عذابِ قبر حق ہے، جس کا ثبوت قرآن و سنت سے ملتا ہے۔ اس سے بچنے کی اہم تیاریوں میں پیشاب کی ناپاکی سے بچنا، چغلی سے پرہیز، اور باقاعدگی سے فرض نمازوں کی ادائیگی شامل ہیں
1
قرآن مجید کی روشنی میں — آل فرعون کا عذاب — سورۃ المومن (غافر) کی آیت نمبر 46 میں ارشاد ہے کہ صبح و شام آلِ فرعون کو آگ کے سامنے لایا جاتا ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو حکم ہوگا کہ فرعون والوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔ مفسرین کے مطابق یہ برزخ (قبر) کا عذاب ہے۔
2
قرآن مجید کی روشنی میں — ظالموں کی موت کا وقت — سورۃ الانعام کی آیت 93 میں ہے کہ "اگر آپ دیکھیں جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوتے ہیں (کہ نکالو اپنی جانیں)"۔ اس موقع پر انہیں ذلت کے عذاب کی بشارت دی جاتی ہے۔
3
احادیث مبارکہ کی روشنی میں — دو قبروں کا واقعہ — صحیح بخاری اور مسلم میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا گزر دو قبروں پر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی بات پر نہیں ہو رہا۔ ایک شخص پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا۔
4
احادیث مبارکہ کی روشنی میں — سوالاتِ نکیرین — سنن ابو داؤد اور مسند احمد میں طویل حدیث ہے کہ میت سے قبر میں منکر نکیر فرشتے سوال کرتے ہیں، اور مومن کو ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے جبکہ کافر و منافق کو ہتھوڑوں سے عذاب دیا جاتا ہے۔
5
احادیث مبارکہ کی روشنی میں — پناہ کی دعا — آپ ﷺ ہر نماز (التحیات کے بعد) میں یہ دعا مانگنے کا حکم دیتے تھے: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" (اے اللہ! میں عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں)۔
6
عذابِ قبر سے بچنے اور تیاری کے اسباب — پہلا سبب — پیشاب کے چھینٹوں اور ناپاکی سے مکمل طہارت و احتیاط۔
7
عذابِ قبر سے بچنے اور تیاری کے اسباب — دوسرا سبب — غیبت، چغلی اور جھوٹ جیسی بدبختیاں چھوڑنا۔
8
عذابِ قبر سے بچنے اور تیاری کے اسباب — تیسرا سبب — فرائض کی پابندی، خصوصاً باجماعت نمازوں کا التزام اور تلاوتِ قرآن سے تعلق مضبوط کرنا۔
9
عذابِ قبر سے بچنے اور تیاری کے اسباب — چوتھا سبب — سونے سے پہلے سورۃ الملك کی تلاوت کرنا، جو قبر کے عذاب سے بچانے کا ذریعہ بتائی گئی ہے۔