گیارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 11: سبق 11: سورۃ آل عمران (آیات 64 تا 101) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 19 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

مَا كَانَ اِبْرَاهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًاۖ وَّمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (67).

آیت میں ابراہیمؑ کی کن صفات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی، بلکہ وہ (ہر باطل سے) کٹ کر ایک اللہ کے ہو رہے تھے، فرمانبردار تھے، اور مشرکوں میں سے نہیں تھے۔

حضرت ابراہیمؑ کی صفات

1 حنیف — تمام باطل دین چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی طرف مائل اور یکسو رہنے والے۔
2 مسلم — اللہ تعالیٰ کے احکامات کے آگے مکمل سر جھکانے اور اطاعت کرنے والے۔
3 مشرک نہ ہونا — اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانے والے اور شرک سے بالکل پاک
2 مختصر جوابات

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرَاهِيْمَ لَلذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ وَهٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاللّٰهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِيْنَ

آیت کی رو سے کون لوگ سیدنا ابراہیمؑ کے زیادہ قریب ہیں ؟

ترجمہ

بے شک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ قریب یقیناً وہی لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے، اور اللہ ہی ایمان والوں کا دوست ہے۔

سیدنا ابراہیمؑ کے قریب ترین لوگ

1 پیروی کرنے والے — وہ لوگ جو سیدنا ابراہیمؑ کے اپنے دور میں ان کے دین پر چلے اور ان کی تابعداری کی۔
2 یہ نبی (ﷺ) — آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو سیدنا ابراہیمؑ کے حقیقی منہج اور دین پر کاربند تھے۔
3 صاحبانِ ایمان — وہ تمام مسلمان جو آپ ﷺ پر اور پچھلے تمام انبیاء پر سچا ایمان لائے۔
4 اصل رشتہ — قربت کا یہ رشتہ خونی یا نسلی نسبت (جیسے یہود و نصاریٰ کا دعویٰ تھا) کی بنیاد پر نہیں بلکہ دینِ حق کی عملی پیروی اور ایمان کی بنیاد پر ہے۔
3 مختصر جوابات

یٰاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

آیت کریمہ میں اہل کتاب کو مخاطب کر کے کیا فرمایا گیا؟

ترجمہ

اے اہل کتاب! تم کیوں حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرتے ہو اور کیوں حق کو چھپاتے ہو، حالانکہ تم (اس کی حقیقت سے) خوب آگاہ ہو؟

آیت کریمہ کی وضاحت اور احکامات

1 حق و باطل کو ملانا — اہل کتاب پر یہ اعتراض کیا گیا کہ وہ اپنی مذہبی کتابوں (تورات و انجیل) میں تحریف اور ردوبدل کر کے احکامِ الٰہی کو مشتبہ بناتے ہیں اور جھوٹ کو سچ کا رنگ دیتے ہیں۔
2 حق کو چھپانا — وہ حضرت محمد ﷺ کی نبوت اور قرآن کی حقانیت کے وہ دلائل جو ان کی اپنی کتب میں درج ہیں، انہیں عام لوگوں سے چھپاتے ہیں۔
3 جان بوجھ کر غفلت — ان کا یہ عمل نادانی یا جہالت کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ وہ خود دل سے جانتے اور پہچانتے تھے کہ آپ ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، لیکن دنیوی مفادات اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے حق کا انکار کرتے تھے۔
4 مختصر جوابات

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا بَعدَ إِيمَٰنِهِم ثُمَّ ٱزدَادُوا كُفرٗا لَّن تُقبَلَ تَوبَتُهُم وَأُولَٰٓئِكَ هُمُ ٱلضَّآلُّونَ

آیت کی رو سے ایمان سے پھر جانے والوں کے حوالے سے کیا خبر دی گئی ہے؟

ترجمہ

بے شک جو لوگ اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھ گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور یہی گمراہ لوگ ہیں۔

ایمان سے پھر جانے والوں کے حوالے سے خبر

1 توبہ کی قبولیت کا خاتمہ — مرتد ہو کر مرتے دم تک کفر پر اڑے رہنے والوں یا حالتِ نزع (موت کے وقت) توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔
2 گمراہی کا فیصلہ — ایسے لوگ صراطِ مستقیم سے بھٹکے ہوئے اور سراسر گمراہ قرار دیے گئے ہیں۔
3 اگلی آیت کا پس منظر — آیت (91) کے مطابق اگر ایسے لوگ مرتے وقت اپنے فدیے میں زمین بھر سونا بھی پیش کریں تو وہ بھی قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
5 مختصر جوابات

لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ

آیت کریمہ میں کامل نیکی تک پہنچے کے لیے کس چیز کو ضروری قرار دیا گیا ہے؟

ترجمہ

تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔

جواب اس آیت میں کامل نیکی (برّ اور بھلائی) تک پہنچنے کے لیے اللہ تعالی کی راہ میں اپنی محبوب اور عزیز ترین چیزوں کو خرچ کرنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے
6 مختصر جوابات

اِنَّ اَوَّلَ بَیتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلعٰلَمِینَ

آیت میں مکہ کی کن صفات کا ذکر کیا گیا ہے؟

ترجمہ

بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لیے بنایا گیا وہی ہے جو مکہ (بکہ) میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت ہے۔

آیت میں مکہ (بکہ) کی بیان کردہ صفات

1 اولین عبادت گاہ — یہ روئے زمین پر انسانوں کی عبادت و توحید کے لیے بنائی جانے والی سب سے پہلی عبادت گاہ ہے۔
2 برکت والا (مبارک) — یہ مقام دینی اور دنیاوی بے شمار برکتوں کا مرکز ہے جہاں کی عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
3 ہدایت کا سرچشمہ — یہ تمام دنیا اور کائنات کے انسانوں کے لیے حق اور ہدایت کا روشن نشان اور مرکز ہے۔
7 مختصر جوابات

وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ وَفِيكُم رَسُولُهُ وَمَن يَعْتَصِم بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ

آیت کی رو سے اللہ کے سہارے کو مضبوطی سے تھامنے والوں کو کیا حاصل ہوتا ہے؟

ترجمہ

اور تم کیسے کفر کرو گے حالاں کہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کے رسول موجود ہیں؟ اور جو شخص اللہ (کے دین اور اس کے حکم) کو مضبوطی سے تھام لے، تو اسے یقیناً سیدھے راستے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اللہ کے سہارے کو مضبوطی سے تھامنے کا انعام

1 سیدھا راستہ — انسان دنیا اور آخرت میں صراط مستقیم پر قائم رہتا ہے۔
2 ہدایت کامل — اللہ اسے گمراہی سے بچا کر اپنی رضا کا راستہ دکھا دیتا ہے۔
3 امن و سکون — دل کو دائمی اطمینان اور قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

هَا أَنْتُمْ هَٰؤُلَاءِ حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ َ

آیت کو ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

سن لو! تم وہی لوگ ہو جو ان باتوں میں بھی جھگڑتے رہے ہو جن کا تمہیں کچھ نہ کچھ علم تھا، مگر ان باتوں میں کیوں تکرار کرتے ہو جن کا تمہیں سرے سے کوئی علم ہی نہیں، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

مفہوم و تشریح

1 پہلے سے معلوم امور — اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اپنے دین اور کتابوں (تورات و انجیل) کی حد تک تو کچھ بحث کرتے تھے، جس کا انہیں کسی حد تک علم بھی تھا۔
2 لاعلمی میں جھگڑا — اب وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین اور ان کی حقیقت کے بارے میں ایسی باتیں لے کر بیٹھ گئے اور جھگڑنے لگے، جن کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے (کیونکہ حضرت ابراہیمؑ تورات اور نصرانیت کے وجود میں آنے سے بہت پہلے کے ہیں)۔
3 حقیقی علم — اصل حقیقت صرف اللہ کی ذات جانتی ہے، اور انسان اپنے محدود علم کی وجہ سے بہت سی باتوں سے بے خبر رہتا ہے۔
9 تفصیلی جوابات

قُلْ يٰاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْا وَّ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ

آیت میں اہل کتاب کو کیا دعوت دی گئی ہے؟

ترجمہ

“اے حبیب! تم فرما دو: اے اہلِ کتاب! ایسے کلمے کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر (مشترک) ہے؛ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے۔ پھر اگر وہ منہ پھیریں تو (مسلمانو!) تم کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو فرمانبردار (مسلمان) ہیں۔

اس آیتِ مبارکہ میں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کو مندرجہ ذیل تین بنیادی اور مشترکہ باتوں کی دعوت دی گئی ہے:

آ یت میں اہل کتاب کو دی جانے والی دعوت

1 خالص توحید — صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا اور اس کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرنا۔
2 نفیِ شرک — اللہ کی ذات، صفات یا احکام میں کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرانا۔
3 غیر اللہ کی ربوبیت کا انکار — انسانوں میں سے کسی کو یہ اختیار نہ دینا کہ وہ اللہ کے مقابلے میں خود مختار قانون ساز یا رب بن بیٹھے، یعنی حاکمیتِ مطلقہ صرف اللہ کی ہے۔
10 تفصیلی جوابات

وَقَالَتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ

آیت کو ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کہا کہ جو (کتاب) مسلمانوں پر نازل ہوئی ہے اس پر دن کے شروع (صبح) میں ایمان لے آیا کرو اور دن کے آخر (شام) میں اس کا انکار کر دیا کرو، تاکہ (شاید) وہ بھی (اسلام سے) پلٹ جائیں۔

مفہوم و تشریح

1 یہودیوں کی سازش — مدینہ کے کچھ یہودیوں نے آپس میں ایک مکروہ چال یہ طے کی کہ صبح کے وقت تو اسلام قبول کرنے کا ڈھونگ رچاؤ اور مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو جاؤ۔
2 انکار کا اعادہ — پھر شام کے وقت یہ کہہ کر اسلام سے پھر جاؤ کہ ہم نے اس دین میں خامیاں دیکھ لی ہیں یا یہ ہمارے معیار پر پورا نہیں اترا۔
3 مقصد — اس ڈرامے کا مقصد یہ تھا کہ نئے مسلمان یا کمزور ایمان والے لوگ یہ سوچیں کہ اگر یہ اہل کتاب (جو پچھلی کتابوں کے عالم ہیں) اتنی جلدی اسلام میں آ کر پھر گئے ہیں، تو ضرور اس دین میں کوئی نقص ہو گا، اور وہ بھی شک میں پڑ کر اسلام چھوڑ دیں۔
11 تفصیلی جوابات

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَأَيْمَٰنِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُ ٱلَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

آیت کے مطابق جو لوگ اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑے سے معاوضے کے بدلے بیچتے ہیں ان کی کیا سزا بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

“بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور اللہ تعالیٰ نہ تو قیامت کے دن ان سے بات چیت کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

آیت 77 کے مطابق، عہد شکنی کرنے والوں کے لیے درج ذیل سزائیں ہیں:

آیت کے مطابق سزائیں

1 آخرت سے محرومی — جنت اور رحمتِ الہی سے حصہ نہیں ملے گا۔
2 خدا کی ناراضگی — قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کرے گا اور نہ نظرِ کرم فرمائے گا۔
3 طہارت سے محرومی — انہیں گناہوں سے پاک نہیں کیا جائے گا۔
4 دردناک عذاب — ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
12 تفصیلی جوابات

فِیْهِ اٰیٰتٌ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًاؕ-وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاؕ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ

آیت کو ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

“اس میں کھلی نشانیاں ہیں (جیسے) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ (مقامِ ابراہیم)، اور جو اس میں داخل ہو گیا امن والا ہو گیا، اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو، اور جو انکار کرے تو بیشک اللہ تمام جہانوں سے بے پرواہ ہے۔”

مفہوم اور اہم نکات

1 کھلی نشانیاں اور مقامِ ابراہیم — بیت اللہ میں ہدایت اور عظمت کی واضح نشانیاں ہیں، جن میں ایک نمایاں نشانی 'مقامِ ابراہیم' ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کے وقت قیام کیا تھا۔
2 امن کا گہرا حرم — اس مقدس احاطے میں داخل ہونے والا ہر شخص (انسان ہو یا جانور) امن و امان پاتا ہے اور یہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جا سکتا۔
3 حج کی فرضیت — مالی اور جسمانی استطاعت (طاقت اور وسائل) رکھنے والے ہر مکلف مسلمان پر زندگی میں ایک بار بیت اللہ کا حج کرنا اللہ کا عائد کردہ فریضہ ہے۔
4 اللہ کی بے نیازی — جو شخص اس حکم کا انکار کرے یا حج فرض ہونے کے باوجود اسے اہمیت نہ دے، تو اس سے اللہ کا کچھ نہیں گھٹتا کیونکہ اللہ تمام کائنات اور مخلوق سے بے نیاز ہے۔
13 تفصیلی جوابات

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠

آیت میں کفر پر مرنے والوں کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے، سو ان کے کسی ایک سے زمین بھرنے کے برابر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا، خواہ وہ اسے فدیے میں دے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے درد ناک عذاب ہے اور ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔

کفر پر مرنے والوں کے حوالے سے وضاحت

1 فدیہ یا معاوضہ — اگر کوئی شخص حالتِ کفر میں مر جائے اور وہ قیامت کے دن عذاب سے بچنے کے لیے پوری زمین کے برابر بھی سونا بطور فدیہ پیش کرے، تو وہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
2 دردناک عذاب — ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں سخت اور دردناک عذاب مقرر ہے۔
3 کوئی مددگار نہیں — عذاب الٰہی سے بچانے والا ان کا کوئی بھی مددگار یا حامی نہیں ہوگا۔
4 ایمان پر خاتمہ کی اہمیت — اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ نجات کا دارومدار ایمان پر خاتمے پر ہے

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

سیدنا ابراہیم ؑ کی زندگی کے اہم واقعات لکھیں

سیدنا ابراہیم علیہ السلام اللہ کے جلیل القدر پیغمبر اور 'خلیل اللہ' تھے۔ آپ کی زندگی کے اہم ترین واقعات میں بت شکنی، نمرود کی آگ کا معجزہ، اور بیٹے کی عظیم قربانی کا واقعہ شامل ہیں۔

1 دعوتِ توحید اور بت شکنی — بتوں سے بیزاری — آپ نے عراق کے شہر بابل میں آنکھ کھولی جہاں لوگ بت پرستی کرتے تھے۔ آپ نے والد اور قوم کو توحید کی دعوت دی۔
2 دعوتِ توحید اور بت شکنی — بتوں کو توڑنا — آپ نے قوم کے میلے کے دن ان کے بڑے بت کے علاوہ باقی تمام بت توڑ دیے اور تبر اس بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا۔
3 دعوتِ توحید اور بت شکنی — قوم کا غصہ — جب قوم نے یہ دیکھا تو آپ سے جواب طلب کیا، جس پر آپ نے فرمایا کہ بڑے بت سے پوچھ لو۔
4 نمرود کا مناظرہ اور آگ کا معجزہ — نمرود سے بحث — خدائی کا دعویٰ کرنے والے ظالم بادشاہ نمرود نے آپ سے مناظرہ کیا اور لاجواب ہو گیا۔
5 نمرود کا مناظرہ اور آگ کا معجزہ — آگل میں ڈالا جانا — غصے میں آ کر نمرود اور اس کی قوم نے آپ کو جلانے کا فیصلہ کیا اور ایک بہت بڑی آگ جلائی۔
6 نمرود کا مناظرہ اور آگ کا معجزہ — آگ کا گلزار بننا — اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے، اور آپ بالکل صحیح سلامت باہر آئے۔
7 ہجرت اور خاندان کی آبادکاری — فلسطین کی طرف ہجرت — قوم کی مخالفت کے بعد آپ عراق سے ہجرت کر کے فلسطین تشریف لے گئے۔
8 ہجرت اور خاندان کی آبادکاری — مکّہ میں حضرت ہاجرہ اور اسماعیلؑ کی آمد — اللہ کے حکم سے آپ نے اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ اور شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑا۔
9 ہجرت اور خاندان کی آبادکاری — زمزم کا ظاہر ہونا — پانی کی تلاش میں حضرت ہاجرہ کی دوڑ (سعی) کے بعد اللہ نے زمزم کا چشمہ جاری کیا۔
10 خواب اور عظیم قربانی — خواب دیکھنا — آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں۔
11 خواب اور عظیم قربانی — تسلیم و رضا — باپ بیٹے دونوں نے اللہ کے حکم کے آگے سر جھکا دیا۔ جب آپ نے قربانی دینے کی کوشش کی تو اللہ نے مینڈھا بھیج دیا اور حضرت اسماعیلؑ کی جان بچ گئی۔
12 خانہ کعبہ کی تعمیر — بیت اللہ کی بنیاد — آپ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی دیواروں کو بلند کیا۔
13 خانہ کعبہ کی تعمیر — دعائیں — تعمیر کے بعد آپ نے اس شہر کو امن کا گہوارہ بنانے اور وہاں ایک آخری نبی کی بعثت کی دعا فرمائی۔
15 سرگرمیاں

کتمان حق" (حق کو چھپانا) اور "اظہار حق" کی ممکنہ صورتیں لکھیں

کتمان حق (حق کو چھپانا) اور اظہار حق (حق کو بیان کرنا) کی اہم صورتیں یہ ہیں: زبانی گواہی چھپانا یا دینا، تحریر یا دستاویزات میں سچ کو چھپانا یا ظاہر کرنا، اور عملی طور پر ساتھ دینا یا مخالفت کرنا۔

کتمان حق (حق کو چھپانا) کی صورتیں اور اظہار حق (حق کو بیان کرنا) کی صورتیں

1 کتمان حق (حق کو چھپانا) کی صورتیں — زبانی کتمان — عدالت یا گواہی کے وقت سچی بات زبان سے نہ کہنا یا خاموش رہنا۔
2 کتمان حق (حق کو چھپانا) کی صورتیں — تحریری کتمان — کسی دستاویز، سرٹیفکیٹ یا رپورٹ سے سچی حقیقت کو مٹا دینا یا درج نہ کرنا۔
3 کتمان حق (حق کو چھپانا) کی صورتیں — مالی یا عملی کتمان — کسی حق دار کا حق دبا لینا یا کسی ظالم کا ساتھ دے کر مظلوم کی حمایت ترک کر دینا
4 اظہار حق (حق کو بیان کرنا) کی صورتیں — زبانی اظہار — سچی گواہی دینا، برائی پر ٹوکنا اور حق بات کا برملا اعلان کرنا۔
5 اظہار حق (حق کو بیان کرنا) کی صورتیں — تحریری اظہار — سچی بات کو کاغذ پر لکھ کر یا میڈیا پر شائع کر کے لوگوں تک پہنچانا۔
6 اظہار حق (حق کو بیان کرنا) کی صورتیں — عملی اظہار — حق پر ڈٹ جانا، مظلوم کی مدد کرنا اور باطل کے سامنے عملی طور پر کھڑے ہو جانا۔
16 سرگرمیاں

بیت اللہ سے متعلق معلومات

بیت اللہ (خانہ کعبہ) سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے درمیان واقع مسلمانوں کا مقدس ترین مقام اور قبلہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، جس کی طرف رخ کرکے دنیا بھر کے مسلمان نماز ادا کرتے ہیں اور جہاں زندگی میں ایک بار حج فرض ہے۔

اہمیت اور حیثیت اور تعمیر اور تاریخ

1 اہمیت اور حیثیت — قبلہ — دنیا بھر کے مسلمانوں کی نماز کا رخ
2 اہمیت اور حیثیت — حج و عمرہ — عبادت، طواف اور مناسکِ حج کی ادائیگی کا مرکز۔
3 اہمیت اور حیثیت — تقدس — روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کا سب سے پہلا اور مرکزی گھر۔
4 تعمیر اور تاریخ — پہلی تعمیر — اسلامی روایات کے مطابق سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی بنیاد رکھی۔
5 تعمیر اور تاریخ — حضرت ابراہیمؑ — اس کی تجدید اور تعمیرِ نو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کی۔
6 تعمیر اور تاریخ — قریش کی تعمیر — رسول اللہ ﷺ کے اعلانِ نبوت سے 5 سال قبل قریش نے اسے دوبارہ بنایا۔ اس وقت فنڈز کی کمی کی وجہ سے ایک حصہ (حطیم) باہر چھوڑنا پڑا۔ اسی دوران حجرِ اسود کو نصب کرنے پر جھگڑا ہوا جسے آپ ﷺ نے کمالِ حکمت سے حل کیا۔
7 تعمیر اور تاریخ — بعد کی اسمبلیاں — اس کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، حجاج بن یوسف اور عثمانی ترک سلاطین کے دور میں بھی اس کی مضبوطی کے لیے تعمیرات ہوئیں
8 تعمیر اور تاریخ — ساخت — یہ ایک مکعب نما عمارت ہے جس پر غلافِ کعبہ چڑھایا جاتا ہے۔
17 سرگرمیاں

مشترکہ کلمات " کی وضاحت کرتے ہوئے بین المذاہب ہم آہنگی کے بارے میں لکھیں

“کلِمۃٍ سَوَاءٍ” (مشترکہ کلمات) سے مراد وہ بنیادی اور متفقہ اصول ہیں جو تمام آسمانی مذاہب اور انسانی معاشروں میں مشترک ہیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کا مقصد مختلف مذاہب کے درمیان نفرتیں مٹانا، باہمی احترام کو بڑھانا اور پرامن طریقے سے ایک ساتھ رہنا ہے۔

“کلِمۃٍ سَوَاءٍ” (مشترکہ کلمات) کی مفہوم و وضاحت اور بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت اور فروغ

1 “کلِمۃٍ سَوَاءٍ” (مشترکہ کلمات) کی مفہوم و وضاحت — قرآنی اصول — قرآن مجید میں ارشاد ہے۔اے اہل کتاب! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر (مشترک) ہے۔
2 “کلِمۃٍ سَوَاءٍ” (مشترکہ کلمات) کی مفہوم و وضاحت — متفقہ قدریں — اس سے مراد خدا کی وحدانیت، سچائی، عدل، امن، اخلاقی اقدار اور انسانیت کی فلاح جیسے مشترکہ نظریات ہیں۔
3 “کلِمۃٍ سَوَاءٍ” (مشترکہ کلمات) کی مفہوم و وضاحت — بنیادِ مکالمہ — یہ کلمات مختلف مذاہب کے مابین فاصلے کم کرنے اور گفت و شنید کا سب سے بہترین اور منصفانہ راستہ فراہم کرتے ہیں۔
4 بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت اور فروغ — امن و سکون — مشترکہ اقدار پر زور دینے سے معاشرے میں انتہا پسندی، تعصب اور مذہبی منافرت کا خاتمہ ہوتا ہے۔
5 بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت اور فروغ — عملی مثالیں — نبی کریم ﷺ نے میثاقِ مدینہ کے ذریعے مختلف مذاہب اور قبائل کے حقوق اور آزادی کا تحفظ کر کے عملیہً بہترین مذہبی رواداری کی مثال قائم کی۔
6 بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت اور فروغ — بقاء باہمی — تمام انسانیت کے حقوق اور احترام کو مقدم رکھ کر ہی ایک ترقی یافتہ اور پرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
18 سرگرمیاں

اسلام دین فطرت ہے ۔اسلام کی حقانیت ،اہمیت اور ہمہ گیریت کے بارے میں لکھیں

اسلام دین فطرت ہے کیونکہ یہ انسان کی طبعی ضروریات اور عقل کے عین مطابق ہے، اس کی حقانیت تمام الہامی اصولوں پر مبنی ہے، اور اس کی ہمہ گیریت تمام زمانوں اور مکانات کے لیے یکساں اور مکمل ضابطۂ حیات پیش کرتی ہے۔

1 دینِ فطرت — انسانی جبلت اور ضمیر سے مکمل ہم آہنگی
2 دینِ فطرت — توحید اور خدا شناسی کا فطری احساس
3 دینِ فطرت — زندگی گزارنے کے اعتدال پسند اور آسان اصول
4 اسلام کی حقانیت — عقلی دلائل اور براہین پر مبنی بنیادی عقائد
5 اسلام کی حقانیت — قاری کے دل و دماغ کو مطمئن کرنے والی تعلیمات
6 اسلام کی حقانیت — صداقت اور انصاف کا ہمیشہ ساتھ دینے کا حکم
7 اسلام کی ہمہ گیریت — کسی ایک نسل، علاقے یا دور تک محدود نہیں
8 اسلام کی ہمہ گیریت — تمام انسانوں کے لیے عالمگیر اور دائمی پیغام
9 اسلام کی ہمہ گیریت — زندگی کے ہر شعبے (معاشرت، سیاست، اخلاقیات) کی مکمل رہنمائی
19 سرگرمیاں

کامل نیکی کے حصول کے لیے اپنی پسندیدہ شے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عملی مثالیں لکھیں

کامل نیکی کے حصول کے لیے اپنی پسندیدہ شے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عملی مثالیں درج ذیل ہیں: حضرت ابو طلحہؓ کا باغ “بیبوحہ” صدقہ کرنا، حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا اپنے محبوب غلاموں کو آزاد کرنا، اور حضرت عثمان غنیؓ کا کنواں خرید کر عام مسلمانوں کے لیے وقف کرنا۔

اہم عملی مثالیں

1 حضرت ابو طلحہؓ کا باغ — انہوں نے اپنا سب سے قیمتی اور خوبصورت باغ “بیبوحہ” جو مسجدِ نبوی کے سامنے تھا، اللہ کی خوشنودی کے لیے مدینہ کے مساکین اور رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا۔
2 حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا عمل — جب بھی انہیں اپنی کوئی مالیت یا غلام بہت پسند آتا، وہ اسے اللہ کے راستے میں آزاد کر دیتے کیونکہ قرآن کا حکم ہے کہ تم کامل نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔
3 حضرت عثمان غنیؓ کا ایثار — مدینہ میں پانی کی تنگی کے وقت انہوں نے “رومہ” کا کنواں منہ مانگی قیمت پر خرید کر تمام مسلمانوں کے لیے وقف کیا، جو ان کے محبوب مال کو راہِ خدا میں دینے کی بڑی مثال ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.