اسی سبق کی پہلی آیت (71) میں شیطان کے بہکائے ہوئے انسان کی نہایت مؤثر مثال دی گئی ہے: ایسا شخص جسے شیطانوں نے بیابان میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں پھر رہا ہو، جبکہ اس کے ساتھی اسے سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہوں۔
1
قُلۡ أَنَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعۡقَابِنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِي ٱسۡتَهۡوَتۡهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِي ٱلۡأَرۡضِ حَيۡرَانَ لَهُۥٓ أَصۡحَٰبٞ يَدۡعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلۡهُدَى ٱئۡتِنَاۗ قُلۡ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلۡهُدَىٰۖ وَأُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ …اُس شخص کی طرح جسے شیطانوں نے زمین میں بھٹکا دیا ہو، وہ حیران پھرتا ہو، اس کے کچھ ساتھی ہوں جو اسے سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہوں کہ ہمارے پاس آ جا۔ (سورۃ الانعام ۔ آیت 71)
2
مثال کے اجزاء اور ان کا مفہوم — بیابان میں بھٹکنا — شرک اور گمراہی کی حالت — جہاں کوئی نشان اور کوئی منزل نہیں، صرف بھٹکنا ہے۔
3
مثال کے اجزاء اور ان کا مفہوم — حیرانی (حَيْرَانَ) — شیطان کا سب سے بڑا اثر یہی ہے کہ انسان کے پاس کوئی واضح سمت باقی نہیں رہتی؛ وہ بے یقینی میں گھومتا رہتا ہے۔
4
مثال کے اجزاء اور ان کا مفہوم — پکارنے والے ساتھی — انبیاء، والدین، اساتذہ اور نیک دوست — جو مسلسل حق کی طرف بلاتے رہتے ہیں۔
5
مثال کے اجزاء اور ان کا مفہوم — پلٹ کر نہ آنا — اصل ناکامی بھٹکنا نہیں، بلکہ بلانے والوں کی آواز سن کر بھی واپس نہ آنا ہے۔
6
سورت کے دیگر مقامات پر شیطان کے حربے — اعمال کو خوشنما بنانا — آیت 43 کے مطابق شیطان برے کاموں کو انسان کی نظر میں خوبصورت بنا دیتا ہے تاکہ وہ انہیں برا نہ سمجھے۔
7
سورت کے دیگر مقامات پر شیطان کے حربے — ملمع سازی اور دھوکا — آیت 112 میں بتایا گیا کہ شیاطین ایک دوسرے کو چکنی چپڑی باتیں سکھاتے ہیں تاکہ لوگ دھوکے میں آ جائیں۔
8
سورت کے دیگر مقامات پر شیطان کے حربے — جھگڑے پر اکسانا — آیت 121 کے مطابق شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے کہ وہ تم سے جھگڑا کریں۔
9
سورت کے دیگر مقامات پر شیطان کے حربے — قدم بہ قدم لے جانا — آیت 142 میں حکم ہے کہ شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو — وہ ایک دم نہیں، ایک ایک قدم کر کے گمراہ کرتا ہے۔
10
ہمارے لیے راہِ عمل — بلانے والوں کی آواز پر لبیک — نصیحت کرنے والوں سے ناراض ہونے کے بجائے ان کی بات پر غور کرنا۔
11
ہمارے لیے راہِ عمل — پہلا قدم روکنا — چھوٹے گناہ کو معمولی نہ سمجھنا، کیونکہ شیطان وہیں سے راستہ بناتا ہے۔
12
ہمارے لیے راہِ عمل — ہدایت کا معیار وحی ہو — آیت 71 میں فیصلہ کن بات یہی ہے کہ اصل ہدایت اللہ کی ہدایت ہے، اپنی خواہش نہیں۔
13
ہمارے لیے راہِ عمل — تعوذ اور ذکر — وسوسہ آتے ہی اللہ کی پناہ مانگنا اور ذکر میں مشغول ہو جانا۔
14
ہمارے لیے راہِ عمل — نیک صحبت — بھٹکنے سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ساتھی وہی ہوں جو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہیں۔