دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 4: سبق 4: سورہ الانعام — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ صَٰحِبَةٞۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ (سورۃ الانعام ۔ آیت 101)

ایت کریمہ میں اللہ تعالی کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

اللہ اسمانوں اور زمینوں کو ایجاد فرمانے والا ہے اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اس کی بیوی نہیں اور اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں

1 اللہ آسمانوں اور زمینوں کو ایجاد فرمانے والا ہے ۔بدیع کے معنی عدم سے وجود میں لانے والا ہے ۔بدیع اس پیدا کرنے والے کو کہا جاتا ہے جس نے کوئی نمونہ سامنے رکھے بغیر کسی چیز کو پیدا کیا ہو اور یہ اللہ کی صفت ہے کیونکہ اسی نے آسمان اور زمین کو بغیر کسی سابقہ مثال اور نمونے کے تخلیق فرمایا ۔
2 اس کا کوئی بیٹا نہیں ۔یعنی اللہ تعالی کی ذات صمد ہےیعنی وہ بیٹوں اور رشتہ داروں سے بے نیاز ہے کائنات کی ہر چیز اس کی مخلوق ہے اور خالق اور مخلوق کے درمیان صرف عبدیت اور بندگی کا رشتہ ہوتا ہے فرزندی یا قرابت کا کوئی رشتہ نہیں
3 اللہ کی کوئی بیوی نہیں ۔یعنی مشرکین پر واضح کیا جا رہا ہے کہ تم نے جو خدا کے لیے بیٹے اور بیٹیاں مقرر کر رکھی ہیں تو پھر یہ بھی بتاؤ کہ خدا کی بیوی کون ہے ؟اور جب اس کی بیوی کوئی نہیں تو پھر اولاد کہاں سے ہوگی
4 اللہ ہرچیز کا خالق ہے ۔یعنی کائنات کی ہر چیز سے اللہ نے پیدا کی ہے اور کائنات کی ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے
5 اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ۔کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں جو خدا سے چھپی ہوئی ہو اللہ ہر چیز اور اس کے ہر ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے
2 مختصر جوابات

ٱتَّبِعۡ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡمُشۡرِكِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 106)

ایت کریمہ میں نبی کریم کو کیا تلقین فرمائی گئی ہے؟

ترجمہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی پیروی کیجیے جو آپﷺ کے رب کی جانب سے آپ کی طرف وحی فرمایا گیا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ مشرکوں سے منہ پھیر لیجئے

جواب یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ذریعے صحابہ کرام کو اللہ کی طرف سے نازل کردہ کلام کی پیروی کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے نیز توحید کی دعوت سے اعراض کرنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینے کی تلقین کی گئی ہے اعراض کرنے کا یہ حکم مکی دور میں تھا جبکہ مدنی دور میں کفار سے جنگ کی اجازت اور حکم بھی دیا گیا ہے۔
3 مختصر جوابات

فَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤۡمِنِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 118)

ایت کریمہ میں کس بات کی ہدایت دی گئی ہے ایت 18

ترجمہ

پس جس جانور پر ذبح کےوقت اللہ کا نام لیا جائے اس سے کھاؤ

اس ایت کی رو سے اہل ایمان کو اس بات کی تلقین کی جا رہی ہے کہ اگر تم اللہ کی ایت پر ایمان رکھتے ہو تو اس ذبیحہ سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ بعض چیزوں کو مشرکین نے اذ خود حلال قرار دے دیا ہے حالانکہ اللہ کے ہاں وہ حرام ہیں اور بعض چیزیں انہوں نے خود حرام ٹھہرا لی ہیں حالانکہ اللہ نے انہیں حلال کیا ہے خاص طور پر سب سے زیادہ جاہلانہ بات جس پر پہلے بھی بعض گروہ ڈٹے ہوئے تھے اور اج بھی دنیا کے بعض گروہ اس پر قائم ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر جو جانور ذبح کیا جائے تو وہ ان کے نزدیک حرام ہے اور اللہ کے نام کے بغیر جسے ذبح کیا جائے وہ حلال ہے اور اس کا کھانا جائز ہے ۔یہاں پر اللہ تعالی انہی غلط نظریات کی تردید فرما رہے ہیں

شان نزول

1 حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم کے پاس کچھ لوگوں نے ا کر کہا یا رسول اللہ کیا ہم اس چیز کو کھائیں جس کو ہم نے قتل کیا اور اس کو نہ کھائیں جس کو اللہ نے قتل کیا تب اللہ تعالی نے یہ ایت نازل فرمائی
4 مختصر جوابات

فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهۡدِيَهُۥ يَشۡرَحۡ صَدۡرَهُۥ لِلۡإِسۡلَٰمِۖ وَمَن يُرِدۡ أَن يُضِلَّهُۥ يَجۡعَلۡ صَدۡرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجٗا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي ٱلسَّمَآءِۚ كَذَٰلِكَ يَجۡعَلُ ٱللَّهُ ٱلرِّجۡسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 125)

ایت کریمہ کی رو سے اللہ تعالی گمراہ شخص کے ساتھ کیا معاملہ فرماتا ہے ایت 125

ترجمہ

اور اللہ جسے چاہتا ہے کہ اسے گمراہ کر دیتا ہے، اس کا سینہ تنگ نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے ۔

وضاحت

جواب اللہ تعالی گمراہ شخص کے سینے کو تنگ اور نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے یہاں سینے میں تنگی سے مراد ہے اسلام کی دعوت سے دل میں گھٹن پیدا ہونا اور اسے بوجھ سمجھنا جس طرح زور لگا کر اسمان پر چڑھنا ممکن نہیں اسی طرح تنگ سینے کے ساتھ ایمان کا حصول ممکن نہیں ۔ایسے شخص کو رجس میں مبتلا کر دیا جاتا ہے جس سے مراد عذاب یا شیطان کا اس پر تسلط ہے ایسے شخص کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ جب وہ اللہ کا ذکر سنتا ہے تو اسے وحشت ہونے لگتی ہے اور جب کفر و شرک کی باتیں سنتا ہے تو اس کا جی لگتا ہے یعنی وہ اس کے من کو بھاتی ہیں ۔
5 مختصر جوابات

فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهۡدِيَهُۥ يَشۡرَحۡ صَدۡرَهُۥ لِلۡإِسۡلَٰمِۖ وَمَن يُرِدۡ أَن يُضِلَّهُۥ يَجۡعَلۡ صَدۡرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجٗا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي ٱلسَّمَآءِۚ كَذَٰلِكَ يَجۡعَلُ ٱللَّهُ ٱلرِّجۡسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 125)

ترجمہ اور وضاحت کریں

ترجمہ

بس جس شخص کو اللہ ہدایت عطا فرمانا چاہتا ہے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے ایت 125

وضاحت

جواب جب اللہ تعالی کسی کو ہدایت عطا فرمانا چاہتے ہیں تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتے ہیں یعنی اس کی شرح صدر فرما دیتے ہیں یہاں سینہ کھول دینے سے مراد ہے فراخ دلی سے حق قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا نصیب ہو نا۔جب یہ ایت اتری تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرح صدر کی تشریح دریافت کی گئی تو نبی کریم نے فرمایا مومن کے دل کے اندر اللہ ایک نور ڈال دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کا دل کشادہ اور وسیع ہو جاتا ہے صحابہ کرام نے عرض کیا ۔کیا اس کی کوئی علامت ہے ؟فرمایا ہاں غیر فانی گھر یعنی اخرت کی طرف میلان قلب اور فریب خانہ یعنی دنیا سے طبیعت کا اچاٹ ہونا اور موت آنے سے پہلے موت کی تیاری۔
6 مختصر جوابات

وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ خَالِصَةٞ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِنَاۖ وَإِن يَكُن مَّيۡتَةٗ فَهُمۡ فِيهِ شُرَكَآءُۚ سَيَجۡزِيهِمۡ وَصۡفَهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ (سورۃ الانعام ۔ آیت 139)

ایت کریمہ کی روسے مشرکین جانوروں کے پیٹوں سے متعلق کیا کہتے تھے(ایت نمبر 139 ۔)

ترجمہ

اور وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹوں میں ہیں وہ ہمارے مردوں کے لیے خاص ہیں اور ہماری عورتوں پر حرام ہے ۔کفار کی ایک مروجہ جہالت یہ بھی تھی کہ بعض جانوروں سائبہ اور بحیرہ کے متعلق ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ان کے پیٹ میں دودھ یا بچہ جو کچھ ہے اس کا استعمال مردوں کے لیے حلال ہے اور عورتوں کے لیے حرام ہے اور اگر اسی جانور کی شکم سے مردہ بچہ پیدا ہوتو وہ مرد و زن سب کے لیے یکساں طور پر حلال ہے اللہ فرماتا ہے عنقریب انہیں ان خرافات کی سزا دی جائے گی۔

تفصیلی جوابات

7 تفصیلی جوابات

قَدۡ جَآءَكُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَنۡ أَبۡصَرَ فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ عَمِيَ فَعَلَيۡهَاۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيۡكُم بِحَفِيظٖ (سورۃ الانعام ۔ آیت 104)

ایت کا ترجمہ مفہوم تحریر کریں (ایت 104

ترجمہ

یقینا تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیلیں پہنچ چکی ہیں بس جس نے دیکھ لیا تو اس کے بھلے کے لیے ہے اور جو اندھا بن گیا تو اس نے اپنا نقصان کیا اور میں تم پر نگہبان نہیں ہوں ۔

جواب آیت مبارکہ میں بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں کی طرف نبی کریم کے ذریعے دین اور نشانیاں بھیجی گئی ہیں جو ان کی انکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں اور جس نے انہیں دیکھ کر دین حق قبول کیا تو اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور جو جان بوجھ کر اندھا بن گیا تو اس کا نقصان اسے ہی ہوگا اللہ تعالی کا اس میں کوئی نقصان نہیں اور یہ کہ دین حق کو قبول کرنے پرمیں تو تم پر نگہبان اور ذمہ دار نہیں کیونکہ میں تو صرف رہنما ہوں اور ہدایت دینا اللہ تعالی کا کام ہے یعنی نبی کریم پر یہ ذمہ داری نہیں کہ لوگوں کو جبرا حق کو قبول کرنے پر مجبور کریں بلکہ رسول کا منصب فریضہ صرف احکام کا پہنچا دینا اور سمجھا دینا ہےپھر کوئی بھی اپنے اختیار سے ان کی اتباع کرے گا تو اس کو فائدہ پہنچے گا اور جو انکار کرے گا اس کا وبال اسی پر ہوگا ۔
8 تفصیلی جوابات

وَلَا تَسُبُّواْ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّواْ ٱللَّهَ عَدۡوَۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٖۗ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمۡ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِم مَّرۡجِعُهُمۡ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 108)

ایت کریمہ میں بیان کردہ تعلیمات تحریر کریں ۔ایت 108

ترجمہ

اور جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں انہیں برا مت کہو پس ایسا نہ ہو کہ وہ بھی علم کے بغیر زیادتی کرتے ہوئے اللہ کو برا کہ بھلا کہنے لگے

آیت کریمہ میں بیان کردہ تعلیمات

جواب مشرکوں کے شرک اور مخالفوں کے رد عمل میں مسلمانوں کو اخلاق کا دامن نہ چھوڑنے کی ہدایت ہے ۔اس ایت میں مومنوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ کا ادب و احترام ملحوظ رکھیں چنانچہ اس ضمن میں انہیں دعوت و تبلیغ کے اداب سکھاتے ہوئے مشرکین کے جھوٹے اور خود ساختہ معبودوں کو بھی برا بھلا کہنے سےاس لیے منع کیا گیا ہے کہ کہیں مشرکین غصے میں اآکر بے سوچے سمجھے اللہ کی شان اقدس میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے لگیں ۔لہذا حق بات کرنے اور دین کی دعوت دینے میں بھی رسول اللہ کے اعلی اخلاق کی پیروی کی جائے۔ نیز علمائے کرام نے اس سے یہ مسئلہ بھی اخذ کیا ہے کہ جو کام خود کرنا جائز نہیں اس کا سبب بننا بھی جائز نہیں ۔حدیث مبارکہ ہے رسول اکرم نے فرمایا کبیرہ گناہوں میں سے یہ گناہ بہت بڑا ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت کرے آپ سے پوچھا گیا اے اللہ کے رسول آدمی اپنے والدین پر کیسے لعنت کر سکتے ہیں ۔آپ نے فرمایا کوئی شخص دوسرے شخص کے باپ کو برا کہے تو جواب میں وہ اس کے باپ کو برا کہے اور وہ اس کی ماں کو برا کہے تو جواب میں وہ اس کی ماں کو برا کہے اس طرح وہ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والا بن جائے گا
9 تفصیلی جوابات

وَذَرُواْ ظَٰهِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَبَاطِنَهُۥٓۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡسِبُونَ ٱلۡإِثۡمَ سَيُجۡزَوۡنَ بِمَا كَانُواْ يَقۡتَرِفُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 120)

ایت مبارکہ کا ترجمہ اور وضاحت کریں ۔ ایت 120

ترجمہ

اور تم ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے گناہوں کو چھوڑ دو بے شک جو لوگ گناہ کرتے ہیں عنقریب انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا

وضاحت

جواب اس ایت میں ظاہری اور باطنی ہر قسم کے گناہوں کو چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا ہے پہلی قسم ظاہری گناہ ہے جن سے مراد وہ گناہ ہیں جو اعلانیہ اور کھلم کھلا کیے جائیں ۔۔اور دوسری باطنی یعنی پوشیدہ گناہ ہے جن سے مراد وہ گناہ ہیں جو چھپ کر کیے جاتے ہیں دوسری تفسیر یہ ہے کہ ظاہری گناہ سے مراد وہ گناہ ہے جو ظاہری اعضاء سے کیے جائیں اور پوشیدہ گناہ سے مراد وہ گناہ ہے جو دل سے کیے جائیں مثلا تکبر حسد خود پسندی مسلمانوں کا بے را ورحرام کاموں کا ارادہ کرنا بدگمانی کرنا بے حیائی کے کاموں سے محبت کرنا حلال کو حرام اور حرام کو حلال سمجھنا ۔
10 تفصیلی جوابات

وَقَالُواْ هَٰذِهِۦٓ أَنۡعَٰمٞ وَحَرۡثٌ حِجۡرٞ لَّا يَطۡعَمُهَآ إِلَّا مَن نَّشَآءُ بِزَعۡمِهِمۡ وَأَنۡعَٰمٌ حُرِّمَتۡ ظُهُورُهَا وَأَنۡعَٰمٞ لَّا يَذۡكُرُونَ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهَا ٱفۡتِرَآءً عَلَيۡهِۚ سَيَجۡزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 138)

ایت کریمہ میں مشرکین کے کیا باطل عقائد بیان ہوئے ہیں ایت 138

ترجمہ

اور وہ کہتے ہیں یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہے اسے وہی کھا سکتا ہے جسے ہم اپنے خیال سے چاہیں اور کچھ جانور ہیں کہ ان کے پیٹھ پر سواری حرام ہے اور کچھ جانور ایسے ہیں کہ ذبح کرتے ہوئے ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے اس پر جھوٹ گھڑتے ہوئے ۔

ایت مبارکہ میں مشرکین کے باطل عقائد و نظریات کی مزید تین صورتوں کا بیان ہے

1 منت اور نذرکے مخصوص جانوریا کھیتی کی بعض پیداوار کا عام استعمال ممنوع تھا ان کے استعمال کی اجازت صرف بتوں کے خادم اور مجاورین کے لیے ہوتی تھی
2 مختلف قسم کے جانوروں کو بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھتے ہوئے ان سے باربرداری سواری کا کام نہ لیتے تھے
3 بعض جانوروں کو ذبح کرتے وقت صرف بتوں کا نام لیتے تاکہ اس بت کی نذر و نیاز میں اللہ کی شراکت نہ ہونے پائے۔
جواب مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب کے ہاں بعض مخصوص منتوں اور نذروں کے جانور ایسے ہوتے تھے جن پر اللہ کا نام لینا جائز نہ سمجھا جاتا تھا ان پر سوار ہو کر حج کرنا ممنوع تھا کیونکہ حج کے لیے تلبیہ کہنا پڑتا تھا ۔اسی طرح ان کا دودھ دہوتے وقت یا ان پر سوار ہونے کی حالت میں یا ان کو ذبح کرتے ہوئے اس چیز کا اہتمام کیا جاتا تھا کہ اللہ کا نام زبان پر نہ آئے ۔یہ سب طور طریقے اللہ کی طرف سے مقرر کردہ نہ تھے بلکہ وہ ان کو اللہ کے مقرر کردہ سمجھ کر ان کی پیروی کرتے تھے اور ان طور طریقوں کے لیے ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی سند ہی نہیں تھی صرف یہی کہنا تھا کہ ان کے باپ دادا سے یوں ہی ہوتا چلا اآرہا ہے عنقریب انہیں اس کی سزا ضرور ملے گی ۔
11 تفصیلی جوابات

وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعۡضَ ٱلظَّـٰلِمِينَ بَعۡضَۢا بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 129)

ایت کا ترجمہ وضاحت کریں ۔ایت 129

اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض کا دوست بنا دیتے ہیں اس وجہ سے جو اعمال کرتے تھے اس ایت کے دو مفہوم ہیں

1 دنیا کی طرح جہنم میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہی ہوں گے
2 جیسے انسان اور جن ایک دوسرے کے ساتھی تھے اسی طرح دنیا میں ظالموں کے دوست بھی ویسے ہی ظالم ہوں گے ان کے یہ دوست برے اعمال میں ان کی مدد کرتے تھے
جواب یعنی نیکی اور بدی کی سزا تو اخرت میں ملے گی اور ایک جزا او سزا اسی دنیا میں مل جاتی ہے کہ نیک ادمی کو نیک اور دیانت دار ساتھی نصیب ہو جاتے ہیں جو اس کے کام میں معاون بن کر دینی دنیاوی ترقی کا سبب بنتے ہیں اور برے اور بدنیت ادمی کو اس جیسے ہی رفیق اور دوست ملتے ہیں جو برے کاموں اس کے معاون بن کر راہ حق اور اچھے اعمال سے اسے دور کر دیتے ہیں نتیجتا وہ دنیا اور اخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے بن جاتا ہے
12 تفصیلی جوابات

قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ قَتَلُوٓاْ أَوۡلَٰدَهُمۡ سَفَهَۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ٱفۡتِرَآءً عَلَى ٱللَّهِۚ قَدۡ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 140)

ایت میں کن لوگوں کو ہدایت سے محروم قرار دیا گیا ؟

ترجمہ

بے شک وہ لوگ نقصان میں پڑ گئے جنہوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا بے وقوفی کرتے ہوئے لاعلمی کی بنیاد پر اور اللہ نے انہیں جو رزق عطا فرمایا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے انہوں نے اسے حرام کر لیا یقینا وہ گمراہ ہو گئے وہ ہدایت پانے والے نہ ہوئے۔

آیت مبارکہ کی رو سے درج ذیل لوگوں کو ہدایت سے محروم قرار دیا گیا ہے

1 لاعلمی اور بے وقوفی کی بنیاد پر اپنی اولاد کو قتل کرنے والے لوگ
2 اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے حرام قرار دینے والے لوگ
13 تفصیلی جوابات

وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا يَٰمَعۡشَرَ ٱلۡجِنِّ قَدِ ٱسۡتَكۡثَرۡتُم مِّنَ ٱلۡإِنسِۖ وَقَالَ أَوۡلِيَآؤُهُم مِّنَ ٱلۡإِنسِ رَبَّنَا ٱسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٖ وَبَلَغۡنَآ أَجَلَنَا ٱلَّذِيٓ أَجَّلۡتَ لَنَاۚ قَالَ ٱلنَّارُ مَثۡوَىٰكُمۡ خَٰلِدِينَ فِيهَآ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٞ (سورۃ الانعام ۔ آیت 128)

ایت کا ترجمہ کریں اور مفہوم بیان کریں یا بتائیں کہ انسانوں کا جنوں سے اور جنوں کا انسانوں سے فائدہ اٹھانے سے کیا مراد ہے

ترجمہ

اور جس دن وہ اللہ ان سب کو جمع کرے گا تو فرمائے گا اے گروہ جنات تم نے بہت سے ادمیوں کو اپنا تابع بنا رکھا تھا اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا اور ہم اپنے وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیےمقرر فرمایا تھا اللہ فرمائے گا اب تمہارا ٹھکانہ آگیا جس میں ہمیشہ رہو گے،مگر جسے اللہ بچانا چاہے بے شک اپ کا رب بڑی حکمت والا جاننےوالا ہے۔

مفہوم

جواب میدان حشر میں انسانوں اور جنات کو جمع کرنے کے بعد اللہ تعالی ان سے سوال کریں گے ۔جنوں سے مراد یہاں شیطان جن ہیں ۔ان کا بہت سے انسانوں کا اپنا بنا لینے کا مطلب انہیں گمراہ کر کے اپنے راستے پر لگا لینا ہے اور جنات کا انسانوں سے فائدہ اٹھانا یہ ہے کہ جنات نے ان کو گمراہی کی دعوت دی اور انسانوں نے اسے قبول کر لیا اور ان کی تعظیم و تکریم کی اور مصیبتوں کےوقت ان کو پکارنا شروع کر دیا یہی شیاطین کی کامیابی ہے اور فائدہ اٹھانا ہے اور انسانوں کا جنات سے فائدہ اٹھانے سے مراد ان سے آسمان دنیا سے سنی ہوئی خبر میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں کو بتانا تاکہ لوگ ان کی معتقد رہیں اور ان کی دکانداری چلتی رہے اور اس کے ذریعے وہ دنیا میں مال و دولت اور ناموری حاصل کریں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ انسانوں کا جنات سے نفع حاصل کرنا یوں تھا کہ جب ان میں سے کوئی شخص سفر پر جاتا تو جنات کا خوف ہوتا تو جس منزل پر اترتا تو یوں کہتا کہ میں اس وادی کے سردار کی پناہ لیتا ہوں یعنی اللہ کی پناہ لینے کی بجائے شیطان کی بنا لیتے تھے اور شیطان کا انسانوں سے نفع حاصل کرنا یہ ہوتا تھا کہ جب یہ لوگ یہ کہتے کہ میں اس وادی کے سردار کی پناہ لیتا ہوں تو شیطان خوش ہوتے اور کہتے کہ دیکھو انہوں نے ہمیں پناہ دینے پر قادر سمجھا جو پناہ اللہ سے مانگنی چاہیے تھی وہ ہم سے مانگ رہے ہیں۔ ان دونوں گروہوں کے لیے دوزخ کی سزا مقرر ہے اور سزا اور جزا کا فیصلہ اللہ کی حکمت پر مبنی ہوتا ہے ۔ اور اس کے احاطہ علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

سورہ انعام کے سولہویں اور سترہویں رکوع کی روشنی میں مشرکین کے گھڑے ہوئے عقیدوں، اور جن جانوروں کو انہوں نے خود حلال و حرام تقسیم کیا، ان کی فہرست تیار کریں۔

سورۃ الانعام کے آخری حصے میں مشرکینِ عرب کے وہ خود ساختہ عقائد تفصیل سے بیان ہوئے ہیں جو انہوں نے اللہ کی طرف منسوب کر رکھے تھے۔ ان کا مرکزی بیان آیات 136 تا 140 میں ہے، اور ان کا رد و اصلاح آیات 141 تا 145 میں فرمائی گئی۔ (نوٹ: رکوع کی تقسیم مختلف مصاحف میں تھوڑی مختلف ہوتی ہے، اس لیے یہاں آیات کے نمبر دے دیے گئے ہیں تاکہ حوالہ واضح رہے۔)

1 مشرکین کے گھڑے ہوئے عقائد — کھیتی اور مویشیوں میں اللہ کا حصہ مقرر کرنا (آیت 136) — خود اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور جانوروں میں سے ایک حصہ اللہ کے لیے اور ایک حصہ اپنے شریکوں (بتوں) کے لیے مخصوص کرتے تھے۔
2 مشرکین کے گھڑے ہوئے عقائد — حصوں میں بددیانتی (آیت 136) — جو حصہ بتوں کا ہوتا وہ اللہ کے نام پر خرچ نہ ہوتا، مگر جو اللہ کا ہوتا اسے موقع پا کر بتوں کی نذر کر دیتے — یعنی تقسیم بھی اپنی مرضی کی اور بددیانتی بھی۔
3 مشرکین کے گھڑے ہوئے عقائد — اولاد کے قتل کو خوبصورت سمجھنا (آیت 137) — شریکوں نے اولاد کا قتل ان کی نظر میں خوشنما بنا دیا تھا، تاکہ انہیں ہلاک کریں اور ان کے دین کو مشتبہ کر دیں۔
4 مشرکین کے گھڑے ہوئے عقائد — رزق کو اپنی طرف سے حرام ٹھہرانا (آیت 140) — اللہ کے دیے ہوئے حلال رزق کو اللہ پر جھوٹ باندھ کر حرام قرار دے لیا — قرآن نے اسے کھلا خسارہ کہا۔
5 مشرکین کے گھڑے ہوئے عقائد — حلال و حرام کا اختیار خود سنبھالنا — بنیادی گمراہی یہی تھی کہ تحلیل و تحریم کا حق، جو صرف اللہ کا ہے، انہوں نے اپنے سرداروں اور رواج کو دے دیا۔
6 وہ جانور جو انہوں نے خود تقسیم کر رکھے تھے (آیات 138 تا 139) — حِجْر (ممنوع) جانور اور کھیتی — کہتے تھے کہ یہ مخصوص ہیں، انہیں صرف وہی کھا سکتا ہے جسے ہم اجازت دیں — عام لوگوں پر بند تھے۔
7 وہ جانور جو انہوں نے خود تقسیم کر رکھے تھے (آیات 138 تا 139) — وہ جانور جن کی پیٹھیں حرام کر دی گئیں — ایسے مویشی جن پر نہ سواری کی جاتی تھی اور نہ بوجھ لادا جاتا تھا، محض رسم کی بنا پر۔
8 وہ جانور جو انہوں نے خود تقسیم کر رکھے تھے (آیات 138 تا 139) — وہ جانور جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے — ذبح کے وقت جان بوجھ کر اللہ کا نام چھوڑ دیتے یا بتوں کا نام لیتے تھے۔
9 وہ جانور جو انہوں نے خود تقسیم کر رکھے تھے (آیات 138 تا 139) — پیٹ کے بچے صرف مردوں کے لیے — کہتے تھے کہ ان مویشیوں کے پیٹ میں جو ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لیے حلال اور ہماری عورتوں پر حرام ہے۔
10 وہ جانور جو انہوں نے خود تقسیم کر رکھے تھے (آیات 138 تا 139) — مردار میں سب شریک — لیکن اگر وہی بچہ مردہ پیدا ہو جائے تو پھر مرد و عورت سب اس میں شریک — یعنی اصول کوئی نہیں، صرف خواہش تھی۔
11 قرآن کا فیصلہ — یہ سب اللہ پر افترا ہے (آیت 138) — قرآن نے ان تمام تقسیموں کو “اللہ پر باندھا ہوا جھوٹ” قرار دیا۔
12 قرآن کا فیصلہ — اصل فہرست اللہ نے دی (آیات 143 تا 144) — حلال چوپائے چار قسم کے ہیں — بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے — نر اور مادہ ملا کر آٹھ جوڑے۔
13 قرآن کا فیصلہ — حرام صرف چار چیزیں (آیت 145) — مُردار، بہتا ہوا خون، خنزیر کا گوشت، اور وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
15 سرگرمیاں

سورہ انعام میں ظاہری اور باطنی گناہوں کو ترک کرنے کا حکم ہے؛ مذکور گناہوں کی فہرست تیار کریں۔

اسی سبق کی آیت 120 میں ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے گناہ چھوڑ دینے کا دو ٹوک حکم ہے، اور آیات 151 تا 153 میں ان گناہوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔

1 وَذَرُواْ ظَٰهِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَبَاطِنَهُۥٓۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡسِبُونَ ٱلۡإِثۡمَ سَيُجۡزَوۡنَ بِمَا كَانُواْ يَقۡتَرِفُونَ اور ظاہری گناہ بھی چھوڑ دو اور باطنی بھی؛ بے شک جو لوگ گناہ کماتے ہیں انہیں عنقریب اس کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کرتے تھے۔ (سورۃ الانعام ۔ آیت 120)
2 ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — شرک — اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا — آیت 151 میں سب سے پہلے اسی سے منع کیا گیا۔
3 ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — والدین کی نافرمانی — ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی؛ حکم یہ ہے کہ ان کے ساتھ احسان کیا جائے۔
4 ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — اولاد کا قتل — مفلسی کے ڈر سے اولاد کو مار ڈالنا — فرمایا کہ رزق ہم دیتے ہیں، تمہیں بھی اور انہیں بھی۔
5 ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — فواحش کا ارتکاب — بے حیائی کے کام، خواہ کھلے ہوں یا چھپے۔
6 ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — ناحق قتل — کسی جان کو ناحق مارنا جسے اللہ نے حرمت دی ہے۔
7 ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — یتیم کے مال میں دست درازی — یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جانا، مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو۔
8 ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — ناپ تول میں کمی — پیمانہ اور ترازو انصاف کے ساتھ پورا کرنا۔
9 ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — ناانصافی کی بات — بات کہو تو انصاف کی، خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار کا ہی کیوں نہ ہو۔
10 ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — عہد شکنی — اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرنا۔
11 ظاہری گناہ (جن کا تعلق اعضاء اور عمل سے ہے) — راہِ مستقیم چھوڑ کر دوسری راہوں پر چلنا — آیت 153 میں فرمایا کہ متفرق راستے تمہیں اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔
12 باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — شرکِ خفی اور ریاکاری — عمل تو اللہ کے نام پر ہو مگر مقصد لوگوں کی واہ واہ ہو۔
13 باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — تکبر — اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنا اور حق کو ٹھکرانا۔
14 باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — حسد — دوسروں کی نعمت پر جلنا اور اس کے زوال کی خواہش کرنا۔
15 باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — بغض و کینہ — دل میں دشمنی پالنا اور معاف نہ کرنا۔
16 باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — بدگمانی — بغیر ثبوت کے لوگوں کے بارے میں برا گمان رکھنا۔
17 باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — لالچ اور دنیا کی محبت — مال کی محبت کا دل پر اس قدر غالب آ جانا کہ حلال و حرام کی تمیز باقی نہ رہے۔
18 باطنی گناہ (جن کا تعلق دل اور نیت سے ہے) — گناہ کا ارادہ اور خفیہ منصوبہ — جو برائی ابھی عمل میں نہیں آئی مگر دل میں طے کر لی گئی ہو۔
19 اہم نکتہ — آیت میں دونوں کا ذکر ایک ساتھ اس لیے ہے کہ لوگ عموماً ظاہری گناہ سے تو بچتے ہیں کہ بدنامی کا ڈر ہوتا ہے، مگر باطنی گناہ کو معمولی سمجھ لیتے ہیں — حالانکہ اللہ کے ہاں دونوں کا حساب برابر ہے۔
16 سرگرمیاں

“افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ” کا مفہوم بیان کریں۔

“افترا” کے لغوی معنی ہیں گھڑنا اور جھوٹ تراشنا۔ “افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ” کا مطلب ہے: اللہ کے ذمے وہ بات لگانا جو اس نے نہ کہی ہو، نہ نازل کی ہو۔ قرآن نے اسے سب سے بڑا ظلم قرار دیا ہے۔

افترا کی صورتیں (سورۃ الانعام کی روشنی میں) اور انجام اور سبق

1 وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے؟ بے شک ظالم فلاح نہیں پاتے۔ (سورۃ الانعام ۔ آیت 21)
2 افترا کی صورتیں (سورۃ الانعام کی روشنی میں) — حلال کو حرام یا حرام کو حلال ٹھہرانا — آیت 138 اور 140 میں مشرکین کے خود ساختہ احکام کو “افْتِرَاءً عَلَيْهِ” کہا گیا — یعنی اللہ پر باندھا ہوا جھوٹ۔
3 افترا کی صورتیں (سورۃ الانعام کی روشنی میں) — جھوٹی وحی کا دعویٰ — آیت 93 میں اس شخص کا ذکر ہے جو کہے کہ مجھ پر وحی آئی، حالانکہ اس پر کچھ نازل نہ ہوا ہو۔
4 افترا کی صورتیں (سورۃ الانعام کی روشنی میں) — اللہ کے لیے اولاد یا شریک تجویز کرنا — اللہ کی ذات یا صفات میں ایسی بات کہنا جو اس کی شان کے خلاف ہو۔
5 افترا کی صورتیں (سورۃ الانعام کی روشنی میں) — بغیر علم کے دین کی بات کہنا — “اللہ نے یہ فرمایا ہے” کہہ دینا جبکہ اس کا کوئی ثبوت نہ ہو۔
6 افترا کی صورتیں (سورۃ الانعام کی روشنی میں) — آیات کو جھٹلانا — آیت 21 نے تکذیب کو بھی افترا ہی کے ساتھ رکھا ہے، کیونکہ دونوں میں اللہ کی بات کو غلط ٹھہرایا جاتا ہے۔
7 انجام اور سبق — سب سے بڑا ظلم — قرآن نے بار بار “وَمَنْ أَظْلَمُ” کے الفاظ سے اسے سب سے بڑی زیادتی قرار دیا۔
8 انجام اور سبق — فلاح سے محرومی — ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوتے، خواہ دنیا میں کتنی ہی پذیرائی مل جائے۔
9 انجام اور سبق — ہمارے لیے احتیاط — دین کی کوئی بات بغیر تحقیق اور بغیر حوالے کے نہ کہی جائے؛ معلوم نہ ہو تو “مجھے علم نہیں” کہہ دینا ہی سلامتی ہے۔
10 انجام اور سبق — رواج اور دین کا فرق — خاندانی یا علاقائی رسم کو دین کا حکم بنا دینا بھی افترا کی ایک عام صورت ہے۔
17 سرگرمیاں

دنیا کی زندگی کیسے دھوکے میں ڈالتی ہے؟ مختلف مثالوں سے دلیل و وضاحت کریں۔

قرآن نے دنیا کی زندگی کو بار بار “متاعِ غرور” یعنی دھوکے کا سامان کہا ہے۔ دھوکا اس لیے ہے کہ یہ نظر میں دائمی معلوم ہوتی ہے حالانکہ عارضی ہے، اور مکمل لگتی ہے حالانکہ ادھوری ہے۔

1 وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا لَعِبٞ وَلَهۡوٞۖ وَلَلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ اور دنیا کی زندگی تو کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں، اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں؛ تو کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ (سورۃ الانعام ۔ آیت 32)
2 قرآنی مثالیں — بارش اور کھیتی کی مثال — سورۃ الکہف (آیت 45) میں فرمایا کہ دنیا کی مثال اس پانی جیسی ہے جو آسمان سے اترا، اس سے زمین کی نباتات خوب گھنی ہو گئیں، پھر وہ چورا چورا ہو گئیں جسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں۔
3 قرآنی مثالیں — کسانوں کو بھانے والی کھیتی — سورۃ الحدید (آیت 20) میں دنیا کو کھیل، تماشا، زینت، باہمی فخر اور مال و اولاد میں مقابلہ کہا گیا — پھر وہی سبزہ زرد ہو کر چورا بن جاتا ہے۔
4 قرآنی مثالیں — متاعِ غرور — اسی آیت کے آخر میں فرمایا کہ دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔
5 قرآنی مثالیں — موت کے وقت پوری اجرت — سورۃ آل عمران (آیت 185) میں فرمایا کہ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور بدلہ قیامت ہی کو پورا ملے گا۔
6 قرآنی مثالیں — غفلت میں ڈال دینے والی — اسی سبق کی آیت 130 میں فرمایا کہ دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا اور وہ اپنے خلاف خود گواہی دیں گے۔
7 دھوکے کی صورتیں — مہلت کو رضامندی سمجھ لینا — سزا میں تاخیر کو انسان یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔
8 دھوکے کی صورتیں — لمبی امیدیں — “ابھی وقت ہے” کہہ کر توبہ ملتوی کرتے رہنا۔
9 دھوکے کی صورتیں — مال کو کامیابی کا پیمانہ بنانا — دولت اور عہدے کو اللہ کی رضا کی علامت سمجھ لینا، حالانکہ یہ آزمائش بھی ہو سکتی ہے۔
10 دھوکے کی صورتیں — کثرت کا مقابلہ — دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں مقصدِ زندگی بھول جانا۔
11 دھوکے کی صورتیں — ظاہری خوبصورتی — شیطان کا سب سے بڑا حربہ یہی ہے کہ برے کام کو خوشنما بنا دے — اسی سورت کی آیت 43 میں یہی بات کہی گئی۔
12 دھوکے سے بچنے کا طریقہ — آخرت کو معیار بنانا — ہر فیصلے پر یہ سوال کہ اس کا آخرت میں کیا نتیجہ نکلے گا۔
13 دھوکے سے بچنے کا طریقہ — یادِ موت — جو چیز ختم ہونے والی ہے، اس کا حق سے زیادہ حصہ نہ دیا جائے۔
14 دھوکے سے بچنے کا طریقہ — دنیا کو وسیلہ بنانا — دنیا بذاتِ خود بری نہیں؛ بری اس وقت ہے جب وہ مقصد بن جائے۔ اسی مال سے آخرت کمائی جا سکتی ہے۔
15 دھوکے سے بچنے کا طریقہ — قناعت اور شکر — جو مل گیا اس پر شکر، اور جو نہ ملا اس پر صبر — یہی دھوکے سے نکلنے کا راستہ ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.