گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 18: سبق 18: سورۃ التوبہ (آیات 30 تا 66) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

آیت میں اہل کتاب کے کس برے عقیدے کا بیان ہے؟

ترجمہ

انہوں نے اپنے پادریوں (علماء) اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انہیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ صرف ایک معبود کی عبادت کریں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔

بیان کردہ برا عقیدہ

1 تشریع میں غلو — اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اپنے علماء اور مذہبی پیشواؤں کی اندھی تقلید کرتے تھے۔
2 حلال و حرام کا اختیار — ان کے پادری جو چیز حلال کر دیتے، یہ اسے حلال مان لیتے اور جسے حرام قرار دیتے، اسے حرام سمجھ لیتے تھے؛ چاہے وہ اللہ کے حکم کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
3 عملی شرک — اگرچہ وہ اپنے پیشواؤں کو سجدہ نہیں کرتے تھے، لیکن اللہ کے احکام کو چھوڑ کر شریعت سازی کا اختیار انہیں دینے کی وجہ سے قرآن نے اسے ان کی "عبادت" اور رب بنانا قرار دیا ہے
2 مختصر جوابات

وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

آیت کے مطابق اہل کتاب کو کیا حکم دیا گیا تھا؟

ترجمہ

اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ صرف ایک معبود کی عبادت کریں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان چیزوں سے پاک ہے جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بناتے ہیں۔

اہل کتاب کے متعلق احکام کی تفصیل

1 توحیدِ خالص — صرف ایک اللہ کو معبود ماننا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔
2 احکامِ الٰہی کی پیروی — اپنے طور پر حلال و حرام کے فیصلے کرنے کے بجائے خدائی شریعت کی پابندی کرنا۔
3 غلو سے اجتناب — انبیاء (جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اور اپنے علماء و درویشوں کو خدا کا درجہ دینے یا ان کی عبادت کرنے سے باز رہنا
3 مختصر جوابات

يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

آیت میں اللہ نے اپنے نور کے حوالے سے کیا حقیت واضح فرمائی ہے؟

ترجمہ

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں اور اللہ کو یہ منظور نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے، خواہ کافروں کو کتنا ہی برا معلوم ہو

نور کے حوالے سے واضح کی گئی حقیقتیں

1 نور سے مراد — اس آیت میں "نور" سے مراد دینِ اسلام، قرآنِ کریم اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کے روشن دلائل ہیں۔
2 کفار کی کمزور کوشش — کفار اپنے منہ سے الٹے سیدھے الزامات، بہتان اور باطل پروپیگنڈا کر کے اسلام کی روشنی کو مٹانا چاہتے ہیں، جو ایسا ہی ناپائیدار عمل ہے جیسے کوئی شخص سورج کی روشنی کو منہ کی پھونکوں سے بجھانے کی ناکام کوشش کرے۔
3 اللہ کا فیصلہ — اللہ تعالیٰ نے قطعی طور پر یہ فیصلہ فرما رکھا ہے کہ وہ اپنے اس نور (اسلام اور حق) کو کمال تک پہنچا کر رہے گا، چاہے کافروں اور مشرکوں کو یہ بات کتنی ہی ناگوار کیوں نہ گزرے
4 مختصر جوابات

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ

آیت کے مطابق نبی ﷺ کو ہدات اور دین حق کے ساتھ بھیجنے کی کیا حکمت بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر، تاکہ اسے غالب کردے کل کے کل دین پر، خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے

بھیجنے کی حکمت اور مقاصد

1 دینِ اسلام کا غلبہ — اصل حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے سچے دین اور روشن دلائل کے ذریعے اسلام کو دنیا کے تمام مذاہب اور نظاموں پر بلند و غالب کرے۔
2 باطل کا استصال — شرک اور تمام جھوٹے ادیان و نظریات کو مغلوب اور کمزور کرنا، چاہے مشرکین اسے کتنا ہی ناپسند کریں۔
3 حق کی اشاعت — لوگوں کو گمراہی سے نکال کر سچی ہدایت، درست عقائد اور نفع بخش اعمال کی طرف لانا۔
5 مختصر جوابات

إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

آیت میں جہاد کی فرضیت کے بعد جی چرا کر نکلنے والوں کے لیے کیا وعید بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

اگر تم کوچ نہ کرو گے تو اللہ تمہیں دردناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ بھی نقصان نہیں کر سکو گے، اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

جہاد سے پیچھے رہنے والوں کے لیے وعید کے اہم نکات

1 دردناک عذاب — حکم کے باوجود جہاد کے لیے نہ نکلنے پر اللہ تعالیٰ دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں سخت عذابِ الیم سے دوچار کرے گا۔
2 قوم کی تبدیلی (استبدال) — روگردانی کرنے والوں کو ہٹا کر ان کی جگہ دوسری فرمانبردار قوم کو لایا جائے گا جو دین کی نصرت کرے گی۔
3 بے بسی — جی چرانے والے لوگ اللہ تعالی کا یا اس کے دین کا ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے، نقصان خود انہی کا اپنا ہوگا۔
4 قدرتِ الہٰی — اللہ ہر شے پر قادر ہے، اسے اپنے دین کی حفاظت کے لیے سست روی کا مظاہرہ کرنے والوں کی کوئی محتاجی نہیں ہے۔
6 مختصر جوابات

لَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ

آیت میں مخلص مؤمنین کا جہاد کے موقع پر کیا طرز عمل بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور جو لوگ اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں وہ آپ سے اس بات کی اجازت نہیں مانگیں گے کہ اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد نہ کریں، اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

مخلص مؤمنین کا طرز عمل

1 عدمِ استعفاء — سچے مؤمن کبھی بھی نبی کریم ﷺ سے جہاد میں شرکت نہ کرنے کی چھٹی یا معذرت طلب نہیں کرتے۔
2 مال و جان کی قربانی — وہ اپنے اموال اور اپنی جانیں اللہ کی راہ میں پیش کرنے کے لیے ہم وقت تیار رہتے ہیں۔
3 ذوق و اشتیاق — ان کا پختہ ایمان انہیں جہاد سے جی چرانے نہیں دیتا بلکہ وہ اس فریضے کو سعادت سمجھتے ہیں۔
4 تقویٰ کا ثبوت — اس طرز عمل کو اللہ تعالیٰ نے متقی اور پرہیزگار لوگوں کی نشانی قرار دیا ہے۔
7 مختصر جوابات

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ

آیت میں جہاد سے جی چرانے والوں کی کیا برائیاں بیان کی گئی ہیں؟

ترجمہ

تجھ سے چھٹی (اجازت) وہی لوگ مانگتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں تو وہ اپنے شک میں حیران اور ڈانواں ڈول ہیں۔

اس آیت میں جہاد سے جان چھڑانے والوں کے حوالے سے درج ذیل اخلاقی اور باطنی بیماریاں (برائیاں) بیان کی گئی ہیں:

جہاد سے جی چرانے والوں کی برائیاں

1 حق حقيقي سے محرومی — اللہ اور روزِ آخرت پر سچے ایمان کا نہ ہونا۔
2 شک و تردید — دین کے بارے میں دلوں کا شک میں مبتلا ہونا۔
3 مذبذب اور بے قرار رویہ — شک کی وجہ سے ہمیشہ حیران اور پریشان پھرنا، اور کسی ایک بات پر ثابت قدم نہ رہنا۔
4 منافقانہ طرزِ عمل — سچے مومنین کی طرح شوق سے جان و مال پیش کرنے کے بجائے پیٹھ پیچھے حیلے بہانے تراشنا اور چھٹی مانگنا۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے، جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے۔ سو ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر حال میں لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

مفہوم و تشریح

1 بارہ مہینوں کا نظام — اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کے دن سے ہی سال کے بارہ قمری (چاند کے) مہینے مقرر فرمائے ہیں۔ عبادات (جیسے حج، روزہ، زکوٰۃ) کے احکام اسی گنتی پر لاگو ہوتے ہیں۔
2 چار حرمت والے مہینے — ان بارہ میں سے چار مہینے (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب) محترم اور حرمت والے ہیں جن میں لڑائی جھگڑا اور ظلم کرنا سخت گناہ ہے۔
3 جانوں پر ظلم سے ممانعت — حرمت والے مہینوں میں گناہوں سے بالخصوص بچنے اور نیکی اختیار کرنے کا حکم ہے، کیونکہ ان کی حرمت توڑنا اپنی جان پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔
4 جہاد اور اتحاد — مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کفار اور مشرکین کے مقابلے کے لیے متحد ہو جائیں اور جس طرح وہ سب مل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں، مسلمان بھی پوری قوت سے ان کا مقابلہ کریں۔
9 تفصیلی جوابات

يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ

آیت کے مطابق مال جمع کرنے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

جس دن اس (سونے چاندی) کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی (اور ان سے کہا جائے گا) کہ یہ ہے وہ مال جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا، سو اب اپنے اس جمع کیے ہوئے مال کا مزہ چکھو۔

عذاب کی تفصیل

1 آگ میں گرم کرنا — جمع کیے گئے سونے اور چاندی کے ہر ٹکڑے کو جہنم کی آگ میں خوب دہکایا اور تپایا جائے گا۔
2 جسم کو داغنا — اسی گرم شدہ دولت سے ان کے ماتھے، کروٹیں اور پیٹھیں داغی جائیں گی۔
3 طنز اور سرزنش — فرشتوں یا عذاب کے نگہبانوں کی طرف سے طعنہ دیا جائے گا کہ یہ وہی دولت ہے جس کی تم حفاظت کرتے تھے اور غریبوں پر خرچ نہیں کرتے تھے، اب اس کی تکلیف کا مزہ اٹھاؤ۔
10 تفصیلی جوابات

یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اے ایمان والو! بیشک بہت سے علماء اور درویش (پادری اور راہب) لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، تو انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں

مفہوم اور تشریح

1 مذہب کے نام پر لوٹ مار — اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کے بہت سے بڑے عالم اور عابد لوگ ہدیے، نذرانے یا فریب کے ذریعے عام لوگوں کا مال ناحق ہڑپ کرتے ہیں۔
2 حق سے روکنا — یہ لوگ اپنے اس مفاد اور جاہ و حشم کی خاطر لوگوں کو دینِ حق اور اللہ کے راستے پر چلنے سے روکتے ہیں تاکہ ان کی بالادستی قائم رہے۔
3 دولت کی اندوزی (خزانے بنانا) — جو لوگ سونا اور چاندی جوڑ کر رکھتے ہیں اور اس کا حقِ زکوٰۃ یا اللہ کی راہ میں خرچ ادا نہیں کرتے، وہ قیامت کے دن کے شدید اور دردناک عذاب کے لیے تیار رہیں۔
11 تفصیلی جوابات

إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ ۖ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحُرِّمُونَهُ عَامًا لِيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فَيُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللَّهُ ۚ زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمَالِهِمْ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ

آیت میں حرمت والے مہینوں کے حوالے سے کفار کا کیا طرز عمل بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

یہ مہینوں کو ہٹا کر آگے پیچھے کر لینا تو کفر میں ایک اضافہ ہے، جس کے ذریعے سے وہ لوگ گمراہی میں مبتلا کیے جاتے ہیں جنھوں نے کفر کیا؛ وہ اس (مہینے) کو ایک سال حلال کر لیتے ہیں اور ایک سال اسے حرام قرار دیتے ہیں، تاکہ موافق کر لیں گنتی کو اس (مہینے) کی جو اللہ نے حرام ٹھہرائے ہیں، پس وہ حلال کر لیتے ہیں اس (مہینے) کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ ان کے لیے ان کے برے اعمال خوش نما بنا دیے گئے ہیں، اور اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

کفار کا طرزِ عمل (خلاصہ)

1 نسئ (ردوبدل) — جب انہیں حرمت والے مہینوں میں لڑائی یا لوٹ مار کرنی ہوتی تو وہ حرمت کی جگہ دوسرے مہینے کو حرام اور پہلے کو حلال قرار دے دیتے۔
2 حلال و حرام کا کھیل — ایک سال ایک مہینے کو حلال کہتے اور اگلے سال اسی مہینے کو حرام مان لیتے۔
3 گنتی کا فریب — وہ ایسا اس لیے کرتے تاکہ مہینوں کی مجموعی تعداد چار ہی رہے جو اللہ نے مقرر کی تھی، لیکن وہ اپنی مرضی کے مطابق اللہ کی حرمت کو توڑ سکیں۔
12 تفصیلی جوابات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں کوچ کرو تو تم زمین سے لگے جاتے ہو (سستی اور کاہلی کرتے ہو)۔ کیا تم نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر اکتفا کر لیا ہے؟ یاد رکھو کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا ساز و سامان بہت ہی کم ہے

مفہوم اور تشریح

1 شانِ نزول — سورۃ توبہ کی یہ آیت غزوۂ تبوک کے موقع پر نازل ہوئی تھی جب شدید گرمی کا موسم تھا، پھل پک چکے تھے اور لوگ اپنے سائےدار درختوں اور آرام دہ گھروں میں بیٹھنا پسند کر رہے تھے۔
2 کاہلی کی سرزنش — اللہ تعالیٰ نے ایمان کا دعویٰ کرنے والوں سے سوال کیا کہ جب تمہیں دین اور حق کی خاطر نکلنے کا حکم دیا جاتا ہے تو تم کیوں بوجھل ہو جاتے ہو اور دنیا کی راحتوں سے چمٹ جاتے ہو؟
3 دنیا بمقابلہ آخرت — اس آیت میں دنیا کی عارضی زندگی اور اس کی عیش و عشرت کو حقیر قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آخرت کی دائمی اور عظیم نعمتوں کے سامنے دنیا کا فائدہ انتہائی ناچیز اور مختصر ہے۔
13 تفصیلی جوابات

لَوْ خَرَجُوا فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُم سَمَّاعُونَ لَهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ

آیت کے مطابق جنگی حالات میں منافقین کی کن برائیوں کا ذکر کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اگر وہ تم میں شامل ہو کر نکلتے تو تمہارے اندر خرابی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے، اور ضرور تمہارے درمیان (فساد ڈالنے کے لیے) دوڑ دھوپ کرتے، اس حال میں کہ تمہارے اندر فتنے کی تلاش میں رہتے، اور تم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں، اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے

منافقین کی برائیوں کی تفصیل

1 خرابی اور فساد بڑھانا (الخبال) — اگر وہ جنگ یا سفر میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوتے تو وہ بزدلی، غلط مشوروں اور کم حوصلہ باتوں کی وجہ سے صفِ مجاہدین میں صرف کمزوری اور فساد ہی پھیلاتے۔
2 فتنہ پردازی اور دوڑ دھوپ (الإيضاع خلال الصفوف) — وہ مسلمانوں کے درمیان باہمی نفرت، شک، انتشار اور بدگمانیاں پیدا کرنے کے لیے سرگرمی سے سازشیں کرتے اور دوڑ دھوپ کرتے رہتے۔
3 مسلمانوں کے راز چرانا اور جاسوسی (سماعون لہم) — مسلمانوں کی صفوں میں کچھ ایسے سادہ لوح یا کمزور ایمان والے لوگ موجود تھے جو ان منافقین کی باتیں سنتے اور ان سے متاثر ہوتے تھے، جس سے اندرونی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا تھا۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

سورۃ التوبہ میں اللہ نے منافقین کے طرز عمل کے حوالے سے جو تفصیلات ذکر کی ہیں وہ لکھیں؟

سورۃ التوبہ (براءت) میں منافقین کے رویے، ان کی چالوں اور ان کے برے انجام کی مکمل تفصیل آئی ہے۔ ان کی اہم عادات یہ تھیں کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے تھے، جہاد سے پیٹھ پھیرتے تھے اور مسلمانوں کو تکلیف دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔

منافقین کا طرز عمل اور رویہ

1 جھوٹی قسمیں کھانا — وہ اپنی سچی دوستی اور ایمان کا یقین دلانے کے لیے بار بار قسمیں کھاتے تھے تاکہ آپ ان سے راضی رہیں۔
2 جہاد سے گریز — اسلامی لشکر کے ساتھ جنگ میں جانے سے کتراتے تھے، گرمی یا سختی کا بہانہ بناتے اور دوسروں کو بھی بیٹھ رہنے کا کہتے تھے۔
3 مالی بخل — وہ دل سے خرچ نہیں کرنا چاہتے تھے؛ اگر وہ صدقہ دیں تو ناخوشی سے اور اگر نہ دیں تو طعنے سناتے۔
4 عصیاں اور تمسخر — وہ مسلمانوں کی پیٹھ پیچھے ان کی کمیاں نکالتے، مذاق اڑاتے اور جنگ کے موقع پر منفی باتیں پھیلا کر خوف پیدا کرتے تھے۔
5 ان کی منافقت کی نشانیاں — بظاہر اچھی باتیں اور شکلیں اچھی لگتی تھیں، لیکن اندر سے وہ دھوکا دینے والے اور شک میں مبتلا تھے۔
6 مسلمانوں کا نقصان دیکھنا — جب مسلمانوں کو کوئی فائدہ یا فتح ملتی تو وہ رنجیدہ ہوتے، اور اگر کوئی مصیبت آ جاتی تو خوشی سے کہتے کہ ہم نے اپنا معاملہ پہلے ہی سنبھال لیا تھا۔
15 سرگرمیاں

سورۃ التوبہ میں غار اور ثانی اثنین اذ ھما فی الغار کا تذکرہ ہے اس واقعے کی تفصیلات لکھیں

سورۃ التوبہ (آیت 40) میں جس غار اور واقعے کا ذکر ہے، وہ ہجرتِ مدینہ کے دوران غارِ ثور کا واقعہ ہے، جس میں نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) دونوں موجود تھے۔

1 پس منظر اور ہجرت — جب مکہ کے کافروں نے آپ ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، تو اللہ کے حکم سے آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔دونوں نے مکہ سے جنوب کی طرف واقع غارِ ثور میں پناہ لی اور تقریباً تین دن وہاں پوشیدہ رہے۔
2 غار میں غلبہِ ایمان اور سکینت — کفارِ مکہ تلاش کرتے ہوئے غار کے دہانے تک آ پہنچے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے جب کافروں کے قدم قریب دیکھے تو غمزدہ ہوئے۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
3 غار میں غلبہِ ایمان اور سکینت — "لا تحزن إن الله معنا" (غم نہ کر, بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے)۔
4 غار میں غلبہِ ایمان اور سکینت — اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور ان کے ساتھی پر سکینت (تسکین اور طمانیت) نازل فرمائی اور غیبی لشکروں (فرشتوں) سے مدد فرمائی۔
5 غارِ ثور میں قیام کے دوران حفاظتی انتظامات — نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غارِ ثور میں تین راتیں گزاریں۔ اس دوران مکہ کی جاسوسی اور خوراک کی فراہمی کے لیے ایک مکمل حکمت عملی کے تحت کام کیا گیا:
6 غارِ ثور میں قیام کے دوران حفاظتی انتظامات — عبداللہ بن ابوبکر (رض) — آپ حضرت ابوبکر صدیق کے فرزند تھے۔ یہ دن بھر قریش کے لوگوں میں رہتے، ان کی سازشوں اور خبروں کو سنتے، اور رات کی تاریکی میں غار پہنچ کر نبی کریم ﷺ اور اپنے والد کو مکہ کے حالات سے باخبر کرتے۔
7 غارِ ثور میں قیام کے دوران حفاظتی انتظامات — عامر بن فہیرہ (رض) — یہ حضرت ابوبکر صدیق کے آزاد کردہ غلام تھے۔ یہ دن بھر مکہ کے قریب بکریاں چراتے اور شام کو بکریاں لے کر غار کی طرف آ جاتے۔ آپ ﷺ اور حضرت ابوبکر (رض) ان بکریوں کا دودھ پیتے تھے۔ اس کے علاوہ، وہ عبداللہ بن ابوبکر کے پیروں کے نشانات مٹانے کے لیے ان کے پیچھے بکریاں چلاتے تھے تاکہ کفار سراغ نہ لگا سکیں۔
8 غارِ ثور میں قیام کے دوران حفاظتی انتظامات — اسماء بنت ابوبکر (رض) — آپ حضرت ابوبکر صدیق کی صاحبزادی تھیں۔ آپ نے غار تک کھانا پہنچانے کی ذمہ داری سنبھالی۔ ایک مرتبہ جب کھانا باندھنے کے لیے رسی نہیں ملی، تو انہوں نے اپنے کمر بند (نطاق) کوپھاڑ کر دو ٹکڑے کیے اور اس سے کھانا باندھا۔ اسی وجہ سے آپ کو ذات النطا قین (دو کمر بند والی) کا لقب ملا۔
9 کفار کی غار تک رسائی اور معجزہ — کفارِ مکہ نے آپ ﷺ کو پکڑن نے کے لیے سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا اور ماہر سراغ رسانوں (کھوجیوں) کی مدد سے غار کے دہانے تک پہنچ گئے۔
10 کفار کی غار تک رسائی اور معجزہ — مؤرخین اور مفسرین کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے غار کے منہ پر مکڑی کا جالا تنوا دیا اور کبوتر نے انڈے دے دیے۔
11 کفار کی غار تک رسائی اور معجزہ — جب کفار غار کے پاس پہنچے تو جالا دیکھ کر کہنے لگے کہ اگر یہاں کوئی داخل ہوتا تو یہ جالا ٹوٹ جاتا۔ اس طرح اللہ نے غیبی طریقے سے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔
12 آیتِ کریمہ کے الفاظ کی عظمت (ثانی اثنین) — قرآنِ پاک میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو۔ثانی اثنین (دو میں سے دوسرا) کہا گیا ہے۔ یہ امتِ مسلمہ میں ان کے بلند ترین مقام اور فضیلت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے افضل ترین انسان (نبی کریم ﷺ) کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا اور انہیں "صاحبہ" (ان کا ساتھی) کہہ کر مخاطب کیا۔
16 سرگرمیاں

سورۃ التوبہ میں زکوۃ کے مصارف ،اہمیت اور ادا نہ کرنے کے نقصانات لکھیں

سورۃ التوبہ میں زکوۃ کے آٹھ مصارف، اس کی فرضیت و اہمیت، اور ادا نہ کرنے پر دردناک عذاب اور دنیاوی و اخروی نقصانات کا واضح بیان کیا گیا ہے۔

1 مصارفِ زکوٰۃ (آیت 60) — فقراء — جو بالکل محتاج ہوں۔
2 مصارفِ زکوٰۃ (آیت 60) — مساکین — جو اپنی ضرورت پوری نہ کر سکیں۔
3 مصارفِ زکوٰۃ (آیت 60) — عاملین — زکوۃ اکٹھا کرنے والے ملازمین ۔
4 مصارفِ زکوٰۃ (آیت 60) — مؤلفۃ القلوب — وہ لوگ جن کی دلجوئی مقصود ہو۔
5 مصارفِ زکوٰۃ (آیت 60) — رقاب — گردنیں چھڑانے (غلاموں کی آزادی) کے لیے۔
6 مصارفِ زکوٰۃ (آیت 60) — غارمین — قرض دار جو قرض ادا نہ کر سکیں۔
7 مصارفِ زکوٰۃ (آیت 60) — فی سبیل اللہ — اللہ کے راستے (جہاد و نیکی کے کام) میں۔
8 مصارفِ زکوٰۃ (آیت 60) — ابن السبیل — مسافر جو راستے میں محتاج ہو جائے۔
9 اہمیتِ زکوٰۃ — فرضِ الٰہی — نماز کے بعد سب سے اہم مالی فریضہ ہے۔
10 اہمیتِ زکوٰۃ — طہارت کا ذریعہ — مال اور دل کو بخل اور گناہوں سے پاک کرتی ہے۔
11 اہمیتِ زکوٰۃ — معاشی استحکام: معاشرے کے غریبوں اور محتاجوں کی مدد کا بہترین نظام ہے۔
12 زکوۃ ادا نہ کرنے کے نقصانات (آیت 34-35) — سونا چاندی کا عذاب — زکوۃ نہ دینے والوں کے سونے اور چاندی کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے ان کی پیٹھ، پیشانی اور پہلوؤں کو داغا جائے گا۔
13 زکوۃ ادا نہ کرنے کے نقصانات (آیت 34-35) — قیامت کا عذاب — اس مال کو ان کے گلے کا طوق بنایا جائے گا۔
14 زکوۃ ادا نہ کرنے کے نقصانات (آیت 34-35) — وعیدِ الٰہی — اللہ تعالیٰ نے اس پر دردناک عذابِ الیم کی بشارت (وعید) سنائی ہے۔
17 سرگرمیاں

سورۃ التوبہ میں منافقین کے رویوں اور اس حوالے سے نبی ﷺ کی سیرت کو ایک مثالی راہ نما کی حیثیت سے واضح کریں

سورۃ التوبہ میں منافقین کے رویے سستی، جھوٹے عذر اور پیٹھ پیچھے سازشوں پر مبنی تھے، جبکہ نبی ﷺ نے ان کے ساتھ عفو، درگزر اور حکمت کا مثالی رویہ اپنایا۔

منافقین کے رویے اور نبی کریم ﷺ کی سیرت بحیثیت مثالی راہ نما

1 منافقین کے رویے — جھوٹے عذر — جنگ میں نہ جانے کے لیے جھوٹی مجبوریاں اور بہانے بنانا۔
2 منافقین کے رویے — سازشیں — مسلمانوں کے خلاف اندرونی طور پر خفیہ باتیں اور نقصان پہنچانے کی کوششیں۔
3 منافقین کے رویے — بدگمانی — اچھے حالات میں خوش اور برے حالات میں مسلمانوں پر طعنے کسنا۔
4 نبی کریم ﷺ کی سیرت بحیثیت مثالی راہ نما — حکمت اور صبر — منافقین کے جھوٹ کا علم ہونے کے باوجود ان کے ظاہر پر فیصلہ کرنا اور صبر کرنا۔
5 نبی کریم ﷺ کی سیرت بحیثیت مثالی راہ نما — اصلاح کی کوشش — انہیں بار بار توبہ اور سیدھے راستے پر آنے کا موقع دینا۔
6 نبی کریم ﷺ کی سیرت بحیثیت مثالی راہ نما — برداشت اور عفو — معاشرتی امن کے لیے ان کی تکلیف دہ باتوں کو برداشت کرنا اور سختی سے گریز کرنا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.