اور جو اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور برائی کو اچھائی سے دور کرتے ہیں، ان ہی کے لیے آخرت کا اچھا گھر ہے
اہل حق کی صفات کی تفصیل
1ابتغاء وجه ربهم (صبر) — وہ ہر قسم کے گناہوں، نفسانی خواہشات اور مصیبتوں پر محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے کے لیے صبر کرتے ہیں۔
2اقاموا الصلاة (نماز کا قیام) — وہ پابندی کے ساتھ تمام شرائط، خشوع و خضوع اور آداب کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔
3انفقوا سرا وعلانية (پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرنا) — وہ اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے ضرورت کے وقت چھپ کر اور اعلانیہ دونوں طریقوں سے خیرات و سخاوت کرتے ہیں۔
4يدرءون بالحسنة السيئة (برائی کا جواب نیکی سے دینا) — جب کوئی ان کے ساتھ برائی یا زیادتی کرتا ہے تو وہ بدلہ لینے کے بجائے عفو، درگزر اور اچھے رویے سے اسے ٹالتے ہیں۔
2مختصر جوابات
سلم علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار
آیت کریمہ کی رو سے فرشتے اہل جنت کو کیا کہیں گے
اس آیت کریمہ کی رو سے فرشتے اہل جنت سے کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو، یہ تمہارے صبر کا بدلہ ہے، اور یہ جنت کا گھر کتنا اچھا ہے۔
جنت میں فرشتوں کا استقبال
1سلامتی کا پیغام — فرشتے اہل جنت کو سلام کہیں گے۔
2صبر کا صلہ — انہیں بتائیں گے کہ یہ ان کی دنیا کی تکلیفوں پر صبر کا نتیجہ ہے۔
3بہترین ٹھکانہ — وہ کہیں گے کہ آخرت کا یہ گھر بہت شاندار ہے۔
آیت کی رو سے لعنت کا سبب بننے والے اعمال تحریر کریںِ
ترجمہ
اور جو لوگ اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے ہیں اور جس (رشتہ اور حق) کو جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لیے لعنت ہی ہے اور ان کے لیے برا گھر (جہنم) ہے
آیت مبارکہ کی رو سے اللہ کی رحمت سے دوری اور لعنت کا باعث بننے والے تین بنیادی گناہ یہ ہیں
لعنت کا سبب بننے والے اعمال
1اللہ کے عہد کو توڑنا — اس سے مراد وہ تمام احکام، شریعت اور عہد و پیمان ہیں جو بندے پر اللہ کی طرف سے لازم کیے گئے، مگر اس نے نافرمانی کرتے ہوئے انہیں پسِ پشت ڈال دیا۔
2قطع رحمی (رشتوں کو توڑنا — جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے ہیں۔” یعنی صلہ رحمی کا حکم پامال کرنا، رشتہ داروں، اپنوں اور باہمی حقوق کے تعلقات کو ختم کرنا اور نااتفاقی پیدا کرنا۔
3زمین میں فساد پھیلانا — اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔” یعنی زمین پر ظلم و ستم، گناہوں کی اشاعت اور ایسی تمام سرگرمیاں جو امن تباہ کرنے اور معاشرے کی خرابی کا باعث بنیں۔
کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو (اس کی طرف) رجوع ہوتا ہے اس کو اپنی طرف کا رستہ دکھاتا ہے
ہدایت اور گمراہی کا اصول
1ہدایت کا ضابطہ — اللہ تعالیٰ اپنی توفیقِ ہدایت اسی شخص کو عطا کرتا ہے جو «مَنْ أَنَابَ» (اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور اس کی طرف جھکنے والا ہو)۔ یعنی جو بندہ خود حق کا طالب بنتا ہے اور عاجزی سے خدا کا راستہ ڈھونڈتا ہے۔
2گمراہی کا ضابطہ — اللہ کا «جسے چاہے گمراہ کرنا» صوابدیدی ظلم نہیں، بلکہ اس کا قانونِ حکمت ہے کہ جو لوگ ضد، تکبر اور اعراض کا رویہ اپناتے ہیں اور اللہ کی طرف میلان نہیں رکھتے، اللہ انہیں انھی کے حال پر چھوڑ دیتاہے۔
5مختصر جوابات
ما کا ن لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ
آیت میں پیغمبروں سے کس چیز کی نفی کی گئی ہے؟
سورہ الرعد کی آیت 35وما كان لرسول أن يأتي باية إلا بإ ذن اللہ میں پیغمبروں سے اپنی مرضی اور اختیار سے معجزے دکھانے کی نفی کی گئی ہے۔
نفی کی گئی باتیں اور اہم نکات
1نفی کی گئی باتیں — ذاتی اختیار — پیغمبروں کے پاس یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ لوگوں کی فرمائش پر جب چاہیں معجزہ لے آئیں۔
2نفی کی گئی باتیں — آزادانہ مرضی — معجزہ لانا پیغمبر کی اپنی مرضی پر نہیں بلکہ صرف اللہ کے حکم اور اجازت پر موقوف تھا۔
3اہم نکات — اللہ تعالیٰ کی مرضی — ہر معجزہ صرف اس وقت ظاہر ہوتا تھا جب اللہ کا اذن (اجازت) ہوتا۔
4اہم نکات — تقاضوں کا رد — جب کافر پیغمبروں سے اپنی مرضی کے معجزے مانگتے، تو یہ آیت بتاتی تھی کہ رسول اس کے مالک نہیں ہیں۔
اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، اور وہ (کافر) دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے، حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک حقیر سی شے (اور چند روزہ فائدہ) کے سوا کچھ بھی نہیں.
وضاحت و تشریح
1رزق کا مالک اللہ ہے — دنیا میں مال و دولت کی فراوانی یا تنگی کسی انسان کے اچھے یا برے ہونے کا معیار نہیں ہے۔ اللہ اپنی حکمت کے تحت جسے چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔
2دنیوی زندگی کی حقیقت — دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک حقیر سی ہے۔غافل لوگ عارضی مال و دولت کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور اسی کو سب کچھ سمجھ بھی لیتے ہیں
3آخرت کی ترجیح — اصل اور ہمیشہ رہنے والی زندگی آخرت کی ہے، جبکہ دنیا کا یہ سارا سامانِ عیش ایک فانی اور مختصر سا دھوکا یا فائدہ ہے.
اس جنت کا حال جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے (یہ ہے) کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کا پھل بھی ہمیشہ رہنے والا ہے اور اس کا سایہ (بھی)، یہ ان لوگوں کا انجام ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا، اور کافروں کا انجام آتشِ دوزخ ہے
ایت مبارکہ میں جنت کی درج ذیل تین بنیادی نعمتوں اور خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے:
جنت کی بیان کردہ نعمتیں
1نہروں کا جاری ہونا — جنت کے محلات اور درختوں کے نیچے سے مختلف پاکیزہ نہریں بہتی ہیں۔
2دائمی پھل (أكلها دائم) — جنت کے پھل اور کھانے کی اشیاء کبھی ختم ہونے والی نہیں ہیں، بلکہ ہر وقت اور ہمیشہ کے لیے مہیا ہوں گی۔
3لازوال سایہ (ظلها) — جنت کا سایہ بھی دائمی اور ہمیشہ رہنے والا ہے جو کبھی کم یا ختم نہیں ہوگا۔
(ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے) جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں
وضاحت
جواب“یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دلوں کو قرار اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔دنیا میں انسان کا دل بے چین اور مضطرب رہتا ہے، لیکن جب بندہ اللہ کی معرفت، اس کی تلاوت، اور اس کے ذکر کے ذریعے اپنے خالق سے لو لگاتا ہے، تو دل کی گھبراہٹ ختم ہو جاتی ہے اور اسے حقیقی سکون نصیب ہوتا ہے۔
آپﷺ فر ما دیں۔ مجھے صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤں، میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے
نبی ﷺ کو کی گئی تلقین
جواباس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تلقین فرمائی کہ دشمنوں کی مخالفت اور بعض لوگوں کے انکار کی پرواہ نہ کریں۔ آپ کو توحید پر قائم رہنے، صرف اللہ کی عبادت کرنے، اسی کی طرف دعوت دینے اور آخرت میں اسی کی طرف لوٹ کر جانے پر بھروسہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اور بیشک آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو میں نے کافروں کو کچھ مہلت دی، پھر میں نے انہیں پکڑ لیا، پس کیسا رہا میرا عذاب!
وضاحت
جواباس آیت میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ کفار کا آپ پر طنز کرنا اور آپ کی رسالت کا مذاق اڑانا کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی انبیا کے ساتھ یہی رویہ اپنایا گیا۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ منکرین کو فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ ڈھیل (مہلت) دیتا ہے، لیکن جب اس کی پکڑ آتی ہے تو وہ انتہائی سخت اور دردناک ہوتی ہے۔
سورہ الرعد - آیت 43 میں کفار کا کیا اعتراض اور اس کا کیا جواب دیا گیا
ترجمہ
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے اور وہ جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے
کفار کا اعتراض اور اللہ کی طرف سے جواب
1کفار کا اعتراض — کفارِ مکہ اور منکرین نے سرکشی کرتے ہوئے یہ صریح اعتراض اور دعویٰ کیا: “لَسْتَ مُرْسَلًا” (آپ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول نہیں ہیں)۔ وہ آپ کی نبوت و رسالت کا انکار کرتے تھے اور معجزات کی فرمائشیں کرنے کے باوجود آپ کی رسالت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔
2اللہ کی طرف سے جواب — اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو حکم دیا کہ ان کے اس جھوٹے دعوے کے جواب میں کہہ دیں کہ تمہاری گواہی یا انکار کی پروا نہیں؛ میری رسالت پر ایک تو اللہ کی گواہی کافی ہے (جو اپنے افعال، آیات اور تائیدِ غیبی سے ظاہر کرتا ہے) اور دوسری گواہی اس شخص کے پاس ہے جو کتابِ آسمانی (تورات، انجیل اور قرآن) کا علم رکھتا ہے (یعنی اہل کتاب کے وہ منصف مزاج علماء جو آپ کے اوصافِ حمیدہ اور حقانیت کو پہچان کر ایمان لائے)۔
سرگرمیاں
12سرگرمیاں
رزق کی قدر اور احترام کے حوالے سے روزمرہ زندگی سے دس مثالیں دیں
رزق کی قدر اور احترام کرنے کی دس عملی مثالیں یہ ہیں: کھانا ضائع نہ کرنا، بچا ہوا کھانا محفوظ کرنا، اور دسترخوان پر گرنے والے ذرات چن کر کھانا۔
روزمرہ زندگی کی مثالیں
1کھانا ضائع نہ کرنا — پلیٹ میں صرف اتنی خوراک لینا جتنی ضرورت ہو اور کچھ بھی چھوڑنے سے بچنا۔
2بچا ہوا کھانا محفوظ کرنا — اضافی کھانا ضائع کرنے کے بجائے اسے ڈھانپ کر یا فریج میں محفوظ رکھنا تاکہ بعد میں کھایا جا سکے۔
3گرے ہوئے ذرات — دسترخوان یا دسترخوان پر گرے ہوئے کھانے کے چھوٹے ذرات کو احتراماً اٹھا کر کھانا۔
4کھانے کی دیکھ بھال — روٹی یا کسی بھی خوراک کے ٹکڑے کو پاؤں یا گندی جگہ پر نہ گرنے دینا اور گرنے پر اٹھا کر سائیڈ پر کرنا۔
5حد سے زیادہ نہ خریدنا — بازار سے ضرورت سے زیادہ سبزیاں، پھل یا راشن خرید کر انہیں خراب ہونے یا سڑنے سے بچانا
6پانی کی قدر کرنا — گلاس میں اتنا ہیپانی ڈالنا جتنا پینا ہو اور باقی نلکے میں ضائع نہ کرنا۔
7دستکاری اور محنت کا احترام — کھانا پکانے والے یا کسان کی محنت کو یاد رکھنا اور کھانے میں عیب نہ نکالنا۔
8بچا ہوا کھانا تقسیم کرنا — گھر میں موجود صاف ستھرا اضافی کھانا کسی ضرورت مند یا غریب انسان کو دے دینا۔
9برتن اچھے طریقے سے صاف کرنا — کھانے کے بعد پلیٹ اور پیالوں کو اچھی طرح صاف کرنا تاکہ ذرات ضائع نہ ہوں۔
10کھانے کی بیٹھک کا احترام — کھانے کو ہمیشہ باقاعدہ بیٹھ کر اور صاف جگہ پر احترام کے ساتھ کھانا، چلتے پھرتے گرا دینا نہیں۔
13سرگرمیاں
صلہ رحمی کی اہمیت و قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کریں
صلہ رحمی سے مراد رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک، مالی امداد اور اچھے تعلقات قائم رکھنا ہے۔ اسلام میں اس کی بنیادی اہمیت یہ ہے کہ یہ اللہ کا حکم، رزق و عمر میں برکت کا ذریعہ اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔
قرآن مجید کی روشنی میں اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں
1قرآن مجید کی روشنی میں — اللہ کا حکم — قرآن میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے ساتھ رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ “وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ” (النساء: 1)، یعنی اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھو۔
2قرآن مجید کی روشنی میں — بہترین اعمال میں شمار — سورۃ البقرہ اور سورۃ الرعد میں صاحبانِ عقل اور متقی لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ ان چیزوں کو جوڑتے ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں جوڑا جائے۔
3احادیث مبارکہ کی روشنی میں — رزق اور عمر میں اضافہ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں فراخی اور عمر میں برکت ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔
4احادیث مبارکہ کی روشنی میں — جنت کا پروانہ — ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰة دو اور صلہ رحمی کرو۔“
5احادیث مبارکہ کی روشنی میں — قطع رحمی کی وعید — آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “قطع رحمی کرنے والا (رشتہ توڑنے والا) جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”
14سرگرمیاں
کسی ناراض رشتہ دار یا دوست کو راضی کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں
کسی ناراض رشتہ دار یا دوست کو منانے کے لیے ضروری ہے کہ ان سے رابطہ کیا جائے، ان کی بات تحمل سے سنی جائے اور خلوص نیت سے معافی مانگی جائے۔
1بات چیت کا آغاز — پہل کریں — خود آگے بڑھ کر سلام یا پیغام بھیجیں۔
2بات چیت کا آغاز — مناسب وقت چنیں — جب وہ پرسکون ہوں تب بات کریں۔
3بات چیت کا طریقہ — غور سے سنیں — ان کا مؤقف سمجھیں اور بیچ میں نہ ٹوکیں۔
4بات چیت کا طریقہ — غلطی تسلیم کریں — اگر آپ کی غلطی ہے تو صاف دل سے معافی مانگیں۔
5بات چیت کا طریقہ — وضاحت دیں، بحث نہیں — اپنی مجبوری بتائیں لیکن بحث یا طعنے دینے سے گریز کریں۔
6صلح کی عملی کوششیں — تحفہ دیں — چھوٹا سا تحفہ یا ان کی پسندیدہ چیز دیں۔
7صلح کی عملی کوششیں — صبر سے کام لیں — ہو سکتا ہے وہ فوراً نہ مانیں، انھیں وقت دیں۔
8صلح کی عملی کوششیں — ناراضی کی وجہ یا بات کیا تھی؟
15سرگرمیاں
سورہ رعد کی روشنی میں اہل حق کی صفات بیان کریں
اہل حق کی صفات
1عہد کی پابندی — وہ اللہ سے کیا ہوا وعدہ اور عہد پورا کرتے ہیں اور اسے توڑتے نہیں۔
2صلہ رحمی — وہ ان رشتوں اور چیزوں کو جوڑ کر رکھتے ہیں جن کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔
3خوفِ خدا — وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ ان کا حساب کتاب برا نہ ہو۔
4صبر — وہ اپنے رب کی رضا پانے کے لیے ہر مشکل اور تکلیف پر صبر کرتے ہیں۔
5نماز کی پابندی — وہ باقاعدگی سے نماز قائم کرتے ہیں۔
6پوشیدہ اور ظاہر خرچ — وہ اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے چھپ کر اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔
7نیکی سے بدی کا دفعیہ — وہ برائی کا جواب بھلائی اور اچھے عمل سے دیتے ہیں۔
16سرگرمیاں
حدیث کی روشنی میں لفظ طوبیٰ کا مفہوم بیان کریں
حدیث کی روشنی میں لفظ طوبیٰ کا مفہوم دو طرح سے بیان ہوا ہے: ایک یہ کہ یہ جنت کے ایک خاص عظیم الشان درخت کا نام ہے، اور دوسرا یہ کہ اس سے مراد خوشخبری، سعادت، اور دائمی بھلائی ہے۔
جنت کا ایک درخت اور سعادت، خیر اور خوشخبری
1جنت کا ایک درخت — احادیثِ مبارکہ میں صراحتاً اس کی تشریح ایک درخت کے طور پر کی گئی ہے۔
2جنت کا ایک درخت — سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طوبیٰ، جنت میں ایک درخت کا نام ہے، اس (کے سائے) کی مسافت سو سال ہے اور جنتیوں کے کپڑے اس کی کلیوں کے غلاف سے تیار کئے گئے ہیں۔
3سعادت، خیر اور خوشخبری — لغوی اور سیاقِ حدیث کے اعتبار سے 'طوبیٰ' کا معنی 'طیب' (پاکیزگی اور بھلائی) سے ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے
جوابنے فرمایاطوبیٰ ہے اس شخص کے لیے جسے اس کا اپنا عیب لوگوں کے عیب سے روک دے۔”
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔