وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
آیت میں حق و باطل کی کیا حقیقت بیان ہوئی ہے؟
اور فرماؤ کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا
حق و باطل کی حقیقت
دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
آیت میں حق و باطل کی کیا حقیقت بیان ہوئی ہے؟
اور فرماؤ کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا
حق و باطل کی حقیقت
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظَّالِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا
آیت میں قرآن کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟
ور ہم قرآن میں وہ چیز اتارتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کا نقصان ہی بڑھتا ہے
قرآن کی صفات کی وضاحت
وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
آیت میں روح کے متعلق کیا فرمایا گیا؟
اور وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا کچھ نہیں دیا گیا
سورہ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت نمبر 85 میں فرمایا گیا ہے کہ روح اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے امر سے ہے، اور انسانوں کو اس کائنات کے علم میں سے بہت ہی کم علم عطا کیا گیا ہے
روح کے متعلق اہم نکات
أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَالَهَا تَفْجِيرًا
آیت کی رو سے کفار نے ایمان لانے کے لیے کیا مطالبات کیے؟
یا آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو تو آپ اس کے اندر بہتی ہوئی نہریں جاری کر دیں
وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيُّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا
آیت میں اللہ کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں ؟
اور کہہ دیجیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی مددگار (یا حمایتی) کی ضرورت ہو، اور آپ اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتے رہیں
اللہ کی بیان کردہ صفات
وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا
ترجمہ اور مفہوم لکھیں
اور دعا کیا کرو کہ اے میرے رب! مجھے سچی طرح داخل کر اور سچی طرح باہر نکال اور اپنے پاس سے میری مدد کے لیے کوئی زور آور غلبہ عطا فرما
پس منظر (شانِ نزول) اور تفصیلی نکات و تشریح
قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مَّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا
آیت میں انسانوں ہی میں سے رسول بنانے کی کیا حکمت بیان ہوئی ہے؟
آپ کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے جو اطمینان سے چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے
حکمتِ تخلیق (رسول انسان کیوں؟)
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًا لَا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُورًا
ترجمہ اور مفہوم لکھیں
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (دوبارہ) پیدا کر دے؟ اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا ہے جس میں کوئی شک نہیں، پھر بھی ظالموں نے انکار کرنے کے سوا ہر بات سے انکار کیا
سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت نمبر 99 میں اللہ تعالی نے آسمان و زمین کی تخلیق کا حوالہ دے کر دوبارہ اٹھانے (موت کے بعد زندگی) کی قدرت کو بیان کیا ہے۔
مفہوم
وَلَقَدْ ءَاتَینَا مُوسَىٰ تِسۡعَ ءَایَـٰتࣲۢ بَیِّنَـٰتࣲ فَسۡـَٔلۡ بَنِیۡ إِسۡرَاءِیلَ إِذۡ جَاءَهُمۡ فَقَالَ لَهُۥ فِرۡعَوۡنُ إِنِّی لَأَظُنُّكَ یَـٰمُوسَىٰ مَسۡحُورࣰا۔ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا أَنزَلَ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالۡأَرۡضِ بَصَائِرَ وَإِنِّی لَأَظُنُّكَ یَا فِرۡعَوۡنُ مَثۡبُورًا۔ فَأَرَادَ أَنۡ یَسۡتَفِزَّهُمۡ مِّنَ الۡأَرۡضِ فَأَغۡرَقۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهُۥ جَمِیعًا
آیات کی رو سے سیدنا موسیؑ اور فرعون کے درمیان کیا مکالمہ ہوا اور اس میں ہمارے لیے کیا سبق ہے
اور بے شک ہم نے موسیٰ کو نو روشن نشانیاں دیں، تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے جب وہ ان کے پاس آئے تو ان سے فرعون نے کہا: اے موسیٰ! میرے خیال میں تو تم پر جادو کیا گیا ہے۔ موسیٰ نے کہا: تو خوب جانتا ہے کہ ان (نشانیوں) کو آسمانوں اور زمین کے رب ہی نے بصیرت (اور عبرت) کے لیے نازل کیا ہے، اور اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو یقیناً ہلاک ہونے والا ہے۔ پھر فرعون نے چاہا کہ انہیں اس زمین سے اکھاڑ پھینکے (نکال باہر کرے)، تو ہم نے اسے اور جو لوگ اس کے ساتھ تھے، سب کو ڈبو دیا
سیدنا موسیؑ اور فرعون کا مکالمہ اور ہمارے لیے اسباق
قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَٰنَ ۖ أَيَّا مَّا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا
ترجمہ اور مفہوم لکھیں
آپ فرما دیجیے کہ اللہ کو پکارو یا رحمٰن کو پکارو، جس نام سے بھی پکارو، سب اچھے نام اسی کے ہیں، اور نہ اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھو اور نہ بالکل آہستہ، بلکہ ان دونوں کے درمیانی راستہ اختیار کرو
سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت نمبر 110 میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ناموں اور نماز کا طریقہ بیان فرمایا ہے:
مفہوم
اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا۔ وَّیَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَا اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا
آیت کی رو سے اہل علم پر قرآن پاک کی تلاوت کا کیا اثر ہوتا ہے؟
تم فرماؤ کہ تم لوگ اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، بیشک وہ جنہیں اس کے اترنے سے پہلے علم ملا، جب ان پر یہ پڑھا جاتا ہے تو ٹھوڑی کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا رب، یقیناً ہمارے رب کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا
اہل علم پر قرآن کی تلاوت کا اثر
ہدایت حاصل کرنے کے لیے چند عملی عادات تحریر کریں
ہدایت پانا اور اس پر قائم رہنا ایک مسلسل عمل ہے، جس کے لیے روزمرہ کی زندگی میں مستقل مزاجی سے کچھ عادات کو اپنانا ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، ہدایت حاصل کرنے کے لیے چند اہم عادات درج ذیل ہیں:
اسماء الحسنیٰ کی فضیلت اور سورۃ بنی اسرائیل میں دیے گئے اسماء الحسنیٰ کے معنی و مفہوم لکھیں
سماء الحسنیٰ سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ انتہائی خوبصورت اور بابرکت نام ہیں جو کمالِ صفات کی عکاسی کرتے ہیں۔ سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء، آیت 110) میں اسمِ ذات "اللہ" اور صفاتی نام "الرحمٰن" کا ذکر ہے۔ ان ناموں کو یاد کرنے اور سمجھنے سے دل کو سکون اور آخرت میں جنت کی بشارت ملتی ہے
شیطان کے بہکاوے سے بچنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟
نماز انسان کو برائی اور شیطان کے بہکاوے سے بچانے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ "بیشک نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے
نماز کس طرح شیطان سے بچاتی ہے؟ اور شیطانی وسوسوں سے بچنے کی خاص دعائیں
سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 70 میں بیان کردہ انسان کو دی گئی فضیلت ،عزت اور نعمتوں کی فہرست بنائیں اور ان پر کیسے شکر گزاری کی جا سکتی ہے؟
سورۃ بنی اسرائیل (الإسراء) کی آیت 70 میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت و تکریم، خشکی اور تری کی سواریاں اور پاکیزہ رزق کی نعمتیں عطا فرمانے کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہیں۔
انسان کو دی گئی نعمتوں اور فضیلت کی فہرست اور شکر گزاری کا طریقہ
سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰى بِعَبْدِھٖ…
واقعہ معراج
وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِيْ اَرَيْنَاكَ اِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ…
رؤیا اور زقوم کا درخت
وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْ اَوْحَيْنَا اِلَيْكَ…
کفار کی مفاہمت کی کوشش
وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي
روح کا مسئلہ
وَلَا تَجْھَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِھَا…
بلند آواز سے قراءت پر پابندی
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔