دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 20: سبق 20: سورۃ بنی اسرائیل (آیات 78 تا 111) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 20 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

آیت میں حق و باطل کی کیا حقیقت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

اور فرماؤ کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا

حق و باطل کی حقیقت

1 باطل کی عارضی حیثیت — باطل کی کوئی اصلی بنیاد اور پائیدار وجود نہیں ہوتا، اس کا مٹنا اور ختم ہو جانا طے شدہ ہے۔
2 حق کا غلبہ — جب حق (اسلام، ہدایت اور قرآن) آ جاتا ہے تو باطل (کفر اور گمراہی) ٹک نہیں سکتا اور بھاگ جاتا ہے۔
3 فطری انجام — باطل کی فطرت میں نابود ہونا شامل ہے، چاہے اسے کتنا ہی عارضی زور یا سہارا حاصل ہو۔
2 مختصر جوابات

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظَّالِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا

آیت میں قرآن کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

ور ہم قرآن میں وہ چیز اتارتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کا نقصان ہی بڑھتا ہے

قرآن کی صفات کی وضاحت

1 شفا (بیماریوں کا علاج) — قرآن دلوں کی بیماریوں (جیسے شک، منافقت، جہالت اور گمراہی) کے لیے کامل شفا ہے۔ یہ انسانی اخلاق اور روحانی امراض کو دور کرتا ہے۔
2 رحمت (خدا کی مہربانی) — یہ ایمان والوں کے لیے اللہ کی خاص رحمت ہے جو انہیں گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کے راستے پر لاتی ہے۔
3 ظالموں کے لیے خسارہ — جو لوگ حق کا انکار کرتے ہیں اور ظلم پر اڑے رہتے ہیں، ان کے لیے قرآن کی نصیحت ضد کی وجہ سے مزید گمراہی اور نقصان کا سبب بن جاتی ہے، کیونکہ وہ اس کی آیات کو نہیں ماناتے
3 مختصر جوابات

وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا

آیت میں روح کے متعلق کیا فرمایا گیا؟

ترجمہ

اور وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا کچھ نہیں دیا گیا

سورہ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت نمبر 85 میں فرمایا گیا ہے کہ روح اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے امر سے ہے، اور انسانوں کو اس کائنات کے علم میں سے بہت ہی کم علم عطا کیا گیا ہے

روح کے متعلق اہم نکات

1 حقیقِ روح — روح کی مکمل ماہیت اور حقیقت کا علم عام انسانوں تو کیا، انبیاء کرام کو بھی نہیں دیا گیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص 'امر' (حکم) میں سے ہے۔
2 بشری علم کی محدودیت — انسان کا تمام تر علم الٰہی وسعتوں کے مقابلے میں انتہائی قلیل اور محدود ہے
4 مختصر جوابات

أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَالَهَا تَفْجِيرًا

آیت کی رو سے کفار نے ایمان لانے کے لیے کیا مطالبات کیے؟

ترجمہ

یا آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو تو آپ اس کے اندر بہتی ہوئی نہریں جاری کر دیں

جواب سورۃ بنی اسرائیل (الإسراء) کی آیت نمبر 91 کے مطابق، کفارِ مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لیے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو اور آپ اس کے اندر بہتی ہوئی نہریں جاری کر دیں
5 مختصر جوابات

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيُّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا

آیت میں اللہ کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں ؟

ترجمہ

اور کہہ دیجیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی مددگار (یا حمایتی) کی ضرورت ہو، اور آپ اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتے رہیں

اللہ کی بیان کردہ صفات

1 بے اولادی — اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے، اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا۔
2 یکتائی اور وحدانیت — کائنات کی بادشاہی اور حکومت میں اس کا کوئی شریک یا ساجھی نہیں۔
3 بے نیازی و قوی ذات — وہ کمزور نہیں ہے کہ اسے عاجزی کی وجہ سے کسی دوست، حامی یا مددگار کی حاجت ہو۔
4 مستحقِ حمد و تعظیم — وہ تمام تعریفوں اور کبریائی کا اکیلا حق دار ہے

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور دعا کیا کرو کہ اے میرے رب! مجھے سچی طرح داخل کر اور سچی طرح باہر نکال اور اپنے پاس سے میری مدد کے لیے کوئی زور آور غلبہ عطا فرما

پس منظر (شانِ نزول) اور تفصیلی نکات و تشریح

1 پس منظر (شانِ نزول) — یہ آیت مبارکہ مکہ مکرمہ کے آخری دور میں نازل ہوئی جب کفار مکہ کے مظالم حد سے بڑھ چکے تھے اور مسلمانوں کے لیے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے اسباب پیدا ہو رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس نازک موڑ پر اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کو یہ خاص دعا سکھائی۔
2 تفصیلی نکات و تشریح — ہجرت اور نئی منزل — مفسرین (جیسے حضرت عبداللہ بن عباسؓ) کے مطابمُدْخَلَ صِدق(سچائی کا داخلہ) سے مراد مدینہ منورہ میں عزت و سلامتی کے ساتھ داخل ہونا ہے، اور "مُخْرَجَ صِدْقٍ(سچائی کا خروج) سے مراد مکہ مکرمہ سے بحفاظت نکلنا ہے۔
3 تفصیلی نکات و تشریح — دین و دنیا کے تمام معاملات — وسیع مفہوم میں اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا کوئی بھی کام، سفر، کاروبار یا ذمہ داری ہو، اس کا آغاز بھی سچائی اور اخلاص پر ہو اور اس کا انجام بھی خیر و کامیابی پر ہو۔ اس میں کسی قسم کی شرمندگی یا خیانت نہ ہو۔
4 تفصیلی نکات و تشریح — سلطانِ نصیر (مددگار طاقت) — دعوتِ دین کو پھیلانے اور باطل قوتوں کو روکنے کے لیے صرف زبانی تبلیغ کافی نہیں ہوتی بلکہ سیاسی و مادی طاقت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ اس دعا کے ذریعے اللہ نے سکھایا کہ ایسی حکومت، اقتدار یا غلبہ مانگو جو حق کو نافذ کرنے میں مددگار (نصیر) ثابت ہو۔ چنانچہ اس دعا کے بعد مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی گئی۔
7 تفصیلی جوابات

قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مَّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا

آیت میں انسانوں ہی میں سے رسول بنانے کی کیا حکمت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

آپ کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے جو اطمینان سے چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے

حکمتِ تخلیق (رسول انسان کیوں؟)

1 ہم جنس کی رہنمائی — چونکہ زمین پر انسان بستے ہیں اور وہی اس کے مکین ہیں، اس لیے ان کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے انسان (بشر) کو ہی رسول بنایا گیا۔
2 فرشتے کی عدمِ مناسبت — اگر زمین پر فرشتوں کی آبادی ہوتی تو ان کے پاس فرشتہ ہی رسول بن کر آتا۔ انسانوں کے لیے فرشتہ رسول اس لیے موزوں نہیں کیونکہ انسان فرشتوں کی طبعی خصوصیات اور ہیئت کو برداشت نہیں کر سکتے اور ان سے براہِ راست احکام سیکھنے اور عملی نمونہ پانے میں دشواری ہوتی۔
3 عملی نمونہ (موافقتِ طبع) — انسانوں میں سے رسول ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے میل جول، بات چیت اور احکامِ الٰہی کو عملی زندگی میں ڈھالنے کا طریقہ آسانی سے سیکھ سکتے ہیں۔
8 تفصیلی جوابات

أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًا لَا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُورًا

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (دوبارہ) پیدا کر دے؟ اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا ہے جس میں کوئی شک نہیں، پھر بھی ظالموں نے انکار کرنے کے سوا ہر بات سے انکار کیا

سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت نمبر 99 میں اللہ تعالی نے آسمان و زمین کی تخلیق کا حوالہ دے کر دوبارہ اٹھانے (موت کے بعد زندگی) کی قدرت کو بیان کیا ہے۔

مفہوم

1 قدرتِ خداوندی — اتنی بڑی کائنات (آسمان و زمین) بنانے والے کے لیے انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
2 مقررہ وقت — ہر انسان کی موت اور قیامت کا ایک وقت طے ہے جومقررہ وقت پر ضرور آئے گا۔
3 انکارِ حق — اتنی واضح دلیل کے باوجود منکرینِ حق ضد اور کفر پر اڑے ہوئے ہیں
9 تفصیلی جوابات

وَلَقَدْ ءَاتَینَا مُوسَىٰ تِسۡعَ ءَایَـٰتࣲۢ بَیِّنَـٰتࣲ فَسۡـَٔلۡ بَنِیۡ إِسۡرَاءِیلَ إِذۡ جَاءَهُمۡ فَقَالَ لَهُۥ فِرۡعَوۡنُ إِنِّی لَأَظُنُّكَ یَـٰمُوسَىٰ مَسۡحُورࣰا۔ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا أَنزَلَ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالۡأَرۡضِ بَصَائِرَ وَإِنِّی لَأَظُنُّكَ یَا فِرۡعَوۡنُ مَثۡبُورًا۔ فَأَرَادَ أَنۡ یَسۡتَفِزَّهُمۡ مِّنَ الۡأَرۡضِ فَأَغۡرَقۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهُۥ جَمِیعًا

آیات کی رو سے سیدنا موسیؑ اور فرعون کے درمیان کیا مکالمہ ہوا اور اس میں ہمارے لیے کیا سبق ہے

ترجمہ

اور بے شک ہم نے موسیٰ کو نو روشن نشانیاں دیں، تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے جب وہ ان کے پاس آئے تو ان سے فرعون نے کہا: اے موسیٰ! میرے خیال میں تو تم پر جادو کیا گیا ہے۔ موسیٰ نے کہا: تو خوب جانتا ہے کہ ان (نشانیوں) کو آسمانوں اور زمین کے رب ہی نے بصیرت (اور عبرت) کے لیے نازل کیا ہے، اور اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو یقیناً ہلاک ہونے والا ہے۔ پھر فرعون نے چاہا کہ انہیں اس زمین سے اکھاڑ پھینکے (نکال باہر کرے)، تو ہم نے اسے اور جو لوگ اس کے ساتھ تھے، سب کو ڈبو دیا

سیدنا موسیؑ اور فرعون کا مکالمہ اور ہمارے لیے اسباق

1 سیدنا موسیؑ اور فرعون کا مکالمہ — فرعون کا الزام — فرعون نے اللہ کی دی ہوئی نو واضح نشانیوں (معجزات) کو تسلیم کرنے کے بجائے حضرت موسیٰؑ پر یہ الزام لگایا کہ وہ کسی کے جادو کا شکار ہو کر پاگل یا سحر زدہ ہو چکے ہیں۔
2 سیدنا موسیؑ اور فرعون کا مکالمہ — موسیٰؑ کا دوٹوک جواب — حضرت موسیٰؑ نے ڈرے بغیر فرعون کو اس کے ضمیر کا حوالہ دیا کہ وہ اندر سے جانتا ہے کہ یہ معجزات کوئی جادو نہیں بلکہ ربِ کائنات کی طرف سے ہیں، اور ساتھ ہی فرعون کو اس کی سرکشی پر ہلاکت کی وعید سنا دی۔
3 سیدنا موسیؑ اور فرعون کا مکالمہ — فرعون کا انجام — جب فرعون اور اس کے لشکریوں نے حق کو دبانے اور بنی اسرائیل کو زمین سے نکالنے کی کوشش کی، تو اللہ نے انہیں غرق کر کے نیست و نابود کر دیا۔
4 ہمارے لیے اسباق — حق کا اعتراف — باطل پرست لوگ ضد اور تکبر کی وجہ سے دل سے سچائی کو جاننے کے باوجود اسے زبان سے تسلیم نہیں کرتے۔
5 ہمارے لیے اسباق — مایوسی سے پاک جرات — باطل کی طاقت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اللہ کے سچے نمائندے کو حق بات پوری طاقت اور دلیری سے کہنی چاہیے۔
6 ہمارے لیے اسباق — ظالم کا انجام — زمین پر تکبر کرنے اور کمزوروں کو مٹانے کی کوشش کرنے والوں کا عبرتناک انجام طبعی یا الہی عذاب کی صورت میں ضرور آتا ہے۔
10 تفصیلی جوابات

قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَٰنَ ۖ أَيَّا مَّا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

آپ فرما دیجیے کہ اللہ کو پکارو یا رحمٰن کو پکارو، جس نام سے بھی پکارو، سب اچھے نام اسی کے ہیں، اور نہ اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھو اور نہ بالکل آہستہ، بلکہ ان دونوں کے درمیانی راستہ اختیار کرو

سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت نمبر 110 میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ناموں اور نماز کا طریقہ بیان فرمایا ہے:

مفہوم

1 اللہ اور رحمٰن — مشرکین مکہ "رحمٰن" کا نام ماننے سے ہچکچاتے تھے، اس پر یہ حکم آیا کہ اللہ کہو یا رحمٰن، دونوں اسی ایک ذات کے پیارے نام ہیں۔
2 نماز کا طریقہ — نماز میں آواز نہ اتنی اونچی ہو کہ دوسرے تنگ ہوں اور نہ اتنی دھیمی ہو کہ خود بھی نہ سن سکو، بلکہ درمیانی آواز رکھو
11 تفصیلی جوابات

اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا۔ وَّیَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَا اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا

آیت کی رو سے اہل علم پر قرآن پاک کی تلاوت کا کیا اثر ہوتا ہے؟

ترجمہ

تم فرماؤ کہ تم لوگ اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، بیشک وہ جنہیں اس کے اترنے سے پہلے علم ملا، جب ان پر یہ پڑھا جاتا ہے تو ٹھوڑی کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا رب، یقیناً ہمارے رب کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا

اہل علم پر قرآن کی تلاوت کا اثر

1 عاجزی اور سجدہ ریز ہونا — قرآن سن کر اہل علم کے دل اتنے مغلوب ہوتے ہیں کہ وہ فوراً عاجزی سے سجدے میں گر جاتے ہیں۔
2 تنشیرِ توحید اور تسبیح — وہ تلاوت سن کر زبان سے "سبحان ربنا" (ہمارا رب ہر عیب سے پاک ہے) کا ورد کرتے ہیں۔
3 وعدہ الٰہی کا یقین — وہ اس بات کا اقرار پختہ کرتے ہیں کہ انبیاء کے ذریعے آخری نبی اور قرآن کے بارے میں اللہ کا جو وعدہ تھا، وہ بالکل سچ اور اٹل تھا۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

ہدایت حاصل کرنے کے لیے چند عملی عادات تحریر کریں

ہدایت پانا اور اس پر قائم رہنا ایک مسلسل عمل ہے، جس کے لیے روزمرہ کی زندگی میں مستقل مزاجی سے کچھ عادات کو اپنانا ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، ہدایت حاصل کرنے کے لیے چند اہم عادات درج ذیل ہیں:

1 1۔قرآن مجید کے ساتھ گہرا تعلق (روزانہ تدبر) — قرآن مجید بذاتِ خود "ہدیٰ للمتقین" (تقویٰ والوں کے لیے ہدایت) ہے۔
2 1۔قرآن مجید کے ساتھ گہرا تعلق (روزانہ تدبر) — ترجمہ اور تفسیر — روزانہ کم از کم ایک یا دو آیات کا ترجمہ اور مختصر تفسیر لازمی پڑھیں۔
3 1۔قرآن مجید کے ساتھ گہرا تعلق (روزانہ تدبر) — سوچ بچار (تدبر) — آیات کو صرف پڑھیں نہیں، بلکہ یہ سوچیں کہ ان کا آپ کی عملی زندگی سے کیا تعلق ہے۔
4 1۔قرآن مجید کے ساتھ گہرا تعلق (روزانہ تدبر) — حفظ اور دہرائی — چھوٹی سورتوں یا چند آیات کو یاد کر کے نمازوں میں پڑھیں تاکہ دل کو سکون ملے۔
5 2۔نمازوں کی پابندی اور خشوع و خضوع — نماز ہدایت کا سب سے بڑا عملی ذریعہ ہے، جس میں ہم روزانہ کئی بار اللہ سے سیدھے راستے کی دعا کرتے ہیں۔
6 2۔نمازوں کی پابندی اور خشوع و خضوع — اہدنا الصراط المستقیم — سورہ فاتحہ کی اس آیت کو پڑھتے وقت دل سے دعا کی نیت رکھیں۔
7 2۔نمازوں کی پابندی اور خشوع و خضوع — نمازِ باجماعت یا وقت پر ادائیگی — مردوں کے لیے مسجد میں باجماعت اور خواتین کے لیے وقت پر نماز پڑھنے کی عادت۔
8 2۔نمازوں کی پابندی اور خشوع و خضوع — نوافل کا اہتمام — فرض نمازوں کے علاوہ تہجد یا صلوٰۃ الحاجت کے ذریعے اللہ سے خصوصی تعلق قائم کریں۔
9 ۳۔کثرتِ استغفار اور روزانہ محاسبہ (سچی توبہ) — گناہ انسان کے دل پر سیاہ دھبہ لگا دیتے ہیں، جس سے ہدایت کا نور مدہم پڑ جاتا ہے۔
10 ۳۔کثرتِ استغفار اور روزانہ محاسبہ (سچی توبہ) — توبہ کی عادت — روزانہ اپنے گناہوں (معلوم و نامعلوم) پر اللہ سے معافی مانگیں۔
11 ۳۔کثرتِ استغفار اور روزانہ محاسبہ (سچی توبہ) — رات کا محاسبہ — سونے سے پہلے پانچ منٹ لگائیں اور سوچیں کہ آج کیا اچھا کیا اور کہاں غلطی ہوئی
12 ۳۔کثرتِ استغفار اور روزانہ محاسبہ (سچی توبہ) — نیکی سے برائی کو مٹانا — اگر کوئی گناہ ہو جائے، تو فوراً بعد کوئی نیکی (مثلاً صدقہ یا تلاوت) کر لیں۔
13 ۴۔نیک لوگوں کی صحبت (ماحول کی تبدیلی) — انسان جس ماحول میں رہتا ہے، اس کا اثر اس کی سوچ اور عادات پر لازمی پڑتا ہے۔
14 ۴۔نیک لوگوں کی صحبت (ماحول کی تبدیلی) — صالح دوست — ایسے دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں جو آپ کو اللہ کی یاد دلائیں۔
15 ۴۔نیک لوگوں کی صحبت (ماحول کی تبدیلی) — علمی مجالس — دینی بیانات، اچھے اسلامی سیمینارز یا کتابوں کے مطالعے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں
16 ۴۔نیک لوگوں کی صحبت (ماحول کی تبدیلی) — برے ماحول سے دوری — ایسے حلقوں، سوشل میڈیا پیجز یا دوستوں سے دوری اختیار کریں جو گناہوں کی طرف راغب کرتے ہیں۔
17 ۵۔عاجزی اور تکبر سے دوری — اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو ہدایت سے محروم کر دیتا ہے اور عاجز لوگوں کے لیے راستے کھولتا ہے۔
18 ۵۔عاجزی اور تکبر سے دوری — غلطی کا اعتراف — جب بھی اپنی کوئی غلطی سامنے آئے، اسے انا کا مسئلہ بنائے بغیر تسلیم کریں۔
19 ۵۔عاجزی اور تکبر سے دوری — حق کا قبول کرنا — حق بات چاہے کسی چھوٹے یا کم رتبہ انسان سے بھی ملے، اسے خوش دلی سے اپنائیں۔
20 ۶۔مستقل دعا اور گڑگڑانا — ہدایت اللہ تعالیٰ کا ایک تحفہ ہے، جسے مانگنے سے ہی پایا جا سکتا ہے۔
21 ۶۔مستقل دعا اور گڑگڑانا — نبی کریم ﷺ کی دعا — اس دعا کو پڑھنے کی عادت ڈالیں۔یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک(اے دلوں کو پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ)۔
22 ۶۔مستقل دعا اور گڑگڑانا — اوقاتِ قبولیت — اذان اور اقامت کے درمیان، بارش کے وقت، اور سجدے کی حالت میں ہدایت کی خاص دعا کریں۔
13 سرگرمیاں

اسماء الحسنیٰ کی فضیلت اور سورۃ بنی اسرائیل میں دیے گئے اسماء الحسنیٰ کے معنی و مفہوم لکھیں

سماء الحسنیٰ سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ انتہائی خوبصورت اور بابرکت نام ہیں جو کمالِ صفات کی عکاسی کرتے ہیں۔ سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء، آیت 110) میں اسمِ ذات "اللہ" اور صفاتی نام "الرحمٰن" کا ذکر ہے۔ ان ناموں کو یاد کرنے اور سمجھنے سے دل کو سکون اور آخرت میں جنت کی بشارت ملتی ہے

1 اسماء الحسنیٰ کی فضیلت — جنت کی بشارت — حدیثِ مبارکہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ننانوے (99) نام ہیں، جو شخص انہیں یاد (حفظ یا احصاء) کر لے وہ جنت میں داخل ہو گا۔
2 اسماء الحسنیٰ کی فضیلت — قبولیتِ دعا — قرآن مجید میں حکم ہے کہ اللہ کو اس کے اچھے ناموں کے ساتھ پکارا جائے تاکہ دعائیں اور مانگی گئی حاجات قبول ہوں۔
3 اسماء الحسنیٰ کی فضیلت — معرفتِ الٰہی — ان ناموں کے ذریعے بندہ اپنے خالق کی سچی پہچان حاصل کرتا ہے اور توحید پر اس کا ایمان مضبوط ہوتا ہے
4 سورۃ بنی اسرائیل (آیت 110) میں مذکور اسماء الحسنیٰ کا معنی و مفہوم — سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت نمبر 110 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
5 سورۃ بنی اسرائیل (آیت 110) میں مذکور اسماء الحسنیٰ کا معنی و مفہوم — قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَٰنَ ۖ أَيًّا مَّا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ (ترجمہ: تم فرماؤ کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو، تم جس نام سے بھی پکارو گے، سب اچھے نام اسی کے ہیں).
6 سورۃ بنی اسرائیل (آیت 110) میں مذکور اسماء الحسنیٰ کا معنی و مفہوم — اس مبارک آیت میں ان دو ناموں کی خصوصیت بیان کی گئی ہے:
7 اللہ (اَللّٰہُ) — معنی و مفہوم — یہ اللہ تعالیٰ کا اسمِ ذات ہے۔ اس کا معنی ہے وہ بابرکت ذات جو تمام صفاتِ کمال کی جامع ہے، جس کی عبادت کی جائے اور جو تمام مخلوقات کی پناہ گاہ اور معبودِ برحق ہے۔ یہ نام کسی اور کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔
8 الرحمٰن (الرَّحْمٰنُ) — معنی و مفہوم — یہ صفتِ رحمت کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا معنی ہے وہ ذات جو اِس کائنات کی تمام مخلوقات (مسلم و کافر، نیک و بد) پر بے پناہ اور وسیع رحمت فرمانے والی ہے۔ (عرب کے مشرک 'رحمٰن' نام سے ناواقفیت یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے تھے، تو اس آیت نے واضح کیا کہ یہ بھی اسی اکیلے خدا کا نام ہے
14 سرگرمیاں

شیطان کے بہکاوے سے بچنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟

نماز انسان کو برائی اور شیطان کے بہکاوے سے بچانے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ "بیشک نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے

نماز کس طرح شیطان سے بچاتی ہے؟ اور شیطانی وسوسوں سے بچنے کی خاص دعائیں

1 نماز کس طرح شیطان سے بچاتی ہے؟ — روحانی ڈھال — نماز انسان کے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کرتی ہے جو شیطانی وسوسوں کو دور رکھتا ہے۔
2 نماز کس طرح شیطان سے بچاتی ہے؟ — اللہ کا قرب — سجدے کی حالت میں انسان اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، جہاں شیطان بے بس ہو جاتا ہے۔
3 نماز کس طرح شیطان سے بچاتی ہے؟ — گناہوں کا کفارہ — پانچ وقت کی نماز گناہوں کو اس طرح دھو دیتی ہے جیسے پانی میل کچیل کو صاف کرتا ہے۔
4 نماز کس طرح شیطان سے بچاتی ہے؟ — وقت کی پابندی — یہ انسان کو نظم و ضبط سکھاتی ہے، جس سے فضول اور برے کاموں کے لیے وقت نہیں بچتا۔
5 شیطانی وسوسوں سے بچنے کی خاص دعائیں — اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم — جب بھی دل میں کوئی برا خیال آئے، فوراً یہ پڑھیں۔
6 شیطانی وسوسوں سے بچنے کی خاص دعائیں — آیت الکرسی — ہر نماز کے بعد اور رات کو سونے سے پہلے پڑھنے سے ایک فرشتہ حفاظت کے لیے مقرر ہو جاتا ہے۔
7 شیطانی وسوسوں سے بچنے کی خاص دعائیں — معوذتین (سورہ الفلق اور سورہ الناس) — یہ سورتیں انسان کو ہر قسم کے جادو، حسد اور شیطانی شر سے محفوظ رکھتی ہیں۔
8 شیطانی وسوسوں سے بچنے کی خاص دعائیں — منزل یا صبح و شام کے اذکار — مسنون دعاؤں کی پابندی پورے دن کے لیے گناہوں سے بچاؤ کا ذریعہ بنتی ہے۔
15 سرگرمیاں

سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 70 میں بیان کردہ انسان کو دی گئی فضیلت ،عزت اور نعمتوں کی فہرست بنائیں اور ان پر کیسے شکر گزاری کی جا سکتی ہے؟

سورۃ بنی اسرائیل (الإسراء) کی آیت 70 میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت و تکریم، خشکی اور تری کی سواریاں اور پاکیزہ رزق کی نعمتیں عطا فرمانے کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہیں۔

انسان کو دی گئی نعمتوں اور فضیلت کی فہرست اور شکر گزاری کا طریقہ

1 انسان کو دی گئی نعمتوں اور فضیلت کی فہرست — عزت و تکریم — انسان کو خوبصورت ساخت، بہترین اعضاء اور عقل و شعور دے کر تمام مخلوقات میں مکرم بنایا گیا۔
2 انسان کو دی گئی نعمتوں اور فضیلت کی فہرست — خشکی اور تری میں سواریاں — زمین پر چلنے اور سمندروں کو عبور کرنے کے لیے بہترین وسائل اور سواریاں عطا کیں۔
3 انسان کو دی گئی نعمتوں اور فضیلت کی فہرست — پاکیزہ رزق — انسان کے کھانے اور استعمال کے لیے طیب اور حلال چیزیں مہیا کیں۔
4 انسان کو دی گئی نعمتوں اور فضیلت کی فہرست — مخلوقات پر برتری — عقل اور تدبر کی صلاحیت کی وجہ سے اسے کائنات کی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی گئی۔
5 شکر گزاری کا طریقہ — زبان سے شکر — ہر حال میں اللہ کا حمد کرنا اور زبان پر ہمیشہ "الحمدللہ" جاری رکھنا۔
6 شکر گزاری کا طریقہ — عمل سے شکر — اللہ کی دی ہوئی طاقت، عقل اور اعضاء کو صرف اچھے اور جائز کاموں میں استعمال کرنا۔
7 شکر گزاری کا طریقہ — اطاعت اور بندگی — نماز، عبادات اور احکاماتِ الٰہی پر عمل پیرا ہو کر عملی بندگی کا اظہار کرنا۔
8 شکر گزاری کا طریقہ — نعمتوں کا استعمال — پاکیزہ رزق اور وسائل کو غریبوں کی مدد اور فلاحِ عامہ میں صرف کرنا۔

شان نزول

16 شان نزول

سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰى بِعَبْدِھٖ…

واقعہ معراج

1 شانِ نزول — پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے سفرِ معراج کے بیان میں نازل ہوئی، جب آپ کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصی لے جایا گیا۔
17 شان نزول

وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِيْ اَرَيْنَاكَ اِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ…

رؤیا اور زقوم کا درخت

1 شانِ نزول — شبِ معراج جو مشاہدات آپ کو کرائے گئے اور جہنم میں درختِ زقوم کا ذکر کیا گیا، تو کفارِ مکہ نے اس کا مذاق اڑایا اور یہ مسلمانوں کے لیے آزمائش بنی۔
18 شان نزول

وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْ اَوْحَيْنَا اِلَيْكَ…

کفار کی مفاہمت کی کوشش

1 شانِ نزول — قریش نے آپ ﷺ کے سامنے تجاویز رکھیں کہ آپ ہمارے بتوں کے بارے میں نرمی برتیں تو ہم آپ کو اپنا سردار بنا لیں گے، تب یہ آیاتِ تنبیہ نازل ہوئیں۔
19 شان نزول

وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي

روح کا مسئلہ

1 شانِ نزول — مشرکینِ مکہ نے یہودیوں کے اکسانے پر آپ ﷺ سے روح کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا تھا، جس کے جواب میں یہ آیت اتری۔
20 شان نزول

وَلَا تَجْھَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِھَا…

بلند آواز سے قراءت پر پابندی

1 شانِ نزول — رسول اللہ ﷺ مکہ کی گھاٹیوں میں چھپ کر نماز پڑھتے اور بلند آواز سے قرآن کی تلاوت فرماتے تو مشرکین سن کر گالی گلوچ کرتے، تب یہ حکم نازل ہوا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.