ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ
آیت کریمہ میں قرآن کے کون سے دو اوصاف بیان ہوئے ہیں؟
یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کے لیے ہدایت (اور راہنمائی) ہے۔
قرآن کریم کے دو اوصاف
گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ
آیت کریمہ میں قرآن کے کون سے دو اوصاف بیان ہوئے ہیں؟
یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کے لیے ہدایت (اور راہنمائی) ہے۔
قرآن کریم کے دو اوصاف
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ وَعَلٰى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴾
آیت کریمہ میں کفار کے متعلق کیا بیان ہوا ہے؟
اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
کفار کے متعلق بیان
وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ
آیت کریمہ میں منافقین کا کیا طرز عمل بیان ہوا ہے؟
اور جب وہ (منافق) اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم (بھی) ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں، ہم (مسلمانوں کا تو) محض مذاق اڑاتے ہیں۔
منافقین کا طرز عمل
الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ
آیت کریمہ میں اللہ کی کن نعمتوں کا ذکر ہے؟
جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور اس نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس پانی کے ذریعے تمہارے کھانے کے لیے کئی پھل پیدا کیے تو تم جان بوجھ کر اللہ کے شریک نہ بناؤ۔
آیت کریمہ میں مذکور الٰہی نعمتیں
الَّذِینَ یَنقُضُونَ عَہدَ اللّٰہِ مِن بَعدِ مِیثَاقِہٖ وَ یَقطَعُونَ مَا اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖ اَن یُّوصَلَ وَ یُفسِدُونَ فِی الاَرضِ ؕ اُولٰٓئِکَ ھمُ الخٰسِرُونَ ﴿۲۷﴾
آیت کریمہ کی رو سے خسارہ اٹھانے والے کون ہیں ؟
(یہ نافرمان وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے عہد کو اس سے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس (تعلق یا رشتہ) کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان (خسارہ) اٹھانے والے ہیں۔
اس آیت کریمہ کی رو سے خسارہ اٹھانے والے (الخاسرون) درج ذیل تین خصلتوں والے لوگ ہیں:
خسارہ اٹھانے والے کون ہیں؟
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
آیت کریمہ کی رو سے فرشتوں نے انسان کی تخلیق کے حوالے سے کن خدشات کا اظہار کیا ؟
اور (وہ وقت یاد کرو) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں، تو انہوں نے عرض کیا: کیا تو اس زمین میں ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح اور پاکیزگی بیان کرتے ہیں؟ اللہ نے فرمایا: بے شک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
آیت کریمہ کی رو سے فرشتوں نے انسان کی تخلیق کے حوالے سے درج ذیل خدشات کا اظہار کیا۔
فرشتوں کے خدشات۔
وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَامِنَ الظَّالِمِينَ
آیت کریمہ کی رو سے سیدنا آدم ؑ کو کیا ہدایات دی گئی ہیں ؟
اور ہم نے کہا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔
سیدنا آدم ؑ کو دی گئی ہدایات
وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
آیت کا ترجمہ اور وضاحت کریں
اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا، اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔
وضاحت ۔اس آیت میں اہل ایمان کی تین صفات کا ذکر ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔
آیت کا ترجمہ اور وضاحت کریں۔
اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، تاکہ تم بچ جاؤ (تقویٰ اختیار کرو)۔
وضاحت
وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
آیت کریمہ میں قرآن کا کون سا معجزہ بیان ہوا ہے؟
اور اگر تم اس (کلام) کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ، اور اللہ کے سوا اپنے سب مددگاروں کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔
قرآن کا کون سا معجزہ بیان ہوا ہے؟
وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَٰؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
آیت کریمہ میں اللہ نے فرشتوں پر سیدنا آدمؑ کی فضیلت کس طرح واضح فرمائی؟
“اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے، پھر ان سب اشیاء کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ۔”
فرشتوں پر سیدنا آدمؑ کی فضیلت کا بیان
توبہ کے حوالے سے سیدنا حضرت آدمؑ اور اماں حواؑ کی دعا اور ترجمہ لکھیں
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
سورۃ البقرہ کے آغاز میں مذکورہ تین طبقات (متقین ، کفاراور منافقین ) کی بیان کی گئی خصوصیات لکھیں ۔
سورۃ البقرہ کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو تین اہم طبقات متقین، کفار اور منافقین میں تقسیم کیا ہے اور ان کی نمایاں خصوصیات بیان کی ہیں۔
سیدنا آدمؑ اور ابلیس کے واقعہ کے اہم نکات لکھیں ۔
سیدنا آدمؑ اور ابلیس کا واقعہ قرآن پاک میں انسانی زندگی کے آغاز اور حق و باطل کی پہلی جنگ کو ظاہر کرتا ہے، جس کے اہم نکات میں آدمؑ کی تخلیق، ابلیس کا انکار اور ان کا زمین پر اتارا جانا شامل ہیں۔
اہم نکات
سورۃ البقرہ آیت 1 تا 39 میں مذکور مختلف مثالوں سے سبق آموز نکات اخذ کر کے لکھیں۔
سورۃ البقرہ کی آیات 1 تا 39 میں بیان کردہ مختلف مثالوں اور واقعات (جیسے منافقین کی دوہری چالیں، حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور ان کا امتحان) سے اہم سبق آموز نکات یہ ہیں: حق کی قبولیت، علم کی اہمیت، اور توبہ کا راستہ۔
قرآنی مثالوں سے سبق آموز نکات
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔