دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 21: سبق 21: سورۃ الزمر (آیات 1 تا 41) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 13 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ ۚ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ

آیت میں مشرکین کے کس عقیدے کا ذکر کیا گیا ہے؟

ترجمہ

آگاه رہو، خالص دین اللہ ہی کے لیے ہے۔ اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا اوروں کو دوست (کارساز) بنا رکھا ہے، (وہ کہتے ہیں کہ) ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں۔ بیشک اللہ ان کے درمیان اس بات کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور ناشکرا ہو

آیت میں مذکور مشرکین کا عقیدہ — تقرب الی اللہ کا نظریہ اور خالص بندگی کی نفی

1 آیت میں مذکور مشرکین کا عقیدہ — تقرب الی اللہ کا نظریہ — مشرکین بتوں یا خدا کے علاوہ دیگر ہستیوں کو خدا کا درجہ نہیں دیتے تھے۔
2 آیت میں مذکور مشرکین کا عقیدہ — تقرب الی اللہ کا نظریہ — وہ یہ مانتے تھے کہ پوجا کی جانے والی یہ چیزیں خود خدا نہیں ہیں۔
3 آیت میں مذکور مشرکین کا عقیدہ — تقرب الی اللہ کا نظریہ — ان کا عقیدہ تھا کہ یہ معبود اللہ کے حضور ہمارے سفارشی ہیں اور ہمیں اللہ کا قرب دلاتے ہیں۔
4 خالص بندگی کی نفی — وہ عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو واسطہ یا ذریعہ بناتے تھے۔
5 خالص بندگی کی نفی — قرآن نے اس عمل کو جھوٹا اور ناشکراپن قرار دے کر مسترد کر دیا کہ عبادت صرف اور صرف اللہ کی ذات کے لیے ہونی چاہیے۔
2 مختصر جوابات

قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُ دِينِي

آیت میں عبادت کے حوالے سے آپﷺ کا کیا طرز عمل بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

کہہ دیجئے! کہ میں تو خالص کرکے صرف اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں، اس حال میں کہ میرا دین اسی کے لیے ہے

عبادت کے حوالے سے آپﷺ کا طرز عمل

1 توحیدِ خالص — آپ ﷺصرف ایک اللہ کی بندگی کرتے تھے۔
2 اخلاصِ نیت — عبادت میں کسی قسم کے دکھاوے یا شرک کی آمیزش نہ تھی۔
3 عملی اعلان — بغیر کسی لگی لپٹی کے کھل کر توحید کا پرچار کرنے والے اور غیر اللہ کی عبادت سے بیزاری کا اظہار فرمانے والے تھے۔
3 مختصر جوابات

وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوٓا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فَبَشِّرْ عِبَادِ

آیت میں کن لوگوں کے لیے خوشخبری ہے ؟

ترجمہ

ور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وہ خوشخبری کے مستحق ہیں، تو میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجیے

خوشخبری کے مستحق لوگوں کی صفات

1 طاغوت سے اجتناب — جو لوگ شیطان، بتوں اور ہر اس سرکش یا باطل معبود کی پرستش یا اطاعت سے دور رہے جو اللہ کے مقابلے میں اپنی بندگی کرواتا ہے۔
2 اللہ کی طرف رجوع (انابت) — جنہوں نے اپنے تمام معاملات میں صرف اللہ کی طرف دھیان رکھا، توبہ کی اور اسی کے احکام پر عمل کیا
4 مختصر جوابات

وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ

آیت میں پرہیز گار کسے کہا گیا ہے؟

ترجمہ

اور جو شخص سچ لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی، وہی لوگ پرہیزگار ہیں

پرہیزگار کون ہیں؟

1 سچ لانے والا — اس سے مراد بالاتفاق رسول کریم ﷺ (اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام) ہیں جو اللہ کی طرف سے حق اور توحید کا سچا پیغام لے کر آئے۔
2 تصدیق کرنے والا — اس سے مراد تمام مسلمان اور مومنین ہیں جنہوں نے اس سچے پیغام کو دل سے مانا اور اس کی تصدیق کی (بعض مفسرین کے نزدیک اس کی پہلی اور نمایاں مثال حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں)۔
3 حاصل مفہوم — جو ذات حق کی داعی بنے یا حق کو لے کر آئے اور جو لوگ اس حق کی سچائی کو تسلیم کر کے اس پر ایمان لے آئیں، قرآن کی رو سے وہی لوگ اصل متقی اور پرہیزگار ہیں
5 مختصر جوابات

قُلْ حَسْبِیَ اللَّهُ عَلَیہِ یَتَوَکَّلُ المُتَوَکِّلُونَ

آیت میں اہل ایمان کا کیا طرز عمل بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

آپ کہہ دیجیے کہ مجھے اللہ ہی کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں

1 اہل ایمان کا طرزِ عمل (اہم نکات) — غیر اللہ سے بے نیازی — مومن جانتا ہے کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ ہے۔
2 اہل ایمان کا طرزِ عمل (اہم نکات) — غیر اللہ سے بے نیازی — وہ مشکلات اور مصائب میں مخلوق کے بجائے صرف خالق کی طرف رجوع کرتا ہے۔
3 حقیقی توکل (بھروسہ) — ظاہری اسباب اختیار کرنے کے بعد دل کا سکون صرف اللہ کی ذات سے وابستہ ہوتا ہے۔
4 حقیقی توکل (بھروسہ) — وہ اپنے تمام معاملات کا فیصلہ اور انجام اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔
5 سچے توکل کی علامت — تمام تر دباؤ، مخالفتوں اور سختیوں کے باوجود اہل ایمان کے قدم نہیں ڈگمگاتے۔
6 سچے توکل کی علامت — ان کا پختہ یقین ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندے کے لیے اکیلا ہی کافی ہے

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا لَاصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ۔ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ ٱلْغَفَّـٰرُ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اگر اللہ کا ارادہ ہوتا کہ وہ کسی کو بیٹا بناتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا۔ وہ پاک ہے، وہی اللہ ایک ہے، سب پر غالب ہے۔ اسی نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر (اور حق) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے، ہر ایک ایک مقررہ وقت تک چل رہا ہے۔ آگاہ رہو! وہی زبردست (غالب) اور بڑا بخشنے والا ہے

مفہوم

جواب اس آیت میں مشرکین کے اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے جو وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اولاد کی محتاجی کمزور مخلوق کو ہوتی ہے، خالقِ کائنات کو نہیں۔ اگر اسے اولاد بنانا ہی مقصود ہوتا تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا خود منتخب کر لیتا، لیکن وہ ان تمام نقائص اور کمزوریوں سے پاک (منزہ) ہے۔ وہ اکیلا معبود ہے اور ہر شے پر غلبہ اور اقتدار رکھتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا مظہر بیان کیا گیا ہے کہ زمین و آسمان کا یہ نظام کسی کھیل یا اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک برحق حکمت کے تحت ہے۔ رات اور دن کا ایک دوسرے پر لپیٹے جانا (یعنی ایک کا آنا اور دوسرے کا جانا) زمین کی گولائی اور اس کے گھومنے کی طرف بھی اشارہ ہے۔ سورج اور چاند سب ایک نظام اور وقت کے پابند ہیں۔ اس سب کے باوجود، وہ ایسا زبردست غالب ہے کہ کوئی اس کے حکم سے باہر نہیں، اور ساتھ ہی اپنے فرمانبردار بندوں کے لیے انتہائی بخشنے والا ہے
7 تفصیلی جوابات

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ۔ وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ۔ لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ ذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے پاس آئی تو اس نے اسے جھٹلا دیا۔ کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے؟۔ اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جن لوگوں نے اس کی تصدیق کی، وہی پرہیزگار (متقی)ہیں۔ انہیں اپنے رب کے پاس وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے۔ یہ نیکی کرنے والوں کا بدلہ ہے

مفہوم

1 آیت 32 کی تفسیر — اس آیت میں سخت ترین عتاب ان لوگوں پر ہے جو اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہیں (جیسے شرک کرنا یا حلال و حرام میں خود ساختہ قانون بنانا) اور جب ان کے پاس انبیاء یا قرآن کی صورت میں حق آتا ہے تو وہ اسے جھٹلا دیتے ہیں۔ ایسے منکرین کا حتمی اور مستقل ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے۔
2 آیت 33 کی تفسیر — یہاں "سچائی لے کر آنے والے" سے مراد عام طور پر رسول اللہ ﷺ یا تمام انبیاء کرام ہیں، اور "تصدیق کرنے والے" سے مراد وہ تمام مومنین ہیں جنہوں نے بلاجھجھک اس سچے دین کو قبول کیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر اور شرک سے بچ کر تقویٰ اختیار کیا
3 آیت 34 کی تفسیر — اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور محسنین کا انعام ذکر کیا ہے کہ جنت میں ان کی ہر تمنا اور خواہش پوری کی جائے گی، کیونکہ انہوں نے دنیا میں اللہ کی رضا کے مطابق نیک اور احسن عمل کیے
8 تفصیلی جوابات

لِيُكَفِّرَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا وَيَجْزِيَهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ۔ وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُضِلٍّ ۚ أَلَيْسَ اللَّهُ بِعَزِيزٍ ذِي انْتِقَامٍ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

تاکہ اللہ ان سے دور کر دے ان کے برے سے برے کام کو جو انہوں نے کیے اور انہیں ان کے اچھے کاموں کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟ اور یہ لوگ آپ کو ان معبودوں سے ڈراتے ہیں جو اللہ کے سوا ہیں۔ اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو اس کا کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور جسے اللہ ہدایت دے تو اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ زبردست اور بدلہ لینے والا نہیں ہے

مفہوم

1 آیت 35 کی تفسیر — اس آیت میں محسنین اور متقی لوگوں کا انعام بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی ان کی چھوٹی بڑی لغزشوں اور برے اعمال (جن میں توبہ کے بعد پچھلے گناہ بھی شامل ہیں) کو معاف فرما دیتا ہے۔ اور ان کی نیکیوں کا بدلہ اس طرح دیتا ہے کہ ان کے ہر اچھے عمل کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے بہترین جزا (جنت) عطا فرماتا ہے۔
2 آیت 36 کی تفسیر — اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ مشرکین مکہ آپ کو اپنے جھوٹے معبودوں (بتوں) کی مار یا نقصان کا ڈر دکھاتے تھے کہ ہمارے یہ بت تمہیں نقصان پہنچائیں گے۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ کیا تمام جہان کا خالق اور مالک اپنے خاص بندے اور رسول ﷺ کے لیے کافی نہیں ہے؟ جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اس کی حفاظت کے لیے اکیلا کافی ہے۔ جسے اللہ اپنے عدل کی وجہ سے گمراہ چھوڑ دے، اسے کوئی سیدھا راستہ نہیں دکھا سکتا
3 آیت 37 کی تفسیر — اس کا مفہوم یہ ہے کہ جسے اللہ اپنے فضل سے ہدایت دے دے، اسے کوئی طاقت گمراہ نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ زبردست قوت والا (عزیز) ہے اور نافرمانوں اور دشمنوں سے پورا بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے۔
9 تفصیلی جوابات

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَھدِی بِہٖ مَن یَّشَآءُ وَمَن یُّضلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِن ہَادٍ

آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی کیا صفات بیان فرمائی ہیں ؟

ترجمہ

اللہ نے سب سے اچھی کتاب اتاری ہے، ایسی کتاب کہ جس کی تمام آیات آپس میں ملتی جلتی ہیں (اور) بار بار دہرائی جانے والی ہیں۔ اس سے ان لوگوں کے بدن کے بال کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم پڑجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ جس کو چاہتا ہے اس کے ذریعے راہ دکھاتا ہے۔ اور جسے اللہ گمراہ کردے، تو اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں

کلامِ الٰہی کی صفات (آیت کی روشنی میں)

1 احسن الحدیث (بہترین کلام) — قرآن پاک لفظ، معنی، فصاحت، بلاغت اور حکمت کے اعتبار سے تمام کلاموں میں سب سے افضل اور اعلیٰ ہے۔
2 کتاباً متشابهاً (یکساں اور باہم متفق) — اس کتاب کا سارا کلام حسن و خوبی اور سچائی میں ایک جیسا ہے۔ اس کی کوئی آیت دوسری آیت کے خلاف نہیں ہے بلکہ سب باہم تصدیق کرتی ہیں۔
3 مثانِی (بار بار دہرایا جانے والا) — اس میں احکام، قصص، وعد وعید اور حقائق کو مختلف انداز میں بار بار دہرایا گیا ہے تاکہ بات اچھے سے سمجھ آجائے۔
4 تاثیرِ قلبی (خوف اور نرمی کا پیدا ہونا) — اس کلام کی خاص صفت یہ ہے کہ اس کی تلاوت سے ڈرنے والے دلوں پر جلالِ الٰہی کا خوف طاری ہوتا ہے اور پھر وہ رحمتِ خداوندی کے ذکر سے نرم پڑجاتے ہیں

سرگرمیاں

10 سرگرمیاں

سورۃ الزمر کے آغاز میں اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے جن اعمال کا ذکر ہوا ہے ان کی فہرست بنائیں

سورۃ الزمر کے آغاز (آیات 2 تا 10) میں اللہ کے عذاب سے بچنے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے درج ذیل بنیادی اعمال کا ذکر کیا گیا ہے:

1 دین میں اخلاص — اللہ کی عبادت اس طرح کرنا کہ بندگی اسی کے لیے خالص ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
2 نیک عمل اور تقویٰ — دنیا میں اچھے اور صالح اعمال انجام دینا اور اللہ سے ڈرتے رہنا۔
3 صبر — سختیوں اور آزمائشوں پر صبر کرنا، جس کا بدلہ بغیر کسی حساب کے دیا جاتا ہے۔
4 رات کی عبادت (تہجد) — رات کے اوقات میں سجدے اور قیام کی حالت میں عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا۔
5 آخرت کا خوف اور رحمت کی امید — قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرنا اور اپنے پروردگار کی رحمت کی اُمید رکھنا۔
6 شکر گزاری — اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنا، کیونکہ وہ بندوں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتا
11 سرگرمیاں

جھوٹ سے بچنے کی تدابیر کی فہرست

جھوٹ بولنے کی عادت زندگی، اخلاق اور آخرت کو تباہ کر دیتی ہے۔ اس بری عادت سے بچنے اور سچائی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے تفصیلی تدابیر درج ذیل ہیں:

1 1۔ روحانی اور دینی تدابیر — نتائج کا خوف — یہ یاد رکھیں کہ جھوٹ انسان کو گناہ اور بالاخر جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔
2 1۔ روحانی اور دینی تدابیر — خوفِ خدا کا احساس — ہر وقت یہ سوچیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ہر بات سن اور دیکھ رہا ہے۔
3 1۔ روحانی اور دینی تدابیر — سچے لوگوں کی صحبت — ایسے دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں جو ہمیشہ سچ بولتے ہوں اور امانت دار ہوں۔
4 1۔ روحانی اور دینی تدابیر — توبہ اور استغفار — جب بھی زبان سے جھوٹ نکلے، فوراً توبہ کریں اور اپنی اصلاح کی دعا کریں۔
5 2۔ نفسیاتی اور ذہنی تدابیر — سوچ کر بولنا — زبان کھولنے سے پہلے دو سیکنڈ رک کر سوچیں کہ جو آپ کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے یا نہیں۔
6 2۔ نفسیاتی اور ذہنی تدابیر — کم بولنے کی عادت — ضرورت سے زیادہ باتیں کرنے والے اکثر غیر ارادی طور پر جھوٹ کا سہارا لے لیتے ہیں۔
7 2۔ نفسیاتی اور ذہنی تدابیر — غلطی تسلیم کرنا — سزا یا شرمندگی کے ڈر سے جھوٹ نہ بولیں بلکہ اپنی غلطی کو بہادری سے تسلیم کریں۔
8 2۔ نفسیاتی اور ذہنی تدابیر — مبالغہ آرائی سے گریز — باتوں کو مرچ مصالحہ لگا کر یا بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی عادت کو ختم کریں۔
9 3۔ سماجی اور عملی تدابیر — واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کی تصدیق — کسی بھی افواہ یا سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے شیئر نہ کریں۔
10 3۔ سماجی اور عملی تدابیر — مذاق میں جھوٹ سے بچنا — محفلوں کو کُشتِ زعفران بنانے یا لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹے قصے نہ گھڑیں۔
11 3۔ سماجی اور عملی تدابیر — بچوں کے سامنے سچائی — اپنے بچوں کے سامنے ہمیشہ سچ بولیں تاکہ وہ آپ کو دیکھ کر سچ سیکھیں۔
12 سرگرمیاں

سورۃ الزمر میں دی گئی کھیتی کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے دنیوی زندگی اور اخروی زندگی کی حقیقت

سورۃ الزمر میں دنیا کی کھیتی کی مثال دی گئی ہے کہ پانی برسنے سے زمین سرسبز ہوتی ہے، پھر وہ فصل پک کر زرد ہو جاتی ہے اور آخرکار چورا چورا ہو جاتی ہے۔ یہ مثال دنیوی زندگی کے عارضی پن اور اخروی زندگی کی ابدی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے

دنیوی زندگی کی حقیقت اور اخروی زندگی کی حقیقت

1 دنیوی زندگی کی حقیقت — عارضی رونق — دنیا کی جوانی، مال اور طاقت اسی سرسبز فصل کی طرح عارضی ہے۔
2 دنیوی زندگی کی حقیقت — زوال اور فنا — جیسے ہری بھری کھیتی آخر میں پیلی پڑ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے، ویسے ہی دنیا بھی ختم ہونے والی ہے۔
3 دنیوی زندگی کی حقیقت — دھوکا — اس کی ظاہری چمک دمدھم ہو جاتی ہے اور انسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔
4 اخروی زندگی کی حقیقت — پائیدار انجام — آخرت وہ دائمی حقیقت ہے جو کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی۔
5 اخروی زندگی کی حقیقت — عمل کا بدلہ — دنیا میں بوئے گئے اچھے یا برے اعمال کا اصل پھل آخرت میں کٹنے اور پانے کو ملے گا۔
6 اخروی زندگی کی حقیقت — حقیقی کامیابی — عقل مند وہ ہے جو فانی دنیا کو دیکھ کر ہمیشہ رہنے والی آخرت کی تیاری کرے
13 سرگرمیاں

سورۃ الزمر میں ایک آقا اور بہت سارے آقا ؤں کے تصور سے شرک کی برائی کیسے بیان کی گئی؟

سورۃ الزمر (آیت 29) میں اللہ تعالیٰ نے ایک مؤثر تمثیل (مثال) کے ذریعے توحید کی خوبی اور شرک کی قباحت کو واضح کیا ہےایک غلام جس کے کئی آپس میں جھگڑنے والے آقا ہوں اور دوسرا غلام جو صرف ایک ہی آقا کے لیے وقف ہو۔ یہ دونوں کبھی برابر نہیں ہو سکتے

شرک کی برائی اور تمثیل کے پہلو

1 متعدد آقاؤں کا تنازع — کئی آقاؤں کا غلام پریشان رہتا ہے کیونکہ ہر آقا اپنے الگ احکام دیتا ہے اور وہ سب آپس میں اختلاف رکھتے ہیں۔
2 ذہنی اور جسمانی اذیت — غلام مخالفت اور کھینچا تانی کی وجہ سے تذبذب کا شکار اور مسلسل عذاب میں مبتلا رہتا ہے کہ کس کو راضی کرے۔
3 واحد آقا کا سکون — ایک ہی آقا کا غلام اطمینان اور یکسوی کی زندگی گزارتا ہے کیونکہ اسے صرف ایک کی مرضی پوری کرنی ہوتی ہے۔
4 نتیجہ — مشرک اس غلام کی مانند ہے جو متعدد خداؤں کے درمیان الجھا ہوا ہے، جبکہ موحد اس غلام کی طرح پرسکون ہے جو صرف ایک اللہ کا حکم مانتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.