دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 8: سبق 8: سورہ یونس — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمی اور مزید سرگرمیاں · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

فَمَا سَاَلۡـتُكُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ​ؕ اِنۡ اَجۡرِىَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ​ۙ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ​ۙ (سورۃ یونس ۔ آیت 72)

کے مطابق سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے دین کی دعوت پر اجر کے حوالے سے کیا فرمایا ایت 72

ترجمہ

تو میں نے تم سے کوئی اجر نہیں مانگا میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہو جاؤں

جواب آیت مبارکہ کی رو سے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تبلیغ پر تم سے کسی قسم کا کوئی اجر یا معاوضہ نہیں مانگتا بلکہ میں صرف اللہ کے حکم کا پابند ہوں اور اسی کا فرمانبردار ہوں میرا اجر میرے اللہ کے ذمہ ہی ہے ۔یعنی میں دعوت و تبلیغ کے کار خیر کے عوض تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا کیونکہ میری ساری جدوجہد مال کی حرص اور روپیہ پیسے کی لالچ نہیں ہے بلکہ میں تو اپنے رب کا حکم بجا لا رہا ہوں اسی کے ذمہ میرااجر ہے جب میں اس کا فرما نبردار ہوں اور یہ خدمت اور فرض بے خوف و خطر انجام دیتا ہوں تو کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے فضل اور رحمت کے دروازے مجھ پر نہ کھولے رکھے
2 مختصر جوابات

فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ مِنۡ عِندِنَا قَالُوٓاْ إِنَّ هَٰذَا لَسِحۡرٞ مُّبِينٞ (سورۃ یونس ۔ آیت 76)

ایت کی رو سے ال فرعون نے حق ا جانے پر کیا اعتراض کیا

ترجمہ

پس جب ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے حق آگیا تو وہ کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے

جواب اس آیت مبارکہ میں ال فرعون کا دعوت حق تسلیم کرنے سے انکار کا ذکر ہے انکار کے لیے کوئی معقول دلیل نہ ہونے پر انہوں نے معجزات کو جادو قرار دے دیا وہ حضرت موسی کلیم اللہ کے معجزات کو بھی ساحرانہ شعبدہ بازی ہی سمجھتے ہیں معاذ اللہ اور اس فن میں ال فرعون کو تو کمال حاصل تھا اس لیے وہ کسی ساحر کی غلامی پر آمادہ ہونے کے لیے تیار نہ تھے
3 مختصر جوابات

قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِىۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ وَ اَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ (سورۃ یونس ۔ آیت 90)

ایت کی رو سے سمندر میں غرق ہوتے وقت فرعون نے کیا کہا

ترجمہ

(تو فرعون ڈوبتے وقت کہنے لگا) میں اس پر ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں

آیت مبارکہ کی رو سے فرعون جب دریا میں غرق ہونے لگا تو موت کے خوف سے اس نے اللہ پر ایمان لانے کا اعلان کیا مگر عین موت کے وقت ایمان لانا معتبر نہیں تھا اس لیے وہ غرق ہوا اور ہلاک ہو گیا

پس منظر

1 جب حضرت موسی علیہ السلام اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو صحرائے سینا پہنچنے کے لیے انہیں دریا کو پار کرنا تھا جب بنی اسرائیل حضرت موسی کی رہنمائی میں دریا کے کنارے پہنچے تو اللہ کے حکم سے حضرت موسٰی نے پانی پر اپنا عصااپانی پر مارا تو وہ پھٹ کر دائیں بائیں کھڑا ہو گیا درمیان میں خشک راستہ نکل آیا حضرت موسی اور بنی اسرائیل اس راستے سےدریا کے کنارے پہنچےفرعون نےجب تو دیکھا کہ حضرت موسی اور بنی اسرائیل پانی کے درمیان خشک راستہ سے گزرے ہیں دریا نے پھٹ کر حضرت موسی اور ان کے ساتھیوں کو راستہ دے دیا ہے ۔یہ واقعہ دراصل اللہ تعالی کی نشانی تھی فرعون کو اس سے سبق لینا چاہیے تھا کہ حضرت موسی حق پر ہیں اور اللہ ان کے ساتھ ہے مگر اس نے دریا کے پھٹنے کو اللہ کی نشانی سمجھنے کے بجائے عام واقعہ سمجھا اپنے اور حضرت موسی کے درمیان فرعون کو صرف دریا نظر ایا حالانکہ وہاں اللہ کی قدرت کا یہ نتیجہ ہوا کہ جب فرعون اور اس کا لشکر دریا میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالی کے حکم سے دونوں طرف کا پانی مل گیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہو گیا غرق ہوتے ہیں فرعون نے ایمان کا اقرار کیا مگر وہ بے سود تھا کیونکہ اللہ کے ہاں اختیاری ایمان معتبر ہے نہ کہ وہ ایمان جبکہ ادمی موت کی حالت میں ہو اس لیے موت کے وقت فرعون کا ایمان لانا اس سے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکا جب ایمان لانے کی مہلت تھی تو وہ کفر و معصیت میں پڑا رہا
4 مختصر جوابات

وَأَنۡ أَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ (سورۃ یونس ۔ آیت 105)

اس ایت میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا تلقین فرمائی گئی ہے

ترجمہ

اور یہ کہ اپ اپنا رخ یکسوئی کے ساتھ دین پر قائم رکھیں اور ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہونا

جواب اس ایت مبارکہ میں بظاہر خطاب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن مخاطب عام لوگ بالخصوص اہل ایمان بھی ہیں یہاں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو باتوں کی تلقین کی جا رہی ہے کہ ایک طرف تو اپ توحید پر قائم رہو یعنی ہر قسم کے جاہلانہ اور مشرکانہ عقائد و نظریات سے بچ کر رہو اور دوسری تلقین یہ فرمائی کہ اپ صرف اور صرف اللہ تعالی کی عبادت کرو حنیف ایسے شخص کو کہتے ہیں جو ہر طرف سے ہٹ کر صرف ایک اللہ کی توحید پر قائم ۔اللہ تعالی نے نبی کریم کو حکم دیا کہ دین کے معاملے میں مستقیم رہیں۔جن چیزوں کا اللہ نے حکم دیا ان پر عمل کریں جن سے منع کیا ان سے اجتناب کریں اور اخلاص کے ساتھ صرف اللہ تعالی کی عبادت کریں ۔یہ ایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عبادت اور دعا کرنے میں صرف اللہ تعالی کی طرف توجہ کرنا واجب ہے اور جو شخص کسی غیر اللہ کی عبادت کرے یا اس سے دعا مانگے تو گویا اس نے مشرکوں جیسا کام کیا ہے
5 مختصر جوابات

وَلَا تَدۡعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَۖ فَإِن فَعَلۡتَ فَإِنَّكَ إِذٗا مِّنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ (سورۃ یونس ۔ آیت 106)

ایت کریمہ کے مطابق ظالم کون ہے

ترجمہ

اور اللہ کے سوا ان کو نہ پوجو جو نہ تمہیں نفع دے سکتے ہیں اور نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں تو اگر تم نے ایسا کیا تو بے شک تین سالوں میں سے ہو جاؤ گے

جواب اس ایت مبارکہ کی رو سے اللہ تعالی کو چھوڑ کر دنیا کی حقیر اور بے حقیقت چیزوں کے سامنے اپنی جبین کو عبادت کے لیے جھکا دینے والے شخص کو بہت بڑا ظالم قرار دیا گیا ہے ظالم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کی حق تلفی کرتا ہو اور مشرکین اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اللہ کی حق تلفی کرتے ہیں اس لیے انہیں ظالم کہا گیا ہے

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

۞وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ نُوحٍ إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكُم مَّقَامِي وَتَذۡكِيرِي بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَعَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلۡتُ فَأَجۡمِعُوٓاْ أَمۡرَكُمۡ وَشُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ لَا يَكُنۡ أَمۡرُكُمۡ عَلَيۡكُمۡ غُمَّةٗ ثُمَّ ٱقۡضُوٓاْ إِلَيَّ وَلَا تُنظِرُونِ (سورۃ یونس ۔ آیت 71)

ایت کا ترجمہ کریں اور بتائیں کہ ان ایات میں نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کیا فرمایا

ترجمہ

اور اپ انہیں نوح علیہ السلام کی خبر پڑھ کر سنائیں جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم اگر تم پر گراں گزرتا ہے تمہارے درمیان میرا رہنا اور اللہ کی ایات کے ساتھ میرا نصیحت کرنا تو میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کر لیا ہے پھر تم سب اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر اپنی تدبیر کر لو پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم پر پوشیدہ نہ رہے تو جو فیصلہ میرے بارے میں کرنا ہے کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو

جواب آیت مبارکہ میں نوح علیہ السلام کی چند باتوں کا بیان ہے تبلیغ اور وعظ و نصیحت سے ان کی قوم کی نادانی انہیں اپنے فرائض منصبی سے نہ ہٹا سکی اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے دعوت حق کی ذمہ داری ادا کرتے رہے انہوں نے ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو تبلیغ فرمائی رات دن نصیحت فرمائی مگر قوم کی اکثریت کفر و شرک پر اڑی رہی ان کے دل بغض وعناد کی غلاظتوں سے سیاہ اور آلودہ ہو گئے نافرمانی اور انکار کی لعنتوں نے چاروں طرف سے ان کو گھیر لیا نوح علیہ السلام نے کمال بے خوفی سے اعلان فرمایا کہ میں صرف اللہ پر بھروسہ رکھتا ہوں تو مخالفت میں پورا زور صرف کر لو اپنے بغض و عناد کا اعلان کر دو اور مجھے جینے اور سنبھلنے کی قطعا مہلت نہ دو پھر پھر دیکھو میرا اللہ میری کس طرح سے دستگیری فرماتا ہے
7 تفصیلی جوابات

فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَجَعَلۡنَٰهُمۡ خَلَـٰٓئِفَ وَأَغۡرَقۡنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَاۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُنذَرِينَ (سورۃ یونس ۔ آیت 73)

ترجمہ کریں اور بتائیں کہ اج کریمہ کی روشنی میں سیدنا نوح علیہ السلام کے واقعہ کے کوئی سے چار نکات لکھیں

ترجمہ

تو لوگوں نے نوح علیہ السلام کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں نجات عطا فرمائی اور ان کو بھی جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے اور ہم نے انہیں زمین میں ان کا جانشین بنایا اور ہم نے ان کو غرق کر دیا جنہوں نے ہماری ایتوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو عذاب سے ڈرائے گئے لوگوں کو کیسا انجام ہوا

نوح ؑکے واقعے کے چار نکات

1 تمام تر وعظ و نصیحت کے باوجود نوح علیہ السلام کی قوم کی اکثریت نے دعوت و توحید کو جھٹلایا
2 عذاب آنے پر اللہ نے نوح ؑعلیہ السلام اور ان کےاہل ایمان ساتھی جوکشتی میں موجود تھے کو بچا لیا
3 اور زمین میں اہل ایمان کو جانشین بنایا یعنی کشتی والوں کو کفار کی ہلاکت کے بعد زمین کا مالک بنایا یعنی حضرت نوح علیہ السلام کو اپنا خلیفہ اور ان کے بعد مومنین کو ان کا خلیفہ بنایا
4 رسول کو جھٹلانے والوں اور نافرمانی کرنے والوں کو عبرت ناک انجام سے دوچار کیا وہ سب کے سب طوفان کی نظر ہوئے اور اور پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے
8 تفصیلی جوابات

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِم مُّوسَىٰ وَهَٰرُونَ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ بِـَٔايَٰتِنَا فَٱسۡتَكۡبَرُواْ وَكَانُواْ قَوۡمٗا مُّجۡرِمِينَ (سورۃ یونس ۔ آیت 75)

ایت کا ترجمہ وضاحت کریں ایت 75

ترجمہ

پھر ہم نے ان رسولوں کے بعد بھیجا موسی اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی نشانیوں کے ساتھ تو ان لوگوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے

مفہوم

جواب اس ایت مبارکہ میں حضرت موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجنے اور معجزات عطا کرنے اور قوم کی سرکشی اور نافرمانی کا ذکر ہے ۔فرعون اور ال فرعون کی طرف اللہ تعالی نے جلیل القدر رسول حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے بھائی حضرت ہارون کو مبعوث فرمایا جن کے ذمہ دو اہم کام تھے اپنی قوم بنی اسرائیل کو جو صدیوں سے مصر میں قبطیوں کے ماتحت غلامانہ زندگی بسر کر رہی تھی آزاد کرانا اور فرعون کو اللہ کی توحید پہنچانا جو اپنے خدا ہونے کا دعوے دار تھا اور اپنی رعایا کو اپنی پرستش کرنے کا حکم دے رکھا تھا یہ دونوں کام جتنے اہم تھے اتنے ہی مشکل اور دشوار بھی تھے اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو عظیم معجزات (عصا اور ید بیضا) سے نوازا تاکہ وہ ان کی قوت سے ہر باطل کو سر نگوں کر سکیں اور ان کی روشنی میں شک و شبہ کے سارے اندھیروں کودور کر سکے جب آپ علیہ السلام نے وہ معجزات دکھائے توفرعون اور ال فرعون نے نے ان کو جادو گر کہا ۔ حضرت موسی علیہ السلام نے دلائل و معجزات کی روشنی سے رب کی وحدانیت ان پر واضح کر دی تھی لیکن ال فرعون تکبر اور گھمنڈ کی وجہ سے اسے قبول کرنے پر آ مادہ نہ ہوئے وہ عادی مجرم تھے جرم اور گناہ میں بہت اگے نکل چکے تھے سچائی اور نیکی کی راہ سے بہت دور نکل گئے اور مقابلے پر اتر ائے
9 تفصیلی جوابات

حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدۡرَكَهُ ٱلۡغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱلَّذِيٓ ءَامَنَتۡ بِهِۦ بَنُوٓاْ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ۝٩٠ آٰلۡــٰٔنَ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ وَكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ۝٩١ فَالۡيَوۡمَ نُـنَجِّيۡكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ اٰيَةً ؕ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ۝٩٢ (سورۃ یونس ۔ آیت 90)

ایات کریمہ کی روشنی میں فرعون کے ڈوبنے والے واقعے سے متعلق چند نکات تحریر کریں

ترجمہ

یہاں تک کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو کہنے لگا میں اس پر ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل مان لائے اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں اس سے کہا گیا کہ کیا اب ایمان لاتا ہے حالانکہ تو اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا تو اج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد انے والوں کی عبرت کی نشانی ہو اور بے شک بہت سے لوگ بھی ہماری نشانیوں سے یقینا غافل ہیں

فرعون کے ڈوبنے کے متعلق چند نکات

1 فرعون جب بحر کلزم میں غرق ہونے لگا اسے موت سامنے دکھائی دینے لگی موت کو دیکھ کر جب فرعون نے ایمان لانے کا اعلان کیا تو اس وقت اس کا ایمان لانا اس سے فائدہ نہ پہنچا سکا کیونکہ جب ایمان لانے کی مہلت تھی تو کفر اور معصیت پہ ڈٹا رہا
2 ایمان اس وقت تک قبول ہے جب تک جسم میں جان ہو اور موت کی یقینی علامات کا ظہور نہ ہوا ہو کیونکہ مقصد اپنے اختیار سے ایمان بالغیب لانا ہے اور جب عذاب سامنے ا جائے اور سب کچھ واضح ہو جائے تو پھر ایمان بالغیب باقی نہیں رہتا
3 اللہ نے فرعون کی لاش کو محفوظ فرما کر نشان عبرت بنا دیا اج بھی اس کی لاش محفوظ ہے جب بھی تحقیق کے مطابق مصر کے گھر دارالثار میں موسی علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کی ممی موجود ہے 1907 میں جب اس ممی سے پٹیاں کھولی گئی تو اس کی لاش پر نمک کی ایک تہ جمی ہوئی تھی جو کھارے پانی میں اس کی غرقابی کی کھلی علامت تھی
4 اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کا انجام ہلاکت ہے اس لیے ہمیں بھی اللہ تعالی کی نافرمانی اور سرکشی کے کاموں سے بچنا چاہیے
10 تفصیلی جوابات

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهۡتَدِي لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَاۖ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيۡكُم بِوَكِيلٖ (سورۃ یونس ۔ آیت 108)

ایت 108 کا ترجمہ کریں اور بتائیں اس ایت میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا تلقین کی گئی

ترجمہ

اپ فرما دیجیے اے لوگو یقینا تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق اگیا ہے اور جس شخص نے ہدایت قبول کی تو اس نے اپنے ہی فائدے کے لیے ہدایت قبول کی اور جو گمراہ ہوا تو اس کی گمراہی کی ذمہ داری اسی پر ہے اور ہم تمہارے ذمہ دار نہیں ہیں

جواب اس ایت مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے پوری نوع انسانی کو خطاب ہے یہ تمہارے پاس دین حق اگیا ہے اور نبی کی ذریعے تم تک پہنچ چکا ہے اور اللہ کی حجت تم پر پوری ہو گئی ہے اب تم حق تعالی کے سامنے اپنی گمراہی کا کوئی عذر اور حیلہ پیش نہیں کر سکتے اب اگر اس سے ہدایت حاصل کر لو کہ تمہارا ہی فائدہ ہے ورنہ تمہارا ہی نقصان ہے رسول کا کام خبر دے دینا ہے اور وہ کسی سے حق قبول کرانے کے ذمہ دار نہیں اور اس کے بعد اپ کو صبر کرنے اور وحی کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس سے مقصود اپ کی تسلی ہے کہ اگر یہ منکرین اپ کی دعوت قبول نہ کریں اگر یہ عداوت ازارثانی پر قائم رہیں تو اپ صبر کیجیے عنقریب اللہ فیصلہ فرما دے گا یعنی حسب وعدہ اپ کو غالب اور منصور کر دے گا یہ مضمون گویا کہ تمام سورت کا خلاصہ ہے
11 تفصیلی جوابات

فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ ءَامَنَتۡ فَنَفَعَهَآ إِيمَٰنُهَآ إِلَّا قَوۡمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُواْ كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ ٱلۡخِزۡيِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنَٰهُمۡ إِلَىٰ حِينٖ (سورۃ یونس ۔ آیت 98)

آیت کی رو سے سیدنا یونس علیہ السلام کی قوم کے ایمان لانے کا واقعہ اور اس سے حاصل ہونے والا سبق تحریر کریں

ترجمہ

تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ بروقت ایمان لاتی تو اس سے بھی اس کا ایمان نفع دیتا سوائے یونس کی قوم کے جب وہ ایمان لے ائے تو ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب ہٹا دیا دنیا کی زندگی میں اور ہم نے انہیں ایک وقت تک دنیاوی سامان سے فائدہ پہنچایا

اس ایت مبارکہ میں قوم یونس کا بیان ہے کہ اس قوم کی توبہ عذاب کی نشانیاں ظاہر ہونے کے بعد قبول کر لی گئی ۔کئی قوموں نے اللہ کی نافرمانیاں کی لیکن یہ واحد قوم تھی جس نے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کی ان کو معاف کر دیا گیا اور پھر ایک مدت تک نعمتوں سے نوازا گیا اسے پچھلی ایتوں میں بیان کیا گیا ہے کہ پچھلی جتنی قوموں پر عذاب آیا ان سب کا حال یہ تھا کہ وہ عذاب کو دیکھنے سے پہلے ایمان نہیں لائے اس لیے عذاب کا شکار ہوئے البتہ ایک حضرت یونس علیہ السلام کی قوم ایسی تھی کہ وہ عذاب کے نازل ہونے سے ذرا پہلے یعنی عذاب کی علامات کو دیکھ کر ایمان لے ائی تھی اس لیے اس کا ایمان منظور کر لیا گیا اور اس کی وجہ سے اس پر آنے والا عذاب ہٹا لیا گیا حضرت یونس کا واقعہ یہ تھا کہ جب وہ اپنی قوم کو عذاب کی پیشنگوئی کر کے بستی سے چلے گئے تو ان کی قوم کو ایسی علامات نظر ائیں جن سے انہیں حضرت یونس کے تانتباہ کے سچے ہونے کا یقین ہو گیا چنانچہ وہ عذاب کے انے سے پہلے ہی ایمان لے ائے

ہمارے لیے اس واقعے سے سبق

1 اج امت مسلمہ پر مصائب اور آلام کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور مسلمانوں کی حالت زار انتہائی ناگفتہ بہ ہے اس کی واحد وجہ اللہ کی نافرمانی ہے ایسے ہی پوری امت کو اللہ کے حضور اجتماعی توبہ کرنی چاہیے اور تمام معاملات میں اللہ کی فرمانبرداری کی طرف آنا چاہیے امید ہے کہ اللہ مسلمانوں کو پھر سے وہ عروج عطا فرمائے گا جو قرون اولی کے مسلمانوں کو عطا فرمایا تھا

سرگرمی

12 سرگرمی

وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَآ إِنَّكَ ءَاتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَأَهُۥ زِينَةٗ وَأَمۡوَٰلٗا فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَۖ رَبَّنَا ٱطۡمِسۡ عَلَىٰٓ أَمۡوَٰلِهِمۡ وَٱشۡدُدۡ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُواْ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ (سورۃ یونس ۔ آیت 88)

کی روشنی میں بتائیں کہ مال و اسباب زینت کیسے گمراہی کا سبب بنتے ہیں 88

جواب جس کے پاس دنیا کے اسباب ور سامان زیادہ جمع ہو جائیں وہ برائی کے احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اپنے اندر یہ صلاحیت کھو دیتے ہیں کہ کسی دوسرے کی زبان سے جاری ہونے والے حق کو پہچانے اور اسے تسلیم کر لیں اپنے وسائل کو اگر وہ اللہ کاعطیہ سمجھتے ہیں تو اس کو حق کی تائید میں استعمال کرتے ہیں مگر وہ اس کو اپنا ذاتی مال سمجھتے ہیں اس لیے وہ اس کو صرف اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ حق کو دبائیں اور اس ماحول کے اندر اپنی برتری ظاہے کریں جو لوگ اخرت کی فکر کرتے ہیں وہ عام طور پر دنیاوی ساز و سامان جمع کرنے میں ان لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو اخرت سے بے فکر ہو کر دنیا حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہوں ایسی دنیاوی اسباب کی کمی اخرت کی طرف دھیان لگانے کی قیمت ہے،اور سراسر دنیاوی اسباب کی زیادتی اخرت سے غافل ہونے کی قیمت ہے
13 سرگرمی

وَلَقَدۡ بَوَّأۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ مُبَوَّأَ صِدۡقٖ وَرَزَقۡنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ فَمَا ٱخۡتَلَفُواْ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِي بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ (سورۃ یونس ۔ آیت 93)

کی روشنی میں بنی اسرائیل پر کیے گئے انعامات باری تعالی بیان کریں

سنو اور یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانہ عطا فرمایا اور انہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق عطا کیا اس ایت مبارکہ میں بنی اسرائیل پر کیے گئے احسانات میں سے چند ایک کا بیان ہے

1 اچھا ٹھکانہ دیا — یعنی انہیں شام فلسطین اور اردن پر غلبہ اور غلبہ عطا کیا اور ان سرسبز علاقوں میں بنی اسرائیل یہ سلطنت قائم کی گئی جو کئی سو سال تک باقی رہی
2 بہترین رزق عطا کیا گیا — یعنی صحرائے سینا میں اللہ تعالی نے ان کے لیے خصوصی انتظامات کے تحت پانی اور رزق مہیا کیا صحرائی تربیت کے ذریعے ان کے اندر ایک نئی طاقتور نسل تیار کی
3 مادی نعمتوں کے علاوہ روحانی نعمت کے طور پر انہیں تورات عطا کی گئی جس میں زندگی کے لیے مکمل ہدایات موجود تھیں مگر انہوں نے اس کی واضح احکامات میں اپس میں اختلاف کیا اور اللہ کے احسان فروشی کی روش اختیار کی ۔

مزید سرگرمیاں

14 مزید سرگرمیاں

“فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ” کی روشنی میں سیدنا یونس علیہ السلام کا واقعہ بیان کریں۔

یہ جملہ اسی سبق کی آیت 98 کا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے قومِ یونس کو تمام اقوام میں ایک استثناء قرار دیا — وہ واحد بستی جس نے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کی اور اس کی توبہ قبول کر لی گئی۔

واقعے کے مراحل اور واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق

1 فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ ءَامَنَتۡ فَنَفَعَهَآ إِيمَٰنُهَآ إِلَّا قَوۡمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُواْ كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ ٱلۡخِزۡيِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنَٰهُمۡ إِلَىٰ حِينٖ پھر کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا، سوائے یونس کی قوم کے؛ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹا دیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (سورۃ یونس ۔ آیت 98)
2 واقعے کے مراحل — دعوت اور انکار — سیدنا یونسؑ کو نینوا (موجودہ عراق) کی بستی کی طرف بھیجا گیا۔ آپؑ نے برسوں توحید کی دعوت دی مگر قوم نے انکار کیا۔
3 واقعے کے مراحل — عذاب کی خبر اور ہجرت — آپؑ نے انہیں عذاب کی خبر دی اور اللہ کی اجازت کا انتظار کیے بغیر بستی چھوڑ دی — قرآن نے اسے “مُغَاضِبًا” کہا (سورۃ الانبیاء 87)۔
4 واقعے کے مراحل — کشتی اور قرعہ اندازی — سمندری سفر میں کشتی بوجھ سے ڈگمگانے لگی؛ قرعہ ڈالا گیا اور وہ آپؑ کے نام نکلا (سورۃ الصافات 139 تا 141)۔
5 واقعے کے مراحل — مچھلی کے پیٹ میں — آپؑ کو مچھلی نے نگل لیا اور آپؑ اندھیروں میں گھر گئے — رات کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔
6 واقعے کے مراحل — دعائے یونس — انہی اندھیروں میں آپؑ نے وہ دعا کی جو آج تک مصیبت زدوں کا سہارا ہے:
7 واقعے کے مراحل — وَذَا ٱلنُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَٰضِبٗا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ فَنَادَىٰ فِي ٱلظُّلُمَٰتِ أَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبۡحَٰنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ …تو انہوں نے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصور وار تھا۔ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 87)
8 واقعے کے مراحل — نجات اور شفا — اللہ نے دعا قبول کی، آپؑ کو کھلے میدان میں ڈال دیا اور کمزوری کی حالت میں آپؑ پر بیل دار درخت اگا دیا (الصافات 145 تا 146)۔
9 واقعے کے مراحل — قوم کی توبہ — ادھر بستی والوں نے عذاب کے آثار دیکھے تو سب — مرد، عورتیں اور بچے — نکل کر گڑگڑائے اور سچی توبہ کی۔
10 واقعے کے مراحل — عذاب کا ٹل جانا — اللہ نے ان سے رسوائی کا عذاب ہٹا دیا اور ایک مدت تک مہلت دی — یہی وہ استثناء ہے جس کا ذکر آیت 98 میں ہے۔
11 واقعے کے مراحل — واپسی اور کامیابی — سیدنا یونسؑ لوٹے تو پوری قوم ایمان لا چکی تھی؛ الصافات (آیت 147) کے مطابق ان کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے زیادہ تھی۔
12 واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق — توبہ کا دروازہ — جب تک عذاب حتمی طور پر نازل نہ ہو جائے، اجتماعی توبہ قوموں کو بچا لیتی ہے۔
13 واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق — اجتماعی توبہ کی طاقت — قومِ یونس کی نجات کا سبب یہ تھا کہ توبہ چند افراد کی نہیں، پوری بستی کی تھی۔
14 واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق — داعی کے لیے صبر — دعوت کا کام صبر اور اللہ کے حکم کے انتظار کا تقاضا کرتا ہے؛ جلد بازی سے گریز چاہیے۔
15 واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق — اعترافِ قصور — دعائے یونس کا مرکز “إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ” ہے — نجات کی پہلی سیڑھی اپنی کوتاہی کا اعتراف ہے۔
16 واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق — مایوسی نہ ہو — اندھیروں میں گھرا ہوا انسان بھی اگر اللہ کو پکارے تو راستہ نکل آتا ہے۔
15 مزید سرگرمیاں

“فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً” کی روشنی میں فرعون کا عبرتناک انجام بیان کریں۔

یہ اسی سبق کی آیت 92 ہے۔ اس سے پہلی دو آیتوں (90 اور 91) میں فرعون کے ڈوبنے اور آخری لمحے کے ایمان کا رد بیان ہوا، اور اس آیت میں اللہ نے اس کے جسم کو نشانِ عبرت بنا دینے کا اعلان فرمایا۔

انجام کے مراحل اور عبرت کے پہلو

1 فَٱلۡيَوۡمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ ءَايَةٗۚ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنۡ ءَايَٰتِنَا لَغَٰفِلُونَ تو آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد آنے والوں کے لیے نشانی بن جائے؛ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔ (سورۃ یونس ۔ آیت 92)
2 انجام کے مراحل — تعاقب اور غرور (آیت 90) — فرعون اپنے لشکر کے ساتھ سرکشی اور زیادتی کرتے ہوئے بنی اسرائیل کے پیچھے نکلا، یہاں تک کہ سمندر نے اسے آ لیا۔
3 انجام کے مراحل — ڈوبتے وقت کا ایمان (آیت 90) — غرق ہوتے ہوئے بولا: میں ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
4 انجام کے مراحل — ایمان کا رد (آیت 91) — جواب ملا: “اب؟ حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور فساد کرنے والوں میں سے تھا۔” — یعنی موت سامنے آ جانے کے بعد کا ایمان قبول نہیں۔
5 انجام کے مراحل — بدن کی حفاظت (آیت 92) — اللہ نے اس کا جسم سمندر سے نکلوا کر محفوظ کر دیا تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے نشانی رہے۔
6 انجام کے مراحل — غفلت کی تنبیہ (آیت 92) — آیت کا آخری حصہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ ان نشانیوں سے غافل ہی رہتے ہیں — نشانی دیکھ لینا کافی نہیں، عبرت پکڑنا ضروری ہے۔
7 عبرت کے پہلو — طاقت اور اقتدار کی بے بسی — جو خود کو “رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ” کہتا تھا، وہ پانی کی ایک لہر کے سامنے بے بس ہو گیا۔
8 عبرت کے پہلو — توبہ کا وقت مقرر ہے — توبہ کا دروازہ کھلا ہے، مگر اُس لمحے تک جب تک موت سامنے نہ آ جائے؛ اس کے بعد ایمان محض مجبوری ہے، اختیار نہیں۔
9 عبرت کے پہلو — قومِ یونس سے تقابل — قومِ یونس نے آثار دیکھتے ہی توبہ کی تو بچ گئی؛ فرعون نے آخری سانس تک انتظار کیا تو رد ہو گیا — یہی دونوں سوالوں کا آپس کا ربط ہے۔
10 عبرت کے پہلو — نشانی کا باقی رہنا — جو جسم دنیا پر حکومت کرتا تھا، وہ آج نمائش کی چیز ہے — تکبر کا انجام یہی ہے۔
11 عبرت کے پہلو — ہمارے لیے سبق — اللہ کی نشانیاں ہر دور میں موجود ہیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان ان سے غافل نہ ہو۔
16 مزید سرگرمیاں

“وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ” کی روشنی میں بنی اسرائیل پر کیے گئے انعاماتِ باری تعالیٰ تحریر کریں۔

یہ اسی سبق کی آیت 93 ہے۔ فرعون کے انجام کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر کیے گئے احسانات کا ذکر فرمایا — رہنے کو عمدہ جگہ اور کھانے کو پاکیزہ رزق۔ قرآن نے مختلف مقامات پر ان انعامات کو تفصیل سے گنوایا ہے۔

انعاماتِ الٰہی اور انعام کے بعد کا رویہ اور سبق

1 وَلَقَدۡ بَوَّأۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ مُبَوَّأَ صِدۡقٖ وَرَزَقۡنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ فَمَا ٱخۡتَلَفُواْ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِي بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ اور بے شک ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کی بہت اچھی جگہ دی اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا؛ پھر انہوں نے اختلاف نہ کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم آ گیا… (سورۃ یونس ۔ آیت 93)
2 انعاماتِ الٰہی — فرعون کی غلامی سے نجات — جو قوم بیٹوں کے ذبح اور بیٹیوں کی زندگی کی ذلت میں مبتلا تھی، اسے اللہ نے آزادی عطا کی۔
3 انعاماتِ الٰہی — سمندر کا پھٹنا — ان کے لیے سمندر میں خشک راستہ بنا دیا گیا اور دشمن اسی سمندر میں غرق کر دیا گیا۔
4 انعاماتِ الٰہی — مُبَوَّأَ صِدْقٍ ۔ عمدہ ٹھکانا — مصر کی غلامی کے بعد شام و فلسطین کی بابرکت سرزمین میں سچی اور باعزت رہائش عطا فرمائی۔
5 انعاماتِ الٰہی — رِزْق مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ۔ پاکیزہ رزق — حلال، عمدہ اور کشادہ رزق — محنت کی مشقت کے بعد آسانی۔
6 انعاماتِ الٰہی — مَنّ و سَلوىٰ — بیابان میں بغیر کاشت کے میٹھی غذا اور بٹیر کا گوشت اتارا گیا۔
7 انعاماتِ الٰہی — بادلوں کا سایہ — دھوپ کی شدت سے بچانے کے لیے بادل کا سایہ کیا گیا۔
8 انعاماتِ الٰہی — بارہ چشمے — پتھر سے بارہ چشمے جاری کیے گئے تاکہ ہر قبیلے کو اپنا گھاٹ معلوم ہو۔
9 انعاماتِ الٰہی — تورات اور ہدایت — سیدنا موسیٰؑ کو کتاب دی گئی جس میں ان کے لیے نور اور رہنمائی تھی۔
10 انعاماتِ الٰہی — انبیاء اور بادشاہت — ان میں کثرت سے انبیاء بھیجے گئے اور انہیں اقتدار عطا کیا گیا (سورۃ المائدہ 20)۔
11 انعاماتِ الٰہی — اپنے زمانے کی فضیلت — انہیں اپنے دور کے جہانوں پر فضیلت دی گئی۔
12 انعام کے بعد کا رویہ اور سبق — علم آنے کے بعد اختلاف — اسی آیت کے آخر میں فرمایا کہ اختلاف اُس وقت شروع ہوا جب علم آ چکا تھا — یعنی جھگڑا لاعلمی کا نہیں، ضد کا تھا۔
13 انعام کے بعد کا رویہ اور سبق — نعمت کی ناشکری — اتنے انعامات کے باوجود گئو سالہ پرستی، احکام میں حیلے اور انبیاء کی مخالفت ان کے کردار کا حصہ بنی۔
14 انعام کے بعد کا رویہ اور سبق — فیصلہ قیامت پر — فرمایا کہ آپ کا رب قیامت کے دن ان کے اختلافات کا فیصلہ کر دے گا۔
15 انعام کے بعد کا رویہ اور سبق — ہمارے لیے نصیحت — نعمت کے ساتھ شکر لازم ہے؛ اور امت کے اندر اختلاف علم کے بعد ہو تو وہ سب سے خطرناک ہوتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.