غزوہ حنین (8 ہجری) اسلام کا ایک اہم معرکہ ہے جو فتح مکہ کے بعد قبیلہ ہوازن اور ثقیف کے خلاف پیش آیا۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی ابتدائی متزلزل حالت، رسول اللہ ﷺ کی شجاعت اور پھر حتمی فتح نمایاں تھی۔
1
اسباب — فتح مکہ کا اثر — مکہ کی فتح کے بعد عرب کے مشرک قبائل خصوصاً ہوازن اور ثقیف کو خطرہ محسوس ہوا کہ اب مسلمانوں کا اگلا ہدف وہ خود ہیں۔
2
اسباب — پیشگی حملہ — ان قبائل نے سردار مالک بن عوف کی قیادت میں مسلمانوں پر خود حملہ کرنے کی تیاری کی تاکہ عروج پر جاتے اسلام کو روکا جا سکے۔
3
واقعات — روانگی — شوال 8 ہجری میں نبی کریم ﷺ 12 ہزار (یا 14 ہزار) مجاہدین کا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔
4
واقعات — کمین گاہ اور حملہ — دشمن وادی حنین کے راستوں اور گھاٹیوں میں پہلے سے چھپے بیٹھے تھے۔ جب اسلامی لشکر تنگ وادی میں داخل ہوا تو دشمن نے اچانک تیروں کی بارش کر دی۔
5
واقعات — اضطراب اور ثابت قدمی — اچانک حملے سے اسلامی لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔ مگر رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ پہاڑ کی طرح ثابت قدم رہے، تلوار نکالی اور رجز پڑھا۔
6
واقعات — پلٹوار — آپ ﷺ کے حکم پر حضرت عباسؓ نے بلند آواز سے مہاجرین و انصار کو پکارا۔ صحابہ فوراً پلٹے، دوبارہ صف آرائی کی اور دشمن پر زوردار حملہ کر کے انہیں شکست دی۔
7
نتائج — شاندار فتح — مسلمانوں کو غلبہ ملا اور دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔
8
نتائج — بڑی غنیمت — دشمن اپنے زن و بچ اور مال و اسباب چھوڑ گئے تھے جو مسلمانوں کے ہاتھ غنیمت میں آیا۔
9
اسباق — کثرت پر غرور نہ کرنا — مسلمانوں کو اپنی کثرت (لشکر کی تعداد) پر غرور ہو گیا تھا، جس کا سبق دیا گیا کہ مدد صرف اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔
10
اسباق — ثابت قدمی — مشکل وقت میں صبر اور رہبر (نبی کریم ﷺ) کی آواز پر جمع ہونا کامیابی کی ضمانت ہے۔