گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 12: سبق 12: سورۃ آل عمران (آیات 102 تا 143) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ

آیت میں ایمان والوں کو کیا حکم دیا گیا ہے؟

ترجمہ

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو صرف اسلام (مسلمان ہونے) کی حالت میں۔

آیت میں دی گئی ہدایات

1 حقِ تقویٰ کی ادائیگی — اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس طرح کرنا کہ اس کی نافرمانی نہ ہو، اس کے احکام کی تعمیل کرنا اور اس کے عذاب سے بچنے کی بھرپور کوشش کرنا۔
2 اسلام پر استقامت — پوری زندگی شریعت پر عمل پیرا رہنا تاکہ موت جب بھی آئے، انسان کا دامن اسلام اور فرمانبرداری سے وابستہ ہو۔
2 مختصر جوابات

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

آیت میں اہل ایمان کو کن لوگوں کا طرز عمل اپنانے سے منع کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔

اہم ممانعت اور وضاحت

1 گروہ بندی سے بچنا — مسلمانوں کو آپس میں پھوٹ ڈالنے اور گروہوں میں بٹ جانے سے سختی سے روکا گیا ہے۔
2 واضح احکام کے بعد اختلاف — دین کی روشن باتیں اور واضح دلائل معلوم ہو جانے کے بعد جان بوجھ کر اختلاف کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
3 پہلی امتوں کی مشابہت — اس آیت میں ان لوگوں (اہل کتاب) کا طریقہ اپنانے سے خبردار کیا گیا جنہوں نے اللہ کے احکام کو چھوڑ کر آپس میں اختلاف کیا۔
3 مختصر جوابات

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ ۚ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ

آیت میں بہترین امت کی کیا خوبیاں بیان کی گئی ہیں ؟

ترجمہ

(اے مسلمانو!) تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت اور اصلاح) کے لیے ظاہر کی گئی ہو، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا، ان میں کچھ مُمِن بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت نافرمانوں کی ہے۔

اس مبارک آیت میں امتِ مسلمہ کے بہترین ہونے کا معیار اور ان کی تین اہم ترین صفات بیان کی گئی ہیں:

بہترین امت کی خوبیاں (تشریح و وضاحت)

1 امر بالمعروف (نیکی کا حکم دینا) — اس امت کا کام صرف خود اچھے کام کرنا نہیں ہے، بلکہ معاشرے میں نیکی، عدل، اور بھلائی کو پھیلانا اور فروغ دینا ہے۔
2 نہی عن المنکر (برائی سے روکنا) — معاشرے کو گناہوں، ظلم، اور برائیوں سے پاک کرنے کے لیے برائی کے خلاف عملی و اخلاقی رکاوٹ بننا اس کا فریضہ ہے۔
3 ایمان باللہ (اللہ پر کامل یقین) — یہ تمام اصلاحی اور فلاحی کام خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس پر کامل ایمان کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، جو اس امت کی روح ہے۔
4 مختصر جوابات

لَیْسُوا سَوَآءً ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآىٕمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ

آیت میں بعض اہل کتاب کی کن صفات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

وہ سب برابر نہیں ہیں۔ اہل کتاب میں سے ایک جماعت (حق پر) قائم ہے، جو رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور وہ سجدے کرتے ہیں۔

آیت میں مذکور بعض اہل کتاب کی صفات

1 دینِ حق پر استقامت — وہ سب کے سب سرکش یا برے نہیں ہیں، بلکہ ان میں ایک جماعت ایسی ہے جو سچے دین اور حق پر مضبوطی سے قائم ہے۔
2 راتوں کی عبادت اور تلاوت — وہ رات کی گھڑیوں اور مختلف حصوں میں بیدار رہ کر اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔
3 خشوع و خضوع اور سجدہ ریزی — وہ رات کے اوقات میں اللہ کے حضور جھکتے ہیں اور کثرت سے سجدے کرتے ہیں۔
4 اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان — وہ اللہ اور قیامت کے دن پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔
5 امر بالمعروف و نہی عن المنکر — وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔
6 نیکیوں میں سبقت — وہ اچھے کاموں میں جلدی اور ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
7 صالحین میں شمولیت — یہ لوگ اللہ کے نزدیک صالح اور نیک بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔
5 مختصر جوابات

ھاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَہُمْ وَلَا یُحِبُّوْنَکُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بِالْکِتٰبِ کُلِّہٖ وَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوْآ اٰمَنَّا وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ قُل مُوْتُوا بِغَیظِکُم اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

آیت میں کفار کا کیا طرز وعمل بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

(سنو!) تم ایسے لوگ ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لاتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو تم پر غصے کی وجہ سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں۔ کہہ دو کہ: تم اپنے اسی غصے میں مر جاؤ، بے شک اللہ سینوں کے اندر کی پوشیدہ باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔

آیت میں کفار (و منافقین) کا طرزِ عمل

1 یکطرفہ محبت اور عدمِ دلچسپی — مسلمان تو سادہ لوحی اور حسنِ ظن کی وجہ سے ان سے اچھے تعلقات اور محبت رکھنا چاہتے ہیں، لیکن وہ مسلمانوں کے ساتھ ذرا برابر بھی محبت یا خیرخواہی نہیں رکھتے۔
2 جامع ایمان بمقابلہ انکار — مسلمان تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتے ہیں، جبکہ وہ حق سے گریزاں رہتے ہیں۔
3 منافقانہ رویہ (سامنے کچھ، پیٹھ پیچھے کچھ) — جب وہ مسلمانوں سے ملتے ہیں تو زبان سے اپنے ایمان کا جھوٹا اقرار کرتے ہیں، لیکن جب وہ تنہائی میں اپنے ساتھیوں کے پاس جاتے ہیں تو مسلمانوں کے خلاف اندرونی جلن اور شدید غصے کی وجہ سے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چباتے (اور کترتے) ہیں
6 مختصر جوابات

الَّذِینَ یُنفقُونَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الکٰظِمِینَ الغَیظَ وَ العَافِینَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ المُحسِنِینَ

آیت میں پرہیز گاروں کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں ؟

ترجمہ

“یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔”

پرہیزگاروں (متقین) کی صفات

1 ہر حال میں انفاق — مال کی فراوانی ہو یا تنگ دستی، وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے
2 غصے پر قابو — غصہ آنے کے باوجود وہ اپنے جذبات کو دبا لیتے ہیں اور غصہ پی جاتے ہیں۔
3 معاف کرنا — وہ لوگوں کی خطاؤں اور زیادتیوں کو درگزر کرتے ہیں اور بدلہ لینے کی بجائے معاف کر دیتے ہیں۔
4 حسنِ سلوک — وہ نیکوکار اور محسن بن کر رہتے ہیں، اور اللہ ایسے احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
7 مختصر جوابات

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

آیت میں اہل ایمان کو کیا ہدایت دی گئی ہے؟

ترجمہ

اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ، اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔

اہل ایمان کے لیے ہدایات

1 ہمت نہ ہارنا (ولا تهنوا) — میدانِ جنگ یا مصائب میں کمزوری اور بزدلی نہ دکھانے کا حکم
2 غم نہ کرنا (ولا تحزنوا) — ماضی کے نقصانات یا ناکامیوں پر دل برداشتہ نہ ہونے کی تلقین۔
3 غلبہ و سربلندی (وأنتم الأعلون) — یہ بشارت کہ حقیقی ایمانی طاقت کے ساتھ تم ہی سر بلند رہو گے۔
4 شروطِ ایمان (إن كنتم مؤمنِينَ) — غلبے کی یہ شرط کہ مومن اپنے ایمانی تقاضوں پر قائم رہیں۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور جن لوگوں کے چہرے سفید (روشن) ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

مفہوم و تشریح

1 روشن چہرے — قیامت کے دن یہ ان نیک مومنوں کی علامت ہوگی جنہوں نے دنیا میں سچا ایمان اپنایا اور اللہ کے احکام مانے۔
2 اللہ کی رحمت — اس سے مراد جنت ہے جہاں انہیں اللہ کا قرب اور سکون ملے گا۔
3 دائمی سکون — یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور کبھی وہاں سے نکالے نہیں جائیں گے۔
9 تفصیلی جوابات

يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

آیت میں سیاہ چہروں والوں کا کیا جرم اور انجام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

جس دن بعض چہرے سفید (روشن) ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے، تو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے (ان سے کہا جائے گا:) کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا تھا؟ پس اپنے کفر کی پاداش میں عذاب چکھو۔

جرم اور انجام کی تفصیل

1 جرم — ایمان کے بعد کفر کرنا (یعنی یا تو دینِ حق کو قبول کرنے کے بعد اسے ترک کر دینا یا احکامِ الہی سے پھر جانا)۔
2 انجام — قیامت کے دن شدید ذلت و رسوائی کے باعث چہروں کا سیاہ ہو جانا اور بطورِ سزا جہنم کے عذاب میں داخل کیا جانا۔
10 تفصیلی جوابات

مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ وَمَا ظَلَمُهُمُ اللَّهُ وَلَكِنْ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اس دنیا کی زندگی میں جو کچھ یہ لوگ خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا جیسی ہے جس میں سخت پالے (اور سردی) کی مار ہو، وہ کسی ایسی قوم کی کھیتی پر جا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا ہو تو اس نے اس کھیتی کو تباہ کر ڈالا اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

مفہوم اور تشریح

1 بے کار اعمال — بغیر ایمان کے کافر لوگ دنیا میں جو مال خیرات یا اچھے کاموں پر خرچ کرتے ہیں، اس کا آخرت میں کوئی ثواب نہیں ملتا۔
2 تباہ کن مثال — ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے تیز ٹھنڈی اور پالے والی ہوا ظالموں کی ہری بھری کھیتی کو جلا کر راکھ کر دے۔
3 خدا کا انصاف — اللہ کسی پر ناانصافی نہیں کرتا، بلکہ انسان خود کفر اور گناہ کر کے اپنے اعمال کا پھل ضائع کرتے ہیں۔
11 تفصیلی جوابات

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن تُغنِيَ عَنهُم أَموَٰلُهُم وَلَآ أَولَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَئا وَأُوْلَٰٓئِكَ أَصحبُ ٱلنَّارِ هُم فِيهَا خَٰلِدُونَ

آیت میں کفار کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے بچانے میں ان کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گے، اور یہی لوگ دوزخی ہیں، وہ اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

کفار کے حوالے سے اہم باتیں

1 بے بسی — دنیا کی دولت اور طاقتور اولاد اللہ کی پکڑ اور عذاب کو ٹال نہیں سکتی۔
2 انجام — مال و دولت کا فخر کرنے والے کافر آخر کار جہنم کے حق دار ٹھہریں گے۔
3 دائمی عذاب — وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ ہی میں رہیں گے۔
12 تفصیلی جوابات

مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ وَمَا ظَلَمُهُمُ اللَّهُ وَلَكِنْ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اس دنیا کی زندگی میں جو کچھ یہ لوگ خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا جیسی ہے جس میں سخت پالے (اور سردی) کی مار ہو، وہ کسی ایسی قوم کی کھیتی پر جا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا ہو تو اس نے اس کھیتی کو تباہ کر ڈالا اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

مفہوم اور تشریح

1 بے کار اعمال — بغیر ایمان کے کافر لوگ دنیا میں جو مال خیرات یا اچھے کاموں پر خرچ کرتے ہیں، اس کا آخرت میں کوئی ثواب نہیں ملتا۔
2 تباہ کن مثال — ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے تیز ٹھنڈی اور پالے والی ہوا ظالموں کی ہری بھری کھیتی کو جلا کر راکھ کر دے۔
3 خدا کا انصاف — اللہ کسی پر ناانصافی نہیں کرتا، بلکہ انسان خود کفر اور گناہ کر کے اپنے اعمال کا پھل ضائع کرتے ہیں۔
13 تفصیلی جوابات

يٰاَيُّهَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تَاکُلُوا الرِّبٰوا اَضعَافًا مُّضٰعَفَۃً وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُم تُفلِحُونَ ۔ وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتی اُعِدَّت ِلکٰفِرِینَ

آیت میں اہل ایمان کو کیا احکامات دیے گئے ہیں ؟

ترجمہ

اے ایمان والو! دُگنا دَر دُگنا سود نہ کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

اہل ایمان کو دیے گئے احکامات

1 سود کی ممانعت — سود کھانے اور اسے بڑھا چڑھا کر وصول کرنے (جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا) سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
2 اللہ کا تقویٰ اور ڈر — اللہ کی نافرمانی سے بچنے اور اس کا خوف دل میں رکھنے کا حکم ہے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی ملے۔
3 جہنم کی آگ سے بچنا — مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ایسے کاموں سے دور رہیں جو انہیں کافروں والے انجام اور جہنم کے عذاب تک پہنچا سکتے ہیں۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

ایک حدیث لکھیں جس میں تقوی کا معنی و مفہوم ہو؟

1 قال عَنْ أَبِي ذر جندب بن جنادة، وأبي عبد الرحمن معاذ بن جبل رضي الله عنهما، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ۔» (جواب:)
2 حضرت ابو ذر اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو، اور برائی کے بعد نیکی کرو جو اسے مٹا دے، اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ۔
15 سرگرمیاں

امت مسلمہ کو متحد کرنے کے حوالے سے نکات لکھیں

امت مسلمہ کو متحد کرنے کے لیے بنیادی نکات یہ ہیں: مشترکہ اقدار کا فروغ، عدل و انصاف کا نفاذ اور باہمی تعاون۔

اتحاد کے عملی اقدامات

1 فکری ہم آہنگی — فرقہ وارانہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر بنیادی اسلامی عقائد پر اتفاق کرنا۔
2 معاشی تعاون — اسلامی ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانا اور مشترکہ منڈی یا کرنسی کا قیام۔
3 سیاسی رواداری — مسلم حکمرانوں کا باہمی تنازعات کو بات چیت اور صلح کے ذریعے حل کرنا۔
4 تعلیمی ترقی — جدید اور دینی علوم میں اشتراک اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا۔
5 میڈیا کا مثبت کردار — نفرت انگیز پروپیگنڈا روکنا اور امت میں یگانہ رنگ اجاگر کرنا۔
16 سرگرمیاں

مسلمانوں کو بہترین امت کیوں قرار دیا گیا اور اس حوالے سے ان کے کیا فرائض ہیں

امتِ مسلمہ کو بہترین امت (خیرِ امت) اس لیے قرار دیا گیا ہے کیونکہ اسے تمام انسانوں کی ہدایت اور فلاح کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اور اس کی بنیادی وجہ اللہ پر سچا ایمان، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ اس حوالے سے اس کے اہم فرائض درج ذیل ہیں:

بہترین امت قرار دینے کی وجہ اور امت مسلمہ کے اہم فرائض

1 بہترین امت قرار دینے کی وجہ — امر بالمعروف اور نہی عن المنکر — نیکی کا حکم دینے اور برائی سے سختی سے منع کرنے کا فریضہ سر انجام دینا۔
2 بہترین امت قرار دینے کی وجہ — کامل ایمان — اللہ تعالی کی ذات اور اس کے احکام پر مضبوط یقین رکھنا۔
3 بہترین امت قرار دینے کی وجہ — امتِ وسط (اعتدال) — زندگی کے ہر شعبے میں میانہ روی اور اعتدال کا راستہ اپنانا
4 امت مسلمہ کے اہم فرائض — تبلیغِ دین — اسلام کی سچی تعلیمات کو دنیا بھر کے انسانوں تک پہنچانا۔
5 امت مسلمہ کے اہم فرائض — معاشرتی اصلاح — معاشرے میں اچھے کاموں کو فروغ دینا اور برائیوں کا خاتمہ کرنا۔
6 امت مسلمہ کے اہم فرائض — عدل و انصاف کا قیام — دنیا میں عدل پر مبنی نظام قائم کرنے کے لیے عملی کردار ادا کرنا۔
7 امت مسلمہ کے اہم فرائض — اتحاد و یکجہتی — مسلمانوں کا آپس میں اتفاق اور بھائی چارے کے ساتھ جڑ کر رہنا
17 سرگرمیاں

غزوہ احد کے واقعات ، نتائج اور اسباق لکھیں

غزوہ احد کے اہم واقعات میں مسلمانوں کی ابتدائی کامیابی، تیر اندازوں کی غلطی اور جوابی حملہ شامل ہیں؛ جبکہ اس کے نتائج میں مسلمانوں کا جانی نقصان اور اسباق میں اطاعتِ رسول کی اہمیت شامل ہیں۔

1 اہم واقعات — آغاز اور پوزیشن — تین ہجری میں ہونے والے اس غزوہ میں نبی کریم ﷺ نے کوہِ احد کے درّے پر 50 تیر انداز تعینات کیے اور انہیں سخت حکم دیا کہ ہرگز اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔
2 اہم واقعات — ابتدائی فتح — جنگ کے شروع میں مسلمانوں نے دشمن کو پیچھے ہٹا دیا اور کفار میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔
3 اہم واقعات — تیر اندازوں کی غلطی — مالِ غنیمت دیکھ کر زیادہ تر تیر اندازوں نے حکم عدولی کی اور درّہ چھوڑ کر نیچے آ گئے۔
4 اہم واقعات — خالد بن ولید کا حملہ — اس وقت خالد بن ولید (جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے) نے درّے کے پیچھے سے حملہ کر کے مسلمانوں کو گھیر لیا۔
5 اہم واقعات — نبی ﷺ کو نقصان — اس اچانک حملے سے مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، کئی صحابہ شہید ہوئے اور نبی کریم ﷺ زخمی ہوئے۔
6 اہم نتائج — جانی نقصان — اس جنگ میں تقریبا 70 مسلمان شہید ہوئے جن میں حضرت حمزہؓ بھی شامل تھے۔
7 اہم نتائج — فوجی توازن — جنگ کا نتیجہ کسی کی واضح فتح پر ختم نہیں ہوا، کفار مسلمانوں کو مکمل ختم کرنے میں ناکام رہے لیکن مسلمانوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
8 اہم اسباق — اطاعتِ رسول — نبی کریم ﷺ کے احکامات کی مخالفت اور حکم عدولی کا انجام ہمیشہ شکست اور نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔
9 اہم اسباق — صبر اور استقامت — مصیبت اور آزمائش کے وقت مسلمانوں کو صبر کرنا چاہیے اور ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔
10 اہم اسباق — دنیا کی محبت سے پرہیز — مالِ دنیا کی طمع انسان کو نقصان سے دوچار کر دیتی ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.