دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 7: سبق 7: سورہ یونس — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمی اور مزید سرگرمیاں · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ كَأَن لَّمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا سَاعَةٗ مِّنَ ٱلنَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيۡنَهُمۡۚ قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ (سورۃ یونس ۔ آیت 45)

ایت کریمہ کے مطابق روز محشر جی اٹھنے پر دنیا کی زندگی کا دورانیہ کیسا محسوس ہوگا ۔ایت نمبر 45

ترجمہ

اور جس دن وہ انہیں جمع فرمائے گا تو انہیں ایسے محسوس ہوگا گویا وہ دنیا میں دن کی صرف ایک گھڑی ٹھرے ہیں

جواب اس ایت مبارکہ میں اخرت اور عذاب کے جھٹلانے والوں کے لیے جواب ہے فرمایا کہ آج تو ان کو آخرت بہت دور معلوم ہوتی ہے لیکن جس دن وہ اکٹھا کیے جائیں گے اس دن اس دنیا کی زندگی کے متعلق ان کی سوچ یہ ہوگی کہ وہ اس دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے وہ ایک دوسرے کو اس طرح پہچانتے ہوں گے گویا ان کی ملاقات صبح یا شام کا قصہ ہے ہر بات ذہن میں اس طرح تازہ ہوگی گویا اس پر کوئی زمانہ گزرا ہی نہیں مطلب یہ کہ اصل شے تو وہ احساس ہے جو اس دنیا کی زندگی سے متعلق روز اخرت ان پر طاری ہوگا تو اب یہ انسان کی محرومی ہی ہے کہ وہ اس دنیا کی زندگی کو بہت طویل اور سب کچھ سمجھ کر اخرت سے بے پرواہ بیٹھے اور جب اس سے ڈرایا جائے تو یہ رٹ لگانا شروع کر دے کہ اگر وہ آنی ہے تو آکیوں نہیں جاتی؟
2 مختصر جوابات

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡكُم مَّوۡعِظَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَشِفَآءٞ لِّمَا فِي ٱلصُّدُورِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ (سورۃ یونس ۔ آیت 57)

اس ایت کریمہ میں قران مجید کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں

ترجمہ

یقینا تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت ا چکی ہے اور ان بیماریوں کی شفا جو سینوں میں ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

اس ایت کریمہ میں قران مجید کی چار صفات بیان کی گئی ہیں

قران حکیم کی صفات

1 موعظة۔ قران حکیم ایسی نصیحت ہے جس سے دلوں میں نرمی دنیا سے بے رغبتی اور اخرت سے لگاؤ پیدا ہوتا ہے
2 شفاء۔ یہ انسانوں کی باطنی بیماریوں یعنی دل کی بیماریوں کا علاج ہے۔یعنی قران حکیم دلوں پر دوا کی مانند اثر کر کے تکبر حسد بغض اور حب دنیا جیسے مال و دولت اولاد بیوی شہرت وغیرہ کی حد سے بڑی ہوئی تمام محبتوں جیسی امراض کو دور کرتا ہے
3 ھدی۔ یہ انسانوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کے لیے ہدایت فراہم کرتا ہے
4 رحمة۔ اس پر ایمان لانا اور اور اس کی پیروی کرنا دنیا اور اخرت میں رحمت کا ذریعہ ہے ۔یہ قران اللہ کی رحمت کا سب سے بڑا مظہر ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے الر حمن علم القران ۔
3 مختصر جوابات

أَلَآ إِنَّ أَوۡلِيَآءَ ٱللَّهِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ (سورۃ یونس ۔ آیت 62)

ایت کریمہ میں اولیاء اللہ کو کیا بشارت دی گئی ہے

ترجمہ

آگاہ ہو جاؤ بے شک جو اللہ کے دوست ہیں ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اولیاء ولی کی جمع ہے جس کے معنی قرب محب صدیق اور مددگار وغیرہ کے ہیں مومن کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کا ولی ہے ۔ولی وہ مومن کامل ہے جو اللہ کو پہچاننے اخلاص کے ساتھ دائمی عبادت کرنے اور ہر قسم کے گناہوں سے اجتناب کرنے والا ہے جس کا دل اللہ کی یاد اور اس کے دھیان میں مشغول رہے شب و روز تسبیح اور تحلیل میں مصروف ہو اس کا دل محبت الہی سے لبریز ہو ۔وہ اگر کسی سے محبت کرتا ہے تو اللہ کے لیے اگر کسی سے نفرت کرتا ہے تو اللہ کے لیے یہی وہ مقام ہے جسے حدیث میں تکمیل ایمان کہا گیا ہے آیت مبارکہ میں اولیاء اللہ کو دو بشارتیں دی گئی ہیں

1 ان پر کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں
جواب خوف کاتعلق مستقبل سے ہےاور غم ماضی کے واقعات سے تعلق رکھتا ہے اولیا اللہ نہ ماضی کی حادثات اور فوت شدہ چیزوں پر اور نہ مستقبل کے اندیشوں اور پریشانیوں کا خوف رکھتے ہیں ۔ماضی کی کسی بات کا کوئی غم نہ ہونا اور مستقبل میں بے خوف ہونا یہ بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ دنیا میں عام طور پر ہر انسان کو خواہ وہ کتنا ہی خوشحال ہو اسےہر وقت مستقبل کا کوئی نہ کوئی خوف یا ماضی کا کوئی نہ کوئی غم پریشان کرتا رہتا ہے ۔یہ نعمت ،کامل طور پر تو صرف جنت میں ہی حاصل ہوگی کہ انسان ہر طرح کے خوف اور صدمے سے بالکل ازاد ہو جائے گا
4 مختصر جوابات

هُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ لِتَسۡكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَسۡمَعُونَ (سورۃ یونس ۔ آیت 67)

ایت کریمہ میں اللہ نے رات اور دن کی تخلیق کا کیا مقصد بیان کیا ہے ایت 67

ترجمہ

وہی اللہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا

جواب ایت مبارکہ میں رات کی تخلیق کا مقصد یہ بیان ہو رہا ہے کہ انسان اس میں آرام اور سکون اختیار کرے کیونکہ دن بھر کام کاج اور محنت مشقت سے انسان تھکاوٹ محسوس کرنے لگتا ہے اس لیے سے آرام وسکون کی بھی ضرورت ہوتی ہے اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالی نے رات کی تخلیق فرمائی دن کی تخلیق کا مقصد بیان کیا کہ اللہ نے دن کو روشن بنایا تااکہ تم اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے سورج کی روشنی سے استفادہ حاصل کرو اپنے لیے رزق و روزی تلاش کرو اور اپنے کام کاج کر سکو ۔ دراصل کائنات کی نشانیاں اللہ کے وجود اور قدرت پر دلیل بھی ہیں اور انہی لوگوں کے لیے مفید بھی ہیں جو اللہ کے کلام ، اس کی وعظ و نصیحت اور حق کو قبول کرنے کی نیت سے سنیں اور ان کے تقاضوں کے مطابق چلیں اور حق و قبول کرنے سے گریز نہ کریں
5 مختصر جوابات

قُلۡ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُونَ (سورۃ یونس ۔ آیت 69)

ایت کریمہ میں کن لوگوں کی ناکامی کی خبر دی گئی ہے ایت 69

ترجمہ

آپ فرما دیجئے بے شک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے

جواب آیت مبارکہ کی رو سے اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنے والوں کو ناکامی کی خبر دی گئی ہے یعنی ایسے لوگ اگر وقتی طور پر کچھ فائدہ حاصل کر بھی لیں بالاخر دائمی ناکامی اور نامرادی ان کا مقدر بنتی ہے ایسے لوگوں کے چند روزہ عیش کا خاتمہ یقینی ذلت اور مصیبت پر ہوتا ہے آخرت میں بھی یہ لوگ ذلیل و رسوا ہی ہوں گے۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے سے مراد اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا بھی ہو سکتا ہے ۔یا خود سے باتیں گھڑ کر انہیں اللہ سے منسوب کر دینا بھی اسی میں شامل ہے

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أَمَّن يَمۡلِكُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَمَن يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُۚ فَقُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ (سورۃ یونس ۔ آیت 31)

ایت کا ترجمہ تحریر کریں نیز بتائیں کہ مشرکین کو اعتراف حق کے لیے سوالیہ انداز میں پیش کیے جانے والے کون سے دلائل دیے گئے ہیں

ترجمہ

آپ فرما دیجیے تمہیں آسمان اور زمین میں کون رزق عطا کرتا ہے یا کون ہے جو کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے اور کون زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور کون مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور کون ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے تو وہ ضرور کہیں گے اللہ تو اپ فرما دیجئے تو کیا تم نہیں ڈرتے

اس آیت مبارکہ میں مشرکین کو اعتراف حق کے لیے سوالیہ انداز میں پیش کیے جانے والے چار دلائل کا ذکر ہے

1 کون آسمان و زمین سے انسان کے لیے رزق پیدا کرتا ہے
2 انسان کی سماعت و بصارت کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں
3 کون زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کر سکتا ہے
4 کائنات کے تمام معاملات کی تدبیر کون کرتا ہے
جواب مشرکین بھی اللہ ہی کی ربوبیت کے اعتراف کرتے تھے سچائی کو جاننے کے باوجود شرک پر اڑے رہنے پر انہیں عذاب کی تنبیہ کی گئی ہے
7 تفصیلی جوابات

قُلۡ هَلۡ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥۚ قُلِ ٱللَّهُ يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ (سورۃ یونس ۔ آیت 34)

ایت کریمہ میں مشرکین سے کیا سوال کیا گیا اور اس کا کیا جواب دیا گیا

ترجمہ

اپ فرما دیجئے کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہو کہ یا اسےلوٹائے آپ فرما دیجئے اللہ ہی مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے اور پھر وہی اس کو لوٹائے گا پھر تم کہاں بہکے چلے جا رہے ہو

جواب اس ایت مبارکہ میں مشرکین سے باطل خداؤں کے بارے میں براہ راست پوچھا جا رہا ہے کہ تمہارے معبودان باطل میں سے کون ہے جس نے ابتدا میں اس کائنات کو پیدا کیا ہو یاپھرسے دوبارہ اسےوجود بخشے گا ۔ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں تھا اور ہمیشہ اس کا جواب نفی میں ہی رہے گا لہذا نبی کریم کو حکم ہوا کہ اپ بے دھڑک فرمائیں کہ اللہ ہی نے انہیں پہلی مرتبہ بغیر نمونے کے پیدا فرمایا تھا اور وہی دوبارہ انہیں پیدا کرے گا جب اللہ کو ان کا خالق اور دوبارہ پیدا کرنے والا مانتے ہو تو پھر کہاں بھٹکتے پھرتے ہو ؟ جب پیدا کرنے والا اور تمہیں اپنے پاس لوٹانے والا بھی ایک اللہ ہی ہے پھر تمہارے باطل معبود کہاں سے درمیان میں آگئےاور ان کا کیا اختیار ہے ؟
8 تفصیلی جوابات

قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِي ضَرّٗا وَلَا نَفۡعًا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌۚ إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَلَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ (سورۃ یونس ۔ آیت 49)

ایت کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم تحریر کریں

ترجمہ

اپ فرما دیجیے میں خود اپنے لیے اختیار نہیں رکھتا نہ کسی نقصان کا نہ کسی نفع کا مگر جو اللہ چاہے ہر امت کے لیے وقت مقرر ہے جب ان کا وقت مقرر ا جاتا ہے تو نہ وہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ وہ اگے بڑھ سکتے ہیں

مفہوم

جواب کفار مشرکین رسول اکرم سے بار بار پوچھتے تھے کہ عذاب کب ائے گا اپ اسے جلدی کیوں نہیں اتارتے تو یہاں ۔مشرکین کے مطالبے کا جواب دو طریقوں سے دیا گیا ہے رسول اللہ عذاب نہیں لائیں گے اللہ جب چاہے گا عذاب لے ائے گا ۔ہر امت کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر کر دی گئی ہے عذاب کا وقت آنے پر اس میں تاخیر نہیں ہو سکتی اللہ تعالی کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تاخیر کی تو اس پر فورا عذاب کا فیصلہ نافذ کر دے بلکہ اللہ کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سمجھنے کے لیے کافی وقت دیتا ہے پھر وہ مہلت جب پوری ہو جاتی ہے اور وہ شخص اپنی باغیانی روش سے باز نہیں آتا تو تب اللہ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے یہ فیصلے کا وقت اللہ کی مقرر کردہ مدت سے نہ ایک گھڑی پہلے آسکتا ہے اور نہ وقت آجانے کے بعد ایک لمحہ ٹل سکتا ہے اس لیے اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو حکم دیا کہ اپ اعلان کر دیں میں تو اپنی ذات کے لیے بھی نفع نقصان پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا سوائے اس کے جو اختیار اور قدرت میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہو تو میں اس کی مرضی کے بغیر تم پر عذاب کیسے اتار سکتے ہو
9 تفصیلی جوابات

قُلۡ أَرَءَيۡتُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ لَكُم مِّن رِّزۡقٖ فَجَعَلۡتُم مِّنۡهُ حَرَامٗا وَحَلَٰلٗا قُلۡ ءَآللَّهُ أَذِنَ لَكُمۡۖ أَمۡ عَلَى ٱللَّهِ تَفۡتَرُونَ (سورۃ یونس ۔ آیت 59)

ایت کریمہ میں اللہ کے نازل کردہ رزق کو حرام اور حلال ٹھہرانے والوں کو کیا تنبیہ کی گئی ہے

ترجمہ

اپ فرما دیجئے بھلا تم دیکھو جو اللہ نے تمہارے لیے رزق نازل فرمایا ہے تو تم نے اس میں سے کچھ حرام اور کچھ حلال ٹھہرا لیا ہے اپ فرما دیجئے کیا اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے یا تو اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو

جواب اس ایت مبارکہ میں مشرکین کے مذہبی پیشواؤں کو سرزنش کی گئی ہے وہ اپنی من گھڑت رسموں کے ذریعے اللہ کے عطا کردہ رزق کو حلال یا حرام ٹھہراتے تھے رزق کا اطلاق صرف خوراک پر ہی نہیں ہوتا بلکہ مال صحت علم لباس مکان اور سواری وغیرہ بھی رزق میں شامل ہے ۔مشرکین نے مختلف جانوروں کو بتوں کے ناموں پر مخصوص کر کے انہیں خوامخواہ حرام قرار دے دیا تھا اپنی طرف سے کسی بھی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے اس لیے اللہ تعالی نے یہاں مشرکین کو تنبیہ کی اور اگلی ایت میں فرمایا کہ اللہ ایسے لوگوں کو شدید عذاب میں مبتلا کرے گا
10 تفصیلی جوابات

ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ لَهُمُ ٱلۡبُشۡرَىٰ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۚ لَا تَبۡدِيلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ (سورۃ یونس ۔ آیات 63-64)

ترجمہ کریں اور بتائیں کہ ان ایات میں اہل ایمان کے لیے کن بشارتوں کا ذکر ہے

ترجمہ

جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور اخرت میں بھی اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی یہی بہت بڑی کامیابی ہے

جواب وہ لوگ سچے اور مخلص مومن ہوتے ہیں جن کے دل نور امان سے منور ہوتے ہیں وہ اللہ کی اطاعت سے سرشارتیں ہیں اور گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں جو لوگ ایمان لائے تقوی اختیار کیا یہ لوگ اولیاء اللہ ہیں اولیاء اللہ کے لیے دنیا اور اخرت کی بشارتیں دی گئی ہیں یہ بشارتیں ختمی اور یقینی ہیں اور یہی حقیقت میں سب سے بڑی کامیابی ہے حدیث مبارکہ کے مطابق اس بشارت سے اچھے خواب مراد ہیں جنہیں ادمی خود دیکھے یا اس کے لیے دکھایا جائے یعنی اس کے لیے کوئی اور دیکھے مطلب یہ کہ مومن بندے ایسے خواب دیکھ لیتے ہیں جن میں ان کے لیے خیر و خوبی کی اور حسن خاتمہ کی اور اعمال قبولیت اور جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری ہوتی ہے بعض مفسرین اس بشارت سے دنیا میں نیک نامی بھی مراد لیتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا دنیا کی بشارت یہ ہے یہ موت کے وقت فرشتے بشارت لے کر اتے ہیں اور اللہ کی رضا مندی کی خوشخبری دے دی جاتی ہے حضرت حسن نے فرمایا اس سے مراد وہ بشارت ہے جس کا اللہ نے مومنین سے وعدہ فرمایا ہے کہ انہیں جنت کا داخلہ نصیب ہوگا اور ان کے اعمال کا اچھا ثواب ملے گا
11 تفصیلی جوابات

وَمَا تَكُونُ فِي شَأۡنٖ وَمَا تَتۡلُواْ مِنۡهُ مِن قُرۡءَانٖ وَلَا تَعۡمَلُونَ مِنۡ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيۡكُمۡ شُهُودًا إِذۡ تُفِيضُونَ فِيهِۚ وَمَا يَعۡزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثۡقَالِ ذَرَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِي ٱلسَّمَآءِ وَلَآ أَصۡغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡبَرَ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٍ (سورۃ یونس ۔ آیت 61)

ایت کریمہ میں اللہ کے علم کی کیا شان بیان ہوئی ہے

ترجمہ

اور اپ کے رب سے ذرا برابر بھی کوئی چیز نہیں چھپی زمین میں اور نہ اسمان میں اور نہ اسسے کوئی چھوٹی چیز اور نہ کوئی بڑی مگر واضح کتاب لوح محفوظ میں درج ہے

جواب اس ایت میں اللہ تعالی کے علم محیط اور اس کی بے مثال وسعت کا ذکر رسول کریم کو مخاطب کر کے کیا گیا ہے کہ اپ جس کام اور جس حال میں ہمیشہ ہوتے ہیں یا قران حکیم پڑھتے ہیں اس کا کوئی جز ہم سے مخفی نہیں اسی طرح تمام انسان جو کچھ عمل کرتے ہیں وہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں اور اسمان و زمین میں کوئی ایک ذرہ بھی ہم سے چھپا ہوا نہیں ہے بلکہ ہر چیز کتابیں مبین یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے

سرگرمی

12 سرگرمی

قُلۡ بِفَضۡلِ ٱللَّهِ وَبِرَحۡمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُواْ هُوَ خَيۡرٞ مِّمَّا يَجۡمَعُونَ (سورۃ یونس ۔ آیت 58)

کی وضاحت کریں ایت 58

ترجمہ

اپ فرما دیجئے یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے لہذا انہیں اس پر خوش ہونا چاہیے یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جو جمع کر رہے ہیں

وضاحت

جواب ایت کریمہ میں فضل سے مراد قران حکیم ہے اور یہی اللہ کی رحمت کا سب سے بڑا مظہر بھی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے الرحمن علم القران "ایک رائے کے مطابق رحمت سے مراد صاحب قران رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے وما اسلنک الا رحمة للعلمین قران حکیم صاحب قران کی صورت میں ہم پر اللہ کا سب سے بڑا فضل اور رحمت کا نزول ہوا ہے
13 سرگرمی

سورہ یونس میں انے والے توحید باری تعالی کے کوئی سے پانچ دلائل نکات کی صورت میں تحریر کریں

اللہ زمین و اسمان سے رزق عطا کرتا ہے

1 اللہ کانوں اور انکھوں کا مالک ہے
2 اللہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے
3 اللہ ہی ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے
4 اللہ ہی ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے پھر وہی اس کو لوٹائے گا
14 سرگرمی

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظۡلِمُ ٱلنَّاسَ شَيۡـٔٗا وَلَٰكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ (سورۃ یونس ۔ آیت 44)

کی روشنی میں بتائیں کہ انسان اپنے آپ پر کس طرح ظلم کرتا ہے ایت 44

ترجمہ

بے شک اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے اپ پر خود ظلم کرتے ہیں

اپنے آپ پر ظلم کرنے سے مراد

جواب اپنے اوپر ظلم یہ ہے کہ فکر و نظر یعنی عقل و بصیرت سے کام نہ لینا اور اپنے حواس اور صلاحیتوں کو استعمال نہ کرنا یعنی حق اور باطن میں فرق کو نہ پہچاننا اور اگر حق سمجھ میں ا جائے تو ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے منہ موڑ لینا اور خود اپنے اختیار سے برے کام کرتے رہنا قدرت کی نشانیوں کو سمجھنے کے باوجود لہو و لعب میں مشغول رہنا یہ سب اپنی جانوں پر ظلم ہے ایسا شخص دوسروں پر ظلم کرنے والوں سے زیادہ ظالم ہوتا ہے کیونکہ اس کے نفس کا حق اس پر سب سے زیادہ ہے اور وہ اسی کو مستحق عذاب بنانے پر تلا بیٹھا ہے نبی کریم کا فرمان ہے اللہ فرماتا ہے اے میرے بندوں میں نے اپنے اپ پر ظلم حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے حرام کر دیا ہے خبردار ایک دوسرے پر ہرگز ظلم نہ کرنا پھر اس حدیث قدسی کے اخر میں فرمایا اے میرے بندو یہ تمہارے اعمال ہیں جو میں تمہارے لیے شمار کر رہا ہوں پھر تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ عطا کروں گا جو شخص خیر و بھلائی پائے تو اللہ کی تعریف کرے اور جو کسی اور صورتحال سے دوچار ہو تو وہ صرف اپنے اپ ہی کو ملامت کرے۔

مزید سرگرمیاں

15 مزید سرگرمیاں

سورہ یونس کی آیات 31 تا 75 میں توحیدِ باری تعالیٰ کے کوئی سے پانچ دلائل نکات کی صورت میں بیان کریں۔

اس سبق کا مرکزی موضوع ہی توحید ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے سامنے ایسے دلائل رکھے جو ان کے اپنے اقرار، اپنی عقل اور اپنے مشاہدے سے لیے گئے ہیں۔ ان میں سے پانچ نمایاں دلائل درج ذیل ہیں:

1 ۱۔ خود مشرکین کا اقرارِ ربوبیت (آیت 31) — سوال کی صورت میں دلیل — پوچھا گیا: تمہیں آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ کان اور آنکھوں کا مالک کون ہے؟ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے کون نکالتا ہے؟ اور سارے کاموں کی تدبیر کون کرتا ہے؟
2 ۱۔ خود مشرکین کا اقرارِ ربوبیت (آیت 31) — ان کا اپنا جواب — قرآن نے خود بتا دیا کہ وہ فوراً کہیں گے: “اللہ” — یعنی خالق و رازق ماننے پر وہ مجبور تھے۔
3 ۱۔ خود مشرکین کا اقرارِ ربوبیت (آیت 31) — نتیجہ — تو پھر فرمایا گیا “أَفَلَا تَتَّقُونَ” — جب پیدا کرنے اور پالنے والا وہی ہے تو عبادت کسی اور کی کیوں؟ ربوبیت کا اقرار الوہیت کے اقرار کو لازم کرتا ہے۔
4 ۲۔ حق کے بعد صرف گمراہی ہے (آیت 32) — فَذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ ٱلۡحَقُّۖ فَمَاذَا بَعۡدَ ٱلۡحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَٰلُۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ تو یہی اللہ تمہارا سچا رب ہے؛ پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا رہ جاتا ہے؟ تو تم کہاں پھیرے جا رہے ہو؟ (سورۃ یونس ۔ آیت 32)
5 ۲۔ حق کے بعد صرف گمراہی ہے (آیت 32) — درمیانی راستہ نہیں — یہ عقلی اصول ہے کہ حق ایک ہی ہوتا ہے؛ اس سے ہٹنے کے بعد جو کچھ ہے وہ گمراہی ہی ہے۔
6 ۲۔ حق کے بعد صرف گمراہی ہے (آیت 32) — توحید ہی حق ہے — جب یہ ثابت ہو گیا کہ رب وہی ہے، تو اس کے سوا کسی کی بندگی خودبخود باطل ٹھہر گئی۔
7 ۳۔ شریک تخلیق اور اعادہ سے عاجز ہیں (آیت 34) — چیلنج — پوچھیے: کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرے، پھر اسے دوبارہ لوٹائے؟
8 ۳۔ شریک تخلیق اور اعادہ سے عاجز ہیں (آیت 34) — جواب خود دے دیا گیا — کہہ دیجیے کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ لوٹاتا ہے — کیونکہ مخالف کے پاس کوئی جواب تھا ہی نہیں۔
9 ۳۔ شریک تخلیق اور اعادہ سے عاجز ہیں (آیت 34) — عبادت کا استحقاق — جو پیدا ہی نہ کر سکے، وہ پوجے جانے کا حق کیسے رکھتا ہے۔
10 ۴۔ شریک ہدایت نہیں دے سکتے (آیت 35) — دوسرا چیلنج — کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرے؟ رہنمائی صرف اللہ کرتا ہے۔
11 ۴۔ شریک ہدایت نہیں دے سکتے (آیت 35) — فیصلہ کن سوال — “أَفَمَن يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلۡحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ” — جو حق کی طرف رہنمائی کرے وہ پیروی کا زیادہ حق دار ہے، یا وہ جو خود راستہ نہ پائے جب تک اسے راستہ نہ دکھایا جائے؟
12 ۴۔ شریک ہدایت نہیں دے سکتے (آیت 35) — عقل کا تقاضا — بتوں کو تو خود اٹھا کر رکھنا پڑتا تھا؛ ایسی چیز کسی کو کیا راہ دکھائے گی۔
13 ۵۔ شرک کی بنیاد صرف گمان ہے (آیت 66) — أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَمَا يَتَّبِعُ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُرَكَآءَۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا يَخۡرُصُونَ سن لو! جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے؛ اور جو لوگ اللہ کے سوا شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کس چیز کی پیروی کر رہے ہیں؟ وہ محض گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور صرف اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ (سورۃ یونس ۔ آیت 66)
14 ۵۔ شرک کی بنیاد صرف گمان ہے (آیت 66) — ملکیت کا اصول — جب آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے تو ملکیت میں سے کوئی چیز مالک کی شریک کیسے ہو سکتی ہے۔
15 ۵۔ شرک کی بنیاد صرف گمان ہے (آیت 66) — دلیل کا فقدان — مشرکین کے پاس علم یا کوئی سند نہ تھی، صرف باپ دادا کا رواج اور اندازے تھے۔
16 ۵۔ شرک کی بنیاد صرف گمان ہے (آیت 66) — گمان حق کا بدل نہیں — عقیدے کی بنیاد یقین اور وحی پر ہونی چاہیے، خیال اور اٹکل پر نہیں۔
17 انہی آیات میں مزید اشارے — نظامِ لیل و نہار (آیت 67) — رات کو آرام کے لیے اور دن کو روشن بنانا — اسی سبق کے سوال 4 میں یہی آیت گزری۔
18 انہی آیات میں مزید اشارے — اولاد سے پاکی (آیت 68) — “اللہ نے بیٹا بنا لیا” کہنے والوں کا رد کہ وہ بے نیاز ہے، سب کچھ اسی کا ہے، اور اس دعوے پر تمہارے پاس کوئی سند نہیں۔
19 انہی آیات میں مزید اشارے — علمِ محیط (آیت 61) — ذرہ برابر کوئی چیز اس سے چھپی نہیں — یہ صفت کسی شریک میں نہیں پائی جاتی۔
20 انہی آیات میں مزید اشارے — قرآن کا چیلنج (آیت 38) — اگر شک ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ — یہ نبوت کے ساتھ ساتھ توحید کی بھی دلیل ہے۔
21 خلاصہ — ان تمام دلائل کا اندازِ استدلال ایک ہی ہے: پہلے وہ بات تسلیم کرائی جاتی ہے جس کا مخالف بھی انکار نہیں کر سکتا (خلق، رزق، تدبیر)، پھر اس سے وہ نتیجہ نکالا جاتا ہے جس سے وہ بھاگ رہا تھا (عبادت صرف اللہ کی)۔ یہی قرآن کا طریقۂ استدلال ہے — عقل، مشاہدہ اور خود مخالف کے اقرار سے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.