للہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے راز جانتا ہے، اس کے مکمل اور محیط علم کی دلیل ہے جو سورۃ غافر کی آیت نمبر 19 میں بیان ہوا ہے: ﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ﴾
1
قرآن کی روشنی میں مفہوم — آنکھوں کی خیانت — دزدیدہ نگاہیں یا کنکھیوں سے کسی ایسی چیز یا شخص کو دیکھنا جسے شریعت نے دیکھنے سے منع کیا ہے، جبکہ انسان بظاہر خود کو نیک یا غافل ظاہر کرے۔
2
قرآن کی روشنی میں مفہوم — سینوں کے راز — دلوں کے اندر چھپے ہوئے ارادے، نیتیں، وسوسے اور وہ پوشیدہ باتیں جن کا انسان اظہار نہیں کرتا۔
3
سنت کی روشنی میں رہنمائی — نبوی شان — رسول اللہ ﷺ نے اس صفتِ الٰہی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انبیاء کی آنکھیں خیانت نہیں کرتی۔
4
سنت کی روشنی میں رہنمائی — دعائیں — احادیث میں ایسی دعائیں آئی ہیں جن میں آنکھوں کی خیانت اور دل کے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے، جیسے: (اللهم ... وعيني من الخيانة فإنك تعلم خائنة الأعين وما تخفي الصدور
5
سنت کی روشنی میں رہنمائی — یہ آیت مبارکہ انسان کے ظاہر اور باطن دونوں پر اللہ تعالیٰ کی مکمل دسترس اور اس کے لامحدود علم کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی تفصیلی وضاحت درج ذیل اہم نکات سے سمجھی جا سکتی ہے:
6
۱. آنکھوں کی خیانت کی حقیقت — چوری چھپے دیکھنا — جب کوئی شخص دوسرے لوگوں کے سامنے بیٹھا ہو اور جیسے ہی ان کی نظریں ہٹیں، وہ کسی ممنوعہ چیز (مثلاً نامحرم یا کسی کے ذاتی معاملات) کو کنکھیوں یا دزدیدہ نگاہوں سے دیکھے۔
7
۱. آنکھوں کی خیانت کی حقیقت — لوگوں سے چھپانا — وہ انسانوں سے تو اس عمل کو چھپا لیتا ہے اور لوگ اسے پارسا سمجھتے ہیں، لیکن کائنات کا مالک اس کی اس چھپی ہوئی نظر سے بھی واقف ہوتا ہے۔
8
۲. سینوں کے راز کا مفہوم — پوشیدہ نیتیں — دل میں پیدا ہونے والے وہ خیالات، کینے، حسد، نیک یا بد ارادے جو ابھی زبان تک نہیں آئے۔
9
۲. سینوں کے راز کا مفہوم — باطن کا علم — انسان اپنے قریبی دوستوں سے بھی اپنے دل کی بات چھپا سکتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نیتوں کے بننے اور بگڑنے کے پورے عمل کو لائیو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
10
۳. اس آیت کا بنیادی مقصد اور اثر — خوفِ خدا (تقویٰ) — یہ آیت انسان کے اندر "احسان" کا جذبہ پیدا کرتی ہے، یعنی اللہ کی عبادت اور زندگی ایسے گزارنا جیسے وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے، یا یہ یقین رکھنا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
11
۳. اس آیت کا بنیادی مقصد اور اثر — خود احتسابی — جب انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کی آنکھ کا ایک پلک جھپکنا اور دل کا ایک وسوسہ بھی ریکارڈ ہو رہا ہے، تو وہ اکیلے میں بھی گناہ کرنے سے رک جاتا ہے۔