اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کوئی نہ کوئی ایسی صلاحیت عطا فرمائی ہے جو دوسروں سے مختلف ہے، اور دینِ اسلام کی دعوت و اشاعت کسی ایک طبقے کا کام نہیں بلکہ ہر اُس شخص کی ذمہ داری ہے جس تک یہ پیغام پہنچ جائے۔ خود اسی سورت میں یہ ذمہ داری ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے:
1
قُلۡ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ وَإِنَّنِي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُشۡرِكُونَ …اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں اور ہر اُس شخص کو ڈراؤں جس تک یہ پہنچے۔ (سورۃ الانعام ۔ آیت 19)
2
اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — قوتِ گفتار — جسے اللہ نے بولنے کی صلاحیت اور اثر انگیز اندازِ بیان دیا ہو، وہ درس، خطاب، ہم جماعتوں سے گفتگو اور گھر میں تعلیم کے ذریعے حق کی بات پہنچا سکتا ہے۔
3
اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — قلم اور تحریر — لکھنے کی صلاحیت رکھنے والا مضامین، ترجمے، خلاصے اور آسان فہم مواد تیار کر کے دین کی بات اُن لوگوں تک پہنچا سکتا ہے جہاں زبان نہیں پہنچتی۔
4
اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — علم و تدریس — استاد اپنے شاگردوں کو قرآن سمجھ کر پڑھنا سکھا کر، اور طالبِ علم اپنے ساتھیوں کی مدد کر کے، سب سے پائیدار صدقۂ جاریہ جاری کر سکتا ہے۔
5
اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — مال و وسائل — صاحبِ استطاعت مساجد، مدارس، قرآن کی طباعت اور مستحق طلبہ کی تعلیم پر خرچ کر کے اُس کام میں حصہ دار بنتا ہے جو وہ خود نہیں کر سکتا۔
6
اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — ہنر اور پیشہ ورانہ مہارت — ڈاکٹر، انجینئر، کاریگر اور تاجر اپنے شعبے میں دیانت، معیار اور حسنِ سلوک کے ذریعے اسلام کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں — یہ خاموش دعوت اکثر تقریر سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
7
اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — جدید ذرائع ابلاغ — کمپیوٹر، موبائل اور انٹرنیٹ کی مہارت رکھنے والا نوجوان مستند دینی مواد کی ترسیل، ترجمہ اور اشاعت میں وہ کام کر سکتا ہے جو پہلے برسوں میں ممکن نہ تھا۔
8
اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — حسنِ اخلاق اور عملی نمونہ — سچائی، وعدے کی پابندی، والدین سے حسنِ سلوک اور پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی — یہ ہر شخص کے بس میں ہے اور یہی دعوت کا سب سے بنیادی ذریعہ ہے۔
9
رہنما اصول — حکمت اور نرمی — دعوت کا حکم قرآن نے حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین انداز کے ساتھ دیا ہے؛ سختی اور طعنہ دعوت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
10
رہنما اصول — اپنی ذات سے آغاز — جس بات کی دعوت دی جائے پہلے خود اس پر عمل کیا جائے، ورنہ بات دل تک نہیں پہنچتی۔
11
رہنما اصول — تسلسل اور صبر — نتیجہ فوراً ظاہر نہ ہو تو مایوس نہ ہوں؛ ہدایت دینا اللہ کا کام ہے، پہنچا دینا ہمارا۔
12
رہنما اصول — اخلاص — کام صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، شہرت یا داد کے لیے نہیں۔