سیدنا ابراہیم علیہ السلام اللہ کے جلیل القدر پیغمبر اور 'خلیل اللہ' تھے۔ آپ کی زندگی کے اہم ترین واقعات میں بت شکنی، نمرود کی آگ کا معجزہ، اور بیٹے کی عظیم قربانی کا واقعہ شامل ہیں۔
1
دعوتِ توحید اور بت شکنی — بتوں سے بیزاری — آپ نے عراق کے شہر بابل میں آنکھ کھولی جہاں لوگ بت پرستی کرتے تھے۔ آپ نے والد اور قوم کو توحید کی دعوت دی۔
2
دعوتِ توحید اور بت شکنی — بتوں کو توڑنا — آپ نے قوم کے میلے کے دن ان کے بڑے بت کے علاوہ باقی تمام بت توڑ دیے اور تبر اس بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا۔
3
دعوتِ توحید اور بت شکنی — قوم کا غصہ — جب قوم نے یہ دیکھا تو آپ سے جواب طلب کیا، جس پر آپ نے فرمایا کہ بڑے بت سے پوچھ لو۔
4
نمرود کا مناظرہ اور آگ کا معجزہ — نمرود سے بحث — خدائی کا دعویٰ کرنے والے ظالم بادشاہ نمرود نے آپ سے مناظرہ کیا اور لاجواب ہو گیا۔
5
نمرود کا مناظرہ اور آگ کا معجزہ — آگل میں ڈالا جانا — غصے میں آ کر نمرود اور اس کی قوم نے آپ کو جلانے کا فیصلہ کیا اور ایک بہت بڑی آگ جلائی۔
6
نمرود کا مناظرہ اور آگ کا معجزہ — آگ کا گلزار بننا — اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے، اور آپ بالکل صحیح سلامت باہر آئے۔
7
ہجرت اور خاندان کی آبادکاری — فلسطین کی طرف ہجرت — قوم کی مخالفت کے بعد آپ عراق سے ہجرت کر کے فلسطین تشریف لے گئے۔
8
ہجرت اور خاندان کی آبادکاری — مکّہ میں حضرت ہاجرہ اور اسماعیلؑ کی آمد — اللہ کے حکم سے آپ نے اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ اور شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑا۔
9
ہجرت اور خاندان کی آبادکاری — زمزم کا ظاہر ہونا — پانی کی تلاش میں حضرت ہاجرہ کی دوڑ (سعی) کے بعد اللہ نے زمزم کا چشمہ جاری کیا۔
10
خواب اور عظیم قربانی — خواب دیکھنا — آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں۔
11
خواب اور عظیم قربانی — تسلیم و رضا — باپ بیٹے دونوں نے اللہ کے حکم کے آگے سر جھکا دیا۔ جب آپ نے قربانی دینے کی کوشش کی تو اللہ نے مینڈھا بھیج دیا اور حضرت اسماعیلؑ کی جان بچ گئی۔
12
خانہ کعبہ کی تعمیر — بیت اللہ کی بنیاد — آپ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی دیواروں کو بلند کیا۔
13
خانہ کعبہ کی تعمیر — دعائیں — تعمیر کے بعد آپ نے اس شہر کو امن کا گہوارہ بنانے اور وہاں ایک آخری نبی کی بعثت کی دعا فرمائی۔