گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 14: سبق 14: سورۃ آل عمران (آیات 172 تا 200) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیطٰنُ یُخَوفُ اَولِیَآءَہٗ فَلَا تَخَافُوھُم وَ خَافُونِ اِن کُنتُم مُّؤمِنِینَ

آیت میں شیطان کے کس عمل کا ذکر ہے

ترجمہ

بیشک وہ (خوف دلانے والا اور افواہیں پھیلانے والا) تو شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں (کافروں اور مشرکوں) سے ڈراتا ہے، تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا۔

اس آیت میں شیطان کے اس عمل کا ذکر ہے جس کے ذریعے وہ اہلِ ایمان کے دلوں میں اپنے کافر و مشرک دوستوں (ساتھیوں) کا رعب، خوف اور دباؤ بٹھاتا ہے۔

شیطان کے کس عمل کا ذکر ہے؟ اور مسلمانوں کے لیے ہدایت

1 شیطان کے کس عمل کا ذکر ہے؟ — پس منظر اور تشریح — غزوۂ احد کے بعد جب بعض دشمنانِ اسلام یا منافقین کی طرف سے یہ افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں کہ کفار نے مسلمانوں کے مقابلے کے لیے بہت بڑا لشکر اکٹھا کر لیا ہے اور اب وہ تم پر حملہ کریں گے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دراصل شیطان کا وسوسہ اور چال تھی جو اپنے ماننے والوں (کافروں) کی طاقت کا رعب مسلمانوں کے دلوں میں ڈال رہا تھا۔
2 مسلمانوں کے لیے ہدایت — غیر اللہ کے خوف سے منع — اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ شیطان کے ان ڈراووں اور کافروں کی طاقت سے بالکل نہ ڈریں۔
3 مسلمانوں کے لیے ہدایت — صرف اللہ کا خوف — مومنین کو ہدایت کی گئی کہ اگر وہ سچے ایمان والے ہیں تو صرف اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور اسی پر بھروسہ رکھیں۔
2 مختصر جوابات

وَلاَ يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا يُرِيدُ اللَّهُ أَلَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِي الْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

آیت میں کفر میں تیزی دکھانے والوں کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

اور (اے حبیب!) آپ ان لوگوں کی وجہ سے غم نہ کریں جو کفر میں جلدی کرتے ہیں، بے شک وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

کفر میں تیزی دکھانے والوں کے حوالے سے اہم باتیں

1 نبی کریم ﷺ کی تسلی — رسول اللہ ﷺ لوگوں کی ہدایت کے لیے انتہائی حریص اور مشفق تھے، اس لیے جب کفار و منافقین اسلام کی مخالفت میں سرگرمیاں بڑھاتے یا کفر کی طرف دوڑتے تو آپ ﷺ رنجیدہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ ان کے کفر اور دوڑ دھوپ پر دل تنگ نہ کریں۔
2 اللہ کا کوئی نقصان نہیں — یہ لوگ جتنی بھی کوششیں کر لیں، اللہ کی شان، اس کے دین یا اس کی ربوبیت کو ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے، سارا نقصان درحقیقت انہی کا اپنا ہے۔
3 آخرت کی محرومی — ان کی اس روش کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کی حکمت اور قانون کے مطابق وہ خود کو آخرت کی تمام بھلائیوں اور رحمتوں سے محروم کر رہے ہیں، اور اللہ نے مقدر کر دیا ہے کہ انہیں جنت یا ثواب میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
4 عظیم عذاب — دنیا میں کفر پر اصرار کرنے اور اس میں سبقت لے جانے کی کوشش کرنے والوں کے لیے آخرت میں ایک بہت بڑا اور دردناک عذاب تیار ہے۔
3 مختصر جوابات

انَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شيئًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

آیت کی رو سے کفر کی کس بد اعمالی پر درد ناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے؟

ترجمہ

بے شک وہ لوگ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر مول لیا، وہ ہرگز اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

کفر کی اس بدعمالی کے اہم نکات:

1 ایمان کا سودا — اس آیت میں اس بدعمالی کو "کفر کو ایمان کے بدلے خریدنا" کہا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے فطرتِ سلیم اور حق قبول کرنے کی صلاحیت دی تھی، مگر اس نے ہدایت اور ایمان کو پسِ پشت ڈال کر گمراہی اور کفر کو خود پر ترجیح دی۔
2 اللہ کا کوئی نقصان نہیں — کفار کی اس سرکشی اور دشمنی سے معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کے دین کو ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ وہ خود اپنا ہی اخروی نقصان اور تباہی مول لے رہے ہیں۔
3 دردناک عذاب کی وعید — اس حق تلفی اور بدبختانہ روش پر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں "عذابِ الیم" (درد ناک عذاب) کی وعید سنائی ہے
4 مختصر جوابات

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾

آیت کے مطابق اصل کامیاب شخص کون ہے؟

ترجمہ

ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور قیامت کے دن تم کو تمہارے اجر پورے پورے دیے جائیں گے۔ پس جو شخص آگ (جہنم) سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، تو وہ یقیناً کامیاب ہو گیا۔ اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔

اصل کامیاب شخص کی وضاحت

1 حقیقی کامیابی — قرآن کے مطابق ظاہری دنیاوی مال و متاع، عیش و آرام یا منصب اصل کامیابی نہیں ہے، بلکہ اصل کامیابی آخرت میں جہنم سے نجات اور جنت کا حصول ہے۔
2 د نیا کی حقیقت — دنیا کی یہ زندگی صرف فریب اور دھوکے کا سودا ہے، جو انسان کو اصل مقصد (آخرت کی تیاری) سے غافل کر دیتی ہے۔
3 اصلی بدلہ — اچھے یا برے اعمال کا پورا پورا اور حتمی بدلہ انسان کو قیامت کے دن ہی ملے گا۔
5 مختصر جوابات

اِنَّ فِی خَلقِ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ وَ اختِلَافِ الَّیلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الاَلبَابِ

آیت میں عقل والوں کے لیے کن چیزوں کو نشانی قرار دیا گیا ہے؟

ترجمہ

بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقلمندوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔

عقل والوں کے لیے نشانیاں

1 آسمانوں اور زمین کی تخلیق — کائنات کا وسیع نظام، سورج، چاند، ستارے، زمین اور اس کی مخلوقات۔
2 رات اور دن کا اختلاف — رات اور دن کا باری باری آنا اور جانا، گھٹنا اور بڑھنا۔
6 مختصر جوابات

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ

آیت میں اللہ نے نیک لوگوں کو کون کون سے انعامات عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ؟

ترجمہ

لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے مہمان نوازی کا سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہترین چیز ہے۔

اللہ تعالیٰ کے وعد کردہ انعامات

1 باغات اور نہریں — ایسے باغات جن کے نیچے پانی کی نہریں جاری ہوں گی۔
2 دائمی زندگی — ان جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ کا سکون اور دائمی قیام۔
3 خا ص مہمانی — اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان نیک بندوں کی اعزازی ضیافت اور مہمان نوازی۔
4 بہترین بدلہ — اللہ کے پاس جو اجر اور نعمتیں ہیں، وہ دنیا کی ہر عارضی نعمت سے بڑھ کر اور نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہیں
7 مختصر جوابات

يٰاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اصبِرُوا وَ صَابِرُوا وَ رَابِطُو وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُم تفلِحُونَ

آیت میں اہل ایمان کو کیا حکم دیا گیا ہے؟

ترجمہ

اے ایمان والو! صبر کرو اور صبر میں دشمن سے بڑھ کر رہو اور مورچوں پر ڈٹے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

بنیادی احکام و ہدایات

1 اصبروا (صبر کرو) — ذاتی زندگی، عبادات اور مصائب میں صبر کا دامن تھامنا۔
2 صابروا (ثابت قدمی) — دشمن یا مشکلات کے مقابلے میں استقامت اور پاداش میں دشمن سے بھی زیادہ پکا رہنا۔
3 رابطوا (پہرا دینا/ڈٹے رہنا) — اسلامی سرحدوں کی نگہبانی کرنا یا نیکی کے کاموں پر ہمہ وقت تیار رہنا۔
4 اتقوا اللہ (تقویٰ) — اللہ کا ڈر اور خوف رکھنا تاکہ اصل کامیابی نصیب ہو

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

اَلَّذِینَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَد جَمَعُوا لَکُم فَاخشَوھُم فَزَادَھم اِیمَانًا’ وَّ قَالُوا حَسبُنَا اللَّہُ وَ نِعمَ الوَکِیلُ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے مقابلے کے لیے (کفار کا) بڑا لشکر جمع ہو چکا ہے، لہٰذا ان سے ڈرو؛ تو اس بات نے ان کے ایمان کو اور زیادہ بڑھا دیا اور انہوں نے کہا: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز (نگہبان) ہے.

مفہوم اور تشریح

1 خوف کے بجائے حوصلہ: جب غزوہ احد کے بعد دشمنوں نے افواہیں پھیلائیں یا ڈرایا کہ کافروں کی بڑی فوج حملہ کرنے والی ہے، تو سچے مسلمانوں کے دلوں میں خوف آنے کے بجائے ان کا عزم اور یقین مزید مضبوط ہو گیا.
2 توکل علی اللہ — مشکل وقت میں انہوں نے گھبرانے کے بجائے اللہ تعالی کی ذات پر مکمل بھروسہ کیا اور «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» (اللہ ہی ہمیں کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے) کا ورد کیا۔.
3 ایمان میں اضافہ — یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ آزمائش اور سختی کے وقت مومن کا ایمان گھٹنے کے بجائے مزید بڑھتا اور نکھرتا ہے.
9 تفصیلی جوابات

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْ بَعْدِ مااَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ۔ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌ

آیت میں کن لوگوں کے لیے اجر عظیم کا ذکر ہے؟

ترجمہ

وہ لوگ جو اللہ اور رسول کے بلانے پر زخمی ہونے کے باوجود (فوراً) حاضر ہو گئے، ان میں سے نیکی کرنے والوں اور پرہیزگاروں کے لیے بڑا ثواب (اجرِ عظیم) ہے۔

اس آیت میں درج ذیل صفات کے حامل افراد کے لیے اجرِ عظیم کی بشارت دی گئی ہے:

اجرِ عظیم کے مستحق کون لوگ ہیں؟

1 زخمی ہونے کے باوجود حکم ماننے والے — وہ مومنین جن کے جسم احد کی لڑائی میں گھائل اور زخمی تھے، لیکن جب نبی کریم ﷺ نے کافروں کے تعاقب (غزوہ حمراء الاسد) کا حکم دیا تو وہ ذرا سست نہ ہوئے اور فوراً حاضر ہو گئے۔
2 محسنین (نیکی کرنے والے) — جنہوں نے انتہائی کٹھن حالات میں بھی اطاعتِ الٰہی کا بہترین نمونہ پیش کیا۔
3 متقی (پرہیزگار) — جو اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے احکام کی پابندی کرنے والے ہیں۔
10 تفصیلی جوابات

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ ذُو فَضلٍ عَظِیمٍ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

پس وہ لوٹ آئے اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ، ان کو کوئی تکلیف نہ پہنچی اور انہوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

مفہوم و تفسیر

1 اللہ کی نعمت اور فضل — غزوۂ احد کے بعد جب نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام حمراء الاسد کے مقام تک گئے اور دشمنوں سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اللہ پر بھروسہ کیا، تو اللہ نے انہیں حفاظت اور غنیمت کی صورت میں نعمت اور فضل عطا کیا۔
2 کوئی تکلیف نہ پہنچنا — دشمن ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے اور وہ مدینہ واپس آئے تو صیحح و سالم اور مطمئن تھے۔
3 اللہ کی رضا — صحابہ کرام نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی کو اپنا مقصد بنایا۔
11 تفصیلی جوابات

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ

آیت میں کفار کو مہلت دینے کی کیا وجہ اور انجام بیان ہو ہے؟

ترجمہ

اور کافر ہرگز یہ گمان نہ رکھیں کہ ہم انہیں جو مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے لیے بہتر ہے، ہم تو صرف اس لیے انہیں مہلت دے رہے ہیں کہ ان کے گناہ اور زیادہ ہو جائیں اور ان کے لیے ذلت ناک عذاب ہے

مہلت دینے کی وجہ اور انجام

1 مہلت دینے کی وجہ — گناہوں میں اضافہ — اللہ تعالیٰ کافروں کو مال، اولاد اور دنیا کی آسائشیں اس لیے دیتا ہے تاکہ وہ اپنی سرکشی اور نافرمانیوں میں مزید آگے بڑھ جائیں۔
2 مہلت دینے کی وجہ — حجت کا تمام ہونا — ڈھیل اس حکمت کے تحت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے کفر و طغیان کی حدیں پوری کر لیں تاکہ ان کا جرم مکمل ہو جائے۔
3 انجام —  گناہوں کا بوجھ بھاری ہونا — مہلت ملنے پر توبہ نہ کرنے سے ان کے نامۂ اعمال میں گناہوں کا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
4 انجام —  ذلت ناک عذاب — آخر کار دنیا کی عارضی خوشحالی کے بعد ان کے لیے آخرت میں ایک رسوا کن اور ذلیل کرنے والا عذاب تیار ہے
12 تفصیلی جوابات

وَاِذ اَخَذَ اللّٰهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ اوتُوا الكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَكتُمُونَهٗ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِم وَاشتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور یاد کرو جب اللہ نے ان لوگوں سے عہد لیا جنہیں کتاب دی گئی تھی کہ تم ضرور اس کتاب کو لوگوں سے بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں، تو انہوں نے اس عہد کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی دنیاوی قیمت خرید لی۔ پس بہت ہی برا سودا ہے جو وہ خریدتے ہیں.

مفہوم و تشریح

1 عہدِ الٰہی — اللہ تعالی نے تورات اور انجیل کے ماننے والے علماء اور داناؤں سے پختہ وعدہ لیا تھا کہ آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی آمد، صفات اور دینِ حق کی سچی ترویج و اشاعت لوگوں میں کھلے بندوں کریں گے اور حق کو نہیں چھپائیں گے۔
2 حق سے روگردانی — اہل کتاب (خصوصاً ان کے علماء) نے ذاتی مفادات، مال اور جاہ و حشم کی خاطر اس عظیم ذمہ داری کو پسِ پشت ڈال دیا اور اللہ کے احکام پر پردہ ڈالا۔
3 دنیا کا گھٹیا بدلہ — انہوں نے حق چھپانے کے بدلے دنیا کےچند روزہ فوائد کو ترجیح دی، جسے قرآن نے "بہت برا سودا" قرار دیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ان کے لیے آخرت کا ناکامی اور دردناک عذاب ہے۔
13 تفصیلی جوابات

لَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

آیت میں اہل ایمان کی کیا صفات اور کردار بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

(وہ ایسے لوگ ہیں) جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں کھڑے بھی اور بیٹھے بھی اور اپنے پہلوؤں پر لیٹے ہوئے بھی، اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں (اور پکار اٹھتے ہیں:) اے ہمارے رب! تو نے یہ (سب کچھ) بے مقصد نہیں بنایا، تو پاک ہے، پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔

اہل ایمان کی صفات اور کردار

1 دائمی ذکرِ الٰہی — وہ ہر وقت اور ہر حالت میں—خواہ وہ کھڑے ہوں، بیٹھے ہوں یا لیٹے ہوں—دل اور زبان سے اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ ان کا تعلق اپنے خالق سے عارضی نہیں بلکہ مستقل ہوتا ہے۔
2 کائنات میں غور و فکر (تدبر) — وہ زمین و آسمان کی تخلیق اور نظامِ کائنات پر سنجیدگی سے سوچ بچار کرتے ہیں۔ اس غور و فکر کا مقصد اللہ کی قدرت، حکمت اور عظمت کا عرفان حاصل کرنا ہوتا ہے۔
3 حکمت اور مقصدِ حیات کا شعور — وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ وسیع و عریض کائنات کھیل تماشا یا عبث (بے مقصد) نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک عظیم مقصد اور حق کا نظام کارفرما ہے۔
4 عاجزی اور خدا ترس رویہ — کائنات کی حقیقت جاننے کے بعد ان کے اندر عاجزی پیدا ہوتی ہے اور وہ اللہ کی ذات کو ہر عیب یا ناپاکی سے مانتے ہیں۔
5 آخرت کا خوف اور دعا — ان کا کردار یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں غافل ہو کر نہیں جیتے، بلکہ ہمیشہ جہنم کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور عاجزی کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

شیطان لوگوں کو بزدل بنانے کے لیے کیا کیا حربے استعمال کرتا ہے ؟

شیطان انسانوں کو بزدل اور کمزور بنانے کے لیے بنیادی طور پر خوف، وسوسوں اور مستقبل کے اندیشوں کا حربہ استعمال کرتا ہے۔ قرآن مجید کی سورہ آل عمران (آیت 175) میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے: "یہ شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، پس تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر تم مومن ہو"۔ شیطان انسان کے عزم کو توڑنے اور اسے حق کی راہ پر کھڑا ہونے سے روکنے کے لیے درج ذیل حربے استعمال کرتا ہے:

1 اپنے چیلوں کا جھوٹا رعب ڈالنا — وہ باطل قوتوں اور ظالموں کو بہت طاقتور بنا کر پیش کرتا ہے۔انسان کے دل میں یہ وہم ڈالتا ہے کہ ان کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔اس کا مقصد انسان کو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنا ہوتا ہے۔
2 غربت اور فاقہ کشی کا خوف دلانا — قرآن کے مطابق شیطان انسان کو ہر اچھے کام پر مفلسی کا ڈر دلاتا ہے۔ وہ ذہن میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اگر اللہ کی راہ میں خرچ کیا تو تم غریب ہو جاؤ گے۔ یہ خوف انسان کو کنجوسی اور معاشی بزدلی کی طرف دھکیلتا ہے۔
3 جان اور مال کے نقصان کا اندیشہ — وہ جہاد، ہجرت یا حق بات کہنے کے موقع پر موت یا قید کا خوف پیدا کرتا ہے۔ انسان کو اپنی جان، اولاد اور جائداد کے چھن جانے کے وسوسوں میں مبتلا رکھتا ہے۔اس طرح وہ انسان کو کسی بھی بڑے اور جرات مندانہ فیصلے سے محروم کر دیتا ہے۔
4 مستقبل کے بارے میں ناامیدی پھیلانا — وہ انسان کے اندر سے مایوسی اور بے یقینی کو ہوا دیتا ہے۔ وہ یہ تاثر دیتا ہے کہ حالات کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے اور کوشش کرنا فضول ہے۔ناامیدی انسان کی ذہنی اور اخلاقی جرات کو ختم کر کے اسے بزدل بنا دیتی ہے۔
5 مرحلہ وار شکوک و شبہات پیدا کرنا — وہ اچانک کفر کا حکم نہیں دیتا بلکہ مرحلہ وار گناہوں کی طرف لاتا ہے۔ گناہوں کی کثرت سے انسان کا دل سیاہ ہو جاتا ہے اور اس کا ایمان کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایمان کی یہی کمزوری انسان کو اندر سے کھوکھلا اور بزدل بنا دیتی ہے۔
6 دنیا کی محبت اور موت کا ڈر — وہ انسان کے دل میں دنیا کی عارضی چمک دمک کی محبت پیدا کرتا ہے۔ انسان جب موت کو بھول کر دنیا کا حریص بن جاتا ہے تو وہ اس فانی زندگی کو بچانے کے لیے ہر قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔یہی "وہن" (دنیا کی محبت اور موت سے نفرت) امت کو مجموعی طور پر بزدل بنا دیتا ہے۔
15 سرگرمیاں

بخل کی مذمت اور سخاوت کی اہمیت پر چند احادیث لکھیں نیز ان میں بیان کردہ تعلیمات عمل میں لانا

بخل کی مذمت اور سخاوت کی اہمیت کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں سخت تنبیہ اور عظیم فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ اہم احادیث میں آپ ﷺ کا یہ ارشاد شامل ہے کہ بخل سے بچو کیونکہ اس نے اگلی امتوں کو ہلاک کیا، سخی اللہ اور بندوں کے قریب ہوتا ہے، اور روزانہ فرشتے سخی کے لیے دعا اور بخیل کے لیے بددعا کرتے ہیں۔

1 بخل کی مذمت میں احادیث — ہلاکت کا سبب — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "بخل (کنجوسی) سے بچو، کیونکہ بخل ہی نے تم سے پہلی امتوں کو ہلاک کیا، اسی نے انھیں خون بہانے اور اپنے حرام کردہ امور کو حلال کرنے پر آمادہ کیا ا
2 بخل کی مذمت میں احادیث — فرشتوں کی بددعا — آپ ﷺ نے فرمایا: "ایسا کوئی دن نہیں جس میں بندے صبح کرتے ہوں مگر دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ! سخی کو اس کے خرچ کا بہترین بدلہ عطا فرما، اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! بخیل (کنجوس) کو مال کی بربادی و ہلاکت دے
3 بخل کی مذمت میں احادیث — ایمان اور بخل کا عدمِ تلازم — آپ ﷺ نے فرمایا: "کسی بندے کے دل میں ایمان اور بخل کبھی جمع نہیں ہو سکتے
4 سخاوت کی اہمیت اور فضیلت میں احادیث — اللہ تعالیٰ کا قرب — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سخی آدمی اللہ کے قریب ہے، جنت کے قریب ہے، لوگوں کے قریب ہے اور جہنم سے دور ہے؛ اور بخیل شخص اللہ سے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے اور جہنم کے قریب ہے۔"
5 سخاوت کی اہمیت اور فضیلت میں احادیث — بہتر ہاتھ — آپ ﷺ نے فرمایا: "اوپر والا ہاتھ (دینے والا/سخی) نیچے والے ہاتھ (مانگنے والے) سے بہتر ہے۔"
6 سخاوت کی اہمیت اور فضیلت میں احادیث — انفاق اور فیاضی کی تمنا — آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات خوش کرے گی کہ اس میں سے تین دن گزرنے کے بعد میرے پاس ایک دینار بھی باقی نہ بچے، سوائے اس کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ لوں۔"
7 ان تعلیمات کو عملی زندگی میں لانا — مال کو امانت سمجھنا — یہ یقین پیدا کریں کہ مال ہمارا نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے، اور ضرورت مندوں پر خرچ کرنے سے مال کم نہیں بلکہ پاک ہوتا ہے۔
8 ان تعلیمات کو عملی زندگی میں لانا — چھوٹی سطح پر آغاز — روزمرہ کی زندگی میں غربت زدہ رشتے داروں، پڑوسیوں اور محتاجوں کی مدد کو اپنا معمول بنائیں، خواہ وہ کم مقدار میں ہی کیوں نہ ہو۔
9 ان تعلیمات کو عملی زندگی میں لانا — لالچ اور حبِ دنیا کا خاتمہ — دل سے مال جمع کرنے کی ہوس اور حرص کو نکالیں، کیونکہ کنجوسی نہ صرف اخروی خسارے کا باعث ہے بلکہ معاشرے میں دوریوں اور بگاڑ کی جڑ بھی ہے۔
16 سرگرمیاں

ایمان کے بدلے کفر خریدنے کا کیا مفہوم ہے؟

ایمان کے بدلے کفر خریدنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ہدایت، حق اور ایمان جیسی قیمتی دولت کو چھوڑ کر اس کے بدلے گمراہی، سرکشی اور کفر کو خود منتخب کر لے۔ قرآن مجید میں اسے ایک خسارے کی تجارت کہا گیا ہے جہاں نفع کی بجائے نقصان اٹھایا جاتا ہے۔

مفہوم اور تشریح

1 ہدایت کے بدلے گمراہی — انسان کو اللہ نے عقل اور حق کو پہچاننے کی صلاحیت دی، مگر اس نے دنیاوی فائدے یا ضد کی خاطر حق کو جھٹلا دیا۔
2 تجارت کی تمثیل — "خریدنا" (اشترا) کا لفظ بطور تمثیل استعمال ہوا ہے، یعنی جس طرح کوئی شخص قیمت دے کر اپنی پسند کی چیز لیتا ہے، ایسے ہی کافر یا منافق نے ایمان کی قیمت پر کفر کو اپنا لیا۔
3 نقصان کا سودا — اس عمل کو سب سے بڑا گھاٹا کہا گیا ہے کیونکہ اس کے بدلے آخرت کی ابدی راحت کھو کر عذاب مول لیا جاتا ہے۔
17 سرگرمیاں

فلسفہ موت کے حوالے سے مختلف مذاہب میں موجود تصورات اور رسومات اور اس حوالے سے اسلامی تعلیمات کی انفرادیت بتائیں ؟

موت کے حوالے سے مختلف مذاہب میں فنا، تناسخ اور آخری نجات کے متفرق نظریات اور رسومات پائے جاتے ہیں، جبکہ اسلام میں موت کو محض نابودی کے بجائے ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقلی اور آزمائش کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

مختلف مذاہب میں موت کا تصور اور آخری رسومات اور اسلامی تعلیمات اور انفرادیت

1 مختلف مذاہب میں موت کا تصور اور آخری رسومات — ہندو مت — موت کو روح کی آواگون (تناسخ) اور نئے جنم کا چکر مانا جاتا ہے جہاں روح بار بار جنم لیتی ہے۔ آخری رسومات میں میت کو جلایا (شمشان گھاٹ پر اگنی دی) جاتا ہے تاکہ مٹی کا پتلا مٹی یا عناصر میں حل ہو جائے۔
2 مختلف مذاہب میں موت کا تصور اور آخری رسومات — بدھ مت — یہاں بھی تناسخ اور کرما کا اصول ہے، مقصد سنسار سے نجات (نروان) حاصل کرنا ہے۔ رسومات میں تدفین یا جلانے دونوں کے طریقے علاقے کے لحاظ سے رائج ہیں۔
3 مختلف مذاہب میں موت کا تصور اور آخری رسومات — سکھ مت — موت کو پیدائش و موت کے چکر سے رہائی اور خدا سے ملاپ کا زینہ سمجھا جاتا ہے۔ رسومات میں سوگ کے بجائے سکون اور مذہبی اشعار کی گونج میں ارتھی کو جلایا جاتا ہے۔
4 مختلف مذاہب میں موت کا تصور اور آخری رسومات — پارسی مت (زرتشتی) — مذہب میں موت کو اچھا اور برائی کی کشمکش کا خاتمہ مانا جاتا ہے۔ روایتی رسومات میں لاش کو (مینارِ خموشاں) پر رکھ دیا جاتا ہے تاکہ پرندے اسے کھا لیں اور زمین یا آگ ناپاک نہ ہو۔
5 مختلف مذاہب میں موت کا تصور اور آخری رسومات — مسیحیت اور یہودیت — موت کو جسمانی زندگی کا اختتام اور آخری عدالت و روزِ جزا تک روح کی خوابیدہ یا دوسری حالت مانا جاتا ہے۔ آخری رسومات میں تدفین کا باقاعدہ اور متفقہ طریقہ ہوتا ہے۔
6 اسلامی تعلیمات اور انفرادیت — انتقالِ مکاں کا نظریہ — اسلام میں موت کو فنا یا ہستی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک منزل سے دوسری منزل (عالمِ دنیا سے عالمِ برزخ اور پھر آخرت) کی طرف سفر اور منتقلی کہا گیا ہے۔
7 اسلامی تعلیمات اور انفرادیت — آزمائش کا مقصد — قرآن کے مطابق موت اور حیات اس لیے پیدا کیے گئے ہیں تاکہ یہ پرکھا جا سکے کہ انسانوں میں بہترین عمل کرنے والا کون ہے۔ یہ ایک بامقصد اور منظم نظامِ الٰہی ہے۔
8 اسلامی تعلیمات اور انفرادیت — جزا و سزا اور احتساب کی پختگی — اسلام میں زندگی کے ہر عمل کا مکمل اور عادلانہ احتساب روزِ قیامت یقینی بنایا گیا ہے، جہاں ذرہ برابر نیکی یا بدی کا بدلہ ملے گا۔
9 اسلامی تعلیمات اور انفرادیت — تجہیز و تکفین کا باوقار اور متوازن نظام — اسلام نے انسانیت کی تکریم کو برقرار رکھتے ہوئے میت کو غسل دینے، کفن پہنانے، اور باقاعدہ عزت کے ساتھ زمین میں دفن کرنے کا عالمگیر، آسان اور مساوات پر مبنی حکم دیا ہے جو کسی بھی قسم کی ظالمانہ یا پیچیدہ رسومات سے پاک ہے۔

شان نزول

18 شان نزول

سورۃ آلِ عمران مدینہ منورہ میں نازل ہونے والی تیسری اور طویل سورتوں میں سے ہے، جس کے مختلف حصوں اور نمایاں آیات کا تعلق الگ الگ تاریخی پس منظر اور شانِ نزول سے ہے۔ اس سورت کی ابتدائی آیات کا تعلق نجران کے عیسائی وفد سے، درمیانی کا غلوِ یہود و نصاریٰ اور آخری حصہ کا تعلق غزوۂ احد کے واقعات سے ہے۔

1 . نجران کے عیسائی وفد کی آمد اور مباہلہ (آیات 1 تا 83) — شانِ نزول — ہجری میں نجران کا عیسائی وفد (جس میں 60 افراد اور ان کے سردار شامل تھے) مدینہ آیا اور رسول اللہ ﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توحید و رسالت کے بارے میں بحث کی۔ اس پر سورت کی ابتدائی آیات اور مباہلہ کا واقعہ نازل ہوا۔
2 . غزوۂ احد کے مواقع اور مسلمانوں کی آزمائش (آیات 121 تا 175) — شانِ نزول — ان آیات کا نزول غزوۂ احد (3 ہجری) کے موقع پر اور اس کے بعد کے حالات کے تناظر میں ہوا، جب مسلمانوں کو ابتدائی جانی نقصان اٹھانا پڑا، کچھ کمزور دل والے گھبرا گئے، اور منافقین نے طرح طرح کی باتیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے تسلی اور راہنمائی کے احکام نازل فرمائے۔
3 . غزوۂ احد کے مواقع اور مسلمانوں کی آزمائش (آیات 121 تا 175) — ﴿وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ (آیت (آیت 121):)
4 . غزوۂ احد کے مواقع اور مسلمانوں کی آزمائش (آیات 121 تا 175) — اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے تھے اور مسلمانوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر بٹھا رہے تھے، اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
5 . فکرِ آخرت اور بیداریِ شب پر آخری آیات (آیات 190 تا 195) — شانِ نزول — حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عبادت میں گریہ زاری کی اور فرمایا کہ آج مجھ پر یہ آیات نازل ہوئی ہیں، اور ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو انہیں پڑھے مگر غور و فکر نہ کرے۔
6 . فکرِ آخرت اور بیداریِ شب پر آخری آیات (آیات 190 تا 195) — ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ (آیت (آیت 190):)
7 . فکرِ آخرت اور بیداریِ شب پر آخری آیات (آیات 190 تا 195) — بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
8 حصہ اول: نجران کے عیسائی وفد کا مناظرہ (آیات 1 تا 83) — شانِ نزول — یہ پورا حصہ سن 9 ہجری میں مدینہ منورہ آنے والے نجران کے 60 عیسائیوں کے وفد کے جواب میں نازل ہوا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت (خدا کا بیٹا ہونے) پر بحث کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور اسلام کی دعوت دی۔
9 حصہ اول: نجران کے عیسائی وفد کا مناظرہ (آیات 1 تا 83) — اہم آیات، ترجمہ اور مخصوص اسبابِ نزول:
10 آیات 1 تا 6 (ابتدائیہ): — ﴿الم ۝ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ (آیت:)
11 آیات 1 تا 6 (ابتدائیہ): — الف، لام، میم۔ اللہ (وہ معبودِ برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور کائنات کو قائم رکھنے والا ہے۔
12 آیات 1 تا 6 (ابتدائیہ): — خاص سبب — عیسائیوں کے اس عقیدے کا رد کہ حضرت عیسیٰ معبود ہیں، یہ بتا کر کہ معبود صرف وہ ہے جو ہمیشہ زندہ رہے اور مریم کے پیٹ میں شکلیں بنائے۔
13 آیت 7 (محکم اور متشابہ آیات): — ﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ...﴾ (آیت:)
14 آیت 7 (محکم اور متشابہ آیات): — وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی جس میں سے کچھ آیات محکم (واضح) ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہ (پوشیدہ معنی والی) ہیں...
15 آیت 7 (محکم اور متشابہ آیات): — خاص سبب — عیسائیوں نے قرآن کے لفظ "روح اللہ" اور "کلمۃ اللہ" (جو حضرت عیسیٰ کے لیے استعمال ہوئے) کو اپنی دلیل بنایا تھا۔ اللہ نے واضح کیا کہ وہ متشابہات کے پیچھے فتنہ پھیلانے کے لیے پڑے ہیں۔
16 آیات 33-35 (خاندانِ عمران کا ذکر): — ﴿إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ (آیت:)
17 آیات 33-35 (خاندانِ عمران کا ذکر): — بیشک اللہ نے آدم اور نوح اور آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو تمام جہان والوں پر منتخب فرما لیا۔
18 آیات 33-35 (خاندانِ عمران کا ذکر): — خاص سبب — عیسائیوں کو حضرت عیسیٰ کی انسانیت اور ان کے خاندان (مریم اور ان کے والد عمران) کا تاریخی پس منظر سمجھانے کے لیے یہ آیات نازل ہوئیں۔
19 آیت 61 (آیتِ مباہلہ): — ﴿فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ...﴾ (آیت:)
20 آیت 61 (آیتِ مباہلہ): — پھر جو کوئی تم سے اس (عیسیٰ) کے بارے میں جھگڑا کرے علم آ جانے کے بعد، تو کہہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلائیں... پھر جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔
21 آیت 61 (آیتِ مباہلہ): — خاص سبب — جب نجران کے عیسائی دلائل کے باوجود حق ماننے پر تیار نہ ہوئے، تو نبی ﷺ کو حکم ہوا کہ انہیں مباہلہ (حق و باطل کی پرکھ کے لیے ایک دوسرے پر لعنت کی دعا) کا چیلنج دیں، جس سے عیسائی ڈر کر پیچھے ہٹ گئے۔
22 حصہ دوم: یہود و نصاریٰ کی سازشیں اور منافقت کا رد (آیات 84 تا 120) — شانِ نزول — مدینہ کے یہودیوں (بنو قینقاع، بنو نضیر) اور منافقین نے مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل کرنے کے لیے مختلف چالیں چلیں۔ کبھی وہ صبح مسلمان ہوتے اور شام کو کافر ہو جاتے تاکہ عام لوگ بدظن ہوں، اور کبھی مسلمانوں کے درمیان پرانی دشمنی (اوس اور خزرج کی جنگیں) تازہ کرنے کی کوشش کرتے۔
23 حصہ دوم: یہود و نصاریٰ کی سازشیں اور منافقت کا رد (آیات 84 تا 120) — اہم آیات، ترجمہ اور مخصوص اسبابِ نزول:
24 آیت 93 (بنی اسرائیل پر حلال و حرام کھانا): — ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ...﴾ (آیت:)
25 آیت 93 (بنی اسرائیل پر حلال و حرام کھانا): — بنی اسرائیل کے لیے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں سوائے ان کے جو اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) نے تورات نازل ہونے سے پہلے خود پر حرام کر لی تھیں...
26 آیت 93 (بنی اسرائیل پر حلال و حرام کھانا): — خاص سبب — یہودیوں نے اعتراض کیا کہ اگر آپ دینِ ابراہیمی پر ہیں تو اونٹ کا گوشت کیوں کھاتے ہیں جو ابراہیمؑ پر حرام تھا؟ اللہ نے واضح کیا کہ اونٹ کا گوشت حضرت یعقوبؑ نے اپنی بیماری کی وجہ سے خود پر حرام کیا تھا، دینِ ابراہیمی میں وہ حرام نہیں تھا۔
27 آیات 100-103 (اتحادِ امت اور یہود کی سازش): — ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا...﴾ (آیت:)
28 آیات 100-103 (اتحادِ امت اور یہود کی سازش): — اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو...
29 آیات 100-103 (اتحادِ امت اور یہود کی سازش): — خاص سبب — شاس بن قیس نامی یہودی نے انصار کے دو قبیلوں (اوس اور خزرج) کے پاس بیٹھ کر پرانی جنگِ بعاث کے اشعار پڑھے، جس سے وہ آپس میں لڑنے مرنے پر تیار ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے آ کر بیچ بچاؤ کروایا اور یہ آیات نازل ہوئیں۔
30 حصہ سوم: غزوۂ احد کے احوال اور حکمتیں (آیات 121 تا 175) — شانِ نزول — یہ پورا حصہ شوال 3 ہجری میں ہونے والی جنگِ احد کے پس منظر میں نازل ہوا۔ جب مسلمانوں کی ابتدائی فتح کے بعد تیر اندازوں کی غلطی سے جنگ کا پانسا پلٹ گیا، 70 صحابہ شہید ہوئے، اور نبی ﷺ زخمی ہوئے، تو مسلمانوں کے حوصلے بحال کرنے اور ان کی خامیوں کی اصلاح کے لیے یہ آیات نازل ہوئیں۔
31 حصہ سوم: غزوۂ احد کے احوال اور حکمتیں (آیات 121 تا 175) — اہم آیات، ترجمہ اور مخصوص اسبابِ نزول:
32 آیت 121 (جنگ کی تیاری): — ﴿وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ...﴾ (آیت:)
33 آیت 121 (جنگ کی تیاری): — اور (یاد کریں) جب آپ صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے، مومنوں کو لڑائی کے مورچوں پر متعین کر رہے تھے...
34 آیت 121 (جنگ کی تیاری): — خاص سبب — رسول اللہ ﷺ کا احد کے میدان کے لیے روانہ ہونا اور عبداللہ بن ابی (منافق) کا اپنے 300 ساتھیوں کو لے کر راستے سے واپس لوٹ جانا۔
35 آیت 144 (نبی ﷺ کی شہادت کی افواہ): — ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ...﴾ (آیت:)
36 آیت 144 (نبی ﷺ کی شہادت کی افواہ): — اور محمد (ﷺ) تو صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟
37 آیت 144 (نبی ﷺ کی شہادت کی افواہ): — خاص سبب — احد کے میدان میں شیطان نے افواہ اڑا دی کہ محمد ﷺ شہید کر دیے گئے۔ اس پر بعض مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹ گئے، تب اللہ نے یہ آیت نازل کر کے بیدار کیا۔
38 آیات 169-170 (شہدا کی زندگی): — ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ (آیت:)
39 آیات 169-170 (شہدا کی زندگی): — اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔
40 آیات 169-170 (شہدا کی زندگی): — خاص سبب — احد کے شہدا (خصوصاً حضرت حمزہؓ اور دیگر صحابہ) کی شہادت پر مدینہ میں سوگ کا ماحول تھا، اللہ نے ان کا بلند مقام بتا کر مسلمانوں کے غم کو خوشی میں بدل دیا۔
41 حصہ چہارم: اہل کتاب کی بدعہدیاں اور فکرِ آخرت (آیات 176 تا 200) — شانِ نزول — اس آخری حصے میں منافقین اور یہودیوں کے آخری ہتھکنڈوں کا جواب دیا گیا ہے اور سورت کا اختتام کائنات پر غور و فکر اور بیداریِ شب کی ترغیب پر ہوتا ہے۔
42 حصہ چہارم: اہل کتاب کی بدعہدیاں اور فکرِ آخرت (آیات 176 تا 200) — اہم آیات، ترجمہ اور مخصوص اسبابِ نزول:
43 آیت 181 (یہود کا گستاخانہ جملہ): — ﴿لَقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ...﴾ (آیت:)
44 آیت 181 (یہود کا گستاخانہ جملہ): — یقیناً اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم امیر ہیں...
45 آیت 181 (یہود کا گستاخانہ جملہ): — خاص سبب — جب قرآنی آیت نازل ہوئی کہ "کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے"، تو یہودی رہنما فِنحاص بن عازوراء نے تمسخر اڑاتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کہا کہ "تمہارا خدا ہم سے قرض مانگ رہا ہے، وہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں"۔ اس پر صدیقِ اکبرؓ نے اسے تھپڑ مارا اور یہ آیت نازل ہوئی۔
46 آیات 190-191 (تفکرِ کائنات اور دعائیں): — ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ (آیت:)
47 آیات 190-191 (تفکرِ کائنات اور دعائیں): — بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
48 آیات 190-191 (تفکرِ کائنات اور دعائیں): — خاص سبب — حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ بستر سے اٹھے، وضو کیا اور روتے روتے داڑھی مبارک اور زمین تر کر دی۔ صبح حضرت بلالؓ نے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "آج رات مجھ پر ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ جو انہیں پڑھے اور غور نہ کرے اس کے لیے ہلاکت ہے۔" (پھر آپ ﷺ نے یہ آخری رکوع تلاوت فرمایا)۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.