دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 6: سبق 6: سورہ یونس — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَهُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيۡمٌۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ

ایت کریمہ میں کفار کے لیےکون سی دو سزائیں بیان ہوئی ہیں

ترجمہ

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہوگا اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے تھے

ایت مبارکہ کی رو سے کفار کے لیے دو سزاؤں کا ذکر ہے

1 کہ جب وہ جہنم میں پیاس کی شدت کی وجہ سے پانی مانگیں گے تو انہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا ایسا گرم اور کھولتا ہوا جو ان کی آنتوں کو پگھلا دے گا
2 ان کے کفر کی وجہ سے انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا دردناک عذاب مختلف نوعیت کے ہو سکتے ہیں مثلا ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا انہیں جہنم میں جلایا جائے گا لوہے کے گرز ان کے سروں پر مارے جائیں گے کھانے کے لیے زقوم ،جہنم میں اگنے والے درخت کا پھل کھانے کو دیا جائے گا پینے کے لیے پیپ دی جائے گی ۔
2 مختصر جوابات

هُوَ الَّذِىۡ جَعَلَ الشَّمۡسَ ضِيَآءً وَّالۡقَمَرَ نُوۡرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعۡلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِيۡنَ وَالۡحِسَابَ​ؕ

ایت کریمہ میں سورج اور چاند کی تخلیق کے کیا مقاصد بیان ہوئے ہیں

ترجمہ

وہی ہے اللہ جس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو منور کیا اور اس کے لیے منزل مقرر کی تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو

سورج اور چاند کی تخلیق کے مقاصد

1 روشنی فراہم کرنے کے ذریعے ۔اللہ تعالی نے آفتاب یعنی سورج کے لیے ضیا اور چاند کے لیے نور کا لفظ استعمال فرمایا ہے ضیا بڑی اور قوی روشنی کو کہتے ہیں اور نور قوی اور ضعیف ہر روشنی کے لیے استعمال ہوتا ہے چونکہ اللہ تعالی نے آفتاب کو زیادہ قوی روشنی دی ہے اس لیےجب وہ طلوع ہوتا ہے تو رات چلی جاتی ہے اور دن آجاتا ہے چونکہ دن میں چلنے پھرنے اور کار وبار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے دن کو بہت زیادہ روشن بنایا اور رات کو سکون اور آرام کے لیے بنایا ہے چونکہ آرام اور سکون کے لیے دھیمی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے چاند کو دھیمی روشنی عطا فرمائی ۔نور اس ایسی روشنی ہےجو آنکھوں کو نہ چبھے بلکہ بھلی معلوم ہو۔
2 سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرنے کے ذرائع ۔ یعنی سورج اور چاند کی تخلیق کا مقصد سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرنا ہے ۔آفتاب کی منازل کا پتہ تو ماہرین فلکیات وغیرہ کو ہی ہو سکتا ہے لیکن چاند کے طلوع اور غروب اور گھٹنے بڑھنے سے عام طور سے تاریخ کا پتہ چل جاتا ہے پڑھا لکھا شہری انسان ہو یا دیہاتی ہر شخص آسانی سے مہینے کی ابتدا اور انتہا سمجھ لیتا ہے اور احکام شرعیہ میں چاند کے مہینوں ہی کا اعتبار کیا جاتا ہے زکوۃ کی ادائیگی بھی چاند ہی کے اعتبار سےبار ہ مہینے گزرنے پر فرض ہوتی ہے اور رمضان کا مہینہ بھی چاند ہی کے حساب سے پہچانا جاتا ہے جو قمری سال کا نواں مہینہ ہے ۔اور حج بھی چاند ہی کے حساب سے ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو ہوتا ہے عدت کے مہینے میں بھی چاند کا اعتبار ہوتا ہے
3 مختصر جوابات

اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا وَرَضُوۡا بِالۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَاطۡمَاَنُّوۡا بِهَا وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنۡ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوۡنَۙ۔ اُولٰٓٮِٕكَ مَاۡوٰٮهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ

آیات کریمہ کی رو سے کن لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے

ترجمہ

بے شک وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتےاور دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے اور اس پر مطمئن ہو گئے اور وہ لوگ جو ہماری ایات سے غافل ہیں ایسے لوگوں کا ٹھکانہ آگ ہے اس کے بدلے جو کیا کرتے تھے

جواب ان آیات مبارکہ میں اللہ سے ملاقات کو بھلانے والے دنیا پرستوں کے برے انجام کا ذکر ہے ان کی غفلت کا بدلہ یہ ہے کہ انہیں جہنم کی اگ میں جلایا جائے گا یہ سزا ان کے اپنے عمل کا نتیجہ ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کو خواہشات سے اور جنت کو ناپسندیدہ امور سے ڈھانپ دیا گیا ہے معلوم یہ ہوا کہ جس کسی نے تمام ہمت اور کوشش اور عمر اخرت سے غافل رہ کر خواہشات دنیا کی پورا کرنے میں گزار دی اس نے گویا دوزخ کے دروازے کا پردہ اٹھایا اور دوزخ میں جانے کا قصد اور ارادہ کیا اور جس کسی نے دین کے راستے پر چلنے میں تکالیف اور مصائب کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا اور اللہ کی رضا پر راضی رہا گویا اس نے جنت کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور جنت میں جانے کا ارادہ کیا گویا جو معنی اس حدیث کے ہیں وہی معنی ان ایتوں کے ہیں گویا یہ حدیث ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا مفہوم یہ ہوا کہ خواہشات دنیا میں ہی لگے رہنا اور اخرت کو پس پشت ڈالنا رحمت الہی اور جنت سے روکنے والی چیزیں ہیں کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے " اللہ اپنے جس بندے کی آخرت کی بھلائی چاہتا ہے اس کو دنیا اور خواہشات دنیا سے ایسے بچاتا ہے جس طرح کوئی آدمی اپنے بیمار کو بدپرہیزی کی چیزوں سے بچاتا ہے
4 مختصر جوابات

هُوَ الَّذِىۡ يُسَيِّرُكُمۡ فِى الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ​ؕ

ایت کریمہ میں کن سفروں کا بیان ہے

ترجمہ

اور اللہ ہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے

اس ایت مبارکہ میں دوسفروں ذکر ہے

1 خشکی کا سفر ۔یعنی اللہ تعالی نے انسان کو خشکی میں سفر طے کرنے کے لیے سواریاں بنانے کا شعور دیا ۔
2 سمندر کا سفر ۔اسی طرح اللہ تعالی نے انسان کو سمندر میں چلنے والی کشتیاں اور جہاز بنانے کی سمجھ عطا کی جس کے ذریعے وہ دور دراز کے سفر کو اپنے لیے اسان بنا رہے ہیں
5 مختصر جوابات

وَلَا يَرۡهَقُ وُجُوۡهَهُمۡ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّـةٌ

آیت کریمہ میں اہل جنت پر کس انعام کا ذکر ہے ؟

ترجمہ

اور ان کے چہرے پر نہ سیاہی چھائی ہوگی اور نہ ذلت

جواب اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اور اس کے رسول کی اطاعت پر کاربند رہنے والوں کے لیے خیر اور بھلائی کی بشارت ہے ۔کہ ایسے لوگ قیامت کے دن نہ صرف تمام نعمتوں سے مستفیض ہوں گے بلکہ وہ ہر قسم کی ذلت اور رسوائی سے بھی محفوظ ہوں گی اور ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گی
6 مختصر جوابات

لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰى وَزِيَادَةٌ کی وضاحت احادیث مبارکہ کی روشنی میں کریں

وضاحت

1 جنہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے بھلائی اور مزید اجر بھی ہے
2 اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر کاربند رہنے والوں کے لیے خیر اور بھلائی کی بشارت ہے حدیث کے مطابق مزید سے مراد اہل جنت کو تمام نعمتوں سے نوازنے کے بعد دیدار الہی کا میسر انا ہے ۔
جواب حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے یہ ایت تلاوت فرمائی اور فرمایا جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو اس وقت ایک منادی پکارے گا اے جنت والو اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا وہ چاہتا ہے کہ اسے بھی پورا کر دیا جائے وہ کہیں گے وہ کون سا وعدہ ہے کیا اس نے ہمارے میزان یعنی نیک اعمال کے تول بھاری نہیں کر دیے کیا اس نے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دیے ہمیں جنت میں داخل اور اگ سے محفوظ نہیں کر دیا اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت ان کے لیے پردہ ہٹا دیا جائے گا اور وہ اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے پھر فرمایا اللہ کی قسم انہیں اب تک ایسی کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ہوگی جو انہیں اس دیدار سے زیادہ محبوب ہو اور اس میں ان کی انکھوں کے لیے اس سے زیادہ ٹھنڈک ہو ۔صحیح مسلم ۔مسند احمد

تفصیلی جوابات

7 تفصیلی جوابات

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ​ يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ​ؕ مَا مِنۡ شَفِيۡعٍ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ اِذۡنِهٖ​ ؕ ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ​ ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ

ایت کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں اللہ تعالی کے حقیقی رب ہونے کی کیا دلائل بیان کیے گئے ہیں اور ان کا کیا تقاضا بیان کیا گیا ہے

بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا چھ دنوں میں پھر وہ عرش پر اپنی شان کے لائق جلوہ فرما ہوا وہی ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں وہی اللہ تمہارا رب ہے لہذا اسی کی عبادت کرو تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے

وضاحت

1 اس ایت میں اللہ کی حقیقی رب ہونے کے دلائل بیان کیے گئے ہیں اللہ نے چھ دن میں پوری کائنات پیدا فرمائی پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے اور آپ کا خالق بھی اللہ ہے اور مدبر منتظم بھی وہی عظیم ہستی ہے اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کے لیے سفارش نہیں کر سکتا ان سب باتوں کا تقاضا ہے کہ اللہ ہی کو اپنا رب تسلیم کر کے اسی کی بندگی اختیار کی جائے
2 اس ایت میں تخلیق کائنات اور نظام کائنات کو بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ ہی نے زمین و اسمان کو چھ دن میں پیدا کیا یعنی یہ کائنات از خود وجود میں نہیں اگئی جیسا کہ دہریوں کا عقیدہ ہےکہ دوسری بات یہ بتائ گی کہ اللہ اپنی شان کے مطابق عرش پر جلوہ فرما ہوا یہ نہیں وہ کائنات کو پیدا کر کے بیٹھ نہیں گیا بلکہ اس کا پورا انتظام چلا رہا ہے سورج چاند ستارے سب اس کے حکم کے مطابق گردش کر رہے ہیں
3 تیسری بات یہ بتائی گئی کہ اللہ قادر مطلق ہے اور اتنی رعب اور دبدبے والا ہے کہ کوئی اس کے سامنے کسی دوسرے کی سفارش بھی کرنے کی جرات نہیں کر سکتا سوائے اس کی اجازت کے لہذا ان سب باتوں کا تقاضا ہے کہ تم سب لوگ اس با اختیار ذات کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو
جواب اس ایت میں یوم سے مراد محض وقت ہے جس کی مقدار اللہ ہی کے علم میں ہےاس سے مراد وہ عام دن نہیں ہے جو ہم شمار کرتے ہیں کیونکہ جب اللہ نے زمین و اسمان کی تخلیق کی تو اس وقت نہ سورج تھا نہ ہی صبح شام کا کوئی وجود تھا اس لیے ایت کریمہ میں یوم سے مراد وہ دن تو نہیں ہو سکتا جس کا ابھی وجود نہ تھا
8 تفصیلی جوابات

سورہ یونس کا تعارف اور مرکزی مضمون بیان کریں

جواب کتاب صفحہ نمبر 42
9 تفصیلی جوابات

وَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۡۢبِهٖۤ اَوۡ قَاعِدًا اَوۡ قَآٮِٕمًا ۚ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنۡ لَّمۡ يَدۡعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ​ؕ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

ترجمہ وضاحت کریں

ترجمہ

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پہلو میں لیٹے یا بیٹھے یا کھڑے ہمیں پکارتا ہے پھر جب اس سے اس کی تکلیف دور فرماتے ہیں تو ایسے چل دیتا ہے جیسے اس نے تکلیف پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا اس طرح حد سے بڑھ جانے والوں کے لیے خوشنما بنا دیا گیا ہے جو وہ کام کرتے تھے

وضاحت

جواب اس آیت میں ناشکرے بندوں کا اللہ کے ساتھ احسان فراموشی کا بیان ہے کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ہر وقت گڑگڑا کر اللہ سے رحم کی التجا کرتے ہیں اور تکلیف دور ہونے پر اللہ سے ایسے غافل ہو جاتے ہیں گویا کہ اس کو کبھی پکارا ہی نہیں تھا ایسے لوگوں کی سزا کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ ایسے حد سے گزرنے والوں کے برے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے جاتے ہیں یعنی جو لوگ گناہ اور برے افعال اور اعمال کرنا نہیں چھوڑتے دراصل شیطان ایسے لوگوں کے دلوں میں ان کی اچھائی کا تصور بٹھا دیتا ہے انسان ان سے بچنے کے بجائے ان کو انجام دینے میں لذت محسوس کرتے ہیں اور مصیبت دور ہو جانے کے بعد پھر سے اپنے معبودان باطلہ کی عبادت اور پکار کو بہت اچھا کام خیال کرنے لگتے ہیں گویا مصیبت کے وقت اللہ کو پکارنے اور مصیبت کے دور ہو جانے کے بعد اللہ سے غافل ہو جانے والوں کی بندگی اللہ کے ہاں معتبر نہیں ہے کیونکہ اللہ کو وہ اظہار بندگی مطلوب ہے جو خوشی راحت رنج تکلیف ہر حالت میں کی جائے اور وہ اپنی غرض کی بندگی کی تو اللہ کے نزدیک کوئی قیمت اور اس کا کوئی اعتبار نبی کریم نے فرمایا جسے پسند ہو کہ اللہ سختیوں اور مصیبتوں میں اس کی دعا قبول فرمائے تو وہ خوشحالی میں کثرت سے دعا کیا کرو
10 تفصیلی جوابات

سورہ یونس کے چند بنیادی مضامین بیان کریں

جواب کتاب صفحہ نمبر 42
11 تفصیلی جوابات

وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰٓؤُلَاۤءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ​ؕ قُلۡ اَتُـنَـبِّـــُٔوۡنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِى السَّمٰوٰتِ وَلَا فِى الۡاَرۡضِ​ؕ سُبۡحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ

ترجمہ اور تشریح کریں

جواب اس ایت مبارکہ میں مشرکین مکہ کو بنیادی عقیدہ ظاہر ہو رہا ہے وہ لوگ اس کو مانتے تھے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک اللہ ہے اور وہ بتوں کو کائنات کا خالق مالک نہیں بلکہ اللہ کے قرب کا وسیلہ سمجھتے تھے ان کو یقین تھا کہ جن ہستیوں کے نام پر یہ بت بنائے گئے ہیں وہ ہستیاں اللہ کے ہاں بہت مقرب اور محبوب ہونے کے باعث ان کے ہاں ہماری سفارش کریں گے لہذا اس وجہ سے ان کی عبادت کرتے تھے جو کہ سراسر حرام ہے ان آیات مبارکہ میں ان کے معبودان باطلہ کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مشرکین اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتیں ۔مشرکین کا دعوی ہے کہ ان کے خود ساختہ معبود اللہ کے مقربین ہیں اور جو اللہ کی بارگاہ میں سفارش کریں گے ان کے اس باطل دعوے کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ ایسا کوئی سفارشی نہیں ہے جو کوئی بات اللہ سے جبرا منوائے اللہ پاک اور بلند ہے اور اس کے سوا کوئی معبود بھی نہیں ہے یہ مضمون قران مجید کے دیگر مقامات پر بھی بیان ہوا ہے سورہ مائدہ اللہ تعالی کا فرمان ہے اے نبی اپ فرما دیجئے کہ تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہوئے جو تمہارے لیے نہ کسی نقصان کی مالک ہے اور نہ نفع کی اور اللہ ہی سب کچھ جاننے والا ہے
12 تفصیلی جوابات

دَعۡوٰٮهُمۡ فِيۡهَا سُبۡحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِيَّـتُهُمۡ فِيۡهَا سَلٰمٌ​ۚ وَاٰخِرُ دَعۡوٰٮهُمۡ اَنِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ

ایت کریمہ میں اہل جنت کی کن کیفیات کا ذکر ہے

ترجمہ

وہاں ان کی دعا یہ ہوگی کہ اے اللہ تو پاک ہے اور وہاں ان کا استقبال سلام سے ہوگا اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہیں

اس ایت مبارکہ میں اہل جنت کی چند مخصوص کیفیات کا بیان ہے

1 ان کی زبانوں پر اللہ کی حمد و تسبیح جاری ہوگی
2 ہر ملاقات پر وہ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعائیں دیں گے
3 ان کی ہر مجلس کا اختتام اللہ کی حمد و ثنا کے ساتھ ہوگا
4 حدیث مبارکہ کے مطابق اہل جنت کے وجود میں تسبیح اور تحمید سانس کی طرح جاری ہوگی ۔صحیح مسلم
5 فرمان نبوی ﷺ ہے۔جنتی جنت میں کھائیں گے اور پییں گے نہ تھوکیں گے نہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ کریں گے نہ ناک صاف کریں گے۔ "۔صحابہ نے پوچھا جو کھانا وہ کھائیں گے وہ کہاں جائے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا بس ڈکار آئے گی اور پسینہ آئے گا جس سے مشک یعنی کستوری کی خوشبو آئے گی ان کا کھانا تحلیل ہو جائے گا ان کے دلوں میں اور ان کی زبانوں پر تسبیح اور حمد خود بخود جاری ہو جائے گی جس طرح سانس خود جاری رہتی ہے
جواب تحیتھم کے معنی ہیں زندگی کی دعا دینا کہ اللہ تمہیں زندگی بخشے یعنی وہ ایک دوسرے سے ملیں گے تو ایک دوسرے کو زندہ رہنے کی دعا سلام کے الفاظ سے دیں گے اور اسی طرح ان کی گفتگو کا اختتام بھی رب العالمین کی حمد کے ساتھ ہی ہوگا ۔

سرگرمیاں

13 سرگرمیاں

خوشی اور غمی کے معاملات میں ہمارا کیا طرز عمل ہونا چاہیے

جواب غمی اور خوشی کے معاملات میں ہمیں ہمیشہ اللہ تعالی کی بندگی اختیار کرنی چاہیے نعمتوں کے ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے غم کے موقع پر بھی اللہ کو نہیں بھلانا چاہیے اور اسی سے مدد اور دعا مانگنی چاہیے مصیبتوں میں تکلیفوں کے دور ہو جانے کے بعد اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خوشی میں خدا کو بھول جانا ناشکر ےلوگوں کی صفت ہے نبی ﷺکریم کا فرمان ہے جسے پسند ہو کہ اللہ سختی اور مصیبتوں میں اس کی دعا قبول فرمائے تو وہ خوشحالی میں بھی کثرت سے دعا کیا کریں
14 سرگرمیاں

فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ کی رو سے زمین میں پائے جانے والے جانوروں کی خوراک کے مختلف ذرائع معلوم کریں

جواب اللہ نے اسمان سے پانی نازل فرمایا تو اس کے ساتھ مل کر زمین کاسبزہ نکل ایا اللہ تعالی نے زمین میں مختلف قسم کی مخلوقات پیدا کی ہیں انسان جنات جانور کیڑے مکوڑے سمندر کے اندر مچھلیاں اور مختلف قسم کی مخلوقات اسی طرح اللہ تعالی نے ان کی ساخت کے مطابق ان کے لیے خوراک کا بھی انتظام کر رکھا ہے مثلا انسانوں کے لیے گوشت سبزیاں پھل اور خشک میوہ جات پیدا فرما رکھے ہیں اسی طرح جانوروں کے لیے گوشت درخت اور سبزہ وغیرہ فراہم کر رکھا ہے سمندری مخلوقات کے لیے اللہ تعالی نے سمندر کے اندر ہی ان کے لیے مختلف طریقوں سے خوراک کے انتظامات کر رکھے گئے جیسے بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلی کو کھاتی ہیں چھوٹی مچھلیاں کیڑے مکوڑوں اور دوسری مخلوقات کو کھا کر اپنا گزارا کرتی ہے اور کیڑے مکوڑے سمندر کے اندر موجود نباتات سے اپنی خوراک کو حاصل کرتے ہیں گویا پتھر کے اندر بھی کیڑے کو خوراک فراہم کرنے کے لیے اللہ تعالی نے انتظامات فرما رکھے تھے
15 سرگرمیاں

سورہ یونس کی آیت اِنَّمَا مَثَلُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ مِمَّا يَاۡكُلُ النَّاسُ وَالۡاَنۡعَامُؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَازَّيَّنَتۡ وَظَنَّ اَهۡلُهَاۤ اَنَّهُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَيۡهَاۤ ۙ اَتٰٮهَاۤ اَمۡرُنَا لَيۡلًا اَوۡ نَهَارًا فَجَعَلۡنٰهَا حَصِيۡدًا كَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ​ ؕ كَذٰلِكَ نُـفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ ۔ایت میں دنیوی زندگی کی مثال پانی سے تشبیہ دے کر کیسے سمجھائی گئی ہے

1 دنیاوی زندگی کی مثال پانی کی طرح ہے جسے ہم نے اسمان سے نازل فرمایا تو اس کے ساتھ مل کر زمین کا سبزہ نکل ایا جس میں سے انسان اور جانور کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین پوری رونق پر اگئی اور خوب مزین ہو گئی اور اس کے مالک سمجھے تو یقینا وہ اس پر قادر ہیں تو اچانک اس پر حکم عذاب رات یا دن میں اآپہنچا پھر ہم نے اس کو کٹا ہوا ڈھیر بنا دیا گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں اسی طرح ہم کھول کھول کر ائے تھے بیان کرتے ہیں ان کے لیے یہ غور و فکر کرتے ہیں
جواب اس ایت میں دنیا کی زندگی اور اس کی حقیقت کا بیان ہے کہ دنیا کی زندگی کو کھیتی سے تشبیہ دے کر اس کے فانی اورنہ پائیداری کو واضح کیا گیا ہے ۔کھیتی بارش کے پانی سے سبز شاداب ہو جاتی ہے اور کھیتی والے اپنی ضرورتیں پوری ہونے پر خوش ہوتے ہیں اچانک اس پر اللہ کی طرف سے کوئی آفت اآجاتی ہے جس سے وہ تباہ ہو جاتی ہے گویا کہ وہ تھی ہی نہیں جس طرح کھیتی پر بہار آتی ہے انسانوں پر بھی جوانی آتی ہے پھر اچانک وہ کسی آفت یا مصیبت کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں سو جاتے ہیں اور موت کے باعث انسان اس ناپائیدار دنیا سے کوچ کر کے اخرت کی طرف لوٹ جاتے ہیں یعنی جو لوگ اخرت کو بھول کر دنیا دنیا کمانے کی دھن میں لگے رہتے ہیں جب وہ اخرت میں اجر و ثواب سے محروم اور عذاب میں گرفتار ہوں گے تو ان کا بھی اس وقت یہی حال ہوگا جیسے دنیا میں ایک کھیتی برباد ہو جانے والے کا ہوتا ہے جو کھیتی کو ہرا بھرا دیکھ کر یہ منصوبے بناتا ہے کہ باغ اور کھیتوں سے نفع حاصل کرے گا پھر اچانک اس کی فصلیں کسی حادثے کسی طوفان کسی اندھی کا شکار ہو کر اجڑ جاتی ہے اور وہ غم اور افسوس میں ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے
16 سرگرمیاں

وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ​ ۙ قَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَيۡرِ هٰذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡهُ​ ؕ قُلۡ مَا يَكُوۡنُ لِىۡۤ اَنۡ اُبَدِّلَهٗ مِنۡ تِلۡقَآئِ نَـفۡسِىۡ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوۡحٰۤى اِلَىَّ​ ۚ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّىۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ

ترجمہ اور وضاحت کریں

اس آیت میں سرداران قریش کی طرف سے قران حکیم میں تبدیلی کے مطالبے کا بیان ہے انہوں نے رسول اکرم سے دو مطالبات کیے ۔

شان نزول

1 اس قران حکیم کی جگہ دوسرا قران حکیم لے ائیں
2 اس قران حکیم کی جو چیزیں ان کی مرضی کے خلاف ہیں ان کو تبدیل کر دیا جائے
3 ان کے دونوں طالبات کی تردید کی گئی اور رسول اللہ کی زبانی ان کو یہ جواب دیے گئے
4 رسول اللہ اپنی طرف سے قران حکیم میں کمی بیشی یا تبدیلی کا اختیار نہیں رکھتے
5 رسول اللہ وحی الہی کے پابند ہیں
6 رسول اللہ اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے ہیں
7 مفسرین کرام فرماتے ہیں مشرکین مکہ میں سے پانچ ادمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر آپﷺ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آﷺپ پر ایمان لائیں تو آپ اس قران حکیم کے علاوہ اور کوئی قران لے آئیں جس میں لات منات اور عز ی ٰکی عبادت سے ممانعت نہ ہو اور نہ ان کی مذمت کی گئی ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قران حکیم کو بدل ڈالیں اور عذاب کی ایتوں کی جگہ رحمت کی ایتیں اور حرام کی جگہ حلال اور حلال کی جگہ حرام لکھ دیں تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپ کہہ دیجیے کہ اس قران حکیم کو بدلنا میرے اختیار میں نہیں ہے میں صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جس کی مجھ پر وحی کی جاتی ہیں اور اس کے مطابق میں حکم دیتا ہوں یا کسی چیز سے منع کرتا ہوں
17 سرگرمیاں

قُلْ لَّوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوۡتُهٗ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَدۡرٰٮكُمۡ بِهٖ ​ۖ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِيۡكُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِهٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ

تشریح کریں

ترجمہ

اپ فرما دیجیے اگر اللہ چاہتا تو میں اس قران کو تم پر نہ تلاوت کرتا اور نہ ہی وہ تمہیں اس سے اگاہ کرتا میں تو یقینا اس سے پہلے تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے

جواب اس ایت میں کفار و مشرکین کے اس خیال کا رد ہے کہ یہ قران نبی کریم کا کلام ہے کیونکہ مشرکین مکہ نے اول سے اخر تک نبی کریم کی زندگی کا مشاہدہ کیا تھا اور ان کو آپ کے تمام احوال معلوم تھے وہ یہ جانتے تھے کہ آپ نے کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی استاد سے علم حاصل کیا پھر آپ پر اسی طرح 40 سال کا اثر گزر گیا پھر 40 سال بعد اپ اچانک اس عظیم کتاب کو لے ائےجس کی نظیر اور مثال لانے میں عرب کے علماء اور فصیح اور بلیغ بھی عاجز اور ناکام رہے ۔جس سے ہر عقل سلیم رکھنے والے شخص پر یہ بات واضح ہو گئی کہ ایسا کلام اللہ کی وحی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اس لیے فرمایا کہ میں تم میں اس نزول قران سے پہلے عمر کا ایک حصہ گزار چکا ہوں کیا تم سمجھتے نہیں یعنی میں نے تم میں 40 سال زندگی گزاری اور تم میری صداقت و امانت اور میری پاکیزگی کو جان چکے ہو میں پڑھتا تھا نہ لکھتا تھا پھر میں تمہارے پاس اس کلام کو بطور معجزہ لے کر ایا ہوں تو اب کیا تم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ کلام میرا نہیں ہو سکتا یہ صرف اور صرف وحی الہی ہے پھر میں نے تم میں اپنی جوانی کی عمر گزاری جس میں میں نے اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کی تو اب تم مجھ سے یہ توقع رکھتے ہو کہ میں اللہ کی نافرمانی کروں گا اور اس کے کلام کو بدل ڈالوں گا کیا تم اتنی سی بات بھی نہیں سمجھتے

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.