اولوالعزم رسولوں سے مراد وہ عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر ہیں جنہوں نے اللہ کے دین کی تبلیغ اور اس کے احکام کو عام کرنے کے لیے تاریخِ انسانیت کی سب سے سخت ترین مشکلات، مخالفتوں اور آزمائشوں کا کمالِ صبر، ہمت اور پختہ ارادے (عزم) کے ساتھ مقابلہ کیا۔ قرآن مجید کی سورہ الاحقاف (آیت 35) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ" (پس آپ اسی طرح صبر کیجیے جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا)۔ جمہور مفسرین اور علمائے اسلام کے مطابق، اولوالعزم رسولوں کی کل تعداد پانچ ہے، جن کی تفصیلی خصوصیات درج ذیل ہیں:
1
حضرت نوح علیہ السلام — لقب — آدمِ ثانی (کیونکہ طوفان کے بعد انسانی نسل آپ ہی سے دوبارہ چلی)۔
2
حضرت نوح علیہ السلام — دعوت کی مدت — آپ نے تقریباً 950 سال تک اپنی قوم کو شب و روز اللہ کی توحید کی طرف بلایا۔
3
حضرت نوح علیہ السلام — آزمائش و صبر — اتنی طویل مدت میں صرف چند درجن افراد ایمان لائے۔ قوم آپ کا مذاق اڑاتی، پتھر مارتی اور پاگل کہتی، لیکن آپ کے عزم میں کوئی کمی نہ آئی۔
4
حضرت نوح علیہ السلام — بڑی نشانی — اللہ کے حکم سے ایک عظیم الشان کشتی تیار کی، جس کے بعد نافرمان قوم پر طوفانِ نوح کا عذاب آیا اور مومنین بچا لیے گئے۔
5
حضرت ابراہیم علیہ السلام — لقب — خلیل اللہ (اللہ کا گہرا دوست) اور جد الانبیاء (نبیوں کے جدِ امجد)
6
حضرت ابراہیم علیہ السلام — دعوت کی مدت — بچپن سے لے کر آخری عمر تک مسلسل حق کی گواہی دی۔
7
حضرت ابراہیم علیہ السلام — آزمائش و صبر — آپ کی زندگی امتحانات سے بھری ہوئی تھی۔ بت پرستی کے خلاف آواز اٹھانے پر نمرود نے آپ کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا، جہاں آپ نے بے خوفی کا مظاہرہ کیا۔ بعد میں اللہ کے حکم پر بیوی (حضرت ہاجرہ) اور شیر خوار بچے (حضرت اسماعیل) کو بنجر اور سنسان وادی (مکہ) میں تنہا چھوڑ دیا۔
8
حضرت ابراہیم علیہ السلام — سب سے بڑی قربانی — اللہ کی رضا کے لیے اپنے جوان بیٹے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ آپ کی اسی تسلیم و رضا کی یاد میں امتِ مسلمہ ہر سال عید الاضحیٰ مناتی ہے۔ آپ نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر بھی کی۔
9
حضرت موسیٰ علیہ السلام — لقب — کلیم اللہ (وہ نبی جس سے اللہ نے براہِ راست گفتگو فرمائی)۔
10
حضرت موسیٰ علیہ السلام — دعوت کی مدت — فرعون کے دربار سے لے کر بنی اسرائیل کی صحرائے سینا میں طویل وادی تک۔
11
حضرت موسیٰ علیہ السلام — آزمائش و صبر — آپ کو اس دور کے سب سے ظالم اور خود کو خدا کہلوانے والے بادشاہ "فرعون" کے سامنے جا کر دین کی دعوت دینے کا حکم ہوا۔ فرعون کی مخالفت کے علاوہ، خود آپ کی اپنی قوم (بنی اسرائیل) نے آپ کو شدید ذہنی اذیتیں دیں، نافرمانیاں کیں اور قدم قدم پر دل دکھایا، لیکن آپ نے نہایت صبر سے کام لیا۔
12
حضرت موسیٰ علیہ السلام — بڑی نشانی — آپ کو معجزے کے طور پر "عصا" (لاٹھی جو اژدہا بن جاتی تھی) اور "یدِ بیضا" (چمکتا ہوا ہاتھ) ملا۔ آپ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلائی اور سمندر کے بیچوں بیچ راستہ بنا کر پار اترے۔ آپ پر مشہور آسمانی کتاب تورات نازل ہوئی۔
13
حضرت عیسیٰ علیہ السلام — لقب — روح اللہ اور مسیح
14
حضرت عیسیٰ علیہ السلام — دعوت کی مدت — جوانی کے قلیل عرصے میں بنی اسرائیل کے مقتدر اور دنیا پرست علماء کے سامنے حق کا پرچار کیا۔
15
حضرت عیسیٰ علیہ السلام — آزمائش و صبر — آپ بغیر باپ کے معجزاتی طور پر پیدا ہوئے، جس کی وجہ سے قوم نے آپ کی پاکدامن والدہ (حضرت مریم) پر تہمت لگائی۔ آپ نے بچپن میں (گھوارے کے اندر) ہی کلام کر کے اپنی والدہ کی پاکدامنی کی گواہی دی۔ جب آپ نے تبلیغ شروع کی تو یہودیوں کے علماء آپ کے جانی دشمن بن گئے، آپ کو جادوگر کہا اور حکومت کے ساتھ مل کر آپ کو سولی پر چڑھانے کی سازش کی، لیکن اللہ نے آپ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔
16
حضرت عیسیٰ علیہ السلام — بڑی نشانی — آپ مٹی کے پرندے بنا کر پھونک مارتے تو وہ اللہ کے حکم سے سچ مچ اڑنے لگتے، پیدائشی اندھوں اور کوڑھیوں کو شفا دیتے، اور مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کر دیتے تھے۔ آپ پر آسمانی کتاب انجیل نازل ہوئی۔
17
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ — لقب — خاتم النبین (آخری نبی)، رحمت اللعالمین (تمام جہانوں کے لیے رحمت) اور حبیب اللہ۔
18
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ — دعوت کی مدت — اعلانِ نبوت کے بعد 23 سالہ دورِ حیات۔
19
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ — آزمائش و صبر — آپ اولوالعزم رسولوں کے سردار اور تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ مکہ کے تیرہ سالہ دور میں کفار نے آپ پر پتھر برسائے (جیسے واقعہ طائف)، راستوں میں کانٹے بچھائے، آپ پر اوجھڑی ڈالی، آپ کا اور آپ کے خاندان کا تین سال تک معاشی و سماجی بائیکاٹ کیا (شعب ابی طالب)، اور بالاخر آپ کو اپنا محبوب وطن مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنی پڑی۔ مدینہ پہنچ کر بھی منافقین، یہودیوں اور کفارِ مکہ کی طرف سے کئی جنگیں مسلط کی گئیں، لیکن آپ کا عزم و استقلال کوہِ گراں کی طرح قائم رہا۔
20
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ — بڑی نشانی — آپ کا سب سے بڑا اور دائمی معجزہ قرآن مجید ہے جو قیامت تک کے لیے ہدایت کی کتاب ہے۔ آپ کی دعوت کسی ایک قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تھی اور آپ نے عرب کے پسماندہ اور جاہل معاشرے کو دنیا کی سب سے مہذب اور بہترین قوم میں تبدیل کر دیا