ایت کریمہ میں کفار کے لیےکون سی دو سزائیں بیان ہوئی ہیں
ترجمہ
اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہوگا اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے تھے
ایت مبارکہ کی رو سے کفار کے لیے دو سزاؤں کا ذکر ہے
1کہ جب وہ جہنم میں پیاس کی شدت کی وجہ سے پانی مانگیں گے تو انہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا ایسا گرم اور کھولتا ہوا جو ان کی آنتوں کو پگھلا دے گا
2ان کے کفر کی وجہ سے انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا دردناک عذاب مختلف نوعیت کے ہو سکتے ہیں مثلا ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا انہیں جہنم میں جلایا جائے گا لوہے کے گرز ان کے سروں پر مارے جائیں گے کھانے کے لیے زقوم ،جہنم میں اگنے والے درخت کا پھل کھانے کو دیا جائے گا پینے کے لیے پیپ دی جائے گی ۔
ایت کریمہ میں سورج اور چاند کی تخلیق کے کیا مقاصد بیان ہوئے ہیں
ترجمہ
وہی ہے اللہ جس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو منور کیا اور اس کے لیے منزل مقرر کی تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو
سورج اور چاند کی تخلیق کے مقاصد
1روشنی فراہم کرنے کے ذریعے ۔اللہ تعالی نے آفتاب یعنی سورج کے لیے ضیا اور چاند کے لیے نور کا لفظ استعمال فرمایا ہے ضیا بڑی اور قوی روشنی کو کہتے ہیں اور نور قوی اور ضعیف ہر روشنی کے لیے استعمال ہوتا ہے چونکہ اللہ تعالی نے آفتاب کو زیادہ قوی روشنی دی ہے اس لیےجب وہ طلوع ہوتا ہے تو رات چلی جاتی ہے اور دن آجاتا ہے چونکہ دن میں چلنے پھرنے اور کار وبار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے دن کو بہت زیادہ روشن بنایا اور رات کو سکون اور آرام کے لیے بنایا ہے چونکہ آرام اور سکون کے لیے دھیمی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے چاند کو دھیمی روشنی عطا فرمائی ۔نور اس ایسی روشنی ہےجو آنکھوں کو نہ چبھے بلکہ بھلی معلوم ہو۔
2سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرنے کے ذرائع ۔ یعنی سورج اور چاند کی تخلیق کا مقصد سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرنا ہے ۔آفتاب کی منازل کا پتہ تو ماہرین فلکیات وغیرہ کو ہی ہو سکتا ہے لیکن چاند کے طلوع اور غروب اور گھٹنے بڑھنے سے عام طور سے تاریخ کا پتہ چل جاتا ہے پڑھا لکھا شہری انسان ہو یا دیہاتی ہر شخص آسانی سے مہینے کی ابتدا اور انتہا سمجھ لیتا ہے اور احکام شرعیہ میں چاند کے مہینوں ہی کا اعتبار کیا جاتا ہے زکوۃ کی ادائیگی بھی چاند ہی کے اعتبار سےبار ہ مہینے گزرنے پر فرض ہوتی ہے اور رمضان کا مہینہ بھی چاند ہی کے حساب سے پہچانا جاتا ہے جو قمری سال کا نواں مہینہ ہے ۔اور حج بھی چاند ہی کے حساب سے ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو ہوتا ہے عدت کے مہینے میں بھی چاند کا اعتبار ہوتا ہے
بے شک وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتےاور دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے اور اس پر مطمئن ہو گئے اور وہ لوگ جو ہماری ایات سے غافل ہیں ایسے لوگوں کا ٹھکانہ آگ ہے اس کے بدلے جو کیا کرتے تھے
جوابان آیات مبارکہ میں اللہ سے ملاقات کو بھلانے والے دنیا پرستوں کے برے انجام کا ذکر ہے ان کی غفلت کا بدلہ یہ ہے کہ انہیں جہنم کی اگ میں جلایا جائے گا یہ سزا ان کے اپنے عمل کا نتیجہ ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کو خواہشات سے اور جنت کو ناپسندیدہ امور سے ڈھانپ دیا گیا ہے معلوم یہ ہوا کہ جس کسی نے تمام ہمت اور کوشش اور عمر اخرت سے غافل رہ کر خواہشات دنیا کی پورا کرنے میں گزار دی اس نے گویا دوزخ کے دروازے کا پردہ اٹھایا اور دوزخ میں جانے کا قصد اور ارادہ کیا اور جس کسی نے دین کے راستے پر چلنے میں تکالیف اور مصائب کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا اور اللہ کی رضا پر راضی رہا گویا اس نے جنت کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور جنت میں جانے کا ارادہ کیا گویا جو معنی اس حدیث کے ہیں وہی معنی ان ایتوں کے ہیں گویا یہ حدیث ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا مفہوم یہ ہوا کہ خواہشات دنیا میں ہی لگے رہنا اور اخرت کو پس پشت ڈالنا رحمت الہی اور جنت سے روکنے والی چیزیں ہیں کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے " اللہ اپنے جس بندے کی آخرت کی بھلائی چاہتا ہے اس کو دنیا اور خواہشات دنیا سے ایسے بچاتا ہے جس طرح کوئی آدمی اپنے بیمار کو بدپرہیزی کی چیزوں سے بچاتا ہے
اور اللہ ہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے
اس ایت مبارکہ میں دوسفروں ذکر ہے
1خشکی کا سفر ۔یعنی اللہ تعالی نے انسان کو خشکی میں سفر طے کرنے کے لیے سواریاں بنانے کا شعور دیا ۔
2سمندر کا سفر ۔اسی طرح اللہ تعالی نے انسان کو سمندر میں چلنے والی کشتیاں اور جہاز بنانے کی سمجھ عطا کی جس کے ذریعے وہ دور دراز کے سفر کو اپنے لیے اسان بنا رہے ہیں
جواباس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اور اس کے رسول کی اطاعت پر کاربند رہنے والوں کے لیے خیر اور بھلائی کی بشارت ہے ۔کہ ایسے لوگ قیامت کے دن نہ صرف تمام نعمتوں سے مستفیض ہوں گے بلکہ وہ ہر قسم کی ذلت اور رسوائی سے بھی محفوظ ہوں گی اور ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گی
6مختصر جوابات
لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰى وَزِيَادَةٌ کی وضاحت احادیث مبارکہ کی روشنی میں کریں
وضاحت
1جنہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے بھلائی اور مزید اجر بھی ہے
2اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر کاربند رہنے والوں کے لیے خیر اور بھلائی کی بشارت ہے حدیث کے مطابق مزید سے مراد اہل جنت کو تمام نعمتوں سے نوازنے کے بعد دیدار الہی کا میسر انا ہے ۔
جوابحضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے یہ ایت تلاوت فرمائی اور فرمایا جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو اس وقت ایک منادی پکارے گا اے جنت والو اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا وہ چاہتا ہے کہ اسے بھی پورا کر دیا جائے وہ کہیں گے وہ کون سا وعدہ ہے کیا اس نے ہمارے میزان یعنی نیک اعمال کے تول بھاری نہیں کر دیے کیا اس نے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دیے ہمیں جنت میں داخل اور اگ سے محفوظ نہیں کر دیا اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت ان کے لیے پردہ ہٹا دیا جائے گا اور وہ اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے پھر فرمایا اللہ کی قسم انہیں اب تک ایسی کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ہوگی جو انہیں اس دیدار سے زیادہ محبوب ہو اور اس میں ان کی انکھوں کے لیے اس سے زیادہ ٹھنڈک ہو ۔صحیح مسلم ۔مسند احمد
ایت کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں اللہ تعالی کے حقیقی رب ہونے کی کیا دلائل بیان کیے گئے ہیں اور ان کا کیا تقاضا بیان کیا گیا ہے
بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا چھ دنوں میں پھر وہ عرش پر اپنی شان کے لائق جلوہ فرما ہوا وہی ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں وہی اللہ تمہارا رب ہے لہذا اسی کی عبادت کرو تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے
وضاحت
1اس ایت میں اللہ کی حقیقی رب ہونے کے دلائل بیان کیے گئے ہیں اللہ نے چھ دن میں پوری کائنات پیدا فرمائی پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے اور آپ کا خالق بھی اللہ ہے اور مدبر منتظم بھی وہی عظیم ہستی ہے اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کے لیے سفارش نہیں کر سکتا ان سب باتوں کا تقاضا ہے کہ اللہ ہی کو اپنا رب تسلیم کر کے اسی کی بندگی اختیار کی جائے
2اس ایت میں تخلیق کائنات اور نظام کائنات کو بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ ہی نے زمین و اسمان کو چھ دن میں پیدا کیا یعنی یہ کائنات از خود وجود میں نہیں اگئی جیسا کہ دہریوں کا عقیدہ ہےکہ دوسری بات یہ بتائ گی کہ اللہ اپنی شان کے مطابق عرش پر جلوہ فرما ہوا یہ نہیں وہ کائنات کو پیدا کر کے بیٹھ نہیں گیا بلکہ اس کا پورا انتظام چلا رہا ہے سورج چاند ستارے سب اس کے حکم کے مطابق گردش کر رہے ہیں
3تیسری بات یہ بتائی گئی کہ اللہ قادر مطلق ہے اور اتنی رعب اور دبدبے والا ہے کہ کوئی اس کے سامنے کسی دوسرے کی سفارش بھی کرنے کی جرات نہیں کر سکتا سوائے اس کی اجازت کے لہذا ان سب باتوں کا تقاضا ہے کہ تم سب لوگ اس با اختیار ذات کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو
جواباس ایت میں یوم سے مراد محض وقت ہے جس کی مقدار اللہ ہی کے علم میں ہےاس سے مراد وہ عام دن نہیں ہے جو ہم شمار کرتے ہیں کیونکہ جب اللہ نے زمین و اسمان کی تخلیق کی تو اس وقت نہ سورج تھا نہ ہی صبح شام کا کوئی وجود تھا اس لیے ایت کریمہ میں یوم سے مراد وہ دن تو نہیں ہو سکتا جس کا ابھی وجود نہ تھا
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پہلو میں لیٹے یا بیٹھے یا کھڑے ہمیں پکارتا ہے پھر جب اس سے اس کی تکلیف دور فرماتے ہیں تو ایسے چل دیتا ہے جیسے اس نے تکلیف پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا اس طرح حد سے بڑھ جانے والوں کے لیے خوشنما بنا دیا گیا ہے جو وہ کام کرتے تھے
وضاحت
جواباس آیت میں ناشکرے بندوں کا اللہ کے ساتھ احسان فراموشی کا بیان ہے کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ہر وقت گڑگڑا کر اللہ سے رحم کی التجا کرتے ہیں اور تکلیف دور ہونے پر اللہ سے ایسے غافل ہو جاتے ہیں گویا کہ اس کو کبھی پکارا ہی نہیں تھا ایسے لوگوں کی سزا کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ ایسے حد سے گزرنے والوں کے برے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے جاتے ہیں یعنی جو لوگ گناہ اور برے افعال اور اعمال کرنا نہیں چھوڑتے دراصل شیطان ایسے لوگوں کے دلوں میں ان کی اچھائی کا تصور بٹھا دیتا ہے انسان ان سے بچنے کے بجائے ان کو انجام دینے میں لذت محسوس کرتے ہیں اور مصیبت دور ہو جانے کے بعد پھر سے اپنے معبودان باطلہ کی عبادت اور پکار کو بہت اچھا کام خیال کرنے لگتے ہیں گویا مصیبت کے وقت اللہ کو پکارنے اور مصیبت کے دور ہو جانے کے بعد اللہ سے غافل ہو جانے والوں کی بندگی اللہ کے ہاں معتبر نہیں ہے کیونکہ اللہ کو وہ اظہار بندگی مطلوب ہے جو خوشی راحت رنج تکلیف ہر حالت میں کی جائے اور وہ اپنی غرض کی بندگی کی تو اللہ کے نزدیک کوئی قیمت اور اس کا کوئی اعتبار نبی کریم نے فرمایا جسے پسند ہو کہ اللہ سختیوں اور مصیبتوں میں اس کی دعا قبول فرمائے تو وہ خوشحالی میں کثرت سے دعا کیا کرو
جواباس ایت مبارکہ میں مشرکین مکہ کو بنیادی عقیدہ ظاہر ہو رہا ہے وہ لوگ اس کو مانتے تھے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک اللہ ہے اور وہ بتوں کو کائنات کا خالق مالک نہیں بلکہ اللہ کے قرب کا وسیلہ سمجھتے تھے ان کو یقین تھا کہ جن ہستیوں کے نام پر یہ بت بنائے گئے ہیں وہ ہستیاں اللہ کے ہاں بہت مقرب اور محبوب ہونے کے باعث ان کے ہاں ہماری سفارش کریں گے لہذا اس وجہ سے ان کی عبادت کرتے تھے جو کہ سراسر حرام ہے ان آیات مبارکہ میں ان کے معبودان باطلہ کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مشرکین اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتیں ۔مشرکین کا دعوی ہے کہ ان کے خود ساختہ معبود اللہ کے مقربین ہیں اور جو اللہ کی بارگاہ میں سفارش کریں گے ان کے اس باطل دعوے کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ ایسا کوئی سفارشی نہیں ہے جو کوئی بات اللہ سے جبرا منوائے اللہ پاک اور بلند ہے اور اس کے سوا کوئی معبود بھی نہیں ہے یہ مضمون قران مجید کے دیگر مقامات پر بھی بیان ہوا ہے سورہ مائدہ اللہ تعالی کا فرمان ہے اے نبی اپ فرما دیجئے کہ تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہوئے جو تمہارے لیے نہ کسی نقصان کی مالک ہے اور نہ نفع کی اور اللہ ہی سب کچھ جاننے والا ہے
وہاں ان کی دعا یہ ہوگی کہ اے اللہ تو پاک ہے اور وہاں ان کا استقبال سلام سے ہوگا اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہیں
اس ایت مبارکہ میں اہل جنت کی چند مخصوص کیفیات کا بیان ہے
1ان کی زبانوں پر اللہ کی حمد و تسبیح جاری ہوگی
2ہر ملاقات پر وہ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعائیں دیں گے
3ان کی ہر مجلس کا اختتام اللہ کی حمد و ثنا کے ساتھ ہوگا
4حدیث مبارکہ کے مطابق اہل جنت کے وجود میں تسبیح اور تحمید سانس کی طرح جاری ہوگی ۔صحیح مسلم
5فرمان نبوی ﷺ ہے۔جنتی جنت میں کھائیں گے اور پییں گے نہ تھوکیں گے نہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ کریں گے نہ ناک صاف کریں گے۔ "۔صحابہ نے پوچھا جو کھانا وہ کھائیں گے وہ کہاں جائے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا بس ڈکار آئے گی اور پسینہ آئے گا جس سے مشک یعنی کستوری کی خوشبو آئے گی ان کا کھانا تحلیل ہو جائے گا ان کے دلوں میں اور ان کی زبانوں پر تسبیح اور حمد خود بخود جاری ہو جائے گی جس طرح سانس خود جاری رہتی ہے
جوابتحیتھم کے معنی ہیں زندگی کی دعا دینا کہ اللہ تمہیں زندگی بخشے یعنی وہ ایک دوسرے سے ملیں گے تو ایک دوسرے کو زندہ رہنے کی دعا سلام کے الفاظ سے دیں گے اور اسی طرح ان کی گفتگو کا اختتام بھی رب العالمین کی حمد کے ساتھ ہی ہوگا ۔
سرگرمیاں
13سرگرمیاں
خوشی اور غمی کے معاملات میں ہمارا کیا طرز عمل ہونا چاہیے
جوابغمی اور خوشی کے معاملات میں ہمیں ہمیشہ اللہ تعالی کی بندگی اختیار کرنی چاہیے نعمتوں کے ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے غم کے موقع پر بھی اللہ کو نہیں بھلانا چاہیے اور اسی سے مدد اور دعا مانگنی چاہیے مصیبتوں میں تکلیفوں کے دور ہو جانے کے بعد اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خوشی میں خدا کو بھول جانا ناشکر ےلوگوں کی صفت ہے نبی ﷺکریم کا فرمان ہے جسے پسند ہو کہ اللہ سختی اور مصیبتوں میں اس کی دعا قبول فرمائے تو وہ خوشحالی میں بھی کثرت سے دعا کیا کریں
14سرگرمیاں
فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ کی رو سے زمین میں پائے جانے والے جانوروں کی خوراک کے مختلف ذرائع معلوم کریں
جواباللہ نے اسمان سے پانی نازل فرمایا تو اس کے ساتھ مل کر زمین کاسبزہ نکل ایا اللہ تعالی نے زمین میں مختلف قسم کی مخلوقات پیدا کی ہیں انسان جنات جانور کیڑے مکوڑے سمندر کے اندر مچھلیاں اور مختلف قسم کی مخلوقات اسی طرح اللہ تعالی نے ان کی ساخت کے مطابق ان کے لیے خوراک کا بھی انتظام کر رکھا ہے مثلا انسانوں کے لیے گوشت سبزیاں پھل اور خشک میوہ جات پیدا فرما رکھے ہیں اسی طرح جانوروں کے لیے گوشت درخت اور سبزہ وغیرہ فراہم کر رکھا ہے سمندری مخلوقات کے لیے اللہ تعالی نے سمندر کے اندر ہی ان کے لیے مختلف طریقوں سے خوراک کے انتظامات کر رکھے گئے جیسے بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلی کو کھاتی ہیں چھوٹی مچھلیاں کیڑے مکوڑوں اور دوسری مخلوقات کو کھا کر اپنا گزارا کرتی ہے اور کیڑے مکوڑے سمندر کے اندر موجود نباتات سے اپنی خوراک کو حاصل کرتے ہیں گویا پتھر کے اندر بھی کیڑے کو خوراک فراہم کرنے کے لیے اللہ تعالی نے انتظامات فرما رکھے تھے
15سرگرمیاں
سورہ یونس کی آیت اِنَّمَا مَثَلُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ مِمَّا يَاۡكُلُ النَّاسُ وَالۡاَنۡعَامُؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَازَّيَّنَتۡ وَظَنَّ اَهۡلُهَاۤ اَنَّهُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَيۡهَاۤ ۙ اَتٰٮهَاۤ اَمۡرُنَا لَيۡلًا اَوۡ نَهَارًا فَجَعَلۡنٰهَا حَصِيۡدًا كَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ ؕ كَذٰلِكَ نُـفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ ۔ایت میں دنیوی زندگی کی مثال پانی سے تشبیہ دے کر کیسے سمجھائی گئی ہے
1دنیاوی زندگی کی مثال پانی کی طرح ہے جسے ہم نے اسمان سے نازل فرمایا تو اس کے ساتھ مل کر زمین کا سبزہ نکل ایا جس میں سے انسان اور جانور کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین پوری رونق پر اگئی اور خوب مزین ہو گئی اور اس کے مالک سمجھے تو یقینا وہ اس پر قادر ہیں تو اچانک اس پر حکم عذاب رات یا دن میں اآپہنچا پھر ہم نے اس کو کٹا ہوا ڈھیر بنا دیا گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں اسی طرح ہم کھول کھول کر ائے تھے بیان کرتے ہیں ان کے لیے یہ غور و فکر کرتے ہیں
جواباس ایت میں دنیا کی زندگی اور اس کی حقیقت کا بیان ہے کہ دنیا کی زندگی کو کھیتی سے تشبیہ دے کر اس کے فانی اورنہ پائیداری کو واضح کیا گیا ہے ۔کھیتی بارش کے پانی سے سبز شاداب ہو جاتی ہے اور کھیتی والے اپنی ضرورتیں پوری ہونے پر خوش ہوتے ہیں اچانک اس پر اللہ کی طرف سے کوئی آفت اآجاتی ہے جس سے وہ تباہ ہو جاتی ہے گویا کہ وہ تھی ہی نہیں جس طرح کھیتی پر بہار آتی ہے انسانوں پر بھی جوانی آتی ہے پھر اچانک وہ کسی آفت یا مصیبت کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں سو جاتے ہیں اور موت کے باعث انسان اس ناپائیدار دنیا سے کوچ کر کے اخرت کی طرف لوٹ جاتے ہیں یعنی جو لوگ اخرت کو بھول کر دنیا دنیا کمانے کی دھن میں لگے رہتے ہیں جب وہ اخرت میں اجر و ثواب سے محروم اور عذاب میں گرفتار ہوں گے تو ان کا بھی اس وقت یہی حال ہوگا جیسے دنیا میں ایک کھیتی برباد ہو جانے والے کا ہوتا ہے جو کھیتی کو ہرا بھرا دیکھ کر یہ منصوبے بناتا ہے کہ باغ اور کھیتوں سے نفع حاصل کرے گا پھر اچانک اس کی فصلیں کسی حادثے کسی طوفان کسی اندھی کا شکار ہو کر اجڑ جاتی ہے اور وہ غم اور افسوس میں ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے
اس آیت میں سرداران قریش کی طرف سے قران حکیم میں تبدیلی کے مطالبے کا بیان ہے انہوں نے رسول اکرم سے دو مطالبات کیے ۔
شان نزول
1اس قران حکیم کی جگہ دوسرا قران حکیم لے ائیں
2اس قران حکیم کی جو چیزیں ان کی مرضی کے خلاف ہیں ان کو تبدیل کر دیا جائے
3ان کے دونوں طالبات کی تردید کی گئی اور رسول اللہ کی زبانی ان کو یہ جواب دیے گئے
4رسول اللہ اپنی طرف سے قران حکیم میں کمی بیشی یا تبدیلی کا اختیار نہیں رکھتے
5رسول اللہ وحی الہی کے پابند ہیں
6رسول اللہ اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے ہیں
7مفسرین کرام فرماتے ہیں مشرکین مکہ میں سے پانچ ادمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر آپﷺ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آﷺپ پر ایمان لائیں تو آپ اس قران حکیم کے علاوہ اور کوئی قران لے آئیں جس میں لات منات اور عز ی ٰکی عبادت سے ممانعت نہ ہو اور نہ ان کی مذمت کی گئی ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قران حکیم کو بدل ڈالیں اور عذاب کی ایتوں کی جگہ رحمت کی ایتیں اور حرام کی جگہ حلال اور حلال کی جگہ حرام لکھ دیں تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپ کہہ دیجیے کہ اس قران حکیم کو بدلنا میرے اختیار میں نہیں ہے میں صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جس کی مجھ پر وحی کی جاتی ہیں اور اس کے مطابق میں حکم دیتا ہوں یا کسی چیز سے منع کرتا ہوں
اپ فرما دیجیے اگر اللہ چاہتا تو میں اس قران کو تم پر نہ تلاوت کرتا اور نہ ہی وہ تمہیں اس سے اگاہ کرتا میں تو یقینا اس سے پہلے تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے
جواباس ایت میں کفار و مشرکین کے اس خیال کا رد ہے کہ یہ قران نبی کریم کا کلام ہے کیونکہ مشرکین مکہ نے اول سے اخر تک نبی کریم کی زندگی کا مشاہدہ کیا تھا اور ان کو آپ کے تمام احوال معلوم تھے وہ یہ جانتے تھے کہ آپ نے کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی استاد سے علم حاصل کیا پھر آپ پر اسی طرح 40 سال کا اثر گزر گیا پھر 40 سال بعد اپ اچانک اس عظیم کتاب کو لے ائےجس کی نظیر اور مثال لانے میں عرب کے علماء اور فصیح اور بلیغ بھی عاجز اور ناکام رہے ۔جس سے ہر عقل سلیم رکھنے والے شخص پر یہ بات واضح ہو گئی کہ ایسا کلام اللہ کی وحی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اس لیے فرمایا کہ میں تم میں اس نزول قران سے پہلے عمر کا ایک حصہ گزار چکا ہوں کیا تم سمجھتے نہیں یعنی میں نے تم میں 40 سال زندگی گزاری اور تم میری صداقت و امانت اور میری پاکیزگی کو جان چکے ہو میں پڑھتا تھا نہ لکھتا تھا پھر میں تمہارے پاس اس کلام کو بطور معجزہ لے کر ایا ہوں تو اب کیا تم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ کلام میرا نہیں ہو سکتا یہ صرف اور صرف وحی الہی ہے پھر میں نے تم میں اپنی جوانی کی عمر گزاری جس میں میں نے اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کی تو اب تم مجھ سے یہ توقع رکھتے ہو کہ میں اللہ کی نافرمانی کروں گا اور اس کے کلام کو بدل ڈالوں گا کیا تم اتنی سی بات بھی نہیں سمجھتے
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔