اس سبق کا مرکزی موضوع ہی توحید ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے سامنے ایسے دلائل رکھے جو ان کے اپنے اقرار، اپنی عقل اور اپنے مشاہدے سے لیے گئے ہیں۔ ان میں سے پانچ نمایاں دلائل درج ذیل ہیں:
1
۱۔ خود مشرکین کا اقرارِ ربوبیت (آیت 31) — سوال کی صورت میں دلیل — پوچھا گیا: تمہیں آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ کان اور آنکھوں کا مالک کون ہے؟ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے کون نکالتا ہے؟ اور سارے کاموں کی تدبیر کون کرتا ہے؟
2
۱۔ خود مشرکین کا اقرارِ ربوبیت (آیت 31) — ان کا اپنا جواب — قرآن نے خود بتا دیا کہ وہ فوراً کہیں گے: “اللہ” — یعنی خالق و رازق ماننے پر وہ مجبور تھے۔
3
۱۔ خود مشرکین کا اقرارِ ربوبیت (آیت 31) — نتیجہ — تو پھر فرمایا گیا “أَفَلَا تَتَّقُونَ” — جب پیدا کرنے اور پالنے والا وہی ہے تو عبادت کسی اور کی کیوں؟ ربوبیت کا اقرار الوہیت کے اقرار کو لازم کرتا ہے۔
4
۲۔ حق کے بعد صرف گمراہی ہے (آیت 32) — فَذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ ٱلۡحَقُّۖ فَمَاذَا بَعۡدَ ٱلۡحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَٰلُۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ تو یہی اللہ تمہارا سچا رب ہے؛ پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا رہ جاتا ہے؟ تو تم کہاں پھیرے جا رہے ہو؟ (سورۃ یونس ۔ آیت 32)
5
۲۔ حق کے بعد صرف گمراہی ہے (آیت 32) — درمیانی راستہ نہیں — یہ عقلی اصول ہے کہ حق ایک ہی ہوتا ہے؛ اس سے ہٹنے کے بعد جو کچھ ہے وہ گمراہی ہی ہے۔
6
۲۔ حق کے بعد صرف گمراہی ہے (آیت 32) — توحید ہی حق ہے — جب یہ ثابت ہو گیا کہ رب وہی ہے، تو اس کے سوا کسی کی بندگی خودبخود باطل ٹھہر گئی۔
7
۳۔ شریک تخلیق اور اعادہ سے عاجز ہیں (آیت 34) — چیلنج — پوچھیے: کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرے، پھر اسے دوبارہ لوٹائے؟
8
۳۔ شریک تخلیق اور اعادہ سے عاجز ہیں (آیت 34) — جواب خود دے دیا گیا — کہہ دیجیے کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ لوٹاتا ہے — کیونکہ مخالف کے پاس کوئی جواب تھا ہی نہیں۔
9
۳۔ شریک تخلیق اور اعادہ سے عاجز ہیں (آیت 34) — عبادت کا استحقاق — جو پیدا ہی نہ کر سکے، وہ پوجے جانے کا حق کیسے رکھتا ہے۔
10
۴۔ شریک ہدایت نہیں دے سکتے (آیت 35) — دوسرا چیلنج — کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرے؟ رہنمائی صرف اللہ کرتا ہے۔
11
۴۔ شریک ہدایت نہیں دے سکتے (آیت 35) — فیصلہ کن سوال — “أَفَمَن يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلۡحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ” — جو حق کی طرف رہنمائی کرے وہ پیروی کا زیادہ حق دار ہے، یا وہ جو خود راستہ نہ پائے جب تک اسے راستہ نہ دکھایا جائے؟
12
۴۔ شریک ہدایت نہیں دے سکتے (آیت 35) — عقل کا تقاضا — بتوں کو تو خود اٹھا کر رکھنا پڑتا تھا؛ ایسی چیز کسی کو کیا راہ دکھائے گی۔
13
۵۔ شرک کی بنیاد صرف گمان ہے (آیت 66) — أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَمَا يَتَّبِعُ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُرَكَآءَۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا يَخۡرُصُونَ سن لو! جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے؛ اور جو لوگ اللہ کے سوا شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کس چیز کی پیروی کر رہے ہیں؟ وہ محض گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور صرف اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ (سورۃ یونس ۔ آیت 66)
14
۵۔ شرک کی بنیاد صرف گمان ہے (آیت 66) — ملکیت کا اصول — جب آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے تو ملکیت میں سے کوئی چیز مالک کی شریک کیسے ہو سکتی ہے۔
15
۵۔ شرک کی بنیاد صرف گمان ہے (آیت 66) — دلیل کا فقدان — مشرکین کے پاس علم یا کوئی سند نہ تھی، صرف باپ دادا کا رواج اور اندازے تھے۔
16
۵۔ شرک کی بنیاد صرف گمان ہے (آیت 66) — گمان حق کا بدل نہیں — عقیدے کی بنیاد یقین اور وحی پر ہونی چاہیے، خیال اور اٹکل پر نہیں۔
17
انہی آیات میں مزید اشارے — نظامِ لیل و نہار (آیت 67) — رات کو آرام کے لیے اور دن کو روشن بنانا — اسی سبق کے سوال 4 میں یہی آیت گزری۔
18
انہی آیات میں مزید اشارے — اولاد سے پاکی (آیت 68) — “اللہ نے بیٹا بنا لیا” کہنے والوں کا رد کہ وہ بے نیاز ہے، سب کچھ اسی کا ہے، اور اس دعوے پر تمہارے پاس کوئی سند نہیں۔
19
انہی آیات میں مزید اشارے — علمِ محیط (آیت 61) — ذرہ برابر کوئی چیز اس سے چھپی نہیں — یہ صفت کسی شریک میں نہیں پائی جاتی۔
20
انہی آیات میں مزید اشارے — قرآن کا چیلنج (آیت 38) — اگر شک ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ — یہ نبوت کے ساتھ ساتھ توحید کی بھی دلیل ہے۔
21
خلاصہ — ان تمام دلائل کا اندازِ استدلال ایک ہی ہے: پہلے وہ بات تسلیم کرائی جاتی ہے جس کا مخالف بھی انکار نہیں کر سکتا (خلق، رزق، تدبیر)، پھر اس سے وہ نتیجہ نکالا جاتا ہے جس سے وہ بھاگ رہا تھا (عبادت صرف اللہ کی)۔ یہی قرآن کا طریقۂ استدلال ہے — عقل، مشاہدہ اور خود مخالف کے اقرار سے۔