قرآن و حدیث کی روشنی میں قیامت کے دن انبیاءؑ اور شہدا کو عدالتِ الہیٰ میں لانے کی حکمتیں درج ذیل واضح دلائل سے ثابت ہیں:
1
قرآنِ مجید کی روشنی میں حکمتیں — عدل و انصاف کا مکمل قیام — سورہ الزمر کی آیت 69 میں اللہ تعالیٰ فرماتا
2
قرآنِ مجید کی روشنی میں حکمتیں — وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ "اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا، اور انبیاء اور گواہ لائے جائیں گے، اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔"
3
قرآنِ مجید کی روشنی میں حکمتیں — تفسیری نقطہ نظر سے، انبیاء اور شہدا کی موجودگی کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر حجت تمام کر دی تھی اور اب فیصلہ سراسر عدل پر مبنی ہو رہا ہے۔
4
قرآنِ مجید کی روشنی میں حکمتیں — امتوں کے خلاف ناقابلِ تردید گواہی — قیامت کے دن جب منکرین اپنے کفر کا انکار کریں گے، تو انبیاء کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا کہ انہوں نے پیغام پہنچا دیا تھا。 سورہ النساء (آیت 41) میں ارشاد ہے
5
قرآنِ مجید کی روشنی میں حکمتیں — "پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے حبیب!) ہم آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔"
6
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — مقامِ شفاعت اور برتری کا اظہار — نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
7
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — "میں قیامت کے دن سب انبیاء کا امام ہوں گا اور ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ گفتگو کرنے والا اور ان کو اللہ تعالیٰ سے شفاعت کا حق دلانے والا ہوں گا۔" (المنہاج بکس)。
8
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — میدانِ حشر میں انبیاء کو لانے کی بڑی حکمت ان کی شانِ شفاعت کو پبلک کرنا ہے تاکہ کائنات ان کا رتبہ دیکھ سکے۔
9
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — قربانی کی گواہی اور اعزازِ شہادت — حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
10
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — "جو شخص بھی اللہ کی راہ میں زخمی ہو، وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا، رنگ خون کا ہوگا اور خوشبو کستوری کی ہوگی۔صحیح بخاری و مسلم
11
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — شہدا کو ان کے زخموں اور علامات کے ساتھ لانے کی حکمت یہ ہے کہ ان کی سچائی اور مظلومیت پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو اور انہیں سب کے سامنے جنت کا پروانہ دیا جائے
12
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حکمتیں — دوسروں کے لیے گواہ اور شفاعت کا اذن — احادیث کے مطابق قیامت کے دن انبیاء کے بعد شہدا کو بھی شفاعت کی اجازت دی جائے گی، جو ان کے لائے جانے کا ایک بڑا مقصد ہے۔