ہے تاکہ مخاطب اسے اچھی طرح سمجھ سکیں۔
3 لینذر الذين ظلموا (انتباہ اور ڈرانے والی) — یہ نافرمانوں، کافروں اور ظلم کی روش اپنانے والوں کو برے انجام سے ڈراتی ہے۔
4 بشری للمحسنین (خوشخبری سنانے والی) — یہ نیکوکار اور محسن بندوں کے لیے کامیابی اور جنت کی بشارت لے کر آئی ہے۔
4 مختصر جوابات

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ

آیت میں کس عمل پر خوف اور غم سے نجات کی خبر دی گئی ہے؟

ترجمہ

بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر قائم رہے (ثابت قدم رہے)، تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

نجات کی بنیاد اور عمل

1 اللہ کو رب ماننا — دل سے یہ اقرار کرنا اور زبان سے کہنا کہ "ہمارا رب صرف اللہ ہے"۔
2 استقامت (ثابت قدمی) — اس توحید کے اقرار پر اور دینِ حق کے راستے پر آخری دم تک مضبوطی سے جم جانا، اور اچھے کام کرتے رہنا
5 مختصر جوابات

وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا

آیت میں والدہ کے حوالے سے کیا بتا کر احسان کا حکم دیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا، اور اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔

والدہ کے حوالے سے اہم نکات

1 تکلیف دہ حمل — ماں کا نو ماہ تک بچے کو حمل کی حالت میں اٹھائے رکھنا اور اس کی بھاری پن یا کمزوری کی مشقت جھیلنا .
2 تکلیف دہ پیدائش — زچگی اور ولادت کے وقت شدید جسمانی تکلیف برداشت کرنا.
3 مدتِ حمل و رضاعت — حمل اور دودھ چھڑانے (فصال) کی مدت کا مجموعی طور پر تیس ماہ (ڈھائی سال) ہونا، جو ماں کی طویل قربانی کو ظاہر کرتا ہے.
4 حقِ تقدم — ان شدید مشقتوں کا ذکر فرما کر یہ واضح کیا گیا ہے کہ انسان پر ماں کا احسان بہت بھاری ہے، اسی لیے حسنِ سلوک اور خدمت کے حق میں ماں کو خصوصی اہمیت اور برتری حاصل ہے.
6 مختصر جوابات

قَالُوا یَٰقَومَنَا ا نَّا سَمِعنَا كِتَٰبًا أُنزِلَ مِن بَعدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقا لِّمَا بَینَ یَدَیهِ یَهدِی إِلَى ٱلحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِیق مُّستَقِیم

آیت کی رو سے جنات کی جماعت نے اپنی قوم سے قرآن کی کیا شان بیان فرمائی ہے؟

ترجمہ

انہوں نے جا کر کہا: اے ہماری قوم کے لوگو! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے کی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف۔

قرآن مجید کی شان (آیت 30 کے مطابق)

1 بعد از موسیٰ نزول — یہ کتاب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتاری گئی ہے۔
2 تصدیقِ کتبِ سابقہ — یہ اپنے سے پہلے موجود تمام آسمانی کتابوں کی سچائی کو مانتی اور ان کی تصدیق کرتی ہے۔
3 ہدایت و رہنمائی — یہ لوگوں کو کچے دین یعنی حق اور بالکل سیدھے راستے کی طرف بلاتی ہے
7 مختصر جوابات

يٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ

آیت کی روسے جنات کی جماعت نے اپنی قوم کو کیا دعوت دی ؟

ترجمہ

اے ہماری قوم! اللہ کی طرف بلانے والے کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ، وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے گا۔

جنات کی طرف سے قوم کو دی گئی دعوت کے اہم نکات

1 لبیک کہنے کی دعوت — اللہ کے داعی (رسول اللہ ﷺ) کی پکار پر فوراً لبیک کہنے اور ان کا کہا ماننے کی تلقین۔
2 ایمان کی دعوت — اللہ کے اس پیغام اور رسول پر دل سے ایمان لانے کا حکم۔
3 بخشش اور پناہ کا وعدہ — ایمان لانے کے بدلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے گناہوں کی معافی۔
4 آخرت میں دردناک اور المناک عذاب سے نجات اور پناہ کی نوید

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا ۚ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور ہم نے انسان کو تاکید کی کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ اس کی ماں نے اسے تکلیف کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی کے ساتھ اسے جنا، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچ گیا اور چالیس سال کا ہو گیا تو کہنے لگا: اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے، اور یہ کہ میں ایسے اچھے کام کروں جن سے تو راضی ہو جائے، اور میرے لیے میری اولاد میں بھی صلاح رکھ۔ بے شک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں

مفہوم و تشریح

1 والدین کا احسان — اس آیت میں اولاد کو والدین کا فرمانبردار رہنے اور ان کے ساتھ احسان کرنے کا حکم ہے، خاص طور پر ماں کی عظمت اور اس کی تکالیف (حمل، ولادت اور رضاعت) کا ذکر ہے جو وہ اولاد کی پرورش کے لیے اٹھاتی ہے۔
2 پختگی اور شعور (چالیس سال کی عمر) — انسان جب زندگی کے پختہ ترین دور یعنی چالیس سال کو پہنچتا ہے تو اسے اپنی زندگی کا حساب کتاب کرنا چاہیے اور غفلت چھوڑ دینی چاہیے۔
3 جامع دعا — اس عمر میں بندہ عاجزی سے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے، نیک اعمال کی توفیق مانگتا ہے، اپنی اولاد کی اصلاح کی دعا کرتا ہے، اور اللہ کے حضور توبہ کرتا ہے
9 تفصیلی جوابات

وَالَّذِیقَالَ لِوَالِدَیہِ اُفِّ لَّکُمَا اَتَعِدٰنِنیۤ اَن اُخرَجَ وَقَد خَلَتِ القُرُونُ مِن قَبلِی وَہُمَا یَستَغِیثٰنِ اللّٰہَ وَیلَکَ اٰمِن اِنَّ وَعدَ اللّٰهِ حَقٌّ یَقُولُ مَا ہٰذَا اِلَّا اَسَاطِیرُ الاَوَّلِینَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا: تمہارے لیے اُف! (یعنی تم سے بیزار ہوں) کیا تم مجھے یہ ڈراتے ہو کہ میں (قبر سے) نکالا جاؤں گا، حالانکہ مجھ سے پہلے کئی زمانے گزر چکے ہیں (اور ان میں سے کوئی زندہ ہو کر نہیں آیا)؟ اور وہ دونوں (ماں باپ) اللہ سے فریاد کرتے ہیں (اور بیٹے سے کہتے ہیں): تیری خرابی ہو، ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تو وہ کہتا ہے: یہ تو اگلے لوگوں کے جھوٹے افسانے ہیں۔

مفہوم و خلاصہ

1 نافرمان اور منکر اولاد کا رویہ — اس آیت میں ایک ایسی بدبخت اور نافرمان اولاد کا ذکر ہے جو اپنے مومن ماں باپ کی طرف سے دی جانے والی دین اور آخرت (دوبارہ زندہ کیے جانے) کی نصیحت پر شدید غصہ اور بیزاری ظاہر کرتی ہے۔
2 والدین کی محبت اور دعا — ماں باپ جو اولاد کی بھلا چاہتے ہیں، اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ اسے ہدایت ملے اور اسے سمجھاتے ہیں کہ قیامت اور حشر کا وعدہ برحق ہے۔
3 ہٹ دھرمی — نافرمان بیٹا یا اولاد اپنے ماں باپ کی سچی نصیحت کو جھٹلاتے ہوئے اسے محض پرانے لوگوں کی کہانیاں قرار دیتی ہے۔
10 تفصیلی جوابات

فَٱصبِركَمَا صَبَرَ أُوْلُواْ ٱلعَزمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَستَعجِل لَّهُم كَأَنَّهُم يَومَ يَرَونَ مَا يُوعَدُونَ لَم يَلبَثُوۤا إِلَّا سَاعَةٗ مِّن نَّهَارٍ بَلَٰغٌ فَهَل يُهلَكُ إِلَّا ٱلقَومُ ٱلَٰسِقُونَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

پس (اے حبیب!) آپ اسی طرح صبر کیجیے جس طرح عالی ہمت (اولوالعزم) پیغمبروں نے صبر کیا تھا اور آپ ان کے لیے (عذاب کا تقاضا کرنے میں) جلدی نہ کریں۔ جس دن یہ لوگ اس عذاب کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (انہیں ایسا محسوس ہوگا) گویا وہ دن کی ایک گھڑی کے سوا (دنیا میں) نہیں رہے تھے۔ یہ اللہ کا پہنچایا ہوا پیغام ہے، سو نافرمان قوم کے سوا کوئی اور ہلاک نہیں کیا جائے گا

مفہوم و تفسیر

1 نبی کریم ﷺ کو تسلی — کفار کی طرف سے دی جانے والی تکلیفوں اور تکذیب پر آپ ﷺ کو صبرِ جمیل کی تلقین کی گئی ہے۔
2 اولوالعزم رسولوں کی پیروی — مراد وہ پختہ ارادے اور عزم والے جلیل القدر انبیاء ہیں جنہوں نے اپنی قوموں کی مخالفت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
3 عذاب کی جلدی نہ مانگنا — جیسے کفار طنزاً یا بے صبری سے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے، آپ ان کے عذاب کے لیے جلدی نہ کریں، اس کا ایک مقررہ وقت ہے۔
4 دنیا کی بے ثباتی کا احساس — جب کافر قیامت کے روز عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو انہیں اپنی پوری دنیا کی زندگی اتنی مختصر معلوم ہوگی جیسے دن کا ایک چھوٹا سا حصہ ہو۔
5 نتیجہ — یہ قرآن ایک واضح پیغام اور تبلیغ ہے، اور اللہ کے قانون کے مطابق ہلاکت کا سامنا صرف نافرمانوں کو کرنا پڑتا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىٕهِمْ غٰفِلُوْنَ

آیت کے مطابق سب سے بڑھ کر گمراہ کس شخص کو کہا گیا ہے؟

ترجمہ

اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں، بلکہ ان کے پکارنے سے محض بے خبر ہوں۔

آیت کے مطابق سب سے بڑھ کر گمراہ شخص کی وضاحت

1 غیر اللہ کو پکارنا — جو اللہ کو چھوڑ کر بے جان بتوں، مورتیوں یا ایسی ہستیوں کو مدد کے لیے پکارتا ہے۔
2 جواب دینے سے قاصر — جو معبود قیامت کے دن تک بھی اپنے پجاری کی کسی پکار یا سوال کا جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔
3 پکار سے بے خبر — جو پکارنے والوں کی دعاؤں اور پوجا سے بالکل غافل اور بے خبر ہوتے ہیں کیونکہ وہ بے جان ہوتے ہیں

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کے حوالے سے چند احادیث اور دو واقعات لکھیں

ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی عظمت پر احادیث اور دو سبق آموز واقعات مندرجہ ذیل ہیں۔ اس سلسلے میں اہم ترین احادیث میں والدین کی نافرمانی کو بڑا گناہ قرار دینا اور ماں کی خدمت کو جہاد پر فوقیت دینا شامل ہیں۔

احادیثِ مبارکہ اور دو ایمان افروز واقعات

1 احادیثِ مبارکہ — جنت قدموں کے نیچے ہے — ایک صحابی نے نبی کریم ﷺ سے جہاد میں جانے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے پوچھا "کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟" انہوں نے عرض کیا ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا "ان کے قدموں سے لگے رہو، وہیں جنت ہے۔" (سنن نسائی)
2 احادیثِ مبارکہ — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟" صحابہ نے عرض کیا: ہاں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا "اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔" (صحیح بخاری)
3 احادیثِ مبارکہ — رضا الٰہی — آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا "رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضی والدین کی ناراضی میں ہے۔" (ترمذی)
4 دو ایمان افروز واقعات — حضرت اویس قرنی کی ماں سے محبت — حضرت اویس قرنی رحمتہ اللہ علیہ یمن کے ایک بزرگ تابعی تھے۔ وہ اپنی بوڑھی اور ضعیف ماں کی خدمت اس قدر لگن سے کرتے کہ اپنے وقت کے سب سے بڑے اولیاء میں شمار ہوئے۔ ان کا جذبہ خدمت ایسا تھا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی ظاہری زیارت کے لیے بھی اپنی ماں کی اجازت کو مقدم رکھا اور گھر پر ہی رہے، جس پر حضور ﷺ نے ان کی اس فرمانبرداری کی تعریف فرمائی۔
5 دو ایمان افروز واقعات — حضرت ابوہریرہ کا ماں کے ساتھ سلوک — حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب بھی گھر سے باہر جانے لگتے یا واپس آتے، تو اپنی ماں کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہتے: "السلام عليكم يا أمي ورحمة الله وبركاته" (اماں آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔) اور ماں جواب میں کہتیں "وعليك السلام يا بني ورحمة الله" (بیٹا تم پر بھی سلامتی ہو۔) پھر وہ ماں سے کہتے کہ اللہ آپ پر رحم کرے جیسے آپ نے بچپن میں میری پرورش کی، تو ماں کہتیں کہ اللہ تجھ پر رحم کرے جیسے تو نے بڑھاپے میں میری خدمت کی۔
13 سرگرمیاں

صحابہ کا کوئی واقعہ جس میں ایمان پر استقامت کا ذکر ہو

حضرت خباب بن ارتؓ کا واقعہ ایمان پر پختگی اور استقامت کی بڑی مثال ہے، جن کو جلتے ہوئے کوئلوں پر لٹایا گیا مگر انہوں نے اسلام نہیں چھوڑا۔

حضرت خباب بن ارتؓ کی استقامت اور حضرت خبیب بن عدیؓ کی استقامت

1 حضرت خباب بن ارتؓ کی استقامت — ظلم و ستم — مشرکینِ مکہ نے آپ کو گرم زمین اور دہکتے ہوئے کوئلوں پر لٹایا اور پیٹھ پر بوجھ رکھا تاکہ آپ اٹھ نہ سکیں۔
2 حضرت خباب بن ارتؓ کی استقامت — صبر اور دعا — آپ نے اتنی تکلیف میں بھی دین سے منہ نہیں موڑا، بلکہ اللہ کے حضور صبر کا مظاہرہ کیا۔
3 حضرت خباب بن ارتؓ کی استقامت — نبی کریم ﷺ کا ارشاد — آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں کو اس سے بھی زیادہ تکلیفیں دی گئیں مگر وہ استقامت سے ڈٹے رہے۔
4 حضرت خباب بن ارتؓ کی استقامت — دوسرا واقعہ: حضرت خبیب بن عدیؓ کا واقعہ ایمان پر ثابت قدمی اور بے مثال استقامت کی ایک اور عظیم داستان ہے۔
5 حضرت خبیب بن عدیؓ کی استقامت — قید اور سختیاں — کفارِ مکہ نے آپ کو دھوکے سے قید کیا اور قتل کرنے کے لیے سولی کا ڈھانچہ تیار کیا۔
6 حضرت خبیب بن عدیؓ کی استقامت — ایمان کا امتحان — سولی پر چڑھانے سے پہلے مشرکین نے کہا: "کیا تم پسند کرتے ہو کہ تمہاری جگہ محمد (ﷺ) ہوں اور تم اپنے گھر میں سلامت رہو؟"
7 حضرت خبیب بن عدیؓ کی استقامت — عظیم جواب — آپ نے جواب دیا: "خدا کی قسم! مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میرے بدلے نبی کریم ﷺ کے پاؤں میں ایک کانٹا بھی چبھے اور میں اپنے گھر میں آرام سے رہوں۔"
8 حضرت خبیب بن عدیؓ کی استقامت — آخری خواہش — آپ نے شہادت سے پہلے دو رکعت نماز ادا کی اور فرمایا: "اگر تمہیں یہ وہم نہ ہوتا کہ میں موت سے ڈر رہا ہوں، تو میں نماز لمبی کرتا۔"
9 حضرت خبیب بن عدیؓ کی استقامت — شہادت — آپ کو سولی پر چڑھا کر بے دردی سے شہید کر دیا گیا، مگر آپ کا ایمان رتی برابر بھی متزلزل نہ ہوا۔
14 سرگرمیاں

سورۃ الاحقاف کی آیت 15مع آیت اور ترجمہ

رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔

1 اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے، اور یہ کہ میں ایسے نیک کام کروں جن سے تو راضی ہو جائے، اور میرے لیے میری اولاد میں بھی صلاح و اصلاح پیدا کر۔ بے شک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
15 سرگرمیاں

اولوالعزم رسولوں سے مراد کون سے رسول ہیں

اولوالعزم رسولوں سے مراد وہ عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر ہیں جنہوں نے اللہ کے دین کی تبلیغ اور اس کے احکام کو عام کرنے کے لیے تاریخِ انسانیت کی سب سے سخت ترین مشکلات، مخالفتوں اور آزمائشوں کا کمالِ صبر، ہمت اور پختہ ارادے (عزم) کے ساتھ مقابلہ کیا۔ قرآن مجید کی سورہ الاحقاف (آیت 35) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ" (پس آپ اسی طرح صبر کیجیے جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا)۔ جمہور مفسرین اور علمائے اسلام کے مطابق، اولوالعزم رسولوں کی کل تعداد پانچ ہے، جن کی تفصیلی خصوصیات درج ذیل ہیں:

1 حضرت نوح علیہ السلام — لقب — آدمِ ثانی (کیونکہ طوفان کے بعد انسانی نسل آپ ہی سے دوبارہ چلی)۔
2 حضرت نوح علیہ السلام — دعوت کی مدت — آپ نے تقریباً 950 سال تک اپنی قوم کو شب و روز اللہ کی توحید کی طرف بلایا۔
3 حضرت نوح علیہ السلام — آزمائش و صبر — اتنی طویل مدت میں صرف چند درجن افراد ایمان لائے۔ قوم آپ کا مذاق اڑاتی، پتھر مارتی اور پاگل کہتی، لیکن آپ کے عزم میں کوئی کمی نہ آئی۔
4 حضرت نوح علیہ السلام — بڑی نشانی — اللہ کے حکم سے ایک عظیم الشان کشتی تیار کی، جس کے بعد نافرمان قوم پر طوفانِ نوح کا عذاب آیا اور مومنین بچا لیے گئے۔
5 حضرت ابراہیم علیہ السلام — لقب — خلیل اللہ (اللہ کا گہرا دوست) اور جد الانبیاء (نبیوں کے جدِ امجد)
6 حضرت ابراہیم علیہ السلام — دعوت کی مدت — بچپن سے لے کر آخری عمر تک مسلسل حق کی گواہی دی۔
7 حضرت ابراہیم علیہ السلام — آزمائش و صبر — آپ کی زندگی امتحانات سے بھری ہوئی تھی۔ بت پرستی کے خلاف آواز اٹھانے پر نمرود نے آپ کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا، جہاں آپ نے بے خوفی کا مظاہرہ کیا۔ بعد میں اللہ کے حکم پر بیوی (حضرت ہاجرہ) اور شیر خوار بچے (حضرت اسماعیل) کو بنجر اور سنسان وادی (مکہ) میں تنہا چھوڑ دیا۔
8 حضرت ابراہیم علیہ السلام — سب سے بڑی قربانی — اللہ کی رضا کے لیے اپنے جوان بیٹے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ آپ کی اسی تسلیم و رضا کی یاد میں امتِ مسلمہ ہر سال عید الاضحیٰ مناتی ہے۔ آپ نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر بھی کی۔
9 حضرت موسیٰ علیہ السلام — لقب — کلیم اللہ (وہ نبی جس سے اللہ نے براہِ راست گفتگو فرمائی)۔
10 حضرت موسیٰ علیہ السلام — دعوت کی مدت — فرعون کے دربار سے لے کر بنی اسرائیل کی صحرائے سینا میں طویل وادی تک۔
11 حضرت موسیٰ علیہ السلام — آزمائش و صبر — آپ کو اس دور کے سب سے ظالم اور خود کو خدا کہلوانے والے بادشاہ "فرعون" کے سامنے جا کر دین کی دعوت دینے کا حکم ہوا۔ فرعون کی مخالفت کے علاوہ، خود آپ کی اپنی قوم (بنی اسرائیل) نے آپ کو شدید ذہنی اذیتیں دیں، نافرمانیاں کیں اور قدم قدم پر دل دکھایا، لیکن آپ نے نہایت صبر سے کام لیا۔
12 حضرت موسیٰ علیہ السلام — بڑی نشانی — آپ کو معجزے کے طور پر "عصا" (لاٹھی جو اژدہا بن جاتی تھی) اور "یدِ بیضا" (چمکتا ہوا ہاتھ) ملا۔ آپ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلائی اور سمندر کے بیچوں بیچ راستہ بنا کر پار اترے۔ آپ پر مشہور آسمانی کتاب تورات نازل ہوئی۔
13 حضرت عیسیٰ علیہ السلام — لقب — روح اللہ اور مسیح
14 حضرت عیسیٰ علیہ السلام — دعوت کی مدت — جوانی کے قلیل عرصے میں بنی اسرائیل کے مقتدر اور دنیا پرست علماء کے سامنے حق کا پرچار کیا۔
15 حضرت عیسیٰ علیہ السلام — آزمائش و صبر — آپ بغیر باپ کے معجزاتی طور پر پیدا ہوئے، جس کی وجہ سے قوم نے آپ کی پاکدامن والدہ (حضرت مریم) پر تہمت لگائی۔ آپ نے بچپن میں (گھوارے کے اندر) ہی کلام کر کے اپنی والدہ کی پاکدامنی کی گواہی دی۔ جب آپ نے تبلیغ شروع کی تو یہودیوں کے علماء آپ کے جانی دشمن بن گئے، آپ کو جادوگر کہا اور حکومت کے ساتھ مل کر آپ کو سولی پر چڑھانے کی سازش کی، لیکن اللہ نے آپ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔
16 حضرت عیسیٰ علیہ السلام — بڑی نشانی — آپ مٹی کے پرندے بنا کر پھونک مارتے تو وہ اللہ کے حکم سے سچ مچ اڑنے لگتے، پیدائشی اندھوں اور کوڑھیوں کو شفا دیتے، اور مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کر دیتے تھے۔ آپ پر آسمانی کتاب انجیل نازل ہوئی۔
17 حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ — لقب — خاتم النبین (آخری نبی)، رحمت اللعالمین (تمام جہانوں کے لیے رحمت) اور حبیب اللہ۔
18 حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ — دعوت کی مدت — اعلانِ نبوت کے بعد 23 سالہ دورِ حیات۔
19 حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ — آزمائش و صبر — آپ اولوالعزم رسولوں کے سردار اور تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ مکہ کے تیرہ سالہ دور میں کفار نے آپ پر پتھر برسائے (جیسے واقعہ طائف)، راستوں میں کانٹے بچھائے، آپ پر اوجھڑی ڈالی، آپ کا اور آپ کے خاندان کا تین سال تک معاشی و سماجی بائیکاٹ کیا (شعب ابی طالب)، اور بالاخر آپ کو اپنا محبوب وطن مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنی پڑی۔ مدینہ پہنچ کر بھی منافقین، یہودیوں اور کفارِ مکہ کی طرف سے کئی جنگیں مسلط کی گئیں، لیکن آپ کا عزم و استقلال کوہِ گراں کی طرح قائم رہا۔
20 حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ — بڑی نشانی — آپ کا سب سے بڑا اور دائمی معجزہ قرآن مجید ہے جو قیامت تک کے لیے ہدایت کی کتاب ہے۔ آپ کی دعوت کسی ایک قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تھی اور آپ نے عرب کے پسماندہ اور جاہل معاشرے کو دنیا کی سب سے مہذب اور بہترین قوم میں تبدیل کر دیا
16 سرگرمیاں

سورۃ الاحقاف کی روشنی میں جنات کے ایمان لانے ،قرآن حکیم اور صاحب قرآن نبیﷺ کے اوصاف بیان کرنے اور اسلام کی دعوت دینے کا واقعہ لکھیں

قرآن کی تلاوت اور جنات کی آمد یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے جنات کے ایک گروہ کو نبی کریم ﷺ کی طرف متوجہ کیا۔ آپ ﷺ اس وقت صحابہ کرام کے ساتھ نماز میں یا تنہائی میں قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے۔ جب یہ جنات تلاوت کی پہنچے، تو قرآن کے الفاظ اور اس کی تاثیر سن کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے فوراًِ ایک دوسرے کو ٹوکا اور کہاخاموش جاؤ اور غور سے سنو۔ چنانچہ وہ سب ہمہ تن گوش ہو کر قرآن سننے لگے اور اس کلام ربانی کے رعب اور سچائی نے ان کے دلوں کو فوراًِ تسخیر کر لیا۔

قوم کی طرف واپسی اور قرآن کے اوصاف کا بیان اور اسلام کی دعوت اور انجام سے باخبر کرنا

1 قوم کی طرف واپسی اور قرآن کے اوصاف کا بیان — جیسے ہی نبی کریم ﷺ کی قرات مکمل ہوئی، یہ جنات اب عام جنات نہیں رہے تھے بلکہ وہ سچے مومن اور اپنی قوم کے لیے "نذیر" (ڈرانے والے اور مصلح) بن چکے تھے۔ وہ فوراً اپنی قوم کی طرف لوٹے اور پوری سنجیدگی کے ساتھ قرآن اور صاحبِ قرآن کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہنے لگے۔
2 قوم کی طرف واپسی اور قرآن کے اوصاف کا بیان — "اے ہماری قوم! ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے، جو اپنے سے پہلے کی تمام آسمانی کتابوں (تورات وغیرہ) کی تصدیق کرتی ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ کتاب حق اور بالکل سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے "
3 اسلام کی دعوت اور انجام سے باخبر کرنا — اپنی قوم کو حق کی طرف راغب کرنے کے لیے انہوں نے والہانہ انداز میں پکارا:
4 اسلام کی دعوت اور انجام سے باخبر کرنا — "اے ہماری قوم! اللہ کی طرف بلانے والے (نبی کریم ﷺ) کی دعوت کو قبول کر لو اور ان پر ایمان لے آؤ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں ایک دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔"
5 اسلام کی دعوت اور انجام سے باخبر کرنا — اپنے اس خطبے کے آخر میں انہوں نے قوم کو کفر کے ہولناک انجام سے ڈراتے ہوئے دوٹوک لفظوں میں خبردار کیا:
6 اسلام کی دعوت اور انجام سے باخبر کرنا — "اور یاد رکھو! جو کوئی اللہ کے داعی (نبی ﷺ) کی بات کو نہیں مانے گا، وہ زمین میں (بھاگ کر) اللہ کو ہرگز عاجز نہیں کر سکتا، اور نہ ہی اللہ کے علاوہ اس کا کوئی پشت پناہ یا مددگار ہوگا؛ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔"
جواب اس طرح جنات کے اس گروہ نے نہ صرف خود اسلام قبول کیا بلکہ وہ اپنی قوم کے سامنے اسلام کے پہلے باقاعدہ داعی بن کر ابھرے۔

شان نزول

17 شان نزول

اہم پس منظر اور حقائق

1 زمانۂ نزول — یہ سورت اس سخت دور میں نازل ہوئی جب مکہ میں کافرینِ قریش اسلام اور قرآن کی شدید مخالفت کر رہے تھے۔
2 قومِ عاد کا ذکر — اس کی آیت نمبر 21 میں 'احقاف' (ریت کے ٹیلوں والی زمین) اور حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عاد کا عبرت ناک واقعہ مکہ والوں کو خبردار کرنے کے لیے اترا۔
3 جنات کا واقعہ — اسی سورت کی آیات 29 اور 30 میں اس واقعے کی طرف اشارہ ہے جب جنات نے آپ ﷺ سے قرآن سنا اور اپنی قوم کی طرف دائرہ اسلام کی دعوت لے کر لوٹے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.