عنقریب ہم کافروں کے دلوں میں رعب (اور دہشت) ڈال دیں گے، اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی، اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور ظالموں کا ٹھکانہ بہت ہی برا ہے۔
وضاحت اور تنبیہ
1کافروں کا انجام — اس آیت میں کفار کو خبردار کیا گیا ہے کہ ان کے شرک کی وجہ سے اللہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کا خوف ڈال دے گا اور آخرکار ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
2اہل ایمان کے لیے پیغام — اس آیت میں اہل ایمان کے لیے براہِ راست کوئی تنبیہ یا خطرہ نہیں ہے، بلکہ غزوہ احد کے پس منظر میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ ظالموں اور کافروں کا نفسیاتی طور پر حشر خراب ہوگا اور فتح و نصرت بالآخر اہل ایمان کا مقدر بنے گی۔
آیت میں موت سے فرار اختیار کرنے والوں کے حوالے سے کیا حقیقت واضح کی گئی ہے؟
ترجمہ
آپ کہہ دیجیے کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تب بھی جن لوگوں کا قتل ہونا مقدر تھا وہ اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل کر آجاتے۔
وضاحت وحقیقت
1تقدیر الہی — موت کا وقت اور جگہ پہلے سے طے ہے، میدانِ جنگ یا گھر کا بستر اسے ٹال نہیں سکتا۔
2منافقین کا رد — جہاد سے بھاگنے والے یا گھر بیٹھ کر یہ کہنے والے کہ “اگر وہ ہماری بات مانتے تو نہ مارے جاتے”، غلط فمی کا شکار ہیں۔ قرآن نے چیلنج کیا کہ اگر تم سچے ہو تو اپنے آپ سے موت کو ہٹا کر دکھاؤ
آیت کی رو سے دشمن پر غالب ہونے کے لیے کس چیز کو ضروری قرار دیا گیا ہے؟
ترجمہ
“اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ (توکل) کرنا چاہیے۔
جوابسورہ آل عمران کی آیت 160 کی رو سے دشمن پر غالب آنے اور کامیابی کے لیے اللہ تعالی کی مدد (نصرت) اور صرف اللہ پر بھروسہ و توکل کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
“(یہ) وہ لوگ ہیں جنہوں نے خود تو بیٹھے رہے اور اپنے بھائیوں (جو جنگ میں گئے تھے) سے کہا: اگر وہ ہمارا کہنا مانتے تو مارے نہ جاتے۔ آپ فرما دیجیے: تو تم اپنے آپ سے موت کو ہٹا کر دکھاؤ اگر تم سچے ہو!
جوابسورہ آل عمران میں منافقین کا طرز عمل یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ خود جہاد اور مشکل مواقع سے کتراتے، بیٹھ رہتے اور جب مومنین پر کوئی مصیبت یا جانی نقصان آتا تو وہ طعنے دیتے، مایوسی پھیلانے کی کوشش کرتے اور کہتے کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ ہوتے۔
اور ان کی بات اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ انھوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کام میں ہماری زیادتی کو بھی، اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور کافر لوگوں پر ہماری مدد فرما۔
مفہوم
جواباس آیت مبارکہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب اہل ایمان پر سخت حالات یا آزمائشیں آتی ہیں تو وہ گھبرانے یا ناشکری کرنے کے بجائے اللہ کے حضور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ اپنی کمزوریوں اور گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، میدانِ جنگ یا مشکلات میں پائے استوار رکھنے کی التجا کرتے ہیں اور باطل کے مقابلے میں فتح و نصرت کے لیے صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں۔
آیت میں انبیاء اور اللہ والوں کی کیا شان بیان ہوئی ہے ؟
ترجمہ
اور کتنے ہی نبی گزرے ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں (ربانیوں) نے جنگ کی، تو اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر آئیں، نہ تو انہوں نے ہمت ہاری، نہ کمزوری دکھائی اور نہ ہی (باطل کے آگے) سرنگوں ہوئے، اور اللہ صابروں سے محبت کرتا ہے.
آیت میں انبیاء اور اللہ والوں (ربِّیُّون) کی بیان کردہ شان
1راہِ خدا میں جہاد و قتال — انبیاء اور ان کے مخلص ساتھیوں نے دین کی سربلندی اور حق کے دفاع کے لیے باطل کے خلاف عملی جنگ لڑی اور میدانِ عمل میں پیچھے نہیں ہٹے۔
2ثابت قدمی اور عزمِ صمیم — اللہ کی راہ میں سخت ترین مصائب، زخم اور آزمائشیں آنے کے باوجود ان کے پائے استقامت میں ذرا لغزش نہیں آئی اور وہ پست ہمت نہیں ہوئے۔
3کمزوری سے بَری پن — جسمانی یا معاشی تکالیف کی وجہ سے انہوں نے کبھی بزدلی یا کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا۔
4عزتِ نفس اور بے نیازی — دشمنانِ دین کے سامنے انہوں نے کبھی عاجزی، شکست اور محکومی قبول نہیں کی اور نہ ہی ظالموں کے آگے گھٹنے ٹیکے۔
5محبوبِ الٰہی کا رتبہ — ان تمام کٹھن حالات میں صبر کا دامن تھامنے کی وجہ سے وہ اللہ کی خاص محبت اور رضا کے حقدار ٹھہرے۔
اور کسی نبی کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے، اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن وہ چیز لے کر آئے گا جو اس نے خیانت میں لی تھی، پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ذرا ظلم نہیں کیا جائے گا
مختصر مفہوم
1نبوت کی پاکیزگی — اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام امانت دار ہوتے ہیں اور مالِ غنیمت یا احکامِ الہیٰ میں کسی قسم کی خیانت کا ان سے صادر ہونا ناممکن ہے۔
2خیانت کا انجام — جو شخص بھی مال یا حق میں خیانت کرے گا، قیامت کے دن وہ اس مال کو اٹھائے ہوئے عدالتِ الہیٰ میں پیش ہوگا۔
3مکمل انصاف — قیامت کے روز ہر انسان کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ ملے گا، کسی کی حق تلفی یا زیادتی نہیں ہوگی۔
آیت میں نبی کی کس شان کو نمایاں کیا گیا ہے اور آپﷺ کو کیا ہدایت دی گئی ہے؟
ترجمہ
پس اللہ کی بڑی رحمت کی وجہ سے آپ ان کے لیے نرم طبع ہیں، اور اگر آپ تندخُو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے بھٹک کر بھاگ جاتے۔ پس آپ ان سے درگزر کریں، ان کے لیے بخشش مانگیں اور اہم کاموں میں ان سے مشورہ کیا کریں۔ پھر جب آپ کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کریں، بے شک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
نبی کریم ﷺ کی شانِ مبارک اور دی گئی ہدایات
1نبی کریم ﷺ کی شانِ مبارک — رحمت و نرمی — اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے اخلاقِ حسنہ اور نرم مزاجی کو امت کے لیے بڑی رحمت قرار دیا۔
2نبی کریم ﷺ کی شانِ مبارک — کامل شفقت — سخت مزاج یا درشت نہ ہونا، جو کہ عوام کے دل جیتنے کا سبب بنا۔
3دی گئی ہدایات — معافی اور استغفار — لوگوں کی غلطیوں کو معاف کرنا اور ان کے حق میں اللہ سے بخشش کی دعا کرنا۔
4دی گئی ہدایات — مشاورت (شورٰی) — اہم جنگی اور انتظامی امور میں صحابہ کرامؓ سے رائے لینا تاکہ باہمی اتحاد قائم رہے۔
5دی گئی ہدایات — توکل علی اللہ — معاملات میں مشاورت کے بعد پختہ ارادہ کر کے صرف اللہ پر بھروسہ کرنا۔
اس (نعمت) پر خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ہے، اور ان لوگوں کے بارے میں خوشیاں منا رہے ہیں جو ابھی تک ان سے نہیں ملے (یعنی ان کے پیچھے دنیا میں ہیں) کہ انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
مفہوم و تشریح
1اللہ کا فضل — شہداء کو جو شہادت کا رتبہ اور جنت کی نعمتیں ملی ہیں، وہ ان پر بہت خوش ہیں۔
2پیچھے رہ جانے والے بھائی — وہ مجاہدین جو ابھی دنیا میں زندہ ہیں یا جہاد میں مصروف ہیں، شہداء ان کا انجامِ خیر دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ وہ بھی جب آئیں گے تو بے خوف و خطر ہوں گے۔
بیشک اللہ نے مسلمانوں پر بہت بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول ﷺ بھیجا جو ان پر اللہ کی آیتیں پڑھتا ہے، ان کا پاکیزہ تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، اور اس سے پہلے تو وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔
اس آیت میں آپ ﷺ کی درج ذیل اہم صفات اور خدمات ذکر کی گئی ہیں:
رسول کریم ﷺ کی صفاتِ مبارکہ
1من أنفسهم (بشر اور اپنی ہی جنس سے ہونا) — آپ ﷺ کا انسان اور انہی میں سے ہونا، تاکہ لوگ آسانی سے بات سمجھ سکیں اور انسیت محسوس ہو۔
2يتلو عليهم آياته (تلاوتِ قرآن) — اللہ تعالیٰ کے احکام اور آیات لوگوں کو پڑھ کر سنانا۔
3يزكيهم (تزکیہ و طہارت) — لوگوں کے دلوں کو شرک، برائیوں اور اخلاقی گندگی سے پاک کرنا اور سنوارنا۔
4يعلمهم الكتاب والحكمة (تعلیمِ کتاب و حکمت) — قرآن پاک کی تعلیم اور حکمت (سنت و دانائی) کی سمجھ عطا کرنا۔
سرگرمیاں
14سرگرمیاں
نبی ﷺ کی نرم دلی اور رحمت کا کوئی واقعہ لکھیں
نبی کریم ﷺ کی رحمت و نرم دلی کا ایک مشہور واقعہ طائف کا سفر ہے، جہاں آپ ﷺ پر پتھراؤ کیا گیا، لیکن آپ ﷺ نے پہاڑوں کے فرشتے کی طرف سے طائف والوں کو ہلاک کرنے کی پیشکش کو ٹھکرا دیا اور ان کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی۔
طائف کا واقعہ
1ظلم اور تکلیف — جب آپ ﷺ طائف کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے گئے، تو انہوں نے آپ ﷺ کا مذاق اڑایا، گالیاں دیں اور بازار کے اوباش بچوں کو پتھر برسانے پر لگا دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے مبارک قدم لہولہان ہو گئے۔
2فرشتے کی پیشکش — اللہ تعالی نے پہاڑوں کے فرشتے کو آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں طائف کے دونوں پہاڑ ان بستی والوں پر الٹ دوں۔
3رحمت کا جواب — آپ ﷺ نے فرمایا: “نہیں! بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ان کی پشتوں سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گی۔”
15سرگرمیاں
امانت داری سے کیا مراد ہے نیز امانت داری کی جہتیں مثالوں سے لکھیں
امانت داری سے مراد کسی کی دی گئی چیز، راز، یا ذمہ داری کو پوری دیانت اور حفاظت کے ساتھ واپس کرنا یا نبھانا ہے، اور اس کی اہم جہتیں حقوق اللہ کی امانت، حقوق العباد کی امانت، اور اخلاقی و عملی امانت ہیں۔
امانت داری کی جہتیں اور مثالیں
1حقوق اللہ کی امانت (عبادات) — اللہ تعالی کے احکام اور فرائض (جیسے نماز، روزہ) کو پورا کرنا۔ مثال: تنہائی میں بھی گناہوں سے بچنا کیونکہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔
2حقوق العباد کی امانت (مال و متاع اور لین دین) — لوگوں کی دی ہوئی امانتی چیزیں، رقم، یا زیورات بغیر کسی خیانت کے حفاظت سے رکھنا اور مانگنے پر واپس کرنا۔ مثال: نبی کریم ﷺ کا قریشِ مکہ کے پاس “صادق و امین” کے لقب سے لوگوں کی امانتیں رکھنا، جسے آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کے ذریعے واپس کیا۔
3ذمہ داری اور عہد کی امانت (عہد و پیماں) — کسی نوکری، عہدے، یا بات کو پورا کرنے کا وعدہ نبھانا۔ مثال: کسی دفتر میں کام کرتے وقت وقت کی پابندی کرنا اور کام میں غفلت نہ برتنا۔
4راز کی امانت — کسی کی کہی ہوئی بات یا راز کودوسروں تک نہ پہنچانا۔ مثال: دوست کی کہی ہوئی پوشیدہ بات کو کسی تیسرے شخص کو نہ بتانا۔
16سرگرمیاں
اسلام میں مشورے کی اہمیت و افادیت نیز یہ بھی بتائیں کہ اس حوالے سے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟
اسلام میں مشورے (شوریٰ) کی اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ یہ قرآن و سنت کا حکم اور بہترین فیصلوں کا ذریعہ ہے۔ مشورے کے اہم آداب میں اہلِ رائے اور تجربہ کار شخص کا انتخاب، اخلاصِ نیت اور فیصلے کے بعد اللہ پر بھروسہ کرنا شامل ہیں۔
اہمیت و افادیت اور مشورہ کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟
1اہمیت و افادیت — قرآنی حکم — اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی صفت بیان کی ہے کہ ان کے تمام کام آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں۔
2اہمیت و افادیت — نبوی طریقہ — رسول اللہ ﷺ تمام اہم امور بالخصوص جنگی اور معاشرتی معاملات میں صحابہ کرام سے مشورہ فرماتے تھے۔
3اہمیت و افادیت — غلطیوں سے بچاؤ — مشورہ کرنے سے عقلیں ملتی ہیں، جس سے انسان کی اپنی رائے کی کمزوریاں دور ہو جاتی ہیں اور درست فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
4اہمیت و افادیت — برکت اور کامیابی — اجتماعی سوچ اور صلاح سے کام کرنے میں اللہ کی مدد اور برکت شامل ہوتی ہے۔
5مشورہ کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟ — اہلِ علم و تقویٰ کا انتخاب — مشورہ ہمیشہ ایسے شخص سے کریں جو دیندار، سمجھ دار، تجربہ کار اور امانت دار ہو۔
6مشورہ کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟ — خلوصِ نیت — مشورہ دینے والے اور لینے والے دونوں کی نیت صرف بھلائی اور حق تک پہنچنا ہونی چاہیے، نہ کہ اپنی بات منوانا یا کسی کو نیچا دکھانا۔
7مشورہ کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟ — آزادانہ رائے کا احترام — مشورہ دینے والے کو بغیر کسی خوف کے اپنی سچی اور بہتر رائے دینی چاہیے۔
8مشورہ کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟ — استخارہ اور توکل — باہمی مشورے کے بعد اللہ سے رہنمائی (استخارہ) کریں اور جو حتمی فیصلہ کریں، اس پر اللہ پر بھروسہ کر کے عمل شروع کر دیں۔
17سرگرمیاں
توکل کا معنی و مفہوم نیز اس حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ
توکل کا معنی اللہ پر بھروسہ کرنا ہے، اور اس کے بنیادی مفہوم میں اسباب کو اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑنا، دل کا سکون اور قضا پر راضی رہنا شامل ہیں۔
توکل کا معنی و مفہوم اور غلط فہمیوں کا ازالہ
1توکل کا معنی و مفہوم — لغوی معنی — کسی دوسرے پر کام سونپنا اور اس پر اعتماد کرنا۔
2توکل کا معنی و مفہوم — اصطلاحی معنی — ظاہری اسباب اپنانے کے بعد دل سے اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ رکھنا۔
3توکل کا معنی و مفہوم — حقیقت — ہاتھ سے محنت ترک کرنا نہیں، بلکہ عمل کے باوجود دل کا تعلق صرف مسبب الاسباب (اللہ) سے جوڑنا ہے۔
4غلط فہمیوں کا ازالہ — عمل چھوڑنا نہیں — توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کام دھندا یا علاج چھوڑ کر بیٹھ جائے۔ نبی کریم ﷺ نے اونٹ باندھنے کا حکم دے کر توکل کا عملی درس دیا۔
5غلط فہمیوں کا ازالہ — اسباب کی نفی نہیں — کوشش کرنا اور تدبیر کرنا توکل کے منافی نہیں ہے، بلکہ شریعت میں اسباب کو اپنانا بھی حکم الٰہی کا حصہ ہے۔
6غلط فہمیوں کا ازالہ — بے بسی کا نام نہیں — توکل کمزوری یا مجبوری کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک قوی ایمانی طاقت ہے جو انسان کو مایوسی سے بچاتی ہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔