وہ آپ سے مالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ مالِ غنیمت اللہ اور رسول کا ہے، پس تم اللہ سے ڈرو اور آپس کے تعلقات درست رکھو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اگر تم مومن ہو۔
مال غنیمت کے سوال پر جوا ب اور حکم
1ملکیت اور اختیار — مالِ غنیمت کے بارے میں صحابہ کرام کے سوال پر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ اور اس کے رسول کا ہے، وہ جسے چاہیں اور جس طرح مناسب سمجھیں اسے تقسیم کریں۔
2تقویٰ اور اصلاح — مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ مال کی محبت یا تقسیم پر اختلاف کرنے کے بجائے اللہ سے ڈریں اور آپس کے باہمی تعلقات اور صلح صفائی کو برقرار رکھیں۔
3اطاعت — ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مالی معاملات میں بھی اللہ اور اس کے رسول کی مکمل اطاعت کی جائے۔
آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے کتنے فرشتوں کے ذریعے اہل ایمان کی مدد فرمائی؟
ترجمہ
جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، تو اس نے تمہاری دعا قبول کر لی کہ بے شک میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ جو پے در پے آنے والے ہیں، تمہاری مدد کرنے والا ہوں۔
اہم نکات
1تعداد — ابتدائی طور پر ایک ہزار فرشتے مقرر ہوئے جو بعد میں دیگر آیات (آل عمران) کے تحت بڑھ کر تین ہزار اور پانچ ہزار تک بھی ہوگئے۔
2مقصد — فرشتوں کا یہ نزول صرف مسلمانوں کی دلی تسلی، بشارت اور اطمینان قلب کے لیے تھا، کیونکہ حقیقی فتح صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔
آیت میں کفار سے جنگ کی صورت میں مسلمانوں کو کیا ہدایت دی گئی ہے؟
ترجمہ
اے ایمان والو! جب میدانِ جنگ میں کافروں سے تمہارا مقابلہ ہو جائے (اس حالت میں کہ وہ لشکرِ کثیر کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہوں) تو انہیں پیٹھ نہ دکھانا (یعنی میدان چھوڑ کر نہ بھاگنا)۔
جنگ کی صورت میں مسلمانوں کو ہدایات
1فرار کی ممانعت — دشمن کے مقابلے میں پیٹھ پھیر کر بزدلی دکھانا اور میدانِ جنگ سے بھاگنا حرام قرار دیا گیا ہے۔
2استثنائی صورتیں (جنگی حکمت عملی) — میدان سے ہٹنے کی صرف دو صورتوں میں اجازت
3یا تو جنگی چال (پینترا بدلنے) کے طور پر پیچھے ہٹنا ہو تاکہ دشمن کو دھوکا دے کر دوبارہ حملہ کیا جا سکے۔
4یا پھر اپنی فوج کے دوسرے دستے یا گروہ کے ساتھ مل کر لڑائی کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے پسپا ہونا پڑے۔
5سخت وعید — ان دو جائز صورتوں کے علاوہ جو شخص میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیرے گا، وہ اللہ کے غضب کا مستحق ٹھہرے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
جنگ کے موقع پیچھے ہٹنے کی کیا حکمت عملی بیان کی گئی ہےَ
ترجمہ
اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے پینترا بدلے (چال چلے) یا اپنی فوج (یا دستے) میں جا ملنا چاہے، ان سے پیٹھ پھیرے گا تو وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہو گیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔
اسلامی جنگی قانون کے مطابق میدانِ جنگ میں ہر قسم کی پسپائی کو بزدلی یا بھاگنا نہیں کہا گیا، بلکہ درج ذیل دو صورتوں کو باقاعدہ جنگی حکمت عملی تسلیم کیا گیا ہے
جنگ کے موقع پر پیچھے ہٹنے کی حکمت عملی
1مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالِ (لڑائی کے لیے پینترا بدلنا یا چال چلنا) — اس کا مطلب ہے کہ فوجی یا دستہ وقتی طور پر پیچھے ہٹے تاکہ دشمن کو الجھن میں ڈالا جائے، نیا حملہ کیا جائے، یا دشمن کو مورچے سے باہر نکال کر جال میں پھنسایا جا سکے۔ اسے عسکری تدبیر کہا جاتا ہے۔
2مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ (اپنے لشکر یا دوسری جماعت کی طرف جانا) — اس کا مطلب ہے کہ منظم طریقے سے پیچھے ہٹ کر اپنے ہی کسی دوسرے بڑے فوجی دستے یا مرکزی لشکر کے ساتھ جاملنا تاکہ کمک حاصل کی جا سکے اور طاقت مجتمع ہو کر دوبارہ بھرپور مقابلہ کیا جا سکے۔
جوابان دو شرعی اور عسکری مجبوریوں یا تدبیروں کے علاوہ اگر کوئی سپاہی محض اپنی جان بچانے کے لیے بزدلانہ انداز میں پیٹھ پھیر کر بھاگے، تو وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے اور اللہ کے غضب کا مستحق بنتا ہے۔
آیت میں تقوی اختیار کرنے کے کیا فوائد بیان ہوئے ہیں؟
ترجمہ
اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے (تقویٰ اختیار کرو گے) تو وہ تمہاری حق اور باطل میں تمیز کرنے کے لیے ایک کسوٹی (نور/راستہ) بنا دے گا، اور تمہاری برائیوں کو تم سے دور کر دے گا، اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
تقویٰ اختیار کرنے کے فوائد
1حق و باطل میں تمیز (فرقان) — اللہ تعالیٰ دل میں ایسی بصیرت اور روشنی پیدا کرتا ہے جس سے انسان درست اور غلط یا سچ اور جھوٹ کے درمیان آسانی سے فرق کر لیتا ہے۔
2برائیوں کا خاتمہ (تكفير السيئات) — تقویٰ کی برکت سے انسان کے پچھلے چھوٹے گناہ اور خطائیں مٹا دی جاتی ہیں اور ڈھانپ لی جاتی ہیں
3مغفرتِ الٰہی — اللہ تعالی بندے کے بڑے قصور اور گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
4عظیم فضل — تقویٰ کا نیتجہ آخر کار اللہ کی رحمت اور اس کے بڑے فضل کی صورت میں ملتا ہے۔
آیت کے مطابق کفار مکہ کے خلاف ہجرت سے قبل کیا سازشیں کر رہے تھے؟
ترجمہ
اور (اے محبوب!) وہ وقت یاد کرو جب کافر تمہارے خلاف سازشیں کر رہے تھے کہ تمہیں قید کر لیں یا تمہیں شہید کر دیں یا تمہیں (مکہ سے) نکال دیں۔ اور وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرما رہا تھا، اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر فرمانے والا ہے۔
ہجرتِ مدینہ سے قبل جب دارالندوہ میں سردارانِ قریش نے جمع ہو کر مشورہ کیا تھا، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف درج ذیل تین آخری منصوبے بنائے تھے
ہجرت سے قبل کفارِ مکہ کی سازشیں
1قید و بند (لِيُثْبِتُوكَ) — آپ ﷺ کو رسیوں یا بیڑیوں میں باندھ کر گھر میں قید کر دیا جائے تاکہ آپ لوگوں سے مل نہ سکیں۔
2معزول و جلاوطن کرنا (أَوْ يُخْرِجُوكَ) — آپ ﷺ کو شہر سے باہر نکال دیا جائے تاکہ مکہ آپ کے اثر و رسوخ سے پاک ہو جائے۔
3معلّق قتل (أَوْ يَقْتُلُوكَ) — معذرت کے ساتھ، مختلف قبائل کے نوجوانوں کو اکٹھا کر کے ایک ساتھ حملہ کر کے شہید کر دیا جائے تاکہ خون کا بدلہ کسی ایک قبیلے پر نہ آئے۔
آیت میں مسلمانوں کو کفار سے کب تک قتال کا حکم دیا گیا ہے؟
ترجمہ
اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ (شرک) نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ ہی کے لیے ہو جائے، پھر اگر وہ باز آ جائیں تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو خوب دیکھ رہا ہے
قتال کی مدت اور احکام
1آخری حد — قتال کا یہ حکم تب تک جاری رکھنے کا فرمایا گیا جب تک زمین پر کفر و شرک کا غلبہ اور زور ختم نہ ہو جائے۔
2دین کا غلبہ — مقصد یہ ہے کہ کلمہ حق بلند ہو اور اسلام کا بول بالا ہو جائے۔
3کفار کا رک جانا — اگر کافر جنگ اور شرک سے باز آ جائیں اور مخالفت چھوڑ دیں تو ان کے خلاف قتال بند کر دیا جائے گا، کیونکہ اللہ ان کے اعمال کا نگران ہے۔
ترجمہ: جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے مومن ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں اور مغفرت ہے اور عزت والا رزق ہے۔
مفہوم و تشریح
1نماز قائم کرنا — اس کا مطلب صرف نماز پڑھنا نہیں بلکہ اسے اس کے پورے آداب، وقت اور خشوع کے ساتھ ہمیشہ ادا کرنا ہے۔
2راہِ خدا میں خرچ کرنا — اللہ کی دی ہوئی روزی (مال، علم یا طاقت) میں سے فرض زکوٰۃ اور نفل صدقات کے ذریعے غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا۔
3سچے ایمان کا انعام — جو لوگ ان اوصاف کو اپناتے ہیں، اللہ تعالی انہیں دنیا اور آخرت میں بلند مقام، گناہوں کی بخشش اور جنت کی صورت میں بہترین رزق عطا کرتا ہے
جب آپ کا رب فرشتوں کو وحی بھیج رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو۔ میں عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا، پس تم (ان کی) گردنوں کے اوپر وار کرو اور ان کے تمام پورور (ہاتھ پیر کی انگلیاں) کاٹ ڈالو۔
1اللہ کی معیت اور تسلی — اللہ تعالی نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ میدانِ جنگ میں مسلمانوں کو حوصلہ دیں اور ان کے قدم ڈگمگانے نہ دیں۔
2کافروں پر ہیبت — اللہ نے خود کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا خوف اور رعب طاری کر دیا جس سے وہ کمزور پڑ گئے۔
3جنگ کا حکم — فرشتوں اور مسلمانوں کو ظالم دشمن کے خلاف بھرپور طاقت سے لڑنے اور سروں نیز ہاتھوں کی انگلیوں پر وار کرنے کی ہدایت کی گئی۔
پس تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا، اور (اے محمد ﷺ) جب آپ نے پھینکا تو آپ نے نہیں پھینکا تھا بلکہ اللہ نے پھینکا تھا، اور تاکہ وہ مومنانِ باصفا کو اپنی طرف سے اچھا انعام (یا آزمائش کا موقع) عطا فرمائے، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے۔
مفہوم و تشریح
1فتح نصرت الہی سے ہے — جنگ بدر میں مسلمانوں کی ظاہری تعداد کم اور وسائل کمزور تھے، لیکن دشمن پر جو فتح حاصل ہوئی وہ مسلمانوں کی طاقت کا کمال نہیں بلکہ اللہ کی غیبی مدد تھی۔
2واقعہ رمي (کنکریاں پھینکنا) — غزوہ بدر کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے کافروں کی آنکھوں میں مٹی اور کنکریوں کی مٹھی ڈالی تھی۔ ظاہری فعل آپ کا تھا، مگر اس مٹی کو ہزاروں دشمنوں کی آنکھوں تک پہنچانا اور ان کے لشکر میں بھگدڑ مچا دینا اللہ کا فعل اور اس کی خاص قدرت تھی۔
3اصل حقیقت — انسان کا کام ظاہری کوشش کرنا ہے، لیکن اس کوشش میں کامیابی، اثر اور تاثیر صرف اللہ کے حکم سے پیدا ہوتی ہے۔
سرگرمیاں
11سرگرمیاں
مال غنیمت کی تعریف اور اس کی تقسیم کے احکامات
سورۃ الانفال کی پہلی آیت میں مالِ غنیمت (انفال) کی ابتدائی ملکیت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے قرار دی گئی، جبکہ اس کی تفصیلی تقسیم کا حتمی قانون اسی سورت کی آیت نمبر 41 میں نازل ہوا۔
مالِ غنیمت کی تعریف اور تقسیم کے احکامات (آیت 41 کی روشنی میں)
1مالِ غنیمت کی تعریف — اصطلاحِ شریعت — وہ مال جو مسلمان مجاہدین کفار کے ساتھ باقاعدہ جنگ اور غلبہ کے بعد حاصل کریں، اسے مالِ غنیمت کہتے ہیں۔
2مالِ غنیمت کی تعریف — امتِ محمدیہ کی خصوصیت — مالِ غنیمت کا حلال ہونا صرف اس امتِ مسلمہ کا اعزاز ہے، جبکہ پچھلی تمام امتوں کے لیے یہ حرام تھا۔
3مالِ غنیمت کی تعریف — لفظِ انفال — سنفل" کی جمع ہے، جس کے معنی زائد چیز کے ہیں۔ جہاد کا اصل مقصد رضائے الٰہی اور ثواب ہے، لہذا غنیمت کا مال اللہ کی طرف سے ایک اضافی انعام یا فضل ہے۔
4تقسیم کے احکامات (آیت 41 کی روشنی میں) — خمس (پانچواں حصہ - 20 فیصد) — کل مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ نکالا جاتا ہے، جو اللہ، رسول ﷺ، قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مختص ہوتا ہے۔
5تقسیم کے احکامات (آیت 41 کی روشنی میں) — باقی چار حصے (80 فیصد) — بقیہ چار حصے ان مجاہدین میں تقسیم کیے جاتے ہیں جو میدانِ جنگ میں شریک ہوتے ہیں۔
6تقسیم کے احکامات (آیت 41 کی روشنی میں) — باہمی نظم و ضبط — پہلی آیت میں مسلمانوں کو یہ درس دیا گیا کہ مال کی تقسیم پر اختلاف کرنے کے بجائے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں، آپس کے تعلقات درست رکھیں اور اللہ و رسول کی اطاعت کریں۔
12سرگرمیاں
غزوہ بدر کے پس منظر اور اس میں پیش آنے والے واقعات اور ان کے اسباق
غزوہ بدر حق و باطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ تھا جو رمضان 2 ہجری (13 مارچ 624ء) کو مقامِ بدر پر پیش آیا۔ اس جنگ کا بنیادی سبب قریش کا تجارتی قافلہ، اہم واقعات میں صف آرائی اور فرشتوں کی مدد، جبکہ اسباق میں توکل اور اتحاد شامل ہیں۔
1پس منظر — ہجرتِ مدینہ — کفارِ مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر مسلمانوں نے مدینہ ہجرت کی جہاں اسلامی ریاست قائم ہوئی۔
2پس منظر — تجارتی دباؤ — قریش مکہ کا معاشی انحصار شام کے تجارتی راستوں پر تھا جو مدینہ کے قریب سے گزرتے تھے۔
3پس منظر — قافلے کی طلبی — مسلمانوں نے اس اقتصادی شہ رگ کو دباؤ میں لانے کا فیصلہ کیا۔ ابوسفیان کا شام سے آتا ہوا مالدار قافلہ اس جھڑپ کا سبب بنا، جس پر ابوجہل لشکر لے کر مکہ سے نکل آیا۔
4اہم واقعات — میدان میں آمد — مسلمان تعداد میں 313 تھے جن کے پاس پختہ سازوسامان نہیں تھا، جبکہ قریش کا لشکر ایک ہزار کے قریب جنگجوؤں پر مشتمل تھا اور مال و دولت سے لیس تھا۔
5اہم واقعات — بارش اور اطمینان — اللہ تعالی نے رات کو بارش برسائی جس سے مسلمانوں کے لیے زمین سخت اور چلنا آسان ہو گیا جبکہ کافروں کی ریتلی زمین کیچڑ بن گئی۔
6اہم واقعات — معرکہ اور فتح — جنگ کا آغاز مبین اور تنہا لڑائیوں (مبارزت) سے ہوا۔ مسلمانوں نے صبر و استقامت دکھائی، ابو جہل سمیت قریش کے بڑے سردار مارے گئے، اور 70 کافر قیدی بنے۔
7اسباق — نصرتِ الٰہی پر بھروسہ — ظاہری قلت اور بے سروسامانی کے باوجود اللہ کی مدد پر یقین کامیابی دلاتا ہے۔
8اسباق — امیر کی اطاعت اور نظم و ضبط — حکم عدولی سے بچنے اور اجتماعی فیصلوں پر عمل کا درس ملتا ہے۔
9اسباق — حق و باطل کا امتیاز — اسے قرآن میں "یوم الفرقان" کہا گیا ہے جو سچائی اور جھوٹ کو ہمیشہ کے لیے الگ کر دیتا ہے۔
13سرگرمیاں
جھاد فی سبیل اللہ کا مفہوم اس کا تصور اور اس کے تقاضے لکھیں
جہاد فی سبیل اللہ کا مفہوم اللہ کی رضا کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں، مال اور جان قربان کرنا ہے، جس کا بنیادی تصور حق کی بلندی اور باطل کا مٹانا ہے، اور اس کے اہم تقاضوں میں اخلاص نیت، صبر و استقامت اور جان و مال کی قربانی شامل ہیں۔
اہم تقاضے
1جہاد کے لغوی معنی "کوشش اور جدوجہد" کے ہیں، اور شریعت میں اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے کی جانے والی بھرپور جدوجہد جہاد کہلاتی ہے۔
2تصور — اس کا مقصد ظلم کا خاتمہ، امن کا قیام اور اللہ کے کلمہ کو سب سے بلند کرنا ہے۔ یہ محض جنگ نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں حق کا ساتھ دینا ہے۔
3اخلاص نیت — عمل صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، دکھاوا یا نام و نمود شامل نہ ہو۔
4جان و مال کی قربانی — ضرورت پڑنے پر اپنی جان اور حلال کمائیے گئے مال کو اللہ کی راہ میں پیش کرنا۔
5صبر و استقامت — راستے کی مشکلات، تکالیف اور مصائب کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور ہم نہ ہارنا۔
6اطاعت امیر — اسلامی اصولوں کے مطابق اجتماعی نظم اور قیادت کی مکمل پیروی کرنا۔
14سرگرمیاں
غزوہ بدر کے موقع پر اللہ نے مسلمانوں کی مدد کن کن طریقوںسے فرمائی؟
غزوہ بدر کے موقع پر اللہ تعالی نے مسلمانوں کی مدد بنیادی طور پر سکونِ قلب، بارش اور فرشتوں کے نزول کے ذریعے فرمائی۔
غیبی مدد اور اسباب
1نیند اور اطمینان — مسلمانوں پر طاری ہونے والی گھبراہٹ کو دور کرنے کے لیے اللہ نے ان پر غودود (ہلکی نیند اور طمانیت) طاری کر دی تاکہ دل کو سکون ملے۔
2بارش کی رحمت — ایک ایسی بارش نازل کی جس سے مسلمانوں کے لیے زمین بیٹھ گئی اور پاؤں مضبوط ہو گئے، جبکہ مشرکین کی طرف ریت کی زمین پر کیچڑ بن گئی جس سے ان کے قدم رک گئے۔
3فرشتوں کا نزول — اللہ تعالی نے پہلے ایک ہزار پھر تین ہزار اور بعد میں پانچ ہزار نشان زدہ فرشتوں کو مسلمانوں کی مدد اور انہیں ثابت قدم رکھنے کے لیے نازل فرمایا۔
4دشمن کے دلوں میں رعب — اللہ نے کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا شدید رعب اور خوف ڈال دیا جس سے وہ پست ہمت ہو گئے۔
5نظروں میں کمی بیشی — میدانِ جنگ میں مسلمانوں کو کافروں کی تعداد کم دکھائی گئی تاکہ حوصلہ رہے اور کافروں کو مسلمان زیادہ نظر آئے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔