گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 17: سبق 17: سورۃ التوبہ (آیات 1 تا 29) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ

آیت میں کسی مشرک کے امان طلب کرنے کی صورت میں کیا ہدایات دی گئی ہیں؟

ترجمہ

اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے، پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو۔ یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں۔

مشرک کی طرف سے پناہ یا حق کی طلب کی صورت میں ہدایات

1 پناہ دینا — اگر کوئی حربی کافر یا مشرک جنگ کی حالت میں بھی آپ سے امان (تحفظ) طلب کرے، تو اسے فوراً پناہ دے
2 دین کی بات اور قرآن سنانا — اسے امان دینے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ قرآن کریم اور احکامِ الٰہی کو سنے اور سمجھے۔ اس پر جبر نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے حق بات سمجھنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔
3 بحفاظت واپس پہنچانا — اگر وہ کلام اللہ سننے کے بعد بھی اسلام قبول نہیں کرتا اور واپس جانا چاہتا ہے، تو اسے زبردستی روکا نہیں جائے گا بلکہ پوری حفاظت کے ساتھ اس کے امن کے مقام (اس کے وطن یا قبیلے) تک پہنچانا مسلمانوں کی ذمہ داری ہوگی۔
4 جہالت کا عذر اور حسنِ سلوک — چونکہ یہ لوگ حق سے ناواقف اور نادان ہیں، اس لیے ان کے ساتھ ایسا رویہ رکھا جائے جو انہیں اسلام کی خوبصورتی اور اس کی تعلیمات سے قریب کرے
2 مختصر جوابات

كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۚ يُرْضُونَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَتَاْبٰى قُلُوبُهُمْ ۚ وَاَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ

آیت میں مسلمانوں کے متعلق مشرکین کے کس طرز عمل کا ذکر ہے؟

ترجمہ

بھلا کیسے ہوسکتا ہے (کہ ان سے کوئی معاہدہ باقی رہے)، حالانکہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں تو نہ تمہارے حق میں کسی قرابت (رشتہ داری) کا لحاظ کریں گے اور نہ کسی معاہدے (عہد) کا۔ وہ تمہیں اپنے منہ سے تو راضی کرتے ہیں، جب کہ ان کے دل نہیں مانتے، اور ان کے اکثر لوگ نافرمان ہیں

اس آیت کریمہ میں مشرکین کے درج ذیل رویے اور طرز عمل کا ذکر کیا گیا ہے:

مسلمانوں کے متعلق مشرکین کا طرز عمل

1 ظلم و غلبے کی صورت میں بے مروتی — اگر مشرکین مسلمانوں پر قابو یا غلبہ پا جائیں، تو وہ کسی بھی قریبی رشتے اور خون کے تعلق کا پاس نہیں کرتے اور نہ ہی کسی کیے ہوئے امن معاہدے کا احترام کرتے ہیں ۔
2 لسانی خوشامد اور منافقت — وہ اپنی زبانوں سے مسلمانوں کو راضی کرنے اور تسلیاں دینے کے لیے میٹھے اور اچھے الفاظ بولتے ہیں تاکہ مسلمان دھوکے میں رہیں۔
3 دلی عداوت — ان کی زبانوں کے دعوے جھوٹے ہوتے ہیں جبکہ ان کے دلوں کے اندر مسلمانوں کے خلاف شدید بغض، نفرت اور انکار چھپا ہوتا ہے۔
4 عہد شکنی اور نافرمانی — ان کی اکثریت اللہ کے احکامات سے منہ موڑنے والی اور وعدوں سے پھر جانے والی (فاسق) ہے، اس لیے ان کے قول و قرار پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
3 مختصر جوابات

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِؕ-وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ

آیت کے مطابق کن اعمال کو دینی بھائی چارے کی بنیاد قرار دیا ہے؟

ترجمہ

پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دین میں بھائی ہیں اور ہم جاننے والوں کے لیے تفصیل سے آیتیں بیان کرتے ہیں

اس آیت کے مطابق درج ذیل تین امور کو اسلامی اور دینی اخوت (بھائی چارے) کا ضامن اور بنیاد قرار دیا

دینی بھائی چارے کی بنیاد بننے والے اعمال

1 توبہ (شرک سے رجوع) — کفر، شرک اور عہد شکنی کو چھوڑ کر اللہ کی طرف پلٹ آنا اور اسلام قبول کرنا۔
2 اقامتِ صلاۃ (نماز قائم کرنا) — تمام شرائط اور ارکان کے ساتھ فرض نمازوں کی پابندی کرنا جو بندے کا اللہ کے ساتھ تعلق جوڑتی ہے۔
3 ایتاء الزکوٰۃ (زکوٰۃ دینا) — خوش دلی کے ساتھ مالی فریضہ ادا کرنا جو حقوق العباد اور معاشرے کی ضرورت مند طبقے کی دستگیری کا ذریعہ ہے۔
4 مختصر جوابات

اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا فصدوا عن سَبِيْلِه اِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

آیت میں مشرکین کی کون سی برائیوں کا ذکر ہے؟

ترجمہ

انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے دنیا کا تھوڑا سا فائدہ خرید لیا، پھر انہوں نے اللہ کے راستے سے (لوگوں کو) روکا۔ بے شک یہ بہت برا کام ہے جو وہ کرتے رہے ہیں

اس مبارک آیت میں مشرکین کے درج ذیل برے کردار اور جرائم کو بیان کیا گیا ہے:

آیت میں مشرکین کی کون سی برائیوں کا ذکر ہے؟

1 دینی احکام کا سودا (دنیا کا لالچ) — انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام، آیات اور امن کے معاہدوں کو پسِ پشت ڈال دیا اور دنیاوی و مالی مفادات یا چند روزہ طمع کی خاطر حق سے منہ موڑ لیا۔
2 راہِ خدا سے روکنا (صدّ عن السبيل) — وہ خود تو گمراہی پر قائم رہے ہی، ساتھ ہی انہوں نے دوسرے لوگوں کو بھی اللہ کے دین اور اسلام میں داخل ہونے سے زبردستی روکا۔
3 عہد شکنی اور غداری — اسلامی ہدایات اور معاہدات کا پاس کرنے کے بجائے معمولی دنیاوی لالچ (جیسے ابو سفیان یا دیگر سرداروں کی طرف سے ملنے والے دنیاوی فوائد) کی بنا پر مسلمانوں کے ساتھ کیے گئے امن کے معاہدے توڑ دیے۔
4 قبیح عمل — اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرزِ عمل کو انتہائی برا اور گھٹیا فعل قرار دیا ہے ("سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ")۔
5 مختصر جوابات

وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَٰنَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُواْ فِى دِينِكُمْ فَقَٰتِلُوا أَئِمَّةَ ٱلْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَآ أَيْمَٰنَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ

آیت میں دشمنوں کی جانب سے بد عہدی کیے جانے کی صورت میں مسلمانوں کو کیا تعلیم دی گئی ہے؟

ترجمہ

اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں (اور حملہ آور ہوں) تو کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو، بیشک ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں، تاکہ وہ (اپنی ان حرکات سے) باز آ جائیں

بدعہدی کی صورت میں مسلمانوں کے لیے تعلیمات

1 معاہدہ ختم ہو جانا — جب دشمن معاہدہ کرنے کے بعد اسے توڑ دیں اور دینِ اسلام پر تنقید یا طعنہ زنی کریں، تو ان کا امن کا معاہدہ ختم ہو جاتا ہے۔
2 سرکردہ رہنماؤں سے مقابلہ — مسلمانوں کو حکم ہے کہ عام لوگوں کے بجائے کفر کے ان بڑے سرداروں اور پیشواؤں کا مقابلہ کریں جو بغاوت اور بدعہدی کی قیادت کر رہے ہوں۔
3 قسموں کا اعتبار نہ کرنا — ان کی قسموں اور وعدوں پر اب بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ بار بار وعدہ خلافی کرتے ہیں۔
4 مقصد جنگ — اس سختی کا مقصد انتقام نہیں بلکہ دشمنوں کو ان کی جارحیت اور شرارتوں سے روکنا اور راہِ راست پر لانا ہے۔
6 مختصر جوابات

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ

آیت میں کن صفات کے حامل لوگوں کو عظیم درجے پر فائز قرار دیا گیا ہے؟

ترجمہ

وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا، اللہ کے نزدیک ان کا درجہ بہت بڑا ہے اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں

اس آیت میں درج ذیل تین بنیادی صفات کے حامل افراد کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ترین مقام اور فوز و فلاح کا مستحق قرار دیا گیا ہے:

عظیم درجے کے حامل لوگوں کی صفات

1 سچے ایمان والے — جنہوں نے دل سے اللہ اور اس کے رسول پر کامل یقین اور تصدیق کی۔
2 مہاجرین — جنہوں نے اللہ کی رضا کی خاطر اپنا وطن، گھر بار اور عزیز و اقارب چھوڑ دیئے۔
3 مجاہدینِ فی سبیل اللہ — جنہوں نے محض اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اپنی قیمتی جانیں اور مال کی دولت قربان کر دی۔
7 مختصر جوابات

ثُمَّ أَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ

آیت کی رو سے غزوہ حنین میں مسلامانوں کی مدد و نصرت کس طرح کی گئی ؟

ترجمہ

پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اپنی تسکین (سکینہ) نازل فرمائی اور اس نے ایسے لشکر اتارے جو تمہیں دکھائی نہیں دیتے تھے اور اس نے کافروں کو عذاب دیا، اور کافروں کی یہی سزا ہے

غزوہ حنین میں مدد و نصرت کی صورتیں

1 سکینہ (قلبی اطمینان) کا نزول — جنگ کے ابتدائی مرحلے میں جب مسلمانوں کو اپنی کثرت تعداد پر غرور ہوا اور اچانک دشمن کے تیر اندازوں کے حملے سے صفیں درہم برہم ہوئیں تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ ایسے سخت اور نازک وقت میں اللہ نے آپ ﷺ اور ثابت قدم صحابہ کے دلوں پر خاص سکون اور حوصلہ نازل کیا، جس کی وجہ سے آپ ﷺ پہاڑ کی طرح ڈٹے رہے اور بکھرے ہوئے مجاہدین فوراً پلٹ کر میدانِ جنگ میں واپس آگئے۔
2  پوشیدہ لشکروں (فرشتوں) کی امداد — اللہ تعالیٰ نے میدانِ جنگ میں مسلمانوں کی ظاہری کمزوری کو چھپانے اور ان کی تائید کے لیے غیب سے فرشتوں کے ایسے لشکر اتارے جو انسانوں کو نظر نہیں آتے تھے۔ ان نادیدہ لشکروں نے کافروں کے دلوں میں رعب اور خوف بٹھا دیا۔
3  کافروں کو شکست و عذاب — نصرتِ الٰہی کے نتیجے میں کافروں کو عبرتناک شکست اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا، جو اس دنیا میں ان کے کفر کی پہلی سزا تھی

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو، اور انہیں گرفتار کرو اور ان کا محاصرہ کرو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھو۔ ہاں اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

مفہوم و تشریح

1 جنگ کا اعلان — یہ حکم ان نقضِ عہد کرنے والے مشرکین کے لیے ہے جنہوں نے بارہا معاہدے توڑے اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی۔ مدتِ مہلت (چار ماہ) ختم ہونے کے بعد انہیں میدانِ جنگ میں جہاں پاؤ گرفتار یا قتل کرو۔
2 معافی اور توبہ کا دروازہ — اگر وہ کفر اور شرک چھوڑ کر اسلام قبول کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، تو ان کی جان و مال محفوظ ہو جائے گی اور ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔
9 تفصیلی جوابات

اَلَا تُقَاتِلُونَ قَومًا نَّکَثُوا اَیمَانَہُم وَ ہَمُّوا بِاِخرَاجِ الرَّسُولِ وَ ہُم بَدَءُوکُم اَوَّلَ مَرَّۃٍ اَتَخشَونَہُم فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَن تَخشَوہُ اِن کُنتُم مُّؤمِنِینَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

کیا تم اس قوم سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنے عہد توڑ دیے اور رسول کو (مکہ سے) جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا تھا اور انہوں نے ہی پہلے تم سے (جنگ کی) ابتدا کی تھی؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اللہ ہی زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم ایمان والے ہو

مفہوم و تشریح

1 عہد شکنی — کفارِ مکہ نے صلح حدیبیہ اور دیگر معاہدوں کی خلاف ورزی کی تھی۔
2 رسول اللہ ﷺ کی مخالفت — انہوں نے دارالندوہ میں آپ ﷺ کو شہر سے نکالنے یا قید و شہید کرنے کی سازش کی تھی۔
3 جنگ کی ابتدا — مسلمانوں کے خلاف زیادتی اور جنگ کی ابتدا سب سے پہلے انہی کافروں نے کی تھی۔
4 اصل خوف — حقیقی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کا دل مخلوق کے خوف سے آزاد ہو اور صرف اللہ کی ذات سے ڈرے۔
10 تفصیلی جوابات

قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

تم ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے انہیں عذاب دے گا اور انہیں ذلیل و رسوا کرے گا، اور ان کے خلاف تمہاری مدد فرمائے گا، اور ایمان والوں کے دلوں کو ٹھنڈا کر دے گا

آیت کا مفہوم و تشریح

1 جہاد کا حکم — مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ جو لوگ معاہدے توڑ چکے ہیں اور حق کے راستے میں رکاوٹ ہیں، تم ان سے قتال کرو۔
2 نصرتِ الہٰی — ظالموں اور کافروں کو شکست تمہارے ہاتھوں ملے گی، اور وہی تمہاری فتح کا ذریعہ بنیں گے۔
3 ذلت و رسوائی — اللہ تعالیٰ میدانِ جنگ میں کافروں کو شکست دے کر انہیں رسوا کرے گا۔
4 قلبی سکون — اس فتح اور دشمن کی شکست سے مظلوم اور مومن لوگوں کے دلوں کا غصہ اور دکھ دور ہوگا، اور انہیں قلبی چین نصیب ہوگا۔

سرگرمیاں

11 سرگرمیاں

سورۃ التوبہ میں لوگ اللہ تعالی کے راستے سے روکنے کے لیے کون کون سے حربے استعمال کرتے ہیں ؟

سورۃ التوبہ میں اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے کافر اور منافق بنیادی طور پر مال خرچ کرنا، جھوٹا پروپیگنڈا اور نفاق و سازشیں جیسے حربے استعمال کرتے ہیں۔

1 مالی حربے — مال خرچ کرنا — وہ اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے اپنا مال پانی کی طرح بہاتے ہیں تاکہ طاقتور ہوں۔
2 مالی حربے — حسرت کا سبب — اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہی مال ان کے لیے حسرت بن جائے گا اور وہ آخرکار شکست کھائیں گے۔
3 فکری اور زبانی حربے — ا۔پروپیگنڈا — وہ مسلمانوں کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلاتے ہیں۔
4 فکری اور زبانی حربے — ب۔بداعتمادی — لوگوں کے دلوں میں دین اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں شک پیدا کرتے ہیں۔
5 عملی سازشیں — نفاق — وہ بظاہر مسلمان بن کر اندرونی طور پر نقصان پہنچاتے ہیں۔
6 عملی سازشیں — مسجد ضرار کا قیام — مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے لیے الگ مسجد بنانا جو نقصان اور کفر کا گڑھ تھی۔
12 سرگرمیاں

غزوہ حنین کے اسباب ، واقعات ، نتائج اور اسباق لکھیں

غزوہ حنین (8 ہجری) اسلام کا ایک اہم معرکہ ہے جو فتح مکہ کے بعد قبیلہ ہوازن اور ثقیف کے خلاف پیش آیا۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی ابتدائی متزلزل حالت، رسول اللہ ﷺ کی شجاعت اور پھر حتمی فتح نمایاں تھی۔

1 اسباب — فتح مکہ کا اثر — مکہ کی فتح کے بعد عرب کے مشرک قبائل خصوصاً ہوازن اور ثقیف کو خطرہ محسوس ہوا کہ اب مسلمانوں کا اگلا ہدف وہ خود ہیں۔
2 اسباب — پیشگی حملہ — ان قبائل نے سردار مالک بن عوف کی قیادت میں مسلمانوں پر خود حملہ کرنے کی تیاری کی تاکہ عروج پر جاتے اسلام کو روکا جا سکے۔
3 واقعات — روانگی — شوال 8 ہجری میں نبی کریم ﷺ 12 ہزار (یا 14 ہزار) مجاہدین کا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔
4 واقعات — کمین گاہ اور حملہ — دشمن وادی حنین کے راستوں اور گھاٹیوں میں پہلے سے چھپے بیٹھے تھے۔ جب اسلامی لشکر تنگ وادی میں داخل ہوا تو دشمن نے اچانک تیروں کی بارش کر دی۔
5 واقعات — اضطراب اور ثابت قدمی — اچانک حملے سے اسلامی لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔ مگر رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ پہاڑ کی طرح ثابت قدم رہے، تلوار نکالی اور رجز پڑھا۔
6 واقعات — پلٹوار — آپ ﷺ کے حکم پر حضرت عباسؓ نے بلند آواز سے مہاجرین و انصار کو پکارا۔ صحابہ فوراً پلٹے، دوبارہ صف آرائی کی اور دشمن پر زوردار حملہ کر کے انہیں شکست دی۔
7 نتائج — شاندار فتح — مسلمانوں کو غلبہ ملا اور دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔
8 نتائج — بڑی غنیمت — دشمن اپنے زن و بچ اور مال و اسباب چھوڑ گئے تھے جو مسلمانوں کے ہاتھ غنیمت میں آیا۔
9 اسباق — کثرت پر غرور نہ کرنا — مسلمانوں کو اپنی کثرت (لشکر کی تعداد) پر غرور ہو گیا تھا، جس کا سبق دیا گیا کہ مدد صرف اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔
10 اسباق — ثابت قدمی — مشکل وقت میں صبر اور رہبر (نبی کریم ﷺ) کی آواز پر جمع ہونا کامیابی کی ضمانت ہے۔
13 سرگرمیاں

معاہدوں کے حوالے سے سیدنا علی نےحج کے موقع پر کیا اعلان فرمایا اہم نکات لکھیں

سن 9 ہجری میں حج کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سورۃ التوبہ (براءت) کی آیات کی روشنی میں چار اہم اعلانات کیے جن میں مشرکین سے تمام معاہدے ختم کرنے کا اعلان، چار ماہ کی مہلت، آئندہ سال سے مشرکین کے حج پر پابندی، اور بیت اللہ کا طواف ننگے ہوکر کرنے پر مکمل ممانعت۔

معاہدوں سے متعلق اہم نکات

1 معاہدوں کا خاتمہ (اعلانِ براءت) — جن مشرکین قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے معاہدے تھے، ان تمام معاہدوں کے خاتمے اور اللہ و رسول کی طرف سے ان سے بیزاری کا اعلان کیا گیا۔
2 چار ماہ کی مہلت — عہد شکنی کرنے والے تمام مشرکین کو چار ماہ (روایتی طور پر ربیع الآخر کی دسویں تاریخ تک) کی مہلت دی گئی کہ وہ اپنے معاملات درست کر لیں۔
3 معینہ مدت کے بعد کا حکم — چار ماہ گزرنے کے بعد تمام معاہدے ختم متصور ہوں گے اور فریقین کے درمیان امن کا خاتمہ ہو جائے گا۔
4 مشرکین کا داخلہ بند — اس اعلان کے بعد واضح کر دیا گیا کہ آئندہ سال سے کوئی بھی مشرک حج کے لیے نہیں آئے گا۔
5 طواف پر پابندی — اس سال کے بعد بیت اللہ کا طواف کوئی شخص ننگا ہو کر نہیں کرے گا۔
14 سرگرمیاں

جزیہ کے بارے میں تفصیل سے لکھیں

جزیہ وہ مقررہ مالی ٹیکس ہے جو اسلامی حکومت اپنے غیر مسلم شہریوں (اہلِ ذمہ) سے ان کی جان، مال اور عبادت کی آزادی کے تحفظ کے بدلے میں وصول کرتی ہے۔ یہ مسلمانوں پر عائد ہونے والی زکوٰۃ اور دیگر مالی واجبات کے مقابلے میں بہت کم اور ہلکا ہوتا ہے۔

بنیادی احکام اور شرائط اور مقاصد اور حکمتِ عملی

1 بنیادی احکام اور شرائط — استثنیٰ — عورتوں، بچوں، بوڑھوں، پاگلوں، فقراء، اور پادریوں یا راہبوں سے جزیہ ہرگز نہیں لیا جاتا تھا۔
2 بنیادی احکام اور شرائط — فوجی خدمات سے چھوٹ — چونکہ غیر مسلم جنگی خدمات (جہاد) کے مکلف نہیں ہوتے، اس لیے جزیہ ان کی حفاظت کی ضمانت کا نعم البدل ہوتا ہے۔
3 بنیادی احکام اور شرائط — معاہدہ — اگر اسلامی ریاست کا کسی غیر مسلم قوم سے صلح کا معاہدہ ہو جائے، تو جزیہ اسی طے شدہ مقدار کے مطابق لیا جاتا ہے۔
4 مقاصد اور حکمتِ عملی — رعایا کا تحفظ — اسلامی ریاست کی فوج ہر شہری (مسلم و غیر مسلم) کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہے، اور جزیہ اسی کا مالی تعاون ہے۔
5 مقاصد اور حکمتِ عملی — باہمی امن — یہ ٹیکس ریاست کے اندر غیر مسلموں کے پرامن شہری ہونے اور قانون کی پاسداری کرنے کی علامت ہوتا ہے

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.