سورۃ التوبہ (آیت 40) میں جس غار اور واقعے کا ذکر ہے، وہ ہجرتِ مدینہ کے دوران غارِ ثور کا واقعہ ہے، جس میں نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) دونوں موجود تھے۔
1
پس منظر اور ہجرت — جب مکہ کے کافروں نے آپ ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، تو اللہ کے حکم سے آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔دونوں نے مکہ سے جنوب کی طرف واقع غارِ ثور میں پناہ لی اور تقریباً تین دن وہاں پوشیدہ رہے۔
2
غار میں غلبہِ ایمان اور سکینت — کفارِ مکہ تلاش کرتے ہوئے غار کے دہانے تک آ پہنچے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے جب کافروں کے قدم قریب دیکھے تو غمزدہ ہوئے۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
3
غار میں غلبہِ ایمان اور سکینت — "لا تحزن إن الله معنا" (غم نہ کر, بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے)۔
4
غار میں غلبہِ ایمان اور سکینت — اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور ان کے ساتھی پر سکینت (تسکین اور طمانیت) نازل فرمائی اور غیبی لشکروں (فرشتوں) سے مدد فرمائی۔
5
غارِ ثور میں قیام کے دوران حفاظتی انتظامات — نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غارِ ثور میں تین راتیں گزاریں۔ اس دوران مکہ کی جاسوسی اور خوراک کی فراہمی کے لیے ایک مکمل حکمت عملی کے تحت کام کیا گیا:
6
غارِ ثور میں قیام کے دوران حفاظتی انتظامات — عبداللہ بن ابوبکر (رض) — آپ حضرت ابوبکر صدیق کے فرزند تھے۔ یہ دن بھر قریش کے لوگوں میں رہتے، ان کی سازشوں اور خبروں کو سنتے، اور رات کی تاریکی میں غار پہنچ کر نبی کریم ﷺ اور اپنے والد کو مکہ کے حالات سے باخبر کرتے۔
7
غارِ ثور میں قیام کے دوران حفاظتی انتظامات — عامر بن فہیرہ (رض) — یہ حضرت ابوبکر صدیق کے آزاد کردہ غلام تھے۔ یہ دن بھر مکہ کے قریب بکریاں چراتے اور شام کو بکریاں لے کر غار کی طرف آ جاتے۔ آپ ﷺ اور حضرت ابوبکر (رض) ان بکریوں کا دودھ پیتے تھے۔ اس کے علاوہ، وہ عبداللہ بن ابوبکر کے پیروں کے نشانات مٹانے کے لیے ان کے پیچھے بکریاں چلاتے تھے تاکہ کفار سراغ نہ لگا سکیں۔
8
غارِ ثور میں قیام کے دوران حفاظتی انتظامات — اسماء بنت ابوبکر (رض) — آپ حضرت ابوبکر صدیق کی صاحبزادی تھیں۔ آپ نے غار تک کھانا پہنچانے کی ذمہ داری سنبھالی۔ ایک مرتبہ جب کھانا باندھنے کے لیے رسی نہیں ملی، تو انہوں نے اپنے کمر بند (نطاق) کوپھاڑ کر دو ٹکڑے کیے اور اس سے کھانا باندھا۔ اسی وجہ سے آپ کو ذات النطا قین (دو کمر بند والی) کا لقب ملا۔
9
کفار کی غار تک رسائی اور معجزہ — کفارِ مکہ نے آپ ﷺ کو پکڑن نے کے لیے سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا اور ماہر سراغ رسانوں (کھوجیوں) کی مدد سے غار کے دہانے تک پہنچ گئے۔
10
کفار کی غار تک رسائی اور معجزہ — مؤرخین اور مفسرین کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے غار کے منہ پر مکڑی کا جالا تنوا دیا اور کبوتر نے انڈے دے دیے۔
11
کفار کی غار تک رسائی اور معجزہ — جب کفار غار کے پاس پہنچے تو جالا دیکھ کر کہنے لگے کہ اگر یہاں کوئی داخل ہوتا تو یہ جالا ٹوٹ جاتا۔ اس طرح اللہ نے غیبی طریقے سے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔
12
آیتِ کریمہ کے الفاظ کی عظمت (ثانی اثنین) — قرآنِ پاک میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو۔ثانی اثنین (دو میں سے دوسرا) کہا گیا ہے۔ یہ امتِ مسلمہ میں ان کے بلند ترین مقام اور فضیلت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے افضل ترین انسان (نبی کریم ﷺ) کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا اور انہیں "صاحبہ" (ان کا ساتھی) کہہ کر مخاطب کیا۔