دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 2: سبق 2: سورہ انعام — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَمَسُّهُمُ ٱلۡعَذَابُ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 49)

ایت کریمہ کے مطابق لوگوں کو کیوں عذاب پہنچے گا

جواب آیت مبارکہ کے مطابق نافرمانی کے باعث اللہ کی آیات کو جھٹلانے کی وجہ سے لوگوں پر عذاب مسلط ہوگا یعنی جو لوگ نافرمانی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اللہ ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا
2 مختصر جوابات

۞وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَآ إِلَّا هُوَۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۚ وَمَا تَسۡقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٖ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡأَرۡضِ وَلَا رَطۡبٖ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ (سورۃ الانعام ۔ آیت 59)

ایت کریمہ میں اللہ تعالی کی کیا صفات اور قدرتیں بیان ہوئی ہیں

آیت مبارکہ میں اللہ تعالی کی درج ذیل صفات اور قدرتیں بیان ہوئی ہیں۔

1 اللہ تعالی کے پاس غیب کے سارے خزانے ہیں اور اس کے سوا ان خزانوں کے بارے میں کوئی نہیں جانتا
2 اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو خشکی میں ہے اور سمندر میں ہے ۔اگر درخت سے کوئی پتہ گرتا ہے تو وہ بھی اس کے علم میں ہوتا ہے ۔اسی طرح اگر کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں گرتا ہے تو اللہ اس کو بھی جانتا ہے ۔ہر تر و تازہ اور سوکھی ہوئی چیز اللہ کی کتاب مبین میں موجود ہے کتاب مبین سے مراد اللہ کا علم قدیم ہے جس میں ہر شے کی معلومات موجود ہیں۔
3 مختصر جوابات

وَهُوَ الۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهٖ​ وَيُرۡسِلُ عَلَيۡكُمۡ حَفَظَةً ؕحَتّٰٓى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُـنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُوۡنَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 61)

آیت کریمہ کی رو سے انسان کی موت کے وقت فرشتے کیا عمل کرتے ہیں

ترجمہ

اور جب تم میں سے کسی ایک کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئےفرشتے اس کو قبضے میں لے لیتے ہیں اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔

جواب یعنی اللہ تعالی کے مقرر کردہ فرشتے جان نکالنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے انہیں جو حکم دیا جاتا ہے ،جب دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔اور حکم الہی سے روح قبض کرتے ہیں
4 مختصر جوابات

قُلۡ هُوَ ٱلۡقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبۡعَثَ عَلَيۡكُمۡ عَذَابٗا مِّن فَوۡقِكُمۡ أَوۡ مِن تَحۡتِ أَرۡجُلِكُمۡ أَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعٗا وَيُذِيقَ بَعۡضَكُم بَأۡسَ بَعۡضٍۗ ٱنظُرۡ كَيۡفَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَفۡقَهُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 65)

ایت کریمہ میں اللہ تعالی کی کن عذابوں کا ذکر کیا گیا ہے

اس ایت مبارکہ میں اللہ تعالی کے تین عذابوں کا ذکر کیا گیا ہے

1 اللہ تعالی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے ۔مثلا آسمان کا کوئی ٹکڑا یا کوئی شہاب ثاقب گر جائے جیسا کہ اللہ تعالی نے اوزون کی تہہ زمین والوں کے بچاؤ کے لیے پیدا کی ہے وہ چاہے تو اس حفاظتی چھتری کو ہٹا دے بہرحال آسمانوں سے عذاب نازل ہونے کی کوئی بھی صورت ہو سکتی ہے اور اللہ جب چاہے یہ نازل کر سکتا ہے مثلا برف ،بارش ،اولے ،اندھی پتھروغیرہ۔
2 اللہ قادر ہے کہ تمہارے قدموں کے نیچے سے تم پر عذاب لے آئے ۔ یعنی یہ عذاب تمہارے قدموں کے نیچے سے بھی ا سکتا ہے زمین پھٹ سکتی ہے زلزلے کے باعث شہروں کے شہر زمین میں دھنس سکتے ہیں جیسا کہ حدیث میں خبر دی گئی ہے کہ قیامت سے پہلے تین بڑے خسف ہوں گے یعنی زمین وسیع پیمانے پر تین مختلف جگہوں سے دھنس جائے گی۔
3 اللہ تمہیں گروہ میں تقسیم کر دے اور ایک کی طاقت کا مزہ دوسرے کو چکھائے ۔یہ خانہ جنگی کی صورت میں عذاب کا ذکر ہے کہ کسی ملک کے عوام یا قوم کے مختلف گروہ آپس میں لڑ پڑیں ۔یہ گروہ بندی اور اس کی بنیاد پر باہمی خونریزی عذاب الہی کے بدترین شکل ہے ۔
5 مختصر جوابات

وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ دِينَهُمۡ لَعِبٗا وَلَهۡوٗا وَغَرَّتۡهُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَاۚ وَذَكِّرۡ بِهِۦٓ أَن تُبۡسَلَ نَفۡسُۢ بِمَا كَسَبَتۡ لَيۡسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٞ وَلَا شَفِيعٞ وَإِن تَعۡدِلۡ كُلَّ عَدۡلٖ لَّا يُؤۡخَذۡ مِنۡهَآۗ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبۡسِلُواْ بِمَا كَسَبُواْۖ لَهُمۡ شَرَابٞ مِّنۡ حَمِيمٖ وَعَذَابٌ أَلِيمُۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡفُرُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 70)

ایت کریمہ کی رو سے قیامت کے دن کس چیز کے قبول نہ کیے جانے کا ذکر ہے

جواب اس ایت مبارکہ کی رو سے قیامت کے دن کسی قسم کا فدیہ قبول نہ کیے جانے کا ذکر ہے جیسا کہ سورہ بقرہ میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ قیامت کے دن نہ خرید و فروخت ہوگی نہ کوئی دوستی ہوگی اور نہ ہی بغیر اذن الہی کی کوئی سفارش فائدہ دے گی ۔اگرچہ اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کو شفاعت کا اختیار دیں گے لیکن نافرمانوں کے حق میں کسی کو بھی شفاعت کا حق نہیں دیا جائے گا

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۖ فَمَنۡ ءَامَنَ وَأَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 48)

ایت کریمہ میں مذکور تعلیمات تحریر کریں

ایت مبارکہ میں مذکور اہم تعلیمات

1 تمام انبیاء اور رسل علیہ حق کے لیے بشارت دینے والے اور اہل باطل کو خبردار کرنے والے تھے ۔
2 جو جو لوگ ایمان لانے والے ہیں اور جنہوں نے اپنی اصلاح کر لی ہے ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے یعنی قیامت کے روز ان کا ایمان اور ان کے اعمال صالحہ ان کے لیے نجات کا ذریعہ بنیں گے اور وہ مطمئن اور خوش ہوں گے
7 تفصیلی جوابات

قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ إِنِّي مَلَكٌۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّۚ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 50)

آیت کا ترجمہ اور وضاحت کریں

ترجمہ

اپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیجئے اے مشرکو! میں تم سے نہیں کہتا میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں از خود غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں میں تو اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اپ فرما دیجئے کہ اندھا اور دیکھنے والا برابر ہو سکتا ہے تو کیا تم غور نہیں کرتے

وضاحت

جواب مشرکین مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے تو اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ ان مشرکین سے کہہ دو کہ تم لوگ مجھ سے معجزات کے مطالبے کرتے ہو اور غیب کے احوال پوچھتے ہو یہ سارے مطالبات تو اس شخص سے کرنے چاہییں جو کسی قسم کا دعوی کرتا ہو اور میں نے کب دعوی کیا ہے کہ میں غیب جانتا ہوں اور اور میں نے کب دعوی کیا ہے کہ خدا کی خدائی میں میرا کوئی حصہ ہے ۔میرا دعوی تو یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں بشر ہوں مجھ پر وحی اتی ہے اور مجھے اس کام پر مامور کیا گیا ہے کہ میں تمہیں خبردار کروں میں تو بس وہی کام کر رہا ہوں میں صرف اللہ کی طرف سے آنے والی وحی تم لوگوں تک پہنچاتا ہوں معجزات کا دکھانا میرے اختیار میں نہیں ہے ۔پھر اللہ نے فرمایا کہ آپ ان کو بتا دو کہ جس طرح اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ہو سکتے اس طرح خالق اور مخلوق برابر نہیں ہو سکتے ۔یعنی جو کام خالق کے کرنے کے ہیں وہ مخلوق نہیں کر سکتی معجزات عطا کرنا اللہ کے اختیار میں ہے اللہ کے بندوں کے اختیار میں نہیں ہے ۔
8 تفصیلی جوابات

وَإِذَا رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 68)

ایت کریمہ میں بیان کردہ تعلیما ت تحریر کریں

ترجمہ

اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیتوں کے بارے میں فضول بحث کرتے ہیں پس آپ ان سے منہ پھیر لیجئے یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں اور اے مخاطب اگر شیطان تجھے یہ بات بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھ

ایت کریمہ بھی بیان کردہ تعلیمات

1 جب کسی محفل میں لوگ اللہ اور اس کی آیات کا تمسخر اڑا رہے ہوں تو ان سے کنارہ کشی کر لو اور جب وہ کسی دوسرے موضوع پر گفتگو کرنے لگیں تو پھر ان کے پاس جا سکتے ہو
2 اور اگر تمہیں شیطان بھلا دے تو یاد اآجانے کے بعد ایسے ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو ۔یعنی کسی محفل میں گفتگو شروع ہوئی اور کچھ دیر تک تمہیں احساس نہیں ہوا کہ یہ لوگ کس موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں لیکن جوں ہی احساس ہو جائے کہ ان کی گفتگو اور انداز گفتگو قابل اعتراض ہے تو احتجاج کرتے ہوئے فورا وہاں سے اٹھ جاؤ ۔لیکن چونکہ دعوت و تبلیغ کے لیے تمہارا ان کے پاس جانا ایک ضرورت ہے لہذا ایسی محفلوں کے بارے میں کسی بہتر صورتحال کے منتظر ر ہو اور جب ان لوگوں کا رویہ مثبت ہو تو ان کے پاس دوبارہ جانے میں کوئی حرج نہیں ۔
9 تفصیلی جوابات

وَإِذَا جَآءَكَ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِنَا فَقُلۡ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡۖ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَ أَنَّهُۥ مَنۡ عَمِلَ مِنكُمۡ سُوٓءَۢا بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ تَابَ مِنۢ بَعۡدِهِۦ وَأَصۡلَحَ فَأَنَّهُۥ غَفُورٞ رَّحِيمٞ (سورۃ الانعام ۔ آیت 54)

آیات کریمہ کا ترجمہ کریں ۔اور بتائیں کس ایات مبارکہ میں کیا تعلیمات دی جا رہی ہیں

ترجمہ

اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری ایات پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ ان سے فرما دیجیے تم پر سلام ہو تمہارے رب نے اپنی ذات کے ذمہ کرم پررحمت لازم فرما لی ہے کہ تم میں سے جو شخص نادانی سے کوئی برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے تو بے شک و ہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے

آیت میں مذکور تعلیمات

1 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا جا رہا ہے کہ کہ اہل ایمان غریب اور نادار مومنین کے ساتھ آپ کا معاملہ کیسا ہونا چاہیے یعنی جب آپ کے پاس آئیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو اپ ان سے کہیں کہ تم پر سلامتی ہو تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر لیا ہے یعنی ان کی دل جوئی فرمائیں
2 اگر کوئی انسان نادانی اور جہالت کی بنا پر کوئی گناہ یا برائی کر بیٹھے تو اسے فورا توبہ کر لینی چاہیے اور اپنی اصلاح کر لینی چاہیے ۔ایسا کرنے والوں کو اللہ تعالی بخش دیتا ہے اور ان پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے
10 تفصیلی جوابات

وَمَا عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنۡ حِسَابِهِم مِّن شَيۡءٖ وَلَٰكِن ذِكۡرَىٰ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 69)

آیت میں پرہیزگاروں کی کیا ذمہ داری بیان کی گئی ہے

ترجمہ

اور پرہیزگاروں پر ان نافرمان لوگوں کے حساب میں سے کسی چیز کی کوئی ذمہ داری نہیں لیکن نصیحت کر دینا ان کے ذمہ ہے تاکہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں۔

جواب اس ایت مبارکہ کی رو سے پرہیزگاروں پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ اللہ کے نافرمانوں کو وعظ و نصیحت کرتے رہیں تاکہ وہ نافرمان بھی پرہیزگاری اختیار کر کے برائی کے کاموں کو چھوڑ دیں ۔ لیکن اگر وہ نافرمان ان کی بات نہ مانیں تو انھیں غمگین اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اللہ ان سے ان نافرمانوں کے متعلق کوئی باز پرس نہیں کرے گا۔

سرگرمیاں

11 سرگرمیاں

ہماری شخصیت پر بری مجالس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

انسان کی شخصیت اس صحبت کے سانچے میں ڈھلتی ہے جس میں وہ بیٹھتا ہے۔ اسی سبق کی آیت 68 میں اللہ تعالیٰ نے ایسی مجلس سے فوراً اٹھ جانے کا حکم دیا جس میں دین کا مذاق اڑایا جا رہا ہو:

بری مجالس کے اثرات اور بچاؤ کی تدابیر

1 وَإِذَا رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیتوں میں (بیہودہ) بحث کر رہے ہیں تو ان سے منہ پھیر لیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں، اور اگر شیطان آپ کو بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں۔ (سورۃ الانعام ۔ آیت 68)
2 بری مجالس کے اثرات — عقیدے کی کمزوری — مسلسل اعتراضات اور مذاق سننے سے دل میں شکوک پیدا ہوتے ہیں اور ایمان کی پختگی متاثر ہوتی ہے۔
3 بری مجالس کے اثرات — گناہ کا احساس ختم ہو جانا — جو برائی پہلی بار بری لگتی ہے، بار بار سامنے آنے پر معمولی محسوس ہونے لگتی ہے — یہی دل کی موت کی ابتدا ہے۔
4 بری مجالس کے اثرات — زبان اور اخلاق کی خرابی — غیبت، جھوٹ، گالی اور تمسخر مجلس سے اٹھ کر انسان کی عادت بن جاتے ہیں اور گھر تک پہنچ جاتے ہیں۔
5 بری مجالس کے اثرات — وقت اور صلاحیت کا ضیاع — قیمتی وقت بے مقصد گفتگو میں ضائع ہوتا ہے اور تعلیم، عبادت اور صحت سب متاثر ہوتے ہیں۔
6 بری مجالس کے اثرات — خاموش شرکت بھی ذمہ داری ہے — آیت کے مطابق ایسی مجلس میں محض بیٹھے رہنا بھی ظالموں کی ہم نشینی میں شمار ہوتا ہے، چاہے انسان خود بات نہ کرے۔
7 بری مجالس کے اثرات — سماجی نقصان — معاشرے میں اعتماد اور نیک نامی ختم ہو جاتی ہے؛ لوگ اسی رنگ میں پہچانتے ہیں جس مجلس کا آدمی ہو۔
8 بری مجالس کے اثرات — آخرت کا پچھتاوا — قرآن نے ایسے شخص کی حسرت نقل کی ہے جو قیامت کے دن کہے گا کہ کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔
9 بچاؤ کی تدابیر — اعراض — آیت کا پہلا حکم یہی ہے — ایسی مجلس سے منہ پھیر لینا اور اٹھ جانا۔
10 بچاؤ کی تدابیر — اچھی صحبت — نیک، باعلم اور بامقصد ساتھیوں کا انتخاب سب سے مؤثر حفاظت ہے۔
11 بچاؤ کی تدابیر — علم اور دلیل — دین کی بنیادی سمجھ ہو تو اعتراضات دل میں جگہ نہیں بناتے۔
12 بچاؤ کی تدابیر — ذکر اور استغفار — غفلت میں شریک ہو جانے پر یاد آتے ہی اٹھ جانا اور توبہ کرنا — آیت میں اسی کی تلقین ہے۔
12 سرگرمیاں

صبح و شام کے کوئی سے تین اذکار تحریر کریں۔

اسی سبق کی آیت 52 میں ان بندوں کا ذکر ہے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں (یَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ)۔ صبح و شام کے مسنون اذکار میں سے تین درج ذیل ہیں:

1 ۱۔ آیت الکرسی — صبح اور شام ایک ایک بار پڑھنا؛ احادیث میں اسے شیطان سے حفاظت کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔
2 ۱۔ آیت الکرسی — ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ (سورۃ البقرہ ۔ آیت 255)
3 ۲۔ سورۃ الاخلاص اور معوذتین — صبح و شام تین تین بار؛ ہر قسم کی آفت اور نظرِ بد سے حفاظت کے لیے۔
4 ۲۔ سورۃ الاخلاص اور معوذتین — قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ (سورۃ الاخلاص)
5 ۲۔ سورۃ الاخلاص اور معوذتین — قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَٰتِ فِي ٱلۡعُقَدِ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (سورۃ الفلق)
6 ۲۔ سورۃ الاخلاص اور معوذتین — قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ مَلِكِ ٱلنَّاسِ إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ ٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ (سورۃ الناس)
7 ۳۔ تسبیح — سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ — صبح و شام سو بار۔ اس کے ساتھ الحمد للہ، اللہ اکبر اور استغفار کا معمول بھی رکھا جائے۔
8 اذکار کی برکات — حفاظت — دن اور رات کے آغاز پر اللہ کی پناہ میں آ جانا۔
9 اذکار کی برکات — دل کا سکون — ذکر سے دل کو اطمینان ملتا ہے اور پریشانی کم ہوتی ہے۔
10 اذکار کی برکات — تعلق کی مضبوطی — دن کے دونوں سروں پر اللہ کو یاد کرنا بندے اور رب کے تعلق کو مسلسل زندہ رکھتا ہے۔
11 اذکار کی برکات — گناہوں کی معافی — استغفار اور تسبیح کا معمول روزانہ کی کوتاہیوں کا کفارہ بنتا ہے۔
13 سرگرمیاں

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مومن اور کافر کی روح قبض ہوتے وقت پیش آنے والے حالات بیان کریں۔

قرآن اور احادیث دونوں میں موت کے وقت کا منظر تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اسی سبق کی آیت 61 میں فرشتوں کے روح قبض کرنے کا ذکر ہے، اور احادیث میں مومن اور کافر کے احوال کا واضح فرق بتایا گیا ہے۔

1 وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۖ وَيُرۡسِلُ عَلَيۡكُمۡ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُونَ اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے، اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔ (سورۃ الانعام ۔ آیت 61)
2 مومن کی روح قبض ہونے کا منظر — خوشخبری کے ساتھ آمد — رحمت کے فرشتے سفید چہروں کے ساتھ آتے ہیں اور جنت کی خوشخبری سناتے ہیں، جس سے مرنے والے کو اللہ سے ملاقات محبوب ہو جاتی ہے۔
3 مومن کی روح قبض ہونے کا منظر — آسانی سے روح کا نکلنا — روح اس نرمی کے ساتھ نکلتی ہے جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ ٹپکے — کوئی سختی اور تکلیف نہیں ہوتی۔
4 مومن کی روح قبض ہونے کا منظر — خوشبو اور اکرام — روح کو خوشبودار کفن میں لپیٹ کر آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے اور فرشتے راستے میں اس کی تعریف کرتے ہیں۔
5 مومن کی روح قبض ہونے کا منظر — آسمانوں میں قبولیت — اس کا نامۂ اعمال علیّین میں لکھا جاتا ہے اور اسے جسم کی طرف واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔
6 مومن کی روح قبض ہونے کا منظر — قبر میں کشادگی — سوالات کے صحیح جواب کے بعد قبر کشادہ کر دی جاتی ہے اور جنت کی طرف کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔
7 کافر کی روح قبض ہونے کا منظر — عذاب کی خبر — سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور عذاب کی خبر دیتے ہیں، جس سے مرنے والا اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔
8 کافر کی روح قبض ہونے کا منظر — سختی کے ساتھ روح کا کھینچا جانا — روح اس سختی سے کھینچی جاتی ہے جیسے بھیگی اون میں سے کانٹے دار سیخ نکالی جائے۔
9 کافر کی روح قبض ہونے کا منظر — آسمان کے دروازے بند — روح کو اوپر لے جایا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے اور اس کا نامۂ اعمال سجّین میں لکھ دیا جاتا ہے۔
10 کافر کی روح قبض ہونے کا منظر — قبر کی تنگی — سوالات کے جواب نہ دے سکنے پر قبر تنگ کر دی جاتی ہے اور جہنم کی طرف کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔
11 کافر کی روح قبض ہونے کا منظر — قرآنی منظر — سورۃ الانعام کی آیت 93 میں یہی لمحہ بیان ہوا ہے کہ ظالم موت کی سختیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھائے کہتے ہیں کہ اپنی جانیں نکالو۔
12 سبق — موت کا یہ فرق اعمال کا نتیجہ ہے، اتفاق کا نہیں۔ اچھے خاتمے کے لیے ایمان کی درستی، فرائض کی پابندی اور مسلسل توبہ ضروری ہے۔
14 سرگرمیاں

دل کی سختی کے اسباب، نقصانات اور سدِ باب کے طریقے بیان کریں۔

قساوتِ قلبی (دل کا سخت ہو جانا) وہ روحانی بیماری ہے جس میں نصیحت اثر نہیں کرتی اور گناہ پر ندامت باقی نہیں رہتی۔ قرآن نے اسے آزمائش کے بعد بھی نہ جھکنے کا سبب بتایا ہے:

1 فَلَوۡلَآ إِذۡ جَآءَهُم بَأۡسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَٰكِن قَسَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ پھر جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو انہوں نے عاجزی کیوں نہ کی؟ بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے۔ (سورۃ الانعام ۔ آیت 43)
2 اسباب — گناہوں پر اصرار — ہر گناہ دل پر ایک سیاہ نقطہ ڈالتا ہے؛ بغیر توبہ کے یہ نقطے بڑھ کر پورے دل کو ڈھانپ لیتے ہیں۔
3 اسباب — ذکر اور تلاوت سے دوری — دل کی غذا اللہ کا ذکر ہے؛ غذا بند ہو تو دل مردہ ہونے لگتا ہے۔
4 اسباب — موت اور آخرت سے غفلت — لمبی امیدیں اور دنیا کی محبت آخرت کے احساس کو دبا دیتی ہیں۔
5 اسباب — بری صحبت اور فضول مشاغل — بے مقصد مجالس اور لہو و لعب دل کی حساسیت ختم کر دیتے ہیں۔
6 اسباب — حرام کمائی اور حرام لقمہ — حرام غذا دل کو نور قبول کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی۔
7 اسباب — علم پر عمل نہ کرنا — جو بات معلوم ہو اور اس پر عمل نہ کیا جائے، وہ دل کو بے حس کر دیتی ہے۔
8 نقصانات — نصیحت کا بے اثر ہونا — قرآن سنیں یا وعظ، دل پر کوئی کیفیت طاری نہیں ہوتی۔
9 نقصانات — عبادت میں لذت کا خاتمہ — نماز محض حرکات رہ جاتی ہے، خشوع باقی نہیں رہتا۔
10 نقصانات — رحم اور ہمدردی کا ختم ہونا — دوسروں کی تکلیف پر دل نہیں پگھلتا۔
11 نقصانات — گناہ پر ندامت نہ ہونا — برائی کے بعد شرمندگی کے بجائے بے پروائی رہتی ہے۔
12 نقصانات — توفیقِ توبہ کا سلب ہو جانا — سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ توبہ کا خیال ہی دل میں نہیں آتا۔
13 سدِ باب اور علاج — سچی توبہ اور کثرتِ استغفار — توبہ دل کے سیاہ نقطوں کو صاف کر دیتی ہے۔
14 سدِ باب اور علاج — تلاوتِ قرآن بمعنیٰ — ترجمے کے ساتھ روزانہ تلاوت دل کو دوبارہ زندہ کرتی ہے۔
15 سدِ باب اور علاج — ذکرِ الٰہی کا معمول — صبح و شام کے اذکار اور کثرتِ درود دل کو نرم رکھتے ہیں۔
16 سدِ باب اور علاج — یادِ موت اور زیارتِ قبور — قبرستان جانا اور موت کو یاد رکھنا سب سے تیز اثر کرنے والا علاج ہے۔
17 سدِ باب اور علاج — یتیم اور مسکین سے شفقت — نبی کریم ﷺ نے دل کی سختی کے علاج میں یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی تلقین فرمائی۔
18 سدِ باب اور علاج — نیک صحبت اور مجالسِ علم — اچھے ساتھی اور علم کی مجلسیں دل کو مسلسل بیدار رکھتی ہیں۔
19 سدِ باب اور علاج — حلال کمائی — لقمۂ حلال دل کی نرمی کی بنیادی شرط ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.