اسی سبق کی آیت 120 میں ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے گناہ چھوڑ دینے کا دو ٹوک حکم ہے، اور آیات 151 تا 153 میں ان گناہوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔
1
وَذَرُواْ ظَٰهِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَبَاطِنَهُۥٓۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡسِبُونَ ٱلۡإِثۡمَ سَيُجۡزَوۡنَ بِمَا كَانُواْ يَقۡتَرِفُونَ اور ظاہری گناہ بھی چھوڑ دو اور باطنی بھی؛ بے شک جو لوگ گناہ کماتے ہیں انہیں عنقریب اس کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کرتے تھے۔ (سورۃ الانعام ۔ آیت 120)
2
ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — شرک — اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا — آیت 151 میں سب سے پہلے اسی سے منع کیا گیا۔
3
ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — والدین کی نافرمانی — ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی؛ حکم یہ ہے کہ ان کے ساتھ احسان کیا جائے۔
4
ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — اولاد کا قتل — مفلسی کے ڈر سے اولاد کو مار ڈالنا — فرمایا کہ رزق ہم دیتے ہیں، تمہیں بھی اور انہیں بھی۔
5
ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — فواحش کا ارتکاب — بے حیائی کے کام، خواہ کھلے ہوں یا چھپے۔
6
ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — ناحق قتل — کسی جان کو ناحق مارنا جسے اللہ نے حرمت دی ہے۔
7
ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — یتیم کے مال میں دست درازی — یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جانا، مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو۔
8
ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — ناپ تول میں کمی — پیمانہ اور ترازو انصاف کے ساتھ پورا کرنا۔
9
ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — ناانصافی کی بات — بات کہو تو انصاف کی، خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار کا ہی کیوں نہ ہو۔
10
ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — عہد شکنی — اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرنا۔
11
ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — راہِ مستقیم چھوڑ کر دوسری راہوں پر چلنا — آیت 153 میں فرمایا کہ متفرق راستے تمہیں اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔
12
باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — شرکِ خفی اور ریاکاری — عمل تو اللہ کے نام پر ہو مگر مقصد لوگوں کی واہ واہ ہو۔
13
باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — تکبر — اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنا اور حق کو ٹھکرانا۔
14
باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — حسد — دوسروں کی نعمت پر جلنا اور اس کے زوال کی خواہش کرنا۔
15
باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — بغض و کینہ — دل میں دشمنی پالنا اور معاف نہ کرنا۔
16
باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — بدگمانی — بغیر ثبوت کے لوگوں کے بارے میں برا گمان رکھنا۔
17
باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — لالچ اور دنیا کی محبت — مال کی محبت کا دل پر اس قدر غالب آ جانا کہ حلال و حرام کی تمیز باقی نہ رہے۔
18
باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — گناہ کا ارادہ اور خفیہ منصوبہ — جو برائی ابھی عمل میں نہیں آئی مگر دل میں طے کر لی گئی ہو۔
19
اہم نکتہ — آیت میں دونوں کا ذکر ایک ساتھ اس لیے ہے کہ لوگ عموماً ظاہری گناہ سے تو بچتے ہیں کہ بدنامی کا ڈر ہوتا ہے، مگر باطنی گناہ کو معمولی سمجھ لیتے ہیں — حالانکہ اللہ کے ہاں دونوں کا حساب برابر ہے۔