دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 19: سبق 19: سورۃ بنی اسرائیل (آیات 41 تا 77) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 14 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا

آیت میں نزول قرآن کا کیا مقصد بیان ہوا ہے اور اس سے منکرین پر کیا اثر ہوتا ہے؟

ترجمہ

اور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان فرمایا تاکہ وہ سمجھیں، اور یہ سمجھانا ان کے دور ہونے کو ہی بڑھا رہا ہے

نزولِ قرآن کا مقصد اور منکرین پر اثر

1 نزولِ قرآن کا مقصد — اسلوب بدل کر حق واضح کرنا — اللہ تعالی نے قرآن پاک میں احکام، دلائل، اور مضامین کو مختلف طریقوں اور انداز میں بار بار بیان کیا ہے۔
2 نزولِ قرآن کا مقصد — نصیحت اور عبرت — اس تننوع اور وضاحت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان غفلت کی نیند سے بیدار ہوں اور نصیحت حاصل کریں۔
3 منکرین پر اثر — نفرت میں اضافہ — حق اور سچائی کو بار بار واضح کرنے کے باوجود منکرین کے دل نرم نہیں ہوتے، بلکہ وہ اس سے اور زیادہ متنفر ہوتے ہیں۔
4 منکرین پر اثر — حق سے دوری — ہدایت کی باتیں سننے کے بعد بھی ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ حق سے قریب آنے کے بجائے مزید دور بھاگتے چلے جاتے ہیں۔
2 مختصر جوابات

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهُ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوْلُونَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا

آیت میں اللہ کے ساتھ شریک ہونے کا تصور کیسے رد کیا گیا ہے؟

ترجمہ

آپ کہہ دیجیے کہ اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو وہ ضرور مالکِ عرش (اللہ) کی طرف کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے

شرک کا رد (تفسیر و عقلی دلیل)

1 اقتدار اور غلبے کی کشمکش — اگر متعدد خدا ہوتے تو ان کی طاقتیں برابر یا متصادم ہوتیں۔ فطری طور پر ہر طاقتور ہستی دوسرے پر فوقیت یا غلبہ پانے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر وہ معبود سچے ہوتے تو وہ یا تو اللہ کے نظام میں دخل اندازی کرتے یا اس کے تخت و اقتدار کو چیلنج کرکے خود غالب آنے کی راہ تلاش کرتے۔
2 خدا کا اکیلا اور بے نیاز ہونا — چونکہ کائنات کے نظام میں کبھی ایسی کوئی کشمکش، انتشار یا اقتدار کی جنگ نظر نہیں آئی اور تمام کائنات ایک ہی بااختیار ہستی کے مکمل اور اٹل قانون کے تحت چل رہی ہے، اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اللہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
3 عاجزی اور بندگی کی دلیل — اس آیت کا ایک اور مفہوم یہ بھی ہے کہ اگر وہ جنہیں پکارا جاتا ہے (جیسے فرشتے یا بزرگ) خدا کے شریک ہوتے، تو وہ خود اس مالکِ عرش کے مقرب بننے اور اس کی رضا حاصل کرنے کی راہیں تلاش کرتے۔ جو خود اللہ کے محتاج اور اس کے حضور جھکنے والے ہیں، وہ کسی اور کے خدا یا مشکل کشا کیسے ہو سکتے ہیں۔
3 مختصر جوابات

وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا

آیت میں منکرین آخرت کے کن شہبات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اور وہ کہتے ہیں: کیا جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، تو کیا واقعی ہم نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟

منکرینِ آخرت کے شبہات

1 بوسیدہ ہڈیوں کا حوالہ — مرنے کے بعد جسم کے گل سڑ جانے اور ہڈیاں مٹی یا ریزہ ریزہ ہو جانے کو دوبارہ زندگی کا محال سمجھنا۔
2 استحصالِ عقلی — اس بات کا استہزا اور انکار کرنا کہ فنا ہو جانے کے بعد اتنے ریزے مٹ کر دوبارہ کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں اور نیا انسان کیسے بن سکتا ہے۔
4 مختصر جوابات

وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا،

آیت کی رو سے جو اس دنیا میں ہدایت سے محروم رہا آخرت میں اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟

ترجمہ

اور جو شخص اس دنیا میں (حق سے) اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا اور راستے سے بہت زیادہ بھٹکا ہوا رہے گا

آخرت کا معاملہ

1 دل کا اندھا پن — دنیا کے اندھے پن سے مراد جسمانی بینائی کی کمی نہیں، بلکہ باطن اور دل کا اندھا پن ہے جو انسان کو اللہ کی نشانیوں اور حق کو دیکھنے اور سمجھنے نہیں دیتا۔
2 آخرت میں اندھا پن — جو شخص دنیا میں ہدایت کو قبول نہیں کرتا، خدا کے احکامات کو نظر انداز کرتا ہے، وہ روزِ قیامت بھی بصیرت اور نجات کے راستے سے محروم رہے گا۔
3 راستے سے گمراہی — ایسا شخص نہ صرف آخرت میں اندھا ہوگا بلکہ وہ ہدایت اور فلاح کی منزل پانے میں دنیا کے عام اندھے سے بھی زیادہ بھٹکا ہوا قرار دیا جائے گا۔
5 مختصر جوابات

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا

آیت کے مطابق ابلیس نے سجدہ کرنے سے کیوں انکار کیا ؟

ترجمہ

ور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے کہا: کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے

سجدہ نہ کرنے کی وجہ

1 تکبر اور غرور — ابلیس نے اپنے آپ کو حضرت آدم علیہ السلام سے بہتر سمجھا۔
2 خلقت کا فرق — اس کا کہنا تھا کہ وہ آگ سے بنا ہے جبکہ آدم مٹی سے بنے ہیں، اس لیے وہ ایک مٹی کی مخلوق کو سجدہ نہیں کرے گا۔
3 حکم عدولی — اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کے باوجود اس نے اپنی بڑائی کو ترجیح دی اور نافرمانی کی۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًا۔ وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا​ ؕ وَاِذَا ذَكَرۡتَ رَبَّكَ فِى الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَهٗ وَلَّوۡا عَلٰٓى اَدۡبَارِهِمۡ نُفُوۡرًا

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک چھپا ہوا پردہ حائل کر دیتے ہیں۔ اور ہم ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتے ہیں تاکہ اسے نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ (بہرہ پن) پیدا کر دیتے ہیں، اور جب آپ قرآن میں اکیلے اپنے رب کا ذکر کرتے ہیں تو وہ نفرت سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں

1 مفہوم۔ حجاباً مستوراً (چھپا ہوا پردہ) کا مطلب — معنوی رکاوٹ — اکثر مفسرین کے نزدیک اس سے مراد کوئی مادی پردہ نہیں، بلکہ ایک معنوی رکاوٹ ہے۔ کافروں کے حسد، ضد اور دنیا پرستی کی وجہ سے ان کے دلوں پر ایسی ظلمت چھا جاتی ہے جو انہیں قرآن کے نور کو دیکھنے نہیں دیتی۔
2 مفہوم۔ حجاباً مستوراً (چھپا ہوا پردہ) کا مطلب — حفاظتی پردہ — کچھ روایات کے مطابق، جب مشرکینِ مکہ (جیسے ابو سفیان، ابو جہل وغیرہ) نبی کریم ﷺ کو نقصان پہنچانے یا آپ کا مذاق اڑانے کے ارادے سے آتے، تو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ اور ان کے درمیان ایسا پردہ حائل کر دیتا کہ وہ آپ ﷺ کو دیکھ ہی نہ پاتے۔
3 2۔ دلوں اور کانوں کی بندش (أکنة اور وقر) — حق سے محرومی — جب انسان مسلسل حق کا انکار کرتا ہے اور اپنے کفر پر اصرار کرتا ہے، تو اللہ کا یہ قانون ہے کہ اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔
4 2۔ دلوں اور کانوں کی بندش (أکنة اور وقر) — سمجھنے کی صلاحیت کا ختم ہونا — أکنة' (پردے) کا مطلب ہے کہ اب قرآن کے گہرے معانی ان کے دلوں میں نہیں اتر سکتے۔ 'وقر' (بوجھ) کا مطلب ہے کہ قرآن کی آواز ان کے کانوں میں پڑتی تو ہے، لیکن وہ اسے اثر لینے کی نیت سے نہیں سنتے۔
5 3۔ توحیدِ خالص سے مشرکین کی چڑ — اکیلے رب کا ذکر — مشرکین مکہ اللہ کو مانتے تھے، لیکن وہ اپنے بتوں اور دیگر معبودوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے۔
6 3۔ توحیدِ خالص سے مشرکین کی چڑ — پیٹھ پھیر کر بھاگنا — جب قرآن میں صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا جاتا اور شرک کی نفی کی جاتی، تو ان کا غرور اور تعصب جاگ اٹھتا۔ وہ حق کی دلیلوں کا جواب نہ ملنے پر وہاں سے نفرت کے ساتھ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے۔
7 تفصیلی جوابات

يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا

آیت کے مطابق قیامت کے دن جن لوگوں کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ان کے ساتھ کیسا برتاؤ ہو گا؟

ترجمہ

یاد کرو جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے پیشوا (امام) کے ساتھ بلائیں گے، تو جسے اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، تو وہ لوگ اپنا نامہ اعمال (خوش ہو ہو کر) پڑھیں گے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

قیامت کے دن کا برتاؤ اور کیفیت

1 خوشی اور شادمانی — جن لوگوں کو دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا، وہ انتہائی خوش ہوں گے اور شوق و مسرت کے ساتھ اپنے اچھے اعمال کی کتاب کو خود پڑھیں گے۔
2 مکمل انصاف — ان کے ساتھ سراسر انصاف کیا جائے گا اور ان کی نیکیوں میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، بلکہ ان پر کھجور کی گٹھلی کے دھاگے (فتیل) کے برابر بھی ظلم یا ناانصافی نہیں ہوگی۔
3 عزت افزائی — تفاسیر کے مطابق ایسے سعادت مند لوگوں کے چہرے روشن اور چمکدار ہوں گے اور انہیں عزت و احترام سے نوازا جائے گا
8 تفصیلی جوابات

قُلِ ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ فَلَا يَمۡلِكُوۡنَ كَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡكُمۡ وَلَا تَحۡوِيۡلًا ۔اُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الۡوَسِيۡلَةَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ وَيَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَهٗ وَيَخَافُوۡنَ عَذَابَهٗؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحۡذُوۡرًا

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

فرما دیجیے: تم ان لوگوں کو پکار لو جنہیں تم اللہ کے سوا (معبود) گمان کرتے ہو، تو وہ تم سے تکلیف دور کرنے کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ اسے (کسی اور کی طرف) پھیر دینے کا۔ جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہو جائے، وہ اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، بیشک آپ کے رب کا عذاب ہی ڈرنے کی چیز ہے

1 مفہوم — مشرکین جن بتوں، فرشتوں یا بزرگوں کو مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں، وہ کسی بھی مصیبت کو ٹالنے یا کم کرنے کی ذرا برابر بھی طاقت نہیں رکھتے۔
2 عقیدۂ توحید کی واضح دلیل — اللہ کے سوا کوئی بھی ہستی نفع و نقصان کی مالک نہیں ہے۔
3 عقیدۂ توحید کی واضح دلیل — تمام مخلوق خود اللہ کی محتاج اور اس کے خوف و رجا میں ہے
4 عقیدۂ توحید کی واضح دلیل — جن مقرب ہستیوں (جیسے عیسیٰ علیہ السلام، عزیر علیہ السلام یا فرشتے) کو لوگ خدا بنا بیٹھے ہیں، وہ خود اللہ کے حضور سر جھکائے اس کا قرب پانے کی کوشش میں رہتے ہیں، تو وہ تمہاری فریاد کیا سنیں گے۔
5 باطل معبودوں کی حقیقت — جن بزرگوں یا فرشتوں کو پکارا جاتا ہے، وہ خود اللہ کے بندے اور خوفِ خدا میں مبتلا ہیں۔
6 باطل معبودوں کی حقیقت — انہیں خود نہیں معلوم کہ اللہ کا قرب کس کو اور کتنا حاصل ہے، لہذا وہ کسی دوسرے کی سفارش یا حاجت رواجی کے مالک نہیں ہیں
9 تفصیلی جوابات

وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ ۚ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا

آیت کے مطابق منکریں کو جب سمندر میں تکلیف پہنچتی تو وہ کس کو پکارتے ؟ اور نجات ملنے کے بعد ان کا عمل کیا ہوتا ؟

ترجمہ

ور جب تمہیں دریا (سمندر) میں مصیبت پہنچتی ہے تو اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو سب گم ہوجاتے ہیں (یعنی ذہن سے محو ہو جاتے ہیں)، پھر جب وہ تمہیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو، اور انسان بڑا ناشکرا ہے

سورۃ بنی اسرائیل (الإسراء) کی آیت نمبر 67 کے مطابق، سمندر میں تکلیف پہنچنے پر منکرین صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں اور نجات ملنے کے بعد وہ اللہ سے منہ پھیر لیتے (روگردانی کرتے) ہیں۔

سمندر میں تکلیف کے وقت پکار اور نجات کے بعد کا عمل

1 سمندر میں تکلیف کے وقت پکار — صرف اللہ کی ذات — طوفان یا ڈوبنے کے خوف کے وقت تمام جھوٹے معبود اور سہارے بھول جاتے ہیں۔
2 سمندر میں تکلیف کے وقت پکار — توحید کا فطری اعتراف — مشکل کی اس گھڑی میں انسان کا دل خود بخود صرف ایک خالقِ حقیقی کو پکارتا ہے۔
3 نجات کے بعد کا عمل — منہ موڑ لینا — خشکی پر سلامت پہنچتے ہی وہ سابقہ حالتِ شرک کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔
4 نجات کے بعد کا عمل — ناشکری — اللہ کی عطا کردہ زندگی اور احسان کو بھلا کر ناشکری کا رویہ اپناتے ہیں
10 تفصیلی جوابات

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا

ترجمہ اور مفہوم بیان کریں

ترجمہ

اور بلاشبہ ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں نمایاں فضیلت دی

سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت 70 میں اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو عظمت، سواریوں کی سہولت، پاکیزہ رزق اور تمام مخلوقات پر فوقیت عطا کرنے کا ذکر فرمایا ہے۔

مفہوم

1  عزت و تکریم — انسان کو عقل، شعور، اور بولنے کی صلاحیت دے کر تمام مخلوقات میں ممتاز کیا گیا۔
2  خشکی اور تری میں سوار — انسان کے لیے زمین اور سمندر کے راستے مسخر کیے گئے تاکہ وہ سفر اور تجارت کر سکے۔
3  پاکیزہ رزق — اللہ نے انسان کے کھانے پینے اور استعمال کے لیے بہترین اور حلال چیزیں مہیا کیں۔
4  فوقیت — انسان کو دیگر جمادات، نباتات اور حیوانات پر برتری بخشی گئی ہے
11 تفصیلی جوابات

وَٱسْتَفْزِزْ مَنِ ٱسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِى ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَوْلَـٰدِ وَعِدْهُمْ ۚ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ إِلَّا غُرُورًا۔ إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنٌ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا

آیت کے مطابق اللہ نے شیطان کو کیا مہلت دی اور اپنے نیک بندوں کے حوالے سے اسے کیسے خبردار کیا؟

ترجمہ

اور ان میں سے جس کو تو اپنی آواز سے بہکا سکے بہکاتا رہ، اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا، اور ان کے مال اور اولاد میں ساجھی بن جا، اور ان سے (جھوٹے) وعدے کر، اور شیطان ان سے جتنے وعدے کرتا ہے سب فریب ہوتے ہیں۔ بیشک جو میرے (خاص) بندੇ ہیں ان پر تیرا کچھ قابو نہیں چلے گا، اور تیرا رب کارسازی کے لیے کافی ہے

اللہ کی دی گئی مہلت (آیت 64 کے مطابق) اور نیک بندوں کے حوالے سے انتباہ / خبردار کرنا (آیت 65 کے مطابق)

1 اللہ کی دی گئی مہلت (آیت 64 کے مطابق) — آواز کے ذریعے بہکانا — شیطان کو اجازت دی گئی کہ اپنی پرفریب آواز (گانے، موسیقی، اور گناہوں کی دعوت) سے جسے چاہے پھسلا لے۔
2 اللہ کی دی گئی مہلت (آیت 64 کے مطابق) — لشکر کشی — اسے اپنے سوار اور پیادہ لشکر (جن و انس کے مددگار) حملہ کرنے کے لیے دوڑانے کی چھوٹ دی
3 اللہ کی دی گئی مہلت (آیت 64 کے مطابق) — مال و اولاد میں شرکت — حرام ذرائع سے مال کمانے/خرچ کرنے اور اولاد کی غلط تربیت یا انہیں نافرمانی پر لگانے میں حصہ دار بننے کی مہلت دی۔
4 اللہ کی دی گئی مہلت (آیت 64 کے مطابق) — فریب کے وعدے — اسے یہ حق دیا کہ وہ لوگوں کو جھوٹی امیدیں اور دھوکے کے وعدے دلائے۔
5 نیک بندوں کے حوالے سے انتباہ / خبردار کرنا (آیت 65 کے مطابق) — تسلط سے نفی — اللہ تعالیٰ نے شیطان کو صاف بتا دیا کہ اس کے سچے اور فرماں بردار بندوں پر اس کا کوئی بس یا غلبہ نہیں ہوگا۔
6 نیک بندوں کے حوالے سے انتباہ / خبردار کرنا (آیت 65 کے مطابق) — اللہ کی نگہبانی — اللہ نے اپنے نیک بندوں کو یقین دلایا کہ ان کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے اکیلا رب ہی کافی ہے۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

سورۃ بنی اسرائیل کی روشنی میں بتائیں مشرکین نے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کیے جانے کا کیوں انکار کیا اور کیا اللہ کے لیے دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے؟

مشرکین نے مرنے کے بعد ہڈیوں اور مٹی ہو جانے کے باعث دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کیا کیونکہ وہ اسے عقل سے بعید اور ناممکن سمجھتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے لیے دوبارہ پیدا کرنا ہرگز مشکل نہیں ہے بلکہ پہلی بار پیدا کرنے کی طرح اس کے لیے انتہائی آسان ہے

دوبارہ پیدا کیے جانے کا انکار کرنے کی وجہ اور کیا اللہ کے لیے دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے؟

1 دوبارہ پیدا کیے جانے کا انکار کرنے کی وجہ — بوسیدہ ہڈیوں کا نظریہ — مشرکین کا خیال تھا کہ جب انسان مر کر مٹی اور ریزہ ریزہ ہڈیاں بن جاتا ہے تو اس کا دوبارہ زندہ ہونا محال ہے۔
2 دوبارہ پیدا کیے جانے کا انکار کرنے کی وجہ — تعجب اور استہزا — وہ بطورِ مذاق اور تعجب کہتے تھے کہ جب ہم بالکل مٹ جائیں گے تو کیا ہمیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا۔
3 کیا اللہ کے لیے دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے؟ — پہلی تخلیق کی دلیل — اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ جو ذات آسمان اور زمین کو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ ان جیسی دوبارہ تخلیق پر بھی پوری طرح قادر ہے۔
4 کیا اللہ کے لیے دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے؟ — آسان تر امر — کسی چیز کو پہلی بار عدم سے وجود میں لانا زیادہ بڑی قدرت کا تقاضا کرتا ہے، اور دوبارہ بنانا اللہ کے نزدیک اور بھی زیادہ آسان ہے۔
13 سرگرمیاں

سورۃ بنی اسرائیل کی روشنی میں بتائیں کہ کون ہے جو ہمارے درمیان فساد ڈالتا ہے اور اس فساد سے ہم کیسے بچ سکتے ہیں ؟

سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت نمبر 53 کے مطابق، ہمارے درمیان فساد اور بگاڑ شیطان ڈالتا ہے جو انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اس فساد سے بچنے کا واحد اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہمیشہ نرمی، شائستگی اور بہترین بات (اچھی گفتگو) کی زبان استعمال کی جائے

فساد کی وجہ اور اس کی حقیقت اور فساد سے بچنے کے طریقے

1 فساد کی وجہ اور اس کی حقیقت — شیطان کا کردار — لوگوں کے درمیان عداوت، اختلاف اور جھگڑے پیدا کرنے والا صرف شیطان ہے جو انسانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔
2 فساد کی وجہ اور اس کی حقیقت — کھلا دشمن — قرآن مجید واضح کرتا ہے کہ شیطان انسان کا سب سے بڑا اور کھلا دشمن ہے جو موقع ملتے ہی فساد کرواتا ہے۔
3 فساد سے بچنے کے طریقے — بہترین بات کہیے — آپس میں گفتگو کرتے وقت ہمیشہ اچھے، نرم اور پسندیدہ الفاظ کا انتخاب کریں تاکہ تلخی پیدا نہ ہو۔
4 فساد سے بچنے کے طریقے — غصے پر قابو — بحث و مباحثہ کے دوران جب بھی اشتعال یا غصہ محسوس ہو، فوراً سمجھ جائیں کہ یہ شیطان کی تحریک ہے اور خود کو پُرسکون رکھیں
14 سرگرمیاں

شرک سے بچنے کی تدابیر تحریر کریں

شرک ایک سنگین گناہ ہے جس سے بچنا ہر مسلمان کے لیے فرض ہے۔ اس سے محفوظ رہنے کے لیے عملی، علمی اور روحانی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے

1 ۱۔ علمی تدابیر (شرک اور توحید کا شعور) — توحید کا گہرا مطالعہ — اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور حقوق کو تفصیل سے سمجھیں تاکہ معلوم ہو کہ عبادت اور پکار کا مستحق صرف وہی ہے۔
2 ۱۔ علمی تدابیر (شرک اور توحید کا شعور) — شرک کی اقسام کی پہچان — شرک اکبر (بڑا شرک) اور شرک اصغر (چھوٹا شرک، جیسے ریاکاری) کے فرق کو جانیں تاکہ انجانے میں کوئی غلطی نہ ہو۔
3 ۱۔ علمی تدابیر (شرک اور توحید کا شعور) — قرآنی آیات پر غور — قرآن مجید میں جہاں شرک کی مذمت اور توحید کے دلائل دیے گئے ہیں، ان کا ترجمہ اور تفسیر پڑھیں۔
4 ۲۔ روحانی اور عملی تدابیر (نیت کی اصلاح) — اخلاص کی پابندی — اپنے ہر اچھے کام، صدقہ، اور نماز میں صرف اللہ کی رضا چاہیں اور لوگوں سے تعریف کی امید نہ رکھیں۔
5 ۲۔ روحانی اور عملی تدابیر (نیت کی اصلاح) — ریاکاری سے دوری — خفیہ عبادات (جیسے تہجد یا پوشیدہ صدقہ) کا اہتمام کریں تاکہ دل میں دکھاوے کا جذبہ پیدا نہ ہو۔
6 ۲۔ روحانی اور عملی تدابیر (نیت کی اصلاح) — خوف اور امید کا توازن — دل میں یہ پختہ یقین رکھیں کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ ہے، کسی مخلوق کے پاس کوئی اختیار نہیں۔
7 ۳۔ مسنون دعاؤں کا اہتمام — شرک سے بچنے کے لیے درج ذیل دعائیں کثرت سے پڑھیں:
8 نبی کریم ﷺ کی سکھائی ہوئی دعا — "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ" (اے اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں جانتے بوجھتے تیرے ساتھ شرک کروں، اور اس گناہ کی معافی مانگتا ہوں جسے میں نہیں جانتا)۔
9 حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا — "وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ" (سورہ ابراہیم: ۳۵) (اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے دور رکھ)۔
10 ۴۔ ماحول اور صحبت کی اصلاح — اچھی صحبت اختیار کرنا — ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھیں جو توحید پر قائم ہوں اور سنت کے مطابق زندگی گزارتے ہوں۔
11 ۴۔ ماحول اور صحبت کی اصلاح — توہم پرستی سے بچنا — بدشگونی، جادو ٹونے، اور غیر شرعی رسومات (جیسے دھاگے یا تعویذ پر اندھا یقین) سے مکمل پرہیز کریں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.