گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 1: سبق 1: سورۃ البقرہ — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ

آیت کریمہ میں قرآن کے کون سے دو اوصاف بیان ہوئے ہیں؟

ترجمہ

یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کے لیے ہدایت (اور راہنمائی) ہے۔

قرآن کریم کے دو اوصاف

1 لا رَيْبَ فِيهِ (شک سے پاک) — اس کتاب کے سچی اور الہامی ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
2 هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (متقیوں کے لیے ہدایت) — یہ صرف ان لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتی ہے جو اللہ سے ڈرنے والے اور حق کو قبول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں
2 مختصر جوابات

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ وَعَلٰى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴾

آیت کریمہ میں کفار کے متعلق کیا بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

کفار کے متعلق بیان

1 ہدایت سے محرومی — کفار کی مسلسل ہٹ دھرمی، تعصب اور حق دشمنی کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں سلب ہو گئیں، جس پر قرآن نے تعبیر کیا کہ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کر دی۔
2 حق بات نہ سمجھنا — مہر لگ جانے اور آنکھوں پر پردہ (گھٹاٹوپ) پڑ جانے کے باعث وہ نہ تو حق بات کو سن اور سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی کائنات میں اللہ کی وحدانیت کے دلائل دیکھ سکتے ہیں۔
3 شکلِ انجام — ا پنے اس کفارانہ اور سرکش رویے کے نتیجے میں وہ دنیا میں ہدایت سے محروم رہے اور آخرت میں ان کے لیے بہت بڑا عذاب تیار ہے۔
3 مختصر جوابات

وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ

آیت کریمہ میں منافقین کا کیا طرز عمل بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اور جب وہ (منافق) اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم (بھی) ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں، ہم (مسلمانوں کا تو) محض مذاق اڑاتے ہیں۔

منافقین کا طرز عمل

1 دوغلی پالیسی اور منافقت — منافقین کا یہ شیوہ تھا کہ جب وہ مسلمانوں کے پاس آتے تو زبان سے یہ اقرار کرتے کہ وہ بھی مسلمان ہیں، تاکہ وہ مسلمانوں کےجرم و نقصان سے محفوظ رہیں اور فوائد بھی حاصل کر سکیں۔
2 باطل پرستوں سے گٹھ جوڑ — جب وہ اپنے کفار، یہود یا گمراہ سرداروں (جنہیں قرآن میں “شیاطین” کہا گیا ہے) کے پاس تنہائی میں جاتے، تو ان کو یقین دلاتے کہ وہ عملی طور پر انہی کے ساتھ ہیں۔
3 استہزاء اور مذاق کا رویہ — وہ اپنے کفر اور دوغلے پن کو چھپانے کے لیے اپنے ساتھیوں سے کہتے کہ مسلمانوں کے سامنے ایمان کا اقرارکا کرنا کوئی حقیقی ایمان نہیں ہے، بلکہ ہم تو ان سیدھے سادھے لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں اور ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
4 مختصر جوابات

الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ

آیت کریمہ میں اللہ کی کن نعمتوں کا ذکر ہے؟

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور اس نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس پانی کے ذریعے تمہارے کھانے کے لیے کئی پھل پیدا کیے تو تم جان بوجھ کر اللہ کے شریک نہ بناؤ۔

آیت کریمہ میں مذکور الٰہی نعمتیں

1 آیت 22 میں درج ذیل خصوصی نعمتوں کا ذکر ہے:
2 زمین کا فرش (بچھونا) — زمین کو آرام دہ اور انسانی رہائش کے قابل بنانا۔
3 آسمان کی چھت (بناء) — آسمان کو ایک محفوظ اور بلند چھت کی طرح قائم کرنا۔
4 آسمان سے پانی — بارش کا نزول جو زندگی کی بقا اور کھیتی کے لیے ضروری ہے۔
5 پھل اور رزق — بارش کے پانی سے زمین سے مختلف قسم کے کھانے اور پھل اگانا
5 مختصر جوابات

الَّذِینَ یَنقُضُونَ عَہدَ اللّٰہِ مِن بَعدِ مِیثَاقِہٖ وَ یَقطَعُونَ مَا اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖ اَن یُّوصَلَ وَ یُفسِدُونَ فِی الاَرضِ ؕ اُولٰٓئِکَ ھمُ الخٰسِرُونَ ﴿۲۷﴾

آیت کریمہ کی رو سے خسارہ اٹھانے والے کون ہیں ؟

ترجمہ

(یہ نافرمان وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے عہد کو اس سے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس (تعلق یا رشتہ) کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان (خسارہ) اٹھانے والے ہیں۔

اس آیت کریمہ کی رو سے خسارہ اٹھانے والے (الخاسرون) درج ذیل تین خصلتوں والے لوگ ہیں:

خسارہ اٹھانے والے کون ہیں؟

1 اللہ کا عہد توڑنے والے — جو اللہ تعالیٰ کے اس عہد اور احکام سے پھر جاتے ہیں جو انہوں نے مضبوطی کے ساتھ باندھے تھے (جیسے توحید اور اطاعت کا عہد یا آسمانی کتابوں میں انبیاء پر ایمان لانے کا اقرار)
2 رشتوں اور تعلقات کو کاٹنے والے — جو ان تمام رشتوں، قرابت داریوں اور اتحاد و اتفاق کے تعلقات کو قطع کرتے ہیں جن کو جوڑے رکھنے اور باہم ملانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
3 زمین میں فساد پھیلانے والے — جو دنیا میں نافرمانی، ظلم، شرارت اور برے اعمال کے ذریعے بگاڑ اور فساد برپا کرتے ہیں۔
6 مختصر جوابات

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

آیت کریمہ کی رو سے فرشتوں نے انسان کی تخلیق کے حوالے سے کن خدشات کا اظہار کیا ؟

ترجمہ

اور (وہ وقت یاد کرو) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں، تو انہوں نے عرض کیا: کیا تو اس زمین میں ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح اور پاکیزگی بیان کرتے ہیں؟ اللہ نے فرمایا: بے شک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

آیت کریمہ کی رو سے فرشتوں نے انسان کی تخلیق کے حوالے سے درج ذیل خدشات کا اظہار کیا۔

فرشتوں کے خدشات۔

1 فساد انگیزی — زمین پر بدامنی اور ظلم پھیلانا۔
2 خونریزی — آپس میں لڑائی جھگڑا اور ناحق خون بہانا۔
3 عبادت میں کمی — فرشتوں نے اپنی مسلسل تسبیح، حمد اور پاکیزگی کا حوالہ دے کر اشارہ کیا کہ زمین کی خلافت کےلیے ایسی مخلوق زیادہ موزوں ہے جو ہم وقت خدا کی یاد میں لگی رہے
7 مختصر جوابات

وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَامِنَ الظَّالِمِينَ

آیت کریمہ کی رو سے سیدنا آدم ؑ کو کیا ہدایات دی گئی ہیں ؟

ترجمہ

اور ہم نے کہا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔

سیدنا آدم ؑ کو دی گئی ہدایات

1 جنت میں رہائش — آدمؑ اور ان کی زوجہ کو جنت میں قیام کرنے کا حکم دیا گیا
2 آزادیِ خوراک — جنت کی نعمتوں سے جہاں اور جتنا دل چاہے، بے روک ٹوک اور فراغ دلی سے کھانے کی اجازت دی گئی۔
3 ممانعتِ درخت — ایک خاص (پابندی والے) درخت کے قریب جانے سے سختی سے روکا گیا
4 انتباہ — تنبیہ کی گئی کہ اگر اس درخت کے قریب گئے تو حد سے بڑھنے والے ظالموں میں شمار ہوں گے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ

آیت کا ترجمہ اور وضاحت کریں

ترجمہ

اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا، اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔

وضاحت ۔اس آیت میں اہل ایمان کی تین صفات کا ذکر ہے۔

1 ما أنزل إليك (جو آپ کی طرف اتارا گیا اس پر ایمان رکھتے ہیں) — اس سے مراد قرآن مجید ہے جو اللہ تعالی نے حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا۔
2 وما أنزل من قبلك (جو آپ سے پہلے اتارا گیا اس پر ایمان رکھتے ہیں) — اس سے مراد پچھلی آسمانی کتابیں ہیں جیسے تورات، انجیل اور زبور وغیرہ، جن پر اجمالی ایمان لانا ضروری ہے
3 وبالآخرة هم يوقنون (اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں) — یعنی وہ اس بات پر پکا یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا ہے، حساب کتاب ہونا ہے اور اعمال کا بدلہ (جنت یا دوزخ) ملنا ہے۔ یہ پختہ یقین ہی انسان کو اچھے کاموں کی طرف لاتا ہے۔
9 تفصیلی جوابات

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔

آیت کا ترجمہ اور وضاحت کریں۔

ترجمہ

اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، تاکہ تم بچ جاؤ (تقویٰ اختیار کرو)۔

وضاحت

1 عام دعوت — اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے روئے زمین کے تمام انسانوں کو مخاطب کیا ہے، خواہ وہ کسی بھی نسل یا علاقے سے ہوں
2 عبادت کا حکم — حکم دیا گیا ہے کہ صرف اسی اللہ کی بندگی اور اطاعت کرو جو تمام جہانوں کا پالنے والا (رب) ہے۔
3 دلیل توحید — اس بات کی دلیل دی گئی کہ وہی عبادت کے لائق ہے کیونکہ اسی نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرنے والی امتوں کو پیدا کیا ہے۔
4 مقصد تقویٰ — عبادت کا اصل مقصد انسان کے اندر اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری (تقویٰ) پیدا کرنا ہے، جو گناہوں سے بچاتی ہے۔
10 تفصیلی جوابات

وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

آیت کریمہ میں قرآن کا کون سا معجزہ بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اور اگر تم اس (کلام) کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ، اور اللہ کے سوا اپنے سب مددگاروں کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔

قرآن کا کون سا معجزہ بیان ہوا ہے؟

1 اس آیت میں قرآن کریم کا سب سے بڑا ادبی اور فکری معجزہ تحدی” (عاجز کرنے کا چیلنج) بیان ہوا ہے
2 فصاحت و بلاغت کا چیلنج — اللہ تعالی نے منکروں کو چیلنج کیا کہ اگر انہیں شک ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے تو وہ سب مل کر، اپنے تمام ادیبوں، شعراء اور معبودانِ باطلہ کی مدد لے کر اس جیسی صرف ایک چھوٹی سی سورت ہی بنا کر دکھائیں۔
3 عجزِ بشر (انسانوں کی بے بسی) — چونکہ عرب فصاحت و بلاغت میں فخر کرتے تھے لیکن وہ اس چھوٹے سے چیلنج کا جواب دینے سے بھی ہمیشہ کے لیے عاجز رہے۔ یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ قرآن انسانی کلام نہیں بلکہ رب العالمين کا معجزاتی کلام ہے۔
11 تفصیلی جوابات

وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَٰؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

آیت کریمہ میں اللہ نے فرشتوں پر سیدنا آدمؑ کی فضیلت کس طرح واضح فرمائی؟

ترجمہ

“اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے، پھر ان سب اشیاء کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ۔”

فرشتوں پر سیدنا آدمؑ کی فضیلت کا بیان

1 علمی برتری کا مظاہرہ — اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اس خیال کے جواب میں کہ “کیا تو زمین میں کسی ایسے کو پیدا کرے گا جو فساد پھیلائے گا”، عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ خلافت اور نیابت کے لیے علمی صلاحیت بنیادی شرط ہے۔ اللہ نے حضرت آدمؑ کو تمام چیزوں کے نام اور ان کے خواص الہام کے ذریعے سکھا دیے جو فرشتے نہیں جانتے تھے۔
2 فرشتوں کا عاجز ہونا — جب اللہ تعالیٰ نے وہ اشیاء فرشتوں کے سامنے رکھ کر ان کے نام پوچھے تو فرشتے عاجز آگئے اور انہوں نے عرض کیا کہ ہمیں تو اتنا ہی علم ہے جتنا آپ نے سکھایا۔ اس طرح اللہ نے فرشتوں پر واضح کر دیا کہ حضرت آدمؑ کو جو علمی فوقیت حاصل ہے، اسی بنیاد پر وہ اس منصبِ خلافت کے زیادہ مستحق ہیں۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

توبہ کے حوالے سے سیدنا حضرت آدمؑ اور اماں حواؑ کی دعا اور ترجمہ لکھیں

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ

1 دونوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
13 سرگرمیاں

سورۃ البقرہ کے آغاز میں مذکورہ تین طبقات (متقین ، کفاراور منافقین ) کی بیان کی گئی خصوصیات لکھیں ۔

سورۃ البقرہ کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو تین اہم طبقات متقین، کفار اور منافقین میں تقسیم کیا ہے اور ان کی نمایاں خصوصیات بیان کی ہیں۔

1 متقین (پرہیزگار لوگ) — غیب پر ایمان لاتے ہیں۔
2 متقین (پرہیزگار لوگ) — نماز کو قائم کرتے ہیں۔
3 متقین (پرہیزگار لوگ) — دی گئی روزی میں سے خرچ کرتے ہیں۔
4 متقین (پرہیزگار لوگ) — تمام الہامی کتابوں (قرآن اور پہلی کتب) پر ایمان رکھتے ہیں۔
5 متقین (پرہیزگار لوگ) — آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
6 کفار (انکار کرنے والے لوگ) — حق بات ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
7 کفار (انکار کرنے والے لوگ) — ان کے لیے ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے، وہ ایمان نہیں لاتے۔
8 کفار (انکار کرنے والے لوگ) — اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے۔
9 کفار (انکار کرنے والے لوگ) — ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔
10 کفار (انکار کرنے والے لوگ) — ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
11 منافقین (منافق لوگ) — زبان سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، لیکن دل سے مومن نہیں ہوتے۔
12 منافقین (منافق لوگ) — اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
13 منافقین (منافق لوگ) — ان کے دلوں میں بیماری (شک و حسد) ہے۔
14 منافقین (منافق لوگ) — یہ زمین پر فساد پھیلانے والے ہیں مگر خود کو مصلح کہتے ہیں۔
15 منافقین (منافق لوگ) — جب مومنوں سے ملیں کہیں ہم ایمان والے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں (سرغنوں) کے پاس جائیں کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔
14 سرگرمیاں

سیدنا آدمؑ اور ابلیس کے واقعہ کے اہم نکات لکھیں ۔

سیدنا آدمؑ اور ابلیس کا واقعہ قرآن پاک میں انسانی زندگی کے آغاز اور حق و باطل کی پہلی جنگ کو ظاہر کرتا ہے، جس کے اہم نکات میں آدمؑ کی تخلیق، ابلیس کا انکار اور ان کا زمین پر اتارا جانا شامل ہیں۔

اہم نکات

1 تخلیقِ آدمؑ اور فرشتوں کا سجدہ — اللہ تعالیٰ نے مٹی سے سیدنا آدمؑ کو بنایا، روح پھونکی اور فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا۔
2 ابلیس کا تکبر — تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس (جن) نے آگ کی برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے تکبر کیا اور سجدہ کرنے سے انکار کیا۔
3 ابلیس کی راندہ درگاہی اور مہلت — تکبر کی وجہ سے ابلیس کو اللہ کی بارگاہ سے نکال دیا گیا، جس پر اس نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی مہلت مانگی جو اسے قیامت تک مل گئی۔
4 آدمؑ اور حواؑ کی جنت میں سکونت — اللہ نے آدمؑ کو جنت میں رہنے کی اجازت دی اور ایک درخت کے قریب جانے سے منع کیا۔
5 ابلیس کا وسوسہ — ابلیس نے جھوٹی قسمیں کھا کر آدمؑ اور حواؑ کو اس ممنوعہ درخت کا پھل کھانے پر اکسایا۔
6 توبہ اور زمین پر نزول — غلطی کا احساس ہونے پر آدمؑ نے اللہ سے توبہ کی جسے قبول کیا گیا، اور آزمائش کے طور پر انہیں زمین پر بھیج
15 سرگرمیاں

سورۃ البقرہ آیت 1 تا 39 میں مذکور مختلف مثالوں سے سبق آموز نکات اخذ کر کے لکھیں۔

سورۃ البقرہ کی آیات 1 تا 39 میں بیان کردہ مختلف مثالوں اور واقعات (جیسے منافقین کی دوہری چالیں، حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور ان کا امتحان) سے اہم سبق آموز نکات یہ ہیں: حق کی قبولیت، علم کی اہمیت، اور توبہ کا راستہ۔

قرآنی مثالوں سے سبق آموز نکات

1 حق اور باطل کا فرق — منافقین کی مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں دوغلا پن انسان کو اندھیرے میں رکھتا ہے جبکہ سچا ایمان روشنی دیتا ہے
2 علم کی فضیلت — حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر جو برتری دی گئی، وہ علم کی بنیاد پر تھی، جس سے علم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔
3 غلطی پر توبہ — حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی تو انہوں نے فوراً توبہ کی، اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ اس میں یہ سبق ہے کہ گناہ کے بعد اللہ کی طرف پلٹنا ضروری ہے۔
4 شیطان کا تکبر — ابلیس نے حکم عدولی کی اور تکبر کیا جس کی وجہ سے وہ راندہ درگاہ ہوا۔ تکبر انسان کو تباہ کر دیتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.