دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 9: سبق 9: سورہ الرعد — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی سوالات، سرگرمی اور مزید سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَفِي ٱلۡأَرۡضِ قِطَعٞ مُّتَجَٰوِرَٰتٞ وَجَنَّـٰتٞ مِّنۡ أَعۡنَٰبٖ وَزَرۡعٞ وَنَخِيلٞ صِنۡوَانٞ وَغَيۡرُ صِنۡوَانٖ يُسۡقَىٰ بِمَآءٖ وَٰحِدٖ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلَىٰ بَعۡضٖ فِي ٱلۡأُكُلِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ (سورۃ الرعد ۔ آیت 4)

آیت میں کن انعامات کا تذکرہ ہے

ترجمہ

اور زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو ایک دوسرے کے پاس پاس ہیں، اور انگوروں کے باغ ہیں، اور کھیتی ہے، اور کھجور کے درخت ہیں، کچھ ایک ہی جڑ سے اگے ہوئے اور کچھ الگ الگ جڑوں والے۔ وہ سب ایک ہی پانی سے سینچے جاتے ہیں، اور ہم ذائقے میں بعض کو بعض پر فضیلت دیتے ہیں۔ یقیناً اس میں عقل رکھنے والے لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں

اس مبارک آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر اپنی چند مخصوص نعمتوں اور قدرت کے انعامات کا ذکر فرمایا ہے:

آیت میں ذکر کردہ انعامات اور نشانیاں

1 زمین کی تنوع (مختلف ٹکڑے۔زمین کے ٹکڑے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہونے کے باوجود اپنی مٹی کی خصوصیات، رنگ اور زرخیزی میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جو بہترین کاشتکاری میں مدد دیتے ہیں۔
2 انگوروں کے باغ۔انسانوں کے لیے لذیذ اور غذائیت سے بھرپور پھل (انگور) کے باغات کا انعام ہے
3 کھیتیاں اور اناج۔مختلف اقسام کی فصلیں اور اناج (جیسے گندم، چاول وغیرہ) جو انسانی زندگی کی بقا کے لیے بنیادی خوراک ہیں۔
4 کھجور کے درخت۔کھجور کے ایسے درخت جو کبھی ایک ہی جڑ سے دو دو تین تین شکل میں نکلتے ہیں (صنوان) اور کبھی اکیلے اکیلے اگتے ہیں (غیر صنوان)۔
5 ایک پانی، مختلف ذائقے۔یہ اللہ کی سب سے بڑی نشانی اور انعام ہے کہ زمین بھی ایک ہے اور پانی بھی ایک ہی ملتا ہے، لیکن ہر پھل، سبزی اور اناج کا رنگ، خوشبو اور ذائقہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور لاجواب ہوتا ہے۔
2 مختصر جوابات

لَهُۥ مُعَقِّبَٰتٞ مِّنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهِۦ يَحۡفَظُونَهُۥ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمۡۗ وَإِذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوۡمٖ سُوٓءٗا فَلَا مَرَدَّ لَهُۥۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍ (سورۃ الرعد ۔ آیت 11)

آیت کریمہ کی رو سے اقوام کے حوالے سے اللہ کی کیا سنت رہی ہے؟آیت 11

ترجمہ

بیشک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ خود اپنی حالت (اور دلوں کے احوال) کو بدل ڈالیں۔ اور جب اللہ کسی قوم کو سزا دینے کا ارادہ کر لیتا ہے تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، اور نہ ہی اللہ کے سوا ان کا کوئی کارساز ہوتا ہے

آیت کی رو سے اقوام کے عروج و زوال اور تبدیلی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون اور سنت یہ ہے: [1]

اقوام کے حوالے سے سنتِ الٰہی

1 تبدیلیِ نعمت کا اصول: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو امن، خوشحالی یا حکومت کی نعمت دیتا ہے، تو وہ اس نعمت کو تب تک عذاب یا زوال سے نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنے اچھے اعمال کو برے اعمال، نافرمانی اور سرکشی سے تبدیل نہ کر دے۔
2 بداعمالی کا نتیجہ: قوم کی حالت میں حقیقی اور پائیدار مثبت یا منفی تبدیلی ہمیشہ ان کے اپنے داخلی فیصلوں، نیتوں اور اخلاق پر منحصر ہوتی ہے۔
3 مختصر جوابات

قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُ أَمۡ هَلۡ تَسۡتَوِي ٱلظُّلُمَٰتُ وَٱلنُّورُۗ (سورۃ الرعد ۔ آیت 16)

آیت میں کن چیزوں کا موازنہ کیا گیا ہے؟

ترجمہ

فرمائیے: کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہو سکتے ہیں؟ یا کہیں اندھیریاں اور روشنی برابر ہو سکتی ہیں؟

اس آیت میں حق اور باطل کو واضح کرنے کے لیے درج ذیل چیزوں کا براہِ راست موازنہ (Comparison) کیا گیا ہے:

آیت میں کیے گئے موازنے

1 اندھا اور دیکھنے والا (البصير والأعمى): یعنی بصیرت سے محروم مشرک/کافر اور حق کو دیکھنے والے موحد (مومن) کا موازنہ۔
2 اندھیرے اور روشنی (الظلمات والنور): جہالت، کفر و شرک کے اندھیروں کا توحید اور ایمان کی ہدایت والی روشنی سے موازنہ۔
3 خالق اور عاجز بت: کائنات کے سچے خالق (اللہ) کا ان معبودوں سے موازنہ جو اپنے نفع نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔
4 مختصر جوابات

فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذۡهَبُ جُفَآءٗۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمۡكُثُ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ (سورۃ الرعد ۔ آیت 17)

آیت میں حق اور باطل کو مثال کے ذریعے کیسے سمجھایا گیا ہے؟

ترجمہ

سو جو جھاگ ہے وہ تو اڑ کر ناکارہ ہو جاتا ہے، اور جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی چیز ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے فرق کو سمجھانے کے لیے دو خوبصورت مثالیں دی ہیں:

حق اور باطل کی وضاحت (مثالوں کے ذریعے)

1 پانی اور جھاگ کی مثال — آسمان سے برسنے والا پانی "حق" اور "ہدایت" کی مانند ہے جو زندگی بخشتا ہے۔ جب یہ پانی ندی نالوں میں بہتا ہے تو اس کے اوپر کوڑا کرکٹ اور جھاگ (باطل) ابھر آتا ہے۔ یہ جھاگ دیکھنے میں بہت زیادہ لگتا ہے اور پانی کو چھپا لیتا ہے، لیکن یہ عارضی ہوتا ہے اور جلد ہی اڑ کر ختم ہو جاتا ہے، جبکہ نفع بخش پانی زمین میں باقی رہتا ہے۔
2 پگھلی ہوئی دھات اور میل کچیل کی مثال — جب سونے، چاندی یا لوہے کو آگ میں پگھلایا جاتا ہے تو اس کے اوپر بھی ایک جھاگ یا میل آ جاتا ہے۔ یہ میل (باطل) عارضی ہوتا ہے جسے نکھارنے کے عمل میں الگ کر کے پھینک دیا جاتا ہے، جبکہ اصل قیمتی دھات (حق) باقی رہ جاتی ہے جس سے زیورات اور اوزار بنتے ہیں۔
جواب حاصل کلام: باطل چونکہ بے بنیاد ہوتا ہے، اس لیے وہ جھاگ کی طرح اچھلتا کودتا اور نمایاں نظر آتا ہے، لیکن بالاخر وہ مٹ جاتا ہے۔ اس کے برعکس حق خاموشی سے زمین میں بیٹھ جاتا ہے اور انسانوں کو فائدہ پہنچاتا رہتا ہے۔
5 مختصر جوابات

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦٓۗ إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرٞۖ وَلِكُلِّ قَوۡمٍ هَادٍ (سورۃ الرعد ۔ آیت 7)

آیت میں کافروں کے کس اعتراذکر ہے؟

ترجمہ

اور کافر کہتے ہیں کہ ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی (من مانی) نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ (اے نبی!) آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں، اور ہر قوم کے لیے ایک راہ دکھانے والا ہوا ہے

اس آیت میں کافروں کے اس اعتراض کا ذکر ہے کہ وہ اپنی مرضی کے حسی معجزات (نشانیوں) کا مطالبہ کرتے تھے۔

کافروں کا اعتراض

1 ان کا اعتراض یہ تھا کہ محمد ﷺ پر کوئی ایسی نشانی کیوں نہیں اتری جیسی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا تھا؟ وہ مطالبہ کرتے تھے کہ مکہ کے پہاڑ سونے کے بن جائیں یا ان کے سامنے کوئی فرشتہ آ جائے۔
2 اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ معجزات دکھانا نبی کا کام نہیں بلکہ اللہ کا اختیار ہے۔ نبی کا اصل منصب اور ذمہ داری لوگوں کو برے انجام سے ڈرانا (انذار) اور سیدھی راہ دکھانا ہے۔

تفصیلی سوالات

6 تفصیلی سوالات

وَهُوَ ٱلَّذِي مَدَّ ٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۡهَٰرٗاۖ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ جَعَلَ فِيهَا زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ (سورۃ الرعد ۔ آیت 3)

آیت میں ذکر کردہ اللہ کی قدرتیں بیان کریں

ترجمہ

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں لنگر (پہاڑ) اور ندیاں بنائیں، اور اس نے ہر طرح کے پھلوں میں دو دو قسم کے جوڑے بنائے، وہ رات سے دن کو چھپا لیتا ہے۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں غور و فکر کرنے والوں کے لیے

آیت میں ذکر کردہ اللہ کی قدرتیں

1 زمین کا پھیلانا: اللہ تعالیٰ نے زمین کو طول و عرض میں بچھایا تاکہ مخلوقات اس پر آسانی سے رہ سکیں۔
2 مضبوط پہاڑ بنانا: زمین کو ہلاکت اور توازن بگڑنے سے بچانے کے لیے اس پر بھاری پہاڑ قائم کیے۔
3 نہریں اور دریا جاری کرنا: انسانوں، جانوروں اور کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے میٹھے پانی کے چشمے اور دریا بہائے۔
4 پھلوں کے جوڑے (جنس) بنانا: ہر قسم کے نباتات اور پھلوں میں نر اور مادہ (جوڑے) پیدا کیے تاکہ ان کی نسل چلتی رہے۔
5 دن اور رات کا نظام: رات کے اندھیرے سے دن کے اجالے کو ڈھانپ دینا، جس سے وقت اور موسموں کا نظام چلتا ہے۔
7 تفصیلی سوالات

سورہ الراعد کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں

جواب ص 64 کتاب پر جواب موجود ہے
8 تفصیلی سوالات

ٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ ٱلۡأَرۡحَامُ وَمَا تَزۡدَادُۚ وَكُلُّ شَيۡءٍ عِندَهُۥ بِمِقۡدَارٍ (سورۃ الرعد ۔ آیت 8)

ترجمہ اور مفہوم تحریر کریں

ترجمہ

اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ہر مادہ اپنے پیٹ میں اٹھاتی ہے اور جو کچھ رحم کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں، اور ہر چیز اس کے ہاں ایک مقرر اندازے سے ہے

مفہوم

جواب اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے علمِ محیط (ہر چیز کو گھیرنے والے علم) کا بیان ہے۔ اللہ نہ صرف یہ جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچہ لڑکا ہے یا لڑکی، بلکہ وہ اس کی بناوٹ، رنگ، اور تخلیق کے ہر مرحلے سے واقف ہے۔ "رحم کے گھٹنے بڑھنے" سے مراد حمل کے دنوں کی کمی بیشی (مثلاً نو مہینے سے پہلے یا بعد میں پیدائش) یا پیٹ میں بچوں کی تعداد ہے۔ کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا وقت، رزق اور زندگی اللہ کے ہاں پہلے سے طے شدہ ضابطے کے مطابق ہے۔
9 تفصیلی سوالات

سورہ الرعدکے چند بنیادی مضامین تحریر کریں

جواب کتاب ص 64 جواب موجود ہے
10 تفصیلی سوالات

لَهُۥ مُعَقِّبَٰتٞ مِّنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهِۦ يَحۡفَظُونَهُۥ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمۡۗ وَإِذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوۡمٖ سُوٓءٗا فَلَا مَرَدَّ لَهُۥۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍ (سورۃ الرعد ۔ آیت 11)

ترجمہ اور مفہوم تحریر کریں

ترجمہ

اس (انسان) کے لیے آگے اور پیچھے باری باری آنے والے پہرے دار (فرشتے) ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے اوصاف کو نہ بدل ڈالیں۔ اور جب اللہ کسی قوم کو برائی (عذاب) کا ارادہ کر لے تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، اور اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں

اس آیت کے دو اہم پہلو ہیں:

مفہوم

1 حفاظت کا نظام: اللہ نے ہر انسان کی حفاظت کے لیے نگران فرشتے مقرر کیے ہیں جو حادثات سے اس وقت تک بچاتے ہیں جب تک اللہ کا حتمی حکم (قضا) نہ آ جائے۔
2 عروج و زوال کا الٰہی قانون: اللہ تعالیٰ کا یہ اٹل قانون ہے کہ وہ کسی قوم کو دی گئی نعمتیں، عزت اور عافیت اس وقت تک پستی میں نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود نافرمانی اور گناہوں کے ذریعے اپنے اندرونی حالات اور نیت کو خراب نہ کر لے۔
11 تفصیلی سوالات

لَهُۥ دَعۡوَةُ ٱلۡحَقِّۚ وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسۡتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيۡءٍ إِلَّا كَبَٰسِطِ كَفَّيۡهِ إِلَى ٱلۡمَآءِ لِيَبۡلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٰلِغِهِۦۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ (سورۃ الرعد ۔ آیت 14)

ترجمہ کریں اور بتائیں دوسروں کو معبود سمجھ کر پکارنے والوں کی کیا مثال بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

اسی کو پکارنا برحق ہے، اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں، وہ ان کی پکار کا کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے کھڑا ہو تاکہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں، اور کافروں کی جتنی پکار ہے وہ سب گمراہی ہے

اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں اور غیر اللہ سے مرادیں مانگنے والوں کی بے بسی کو ایک نہایت خوبصورت اور حسی مثال سے واضح فرمایا ہے:

دوسروں کو معبود سمجھ کر پکارنے والوں کی مثال

1 پیاسے شخص کی تمثیل: ایک شخص سخت پیاسا ہو اور دور کسی کنویں یا پانی کے منبع کے کنارے بیٹھ کر صرف اپنے ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے اور دور سے کہے کہ پانی اور سوچے کہ پانی خود اڑ کر اس کے منہ میں آ جائے۔
2 مثال کا نتیجہ: ظاہر ہے کہ پانی جمادات میں سے ہے، وہ نہ سن سکتا ہے نہ انسان کی مجبوری سمجھ کر خود چل کر اس کے منہ میں جا سکتا ہے، چنانچہ وہ پیاسا محروم ہی رہے گا۔
3 بالکل اسی طرح بت یا دوسرے باطل معبود اپنے پکارنے والے کی نہ تو فریاد سن سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی حاجت روائی کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، لہٰذا ان سے مانگنا سراسر وقت کا ضیاع اور گمراہی ہے۔

سرگرمی

12 سرگرمی

حدیث مبارکہ کی روشنی میں سجدہ تلاوت میں پڑھی جانے والی دعا

ترمذی) کے مطابق، رسول اللہ ﷺ سجدہ تلاوت میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

1 « سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ »
2 میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اپنی طاقت و قوت سے اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائیں
13 سرگرمی

سرگرمی 3۔۔ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب

قرآن و حدیث اور تاریخ کی روشنی میں کسی بھی قوم یا ملک کے عروج اور زوال کے بنیادی اسباب درج ذیل ہیں:

عروج کے اسباب (ترقی پانے کی وجوہات) اور کسی ملک یا قوم کےزوال کے اسباب (ناکام ہونے کی وجوہات)

1 عروج کے اسباب (ترقی پانے کی وجوہات) — انصاف اور قانون کی بالادستی: جہاں امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون ہو۔
2 عروج کے اسباب (ترقی پانے کی وجوہات) — اتحاد اور بھائی چارہ: جب قوم فروعی اختلافات بھول کر ایک صف میں کھڑی ہو۔
3 عروج کے اسباب (ترقی پانے کی وجوہات) — علم اور تحقیق: علم حاصل کرنا اور کائناتی علوم میں ریسرچ کرنا۔
4 عروج کے اسباب (ترقی پانے کی وجوہات) — سخت محنت اور امانت داری: اپنے فرائض کو دیانت داری اور محنت سے سرانجام دینا۔
5 عروج کے اسباب (ترقی پانے کی وجوہات) — اخلاقی بلندی: معاشرے میں سچائی، عدل اور انسانی ہمدردی کا پایا جانا۔
6 کسی ملک یا قوم کےزوال کے اسباب (ناکام ہونے کی وجوہات) — ظلم اور ناانصافی: طاقتور کو معاف کرنا اور کمزور کو سزا دینا (تباہی کا سب سے بڑا سبب)۔
7 کسی ملک یا قوم کےزوال کے اسباب (ناکام ہونے کی وجوہات) — مذہبی و سیاسی انتشار: آپس میں فرقہ بندی، نفرت اور گروہوں میں بٹ جانا۔
8 کسی ملک یا قوم کےزوال کے اسباب (ناکام ہونے کی وجوہات) — اخلاقی پستی اور عیاشی: زنا، شراب نوشی، سود، اور فضول خرچی کا عام ہونا۔
9 کسی ملک یا قوم کےزوال کے اسباب (ناکام ہونے کی وجوہات) — نعمتوں کی ناشکری: اللہ کے دیے ہوئے وسائل کا غلط استعمال کرنا اور تکبر کرنا۔
10 کسی ملک یا قوم کےزوال کے اسباب (ناکام ہونے کی وجوہات) — علم سے دوری اور سستی: تحقیق چھوڑ دینا اور شارٹ کٹ کے ذریعے کامیابی تلاش کرنا۔

مزید سرگرمیاں

14 مزید سرگرمیاں

سورۃ الرعد کے آغاز میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے جن مظاہر کو بیان کیا گیا ہے، ان کے حوالے سے مباحثہ کریں۔

سورۃ الرعد کی ابتدائی آیات (2 تا 4) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے وہ مظاہر گنوائے ہیں جو ہر انسان کے سامنے موجود ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان آیات کا اختتام “لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ” اور “لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ” پر ہوتا ہے — یعنی یہ نشانیاں سب دیکھتے ہیں، مگر فائدہ صرف غور و فکر کرنے والے اٹھاتے ہیں۔

1 وَهُوَ ٱلَّذِي مَدَّ ٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۡهَٰرٗاۖ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ جَعَلَ فِيهَا زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے، اور ہر پھل میں سے دو دو قسمیں بنائیں؛ وہ رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے۔ بے شک اس میں غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (سورۃ الرعد ۔ آیت 3)
2 ۱۔ بغیر ستونوں کے آسمان (آیت 2) — بلا ستون بلندی — فرمایا کہ اللہ نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بلند کیا جو تمہیں نظر آئیں — یعنی اس عظیم نظام کو تھامنے والی کوئی مادی چیز دکھائی نہیں دیتی۔
3 ۱۔ بغیر ستونوں کے آسمان (آیت 2) — مباحثے کا نکتہ — آج ہم جسے کششِ ثقل کہتے ہیں، وہ بھی نظر نہیں آتی؛ قرآن کا لفظ “تَرَوْنَهَا” (جنہیں تم دیکھو) کتنا جامع ہے۔
4 ۲۔ سورج اور چاند کی تسخیر (آیت 2) — مقررہ مدت تک — دونوں ایک مقررہ وقت تک اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں — “يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى”۔
5 ۲۔ سورج اور چاند کی تسخیر (آیت 2) — مباحثے کا نکتہ — اربوں سال سے چلتا ہوا یہ نظام ایک سیکنڈ کی بھی خطا نہیں کرتا؛ کیا اتنی باقاعدگی اتفاق سے ممکن ہے؟
6 ۳۔ زمین کا پھیلاؤ، پہاڑ اور دریا (آیت 3) — رہنے کے قابل بنانا — زمین کو بچھایا، اس میں پہاڑ گاڑے اور دریا جاری کیے — تینوں چیزیں زندگی کے لیے لازم ہیں۔
7 ۳۔ زمین کا پھیلاؤ، پہاڑ اور دریا (آیت 3) — مباحثے کا نکتہ — پہاڑ زمین کو تھامتے ہیں اور دریا اسے سیراب کرتے ہیں؛ ایک ہی کرہ پر یہ توازن کس نے رکھا؟
8 ۴۔ ہر پھل کے جوڑے (آیت 3) — زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ — ہر پھل میں دو دو قسمیں — نر و مادہ، یا میٹھا و ترش، چھوٹا و بڑا۔
9 ۴۔ ہر پھل کے جوڑے (آیت 3) — مباحثے کا نکتہ — نباتات میں جوڑوں کا اصول صدیوں بعد دریافت ہوا، جبکہ قرآن نے اسے اسی وقت نشانی کے طور پر پیش کیا۔
10 ۵۔ رات کا دن کو ڈھانپنا (آیت 3) — يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ — رات دن پر پردہ ڈال دیتی ہے — بغیر کسی جھٹکے کے، تدریج کے ساتھ۔
11 ۵۔ رات کا دن کو ڈھانپنا (آیت 3) — مباحثے کا نکتہ — اگر یہ تبدیلی اچانک ہوتی تو زندگی ممکن نہ رہتی؛ نرمی اور تدریج بھی حکمت کی نشانی ہے۔
12 ۶۔ ایک ہی پانی، مختلف ذائقے (آیت 4) — قطعات، باغات اور کھیتیاں — زمین کے ٹکڑے آپس میں ملے ہوئے، انگور کے باغ، کھیتیاں، اور کھجور کے درخت — کچھ ایک تنے والے، کچھ کئی تنوں والے۔
13 ۶۔ ایک ہی پانی، مختلف ذائقے (آیت 4) — يُسْقَىٰ بِمَاءٍ وَاحِدٍ — سب کو ایک ہی پانی دیا جاتا ہے، پھر بھی ذائقے اور پھل الگ الگ ہیں۔
14 ۶۔ ایک ہی پانی، مختلف ذائقے (آیت 4) — مباحثے کا نکتہ — یہ سب سے مضبوط دلیل ہے: مادہ ایک، مٹی ایک، پانی ایک — پھر فرق کہاں سے آیا؟ آیت کا اختتام “لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ” پر ہے، یعنی یہ عقل کا سوال ہے۔
15 ۷۔ بجلی، بادل اور گرج (آیات 12 تا 13) — خوف اور امید — بجلی کی چمک ڈر بھی پیدا کرتی ہے اور بارش کی امید بھی۔
16 ۷۔ بجلی، بادل اور گرج (آیات 12 تا 13) — رعد کی تسبیح — گرج اللہ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے — اسی سے سورت کا نام “الرعد” ہے۔
17 ۷۔ بجلی، بادل اور گرج (آیات 12 تا 13) — مباحثے کا نکتہ — ایک ہی مظہر میں ڈر اور رحمت دونوں کا جمع ہونا اللہ کی حکمت کی علامت ہے۔
18 ۸۔ علمِ محیط (آیت 8) — ماں کے پیٹ کا حال — اللہ جانتا ہے کہ ہر مادہ کیا اٹھائے ہوئے ہے اور رحم کیا کمی بیشی کرتے ہیں؛ ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازے سے ہے۔
19 ۸۔ علمِ محیط (آیت 8) — مباحثے کا نکتہ — قدرت صرف پیدا کرنے کا نام نہیں، مکمل علم اور اندازے کے ساتھ پیدا کرنے کا نام ہے۔
20 مباحثے کے لیے مجموعی سوالات — دیکھنا اور غور کرنا — یہ ساری نشانیاں کافر بھی دیکھتا ہے اور مومن بھی؛ پھر نتیجہ مختلف کیوں نکلتا ہے؟
21 مباحثے کے لیے مجموعی سوالات — سائنس اور ایمان — کیا ان مظاہر کی سائنسی تشریح جان لینے سے ایمان کم ہوتا ہے یا بڑھتا ہے؟
22 مباحثے کے لیے مجموعی سوالات — عادت کا پردہ — روزمرہ دیکھی ہوئی چیز کو ہم معمولی سمجھ لیتے ہیں — سورج نکلنا، بارش برسنا۔ اس عادت کے پردے کو کیسے ہٹایا جائے؟
23 مباحثے کے لیے مجموعی سوالات — عملی نتیجہ — غور و فکر کا حاصل صرف معلومات نہیں، بلکہ شکر، تقویٰ اور اللہ کے سامنے جھکنا ہونا چاہیے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.