وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ (سورۃ الانعام ۔ آیت 142)
ایت میں کس کی پیروی سے منع کیا گیا اور کیوں
دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ (سورۃ الانعام ۔ آیت 142)
ایت میں کس کی پیروی سے منع کیا گیا اور کیوں
اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖۚ (سورۃ الانعام ۔ آیت 145)
ایت کریمہ میں کن چیزوں کو حرام اور ناپاک قرار دیا گیا ہے
سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو تو بے شک وہ ناپاک ہے اور یا جو نافرمانی کا باعث ہو یعنی وہ جانور جس پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے ۔
ایت مبارکہ میں چار چیزوں کو حرام اور ناپاک قرار دیا گیا ہے
وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ۚ (سورۃ الانعام ۔ آیت 151)
ایت کریمہ میں کس چیز سے روکا گیا ہے
اور تم بے حیائی کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِي شَيۡءٍۚ إِنَّمَآ أَمۡرُهُمۡ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 159)
ایت کریمہ کی رو سے کن لوگوں سے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کی نفی کی گئی ہے
بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور وہ گروہ گروہ ہو گئے آپﷺپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں
مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشۡرُ أَمۡثَالِهَاۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزَىٰٓ إِلَّا مِثۡلَهَا وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 160)
ایت کریمہ میں نیکی اور برائی کا کیا بدلہ بیان ہوا ہے
۞قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗاۖ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُم مِّنۡ إِمۡلَٰقٖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِيَّاهُمۡۖ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 151)
ایت کا ترجمہ کریں پلیز بتائیں کہ اس ایت مبارکہ میں کن باتوں کی تلقین کی گئی ہے اور ان سے منع کیا گیا ہے ایت 151
اپ فرما دیجئے اؤ میں پڑھ کر سناؤں جو کچھ تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اپنی اولاد کو تنگدستی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی اور بے حیائی کی باتوں کے قریب مت جاؤ اور جو ان میں سے ظاہر ہے اور جو پوشیدہ ہیں اور ناحق اس جان کو قتل نہ کرو جس سے قتل کرنا اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اور یہ وہ باتیں ہیں جن کی اللہ تعالی تمہیں وصیت فرماتا ہے تاکہ تم سمجھ سکو ۔
اس ایت مبارکہ میں پانچ باتوں کا حکم دیا گیا ہے
وَمِنَ ٱلۡإِبِلِ ٱثۡنَيۡنِ وَمِنَ ٱلۡبَقَرِ ٱثۡنَيۡنِۗ قُلۡ ءَآلذَّكَرَيۡنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلۡأُنثَيَيۡنِ أَمَّا ٱشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ أَرۡحَامُ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۖ أَمۡ كُنتُمۡ شُهَدَآءَ إِذۡ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَٰذَاۚ فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 144)
ایات کریمہ میں مویشیوں کی کن جوڑوں کا ذکر ہے
اللہ نے اٹھ قسم کے جوڑے پیدا فرمائے اور نر و مادہ بھیڑ میں سے اور دو بکری میں سے ۔اپ فرما دیجیے کیا اللہ نے دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں مادہ یا اس اس بچے کو جس کو دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہوئے ہیں مجھے کسی علمی بنیاد پر بتاؤ اگر تم سچے ہو اور اسی طرح دو نراور مادہ اونٹ میں سے اور دو گائے میں سے آپ فرما دیجیے کیا اس اللہ نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا اس بچے کو جس کو دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہوئے ہیں کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا بس اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے تاکہ وہ جہالت سے لوگوں کو گمراہ کر دے بے شک اللہ تعالی ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا
وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ أَشُدَّهُۥۚ وَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۖ وَإِذَا قُلۡتُمۡ فَٱعۡدِلُواْ وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰۖ وَبِعَهۡدِ ٱللَّهِ أَوۡفُواْۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 152)
ایت کا ترجمہ کریں اور بتائیں اس ایت مبارکہ میں کن باتوں کی تلقین کی جا رہی ہے
اور تم قریب مت جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طریقے سے جو بہت اچھا ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور انصاف کے ساتھ ناپ تول پورا کرو ہم کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے اور جب بھی بات کرو تو عدل کی کرو اگرچہ کوئی رشتہ دار ہو اور اللہ سے کیے وعدے کو پورا کرو یہ ہیں وہ باتیں جن کی اللہ تمہیں وصیت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ۔
آیت مبارکہ میں چار احکامات بیان کیے گئے ہیں
ثُمَّ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ تَمَامًا عَلَى ٱلَّذِيٓ أَحۡسَنَ وَتَفۡصِيلٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لَّعَلَّهُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 154)
ایات کریمہ میں سیدنا موسی کو دی گئی کتاب قران حکیم کی کیا شان بیان کی گئی ہیں
پھر ہم نے موسی کو کتاب عطا فرمائی تاکہ نعمت پوری کریں اس پر جو اچھا عمل کرے اور تاکہ ہر چیز کی تفصیل ہو جائے اور ہدایت و رحمت ہو اور تاکہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے پر ایمان لائے اور یہ برکت والی کتاب(قرآن) ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے بس اس کی پیروی کرو اوراللہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔
آیات مبارکہ میں تورات کی درج ذیل صفات بیان کی گئی ہیں
قران مجید کی صفات
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِي مُسۡتَقِيمٗا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِيلِهِۦۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 153)
ایت کا ترجمہ اور مفہوم بیان کریں
اور بے شک یہ میرا سیدھا راستہ بس اس کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اس اللہ کے راستے سے الگ کر دیں گے یہ ہیں وہ باتیں جن کی وہ تمہیں وصیت فرماتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو
مفہوم
قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 162)
ایت کریمہ کے مطابق مومن کی زندگی کا کیا مقصد ہے ایت 162
فللہ الحجة البالغة کا مفہوم بیان کریں ایت 149
مفہوم
“إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ” کی وضاحت کریں۔
یہ اسی سبق کی آیت 162 ہے، اور اگلی آیت 163 اس کی تکمیل کرتی ہے۔ ان دو آیتوں میں ایک مسلمان کی پوری زندگی کا اعلانِ عبودیت آ گیا ہے — کہ عبادت بھی، قربانی بھی، جینا بھی اور مرنا بھی سب صرف اللہ کے لیے ہے۔
سورۃ الانعام کے آخر میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے جن کاموں کے کرنے کی اور جن سے روکا گیا ہے، ان کی فہرست بنائیں۔
سورۃ الانعام کے آخری رکوعات (آیات 141 تا 153) میں اسلام کی بنیادی تعلیمات احکام اور ممنوعات کی صورت میں جمع کر دی گئی ہیں۔ آیات 151 تا 153 کو علماء “وصایائے عشرہ” (دس وصیتیں) کہتے ہیں، اور احادیث میں انہیں قرآن کی محکم آیات میں شمار کیا گیا ہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔