گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 19: سبق 19: سورۃ التوبہ (آیات 67 تا 99) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ-نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ ۔اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ

آیت میں منافقین کی کیا علامات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

منافق مرد اور منافق عورتیں سب آپس میں ایک جیسے ہیں۔ وہ بری باتوں کا حکم دیتے ہیں اور اچھی باتوں سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ (خیر کے کاموں میں) بند رکھتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنے رحم سے بھلا دیا (چھوڑ دیا)۔ بیشک منافق لوگ ہی نافرمان ہیں۔

منافقین کی علامات (آیت کی روشنی میں)

1 آپس میں اتحاد اور یکسانیت — تمام منافق مرد و عورت نفاق، گمراہی اور برے اعمال میں ایک دوسرے کے ہمرنگ اور حامی ہوتے ہیں۔
2 منکر کی ترغیب — وہ لوگوں کو گناہوں، برائیوں اور نافرمانیوں کا حکم دیتے ہیں۔
3 معروف سے روکاوٹ — وہ نیکی، بھلائی اور اطاعتِ خداوندی سے لوگوں کو منع کرتے ہیں۔
4 تنگ دستی اور بخل — وہ اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے سے اپنے ہاتھ کھینچ کر رکھتے ہیں یعنی شدید بخیل ہوتے ہیں۔
5 اللہ سے غفلت — وہ اللہ کے احکام اور اس کی یاد کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ بھی انہیں اپنی توفیق اور رحمت سے محروم فرما دیتا ہے۔
6 فسق و نافرمانی — وہ عملی طور پر اللہ کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکلنے والے اور پکے فاسق ہوتے ہیں۔
2 مختصر جوابات

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاهِیَ حَسْبُهُمْ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ

آیت میں اللہ نے منافقین اور کفار سے کیا وعدہ فرمایا؟

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہی (آگ) انہیں کافی ہے اور اللہ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔

اہم نکات

1 جہنم کی آگ — منافقین اور کفار کا ٹھکانہ دوزخ کی آگ ہے۔
2 دائمی رہائش — وہ اس آگ میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔
3 اللہ کی لعنت — اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے۔
4 ہمیشہ کا عذاب — ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا عذاب مقصود ہے
3 مختصر جوابات

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

آیت میں مؤمنین کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

اور ایمان والے مرد اور ایمان والیاں عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے دوست (مددگار) ہیں، بھلی بات کا حکم دیتے ہیں اور بری بات سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بے شک اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

بیان کردہ صفات

1 باہمی دوستی و تعاون — مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے ولی اور مددگار ہیں۔
2 امر بالمعروف و نہی عن المنکر — وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔
3 اقامتِ صلاۃ — وہ پابندی کے ساتھ نماز قائم کرتے ہیں۔
4 ادائیگی زکوٰۃ — وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔
5 اطاعتِ الہی و رسول — وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمانبردار ہوتے ہیں۔
4 مختصر جوابات

یَحلِفُونَ بِاللّٰہِ مَا قَالُوا وَ لَقَد قَالُوا کَلِمَۃَ الکُفرِ وَ کَفَرُوا بَعدَ اِسلَامِھِم وَ ھمُّوا بِمَا لَم یَنَالُو

آیت میں منافقین کے کس طرز عمل کا بیان ہے؟

یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (کوئی بری بات) نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے یقیناً کفر کا کلمہ زبان پر نکالا تھا اور اپنے اسلام کے بعد کافر ہو گئے تھے اور انہوں نے اس کام کا ارادہ کیا تھا جو وہ پورا نہ کر سکے۔

منافقین کا طرز عمل (اہم نکات)

1 جھوٹی قسمیں کھانا — اپنی مکاری چھپانے کے لیے اللہ کی قسمیں کھانا کہ انہوں نے کوئی توہین آمیز یا کفریہ بات نہیں کہی۔
2 کفریہ کلمات کا اعتراف نہ کرنا — زبان سے کلمہ کفر کہنا لیکن مسلمانوں کے سامنے صاف مکر جانا۔
3 پوشیدہ سازشیں — نبی کریم ﷺ یا مسلمانوں کے خلاف ایسے خفیہ ارادے اور منصوبے بنانا جو خدا نے پورے نہ ہونے دیے۔
4 احسان فراموشی اور حسد — اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے مسلمانوں کو معاشی خوشحالی اور غنا عطا کیے جانے پر جلنا اور اس کا برا منانا۔
5 مختصر جوابات

يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَهَمُّوُوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا ۚ وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ ۚ فَإِنْ يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَهُمْ

آیت کے مطابق منافقین کو کیا بات بری لگی؟

وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں... اور انہیں اس کے سوا کوئی بات بری نہیں لگی کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کر دیا سورۃ التوبہ (آیت 74) کے مطابق منافقین کو کوئی اور عیب یا بات بری نہیں لگی تھی، سوائے اس کے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے فضل سے انہیں غنی (مالدار اور خوشحال) کر دیا تھا۔ یعنی ان کی ناراضگی کی وجہ احسان مندی کے بجائے حسد تھا کہ اسلام اور نبی کریم ﷺ کی آمد و برکت سے وہ تنگدستی سے نکل کر خوشحال ہوئے

اہم نکات

1 خوشحالی پر حسد — منافقین، جو پہلے تنگدست تھے، اسلام کی برکت سے مالی طور پر مستحکم ہوئے لیکن شکرگزاری کے بجائے رسول اللہ ﷺ سے حسد کرنے لگے۔
2 احسان فراموشی — ان کی ناراضگی کی اصل وجہ وہ فضل اور احسان تھا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان پر کیا تھا۔
6 مختصر جوابات

فَلَمَّا اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ

آیت کی رو سے اللہ کی عطا پر منافقین نے کیا طرز عمل اختیار کیا؟

پھر جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمایا تو وہ اس میں بخل کرنے لگے اور منہ پھیر کر پلٹ گئے، اس حال میں کہ وہ روگردانی کرنے والے تھے

منافقین کا طرز عمل

1 بخل کرنا — اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، مال ملنے پر اس سے پھر گئے اور کنجوسی اختیار کی۔
2 روگردانی — اللہ کے احکام اور اپنے کیے گئے وعدوں سے منہ پھیر لیا۔
3 بے رخی — حق بات سے پوری طرح بے پروا ہو کر پیٹھ پھیر لی۔
7 مختصر جوابات

أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ

آیت میں منافقین کو اللہ کی کس شان کے حوالے سے متنبہ کیا گیا ہے؟

ترجمہ

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کا بھید اور ان کی سرگوشی سب معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ غیب کی تمام باتوں سے خوب واقف (علام الغیوب) ہے۔

اس آیت میں منافقین کے وہم و گمان کو توڑنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تین عظیم الشان صفات کا ذکر فرمایا ہے

اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جن سے متنبہ کیا گیا اور 3

1 اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جن سے متنبہ کیا گیا — علمِ سر (دل کے بھید کا علم) — سِرّ' اس بات یا راز کو کہتے ہیں جو انسان اپنے دل میں چھپا کر رکھتا ہے اور کسی دوسرے پر ظاہر نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ منافقین جو کفر، بغض اور عناد اپنے دلوں میں چھپائے بیٹھے ہیں، اللہ اس سے پوری طرح واقف ہے۔
2 اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جن سے متنبہ کیا گیا — علمِ نجویٰ (سرگوشیوں کا علم) — نجویٰ' اس خفیہ گفتگو کو کہتے ہیں جو دو یا دو سے زائد افراد تنہائی میں ایک دوسرے کے کان میں کرتے ہیں تاکہ کوئی دوسرا نہ سن سکے۔ منافقین جو بند کمروں میں بیٹھ کر اسلام کے خلاف سازشیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے واشگاف لفظوں میں فرما دیا کہ وہ تمہاری ایک ایک سرگوشی کو سن رہا ہے۔
3 اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جن سے متنبہ کیا گیا — علام الغیوب (غیب کی باتوں کا جاننے والا) — عَلام' مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی "بہت زیادہ جاننے والا"۔ اللہ تعالیٰ صرف حال کی پوشیدہ باتوں کو ہی نہیں جانتا، بلکہ وہ 'علام الغیوب' ہے— وہ تمام ماضی، حال، مستقبل اور ہر اس چیز کو جانتا ہے جو مخلوق کی نظروں سے اوجھل اور غیب ہے۔
4 3 — منافقین کے لیے تنبیہ اور عبرت۔اس آیت میں منافقین کے لیے شدید وعید اور تنبیہ ہے
5 3 — بیکار کوشش — وہ اپنی چالاکیوں سے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تو دھوکہ دینے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن اس ذات کو کیسے دھوکہ دیں گے جو ان کی روح کی گہرائیوں سے بھی واقف ہے؟
6 3 — رسوائی کا خوف — جب اللہ سب کچھ جانتا ہے، تو وہ ان کے ان رازوں کو وحی کے ذریعے اپنے نبی ﷺ پر ظاہر کر کے انہیں دنیا میں بھی رسوا کر سکتا ہے (جیسا کہ اس سورت میں کئی مقامات پر کیا گیا)۔
7 3 — آخرت کا حساب — چونکہ اللہ 'علام الغیوب' ہے، اس لیے وہ منافقین کے ظاہر کو نہیں بلکہ ان کی بدنیتی اور دل کے کفر کو دیکھ کر انہیں آخرت میں جہنم کے سب سے نچلے طبقے (الدرک الاسفل) میں ڈالے گا۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ

آیت کو ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے نواز دے گا ہم ضرور صدقہ و خیرات کریں گے اور پکے نیک لوگوں میں ہو جائیں گے

آیت کا مفہوم و تشریح

1 منافقین کی منافقت — یہ آیت منافقین کی ایک خاص قسم کا ذکر کرتی ہے جو تنگی اور غربت کے عالم میں اللہ تعالیٰ سے بڑھ چڑھ کر وعدے اور قسمیں کھاتے تھے کہ جب انہیں مالی خوش حالی ملی تو وہ خوب راہِ خدا میں خرچ کریں گے۔
2 وعدہ خلافی — جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے مالدار اور صاحبِ استطاعت بنایا، تو انہوں نے بخل سے کام لیا، وعدہ فراموش کیا اور منہ موڑ کر پھر گئے۔
3 اہم سبق — انسان کو اللہ کے حضور خوشحالی یا تنگی دونوں حالتوں میں اپنے قول اور عہد کا سچا رہنا چاہیے، کیونکہ مال کا لالچ اور وعدہ خلافی منافقت کی علامت ہیں۔
9 تفصیلی جوابات

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍؕ-وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ

آیت کے مطابق اللہ نے مؤمنین سے کیا وعدہ فرمایا ہے؟

ترجمہ

اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسی جنتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور ہمیشہ رہنے والے باغات (جنّاتِ عدن) میں پاکیزہ مکانات کا وعدہ کیا ہے۔ اور ان سب نعمتوں سے بڑھ کر اللہ کی رضا (خوشنودی) ہے، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اللہ کا وعدہ (آیت کے مطابق تفصیلی نکات)

1 جنتیں — ایسے باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور مومنین ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
2 پاکیزہ رہائش — جنتِ عدن میں نہایت خوبصورت اور پاکیزہ مکانات۔
3 سب سے بڑی نعمت — اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی، جو تمام جسمانی نعمتوں سے بھی بڑھ کر ہے۔
4 حتمی کامیابی — ان انعامات کا حصول ہی اصل اور بہت بڑی کامیابی ہے۔
10 تفصیلی جوابات

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ-اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نمازِ جنازہ نہ پڑھنا اور نہ ہی اس کی قبر پر (دعائے مغفرت کے لیے) کھڑے ہونا۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نافرمانی (کفر) کی حالت میں ہی مر گئے

مفہوم اور بنیادی سبق

1 لاتعلقی کا حکم — اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ جو لوگ منافق اور اللہ و رسول کے منکر مریں، ان سے کلی طور پر لاتعلق ہو جائیں۔
2 جنازہ اور قبر پر پابندی — ایسے بدبخت لوگوں کی نہ تو نمازِ جنازہ پڑھی جائے اور نہ ہی دفن کے بعد ان کی قبر پر کھڑے ہو کر دعائے مغفرت کی جائے، کیونکہ ان کی موت کفر اور فسق پر واقع ہوئی ہے۔
3 عام حکم — اگرچہ یہ آیت بظاہر رئیس المنافقین (عبداللہ بن ابی) کے انتقال پر نازل ہوئی تھی، لیکن اس کا حکم عام ہے۔ ہر وہ شخص جو کفر یا نفاق کی حالت میں مرے، اس کے لیے جنازہ اور استغفار کی اجازت نہیں ہے۔
11 تفصیلی جوابات

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَااَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ

آیت کے مطابق منافقین کی سزا اور اس کے اسباب بیان کریں؟

ترجمہ

تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن تک کے لیے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے، کیونکہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور اس وجہ سے (بھی) کہ وہ جھوٹ بولتے رہے

منافقین کی سزا اور سزا کے اسباب

1 منافقین کی سزا — دلوں میں منافقت کا راسخ ہو جانا — اللہ تعالیٰ نے بطورِ سزا ان کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے نفاق (منافقت) بٹھا دیا۔
2 منافقین کی سزا — ہدایت سے محرومی — یہ منافقت موت کے وقت تک اور بروزِ قیامت اللہ سے ملاقات کے دن تک ان کے دلوں میں مسلط رہی۔
3 منافقین کی سزا — توبہ کی توفیق چھن جانا — اس دائمی سزا کا مطلب یہ ہے کہ بدعہدی کی وجہ سے وہ توبہ اور سچے ایمان کی توفیق سے محروم ہو گئے۔
4 سزا کے اسباب — اللہ سے کیے گئے وعدے کی خلاف ورزی — اس سے پہلی آیات (75-76) میں ذکر ہے کہ انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے انہیں مال و دولت دی تو وہ ضرور صدقہ کریں گے اور نیک بنیں گے، مگر جب اللہ نے انہیں نوازا تو وہ بخل کر گئے اور اپنے وعدے سے پھر گئے۔
5 سزا کے اسباب — وعدہ خلافی اور عہد شکنی — انہوں نے اللہ کے ساتھ کیے گئے اقرار کو پورا نہیں کیا۔
6 سزا کے اسباب — مسلسل جھوٹ بولنا — وہ اپنے قول و فعل میں کذب بیانی اور جھوٹ کے عادی تھے، جو ان کے دلوں میں نفاق کی جڑیں مضبوط ہونے کا سبب بنا۔
12 تفصیلی جوابات

وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ؕ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَتَزْہَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور ان کے مال اور اولاد تمہیں تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ یہی چاہتا ہے کہ انہیں اس کے ذریعے دنیا میں سزا دے اور کفر کی حالت میں ان کی روح نکل جائے۔

مفہوم و تفسیر

1 مال و اولاد فریب نہیں — اس آیت میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ منافقین اور کافروں کے پاس جو مال اور اولاد کی فراوانی ہے، اسے دیکھ کر مرعوب نہ ہوں یا اسے ان پر اللہ کی خاص رحمت نہ سمجھیں۔
2 دنیا کا عذاب — یہ مال اور اولاد ان کے لیے راحت کے بجائے زحمت بنتے ہیں۔ وہ ان کے حصول، حفاظت اور ان پر خرچ کرنے میں طرح طرح کی پریشانیاں اور قلبی عذاب اٹھاتے ہیں۔
3 بدبختی کی موت — ان کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی محبت میں پھنس کر دین سے دور رہتے ہیں اور آخرکار حالتِ کفر میں ہی ان کی جان نکل جاتی ہے۔
13 تفصیلی جوابات

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖؕ-مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ

آیت کی رو سے جہاد میں شرکت نہ کرنے کا کیا عذر قابل قبول ہے؟

ترجمہ

کمزوروں پر اور بیماروں پر اور خرچ کرنے کی طاقت نہ رکھنے والوں پر کوئی حرج نہیں جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خیر خواہ رہیں۔ نیکی کرنے والوں پر کوئی راہ (الزام) نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

قابلِ قبول اعذار کی تفصیل اور بنیادی شرط: خیر خواہی اور اخلاص

1 قابلِ قبول اعذار کی تفصیل — ضعفاء (کمزور لوگ) — وہ بوڑھے افراد، بچے، خواتین یا پیدائشی طور پر ناتواں اور نحیف لوگ جو جہاد کی سختیاں اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے۔
2 قابلِ قبول اعذار کی تفصیل — مرضٰی (بیمار اور معذور) — وہ علیل افراد یا ایسے معذور جیسے نابینا، لنگڑے اور اپاہج جو چلنے پھرنے یا لڑائی میں حصہ لینے سے قاصر ہوں۔
3 قابلِ قبول اعذار کی تفصیل — عدمِ استطاعت (وسائل کی کمی) — وہ نادار اور محتاج لوگ جن کے پاس سواری، زادِ راہ یا جہاد کا سازوسامان خریدنے کے لیے خرچ موجود نہ ہو۔
4 بنیادی شرط: خیر خواہی اور اخلاص — جہاد سے معذور رہنے والے ان افراد پر تبھی کوئی گناہ یا الزام نہیں ہے جب تک وہ دل سے اللہ اور اس کے رسول کے مخلص اور خیر خواہ رہیں۔وہ پیچھے رہ کر بھی مسلمانوں کی بہتری چاہیں، دینِ حق کی حمایت کریں اور حتیٰ الامکان جو خدمت ممکن ہو انجام دیں۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

سورۃ التوبہ میں مؤمنین اور منافقین کی علامات کی فہرست لکھیں

سورۃ التوبہ (برأت) میں مومنین اور منافقین کی واضح علامات بیان کی گئی ہیں۔ مومنین کی بنیادی علامات میں باہم دوستی، نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی شامل ہیں، جبکہ منافقین کی علامات میں منافقت، بخل اور راہِ خدا میں مال خرچ کرنے سے گریز کرنا نمایاں ہیں۔

مومنین کی علامات اور منافقین کی علامات

1 مومنین کی علامات — باہمی دوستی اور تعاون — مرد و خواتین مومن آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں (الآیۃ 71)۔
2 مومنین کی علامات — نیکی کا حکم اور برائی سے منع — وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں (الآیۃ 71)۔
3 مومنین کی علامات — عبادت کی پابندی — وہ نماز قائم کرتے ہیں اور وقت پر زکوٰۃ ادا کرتے ہیں (الآیۃ 71)۔
4 مومنین کی علامات — اللہ اور رسول کی اطاعت — وہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں، جن پر اللہ جلد رحم فرمائے گا (الآیۃ 71)۔
5 مومنین کی علامات — جہاد اور قربانی — وہ اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، اور انہی کے لیے فلاح اور باغات ہیں (الآیۃ 88 اور 111)۔
6 مومنین کی علامات — توبہ اور استغفار — وہ اپنے گناہوں پر توبہ کرنے والے، اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں (الآیۃ 112)۔
7 منافقین کی علامات — باهم اتحاد اور بری عادتیں — منافق مرد و عورت سب ایک جیسے ہیں؛ وہ برائی کا حکم دیتے ہیں، بھلائی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں یعنی بخل کرتے ہیں (الآیۃ 67)۔
8 منافقین کی علامات — اللہ کو بھلا دینا — انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا، اور وہ نافرمان لوگ ہیں (الآیۃ 67)۔
9 منافقین کی علامات — جھوٹی قسمیں کھانا — وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بری بات نہیں کہی، جبکہ انہوں نے کفر کی بات کہی ہے (الآیۃ 74)۔
10 منافقین کی علامات — بخل اور کنجوسی — جب اللہ انہیں اپنے فضل سے نوازتا ہے تو وہ اس میں بخل کرتے ہیں اور منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں (الآیۃ 76)۔
11 منافقین کی علامات — عیب جوئی اور طعنہ زنی — وہ ان مومنین پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل سے صدقات دیتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس صدقے کے لیے سوائے محنت کی کمائی کے کچھ نہیں (الآیۃ 79)۔
12 منافقین کی علامات — جہاد سے گریز — وہ رسول اللہ کے پیچھے پیچھے بیٹھ رہنے (جہاد میں نہ جانے) پر خوش ہوئے اور اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کو ناپسند کیا (الآیۃ 81)۔
15 سرگرمیاں

بخل کی مذمت اور انفاق کی فضیلت پر تین احادیث مع ترجمہ لکھیں

بخل کی مذمت اور انفاق (خراس راہِ خدا) کی فضیلت پر تین احادیثِ مبارکہ مع ترجمہ درج ذیل ہیں: بخل ہلاکت کی چیز ہے، اور صدقہ و خیرات اللہ کا غضب ٹھنڈا کرتے ہیں۔

1 بخل اور حرص کا انجام — عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إيَّاكم والحرصَ، فإنَّما هلك من كان قبلكم بالحرص؛ أمرهم بالبخل فبخلوا، وأمرهم بالقطيعة فقطعوا، وأمرهم بالفجور ففجروا».
2 بخل اور حرص کا انجام — حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "حرص (اور بخل) سے بچو! کیونکہ تم سے پہلے لوگ حرص ہی کی وجہ سے ہلاک ہوئے؛ حرص نے انہیں بخل کا حکم دیا تو انہوں نے بخل کیا، اس نے انہیں رشتہ داری توڑنے کا حکم دیا تو انہوں نے رشتے توڑے، اور اس نے انہیں گناہ کا حکم دیا تو انہوں نے گناہ کیا۔" (سنن ابی داود)
3 انفاق (صدقہ) کی فضیلت اور روزانہ فرشتوں کی دعا — عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما من يوم يُصبح العباد فيه إلا ملكان ينزلان، فيقول أحدهما: اللهم أعطِ مُنفِقاً خلفاً، ويقول الآخر: اللهم أعطِ مُمْسِكاً تلفاً».
4 انفاق (صدقہ) کی فضیلت اور روزانہ فرشتوں کی دعا — حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کوئی دن ایسا نہیں آتا جس میں بندے صبح کرتے ہوں مگر دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں؛ ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ عطا فرما، اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! بخل کرنے والے (روک رکھنے والے) کا مال تباہ کر دے۔" (صحیح بخاری)
5 بخل مال کو نہیں بڑھاتا بلکہ صدقہ اجر دیتا ہے — عن عدي بن حاتم رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «اتقوا النار ولو بشق تمرة».
6 بخل مال کو نہیں بڑھاتا بلکہ صدقہ اجر دیتا ہے — حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "آگ (جہنم) سے بچو! خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے (صدقے) ہی کے ذریعے۔" (صحیح بخاری)
16 سرگرمیاں

نفاق کی تعریف ، اقسام اور نفاق پیدا ہونے والے اسباب اور اس کا حل

نفاق کی تعریف یہ ہے کہ انسان دل میں کفر یا بغض چھپائے اور زبان سے اسلام یا محبت کا اظہار کرے، اور اس کی دو اہم اقسام (اعتقادی اور عملی) ہیں۔ نفاق پیدا ہونے کے اسباب میں کمزور ایمان، دنیا کی محبت، اور جھوٹ شامل ہیں، جبکہ اس کا حل سچی توبہ، تقویٰ اختیار کرنا اور اعمال کی درستگی ہے۔

1 تعریف اور اقسام — تعریف — ظاہری طور پر مسلمان بننا اور اندر سے کافر یا دشمن ہونا۔
2 تعریف اور اقسام — اعتقادی نفاق — دل سے دین کو نہ ماننا مگر زبان سے ایمان کا اقرار کرنا (اس کا انجام جہنم کا نچلا طبقہ ہے)۔
3 تعریف اور اقسام — عمل نفاق — دل میں ایمان ہونے کے باوجود منافقوں جیسے کام کرنا (جیسے جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا)۔
4 اسباب — کمزور ایمان — اللہ کا خوف دل میں کم ہو جانا۔
5 اسباب — حبِ دنیا — مال اور عزت کی محبت میں حق کو چھوڑ دینا۔
6 اسباب — منافقت کی عادت — بات میں جھوٹ اور امانت میں خیانت کرنا۔
7 حل — سچی توبہ — اللہ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا۔
8 حل — اخلاص — ہر عمل صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا۔
9 حل — کردار کی درستگی — قول و فعل میں سچائی اور امانت داری اپنانا۔
17 سرگرمیاں

جہاد کا مفہوم ، اقسام اور فضیلت

اسلام میں جہاد سے مراد اللہ کی راہ میں اپنی جان، مال اور صلاحیتوں کو دین کی سربلندی کے لیے پوری طاقت سے صرف کرنا ہے۔ اس کی اہم اقسام میں جہاد بالنفس (نفس کے خلاف جنگ)، جہاد بالمال (مالی قربانی) اور جہاد بالسفر والقتال (میدانِ جنگ میں قتال) شامل ہیں، جبکہ اس کی فضیلت تمام نیکیوں میں بلند ترین اور اللہ کے نزدیک عظیم ثواب کا ذریعہ ہے۔

1 جہاد کا مفہوم — لغوی معنی — کسیکام میں حد درجہ کوشش کرنا، محنت کرنا اور تکلیف برداشت کرنا۔
2 جہاد کا مفہوم — اصطلاحی معنی — اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے اور دینِ اسلام کی حفاظت و اشاعت کے لیے تمام ممکنہ طاقت اور وسائل کو بروئے کار لانا۔
3 جہاد کی اقسام — جہاد بالنفس — اپنے برے جذبات، خواہشات اور شیطان کے وسوسوں کے خلاف جدوجہد کرنا۔
4 جہاد کی اقسام — جہاد بالمال — اللہ کی رضا کے لیے اپنا روپیہ پیسہ اور وسائل دین کی راہ میں خرچ کرنا۔
5 جہاد کی اقسام — جہاد باللسان — حق بات کہنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا اور اسلام کا علمی دفاع کرنا۔
6 جہاد کی اقسام — جہاد بالسيف والقتال — اسلامی ریاست اور مسلمانوں کے دفاع کے لیے میدانِ جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا (اس کی مزید دو صورتیں ہیں: دفاعی اور اقدامی)۔
7 جہاد کی فضیلت — عظیم مرتبہ — قرآن و سنت میں مجاہدین کو عام مسلمانوں پر واضح فضیلت اور درجات کی بلندی دی گئی ہے۔
8 جہاد کی فضیلت — اللہ کی رضا — جہاد کو اللہ کے راستے کی سب سے بڑی عبادت اور اسلام کی چوٹی قرار دیا گیا ہے۔
9 جہاد کی فضیلت — شہادت کا انعام — اس راہ میں جان دینے والے کو شہید کہا جاتا ہے جس کا اجر براہِ راست جنت اور مغفرت ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.