دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 22: سبق 22: سورۃ الزمر (آیات 42 تا 57) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 22 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَاۚ-فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ

آیت کے مطابق ارواح کو موت اور نیند کے وقت قبض کیے جانے کے بعد کیا کیا جاتا ہے؟

ترجمہ

اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان کو بھی جو نہیں مریں ان کی نیند میں، پھر اسے روک لیتا ہے جس پر اس نے موت کا فیصلہ کیا اور دوسری کو ایک مقرر وقت تک بھیج دیتا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں

موت اور نیند کے وقت ارواح کو قبض کرنے کے بعد، اللہ تعالیٰ موت کا فیصلہ شدہ روح کو روک لیتا ہے اور نیند والی روح کو ایک مقررہ وقت تک واپس بھیج دیتا ہے

اہم نکات

1 موت کا وقت — جب انسان کی طبعی موت آتی ہے، تو اللہ اس کی روح کو مکمل طور پر قبض کر لیتا ہے۔
2 نیند کا وقت — جو لوگ ابھی زندہ ہیں، سوتے وقت ان کی روحیں بھی عارضی طور پر قبض کر لی جاتی ہیں۔
3 روک لینا — جس روح کی موت کا فیصلہ ہو جائے، اسے واپس نہیں بھیجا جاتا بلکہ اپنے پاس روک لیا جاتا ہے۔
4 واپس بھیجنا — جن کی موت کا وقت نہیں آیا ہوتا (نیند والے)، ان کی روحوں کو ایک مقررہ زندگی کی مدت پوری کرنے کے لیے دوبارہ جسم کی طرف بھیج دیا جاتا ہے
2 مختصر جوابات

وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ

آیت میں اللہ کے ذکر کے وقت آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوںکی کیا کیفیت بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

اور جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل کڑھنے (گھٹن اور نفرت) لگتے ہیں، اور جب اس کے سوا دوسروں (متعدد معبودوں یا بتوں) کا ذکر کیا جاتا ہے تو تب وہ خوش ہوجاتے ہیں

آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کی کیفیت یہ بیان کی گئی ہے کہ تنہا اکیلے اللہ کے ذکر پر ان کے دل گھٹن اور کراہت سے سمٹ جاتے ہیں، لیکن جب اللہ کے سوا دوسروں (بتوں یا معبودوں) کا ذکر کیا جائے تو وہ یکایک خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔

کیفیت کے اہم پہلو

1 دل کا سمٹنا (اشمئزاز) — اکیلے اللہ کی وحدانیت سن کر ان کے دلوں میں تنگی اور شدید نفرت پیدا ہوتی ہے۔
2 غیر اللہ کے ذکر پر خوشی (استبشار) — جب اللہ کے سوا دوسروں کا ذکر ہو تو وہ اچانک خوشیوں سے کھل اٹھتے ہیں
3 مختصر جوابات

فَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ ۚ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

آیت میں تکلیف اور نعمت ملنے پر انسان کا کیا رویہ بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرماتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت دی گئی ہے۔ بلکہ وہ ایک آزمائش ہے، لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے

رویے کی وضاحت

1 تکلیف کے وقت — انسان گھبرا کر صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتا اور مدد مانگتا
2 نعمت ملنے کے بعد — وہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے کہتا ہے کہ یہ مجھے میری اپنی قابلیت، ہنر یا علم کی وجہ سے ملی ہے۔
3 حقیقت — اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ مال و دولت یا آسائش کوئی کمال نہیں بلکہ ایک آزمائش (امتحان) ہے، مگر لوگ نہیں سمجھتے
4 مختصر جوابات

وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

آیت میں قیامت کے دن زمین اور آسمان کی کیا حالت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسے کہ اس کی قدر کا حق تھا اور زمین پوری کی پوری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند وبالا اس تمام شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں

آیت کے مطابق قیامت کے دن زمین اور آسمان اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور گرفت میں ہوں گے۔

زمین اور آسمان کی حالت

1 زمین کی حالت — پوری کی پوری زمین اللہ تعالیٰ کی مٹھی (قبضے) میں ہوگی۔
2 آسمان کی حالت — تمام آسمان اللہ تعالیٰ کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔
جواب یہ منظر اللہ رب العزت کی بے پناہ طاقت اور جلال کو ظاہر کرتا ہے۔
5 مختصر جوابات

وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ۔ وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجيِءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

آیت کے مطابق دوسری بار صور پھونکے جانے کے بعدکیا صورتحال پیش آئے گی؟

ترجمہ

ور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائیں گے (یا مر جائیں گے) وہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، مگر جسے اللہ چاہے۔ پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا تو وہ ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے۔ اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور (اعمال کی) کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء اور گواہوں کو لایا جائے گا اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا

دوسری بار صور پھونکنے کے بعد کی صورتحال

1 اٹھ کھڑے ہونا — تمام مردہ لوگ اچانک زندہ ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے۔
2 حیرت اور انتظار — سب لوگ اٹھ کر حیرت اور انتظار کی حالت میں دیکھنے لگیں گے کہ اب ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جاتا ہے۔
3 نور کا ظہور — میدانِ حشر کی وہ زمین اللہ تعالیٰ کے ذاتی نور سے روشن ہو جائے گی۔
4 پیشی اور فیصلہ — لوگوں کے اعمال نامے کھول دیے جائیں گے، انبیاء اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور مکمل انصاف کے ساتھ فیصلے ہوں گے

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيْمُ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

آپ فرما دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے، بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے

تفسیر

1 عام دعوتِ توبہ — یہ آیت تمام گناہگاروں، نافرمانوں اور مشرکوں کے لیے توبہ کا سب سے بڑا اور پُر امید پیغام ہے۔
2 اسراف کا مفہوم — اسراف" سے مراد گناہوں کی کثرت اور حد سے بڑھ جانا ہے۔
3 مایوسی کی ممانعت — اللہ تعالی نے گناہ کی مقدار یا نوعیت سے قطع نظر اپنی رحمت سے ناامید ہونے کو سختی سے منع فرمایا ہے۔
4 مغفرت کی شرط — یہ معافی سچی توبہ اور رجوع کرنے کے ساتھ مشروط ہے
7 تفصیلی جوابات

وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ

آیت میں پہلی مرتبہ صور پھونکے جانے کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

اور صُور میں پھونک ماری جائے گی تو جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے (مر جائیں گے) مگر جسے اللہ چاہے، پھر اس میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو اسی وقت وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے

اہم نکات و تفصیل

1 پہلا صور (نفخہ صعق/موت) — اس پہلی پھونک کے ساتھ ہی آسمانوں اور زمین کی تمام ذی روح ہستیاں دہشت اور شدت سے بے ہوش ہو کر گر پڑیں گی اور ان کی موت واقع ہو جائے گی۔
2 مستثنیٰ ہستیاں — اس عمومی موت سے وہ مقرب فرشتے یا ہستیاں محفوظ رہیں گی جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے بچانا چاہے (جیسے حضرت جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور حاملینِ عرش علیہم السلام)۔
3 دوسرا صور — اس کے بعد جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا، تو تمام انسان زندہ ہو کر میدانِ حشر میں کھڑے ہو کر حالات کا انتظار اور نظارہ کرنے لگیں گے۔
8 تفصیلی جوابات

وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَقُضِيَ بَيْنَهم بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد گھیرا باندھے ہوئے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر رہے ہوں گے، اور لوگوں کے درمیان سچا فیصلہ کر دیا جائے گا، اور پکارا جائے گا کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے

تفسیر

1 فیصلہ حق — جب جنتی جنت میں اور دوزخی جہنم میں چلے جائیں گے، تب اللہ تعالیٰ تمام بندوں کے درمیان مکمل انصاف کا فیصلہ صادر فرما دے گا۔
2 فرشتوں کا حلقہ — اس وقت تمام فرشتے اللہ کے عرشِ عظمت کے اردگرد ہجوم کیے ہوئے عاجزی کے ساتھ اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کر رہے ہوں گے۔
3 حمدِ الٰہی — کائنات کا ذرہ ذرہ اور تمام مخلوقات پکار اٹھیں گی کہ تمام تعریفیں صرف اللہ ہی کے لیے ہیں، کیونکہ اس کے فیصلے سراسر عدل اور رحمت پر مبنی ہوتے ہیں
9 تفصیلی جوابات

وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ۔عذاب آنے سے قبل کیا طرز عمل اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے

ہدایت کے اہم نکات

1 اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے، پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی
2 رجوع الی اللہ (انابت) — اللہ کی طرف پلٹنا اور اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرنا۔
3 اطاعت و فرمانبرداری (اسلام) — دل اور عمل سے اللہ کے احکام کے سامنے جھک جانا اور اس کا مطیع بن جانا
4 وقت کی پابندی — عذاب آنے سے پہلے پہلے یہ عمل کرنا، کیونکہ عذاب آ جانے کے بعد توبہ قبول نہیں ہوتی اور کوئی مددگار نہیں ملتا
10 تفصیلی جوابات

وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے، انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف روانہ کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے اور اس کے دروازے پہلے ہی کھول دیے گئے ہوں گے، تو جنت کے نگہبان ان سے کہیں گے: تم پر سلام ہو، تم بہت اچھے رہے، لہذا اس میں ہمیشہ کے لیے داخل ہو جاؤ

1 1۔ گروہ در گروہ روانگی (زُمَراً) — درجات کے لحاظ سے زمرے — اہل محشر میں سے متقین کو ایک ساتھ نہیں، بلکہ ان کے ایمان، تقویٰ اور اعمال کے درجات کے مطابق الگ الگ گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
2 1۔ گروہ در گروہ روانگی (زُمَراً) — انبیاء اور اولیاء کی رفاقت — سب سے پہلے انبیاء کرام کا گروہ ہوگا، پھر ان کے بعد اولیاء اللہ، صدیقین، شہداء اور صالحین اپنے اپنے مرتبے کے حساب سے جنت کی طرف روانہ ہوں گے۔
3 2۔ استقبال اور پہلے سے کھلے دروازے (وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا) — اہلِ جہنم اور اہلِ جنت کا فرق — سورۃ الزمر میں اس سے پچھلی آیات میں دوزخیوں کے بارے میں "فُتِحَتْ" (کھولے جائیں گے) کہا گیا ہے، یعنی جب وہ وہاں پہنچیں گے تب اچانک دروازے کھلیں گے۔
4 2۔ استقبال اور پہلے سے کھلے دروازے (وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا) — پہلے سے کھلے کواڑ — اس کے برعکس متقین کے اعزاز میں "وَفُتِحَتْ" کے ساتھ واؤ (و) کا اضافہ ہے، جس کا تفسیری مفہوم یہ ہے کہ متقین کے پہنچنے سے پہلے ہی جنت کے دروازے ان کے استقبال کے لیے کھول دیے گئے ہوں گے تاکہ انہیں انتظار کی زحمت نہ ہو۔
5 3۔ فرشتوں کا سلام اور خوش آمدید (سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ) — داروغہِ جنت کا استقبال — جنت کے محافظ فرشتے (حضرت رضوان اور ان کے ساتھی) آگے بڑھ کر اہل جنت کو سلامی پیش کریں گے۔
6 3۔ فرشتوں کا سلام اور خوش آمدید (سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ) — پاکیزگی کی گواہی — طِبْتُمْ" کا مطلب ہے کہ تم دنیا میں کفر، شرک اور گناہوں کی گندگی سے پاک رہے، اور آج تمہارے اعمال پاکیزہ ہیں۔
7 4۔ ابدی رہائش کی خوشخبری (خَالِدِينَ) — موت کا خاتمہ — فرشتوں کے استقبالیہ کلمات کا آخری حصہ یہ ہوگا کہ اب اس جنت میں داخل ہو جاؤ جہاں سے کبھی نہیں نکلنا۔ یہاں نہ کبھی موت آئے گی اور نہ ہی نعمتیں ختم ہوں گی۔
11 تفصیلی جوابات

وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ ۖ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ

آیت کے مطابق اہل جنت کن کلمات کے ساتھ اللہ کی حمد بیان کریں گے؟

ترجمہ

ور وہ کہیں گے: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ہمیں سرزمینِ جنت کا وارث بنا دیا، اب ہم اس جنت میں جہاں چاہیں قیام کریں، سو نیک عمل کرنے والوں کا کیسا اچھا اجر ہے

جواب اہل جنت سورۃ الزمرکی آیت نمبر 74 کے مطابق یہ کلمات کہیں گےالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَہ ا۔تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

اللہ کے ذکر سے دلوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں قرآن وسنت کی روشنی میں

قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں اللہ کے ذکر کے دل پر ہونے والے اثرات کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے

قرآن مجید کے حوالے اور احادیثِ مبارکہ کے حوالے

1 قرآن مجید کے حوالے — دلوں کا اطمینان — سورہ الرعد میں واضح ارشاد
2 قرآن مجید کے حوالے — "أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" (یاد رکھو کہ اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے)۔
3 قرآن مجید کے حوالے — ایمان میں اضافہ اور خشیت — سورہ الانفال میں سچے مومنین کی نشانی یہ بتائی گئی
4 قرآن مجید کے حوالے — "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ" (ایمان والے تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں)۔
5 قرآن مجید کے حوالے — دل کی سختی کا خاتمہ — سورہ الزمر میں نرمی کا ذکر ملتا ہے
6 قرآن مجید کے حوالے — "ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ" (پھر ان کے جسم اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں)۔
7 احادیثِ مبارکہ کے حوالے — دلوں کی صفائی (جلا) — بیہقی کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
8 احادیثِ مبارکہ کے حوالے — "لِكُلِّ شَيْءٍ صِقَالَةٌ، وَصِقَالَةُ الْقُلُوبِ ذِكْرُ اللَّهِ" (ہر چیز کی صفائی کے لیے کوئی نہ کوئی صیقل (مانجھنے والی چیز) ہوتی ہے، اور دلوں کی صفائی اللہ کا ذکر ہے)۔
9 احادیثِ مبارکہ کے حوالے — دل کی زندگی اور موت — صحیح بخاری کی حدیث ہے
جواب "مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لا يَذْكُرُ رَبَّهُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ" (اپنے رب کا ذکر کرنے والے اور ذکر نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ جیسی ہے)۔
13 سرگرمیاں

سورۃ الزمر میں دنیا سے بغیر ایمان اور توبہ کیے جانے والوں کی بیان کی گئی مختلف حسرتوں کی فہرست بنائیں اور ان میں ہمارے لیے کیا اسباق ہیں

سورۃ الزمر کی آیات 56 تا 58 میں دنیا سے بغیر ایمان اور توبہ کے جانے والوں کی تین اہم حسرتوں کا ذکر ہے: اللہ کے حق میں کوتاہی اور مزاق اڑانے کا اعتراف، تقدیر پر الزام تراشی، اور دنیا میں واپسی کی تمنا

حسرتوں کی فہرست (آیات 56-58) اور ہمارے لیے اسباق

1 حسرتوں کی فہرست (آیات 56-58) — پہلی حسرت (کوتاہی اور استہزا کا اعتراف) — ان کا یہ کہنا کہ "ہائے افسوس! جو کوتاہی میں نے اللہ کے بارے میں کی، اور میں تو مذاق اڑانے والوں میں سے تھا"۔
2 حسرتوں کی فہرست (آیات 56-58) — دوسری حسرت (تقدیر کا بہانہ) — ان کا یہ کہنا کہ "اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں بھی ڈرنے والوں میں سے ہوتا"۔
3 حسرتوں کی فہرست (آیات 56-58) — تیسری حسرت (واپسی کی آرزو) — عذاب دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ "کاش مجھے ایک بار پھر لوٹنا نصیب ہو تو میں بھی نیک لوگوں میں شامل ہو جاؤں"۔
4 ہمارے لیے اسباق — بروقت توبہ کی اہمیت — موت یا عذاب آنے سے پہلے اپنی غلطیوں کا احساس کر کے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
5 ہمارے لیے اسباق — مذاق سے اجتناب — دین اور اہلِ ایمان کا مذاق اڑانے کا انجام آخرکار شدید پشیمانی ہے۔
6 ہمارے لیے اسباق — ذمہ داری کا اقرار — اپنے گناہوں کا ذمہ دار خود کو سمجھنا چاہیے نہ کہ تقدیر کو ڈھال بنا کر الزام تراشی کرنا۔
7 ہمارے لیے اسباق — موت کے بعد مہلت کا عدمِ امکان — دنیا عمل کی جگہ ہے، اور مرنے کے بعد دوبارہ لوٹ کر نیک عمل کرنے کا موقع نہیں ملے گا
14 سرگرمیاں

توبہ کی چند شرائط قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں

قرآن و حدیث کی روشنی میں توبہ کی بنیادی شرائط میں گناہ کو فوری چھوڑنا، اپنے فعل پر ندامت اور آئندہ نہ کرنے کا پکا عزم شامل ہیں۔ اگر گناہ کسی بندے کے حق سے متعلق ہو تو اس کا حق واپس کرنا بھی ضروری ہے

اہم شرائط

1 گناہ ترک کرنا — فوراً اس برے کام کو چھوڑ دینا۔
2 ندامت اور شرمندگی — اپنے کیے پر دل سے پشیمان ہونا۔
3 عزمِ مصمم — آئندہ وہ گناہ کبھی نہ کرنے کا پکا ارادہ کرنا۔
4 حقوق کی واپسی — اگر کسی کا مال یا حق مارا ہو تو اسے لوٹانا یا معاف کرانا۔
5 وقتِ مقرّرہ — موت کا وقت آنے یا سورج مغرب سے نکلنے سے پہلے توبہ کرنا
15 سرگرمیاں

قیامت کے دن انبیاء اور شہدا کو لائے جانے کی حکمت قرآن و حدیث کی روشنی میں

قرآن و حدیث کی روشنی میں قیامت کے دن انبیاءؑ اور شہدا کو عدالتِ الہیٰ میں لانے کی حکمتیں درج ذیل واضح دلائل سے ثابت ہیں:

قرآنِ مجید کی روشنی میں حکمتیں اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں

1 قرآنِ مجید کی روشنی میں حکمتیں — عدل و انصاف کا مکمل قیام — سورہ الزمر کی آیت 69 میں اللہ تعالیٰ فرماتا
2 قرآنِ مجید کی روشنی میں حکمتیں — وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ "اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا، اور انبیاء اور گواہ لائے جائیں گے، اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔"
3 قرآنِ مجید کی روشنی میں حکمتیں — تفسیری نقطہ نظر سے، انبیاء اور شہدا کی موجودگی کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر حجت تمام کر دی تھی اور اب فیصلہ سراسر عدل پر مبنی ہو رہا ہے۔
4 قرآنِ مجید کی روشنی میں حکمتیں — امتوں کے خلاف ناقابلِ تردید گواہی — قیامت کے دن جب منکرین اپنے کفر کا انکار کریں گے، تو انبیاء کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا کہ انہوں نے پیغام پہنچا دیا تھا。 سورہ النساء (آیت 41) میں ارشاد ہے
5 قرآنِ مجید کی روشنی میں حکمتیں — "پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے حبیب!) ہم آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔"
6 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — مقامِ شفاعت اور برتری کا اظہار — نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
7 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — "میں قیامت کے دن سب انبیاء کا امام ہوں گا اور ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ گفتگو کرنے والا اور ان کو اللہ تعالیٰ سے شفاعت کا حق دلانے والا ہوں گا۔" (المنہاج بکس)。
8 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — میدانِ حشر میں انبیاء کو لانے کی بڑی حکمت ان کی شانِ شفاعت کو پبلک کرنا ہے تاکہ کائنات ان کا رتبہ دیکھ سکے۔
9 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — قربانی کی گواہی اور اعزازِ شہادت — حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
10 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — "جو شخص بھی اللہ کی راہ میں زخمی ہو، وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا، رنگ خون کا ہوگا اور خوشبو کستوری کی ہوگی۔صحیح بخاری و مسلم
11 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — شہدا کو ان کے زخموں اور علامات کے ساتھ لانے کی حکمت یہ ہے کہ ان کی سچائی اور مظلومیت پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو اور انہیں سب کے سامنے جنت کا پروانہ دیا جائے
12 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — دوسروں کے لیے گواہ اور شفاعت کا اذن — احادیث کے مطابق قیامت کے دن انبیاء کے بعد شہدا کو بھی شفاعت کی اجازت دی جائے گی، جو ان کے لائے جانے کا ایک بڑا مقصد ہے۔
16 سرگرمیاں

سورۃ الزمر میں اہل جنت اور اہل جہنم کے انجام کی جو کیفیات بیان ہوئی ہیں وہ لکھیں

سورۃ الزمر (آیات 71 تا 74) میں اہل جنت اور اہل جہنم کے انجام کی کیفیات یہ ہیں کہ کافروں کو ذلت کے ساتھ گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا اور متقیوں کو عزت و احترام سے جنت کی طرف لایا جائے گا

اہل جہنم کا انجام اور اہل جنت کا انجام

1 اہل جہنم کا انجام — گروہوں کی شکل میں روانگی — کافروں کو زبردستی اور ذلت کے ساتھ گروہ در گروہ جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا۔
2 اہل جہنم کا انجام — دروازوں کا کھلنا اور داروغوں کا سوال — جب وہ جہنم کے پاس پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور جہنم کے نگران فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمھارے پاس خود تم میں سے وہ رسول نہیں آئے تھے جو رب کی آیتیں سناتے اور اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے؟
3 اہل جہنم کا انجام — اقرارِ جرم اور دائمی عذاب — جہنمی کہیں گے کہ ہاں رسول آئے تھے، لیکن کافروں پر عذاب کا فیصلہ پکا ہو چکاتھا۔ انہیں حکم ہوگا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ ، اور یہ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانہ ہے۔
4 اہل جنت کا انجام — جنت کی طرف استقبال — اللہ سے ڈرنے والوں کو عزت کے ساتھ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔
5 اہل جنت کا انجام — سلامتی اور خوشخبری — جب وہ جنت کے پاس آئیں گے تو اس کے دروازے پہلے ہی کھلے ہوں گے۔ جنت کے داروغہ (فرشتے) ان سے کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو، تم خوش و خرم رہو، اب اس میں ہمیشہ کے لیے داخل ہو جاؤ۔
6 اہل جنت کا انجام — حمد و شکر — جنتی لوگ کہیں گے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین (جنت) کا وارث بنایا کہ ہم جہاں چاہیں رہیں۔ عمل کرنے والوں کا یہ بہترین بدلہ ہے۔

شان نزول

17 شان نزول

مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ

شانِ نزول

1 پس منظر — مکہ کے مشرکین بتوں کی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔
2 شانِ نزول — قتادہ اور ابنِ عباسؓ کے مطابق، یہ آیت تین قبیلوں (عامر، کنانہ اور بنی سلمہ) کے جواب میں نازل ہوئی جو فرشتوں، جنوں اور بتوں کی پوجا کرتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں اور سفارشی ہیں۔
18 شان نزول

أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا

شانِ نزول

1 پس منظر — اس آیت میں راتوں کو عبادت کرنے والے مخلص مومن اور غافل انسان کا موازنہ کیا گیا ہے۔
2 شانِ نزول — ابنِ عباسؓ کی روایت کے مطابق یہ آیت حضرت عمار بن یاسرؓ کے حق میں نازل ہوئی جو رات بھر نماز اور تلاوت میں مصروف رہتے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت ابنِ مسعودؓ یا حضرت صہیب رومیؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
19 شان نزول

وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ

شانِ نزول

1 پس منظر: مکہ میں مسلمانوں پر ظلم جب حد سے بڑھ گیا تو انہیں ہجرت کی ترغیب دی گئی
2 شانِ نزول: سدی اور عطاء کے مطابق یہ آیت حضرت جعفر بن ابی طالبؓ اور ان کے ساتھیوں کے حق میں نازل ہوئی جب مکہ کی سرزمین ان پر تنگ کر دی گئی اور انہوں نے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کا عزم کیا
20 شان نزول

وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا...

شانِ نزول

1 پس منظر: ان لوگوں کی تعریف جو جاہلیت کے شرک اور بت پرستی سے دور رہے
2 شانِ نزول: جواد بن زید کی روایت کے مطابق یہ آیات مکہ کے ان تین بزرگوں کے حق میں نازل ہوئیں جنہوں نے اسلام لانے سے پہلے ہی جاہلیت میں بت پرستی چھوڑ دی تھی اور "لا الہ الا اللہ" کہتے تھے: حضرت زید بن عمرو بن نفیل، حضرت ابوذر غفاریؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ
21 شان نزول

وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ

شانِ نزول

1 پس منظر: سچائی لے کر آنے والے اور اس کی تصدیق کرنے والوں کا ذکر
2 شانِ نزول: مفسرین کے مطابق "الذی جاء بالصدق" سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں جو قرآن لے کر آئے، اور "صَدَّقَ بِہٖ" (جس نے تصدیق کی) سے مراد حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے تصدیق کی
22 شان نزول

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ

شانِ نزول

1 پس منظر: یہ قرآن پاک کی سب سے زیادہ امید افزا آیت مانی جاتی ہے
2 شانِ نزول: ابنِ عباسؓ کے مطابق مکہ کے کچھ مشرکین نے کثرت سے قتل اور زنا کر رکھا تھا — انہوں نے بارگاہِ رسالت میں پیغام بھیجا کہ آپ کا دین سچا ہے، مگر کیا ہمارے اتنے بڑے گناہوں کی توبہ قبول ہوگی؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ کے رحم سے مایوس نہ ہوں، وہ سب گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
3 (نوٹ: بعض روایات کے مطابق یہ آیت حضرت حمزہؓ کے قاتل وحشی، اور مکہ کے ان مسلمانوں کے حق میں بھی نازل ہوئی جو فتنوں کی وجہ سے ہجرت نہیں کر پائے تھے اور مایوس ہو رہے تھے)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.