سورۃ التوبہ (برأت) میں مومنین اور منافقین کی واضح علامات بیان کی گئی ہیں۔ مومنین کی بنیادی علامات میں باہم دوستی، نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی شامل ہیں، جبکہ منافقین کی علامات میں منافقت، بخل اور راہِ خدا میں مال خرچ کرنے سے گریز کرنا نمایاں ہیں۔
1
مومنین کی علامات — باہمی دوستی اور تعاون — مرد و خواتین مومن آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں (الآیۃ 71)۔
2
مومنین کی علامات — نیکی کا حکم اور برائی سے منع — وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں (الآیۃ 71)۔
3
مومنین کی علامات — عبادت کی پابندی — وہ نماز قائم کرتے ہیں اور وقت پر زکوٰۃ ادا کرتے ہیں (الآیۃ 71)۔
4
مومنین کی علامات — اللہ اور رسول کی اطاعت — وہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں، جن پر اللہ جلد رحم فرمائے گا (الآیۃ 71)۔
5
مومنین کی علامات — جہاد اور قربانی — وہ اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، اور انہی کے لیے فلاح اور باغات ہیں (الآیۃ 88 اور 111)۔
6
مومنین کی علامات — توبہ اور استغفار — وہ اپنے گناہوں پر توبہ کرنے والے، اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں (الآیۃ 112)۔
7
منافقین کی علامات — باهم اتحاد اور بری عادتیں — منافق مرد و عورت سب ایک جیسے ہیں؛ وہ برائی کا حکم دیتے ہیں، بھلائی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں یعنی بخل کرتے ہیں (الآیۃ 67)۔
8
منافقین کی علامات — اللہ کو بھلا دینا — انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا، اور وہ نافرمان لوگ ہیں (الآیۃ 67)۔
9
منافقین کی علامات — جھوٹی قسمیں کھانا — وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بری بات نہیں کہی، جبکہ انہوں نے کفر کی بات کہی ہے (الآیۃ 74)۔
10
منافقین کی علامات — بخل اور کنجوسی — جب اللہ انہیں اپنے فضل سے نوازتا ہے تو وہ اس میں بخل کرتے ہیں اور منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں (الآیۃ 76)۔
11
منافقین کی علامات — عیب جوئی اور طعنہ زنی — وہ ان مومنین پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل سے صدقات دیتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس صدقے کے لیے سوائے محنت کی کمائی کے کچھ نہیں (الآیۃ 79)۔
12
منافقین کی علامات — جہاد سے گریز — وہ رسول اللہ کے پیچھے پیچھے بیٹھ رہنے (جہاد میں نہ جانے) پر خوش ہوئے اور اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کو ناپسند کیا (الآیۃ 81)۔