دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 3: سبق 3: سورہ الانعام — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

قُلۡ أَنَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعۡقَابِنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِي ٱسۡتَهۡوَتۡهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِي ٱلۡأَرۡضِ حَيۡرَانَ لَهُۥٓ أَصۡحَٰبٞ يَدۡعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلۡهُدَى ٱئۡتِنَاۗ قُلۡ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلۡهُدَىٰۖ وَأُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 71)

ایت کریمہ میں معبودان باطلہ کی بے بسی کے متعلق کیا کہا گیا ہے

ترجمہ

اے نبی ان سے کہہ دیجئے کیا ہم پکاریں اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کو جو ہمیں نہ نفع پہنچا سکتی ہے نہ نقصان

جواب اس ایت مبارکہ میں معبودان باطلہ کی بے بسی کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ یہ بت کسی کو کچھ نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے یہ تو خود اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے خود پر بیٹھی ہوئی مکھی تک اڑا نہیں سکتے ان کو پکارنے کا کیا فائدہ ان کے سامنے سجدہ کرنے سے کیا حاصل ؟ اسی نقطے کی وضاحت رسول اکرم نے حضرت عبداللہ بن عباس کو مخاطب کر کے اس طرح فرمائی تھی اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اگر دنیا کے تمام انسان مل کر چاہیں کہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا دیں تو اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے اور اگر تمام انسان مل کر چاہے گی تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیں تو اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے ۔لہذا مدد کے لیے پکارو تو اسی ایک اللہ کو پکارو کسی غیر اللہ کو پکارنے کسی دوسرے سے سوال کرنے کسی اور سے ڈرنے التجائیں کرنے استغاثہ کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟
2 مختصر جوابات

ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يَلۡبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 82)

ایت کریمہ کی رو سے ہدایت یافتہ لوگ کون ہیں ۔؟

جواب جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے نہیں ملایا یہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور یہ ہدایت یافتہ ہیں۔۔ اس ایت مبارکہ کی رو سے ہدایت یافتہ لوگ وہ سچے ایمان والے ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے نہیں ملایا یعنی شرک سے خود کو بچائے رکھا گویا مامون و مہتدی صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو یقین لائے اس طرح کہ اس میں شرک کی ملاوٹ بالکل نہ ہو اگر خدا پر یقین رکھنے کے باوجود شرک کو نہ چھوڑا تو وہ نہ ایمان شرعی ہے نہ اس کے ذریعے سے امن و ہدایت نصیب ہو سکتی ہے ۔
3 مختصر جوابات

وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ مُبَارَكٞ مُّصَدِّقُ ٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ ٱلۡقُرَىٰ وَمَنۡ حَوۡلَهَاۚ وَٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۖ وَهُمۡ عَلَىٰ صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 92)

ایت کریمہ میں قران حکیم کی کیا صفات بیان کی گئی ہیں

ترجمہ

اور یہ بڑی بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہیں ایت نمبر 92 ۔

اس ایت مبارکہ میں قران مجید کی تین صفات بیان کی گئی ہیں

1 اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے یعنی یہ کتاب اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی گئی ہے
2 مبارک یعنی بڑی بابرکت کتاب ہے۔جہاں پڑھی جاتی ہے وہاں اللہ کی طرف سے رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔
3 مصدق ہے ۔تصدیق کرنے والی کتاب یعنی یہ کتاب قران مجید اپنے سے پہلی کتابوں تورات انجیل زبور اور صحف ابراہیمی کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ برحق اور سچی کتابیں تھیں اور اللہ تعالی کی طرف سے ہی نازل کردہ تھیں۔
4 مختصر جوابات

۞إِنَّ ٱللَّهَ فَالِقُ ٱلۡحَبِّ وَٱلنَّوَىٰۖ يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَمُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتِ مِنَ ٱلۡحَيِّۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 95)

ایت کریمہ میں اللہ تعالی کی قدرت کی کون سی نشانیاں بیان ہوئی ہیں

ایت مبارکہ میں اللہ تعالی کی قدرت کی درج نشانیاں بیان ہوئی ہیں

1 اللہ تعالی ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے ۔مثلا آم کی گٹھلی زمین میں دبائی جاتی ہے تو کچھ عرصے بعد وہ گٹھلی پھٹتی ہے اور اس میں سے دو پتے نکلتے ہیں اسی طرح پوری کائنات کا نظام چل رہا ہے بظاہر یہ سب کچھ خود بخود ہوتا نظر ا رہا ہے مگر حقیقت میں یہ سب کچھ ان قدرتی قوانین کے تحت ہو رہا ہے جو اللہ نے اس دنیا میں وضع کر دیے ہیں
2 اللہ ہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے جیسے مردہ زمین سے سر سبز سبزہ نکالتا ہے ۔انڈے سے زندہ بچہ پیدا کرتا ہے ۔مرغی سے انڈا نکالنا ۔زندہ جاندار سے مردہ جاندار کو پیدا کرنا ۔یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں
5 مختصر جوابات

وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ ٱلۡجِنَّ وَخَلَقَهُمۡۖ وَخَرَقُواْ لَهُۥ بَنِينَ وَبَنَٰتِۭ بِغَيۡرِ عِلۡمٖۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 100)

ایت کریمہ میں مشرکین کے کس باطل عقیدے کا ذکر ہے

ترجمہ

اور انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرا لیا جنات کو حالانکہ اسی نے پیدا کیا اور اس کے لیے انہوں نے گھڑ لیے ہیں بیٹے اور بیٹیاں بغیر کسی علمی سند کے

اس ایت مبارکہ میں مشرکین کے درج ذیل باطل عقائد کا ذکر ہے

1 کہ انہوں نے اللہ کا شریک جنات کو ٹھہرا رکھا تھا ۔اور اب میں بعض گرو ہ ایسے تھے جو جنات اور خبیث شیطانوں کی عبادت کرتے تھے اور مصیبت کے وقت ان کے نام کی دہائی دیتے اور کائنات میں ان کا تصرف مانتے تھے
2 اسی طرح عرب کے مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے ۔بعض مفسرین نے فرمایا یہ ایت مجوسیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اللہ کو انسانوں جانوروں اور ہر اچھی چیزوں کا خالق سمجھتے تھے اور انھیں یزدان کہتے تھے اور شیطان یعنی ابلیس کو درندوں سانپوں اور ہر قسم کی شر کا خالق سمجھتے تھے اور اسے اہرمن کہتے تھے اور ان کوکائنات کے پیدا کرنے میں اللہ کا شریک بناتے تھے
3 اسی طرح مشرکین نے اللہ کے لیے بیٹے مقرر کر رکھے تھے جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عزیر اللہ کے بیٹے ہیں ۔
جواب اللہ تعالی نے ان یہ تمام باطل عقیدوں کی نفی کی اور فرمایا اللہ تعالی بہت پاک ہے بہت بلند ہے ان تمام چیزوں سے جو یہ بیان کر رہے ہیں

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَكَذَٰلِكَ نُرِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ مَلَكُوتَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلِيَكُونَ مِنَ ٱلۡمُوقِنِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 75)

ایت کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت کریں

جواب اور اسی طرح ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو دکھائے اسمانوں اور زمینوں کی عجائبات اور اس لیے کہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہو جائیں ۔ اس ایت مبارکہ میں ملکوت سے مراد پورا نظام ہے جس کے تحت اللہ تعالی اس کائنات کو چلا رہا ہے ۔اس نظام کا مشاہدہ اللہ تعالی اپنے رسولوں کو کراتا ہے تاکہ ان کا یقین اس درجے کا ہو جائے جیسا کہ انکھوں دیکھی چیز کے بارے میں ہوتا ہے ۔اس ایت مبارکہ میں ابراہیم علیہ السلام کی شان بیان کی جا رہی ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جس طرح بت پرستی کی شناعت ہم نے ابراہیم پر ظاہر کر کے اس کی قوم کو قائل کیا اسی طرح علویات اور سفلیات کے نہایت محکم اور عجیب و غریب نظام ترکیبی کی گہرائیوں پر بھی اس کو مطلع کیا تاکہ اسے دیکھ کر خدا تعالی کے وجود اور وحدانیت وغیرہ پر اور تمام اسمانی اور زمینی مخلوقات کے محکمانہ عجز و بیچارگی پر وہ استدلال کر سکیں ۔اور ان کے مشرکانہ عقائد کو دلائل اور بصیرت سے رد کر سکیں ۔
7 تفصیلی جوابات

فَلَمَّا رَءَا ٱلۡقَمَرَ بَازِغٗا قَالَ هَٰذَا رَبِّيۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمۡ يَهۡدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلضَّآلِّينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 77)

ان ایات کریمہ میں ستارے اور چاند کو دیکھ کر سیدنا ابراہیم نے کیا فرمایا

جواب ابراہیم علیہ السلام اپنے رب کی تلاش میں تھے ۔جب رات کے وقت انہوں نے ایک ستارے کو دیکھا تو انہوں نے فرمایا کیا یہ میرا رب ہے لیکن جب وہ غائب ہو گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں غروب ہو جانے والوں کو پسند نہیں کرتا اسی طرح جب انہوں نے چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا کیا یہ میرا رب ہے ؟۔پھر جب وہ بھی غائب ہو گیا تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں ضرور گمراہ قوم میں سے ہو جاتا ۔
8 تفصیلی جوابات

إِنِّي وَجَّهۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ حَنِيفٗاۖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 79)

ایت کا ترجمہ کریں ۔اور بتائیں یہ دعا کس نبی کی ہے

جواب بے شک میں نے اپنا رخ کر لیا سب سے الگ ہو کر اسی کی طرف جس نے اسمان اور زمینوں کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔ یہ دعا ابراہیم علیہ السلام کی ہے ۔جب وہ اپنے رب کی تلاش میں کائنات کی مختلف چیزوں پر غور و فکر کر رہے تھے ستاروں چاند اور سورج کو غروب ہوتا دیکھ کر جب انہیں یہ واضح ہو گیا کہ ان میں سے کوئی بھی ان کا خدا نہیں تو حقیقی خدا کی طرف متوجہ ہو کر انہوں نے یہ کلمات پڑھے
9 تفصیلی جوابات

وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلنُّجُومَ لِتَهۡتَدُواْ بِهَا فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۗ قَدۡ فَصَّلۡنَا ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 97)

ایت کریمہ میں ستاروں کا کیا مقصد بیان فرمایا گیا ہے ایت 97

ترجمہ

اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے تاکہ خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں ان سے راستہ معلوم کرو

اس ایت مبارکہ میں ستاروں کے پیدا کرنے کے دو مقصد بیان کیے گئے ہیں

1 اندھیری راتوں میں قافلے جب سفر کریں تو ستاروں سے سمت متعین کر کے خشکی پر اپنے راستے تلاش کر سکیں
2 اسی طرح سمندروں میں جہازرانی کے لیے بھی ستاروں کی مدد سے رخ متعین کیا جا سکے
10 تفصیلی جوابات

اِذۡ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنۡ شَىۡءٍ ؕ قُلۡ مَنۡ اَنۡزَلَ الۡـكِتٰبَ الَّذِىۡ جَآءَ بِهٖ مُوۡسٰى نُوۡرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ​ تَجۡعَلُوۡنَهٗ قَرَاطِيۡسَ تُبۡدُوۡنَهَا وَتُخۡفُوۡنَ كَثِيۡرًا​ (سورۃ الانعام ۔ آیت 91)

ترجمہ اور وضاحت کریں

آپ فرما دیجیے وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسی لے کر آئے تھے جو لوگوں کے لیے نور و ہدایت تھی تم نے اس سے ورق ورق کر رکھا ہے جنہیں تم ظاہر کرتے ہو اور بہت کچھ تم چھپاتے ہو

وضاحت

1 علمائے یہود سے خطاب فرمایا گیا ہے جو حسد اور تعصب کی وجہ سے رسول کی رسالت کے منکر ہو گئے تھے یہود اگرچہ نبوت اور رسالت کے قائل تھے مگر بعض یہودیوں نے نبی کریم کی نبوت کا انکار کیا اور بغض و عناد میں یہ کہہ دیا تھا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں کی اور نزول کتاب کے حوالے سے اللہ کی ناقدری کی ۔اس پر اللہ تعالی نے براہ راست یہود کو مخاطب کیا جن کی طرف سے یہ اعتراض آیا تھا اور ان سے پوچھا گیا کہ اگر اللہ نے کسی انسان پر کبھی بھی کوئی کتاب نازل نہیں کی تو کیا تورات حضرت موسی علیہ السلام کی طرف سے من گھڑت تھی کیا انہوں نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھ لیا تھا اس لیے نبی آپ ان سے پوچھیں کہ پھر کس نے وہ کتاب تورات موسی علیہ السلام پر اتاری تھی
جواب اس کے بعد علمائے یہود کی خیانت کا بیان ہے کہ وہ حق چھپاتے تھے ۔یہود کے علماء نے تورات کو ایک کتاب کی طرح جمع کرنے کی بجائے الگ الگ ورقوں کی صورت میں رکھا ہوا تھا جب ان کے پاس عوام کچھ بات پوچھنے کے لیے آتے تو صندوق وغیرہ میں ہاتھ ڈال کر کوئی سا ایک ورق نکال لیتے تھے اور سائل کے مطلب کے مطابق پڑھ کر سنا دیتے تھے تاکہ اس سے کچھ مال مل جائے نیز تو رات میں جو رسول اکرم کی صفات بیان کی گئی تھی جسے وہ جانتے تھے اسے بھی وہ عام یہودیوں سے چھپاتے تھے
11 تفصیلی جوابات

وَلَقَدۡ جِئۡتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَتَرَكۡتُم مَّا خَوَّلۡنَٰكُمۡ وَرَآءَ ظُهُورِكُمۡۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُمۡ أَنَّهُمۡ فِيكُمۡ شُرَكَـٰٓؤُاْۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 94)

ایت کریمہ میں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کی کیا کیفیات ذکر ہوئی ہیں

ترجمہ

اور یقینا تم ہمارے پاس اکیلے آگئے جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا فرمایا تھا اور جو کچھ ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب تم پیچھے چھوڑ ائے ہو اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشوں کو نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے معاملے میں ہمارے شریک ہیں

اس ایت مبارکہ میں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کی دو کیفیات کا ذکر ہے

1 تمام لوگوں کو اللہ کے سامنے اکیلے اور خالی ہاتھ پیش ہونا ہوگا ۔قیامت کے دن ہر شخص کا محاسبہ انفرادی حیثیت میں ہوگا اور ظاہر ہے اس کے لیے ہر کوئی اکیلا کھڑا ہوگا نہ کسی کے رشتہ دار ساتھ ہوں گے نہ ماں باپ نہ اولاد نہ بیوی نہ بیوی کے ساتھ اس کا شوہر نہ ساز و سامان ۔وہاں پر ہر انسان ایسے تنہا اور اکیلا ہوگا جیسے وہ پہلی تخلیق کے وقت تنہا تھا پہلی تخلیق سے مراد تخلیق عالم ارواح ہے وہاں بھی سب اکیلے تھے نہ کسی کا باپ تھا نہ کسی کی ماں ۔
2 اسی طرح روز قیامت شرک کرنے والوں کو ان کے خود ساختہ معبودوں کی سفارش اور موجودگی کی نفی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ ظالم جو خود نبوت کا جھوٹا دعوی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ایسی وحی تو ہم بھی اتار سکتے ہیں ان کی حالت قیامت کے دن دیکھنے کے قابل ہوگی تن تنہا بے یار و مددگار بارگاہ خداوندی میں پیش کیے جائیں گے اور وہ جھوٹے خدا جن کی وہ عمر بھر پرستش کرتے رہے ان کا وہاں نام و نشان تک نہ ہوگا اور وہ گہری وابستگی عقیدت اور بڑی بڑی توقعات سب ختم ہو جائیں گی۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

سورۃ الانعام میں بیان ہونے والے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کو بیان کریں۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ اسی سبق کی آیات 74 تا 83 میں بیان ہوا ہے۔ یہ واقعہ توحید کی تلاش، بت پرستی کے رد اور دلیل کے ساتھ حق تک پہنچنے کی بہترین مثال ہے۔

واقعے کے مراحل

1 آزر سے مکالمہ (آیت 74) — سیدنا ابراہیمؑ نے اپنے باپ آزر اور اپنی قوم کو بتوں کی پوجا پر ٹوکا اور فرمایا کہ میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں۔
2 ملکوتِ آسمان و زمین کا مشاہدہ (آیت 75) — اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمانوں اور زمین کی بادشاہت دکھائی تاکہ ان کا یقین دلیل اور مشاہدے پر قائم ہو۔
3 ستارے کا مرحلہ (آیت 76) — رات کی تاریکی میں ایک ستارہ دیکھا اور کہا کہ یہ میرا رب ہے؛ مگر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا کہ میں ڈوب جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔
4 چاند کا مرحلہ (آیت 77) — پھر چاند کو چمکتا دیکھا اور یہی بات کہی؛ جب وہ بھی غروب ہو گیا تو دعا کی کہ اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں گمراہ لوگوں میں سے ہو جاتا۔
5 سورج کا مرحلہ (آیت 78) — پھر سورج کو سب سے بڑا دیکھ کر یہی کہا؛ اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو اعلان کیا کہ اے قوم! میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔
6 اعلانِ توحید (آیت 79) — آخرکار فرمایا کہ میں نے یکسو ہو کر اپنا رخ اُس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
7 قوم سے مناظرہ (آیات 80 تا 81) — قوم نے جھگڑا کیا تو آپؑ نے فرمایا کہ میں ان سے کیوں ڈروں جنہیں تم نے شریک بنایا، جبکہ تم اُس سے نہیں ڈرتے جس نے ان کے شریک ہونے کی کوئی دلیل نازل نہیں کی۔
8 امن کی بشارت (آیت 82) — اللہ نے فیصلہ سنایا کہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم (شرک) سے آلودہ نہ کیا، امن انہی کے لیے ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔
9 حجت کا اعزاز (آیت 83) — اللہ نے فرمایا کہ یہ ہماری وہ دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی؛ ہم جس کے چاہیں درجے بلند کرتے ہیں۔
جواب إِنِّي وَجَّهۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ حَنِيفٗاۖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ بے شک میں نے یکسو ہو کر اپنا چہرہ اُس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ (سورۃ الانعام ۔ آیت 79)
13 سرگرمیاں

سورہ انعام میں بیان ہونے والے انبیاء کرام کے ناموں کی فہرست بنائیں۔

سورۃ الانعام کی آیات 83 تا 86 میں یکے بعد دیگرے اٹھارہ انبیائے کرام علیہم السلام کے نام آئے ہیں۔ ان کا ذکر اس ترتیب سے ہے:

1 آیت 83 — ۱۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام — جن کی حجت اور دلیل کا ذکر پچھلی آیات میں گزرا۔
2 آیت 84 — ۲۔ سیدنا اسحاق علیہ السلام — سیدنا ابراہیمؑ کے فرزند۔
3 آیت 84 — ۳۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام — سیدنا اسحاقؑ کے فرزند۔
4 آیت 84 — ۴۔ سیدنا نوح علیہ السلام — جنہیں پہلے ہدایت دی گئی۔
5 آیت 84 — ۵۔ سیدنا داؤد علیہ السلام — سیدنا نوحؑ کی اولاد میں سے۔
6 آیت 84 — ۶۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام — سیدنا داؤدؑ کے فرزند۔
7 آیت 84 — ۷۔ سیدنا ایوب علیہ السلام — صبر کی مثال۔
8 آیت 84 — ۸۔ سیدنا یوسف علیہ السلام — سیدنا یعقوبؑ کے فرزند۔
9 آیت 84 — ۹۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام — صاحبِ تورات۔
10 آیت 84 — ۱۰۔ سیدنا ہارون علیہ السلام — سیدنا موسیٰؑ کے بھائی اور معاون۔
11 آیت 85 — ۱۱۔ سیدنا زکریا علیہ السلام — ان چار کے بارے میں فرمایا کہ سب صالحین میں سے تھے۔
12 آیت 85 — ۱۲۔ سیدنا یحییٰ علیہ السلام
13 آیت 85 — ۱۳۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام
14 آیت 85 — ۱۴۔ سیدنا الیاس علیہ السلام
15 آیت 86 — ۱۵۔ سیدنا اسماعیل علیہ السلام — ان چار کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے سب کو تمام جہانوں پر فضیلت دی۔
16 آیت 86 — ۱۶۔ سیدنا الیسع علیہ السلام
17 آیت 86 — ۱۷۔ سیدنا یونس علیہ السلام
18 آیت 86 — ۱۸۔ سیدنا لوط علیہ السلام
جواب ان ناموں کے بعد آیت 87 میں ان کے آباء، اولاد اور بھائیوں کا بھی ذکر ہے، اور آیت 90 میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ انہی ہدایت یافتہ لوگوں کے طریقے کی پیروی کریں۔
14 سرگرمیاں

سورہ انعام میں شیطان کے انسان کو بہکانے کا ذکر کس طرح کیا گیا ہے، اور اس مثال سے ہمیں کیا راہِ عمل ملتی ہے؟

اسی سبق کی پہلی آیت (71) میں شیطان کے بہکائے ہوئے انسان کی نہایت مؤثر مثال دی گئی ہے: ایسا شخص جسے شیطانوں نے بیابان میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں پھر رہا ہو، جبکہ اس کے ساتھی اسے سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہوں۔

1 قُلۡ أَنَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعۡقَابِنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِي ٱسۡتَهۡوَتۡهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِي ٱلۡأَرۡضِ حَيۡرَانَ لَهُۥٓ أَصۡحَٰبٞ يَدۡعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلۡهُدَى ٱئۡتِنَاۗ قُلۡ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلۡهُدَىٰۖ وَأُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ …اُس شخص کی طرح جسے شیطانوں نے زمین میں بھٹکا دیا ہو، وہ حیران پھرتا ہو، اس کے کچھ ساتھی ہوں جو اسے سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہوں کہ ہمارے پاس آ جا۔ (سورۃ الانعام ۔ آیت 71)
2 مثال کے اجزاء اور ان کا مفہوم — بیابان میں بھٹکنا — شرک اور گمراہی کی حالت — جہاں کوئی نشان اور کوئی منزل نہیں، صرف بھٹکنا ہے۔
3 مثال کے اجزاء اور ان کا مفہوم — حیرانی (حَيْرَانَ) — شیطان کا سب سے بڑا اثر یہی ہے کہ انسان کے پاس کوئی واضح سمت باقی نہیں رہتی؛ وہ بے یقینی میں گھومتا رہتا ہے۔
4 مثال کے اجزاء اور ان کا مفہوم — پکارنے والے ساتھی — انبیاء، والدین، اساتذہ اور نیک دوست — جو مسلسل حق کی طرف بلاتے رہتے ہیں۔
5 مثال کے اجزاء اور ان کا مفہوم — پلٹ کر نہ آنا — اصل ناکامی بھٹکنا نہیں، بلکہ بلانے والوں کی آواز سن کر بھی واپس نہ آنا ہے۔
6 سورت کے دیگر مقامات پر شیطان کے حربے — اعمال کو خوشنما بنانا — آیت 43 کے مطابق شیطان برے کاموں کو انسان کی نظر میں خوبصورت بنا دیتا ہے تاکہ وہ انہیں برا نہ سمجھے۔
7 سورت کے دیگر مقامات پر شیطان کے حربے — ملمع سازی اور دھوکا — آیت 112 میں بتایا گیا کہ شیاطین ایک دوسرے کو چکنی چپڑی باتیں سکھاتے ہیں تاکہ لوگ دھوکے میں آ جائیں۔
8 سورت کے دیگر مقامات پر شیطان کے حربے — جھگڑے پر اکسانا — آیت 121 کے مطابق شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے کہ وہ تم سے جھگڑا کریں۔
9 سورت کے دیگر مقامات پر شیطان کے حربے — قدم بہ قدم لے جانا — آیت 142 میں حکم ہے کہ شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو — وہ ایک دم نہیں، ایک ایک قدم کر کے گمراہ کرتا ہے۔
10 ہمارے لیے راہِ عمل — بلانے والوں کی آواز پر لبیک — نصیحت کرنے والوں سے ناراض ہونے کے بجائے ان کی بات پر غور کرنا۔
11 ہمارے لیے راہِ عمل — پہلا قدم روکنا — چھوٹے گناہ کو معمولی نہ سمجھنا، کیونکہ شیطان وہیں سے راستہ بناتا ہے۔
12 ہمارے لیے راہِ عمل — ہدایت کا معیار وحی ہو — آیت 71 میں فیصلہ کن بات یہی ہے کہ اصل ہدایت اللہ کی ہدایت ہے، اپنی خواہش نہیں۔
13 ہمارے لیے راہِ عمل — تعوذ اور ذکر — وسوسہ آتے ہی اللہ کی پناہ مانگنا اور ذکر میں مشغول ہو جانا۔
14 ہمارے لیے راہِ عمل — نیک صحبت — بھٹکنے سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ساتھی وہی ہوں جو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہیں۔
15 سرگرمیاں

“وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ” کی روشنی میں اللہ کی قدرت اور طاقت کا مفہوم واضح کریں۔

یہ جملہ اسی سبق کی آیت 91 کا آغاز ہے۔ اس کا مطلب ہے: “انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔” یعنی لوگوں نے اللہ کی عظمت، قدرت اور شان کو اس طرح نہ پہچانا جیسا پہچاننا چاہیے تھا۔

1 إِذۡ قَالُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٖ مِّن شَيۡءٖۗ قُلۡ مَنۡ أَنزَلَ ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِي جَآءَ بِهِۦ مُوسَىٰ نُورٗا وَهُدٗى لِّلنَّاسِۖ تَجۡعَلُونَهُۥ قَرَاطِيسَ تُبۡدُونَهَا وَتُخۡفُونَ كَثِيرٗاۖ اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا، جب انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا… (سورۃ الانعام ۔ آیت 91)
2 “قدر نہ کرنے” کا مفہوم — موقعِ نزول — یہ بات ان لوگوں کے جواب میں کہی گئی جنہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی — یعنی وحی اور رسالت کا سرے سے انکار۔
3 “قدر نہ کرنے” کا مفہوم — قدرت کو محدود سمجھنا — جو یہ کہے کہ اللہ انسان سے کلام نہیں کر سکتا، وہ دراصل اللہ کی قدرت کو اپنی عقل کے پیمانے میں قید کر رہا ہے۔
4 “قدر نہ کرنے” کا مفہوم — شان کے خلاف گمان — اللہ کے لیے شریک، اولاد یا کمزوری تجویز کرنا بھی اسی “ناقدری” میں شامل ہے۔
5 اللہ کی قدرت و طاقت کے مظاہر — قدرتِ تخلیق — آسمانوں اور زمین کو عدم سے پیدا کرنا، اور ہر جاندار کو پانی سے زندگی دینا۔
6 اللہ کی قدرت و طاقت کے مظاہر — قدرتِ کلام — وہ جس بندے کو چاہے اپنے کلام کے لیے چن لے — یہی وحی اور نبوت ہے، اور اسی کا انکار اس آیت میں رد کیا گیا۔
7 اللہ کی قدرت و طاقت کے مظاہر — قدرتِ احیاء و اماتت — زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ نکالنا (آیت 95)، اور قیامت کے دن سب کو دوبارہ اٹھانا۔
8 اللہ کی قدرت و طاقت کے مظاہر — قدرتِ تدبیر — رات، دن، سورج، چاند اور ستاروں کا بے خطا نظام (آیت 96) — یہ سب اس کی حکمت اور طاقت کا ثبوت ہے۔
9 اللہ کی قدرت و طاقت کے مظاہر — قدرتِ رزق — دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر زندگی نکالنا (آیت 95) اور بے حساب رزق دینا۔
10 ہمارے لیے سبق — اللہ کی صحیح قدر یہ ہے کہ اس کی قدرت کو اپنی عقل سے نہ ناپا جائے، اس کی وحی کو مانا جائے، اس کے احکام کو سب پر مقدم رکھا جائے، اور دل میں اس کی عظمت اتنی ہو کہ گناہ کرتے ہوئے شرم آئے۔
16 سرگرمیاں

“وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ” کا مفہوم اچھی طرح واضح کریں۔

یہ جملہ اسی سبق کی آیت 94 کا حصہ ہے۔ اس کا ترجمہ ہے: “اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا تھا، تم اسے اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے۔” یہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا انسان سے خطاب ہے۔

1 وَلَقَدۡ جِئۡتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَتَرَكۡتُم مَّا خَوَّلۡنَٰكُمۡ وَرَآءَ ظُهُورِكُمۡۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُمۡ أَنَّهُمۡ فِيكُمۡ شُرَكَـٰٓؤُاْۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ اور بے شک تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آ گئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا تھا وہ اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے… (سورۃ الانعام ۔ آیت 94)
2 الفاظ کی وضاحت — خَوَّلْنَاكُمْ — “تخویل” کے معنی ہیں بطورِ عطیہ اور امانت کے دینا — یعنی مال، اولاد، صحت، عہدہ اور اختیار سب اللہ کی دی ہوئی امانت تھے، ہماری ذاتی ملکیت نہیں۔
3 الفاظ کی وضاحت — وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ — “پیٹھ پیچھے چھوڑ آنا” — یعنی وہ سب کچھ دنیا ہی میں رہ گیا؛ ایک دھاگہ بھی ساتھ نہ آیا۔
4 الفاظ کی وضاحت — فُرَادَىٰ — اسی آیت کا پہلا لفظ — “اکیلے اکیلے”؛ نہ مال ساتھ، نہ اولاد، نہ وہ سفارشی جنہیں شریک سمجھا جاتا تھا۔
5 مفہوم کے اہم پہلو — ملکیت نہیں، امانت — لفظ “خَوَّلْنَا” خود بتا رہا ہے کہ دینے والا اللہ تھا؛ جو دیا گیا اس کا حساب بھی اسی کو دینا ہے۔
6 مفہوم کے اہم پہلو — پیدائش اور موت کی یکسانیت — جیسے انسان پہلی بار خالی ہاتھ آیا تھا، ویسے ہی خالی ہاتھ لوٹے گا۔
7 مفہوم کے اہم پہلو — سفارشیوں کی بے بسی — آیت کے آخر میں فرمایا کہ جنہیں تم شریک سمجھتے تھے وہ تمہارے ساتھ نظر نہیں آتے — رشتہ ٹوٹ گیا اور دعوے ختم ہو گئے۔
8 مفہوم کے اہم پہلو — اصل زادِ راہ — ساتھ صرف ایمان اور عمل جاتا ہے؛ اسی لیے قرآن نے تقویٰ کو بہترین توشہ کہا ہے۔
9 عملی سبق — مال کو وسیلہ سمجھنا، مقصد نہیں — جو چیز ساتھ نہیں جانی، اسے زندگی کا مقصد نہ بنایا جائے۔
10 عملی سبق — خرچ کرنے میں پہل — جو آگے بھیج دیا وہی اپنا ہے؛ جو روک رکھا وہ وارثوں کا ہے۔
11 عملی سبق — امانت کی ادائیگی — صحت، وقت، علم اور اختیار — ہر نعمت کے بارے میں سوال ہوگا کہ کہاں خرچ کی۔
12 عملی سبق — انفرادی جواب دہی — قیامت کے دن ہر شخص اکیلا ہوگا، اس لیے فیصلے بھی اپنی ذمہ داری سمجھ کر کیے جائیں، “سب کرتے ہیں” کہہ کر نہیں۔
17 سرگرمیاں

سورج، چاند اور ستارے میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے غور و فکر کرنے کے واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر کریں۔

آیات 76 تا 79 میں سیدنا ابراہیمؑ نے ستارے، چاند اور سورج کو یکے بعد دیگرے دیکھا اور ہر ایک کے غروب ہونے پر یہ نتیجہ نکالا کہ ڈوب جانے والی چیز رب نہیں ہو سکتی۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، توحید تک پہنچنے کا ایک مکمل طریقۂ کار ہے۔

حاصل ہونے والے اسباق

1 غور و فکر عبادت ہے — کائنات کو دیکھ کر خالق تک پہنچنا قرآن کا مطلوب طریقہ ہے؛ آیت 75 میں اسی لیے ملکوت دکھانے کا ذکر ہے۔
2 دلیل کے ساتھ ایمان — سیدنا ابراہیمؑ نے قوم کو صرف “یہ غلط ہے” نہیں کہا، بلکہ ایسی دلیل دی جو قوم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتی تھی۔
3 بڑائی معیار نہیں — سورج سب سے بڑا اور روشن تھا، پھر بھی ڈوب گیا — جسامت، طاقت یا شہرت کسی کے معبود ہونے کی دلیل نہیں۔
4 زوال پذیر چیز رب نہیں ہو سکتی — “لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ” — جو خود دوسروں کے نظام کا پابند ہو، وہ کسی کا رب کیسے ہو۔
5 مکالمے کی حکمت — آپؑ نے قوم کے اپنے عقیدے کو نقطۂ آغاز بنایا اور نرمی سے قدم بہ قدم نتیجے تک پہنچے — یہی بہترین اندازِ دعوت ہے۔
6 ہدایت اللہ کی توفیق سے ہے — آیت 77 میں خود فرمایا کہ اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں گمراہوں میں سے ہوتا — عقل راستہ دکھاتی ہے، منزل توفیق سے ملتی ہے۔
7 اعلانِ حق میں جھجک نہیں — نتیجہ سمجھ آتے ہی آپؑ نے کھلم کھلا شرک سے براءت کا اعلان کیا، خواہ سامنے پوری قوم تھی۔
8 سائنس اور ایمان کا ربط — ستاروں اور اجرامِ فلکی کا مطالعہ اگر اسی نظر سے ہو تو وہ ایمان بڑھاتا ہے، اسی لیے آیت 97 میں ستاروں کو راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بتایا گیا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.