1
. نجران کے عیسائی وفد کی آمد اور مباہلہ (آیات 1 تا 83) — شانِ نزول — ہجری میں نجران کا عیسائی وفد (جس میں 60 افراد اور ان کے سردار شامل تھے) مدینہ آیا اور رسول اللہ ﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توحید و رسالت کے بارے میں بحث کی۔ اس پر سورت کی ابتدائی آیات اور مباہلہ کا واقعہ نازل ہوا۔
2
. غزوۂ احد کے مواقع اور مسلمانوں کی آزمائش (آیات 121 تا 175) — شانِ نزول — ان آیات کا نزول غزوۂ احد (3 ہجری) کے موقع پر اور اس کے بعد کے حالات کے تناظر میں ہوا، جب مسلمانوں کو ابتدائی جانی نقصان اٹھانا پڑا، کچھ کمزور دل والے گھبرا گئے، اور منافقین نے طرح طرح کی باتیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے تسلی اور راہنمائی کے احکام نازل فرمائے۔
3
. غزوۂ احد کے مواقع اور مسلمانوں کی آزمائش (آیات 121 تا 175) — ﴿وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ (آیت (آیت 121):)
4
. غزوۂ احد کے مواقع اور مسلمانوں کی آزمائش (آیات 121 تا 175) — اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے تھے اور مسلمانوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر بٹھا رہے تھے، اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
5
. فکرِ آخرت اور بیداریِ شب پر آخری آیات (آیات 190 تا 195) — شانِ نزول — حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عبادت میں گریہ زاری کی اور فرمایا کہ آج مجھ پر یہ آیات نازل ہوئی ہیں، اور ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو انہیں پڑھے مگر غور و فکر نہ کرے۔
6
. فکرِ آخرت اور بیداریِ شب پر آخری آیات (آیات 190 تا 195) — ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ (آیت (آیت 190):)
7
. فکرِ آخرت اور بیداریِ شب پر آخری آیات (آیات 190 تا 195) — بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
8
حصہ اول: نجران کے عیسائی وفد کا مناظرہ (آیات 1 تا 83) — شانِ نزول — یہ پورا حصہ سن 9 ہجری میں مدینہ منورہ آنے والے نجران کے 60 عیسائیوں کے وفد کے جواب میں نازل ہوا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت (خدا کا بیٹا ہونے) پر بحث کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور اسلام کی دعوت دی۔
9
حصہ اول: نجران کے عیسائی وفد کا مناظرہ (آیات 1 تا 83) — اہم آیات، ترجمہ اور مخصوص اسبابِ نزول:
10
آیات 1 تا 6 (ابتدائیہ): — ﴿الم اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ (آیت:)
11
آیات 1 تا 6 (ابتدائیہ): — الف، لام، میم۔ اللہ (وہ معبودِ برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور کائنات کو قائم رکھنے والا ہے۔
12
آیات 1 تا 6 (ابتدائیہ): — خاص سبب — عیسائیوں کے اس عقیدے کا رد کہ حضرت عیسیٰ معبود ہیں، یہ بتا کر کہ معبود صرف وہ ہے جو ہمیشہ زندہ رہے اور مریم کے پیٹ میں شکلیں بنائے۔
13
آیت 7 (محکم اور متشابہ آیات): — ﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ...﴾ (آیت:)
14
آیت 7 (محکم اور متشابہ آیات): — وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی جس میں سے کچھ آیات محکم (واضح) ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہ (پوشیدہ معنی والی) ہیں...
15
آیت 7 (محکم اور متشابہ آیات): — خاص سبب — عیسائیوں نے قرآن کے لفظ "روح اللہ" اور "کلمۃ اللہ" (جو حضرت عیسیٰ کے لیے استعمال ہوئے) کو اپنی دلیل بنایا تھا۔ اللہ نے واضح کیا کہ وہ متشابہات کے پیچھے فتنہ پھیلانے کے لیے پڑے ہیں۔
16
آیات 33-35 (خاندانِ عمران کا ذکر): — ﴿إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ (آیت:)
17
آیات 33-35 (خاندانِ عمران کا ذکر): — بیشک اللہ نے آدم اور نوح اور آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو تمام جہان والوں پر منتخب فرما لیا۔
18
آیات 33-35 (خاندانِ عمران کا ذکر): — خاص سبب — عیسائیوں کو حضرت عیسیٰ کی انسانیت اور ان کے خاندان (مریم اور ان کے والد عمران) کا تاریخی پس منظر سمجھانے کے لیے یہ آیات نازل ہوئیں۔
19
آیت 61 (آیتِ مباہلہ): — ﴿فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ...﴾ (آیت:)
20
آیت 61 (آیتِ مباہلہ): — پھر جو کوئی تم سے اس (عیسیٰ) کے بارے میں جھگڑا کرے علم آ جانے کے بعد، تو کہہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلائیں... پھر جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔
21
آیت 61 (آیتِ مباہلہ): — خاص سبب — جب نجران کے عیسائی دلائل کے باوجود حق ماننے پر تیار نہ ہوئے، تو نبی ﷺ کو حکم ہوا کہ انہیں مباہلہ (حق و باطل کی پرکھ کے لیے ایک دوسرے پر لعنت کی دعا) کا چیلنج دیں، جس سے عیسائی ڈر کر پیچھے ہٹ گئے۔
22
حصہ دوم: یہود و نصاریٰ کی سازشیں اور منافقت کا رد (آیات 84 تا 120) — شانِ نزول — مدینہ کے یہودیوں (بنو قینقاع، بنو نضیر) اور منافقین نے مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل کرنے کے لیے مختلف چالیں چلیں۔ کبھی وہ صبح مسلمان ہوتے اور شام کو کافر ہو جاتے تاکہ عام لوگ بدظن ہوں، اور کبھی مسلمانوں کے درمیان پرانی دشمنی (اوس اور خزرج کی جنگیں) تازہ کرنے کی کوشش کرتے۔
23
حصہ دوم: یہود و نصاریٰ کی سازشیں اور منافقت کا رد (آیات 84 تا 120) — اہم آیات، ترجمہ اور مخصوص اسبابِ نزول:
24
آیت 93 (بنی اسرائیل پر حلال و حرام کھانا): — ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ...﴾ (آیت:)
25
آیت 93 (بنی اسرائیل پر حلال و حرام کھانا): — بنی اسرائیل کے لیے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں سوائے ان کے جو اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) نے تورات نازل ہونے سے پہلے خود پر حرام کر لی تھیں...
26
آیت 93 (بنی اسرائیل پر حلال و حرام کھانا): — خاص سبب — یہودیوں نے اعتراض کیا کہ اگر آپ دینِ ابراہیمی پر ہیں تو اونٹ کا گوشت کیوں کھاتے ہیں جو ابراہیمؑ پر حرام تھا؟ اللہ نے واضح کیا کہ اونٹ کا گوشت حضرت یعقوبؑ نے اپنی بیماری کی وجہ سے خود پر حرام کیا تھا، دینِ ابراہیمی میں وہ حرام نہیں تھا۔
27
آیات 100-103 (اتحادِ امت اور یہود کی سازش): — ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا...﴾ (آیت:)
28
آیات 100-103 (اتحادِ امت اور یہود کی سازش): — اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو...
29
آیات 100-103 (اتحادِ امت اور یہود کی سازش): — خاص سبب — شاس بن قیس نامی یہودی نے انصار کے دو قبیلوں (اوس اور خزرج) کے پاس بیٹھ کر پرانی جنگِ بعاث کے اشعار پڑھے، جس سے وہ آپس میں لڑنے مرنے پر تیار ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے آ کر بیچ بچاؤ کروایا اور یہ آیات نازل ہوئیں۔
30
حصہ سوم: غزوۂ احد کے احوال اور حکمتیں (آیات 121 تا 175) — شانِ نزول — یہ پورا حصہ شوال 3 ہجری میں ہونے والی جنگِ احد کے پس منظر میں نازل ہوا۔ جب مسلمانوں کی ابتدائی فتح کے بعد تیر اندازوں کی غلطی سے جنگ کا پانسا پلٹ گیا، 70 صحابہ شہید ہوئے، اور نبی ﷺ زخمی ہوئے، تو مسلمانوں کے حوصلے بحال کرنے اور ان کی خامیوں کی اصلاح کے لیے یہ آیات نازل ہوئیں۔
31
حصہ سوم: غزوۂ احد کے احوال اور حکمتیں (آیات 121 تا 175) — اہم آیات، ترجمہ اور مخصوص اسبابِ نزول:
32
آیت 121 (جنگ کی تیاری): — ﴿وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ...﴾ (آیت:)
33
آیت 121 (جنگ کی تیاری): — اور (یاد کریں) جب آپ صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے، مومنوں کو لڑائی کے مورچوں پر متعین کر رہے تھے...
34
آیت 121 (جنگ کی تیاری): — خاص سبب — رسول اللہ ﷺ کا احد کے میدان کے لیے روانہ ہونا اور عبداللہ بن ابی (منافق) کا اپنے 300 ساتھیوں کو لے کر راستے سے واپس لوٹ جانا۔
35
آیت 144 (نبی ﷺ کی شہادت کی افواہ): — ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ...﴾ (آیت:)
36
آیت 144 (نبی ﷺ کی شہادت کی افواہ): — اور محمد (ﷺ) تو صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟
37
آیت 144 (نبی ﷺ کی شہادت کی افواہ): — خاص سبب — احد کے میدان میں شیطان نے افواہ اڑا دی کہ محمد ﷺ شہید کر دیے گئے۔ اس پر بعض مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹ گئے، تب اللہ نے یہ آیت نازل کر کے بیدار کیا۔
38
آیات 169-170 (شہدا کی زندگی): — ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ (آیت:)
39
آیات 169-170 (شہدا کی زندگی): — اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔
40
آیات 169-170 (شہدا کی زندگی): — خاص سبب — احد کے شہدا (خصوصاً حضرت حمزہؓ اور دیگر صحابہ) کی شہادت پر مدینہ میں سوگ کا ماحول تھا، اللہ نے ان کا بلند مقام بتا کر مسلمانوں کے غم کو خوشی میں بدل دیا۔
41
حصہ چہارم: اہل کتاب کی بدعہدیاں اور فکرِ آخرت (آیات 176 تا 200) — شانِ نزول — اس آخری حصے میں منافقین اور یہودیوں کے آخری ہتھکنڈوں کا جواب دیا گیا ہے اور سورت کا اختتام کائنات پر غور و فکر اور بیداریِ شب کی ترغیب پر ہوتا ہے۔
42
حصہ چہارم: اہل کتاب کی بدعہدیاں اور فکرِ آخرت (آیات 176 تا 200) — اہم آیات، ترجمہ اور مخصوص اسبابِ نزول:
43
آیت 181 (یہود کا گستاخانہ جملہ): — ﴿لَقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ...﴾ (آیت:)
44
آیت 181 (یہود کا گستاخانہ جملہ): — یقیناً اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم امیر ہیں...
45
آیت 181 (یہود کا گستاخانہ جملہ): — خاص سبب — جب قرآنی آیت نازل ہوئی کہ "کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے"، تو یہودی رہنما فِنحاص بن عازوراء نے تمسخر اڑاتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کہا کہ "تمہارا خدا ہم سے قرض مانگ رہا ہے، وہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں"۔ اس پر صدیقِ اکبرؓ نے اسے تھپڑ مارا اور یہ آیت نازل ہوئی۔
46
آیات 190-191 (تفکرِ کائنات اور دعائیں): — ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ (آیت:)
47
آیات 190-191 (تفکرِ کائنات اور دعائیں): — بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
48
آیات 190-191 (تفکرِ کائنات اور دعائیں): — خاص سبب — حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ بستر سے اٹھے، وضو کیا اور روتے روتے داڑھی مبارک اور زمین تر کر دی۔ صبح حضرت بلالؓ نے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "آج رات مجھ پر ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ جو انہیں پڑھے اور غور نہ کرے اس کے لیے ہلاکت ہے۔" (پھر آپ ﷺ نے یہ آخری رکوع تلاوت فرمایا)۔