دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 5: سبق 5: سورہ الانعام — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمی اور مزید سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ​ ؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ (سورۃ الانعام ۔ آیت 142)

ایت میں کس کی پیروی سے منع کیا گیا اور کیوں

جواب اس ایت مبارکہ میں شیطان کی پیروی کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ شیطان تمہارا ازلی دشمن ہے ۔دراصل جب اللہ تعالی نے ادم علیہ السلام کو اپنا نائب خلیفہ بنانے کا اعلان کیا اور فرشتوں کو اور شیطان کو حکم دیا کہ ادم علیہ السلام کا سجدہ کرو تو ابلیس نے غرور تکبر کی وجہ سے ادم علیہ السلام کو سجدہ نہ کیا جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے اس سے ملعون قرار دے کر جنت سے نکال دیا تب سے اس نے اللہ تعالی سے مہلت مانگی کہ اے اللہ تو مجھے مہلت دے قیامت تک مہلت دے ۔پھر اس نے چیلنج کیا کہ اب وہ قیامت تک اللہ کے بندوں پر دائیں جانب سے بائیں جانب سے اگے پیچھے سوار اور پیدل لشکروں سے حملہ آور ہوگا اور انہیں گمراہ کر کے اللہ کی نافرمانی پر امادہ کرے گا ۔اسی دشمنی کے تحت وہ انسانوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے اور انہیں گمراہی کی راستے پر چلنے کے لیے امادہ کرتا رہتا ہے ۔اس لیے جب شیطان وسوسہ دل میں ڈالے تو فورا تعوذ پڑھ لینا چاہیے ۔
2 مختصر جوابات

اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ​​ۚ (سورۃ الانعام ۔ آیت 145)

ایت کریمہ میں کن چیزوں کو حرام اور ناپاک قرار دیا گیا ہے

ترجمہ

سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو تو بے شک وہ ناپاک ہے اور یا جو نافرمانی کا باعث ہو یعنی وہ جانور جس پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے ۔

ایت مبارکہ میں چار چیزوں کو حرام اور ناپاک قرار دیا گیا ہے

1 مردار یعنی وہ حلال جانور جو ذبح کیے بغیر طبعی موت مرا ہو
2 بہتا ہوا خون یعنی ذبح کرتے وقت جانور کی رگوں سے نکلنے والا خون
3 وہ ذبیحہ جس پر اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام پکارا گیا ہو
4 خنزیر کا گوشت جس کے جسم کا کوئی حصہ حلال نہیں
5 مگر دو شرائط کے ساتھ ان اشیاء میں سے کوئی چیز کھا کر جان بچائی جا سکتی ہے جس پر پکڑ نہیں
6 نہ کھانے کی صورت میں ہلاکت کا ڈر ہو
7 زیادتی نہ کرے صرف اتنا کھائے جس سے جان بچ سکے اس سے زائد کھانے کی اجازت نہ ہوگی
3 مختصر جوابات

وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ​ ۚ (سورۃ الانعام ۔ آیت 151)

ایت کریمہ میں کس چیز سے روکا گیا ہے

ترجمہ

اور تم بے حیائی کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ

جواب اس ایت مبارکہ میں ظاہری اور پوشیدہ بے حیائی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے یعنی ایسے وسائل اختیار کرنے کی ممانعت کی گئی ہے جو بے حیائی کے کاموں کے قریب لے جائیں مثلا بے حیائی پر مبنی میگزین ڈرامے فلمیں نامحرم سے بے جا گفتگو وغیرہ
4 مختصر جوابات

إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِي شَيۡءٍۚ إِنَّمَآ أَمۡرُهُمۡ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 159)

ایت کریمہ کی رو سے کن لوگوں سے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کی نفی کی گئی ہے

ترجمہ

بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور وہ گروہ گروہ ہو گئے آپﷺپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں

جواب اس ایت مبارکہ کی رو سے دین میں تفرقہ ڈالنے والوں اور گروہ گرو ہو جانے والوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کی نفی کی گئی ہے شیعا سے مراد فرقے اور گروہ ہیں اس ایت میں ہر وہ گروہ مراد ہے جو دین اسلام اور اسلام کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے دین یا طریقے کو اختیار کرے ۔ آپس میں مختلف گروہ بننے سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی غرض اور خواہش کی وجہ سے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور وہ مختلف گروہوں میں بٹ گئے یعنی بنیادی اور اصولی اختلافات کر کے ۔پس جہاں صحابہ کرام اور ائمہ کرام کا اختلاف ہے وہ اس میں داخل نہیں کیونکہ وہ اختلاف اصولی اور بنیادی نہیں بلکہ فروعی ہے ۔ان فرقوں سے مراد یہود و نصاری اور اسلام کے دعوی دار اور وہ سب فرقے داخل ہیں جو اہل حق سے بنیادی اختلاف رکھتے ہیں جیسے خوارج اور منکرین حدیث وغیرہ ۔
5 مختصر جوابات

مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشۡرُ أَمۡثَالِهَاۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزَىٰٓ إِلَّا مِثۡلَهَا وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 160)

ایت کریمہ میں نیکی اور برائی کا کیا بدلہ بیان ہوا ہے

جواب جو کوئی ایک نیکی لائے گا تو اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ہوں گی اور جو کوئی ایک برائی لائے گا تو اسے صرف اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا اس ایت میں قیامت کے دن اللہ کے عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے نیکی کرنے کے بعد اس نیکی کو محفوظ رکھتے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے والے کے لیے بشارت دی گئی ہے نیز بتایا گیا ہے کہ ہر نیکی کا اجر 10 گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور یہ کم سے کم اجر ہے اس کے برعکس برائی کرنے والے کو برائی کے برابر سزا دی جائے گی ۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

۞قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗاۖ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُم مِّنۡ إِمۡلَٰقٖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِيَّاهُمۡۖ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 151)

ایت کا ترجمہ کریں پلیز بتائیں کہ اس ایت مبارکہ میں کن باتوں کی تلقین کی گئی ہے اور ان سے منع کیا گیا ہے ایت 151

ترجمہ

اپ فرما دیجئے اؤ میں پڑھ کر سناؤں جو کچھ تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اپنی اولاد کو تنگدستی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی اور بے حیائی کی باتوں کے قریب مت جاؤ اور جو ان میں سے ظاہر ہے اور جو پوشیدہ ہیں اور ناحق اس جان کو قتل نہ کرو جس سے قتل کرنا اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اور یہ وہ باتیں ہیں جن کی اللہ تعالی تمہیں وصیت فرماتا ہے تاکہ تم سمجھ سکو ۔

اس ایت مبارکہ میں پانچ باتوں کا حکم دیا گیا ہے

1 اللہ تعالی کی ذات صفات اور عبادات میں کسی اور کو اللہ کے ساتھ شریک کرنے کی ممانعت کی گئی ہے
2 والدین کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کا حکم ہے
3 مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کرنے کی ممانعت ہے
4 ظاہری اور پوشیدہ بے حیائی سے بچنے کو حکم دیا گیا ہے یعنی ایسے وسائل اختیار کرنے کی وہ ممانعت کی گئی ہے جو بے حیائی کے کاموں کے قریب لے جائے مثلا بے حیائی پر مبنی میگزین ڈرامے فلمیں اور نامحرم سے بے جا گفتگو وغیرہ
5 کسی جان کو ناحق قتل کرنے کی ممانعت کی گئی ہے
7 تفصیلی جوابات

وَمِنَ ٱلۡإِبِلِ ٱثۡنَيۡنِ وَمِنَ ٱلۡبَقَرِ ٱثۡنَيۡنِۗ قُلۡ ءَآلذَّكَرَيۡنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلۡأُنثَيَيۡنِ أَمَّا ٱشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ أَرۡحَامُ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۖ أَمۡ كُنتُمۡ شُهَدَآءَ إِذۡ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَٰذَاۚ فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 144)

ایات کریمہ میں مویشیوں کی کن جوڑوں کا ذکر ہے

ترجمہ

اللہ نے اٹھ قسم کے جوڑے پیدا فرمائے اور نر و مادہ بھیڑ میں سے اور دو بکری میں سے ۔اپ فرما دیجیے کیا اللہ نے دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں مادہ یا اس اس بچے کو جس کو دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہوئے ہیں مجھے کسی علمی بنیاد پر بتاؤ اگر تم سچے ہو اور اسی طرح دو نراور مادہ اونٹ میں سے اور دو گائے میں سے آپ فرما دیجیے کیا اس اللہ نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا اس بچے کو جس کو دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہوئے ہیں کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا بس اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے تاکہ وہ جہالت سے لوگوں کو گمراہ کر دے بے شک اللہ تعالی ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا

جواب اس آیت مبارکہ میں وہ مویشی جو لمبے اور چوڑے قد کے ہیں ان میں اٹھ اقسام کے جوڑوں کو بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے ایک اونٹ اور اونٹنی کا جوڑا ہے دوسرا بیل اور گائے کا تیسرا مینڈھا اور بھیڑ کا اور چوتھا بکرے اور بکری کا جوڑا ہے مشرکین عرب نے مویشیوں میں سے بحیرہ ،سائبہ ،وسیلہ اور حام بنا رکھے تھے اور عام لوگوں کے لیے ان پر سواری کرنا باربرداری کرنا انہیں کھانا اور ان کا دودھ پینا حرام قرار دیا تھا اللہ تعالی فرماتے ہیں اے رسول اکرم آپ ان سے پوچھیے کیا اللہ نے ان میں سے دو نر حرام کیے ہیں اگر اللہ نے نرکی صنف حرام کر دی ہے تو پھر نر جانور کیوں کھاتے ہو اور اگر اللہ نے مادہ کی صنف حرام کر دی ہے تو پھر مادہ جانور کیوں کھاتے ہیں اور اگر اللہ نے دونوں حرام کر دیے تو پھر تم نر اور مادہ دونوں کیوں کھاتے ہو درحقیقت اللہ نے ان میں سے کسی صنف کو حرام نہیں کیا یہ حرمت کا اعتقاد محض جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔پھر اللہ نے مزید تاکید کے لیے فرمایا کیا تم اس وقت اللہ کے سامنے حاضر تھے جب اللہ نے ان جانوروں کو حرام کرنے کی وصیت فرمائی تھی یہ محض تمہارا جھوٹ کھڑا ہوا ہے اور اگر تم سچے ہو توبتاؤ اللہ نے کس نبی کی کتاب میں ان جانوروں کی تحریم نازل کی تھی یا کس نبی پر وحی ائی تھی ۔اگر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کرو ۔
8 تفصیلی جوابات

وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ أَشُدَّهُۥۚ وَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۖ وَإِذَا قُلۡتُمۡ فَٱعۡدِلُواْ وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰۖ وَبِعَهۡدِ ٱللَّهِ أَوۡفُواْۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 152)

ایت کا ترجمہ کریں اور بتائیں اس ایت مبارکہ میں کن باتوں کی تلقین کی جا رہی ہے

ترجمہ

اور تم قریب مت جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طریقے سے جو بہت اچھا ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور انصاف کے ساتھ ناپ تول پورا کرو ہم کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے اور جب بھی بات کرو تو عدل کی کرو اگرچہ کوئی رشتہ دار ہو اور اللہ سے کیے وعدے کو پورا کرو یہ ہیں وہ باتیں جن کی اللہ تمہیں وصیت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ۔

آیت مبارکہ میں چار احکامات بیان کیے گئے ہیں

1 یتیم کی کفالت کی ذمہ داری پر اس کی خیر خواہی کرنے کا حکم اور اس کے مال میں ناجائز تصرف کی ممانعت کی گئی ہے تو حکم دیا گیا ہے کہ مال کی اس وقت تک حفاظت کی جائے جب تک یتیم شعور کی عمر کو نہ پہنچائے حدیث مبارک کے مطابق یتیم کا مال کھانا سات بڑے گناہ میں شامل ہے۔
2 ناپ تول کو عدل کے ساتھ پورا کیا جائے تاہم بغیر ارادے کی کمی بیشی ہونے پر گرفت نہیں ۔
3 ناانصافی کی ممانعت کی گئی ہے قول سے مراد فیصلہ بھی ہے اور شہادت بھی کسی معاملے میں ثالث مقرر کیے جانے پر حق اور انصاف پر مبنی بات پر فیصلہ کرنا چاہیے شہادت درکار ہونے پر ہمیشہ عدل کی بات کی جائے اور جانبداری نہ برتی جائے۔خواہ کوئی قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو
4 عہد کے خلاف ورزی کی ممانت کی گئی ہے عہد سے مراد عہدالست یعنی اللہ کے رب ہونے کا اقرار اور اسی طرح روزمرہ کے معاملات میں بندوں ے آپس میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بھی شامل ہے
9 تفصیلی جوابات

ثُمَّ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ تَمَامًا عَلَى ٱلَّذِيٓ أَحۡسَنَ وَتَفۡصِيلٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لَّعَلَّهُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 154)

ایات کریمہ میں سیدنا موسی کو دی گئی کتاب قران حکیم کی کیا شان بیان کی گئی ہیں

ترجمہ

پھر ہم نے موسی کو کتاب عطا فرمائی تاکہ نعمت پوری کریں اس پر جو اچھا عمل کرے اور تاکہ ہر چیز کی تفصیل ہو جائے اور ہدایت و رحمت ہو اور تاکہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے پر ایمان لائے اور یہ برکت والی کتاب(قرآن) ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے بس اس کی پیروی کرو اوراللہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔

آیات مبارکہ میں تورات کی درج ذیل صفات بیان کی گئی ہیں

قران مجید کی صفات

1 تورات کا نزول اللہ کی طرف سے اتمام نعمت تھا
2 وہ اپنے دور کی جامع کتاب تھی جو ہدایت اور رحمت کا باعث تھی
3 تو رات کی تعلیمات کا بھی ایک مقصد اخرت پر ایمان رکھنے کی تعلیم دینا تھا
4 کتاب قران مجید جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی ہے برکت والی کتاب ہے یعنی اس میں تمہاری اس فانی زندگی کی کامیابی کا راز مضمر ہے اور اخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کا بھی ۔اس لیے اس برکتوں بھری اور عظیم الشان کتاب کی عظمتوں کا تقاضہ ہے کہ تم اس کی پیروی کرو یعنی اس کتاب کو اپنا امام بنا لو اور اس میں جو عقائد مذکور ہیں ان کو مانو اور ان پر عمل کرو اور ڈرتے رہو یعنی اپنے دلوں میں اللہ کا ڈر رکھواور اس کے خلاف عمل نہ کرو اور اس کی حدود سے تجاوز نہ کرو اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حلال نہ کرو ۔
10 تفصیلی جوابات

وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِي مُسۡتَقِيمٗا فَٱتَّبِعُوهُۖ وَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِيلِهِۦۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 153)

ایت کا ترجمہ اور مفہوم بیان کریں

اور بے شک یہ میرا سیدھا راستہ بس اس کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اس اللہ کے راستے سے الگ کر دیں گے یہ ہیں وہ باتیں جن کی وہ تمہیں وصیت فرماتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو

مفہوم

1 صراط مستقیم سے مراد وہ راستہ ہے جو اللہ کی طرف لے جاتا ہے اس سے مراد اللہ کے احکامات پر عمل کرنا ہے جس سے انسان اللہ کی رضا اور جنت کی نعمتیں حاصل کر سکتا ہے حدیث مبارکہ میں ہے کہ قران حکیم ہی سیدھا راستہ ہے
2 ایک مرتبہ رسول اکرم نے ایک سیدھی لکیر کھینچی پھر اس کے دائیں بائیں بہت سی لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ سیدھی لکیر اللہ کی راہ ہے اور باقی لکیریں شیطان کی راہیں ہیں پھر آپ نے یہ ایت پڑھی ۔
جواب دراصل قران حکیم نازل کرنے اور رسول کریم کے بھیجنے کا منشا تو یہ ہے کہ لوگ اپنے طرز معاشرت اور طرز معیشت کو قران و سنت کے تابع کریں اور اپنی زندگیوں کو قران و سنت کے سانچہ میں ڈھال لیں ۔
11 تفصیلی جوابات

قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 162)

ایت کریمہ کے مطابق مومن کی زندگی کا کیا مقصد ہے ایت 162

جواب بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے اس ایت مبارکہ میں مومن کی زندگی کے دو مقاصد بیان کیے گئے ہیں اول یہ کہ ہر کام اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے دوم یہ کہ مومن کی زندگی بھی قیمتی ہے اور موت بھی قیمتی ہے مومن کو چاہیے کہ اللہ ہی کے لیے جیے اور اللہ ہی کے لیے مرے پوری زندگی اللہ کے احکامات کی پابندی میں گزارے اور فرائض اور واجبات کے علاوہ بھی انہیں کاموں میں لگا رہےجن سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور جب مرنے لگے تو ایمان پر مرے تو اس کی یہ موت قیمتی ہو جائے گی کیونکہ موت ہی اخروی نعمتوں کے درمیان حائل ہے جب مومن بندہ موت کی اغوش میں چلا جاتا ہے تو اس کے لیے خیر اور بھلائی ہی ہے ۔اس ایت میں قل کہہ کر حضور اکرم کو مخاطب فرمایا گیا ہے لیکن اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے ہم میں سے ہر ایک کو یہ حکم پہنچ رہا ہے ۔

سرگرمی

12 سرگرمی

فللہ الحجة البالغة کا مفہوم بیان کریں ایت 149

مفہوم

1 اپ فرما دیجیے بس اللہ ہی کے لیے ہے کامل دلیل ۔
2 ایسی دلیل جو تمام شکوک و شبہات کو جڑ سے اکھاڑ دے صرف اللہ ہی کے پاس ہے اس ایت میں یہ تنبیہ ہے کہ اللہ واحد ہے اس نے رسولوں کو دلائل اور معجزات دے کر بھیجا اور ہر مکلف پر اپنے احکام کو لازم کیا ہے اللہ نے ان کو کوئی بھی کام کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا ہے اور اللہ کی حکمت یہی ہے کہ بندے اپنے اختیار سے اس پر ایمان لائیں اور اس کے احکامات کی تعمیل کریں ورنہ اگر وہ چاہتا تو جبرا سب انسانوں کو مومن بنا دیتا ۔لیکن یہ اللہ کی حکمت کے خلاف ہے ۔اس لیے مشرکین کا یہ کہنا بالکل لغو بات ہے کہ اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے نہ ہمارے باپ دادا ۔ نہ ہم جانوروں کو حرام قرار دیتے کیونکہ اس قسم کا ایمان اللہ کو مطلوب نہیں اللہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی عقل سے کام لیں حق و باطل کو جانچیں اور اپنے اختیار سے ایمان قبول کریں ۔انبیاء کرام کی تعلیمات اور شیطانی وسوسوں میں فرق محسوس کریں اور اپنے اختیار سے برے کاموں اور بری باتوں کو ترک کریں اور شیطان کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لانے کو اختیار کریں ۔ان ایتوں میں یہ دلیل بھی ہے کہ اللہ نے انسان کو مجبور محض نہیں بنایا بلکہ عمل کا اختیار اور موقع دیا گیا ۔
جواب گویا مشرکین کی اس حجت کے مقابلے میں حقیقت تک پہنچی ہوئی حجت صرف اللہ کی ہے اس نے ہر طرح سے ان پر اتمام حجت کر دی ہے ان کی ہر نامعقول بات کو معقول طریقے سے رد کر دیا ہے اور مختلف انداز سے انہیں ہر بات سمجھا دی ہے ۔

مزید سرگرمیاں

13 مزید سرگرمیاں

“إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ” کی وضاحت کریں۔

یہ اسی سبق کی آیت 162 ہے، اور اگلی آیت 163 اس کی تکمیل کرتی ہے۔ ان دو آیتوں میں ایک مسلمان کی پوری زندگی کا اعلانِ عبودیت آ گیا ہے — کہ عبادت بھی، قربانی بھی، جینا بھی اور مرنا بھی سب صرف اللہ کے لیے ہے۔

1 قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُۥۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرۡتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ آپ فرما دیجیے: بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔ (سورۃ الانعام ۔ آیات 162-163)
2 الفاظ کی وضاحت — صَلَاتِي ۔ میری نماز — تمام بدنی عبادات کی نمائندہ — نماز، ذکر، تلاوت اور ہر وہ عمل جس سے بندہ اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے۔
3 الفاظ کی وضاحت — نُسُكِي ۔ میری قربانی — “نُسُک” قربانی اور ہر اُس عبادت کو کہتے ہیں جو تقرب کے لیے کی جائے؛ یہ مالی عبادات کی نمائندگی کرتا ہے۔
4 الفاظ کی وضاحت — مَحْيَايَ ۔ میرا جینا — پوری زندگی کے معاملات — تعلیم، کاروبار، رشتے، معاشرت — سب اللہ کے حکم کے تابع۔
5 الفاظ کی وضاحت — مَمَاتِي ۔ میرا مرنا — موت بھی اسی کے سپرد؛ ایمان پر خاتمہ ہو اور جان بھی اسی کی راہ میں جائے۔
6 الفاظ کی وضاحت — لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ — یہ سب کچھ کسی دنیاوی غرض، دکھاوے یا شہرت کے لیے نہیں، بلکہ خالص اُس رب کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔
7 الفاظ کی وضاحت — لَا شَرِيكَ لَهُ (آیت 163) — اعلانِ توحید — نہ عبادت میں کوئی شریک، نہ اطاعت میں، نہ نیت میں۔
8 الفاظ کی وضاحت — وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ — نبی کریم ﷺ کا اعلان کہ اس فرمانبرداری میں سب سے آگے میں خود ہوں — داعی پہلے خود عامل ہوتا ہے۔
9 اہم نکات — اسلام کی جامعیت — یہ آیت بتاتی ہے کہ اسلام صرف مسجد تک محدود نہیں؛ زندگی کا کوئی گوشہ اللہ کی رضا سے باہر نہیں۔
10 اہم نکات — عبادت اور معاملات کی وحدت — نماز اور کاروبار دو الگ خانے نہیں؛ دونوں پر ایک ہی حکم چلتا ہے۔
11 اہم نکات — اخلاص کی جڑ — “لِلَّهِ” ہر عمل کی قبولیت کی شرط ہے؛ نیت بدل جائے تو عمل ضائع ہو جاتا ہے۔
12 اہم نکات — مشرکین کے طرزِ عمل کا رد — جو لوگ قربانی اور نذر غیر اللہ کے نام پر کرتے تھے، یہ آیت ان کے عمل کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔
13 اہم نکات — عملی حیثیت — یہی دونوں آیتیں نماز کی “دعائے استفتاح” کا حصہ ہیں، اس لیے ایک مسلمان دن میں کئی بار یہ عہد دہراتا ہے۔
14 ہمارے لیے تقاضا — ہر کام سے پہلے یہ سوال کہ “یہ کس کے لیے کر رہا ہوں؟” — اگر جواب “اللہ کے لیے” ہو تو وہ عبادت بن جاتا ہے، خواہ وہ پڑھائی ہو، ملازمت ہو یا والدین کی خدمت۔
14 مزید سرگرمیاں

سورۃ الانعام کے آخر میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے جن کاموں کے کرنے کی اور جن سے روکا گیا ہے، ان کی فہرست بنائیں۔

سورۃ الانعام کے آخری رکوعات (آیات 141 تا 153) میں اسلام کی بنیادی تعلیمات احکام اور ممنوعات کی صورت میں جمع کر دی گئی ہیں۔ آیات 151 تا 153 کو علماء “وصایائے عشرہ” (دس وصیتیں) کہتے ہیں، اور احادیث میں انہیں قرآن کی محکم آیات میں شمار کیا گیا ہے۔

1 جن کاموں کا حکم دیا گیا (اوامر) — والدین کے ساتھ احسان (آیت 151) — شرک سے منع کرنے کے فوراً بعد سب سے پہلا مثبت حکم یہی ہے۔
2 جن کاموں کا حکم دیا گیا (اوامر) — فصل کی کٹائی کے دن حق ادا کرنا (آیت 141) — پیداوار میں سے مستحقین کا حصہ اسی دن نکالنے کا حکم۔
3 جن کاموں کا حکم دیا گیا (اوامر) — ناپ تول انصاف کے ساتھ پورا کرنا (آیت 152) — ساتھ ہی یہ رعایت کہ ہم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔
4 جن کاموں کا حکم دیا گیا (اوامر) — بات کہو تو انصاف کی (آیت 152) — خواہ معاملہ اپنے قریبی رشتہ دار کا ہی کیوں نہ ہو۔
5 جن کاموں کا حکم دیا گیا (اوامر) — اللہ سے کیا ہوا عہد پورا کرنا (آیت 152) — وعدہ اور معاہدہ نبھانا دین کا حکم ہے، محض اخلاقیات نہیں۔
6 جن کاموں کا حکم دیا گیا (اوامر) — یتیم کے مال میں بہترین طریقے سے تصرف (آیت 152) — قریب جانے کی اجازت صرف اُس صورت میں جو اُس کے حق میں بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔
7 جن کاموں کا حکم دیا گیا (اوامر) — صراطِ مستقیم کی پیروی (آیت 153) — اللہ کا سیدھا راستہ اختیار کرنا اور اسی پر جمے رہنا۔
8 جن کاموں کا حکم دیا گیا (اوامر) — ذبح پر اللہ کا نام لینا (آیات 118 تا 119) — جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اسی میں سے کھاؤ۔
9 جن کاموں کا حکم دیا گیا (اوامر) — اللہ کے دیے ہوئے پاکیزہ رزق سے کھانا (آیت 142) — حلال کو حرام نہ ٹھہرانا اور اللہ کی نعمت سے فائدہ اٹھانا۔
10 جن کاموں کا حکم دیا گیا (اوامر) — نیکی پر دس گنا اجر کا یقین (آیت 160) — جو ایک نیکی لائے گا اسے دس گنا ملے گا، اور برائی کا بدلہ اتنا ہی جتنی برائی ہو۔
11 جن کاموں کا حکم دیا گیا (اوامر) — زندگی اور موت اللہ کے لیے وقف کرنا (آیات 162 تا 163) — پچھلے سوال میں اسی کی تفصیل گزری۔
12 جن کاموں سے روکا گیا (نواہی) — شرک (آیت 151) — سب سے پہلی اور سب سے بڑی ممانعت — اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔
13 جن کاموں سے روکا گیا (نواہی) — اولاد کا قتل (آیت 151) — مفلسی کے ڈر سے اولاد کو مارنا؛ فرمایا کہ رزق ہم دیتے ہیں، تمہیں بھی اور انہیں بھی۔
14 جن کاموں سے روکا گیا (نواہی) — فواحش، ظاہری ہوں یا باطنی (آیت 151) — بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی نہ جانا، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے۔
15 جن کاموں سے روکا گیا (نواہی) — ناحق قتل (آیت 151) — جس جان کو اللہ نے حرمت دی ہے، اسے ناحق نہ مارنا۔
16 جن کاموں سے روکا گیا (نواہی) — یتیم کے مال کے قریب جانا (آیت 152) — سوائے اُس طریقے کے جو اُس کے لیے بہتر ہو۔
17 جن کاموں سے روکا گیا (نواہی) — ناپ تول میں کمی (آیت 152) — پیمانے اور ترازو میں کوتاہی کرنا۔
18 جن کاموں سے روکا گیا (نواہی) — متفرق راستوں کی پیروی (آیت 153) — سیدھے راستے کے سوا دوسری راہیں اختیار کرنا، جو انسان کو اللہ کے راستے سے جدا کر دیتی ہیں۔
19 جن کاموں سے روکا گیا (نواہی) — اسراف (آیت 141) — کھانے پینے اور خرچ میں حد سے بڑھنا؛ فرمایا کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
20 جن کاموں سے روکا گیا (نواہی) — شیطان کے نقشِ قدم پر چلنا (آیت 142) — وہ کھلا دشمن ہے، اس کی راہ پر قدم نہ رکھو۔
21 جن کاموں سے روکا گیا (نواہی) — بغیر علم کے اللہ پر جھوٹ باندھنا (آیت 144) — حلال و حرام اپنی طرف سے مقرر کرنا اور اسے دین کہنا۔
22 جن کاموں سے روکا گیا (نواہی) — غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ (آیت 145) — جس پر اللہ کے سوا کسی کا نام پکارا گیا ہو، وہ حرام ہے۔
23 جن کاموں سے روکا گیا (نواہی) — دین میں تفرقہ ڈالنا (آیت 159) — جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ بن گئے، ان سے نبی ﷺ کا کوئی تعلق نہیں۔
24 ان تعلیمات کی خصوصیت — ترتیب بامعنی ہے — پہلے اللہ کا حق (شرک کی ممانعت)، پھر والدین کا حق، پھر اولاد، پھر معاشرہ، پھر معاملات — حقوق کی درست ترتیب یہی ہے۔
25 ان تعلیمات کی خصوصیت — ہر حکم کے ساتھ حکمت — ہر ممانعت کے ساتھ اس کی وجہ بھی بتائی گئی، تاکہ عمل سمجھ کر کیا جائے۔
26 ان تعلیمات کی خصوصیت — طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں — آیت 152 میں “لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا” کہہ کر دین کی آسانی واضح کر دی گئی۔
27 ان تعلیمات کی خصوصیت — اختتام توحید پر — سورت کا آغاز بھی توحید سے ہوا اور یہ فہرست بھی توحید ہی سے شروع ہو کر آیت 163 کے اعلانِ توحید پر ختم ہوتی ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.