دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 24: سبق 24: سورۃ المؤمن — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 19 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُومُ ٱلۡأَشۡهَٰدُ (سورۃ المؤمن ۔ آیت 51)

آیت میں اللہ نے اپنی مدد کے حوالے سے کیا فرمایا ؟

ترجمہ

بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان لانے والوں کی دنیوی زندگی میں (بھی) مدد کرتے ہیں اور اس دن (بھی کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے

اللہ کی مدد کے حوالے سے ارشاد کی وضاحت

1 دنیوی زندگی میں مدد — اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ وہ اپنے انبیاء اور سچے مومنین کو دنیا میں بھی غلبہ، نصرت اور اچھے انجام سے نوازتا ہے۔ دنیا میں مدد کی صورت یہ ہوتی ہے کہ حق کا بول بولا ہوتا ہے، ظالموں کو شکست ملتی ہے یا پھر مومنوں کے دلوں کو سکون اور استقامت دی جاتی ہے۔
2 آخرت میں مدد — قیامت کے روز جب تمام گواہ (فرشتے، انبیاء یا اعضاء) گواہی کے لیے کھڑے ہوں گے، اس دن بھی اللہ تعالیٰ مومنین اور رسولوں کی حمایت فرمائے گا اور انہیں سرخرو کرے گا۔
3 وعدے کی سچائی — اس آیت میں نصرت (مدد) کا یہ وعدہ مطلق اور حتمی ہے کہ اللہ کے راستے پر چلنے والوں اور ایمان پرثابت قدم رہنے والوں کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا
2 مختصر جوابات

وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (سورۃ المؤمن ۔ آیت 60)

آیت میں دعا سے متعلق کیا تعلیم دی گئی ہے؟

ترجمہ

اور تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت (دعا) سے تکبر کرتے ہیں، وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے

دعا سے متعلق اہم تعلیمات

1 اللہ کا حکم اور براہ راست تعلق — بندے کو براہ راست صرف اللہ تعالیٰ ہی سے اپنی حاجات مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔
2 قبولیت کی یقین دہانی — اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ جو بھی پکارے گا، وہ اس کی دعا ضرور قبول فرمائے گا۔
3 دعا کو عبادت قرار دینا — آیت میں دعا کو "عبادت" کہا گیا ہے؛ کیونکہ دعا نہ کرنا یا اللہ سے نہ مانگنا دراصل تکبر اور سرکشی ہے۔
4 تکبر کا انجام — جو لوگ غرور کی وجہ سے اللہ کے سامنے ہاتھ نہیں پھیللاتے اور دعا نہیں کرتے، وہ جہنم میں ذلیل ہوں گے۔
3 مختصر جوابات

ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ لِتَسۡكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡكُرُونَ (سورۃ المؤمن ۔ آیت 61)

آیت کی رو سے اللہ نے رات اور دن کو کس مقصد کے لیے پیدا فرمایا؟

ترجمہ

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام پاؤ اور دن کو روشن (دیکھنے کے لائق) بنایا۔ بے شک اللہ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے

رات اور دن کی تخلیق کے مقاصد

1 رات کا مقصد (سکون و آرام) — رات کا اندھیرا اور سکون انسانی اعصاب کی تھکن مٹانے، نیند پوری کرنے اور جسمانی و ذہنی توانائی بحال کرنے کے لیے ہے۔
2 دن کا مقصد (روشنی اور فعالیت) — دن کو روشن اور منور بنایا گیا تاکہ انسان اپنی روزی، معاش اور دنیاوی امور کی انجام دہی کے لیے بلا رکاوٹ کوشش اور سفر کر سکے۔
3 تخلیق میں الہی حکمت — رات اور دن کا یہ باقاعدہ نظام اللہ کی رحمت اور فضل کی بڑی نشانی ہے، جس پر انسان کو شکر گزار ہونا چاہیے، مگر اکثر لوگ اس کی قدر نہیں کرتے۔
4 مختصر جوابات

ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ قَرَارٗا وَٱلسَّمَآءَ بِنَآءٗ وَصَوَّرَكُمۡ فَأَحۡسَنَ صُوَرَكُمۡ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡۖ فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ المؤمن ۔ آیت 64)

آیت میں اللہ کی کون سی نعمتوں کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ بنایا اور آسمان کو چھت، اور تمہاری صورتیں بنائیں تو بہت اچھی صورتیں بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے، پس بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے

ذکر کردہ الٰہی نعمتیں

1 زمین کا قرار (رہنے کی جگہ) — زمین کو ایسا پرسکون اور مستحکم بنایا جس پر تم چلتے پھرتے اور بستے ہو۔
2 آسمان کا بناؤ (چھت) — آسمان کو ایک مضبوط چھت کی طرح بلند کیا۔
3 حسنِ صورت — انسان کو بہترین اور متوازن جسمانی ساخت اور شکل عطا کی۔
4 طیب رزق — زندگی گزارنے کے لیے حلال اور پاکیزہ نعمتیں اور کھانے کی چیزیں عطا
5 مختصر جوابات

هُوَ ٱلَّذِي يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ فَإِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ (سورۃ المؤمن ۔ آیت 68)

آیت میں اللہ کی کس شان کا ذکر ہے؟

ترجمہ

وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے، پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے صرف یہ کہتا ہے کہ 'ہو جا' تو وہ ہو جاتا ہے

اللہ کی شان کا ذکر

1 زندگی اور موت کا اختیار — اللہ تعالیٰ ہی اکیلا ہستی ہے جو بے جان کو زندگی دیتا ہے اور جاندار کو موت کے گھاٹ اتارتا ہے؛ اس میں کسی دوسرے کا کوئی دخل نہیں ہے۔
2 حکمِ نافذ اور قدرتِ کاملہ — جب اللہ کسی چیز یا کام کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے کسی تاخیر، وسائل یا مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔
3 شانِ "کن فیکون" — وہ صرف "ہو جا" کہتا ہے اور وہ چیز فوری طور پر وجود میں آ جاتی ہے، جو اس کی بے پایاں اور لامتناہی طاقت کا مظہر ہے

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ بِٱلۡعَشِيِّ وَٱلۡإِبۡكَٰرِ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ سُلۡطَٰنٍ أَتَىٰهُمۡ إِن فِي صُدُورِهِمۡ إِلَّا كِبۡرٞ مَّا هُم بِبَٰلِغِيهِۚ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ (سورۃ المؤمن ۔ آیات 55-56)

ترجمہ و مفہوم لکھیں

ترجمہ

پس آپ صبر کیجئے، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہ کی معافی مانگتے رہیے اور صبح و شام اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کیا کیجیے۔: بے شک جو لوگ اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں جو ان کے پاس آئی ہو، ان کے دلوں میں بڑائی (غرور) کے سوا کچھ نہیں ہے وہ اس (مراد) کو پہنچنے والے نہیں۔ پس آپ اللہ کی پناہ مانگتے رہیے، بے شک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے

تفسیر

1 صبر کی تلقین — اللہ پاک اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ کافروں کی مخالفت اور تکذیب پر آپ صبر کریں۔ اللہ کی مدد اور فتح کا وعدہ بالکل برحق اور سچا ہے۔
2 استغفار اور تسبیح — آپ کو حکم ہوا کہ استغفار کریں (جو یا تو امت کی تعلیم کے لیے ہے یا درجات کی بلندی کے لیے) اور دن کے ابتدائی و آخری حصوں (صبح و شام) میں اللہ کی حمد و تسبیح میں مصروف رہیں۔
3 باطل پرستوں کا غرور — جو لوگ حق کے مقابلے میں بلاوجہ جھگڑا کرتے ہیں، ان کے سینوں میں حق کو دبانے کا نہیں بلکہ خود بڑا بننے کا غرور ہوتا ہے، اور وہ اپنے اس مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
4 اللہ کی پناہ — ایسے حاسدوں اور جھگڑالو لوگوں کے شر سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو اپنی پناہ میں رہنے کا حکم دیا کیونکہ وہ ہر ایک کی بات سنتا اور سب کچھ دیکھتا ہے
7 تفصیلی جوابات

۞قُلۡ إِنِّي نُهِيتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَمَّا جَآءَنِيَ ٱلۡبَيِّنَٰتُ مِن رَّبِّي وَأُمِرۡتُ أَنۡ أُسۡلِمَ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ المؤمن ۔ آیت 66)

آیت میں نبی ﷺ کو کس چیز سے منع فرمایا گیا ہے؟

ترجمہ

تم فرماؤ، مجھے منع کیا گیا ہے کہ ان کی عبادت کروں جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے روشن دلیلیں آئی ہیں اور مجھے حکم ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں

اہم احکامات و نکات

1 عبادت سے ممانعت — اللہ کے سوا کسی بھی غیر اللہ، بت یا پکارے جانے والے کی عبادت کرنے سے سختی سے روکا گیا۔
2 واضح دلائل — نبی ﷺ کو یہ حکم ربانی اس وقت ملا جبکہ آپ کے پاس اللہ کی طرف سے روشن نشانیاں اور دلائل آ چکے تھے۔
3 توحید و اطاعت کا حکم — غیر اللہ کی پرستش چھوڑ کر صرف تمام جہانوں کے پالنے والے (اللہ تعالیٰ) کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے کا حکم دیا گیا
8 تفصیلی جوابات

ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ لِتَسۡكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡكُرُونَ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ (سورۃ المؤمن ۔ آیات 61-62)

ترجمہ و مفہوم لکھیں

ترجمہ

ترجمہ: اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام پاؤ اور دن کو دیکھنے کے لائق (روشن) بنایا۔ بے شک اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے جو ہر چیز کا خالق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں الٹے پھرتے (بھٹکتے) ہو

مختصر تفسیر

1 نظامِ لیل و نہار (آیت 61) — اللہ تعالیٰ اپنے احسانات گنواتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے رات کی تاریکی کو اس لیے بنایا تاکہ دن بھر کی تھکن کے بعد انسان اور تمام جاندار سکون اور آرام حاصل کریں۔ اور دن کو روشن بنایا تاکہ لوگ اپنی روزی کی تلاش اور دیگر دنیاوی کام کاج بخوبی سر انجام دے سکیں۔ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے، مگر افسوس کہ انسان اس انمول نعمت کی قدر نہیں کرتا اور عملی طور پر ناشکری کا مظاہرہ کرتا ہے۔
2 توحید اور خالقِ کائنات (آیت 62) — یہ نظامِ قدرت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کائنات کا پروردگار وہی اکیلا اللہ ہے جو ہر شے کا خالق ہے۔ جب خالق بھی وہی ہے اور رزق و راحت کے سامان دینے والا بھی وہی ہے، تو پھر اس کے سوا کسی اور کو پکارنا یا اس کی عبادت چھوڑ کر دیس بدیس بھٹکنا صریح حماقت اور گمراہی ہے
9 تفصیلی جوابات

ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَنۡعَٰمَ لِتَرۡكَبُواْ مِنۡهَا وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ (سورۃ المؤمن ۔ آیت 79)

آیت میں مویشیوں کے کیا فوائد بیان ہوئے ہیں ؟

ترجمہ

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے تاکہ تم ان میں سے بعض پر سواری کرو اور بعض کو تم کھاتے ہو

مویشیوں کے فوائد

1 سواری کا حصول — بعض جانوروں (جیسے اونٹ اور گھوڑے وغیرہ) کو انسان کی سواری اور سفر کے لیے تابع بنایا گیا ہے۔
2 خوراک اور گوشت — بعض مویشیوں کا گوشت انسان کے لیے بہترین اور لذیذ غذا کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
3 باربرداری اور حاجات — ان جانوروں کے ذریعے انسان اپنے سامان کا بوجھ اٹھاتا ہے اور دور دراز کے سفر طے کر کے اپنے دل کی مراد اور ضرورت کی جگہ تک پہنچتا ہے۔
4 دیگر منافع — اگرچہ اس مختصراً آیت میں بنیادی طور پر سواری اور کھانے کا ذکر ہے، لیکن دیگر مقامات پر ان کے بالوں، اون، اور دودھ سے حاصل ہونے والے فوائد کا بھی تذکرہ ملتا ہے
10 تفصیلی جوابات

ٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ فَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۚ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ ٱلَّذِي نَعِدُهُمۡ أَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيۡنَا يُرۡجَعُونَ (سورۃ المؤمن ۔ آیات 76-77)

ترجمہ و مفہوم لکھیں

ترجمہ

ن سے کہا جائے گا کہ) جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، پس تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ کیا ہی برا ہے۔ تو آپ صبر کریں، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ سو اگر ہم آپ کو اس عذاب کا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم انہیں وعدہ دے رہے ہیں، یا ہم آپ کو وفات دے دیں (بہرحال) ان سب کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

مختصر تفسیر (آیت 76 اور 77)

1 آیت 76 کی تفسیر — اس آیت میں دوزخیوں اور کافروں کے عبرت ناک انجام کا بیان ہے۔ جب کافروں کو ذلت کے ساتھ جہنم میں دھکیلا جائے گا تو فرشتگانِ عذاب انہیں طعنہ اور حکم دیں گے کہ اب اس کے دروازوں کے اندر ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ۔ آیت کے آخر میں «مثوى المتكبرين» کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان کا غرور اور تکبر ہی اسے اللہ کے احکام اور حق کی مخالفت پر آمادہ کرتا ہے، اور اسی تکبر کی وجہ سے ان کا یہ ٹھکانہ سب سے بدترین ٹھہرتا ہے۔
2 آیت 77 کی تفسیر — پچھلی آیات میں کافروں کی ہٹ دھرمی اور سزاؤں کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ ان کی تکذیب پر دلگرفتہ نہ ہوں اور استقامت کے ساتھ صبر کا دامن تھامے رکھیں۔ اللہ کی مدد اور کافروں کی گرفت کا وعدہ اٹل اور سچا ہے۔ خواہ آپ کی حیاتِ مبارکہ میں اللہ انہیں دنیا ہی میں عذابِ شکست سے دوچار کر دے (جیسا کہ غزوہ بدر اور فتح مکہ کے موقع پر ہوا) یا پھر دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد ان کا معاملہ ہمارے پاس آئے، انجام کار سب نے ہمارے ہی حضور پیش ہونا ہے
11 تفصیلی جوابات

أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُوٓاْ أَكۡثَرَ مِنۡهُمۡ وَأَشَدَّ قُوَّةٗ وَءَاثَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ (سورۃ المؤمن ۔ آیت 82)

آیت میں منکرین کو سابقہ اقوام کے حوالے سے کیسے متنبہ کیا گیا ہے؟

ترجمہ

کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا تو دیکھتے کہ ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا، وہ ان سے تعداد میں زیادہ اور قوت اور زمین میں نشانیوں کے اعتبار سے زیادہ قوی تھے تو ان کے کیا کام آیا جو انہوں نے کمایا

سابقہ اقوام کے حوالے سے تنبیہ کے اہم پہلو

1 زمین میں سیر و تفکر کی دعوت — منکرین کو کہا گیا کہ وہ اپنے اردگرد کی بستیاں اور پچھلی قوموں کے کھنڈرات دیکھیں۔
2 جسمانی طاقت اور کثرت — سابقہ قومیں موجودہ منکرین سے تعداد میں بھی زیادہ تھیں اور ان کی جسمانی طاقت بھی بہت زیادہ تھی۔
3 عظیم الشان آثار — ان قوموں نے زمین پر بڑی بڑی عمارتیں اور نشانیاں (تھاساراً فی الارض) چھوڑیں جو ان کی کاریگری اور طاقت کا ثبوت تھیں۔
4 مال و دولت کی بے ثباتی — جب اللہ کا عذاب آیا تو ان کی کمائی ہوئی دولت، طاقت اور فریب کاریاں ان کے کچھ کام نہ آئیں اور وہ تباہ ہو گئے۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

زمانہ جدید اور زمانہ قدیم کی سواریوں کی فہرست

زمانے قدیم اور جدید کی سواریوں کی فہرست میں قدیم دور کی سواریوں میں گھوڑا اور بیل گاڑی شامل ہیں، جبکہ جدید دور کی سواریوں میں کار اور ہوائی جہاز شامل ہیں

قدیم زمانے کی سواریاں اور جدید زمانے کی سواریاں

1 قدیم زمانے کی سواریاں — گھوڑا (مسافروں اور سامان کی نقل و حمل کا اہم ذریعہ)
2 قدیم زمانے کی سواریاں — بیل گاڑی (بھاری سامان اور فصلیں ڈھونے کے لیے)
3 قدیم زمانے کی سواریاں — اونٹ (صحرا کا جہاز، جو طویل سفر کے لیے استعمال ہوتا تھا)
4 قدیم زمانے کی سواریاں — ہاتھی (شاہی سواری اور جنگوں میں استعمال ہونے والا جانور)
5 قدیم زمانے کی سواریاں — کشتی (پانی کے راستے سفر اور تجارت کے لیے)
6 جدید زمانے کی سواریاں — کار (شہروں اور سڑکوں پر ذاتی سفر کا مقبول ترین ذریعہ)
7 جدید زمانے کی سواریاں — ہوائی جہاز (بین الاقوامی اور طویل ترین فضائی سفر کے لیے)
8 جدید زمانے کی سواریاں — ٹرین (بڑے پیمانے پر مسافروں اور سامان کی زمینی ترسیل)
9 جدید زمانے کی سواریاں — موٹر سائیکل (تیز رفتار اور کم خرچ انفرادی سواری)
10 جدید زمانے کی سواریاں — میٹرو بس / بس (شہروں کے اندر عوامی نقل و حمل کا ذریعہ)
13 سرگرمیاں

زندگی کے مختلف ادوار" بچپن ، لڑکپن ، جوانی ،بڑھاپا" کو کسی مثال کے ذریعہ بیان کریں اور ہر دور کی ضروریات ، خواہشات اور دلچسپی لکھیں

زندگی کے مختلف ادوار (بچپن، لڑکپن، جوانی،ڑھاپا) کی مثال ایک درخت کی طرح ہے جو بیج سے پھل اور پھر پت جھڑ تک کا سفر طے کرتا ہے

1 بچپن (بیج اور پودا) — ضروریات — ماں کی گود، دودھ اور کھانا، پیار اور تحفظ۔
2 بچپن (بیج اور پودا) — خواہشات — کھلونا ملنا، ضد پوری ہونا۔
3 بچپن (بیج اور پودا) — دلچسپی — کھیلنا، کہانیاں سننا۔
4 لڑکپن (شاخیں اور کونپلیں) — ضروریات — رہنمائی، تعلیم، اچھے دوست۔
5 لڑکپن (شاخیں اور کونپلیں) — خواہشات — آزادی، اپنی بات منوانا۔
6 لڑکپن (شاخیں اور کونپلیں) — دلچسپی — کھیل کود، نئے دوست بنانا۔
7 جوانی (پھول اور پھل) — ضروریات — نوکری یا کاروبار، خود مختاری، ساتھی۔
8 جوانی (پھول اور پھل) — خواہشات — بڑا نام کمانا، کامیابی۔
9 جوانی (پھول اور پھل) — دلچسپی — ترقی کرنا، سفر، نئے ہنر سیکھنا۔
10 بڑھاپا (پت جھڑ اور سکون) — ضروریات — صحت کی دیکھ بھال، خاندان کا ساتھ، محبت۔
11 بڑھاپا (پت جھڑ اور سکون) — خواہشات — سکون، اچھے دن یاد کرنا۔
12 بڑھاپا (پت جھڑ اور سکون) — دلچسپی — عبادت، بچوں کے ساتھ وقت گزارنا۔
14 سرگرمیاں

عذاب قبر اور اس کی تیاری قرآن و سنت

عذابِ قبر حق ہے، جس کا ثبوت قرآن و سنت سے ملتا ہے۔ اس سے بچنے کی اہم تیاریوں میں پیشاب کی ناپاکی سے بچنا، چغلی سے پرہیز، اور باقاعدگی سے فرض نمازوں کی ادائیگی شامل ہیں

1 قرآن مجید کی روشنی میں — آل فرعون کا عذاب — سورۃ المومن (غافر) کی آیت نمبر 46 میں ارشاد ہے کہ صبح و شام آلِ فرعون کو آگ کے سامنے لایا جاتا ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو حکم ہوگا کہ فرعون والوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔ مفسرین کے مطابق یہ برزخ (قبر) کا عذاب ہے۔
2 قرآن مجید کی روشنی میں — ظالموں کی موت کا وقت — سورۃ الانعام کی آیت 93 میں ہے کہ "اگر آپ دیکھیں جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوتے ہیں (کہ نکالو اپنی جانیں)"۔ اس موقع پر انہیں ذلت کے عذاب کی بشارت دی جاتی ہے۔
3 احادیث مبارکہ کی روشنی میں — دو قبروں کا واقعہ — صحیح بخاری اور مسلم میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا گزر دو قبروں پر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی بات پر نہیں ہو رہا۔ ایک شخص پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا۔
4 احادیث مبارکہ کی روشنی میں — سوالاتِ نکیرین — سنن ابو داؤد اور مسند احمد میں طویل حدیث ہے کہ میت سے قبر میں منکر نکیر فرشتے سوال کرتے ہیں، اور مومن کو ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے جبکہ کافر و منافق کو ہتھوڑوں سے عذاب دیا جاتا ہے۔
5 احادیث مبارکہ کی روشنی میں — پناہ کی دعا — آپ ﷺ ہر نماز (التحیات کے بعد) میں یہ دعا مانگنے کا حکم دیتے تھے: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" (اے اللہ! میں عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں)۔
6 عذابِ قبر سے بچنے اور تیاری کے اسباب — پہلا سبب — پیشاب کے چھینٹوں اور ناپاکی سے مکمل طہارت و احتیاط۔
7 عذابِ قبر سے بچنے اور تیاری کے اسباب — دوسرا سبب — غیبت، چغلی اور جھوٹ جیسی بدبختیاں چھوڑنا۔
8 عذابِ قبر سے بچنے اور تیاری کے اسباب — تیسرا سبب — فرائض کی پابندی، خصوصاً باجماعت نمازوں کا التزام اور تلاوتِ قرآن سے تعلق مضبوط کرنا۔
9 عذابِ قبر سے بچنے اور تیاری کے اسباب — چوتھا سبب — سونے سے پہلے سورۃ الملك کی تلاوت کرنا، جو قبر کے عذاب سے بچانے کا ذریعہ بتائی گئی ہے۔

شان نزول

15 شان نزول

مَا يُجَٰدِلُ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَا يَغۡرُرۡكَ تَقَلُّبُهُمۡ فِي ٱلۡبِلَٰدِ (سورۃ المؤمن ۔ آیت 4)

کفار کی تجارتی خوشحالی کا پس منظر

ترجمہ

اللہ کی آیات میں جھگڑا وہی کرتے ہیں جو کافر ہیں، پس شہروں میں ان کا چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے

1 شانِ نزول — مکہ کے کافروں کی مادی خوشحالی، شام و یمن کے کامیاب تجارتی سفر اور مسلمانوں کی غربت کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کے دل میں خیال آتا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے نافرمان ہونے کے باوجود اتنے امیر کیوں ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان کی عارضی مہلت دیکھ کر دھوکے میں نہ آئیں، ان کا انجام برا ہوگا۔
16 شان نزول

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ سُلۡطَٰنٍ أَتَىٰهُمۡ إِن فِي صُدُورِهِمۡ إِلَّا كِبۡرٞ مَّا هُم بِبَٰلِغِيهِۚ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ (سورۃ المؤمن ۔ آیت 56)

یہود کی سرکشی اور دجال کا فتنہ

ترجمہ

جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر کسی ایسی دلیل کے جھگڑتے ہیں جو ان کے پاس آئی ہو، ان کے دلوں میں بجز تکبر کے اور کچھ نہیں، وہ اس (بڑائی) تک پہنچنے والے نہیں ہیں...

1 شانِ نزول — امام واحدی نے حضرت قتادہ اور ابو العالیہ کی روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت یہود مدینہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تکبر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آخری زمانے میں "دجال" آئے گا اور ہم اس کا ساتھ دے کر دوبارہ دنیا پر حکومت قائم کریں گے اور مسلمان مغلوب ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس تکبر اور باطل خواہش کا رد فرماتے ہوئے یہ آیت نازل کی کہ یہ جس بڑائی کے خواب دیکھ رہے ہیں، وہاں تک کبھی نہیں پہنچ پائیں گے۔
17 شان نزول

وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (سورۃ المؤمن ۔ آیت 60)

دعا کی فضیلت کا واقعہ

ترجمہ

اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا...

1 شانِ نزول — روایات میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو عبادت اور اخلاص کی دعوت دی، تو کچھ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم اللہ سے کس طرح دعا مانگیں، کون سا وقت بہتر ہے، یا ہم اللہ کو کہاں پکاریں؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر واضح کیا کہ بندہ جب بھی اور جہاں بھی اخلاص سے پکارے گا، اللہ اس کی دعا سنے گا۔
18 شان نزول

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلٗا مِّن قَبۡلِكَ مِنۡهُم مَّن قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّن لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَيۡكَۗ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأۡتِيَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ فَإِذَا جَآءَ أَمۡرُ ٱللَّهِ قُضِيَ بِٱلۡحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ ٱلۡمُبۡطِلُونَ (سورۃ المؤمن ۔ آیت 78)

معجزات کا مطالبہ کرنے والے

ترجمہ

اور کسی رسول کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی معجزہ یا نشانی لے آئے

1 شانِ نزول — مشرکینِ مکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار اپنی مرضی کے عجیب و غریب معجزات مانگتے تھے (جیسے مکہ کے پہاڑوں کو سونے کا بنا دینا یا زمین سے چشمے جاری کرنا)۔ وہ کہتے تھے کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو ہماری فرمائش پوری کریں۔ اس پر یہ آیت اتری کہ معجزات دکھانا کسی نبی کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، بلکہ یہ خالصتاً اللہ کی مرضی اور اذن پر موقوف ہے۔
19 شان نزول

تاریخی قصص (بغیر کسی مکی واقعے کے نزول)

جواب سورت کے ایک بڑے حصے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام، فرعون، ہامان، قارون اور "مؤمنِ آلِ فرعون" کا تفصیلی تذکرہ ہے (آیات 23 تا 46)۔ ان آیات کا نزول کسی نئے مکی واقعے کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ مکہ کے مسلمانوں کو صبر کی تلقین کرنے اور کافروں کو یہ بتانے کے لیے ہوا کہ فرعون جیسا طاقتور بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکا تھا。

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.