دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 23: سبق 23: سورۃ المومن (آیات 1 تا 50) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

غَافِرِ ٱلذَّنۢبِ وَقَابِلِ ٱلتَّوۡبِ شَدِيدِ ٱلۡعِقَابِ ذِي ٱلطَّوۡلِۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ إِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ (سورۃ المومن ۔ آیت 3)

آیت میں اللہ کی کون سی صفات بیان ہوئی ہیں ؟

ترجمہ

(وہ) گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا، بڑے فضل والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ صفات

1 غافر الذنب (گناہ بخشنے والا) — اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں اور خطاؤں کو اپنے فضل سے معاف فرمانے اور چھپانے والا ہے۔
2 قابل التوب (توبہ قبول کرنے والا) — بندے جب اپنے گناہوں سے پشیمان ہو کر رجوع کریں تو وہ سچی توبہ کو قبول فرماتا ہے۔
3 شديد العقاب (سخت عذاب دینے والا) — ان لوگوں کے لیے جو سرکشی اختیار کرتے ہیں، حق سے منہ موڑتے ہیں اور توبہ نہیں کرتے۔
4 ذي الطول (بڑے فضل و انعام والا) — وہ صاحبِ کرم ہے جو اپنے بندوں پر بے شمار انعامات اور فضل و احسان کرتا ہے۔
5 لا إله إلا هو (توحید) — اس بات کا اعلان کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق معبود نہیں۔
6 إليه المصير (بازگشت) — تمام مخلوق کو مرنے کے بعد اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
2 مختصر جوابات

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُنَادَوۡنَ لَمَقۡتُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُ مِن مَّقۡتِكُمۡ أَنفُسَكُمۡ إِذۡ تُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلۡإِيمَٰنِ فَتَكۡفُرُونَ (سورۃ المومن ۔ آیت 10)

آیت کی رو سے کفار کو ایمان کے انکار پر روز قیامت کیا کہا جائے گا؟

ترجمہ

بیشک جو لوگ کافر ہوئے انہیں پکار کر کہا جائے گا کہ یقیناً اللہ کی تم سے ناراضی اس (غصہ) سے بڑھ کر ہے جو آج تمہیں اپنی جانوں سے ہے، جب کہ تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے تو تم کفر کرتے تھے

روزِ قیامت کافروں سے کہا جائے گا کہ اللہ کا غصہ ان کے اپنے غصے سے کہیں زیادہ تھا جب انہیں دنیا میں ایمان کی طرف بلایا گیا اور انہوں نے کفر کیا۔

اہم نکات

1 کافروں کی پکار — جہنم میں داخل ہوتے وقت یا عذاب کا سامنا کرتے وقت کافروں کو ندا دی جائے گی۔
2 اپنے آپ پر غصہ — کافر اپنی بدبختی اور برے انجام کو دیکھ کر خود اپنے نفس سے سخت بیزار اور غصے میں ہوں گے۔
3 اللہ کا غضب — اللہ تعالیٰ کا غصہ ان کے اس غصے سے کہیں زیادہ شدید تھا جو وہ آج خود پر نکال رہے ہیں، کیونکہ دنیا میں جب انہیں حق اور ایمان کی دعوت دی جاتی تھی تو وہ تکبر سے انکار کر دیتے تھے
3 مختصر جوابات

مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةٗ فَلَا يُجۡزَىٰٓ إِلَّا مِثۡلَهَاۖ وَمَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَأُوْلَـٰٓئِكَ يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ يُرۡزَقُونَ فِيهَا بِغَيۡرِ حِسَابٖ (سورۃ المومن ۔ آیت 40)

آیت میں نیکی اور برائی کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

جو شخص برائی کرے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اتنا ہی، اور جو اچھا کام کرے، مرد ہو خواہ عورت، اور وہ مومن بھی ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوں گے، وہاں انہیں بے حساب رزق دیا جائے گا

نیکی اور برائی کا انجام

1 برائی کا انجام — برائی کرنے والے کو صرف اتنی ہی سزا ملے گی جتنی اس نے برائی کی ہوگی، اس میں زیادتی نہیں کی جائے گی (یہ اللہ کے عدل کا تقاضا ہے)۔
2 نیکی کا انجام — جو شخص (مرد ہو یا عورت) ایمان کی حالت میں نیک عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ نیک لوگوں کو جنت میں ایسا رزق عطا ہوگا جس کی کوئی حد اور شمار نہیں ہوگا (بے حساب
4 مختصر جوابات

ٱلنَّارُ يُعۡرَضُونَ عَلَيۡهَا غُدُوّٗا وَعَشِيّٗاۚ وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ أَدۡخِلُوٓاْ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ أَشَدَّ ٱلۡعَذَابِ (سورۃ المومن ۔ آیت 46)

آیت میں ال فرعون کو عذاب دینے کی کیا خبر دی گئی ہے؟

ترجمہ

وہ آگ ہے کہ صبح و شام اس کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو

سورہ المومن (غافر) کی آیت نمبر 46 میں آلِ فرعون کو دو طرح کے عذاب کی خبر دی گئی ہے: ایک یہ کہ انہیں دنیا سے جانے کے بعد عالمِ برزخ (قبر) میں صبح و شام دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، اور دوسرا یہ کہ قیامت کے دن انہیں شدید ترین اور سخت تر عذاب میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا۔

عذاب کی تفصیل

1 برزخی عذاب (صبح و شام پیشی) — قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی قبر یا عالمِ برزخ میں آلِ فرعون کو روزانہ صبح اور شام جہنم کی آگ دکھائی جاتی ہے اور اس کے سامنے لایا جاتا ہے، جو ان کے عذابِ مسلسل کا حصہ ہے۔ علماء اس آیت کو عذابِ قبر کے ثبوت کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔
2 قیامت کا حتمی عذاب (سخت تر عذاب) — جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ آلِ فرعون کو جہنم کے اس عذاب میں داخل کر دو جو تمام عذابوں سے بڑھ کر سخت اور شدید ترین ہے
5 مختصر جوابات

وَقَالَ ٱلَّذِينَ فِي ٱلنَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ يُخَفِّفۡ عَنَّا يَوۡمٗا مِّنَ ٱلۡعَذَابِ (سورۃ المومن ۔ آیت 49)

آیت کی رو سے جہنمی ،جہنم کے دروغہ سے کیا فریاد کریں گے؟

ترجمہ

ور جو لوگ آگ میں ہوں گے وہ جہنم کے داروغوں (نگران فرشتوں) سے کہیں گے: اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ہم سے ایک دن ہی عذاب ہلکا کر دے

سورہ المومن (جسے سورہ غافر بھی کہا جاتا ہے) کی آیت نمبر 49 کے مطابق جہنمی، جہنم کے داروغوں (فرشتوں) سے فریاد کریں گے کہ وہ عذاب میں کمی کے لیے اللہ سے دعا کریں

فریاد کی تفصیل

1 درخواست — جہنمی عذاب کی شدت سے عاجز آ کر جہنم کے نگہبان فرشتوں سے التجا کریں گے۔
2 تخفیفِ عذاب — ان کی فریاد یہ ہوگی کہ وہ اپنے پروردگار (اللہ تعالیٰ) سے سفارش کریں کہ کم از کم ایک دن کے لیے ہی ان کے عذاب میں کچھ کمی یا تخفیف کر دی جائے

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

قَالُواْ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا ٱثۡنَتَيۡنِ وَأَحۡيَيۡتَنَا ٱثۡنَتَيۡنِ فَٱعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلۡ إِلَىٰ خُرُوجٖ مِّن سَبِيلٖ (سورۃ المومن ۔ آیت 11)

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور دو دفعہ زندہ کیا، سو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا، تو کیا اب یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے

تفسیرِ خلاصہ

1 دو موتیں اور دو زندگیاں — جمہور مفسرین (جیسے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس) کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ تم پہلے مٹی کی حالت میں بے جان (مردہ) تھے، پھر اللہ نے تمہیں دنیا میں زندگی بخشی (پہلی زندگی اور پہلی موت جو طبعی موت ہے)، پھر تمہیں قبروں میں زندہ کیا جائے گا یا قیامت کے دن اٹھایا جائے گا (دوسری زندگی)، اور دنیا میں آنے سے پہلے بھی ایک عدم (موت) کی حالت تھی۔
2 گناہوں کا اعتراف — جب جہنم میں عذاب کا سامنا ہوگا تو کافر اپنے کفر اور نافرمانیوں کا اعتراف کریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے اب اپنے گناہوں مان لیا ہے۔
3 نکلنے کی تمنا — وہ عذاب سے بچنے کے لیے التجا کریں گے کہ کیا ہمیں واپس دنیا کی طرف جانے یا اس عذاب سے نکلنے کا کوئی موقع مل سکتا ہے؟ لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہیں کی جائے گی کیونکہ دنیا میں امتحان کا وقت ختم ہو چکا ہوگا۔ان کے اس سوال کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تھا تو تم کفر کرتے تھے اور جب اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جاتا تھا تو تم مانتے تھے، اب فیصلہ صرف اللہ بلند و بزرگ کا ہے
7 تفصیلی جوابات

هُوَ ٱلَّذِي يُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ رِزۡقٗاۚ وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَن يُنِيبُ (سورۃ المومن ۔ آیت 13)

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے روزی اتارتا ہے، اور نصیحت نہیں مانتا مگر وہی جو (اللہ کی طرف) رجوع کرے

خلاصہ (معارف و نکات)

1 اللہ کی نشانیاں (آیات) — اللہ تعالیٰ اس کائنات میں اپنی قدرت، حکمت اور وحدانیت کی بے شمار نشانیاں دکھاتا ہے۔ یہ نشانیاں زمین و آسمان کے نظام، دن رات کی تبدیلی، اور انسان کی اپنی ذات میں موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت دیتی ہیں کہ اس پوری کائنات کا ایک ہی خالق اور مدبر ہے۔
2 آسمان سے رزق کا نزول — "آسمان سے رزق اتارنے" سے مراد بارش کا نزول ہے۔ جب آسمان سے بارش برستی ہے تو زمین زندہ ہوتی ہے، طرح طرح کے غلے، پھل اور سبزیاں اگتی ہیں جن سے انسان اور جانور سب فیضیاب ہوتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں صرف اللہ کی طرف سے ہیں۔
3 نصیحت اور ہدایت — کائنات کے اتنے کھلے دلائل اور نشانیاں دیکھنے کے باوجود حقیقت کو وہی لوگ سمجھتے اور قبول کرتے ہیں جو اپنے دل کو دنیا سے ہٹا کر اللہ کی طرف جھکاتے ہیں (من ینیب)۔ جو شخص اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ارادہ ہی نہ رکھتا ہو، اسے یہ نشانیاں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔
8 تفصیلی جوابات

وَأَنذِرۡهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡأٓزِفَةِ إِذِ ٱلۡقُلُوبُ لَدَى ٱلۡحَنَاجِرِ كَٰظِمِينَۚ مَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنۡ حَمِيمٖ وَلَا شَفِيعٖ يُطَاعُ (سورۃ المومن ۔ آیت 18)

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور ان کو اس قریب آنے والے دن (قیامت) سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں (حلق) تک آرہے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی دلی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے

تفسیر

1 آزفہ کا مفہوم — "آزفہ" قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، جس کے معنی ہیں "قریب آنے والی گھڑی"، کیونکہ قیامت اب بہت قریب آ چکی ہے۔
2 دلوں کا حلق تک پہنچنا — شدید خوف، گھبراہٹ اور غم کی وجہ سے مجرموں اور کافروں کے دل اپنی جگہ سے ہل کر حلق تک آ جائیں گے۔ وہ اتنے دہشت زدہ ہوں گے کہ نہ تو دل واپس سینے میں جا سکیں گے اور نہ باہر نکل سکیں گے۔
3 خاموشی اور بے بسی — لوگ غم اور خوف سے اس طرح بھرے ہوں گے کہ کسی کو بولنے کی مجال نہیں ہوگی (کَاظِمِينَ یعنی منہ بند، چپ چاپ کھڑے ہوں گے)۔
4 مددگاروں کا فقدان — دنیا میں جن دوستوں اور رشتہ داروں (حمیم) پر وہ بھروسہ کرتے تھے، اس دن وہ کام نہیں آئیں گے۔ اسی طرح کوئی ایسا سفارشی بھی نہیں ہوگا جو اللہ کے حکم کے بغیر اپنی مرضی سے سفارش کر کے کسی کو چھڑا سکے
9 تفصیلی جوابات

فَسَتَذۡكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَكُمۡۚ وَأُفَوِّضُ أَمۡرِيٓ إِلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَصِيرُۢ بِٱلۡعِبَادِ فَوَقَىٰهُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِ مَا مَكَرُواْۖ وَحَاقَ بِـَٔالِ فِرۡعَوۡنَ سُوٓءُ ٱلۡعَذَابِ (سورۃ المومن ۔ آیات 44-45)

آیات کے مطابق مؤمن شخص نے وعظ و نصیحت کے بعد اپنی قوم سے کس بات کا درد دل سے اظہار کیا ؟

ترجمہ

پس عنقریب تم یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بے شک اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔ پھر اللہ نے اسے ان کی چالوں کی برائیوں سے بچا لیا اور آلِ فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا

دردِ دل اور اظہار کے اہم نکات

1 انجام سے باخبر کرنا — مردِ مومن نے اپنی قوم پر واضح کیا کہ آج وہ اس کی خیرخواہی اور نصیحت نہیں مان رہے، لیکن جب ان پر اللہ کا عذاب آئے گا تب انہیں اس کی یہ باتیں اور دردِ دل سے کہی گئی نصیحتیں شدت سے یاد آئیں گی۔
2 اللہ پر توکل — قوم کی ہٹ دھرمی اور مخالفت دیکھ کر جب اسے اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوا تو اس نے مایوس ہو کر یا ڈر کر جھکنے کے بجائے اپنا پورا معاملہ اللہ کے حوالے کر دیا۔
3 اللہ کا بھروسა اور حفاظت — اس نے پختہ یقین ظاہر کیا کہ اللہ اپنے بندوں کے حالات کو دیکھ رہا ہے۔ نتیجے کے طور پر، اللہ تعالیٰ نے اس مردِ مومن کو ظالموں کی تمام چالوں اور سازشوں سے محفوظ رکھا اور فرعون کی قوم کو عذابِ الٰہی نے آ لیا۔

سرگرمیاں

10 سرگرمیاں

دعا کی اہمیت اور آداب قرآن و سنت کی روشنی میں

دعا عبادت کا مغز، اللہ سے قریبی تعلق کا ذریعہ اور تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ قرآن و سنت میں اس کے لیے عاجزی، اصرار اور پاکیزہ نیت لازمی قرار دی گئی ہے

دعا کی اہمیت اور دعا کے آداب

1 دعا کی اہمیت — عبادت کا خلاصہ — احادیث میں دعا کو عین عبادت کہا گیا ہے کیونکہ اس میں بندہ اپنی محتاجی کا اعتراف کرتا ہے۔
2 دعا کی اہمیت — اللہ کا حکم — قرآن مجید میں اللہ نے پکارنے کا حکم دیا اور قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔
3 دعا کی اہمیت — بندے کی پناہ — مشکلات اور پریشانیوں میں اللہ کی ذات واحد سے امید وابستہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
4 دعا کے آداب — حمد و صلٰوة — دعا کی ابتدا اللہ کی تعریف (الحمد للہ) اور نبی کریم ﷺ پر درود سے کی جائے۔
5 دعا کے آداب — عاجزی و انکساری — دل کی حضوری، نرم آواز اور گڑگڑا کر دعا مانگی جائے۔
6 دعا کے آداب — پختہ یقین — اس یقین کے ساتھ دعا کریں کہ اللہ قبول کرنے پر قادر ہے۔
7 دعا کے آداب — حلال رزق اور نیت — دعا میں کوئی گناہ یا رشتہ توڑنے کی بات شامل نہ ہو اور غذا حلال ہو۔
11 سرگرمیاں

سورۃ المؤمن میں ذکر کی گئی دعائیں مع ترجمہ

جب فرعون کی قوم کے ایک چھپے ہوئے مومن نے اپنی قوم کو حق کی طرف بلایا اور انہوں نے نہ مانا، تو انہوں نے اپنے معاملے کو اللہ کے سپرد کرتے ہوئے یہ دعا فرمائی:

1 مومنِ آلِ فرعون کی دعا (آیت 44) — وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (عربی:)
2 مومنِ آلِ فرعون کی دعا (آیت 44) — اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یقیناً اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے
3 ملائکہ کی دعا کا تتمہ (آیت 9) — پہلی دو آیات (7 اور 8) کے تسلسل میں، عرش کو اٹھانے والے فرشتے اہلِ ایمان کے لیے اپنی دعا کو اس طرح مکمل کرتے ہیں:
4 ملائکہ کی دعا کا تتمہ (آیت 9) — وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ ۚ وَمَن تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (عربی:)
5 ملائکہ کی دعا کا تتمہ (آیت 9) — اور تو انہیں برائیوں (اور ان کے برے انجام) سے بچا لے، اور جس کو تو نے اس دن برائیوں سے بچا لیا تو یقیناً تو نے اس پر رحم فرما دیا، اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے
6 جہنمیوں کی حسرت بھری دعا/پکار (آیت 11) — جب کافروں کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا، تو وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے وہاں سے نکلنے کی التجا کریں گے:
7 جہنمیوں کی حسرت بھری دعا/پکار (آیت 11) — قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلْ إِلَىٰ خُرُوجٍ مِّن سَبِيلٍ (عربی:)
8 جہنمیوں کی حسرت بھری دعا/پکار (آیت 11) — وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور دو بار زندگی دی، پس اب ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، تو کیا (یہاں سے) نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟
9 اللہ تعالیٰ کا حکمِ دعا (آیت 60) — یہ آیت دعا کے الفاظ نہیں، بلکہ کائنات کے مالک کا بندوں کو مانگنے کا کھلا خط اور ترغیب ہے:
10 اللہ تعالیٰ کا حکمِ دعا (آیت 60) — وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (عربی:)
11 اللہ تعالیٰ کا حکمِ دعا (آیت 60) — اور تمہارے رب نے فرما دیا ہے کہ تم مجھے پکارو (مجھ سے دعا کرو)، میں تمہاری دعا قبول کروں گا
12 سرگرمیاں

اللہ آنکھوں کی خیانت اور سینے کے راز جانتا ہے قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت

للہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے راز جانتا ہے، اس کے مکمل اور محیط علم کی دلیل ہے جو سورۃ غافر کی آیت نمبر 19 میں بیان ہوا ہے: ﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ﴾

1 قرآن کی روشنی میں مفہوم — آنکھوں کی خیانت — دزدیدہ نگاہیں یا کنکھیوں سے کسی ایسی چیز یا شخص کو دیکھنا جسے شریعت نے دیکھنے سے منع کیا ہے، جبکہ انسان بظاہر خود کو نیک یا غافل ظاہر کرے۔
2 قرآن کی روشنی میں مفہوم — سینوں کے راز — دلوں کے اندر چھپے ہوئے ارادے، نیتیں، وسوسے اور وہ پوشیدہ باتیں جن کا انسان اظہار نہیں کرتا۔
3 سنت کی روشنی میں رہنمائی — نبوی شان — رسول اللہ ﷺ نے اس صفتِ الٰہی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انبیاء کی آنکھیں خیانت نہیں کرتی۔
4 سنت کی روشنی میں رہنمائی — دعائیں — احادیث میں ایسی دعائیں آئی ہیں جن میں آنکھوں کی خیانت اور دل کے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے، جیسے: (اللهم ... وعيني من الخيانة فإنك تعلم خائنة الأعين وما تخفي الصدور
5 سنت کی روشنی میں رہنمائی — یہ آیت مبارکہ انسان کے ظاہر اور باطن دونوں پر اللہ تعالیٰ کی مکمل دسترس اور اس کے لامحدود علم کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی تفصیلی وضاحت درج ذیل اہم نکات سے سمجھی جا سکتی ہے:
6 ۱. آنکھوں کی خیانت کی حقیقت — چوری چھپے دیکھنا — جب کوئی شخص دوسرے لوگوں کے سامنے بیٹھا ہو اور جیسے ہی ان کی نظریں ہٹیں، وہ کسی ممنوعہ چیز (مثلاً نامحرم یا کسی کے ذاتی معاملات) کو کنکھیوں یا دزدیدہ نگاہوں سے دیکھے۔
7 ۱. آنکھوں کی خیانت کی حقیقت — لوگوں سے چھپانا — وہ انسانوں سے تو اس عمل کو چھپا لیتا ہے اور لوگ اسے پارسا سمجھتے ہیں، لیکن کائنات کا مالک اس کی اس چھپی ہوئی نظر سے بھی واقف ہوتا ہے۔
8 ۲. سینوں کے راز کا مفہوم — پوشیدہ نیتیں — دل میں پیدا ہونے والے وہ خیالات، کینے، حسد، نیک یا بد ارادے جو ابھی زبان تک نہیں آئے۔
9 ۲. سینوں کے راز کا مفہوم — باطن کا علم — انسان اپنے قریبی دوستوں سے بھی اپنے دل کی بات چھپا سکتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نیتوں کے بننے اور بگڑنے کے پورے عمل کو لائیو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
10 ۳. اس آیت کا بنیادی مقصد اور اثر — خوفِ خدا (تقویٰ) — یہ آیت انسان کے اندر "احسان" کا جذبہ پیدا کرتی ہے، یعنی اللہ کی عبادت اور زندگی ایسے گزارنا جیسے وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے، یا یہ یقین رکھنا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
11 ۳. اس آیت کا بنیادی مقصد اور اثر — خود احتسابی — جب انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کی آنکھ کا ایک پلک جھپکنا اور دل کا ایک وسوسہ بھی ریکارڈ ہو رہا ہے، تو وہ اکیلے میں بھی گناہ کرنے سے رک جاتا ہے۔
13 سرگرمیاں

سورہ المومن کی آیت 16 تا 18 کی روشنی میں روز قیامت کے احوال اور ان کی تیاری

سورہ المومن (جس کا دوسرا مشہور نام سورہ غافر ہے) کی آیات 16 تا 18 میں روز قیامت کے ہولناک احوال یہ بیان ہوئے ہیں: سب کا قبروں سے باہر ظاہر ہونا، اللہ کے سامنے کسی بھی عمل کا مخفی نہ رہنا، اور ظالموں کے لیے کسی دوست یا سفارشی کا نہ ہونا۔ ان آیات کی روشنی میں اس دن کی تیاری کا طریقہ اخلاص، نیک اعمال کی کمائی اور گناہوں سے توبہ کرنا ہے

روزِ قیامت کے احوال (آیات 16 تا 18) اور روزِ قیامت کی تیاری

1 روزِ قیامت کے احوال (آیات 16 تا 18) — ظہور اور آشکارائی — لوگ اپنی قبروں سے نکل کر کھلے میدان میں اس طرح آئیں گے کہ ان کا کوئی بھی جسمانی وجود یا چھپا ہوا عمل اللہ سے چھپا نہیں رہے گا۔
2 روزِ قیامت کے احوال (آیات 16 تا 18) — اللہ کی مطلق بادشاہی — اس روز ندا آئے گی کہ آج کس کی بادشاہی ہے؟ اور خود ہی جواب ملے گا کہ صرف اکیلے اللہ کی جو سب پر غالب اور قہار ہے۔ دنیا کے جھوٹے اقتدار اور دعوے ختم ہو جائیں گے۔
3 روزِ قیامت کے احوال (آیات 16 تا 18) — انصاف کا دن — ہر شخص کو اس کی دنیوی کمائی (نیک یا بد اعمال) کا پورا پورا بدلہ ملے گا، اور وہاں کسی پر ذرہ برابر ظلم یا ناانصافی نہیں کی جائے گی۔
4 روزِ قیامت کے احوال (آیات 16 تا 18) — شدید خوف و ہراس — قیامت (الآزفہ) کے قریب آنے والے ہولناک وقت میں لوگوں کے دل اور کلیجے غم و خوف کی شدت سے منہ کو آ جائیں گے (گلے تک پہنچ جائیں گے)۔
5 روزِ قیامت کے احوال (آیات 16 تا 18) — مددگاروں کا فقدان — ظالموں اور نافرمانوں کا کوئی قریبی دوست (حمیم) یا م مانا ہوا سفارشی (شفيع) نہیں ہوگا جو انہیں عذاب سے بچا سکے۔
6 روزِ قیامت کی تیاری — اعمالِ صالحہ کی فکر — اس دن صرف انسان کی اپنی کمائی کام آئے گی، اس لیے ہر وقت اچھے اعمال کی مال جٹانے کی کوشش کریں۔
7 روزِ قیامت کی تیاری — عقیدہِ احتساب پر پختگی — یہ یقین رکھنا کہ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے اور وہ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے رازوں تک سے واقف ہے۔
8 روزِ قیامت کی تیاری — ظلم اور گناہوں سے گریز — چونکہ ظالموں کے لیے وہاں کوئی سفارشی یا مددگار نہیں ہوگا، اس لیے دنیا میں ہی ظلم، شرک اور نافرمانی کی زندگی سے توبہ کر کے اللہ کا سچا فرمانبردار بننا ہی حقیقی تیاری ہے۔
14 سرگرمیاں

النار یعرضون علیھا کی روشنی میں قبر کی ہولناکی اور اس سے بچنے کے اعمال

آیت ﴿اَلنَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا﴾ (سورۃ غافر: 46) قبر اور عالمِ برزخ کی ہولناکی یعنی صبح و شام جہنم کی آگ پر پیش کیے جانے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس ہولناک عذاب سے بچنے کے لیے سچی توبہ, نماز کی پابندی اور گناہوں (خصوصاً چغلی اور پیشاب کے چھینٹوں) سے پرہیز انتہائی ضروری اعمال ہیں.

قبر کی ہولناکی (آیت کی روشنی میں) اور عذابِ قبر اور ہولناکی سے بچنے کے اعمال

1 قبر کی ہولناکی (آیت کی روشنی میں) — صبح و شام کا عذاب — مرنے کے بعد قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی بدکار روحیں ہر دن صبح اور شام آگ کے سامنے لائی جاتی ہیں.
2 قبر کی ہولناکی (آیت کی روشنی میں) — پہلی منزل — احادیث میں قبر کو آخرت کی پہلی اور سب سے سخت منزل قرار دیا گیا ہے، جہاں کامیابی آگے کے مراحل آسان کرتی ہے.
3 قبر کی ہولناکی (آیت کی روشنی میں) — توبہ اور عبرت — صحابہ کرام قبر کے پاس کھڑے ہو کر اس کی سختی اور ہولناکی کو یاد کر کے بہت رویا کرتے تھے.
4 عذابِ قبر اور ہولناکی سے بچنے کے اعمال — پنج وقتہ نماز — نماز بندے کی قبر کا نور اور عذاب سے ڈھال ہے۔
5 عذابِ قبر اور ہولناکی سے بچنے کے اعمال — گناہوں سے طہارت — پیشاب کی چھینٹوں سے مکمل پرہیز اور چغلی یا غیبت سے اجتناب کریں.
6 عذابِ قبر اور ہولناکی سے بچنے کے اعمال — دعائے نبوی کا ورد — ہر فرض نماز کے بعد عذابِ قبر سے پناہ کی دعا مانگیں: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
7 عذابِ قبر اور ہولناکی سے بچنے کے اعمال — نیک اعمال اور صدقہ — کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت اور صدقہ و خیرات کا اہتمام کریں.

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.