دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 10: سبق 10: سورہ الرعد — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ

آیت میں اہل حق کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں

ترجمہ

اور جو اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور برائی کو اچھائی سے دور کرتے ہیں، ان ہی کے لیے آخرت کا اچھا گھر ہے

اہل حق کی صفات کی تفصیل

1 ابتغاء وجه ربهم (صبر) — وہ ہر قسم کے گناہوں، نفسانی خواہشات اور مصیبتوں پر محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے کے لیے صبر کرتے ہیں۔
2 اقاموا الصلاة (نماز کا قیام) — وہ پابندی کے ساتھ تمام شرائط، خشوع و خضوع اور آداب کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔
3 انفقوا سرا وعلانية (پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرنا) — وہ اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے ضرورت کے وقت چھپ کر اور اعلانیہ دونوں طریقوں سے خیرات و سخاوت کرتے ہیں۔
4 يدرءون بالحسنة السيئة (برائی کا جواب نیکی سے دینا) — جب کوئی ان کے ساتھ برائی یا زیادتی کرتا ہے تو وہ بدلہ لینے کے بجائے عفو، درگزر اور اچھے رویے سے اسے ٹالتے ہیں۔
2 مختصر جوابات

سلم علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار

آیت کریمہ کی رو سے فرشتے اہل جنت کو کیا کہیں گے

اس آیت کریمہ کی رو سے فرشتے اہل جنت سے کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو، یہ تمہارے صبر کا بدلہ ہے، اور یہ جنت کا گھر کتنا اچھا ہے۔

جنت میں فرشتوں کا استقبال

1 سلامتی کا پیغام — فرشتے اہل جنت کو سلام کہیں گے۔
2 صبر کا صلہ — انہیں بتائیں گے کہ یہ ان کی دنیا کی تکلیفوں پر صبر کا نتیجہ ہے۔
3 بہترین ٹھکانہ — وہ کہیں گے کہ آخرت کا یہ گھر بہت شاندار ہے۔
3 مختصر جوابات

سورہ الرعد - آیت 25 ۔وَالَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّار

آیت کی رو سے لعنت کا سبب بننے والے اعمال تحریر کریںِ

ترجمہ

اور جو لوگ اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے ہیں اور جس (رشتہ اور حق) کو جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لیے لعنت ہی ہے اور ان کے لیے برا گھر (جہنم) ہے

آیت مبارکہ کی رو سے اللہ کی رحمت سے دوری اور لعنت کا باعث بننے والے تین بنیادی گناہ یہ ہیں

لعنت کا سبب بننے والے اعمال

1 اللہ کے عہد کو توڑنا — اس سے مراد وہ تمام احکام، شریعت اور عہد و پیمان ہیں جو بندے پر اللہ کی طرف سے لازم کیے گئے، مگر اس نے نافرمانی کرتے ہوئے انہیں پسِ پشت ڈال دیا۔
2 قطع رحمی (رشتوں کو توڑنا — جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے ہیں۔” یعنی صلہ رحمی کا حکم پامال کرنا، رشتہ داروں، اپنوں اور باہمی حقوق کے تعلقات کو ختم کرنا اور نااتفاقی پیدا کرنا۔
3 زمین میں فساد پھیلانا — اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔” یعنی زمین پر ظلم و ستم، گناہوں کی اشاعت اور ایسی تمام سرگرمیاں جو امن تباہ کرنے اور معاشرے کی خرابی کا باعث بنیں۔
4 مختصر جوابات

قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهدِيٓ إِلَيهِ مَن أَنَابَ

آیت کی رو سے ہدایت اور گمراہی کا کیا اصول ہے؟

ترجمہ

کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو (اس کی طرف) رجوع ہوتا ہے اس کو اپنی طرف کا رستہ دکھاتا ہے

ہدایت اور گمراہی کا اصول

1 ہدایت کا ضابطہ — اللہ تعالیٰ اپنی توفیقِ ہدایت اسی شخص کو عطا کرتا ہے جو «مَنْ أَنَابَ» (اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور اس کی طرف جھکنے والا ہو)۔ یعنی جو بندہ خود حق کا طالب بنتا ہے اور عاجزی سے خدا کا راستہ ڈھونڈتا ہے۔
2 گمراہی کا ضابطہ — اللہ کا «جسے چاہے گمراہ کرنا» صوابدیدی ظلم نہیں، بلکہ اس کا قانونِ حکمت ہے کہ جو لوگ ضد، تکبر اور اعراض کا رویہ اپناتے ہیں اور اللہ کی طرف میلان نہیں رکھتے، اللہ انہیں انھی کے حال پر چھوڑ دیتاہے۔
5 مختصر جوابات

ما کا ن لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ

آیت میں پیغمبروں سے کس چیز کی نفی کی گئی ہے؟

سورہ الرعد کی آیت 35وما كان لرسول أن يأتي باية إلا بإ ذن اللہ میں پیغمبروں سے اپنی مرضی اور اختیار سے معجزے دکھانے کی نفی کی گئی ہے۔

نفی کی گئی باتیں اور اہم نکات

1 نفی کی گئی باتیں — ذاتی اختیار — پیغمبروں کے پاس یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ لوگوں کی فرمائش پر جب چاہیں معجزہ لے آئیں۔
2 نفی کی گئی باتیں — آزادانہ مرضی — معجزہ لانا پیغمبر کی اپنی مرضی پر نہیں بلکہ صرف اللہ کے حکم اور اجازت پر موقوف تھا۔
3 اہم نکات — اللہ تعالیٰ کی مرضی — ہر معجزہ صرف اس وقت ظاہر ہوتا تھا جب اللہ کا اذن (اجازت) ہوتا۔
4 اہم نکات — تقاضوں کا رد — جب کافر پیغمبروں سے اپنی مرضی کے معجزے مانگتے، تو یہ آیت بتاتی تھی کہ رسول اس کے مالک نہیں ہیں۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

ا َللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ-وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠

ترجمہ و ضاحت کریں

ترجمہ

اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، اور وہ (کافر) دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے، حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک حقیر سی شے (اور چند روزہ فائدہ) کے سوا کچھ بھی نہیں.

وضاحت و تشریح

1 رزق کا مالک اللہ ہے — دنیا میں مال و دولت کی فراوانی یا تنگی کسی انسان کے اچھے یا برے ہونے کا معیار نہیں ہے۔ اللہ اپنی حکمت کے تحت جسے چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔
2 دنیوی زندگی کی حقیقت — دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک حقیر سی ہے۔غافل لوگ عارضی مال و دولت کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور اسی کو سب کچھ سمجھ بھی لیتے ہیں
3 آخرت کی ترجیح — اصل اور ہمیشہ رہنے والی زندگی آخرت کی ہے، جبکہ دنیا کا یہ سارا سامانِ عیش ایک فانی اور مختصر سا دھوکا یا فائدہ ہے.
7 تفصیلی جوابات

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۖ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا ۚ

آیت میں جنت کی کیا نعمتیں بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

اس جنت کا حال جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے (یہ ہے) کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کا پھل بھی ہمیشہ رہنے والا ہے اور اس کا سایہ (بھی)، یہ ان لوگوں کا انجام ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا، اور کافروں کا انجام آتشِ دوزخ ہے

ایت مبارکہ میں جنت کی درج ذیل تین بنیادی نعمتوں اور خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے:

جنت کی بیان کردہ نعمتیں

1 نہروں کا جاری ہونا — جنت کے محلات اور درختوں کے نیچے سے مختلف پاکیزہ نہریں بہتی ہیں۔
2 دائمی پھل (أكلها دائم) — جنت کے پھل اور کھانے کی اشیاء کبھی ختم ہونے والی نہیں ہیں، بلکہ ہر وقت اور ہمیشہ کے لیے مہیا ہوں گی۔
3 لازوال سایہ (ظلها) — جنت کا سایہ بھی دائمی اور ہمیشہ رہنے والا ہے جو کبھی کم یا ختم نہیں ہوگا۔
8 تفصیلی جوابات

سورہ الرعد - آیت 2۔اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ

آیت کا ترجمہ و وضاحت کریں

ترجمہ

(ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے) جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں

وضاحت

جواب “یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دلوں کو قرار اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔دنیا میں انسان کا دل بے چین اور مضطرب رہتا ہے، لیکن جب بندہ اللہ کی معرفت، اس کی تلاوت، اور اس کے ذکر کے ذریعے اپنے خالق سے لو لگاتا ہے، تو دل کی گھبراہٹ ختم ہو جاتی ہے اور اسے حقیقی سکون نصیب ہوتا ہے۔
9 تفصیلی جوابات

قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖؕ-اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ

آیت میں نبیﷺ کو کیا تلقین کی گئی؟

ترجمہ

آپﷺ فر ما دیں۔ مجھے صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤں، میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے

نبی ﷺ کو کی گئی تلقین

جواب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تلقین فرمائی کہ دشمنوں کی مخالفت اور بعض لوگوں کے انکار کی پرواہ نہ کریں۔ آپ کو توحید پر قائم رہنے، صرف اللہ کی عبادت کرنے، اسی کی طرف دعوت دینے اور آخرت میں اسی کی طرف لوٹ کر جانے پر بھروسہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
10 تفصیلی جوابات

سورہ الرعد - آیت 3۔وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كانَ عِقَابِ

آیت کا ترجمہ و وضاحت کریں،

ترجمہ

اور بیشک آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو میں نے کافروں کو کچھ مہلت دی، پھر میں نے انہیں پکڑ لیا، پس کیسا رہا میرا عذاب!

وضاحت

جواب اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ کفار کا آپ پر طنز کرنا اور آپ کی رسالت کا مذاق اڑانا کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی انبیا کے ساتھ یہی رویہ اپنایا گیا۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ منکرین کو فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ ڈھیل (مہلت) دیتا ہے، لیکن جب اس کی پکڑ آتی ہے تو وہ انتہائی سخت اور دردناک ہوتی ہے۔
11 تفصیلی جوابات

َيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا ۚ قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِندَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ

سورہ الرعد - آیت 43 میں کفار کا کیا اعتراض اور اس کا کیا جواب دیا گیا

ترجمہ

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے اور وہ جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے

کفار کا اعتراض اور اللہ کی طرف سے جواب

1 کفار کا اعتراض — کفارِ مکہ اور منکرین نے سرکشی کرتے ہوئے یہ صریح اعتراض اور دعویٰ کیا: “لَسْتَ مُرْسَلًا” (آپ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول نہیں ہیں)۔ وہ آپ کی نبوت و رسالت کا انکار کرتے تھے اور معجزات کی فرمائشیں کرنے کے باوجود آپ کی رسالت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔
2 اللہ کی طرف سے جواب — اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو حکم دیا کہ ان کے اس جھوٹے دعوے کے جواب میں کہہ دیں کہ تمہاری گواہی یا انکار کی پروا نہیں؛ میری رسالت پر ایک تو اللہ کی گواہی کافی ہے (جو اپنے افعال، آیات اور تائیدِ غیبی سے ظاہر کرتا ہے) اور دوسری گواہی اس شخص کے پاس ہے جو کتابِ آسمانی (تورات، انجیل اور قرآن) کا علم رکھتا ہے (یعنی اہل کتاب کے وہ منصف مزاج علماء جو آپ کے اوصافِ حمیدہ اور حقانیت کو پہچان کر ایمان لائے)۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

رزق کی قدر اور احترام کے حوالے سے روزمرہ زندگی سے دس مثالیں دیں

رزق کی قدر اور احترام کرنے کی دس عملی مثالیں یہ ہیں: کھانا ضائع نہ کرنا، بچا ہوا کھانا محفوظ کرنا، اور دسترخوان پر گرنے والے ذرات چن کر کھانا۔

روزمرہ زندگی کی مثالیں

1 کھانا ضائع نہ کرنا — پلیٹ میں صرف اتنی خوراک لینا جتنی ضرورت ہو اور کچھ بھی چھوڑنے سے بچنا۔
2 بچا ہوا کھانا محفوظ کرنا — اضافی کھانا ضائع کرنے کے بجائے اسے ڈھانپ کر یا فریج میں محفوظ رکھنا تاکہ بعد میں کھایا جا سکے۔
3 گرے ہوئے ذرات — دسترخوان یا دسترخوان پر گرے ہوئے کھانے کے چھوٹے ذرات کو احتراماً اٹھا کر کھانا۔
4 کھانے کی دیکھ بھال — روٹی یا کسی بھی خوراک کے ٹکڑے کو پاؤں یا گندی جگہ پر نہ گرنے دینا اور گرنے پر اٹھا کر سائیڈ پر کرنا۔
5 حد سے زیادہ نہ خریدنا — بازار سے ضرورت سے زیادہ سبزیاں، پھل یا راشن خرید کر انہیں خراب ہونے یا سڑنے سے بچانا
6 پانی کی قدر کرنا — گلاس میں اتنا ہیپانی ڈالنا جتنا پینا ہو اور باقی نلکے میں ضائع نہ کرنا۔
7 دستکاری اور محنت کا احترام — کھانا پکانے والے یا کسان کی محنت کو یاد رکھنا اور کھانے میں عیب نہ نکالنا۔
8 بچا ہوا کھانا تقسیم کرنا — گھر میں موجود صاف ستھرا اضافی کھانا کسی ضرورت مند یا غریب انسان کو دے دینا۔
9 برتن اچھے طریقے سے صاف کرنا — کھانے کے بعد پلیٹ اور پیالوں کو اچھی طرح صاف کرنا تاکہ ذرات ضائع نہ ہوں۔
10 کھانے کی بیٹھک کا احترام — کھانے کو ہمیشہ باقاعدہ بیٹھ کر اور صاف جگہ پر احترام کے ساتھ کھانا، چلتے پھرتے گرا دینا نہیں۔
13 سرگرمیاں

صلہ رحمی کی اہمیت و قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کریں

صلہ رحمی سے مراد رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک، مالی امداد اور اچھے تعلقات قائم رکھنا ہے۔ اسلام میں اس کی بنیادی اہمیت یہ ہے کہ یہ اللہ کا حکم، رزق و عمر میں برکت کا ذریعہ اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔

قرآن مجید کی روشنی میں اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں

1 قرآن مجید کی روشنی میں — اللہ کا حکم — قرآن میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے ساتھ رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ “وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ” (النساء: 1)، یعنی اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھو۔
2 قرآن مجید کی روشنی میں — بہترین اعمال میں شمار — سورۃ البقرہ اور سورۃ الرعد میں صاحبانِ عقل اور متقی لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ ان چیزوں کو جوڑتے ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں جوڑا جائے۔
3 احادیث مبارکہ کی روشنی میں — رزق اور عمر میں اضافہ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں فراخی اور عمر میں برکت ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔
4 احادیث مبارکہ کی روشنی میں — جنت کا پروانہ — ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰة دو اور صلہ رحمی کرو۔“
5 احادیث مبارکہ کی روشنی میں — قطع رحمی کی وعید — آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “قطع رحمی کرنے والا (رشتہ توڑنے والا) جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”
14 سرگرمیاں

کسی ناراض رشتہ دار یا دوست کو راضی کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں

کسی ناراض رشتہ دار یا دوست کو منانے کے لیے ضروری ہے کہ ان سے رابطہ کیا جائے، ان کی بات تحمل سے سنی جائے اور خلوص نیت سے معافی مانگی جائے۔

1 بات چیت کا آغاز — پہل کریں — خود آگے بڑھ کر سلام یا پیغام بھیجیں۔
2 بات چیت کا آغاز — مناسب وقت چنیں — جب وہ پرسکون ہوں تب بات کریں۔
3 بات چیت کا طریقہ — غور سے سنیں — ان کا مؤقف سمجھیں اور بیچ میں نہ ٹوکیں۔
4 بات چیت کا طریقہ — غلطی تسلیم کریں — اگر آپ کی غلطی ہے تو صاف دل سے معافی مانگیں۔
5 بات چیت کا طریقہ — وضاحت دیں، بحث نہیں — اپنی مجبوری بتائیں لیکن بحث یا طعنے دینے سے گریز کریں۔
6 صلح کی عملی کوششیں — تحفہ دیں — چھوٹا سا تحفہ یا ان کی پسندیدہ چیز دیں۔
7 صلح کی عملی کوششیں — صبر سے کام لیں — ہو سکتا ہے وہ فوراً نہ مانیں، انھیں وقت دیں۔
8 صلح کی عملی کوششیں — ناراضی کی وجہ یا بات کیا تھی؟
15 سرگرمیاں

سورہ رعد کی روشنی میں اہل حق کی صفات بیان کریں

اہل حق کی صفات

1 عہد کی پابندی — وہ اللہ سے کیا ہوا وعدہ اور عہد پورا کرتے ہیں اور اسے توڑتے نہیں۔
2 صلہ رحمی — وہ ان رشتوں اور چیزوں کو جوڑ کر رکھتے ہیں جن کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔
3 خوفِ خدا — وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ ان کا حساب کتاب برا نہ ہو۔
4 صبر — وہ اپنے رب کی رضا پانے کے لیے ہر مشکل اور تکلیف پر صبر کرتے ہیں۔
5 نماز کی پابندی — وہ باقاعدگی سے نماز قائم کرتے ہیں۔
6 پوشیدہ اور ظاہر خرچ — وہ اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے چھپ کر اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔
7 نیکی سے بدی کا دفعیہ — وہ برائی کا جواب بھلائی اور اچھے عمل سے دیتے ہیں۔
16 سرگرمیاں

حدیث کی روشنی میں لفظ طوبیٰ کا مفہوم بیان کریں

حدیث کی روشنی میں لفظ طوبیٰ کا مفہوم دو طرح سے بیان ہوا ہے: ایک یہ کہ یہ جنت کے ایک خاص عظیم الشان درخت کا نام ہے، اور دوسرا یہ کہ اس سے مراد خوشخبری، سعادت، اور دائمی بھلائی ہے۔

جنت کا ایک درخت اور سعادت، خیر اور خوشخبری

1 جنت کا ایک درخت — احادیثِ مبارکہ میں صراحتاً اس کی تشریح ایک درخت کے طور پر کی گئی ہے۔
2 جنت کا ایک درخت — سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طوبیٰ، جنت میں ایک درخت کا نام ہے، اس (کے سائے) کی مسافت سو سال ہے اور جنتیوں کے کپڑے اس کی کلیوں کے غلاف سے تیار کئے گئے ہیں۔
3 سعادت، خیر اور خوشخبری — لغوی اور سیاقِ حدیث کے اعتبار سے 'طوبیٰ' کا معنی 'طیب' (پاکیزگی اور بھلائی) سے ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے
جواب نے فرمایاطوبیٰ ہے اس شخص کے لیے جسے اس کا اپنا عیب لوگوں کے عیب سے روک دے۔”

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.