دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 1: سبق 1: سورہ انعام — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 13 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٖ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلٗاۖ وَأَجَلٞ مُّسَمًّى عِندَهُۥۖ ثُمَّ أَنتُمۡ تَمۡتَرُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 2)

ایت کریمہ میں انسان کے حوالے سے کیا بیان ہوا ہے؟

اس آیت مبارکہ میں انسان کے حوالے سے درج ذیل دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔

1 اللہ نے انسان کو مٹی سے تخلیق — یعنی مٹی وہ مادہ ہے جس سے انسان کی تخلیق اول ہوئی ۔آدم کو مٹی سے بنایا گیا جبکہ باقی انسانوں کو نطفے پانی کے قطرے سے بنایا گیا ہے اور یہ نطفہ خوراک سے بنتا ہے اور انسان کے خوراک بھی مٹی سے ہی حاصل ہوتی ہے اس لیے کہا گیا ہے کہ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے
2 ہر انسان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا گیا ہے — یعنی ہر وہ شخص جس کو اللہ نے دنیا میں بھیجا ہے اس کا اس دنیا میں رہنے کا ایک وقت متعین ہے اس اجل یعنی وقت سے مراد موت کا وقت ہے پھر ایک اور وقت اللہ کے پاس مقرر ہے اس سے مراد دنیا کی اجتماعی موت کا وقت ہے یعنی قیامت کا اور اس کا علم اللہ تعالی نے خاص طور پر اپنے پاس رکھا ہے
2 مختصر جوابات

وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ (سورۃ الانعام ۔ آیت 18)

ایت کریمہ میں اللہ کی کون سی صفات بیان ہوئی ہیں

اس آیت میں اللہ کی تین صفات بیان ہو رہی ہیں

1 وہ اپنے بندوں پر غالب ہے یعنی وہ زور آور ہے اس کا اقتدار پوری کائنات پر محیط ہے اس کی مخلوقات میں سے کوئی بھی اس کے قابو سے باہر نہیں
2 وہ کمال حکمت والا ہے یعنی اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے انسان اللہ کی حکمت کو جاننے سے قاصر ہے
3 وہ ہر چیز سے باخبر ہے کوئی بھی بات کام اور چیز اس سے مخفی نہیں ہے
3 مختصر جوابات

ثُمَّ لَمۡ تَكُن فِتۡنَتُهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ وَٱللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشۡرِكِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 23)

ایت کریمہ کی رو سے مشرکین قیامت کے دن کیا موقف پیش کریں گے

جواب قیامت کے دن جب اللہ تعالی ان لوگوں کو جمع فرمائے گا جو اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ پر جھوٹ باندھتےہیں یعنی اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں تو پھر اللہ تعالی ان سے پوچھیں گے کہ بتاؤ تمہارے شرکاء کہاں ہیں جن کے بارے میں تمہارا گمان تھا کہ وہ تمہیں ہماری پکڑ سے بچا لیں گے تو اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ نافرمان گھبرا جائیں گے اور جھوٹے بہانے اور عذر پیش کرنے لگیں گے اور اللہ کی قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے اور ہم مشرکوں میں سے نہیں ہیں دراصل جن خداؤں کے بارے میں ان کا گمان تھا کہ یہ دیوی اور دیوتاآخرت میں ان کے کام آئیں گے اور ان کی سفارش کریں گے وہ سب غائب ہو جائیں گے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
4 مختصر جوابات

قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَآءِ ٱللَّهِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتۡهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةٗ قَالُواْ يَٰحَسۡرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطۡنَا فِيهَا وَهُمۡ يَحۡمِلُونَ أَوۡزَارَهُمۡ عَلَىٰ ظُهُورِهِمۡۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 31)

ایت کریمہ کی رو سے کفار قیامت کے دن کس حال میں ہوں گے

جواب آیت مبارکہ کی رو سے جب قیامت حق بن کر سامنے آجائے گی تو کفار کی حسرت کی کوئی انتہا نہ رہے گی وہ اپنی پیٹھوں پر کفر شرک اور گناہوں کے بوجھ اٹھائے ہوئے میدان حشر میں پیش ہوں گے
5 مختصر جوابات

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا صُمّٞ وَبُكۡمٞ فِي ٱلظُّلُمَٰتِۗ مَن يَشَإِ ٱللَّهُ يُضۡلِلۡهُ وَمَن يَشَأۡ يَجۡعَلۡهُ عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ (سورۃ الانعام ۔ آیت 39)

ایت کریمہ میں کن لوگوں کو گونگے اور بہرے کہا گیا ہے

جواب اس ایت مبارکہ کی رو سے اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کو گونگے اور بہرے کہا گیا ہے ۔ان لوگوں کو گونگے اور بہرےاس لیے کہا گیا ہے کہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ جب لوگ اللہ کے نبی کی دعوت کے مقابلے میں حسد تکبر اور تعصب دکھاتے ہیں اپنی ضد پر اڑے رہتے ہیں تو ان کی سوچنے سمجھنے اور بولنے کی صلاحیتیں سلب کر لی جاتی ہیں اللہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دیتا ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے پھر نبی کی باتوں کو سننا ان کے لیے مفید نہیں ہوتا ۔

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

قُلۡ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّٗا فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَهُوَ يُطۡعِمُ وَلَا يُطۡعَمُۗ قُلۡ إِنِّيٓ أُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ أَوَّلَ مَنۡ أَسۡلَمَۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 14)

ایت کریمہ کا ترجمہ اور وضاحت کریں

آپ فرما دیجیے کہ میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو کارساز معبود بناؤں وہی آسمانوں اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اسے کھلایا نہیں جاتا ۔آپ فرما دیجیے مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے فرمانبردار ہو جاؤں اور یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ تم مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہو جانا

مفہوم

1 اس آیت مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اے نبی ان کفار و مشرکین سے کہہ دو کہ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا ولی بنا لوں جو آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والا ہے جب کہ تم بھی مانتے ہو کہ زمین و آسمان اور پوری کائنات کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے تو ایسے خالق مالک اور مولا اور کارساز کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا ولی اور حمایتی بنا لوں یہ تو بڑی حماقت کی بات ہے بڑے گھاٹے کا سودا ہے۔
2 اور مشرکین تم بتوں کے سامنے نظریں اور حلوے مانڈے پیش کرتے ہو اللہ کو تو ایسی چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں وہ تو پوری مخلوق کا رب ہے سب کو کھلاتا ہے سب کا رازق ہے
جواب پھر مزید حکم دیا کہ اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ مجھے تو حکم ہوا کہ میں سب سے پہلا فرمانبردار خود بنوں اور شرک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ ہو جاؤں ۔
7 تفصیلی جوابات

ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَعۡرِفُونَهُۥ كَمَا يَعۡرِفُونَ أَبۡنَآءَهُمُۘ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 20)

ترجمہ اور وضاحت کریں

اور وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی تھی وہ اس کو نبی محمد کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو۔

وضاحت

1 اس آیت مبارکہ میں اہل کتاب یہود اور نصاری کا بیان ہے کہ وہ یہود و نصاری اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنی اولاد کو پہچانتا ہے کیونکہ ان کی کتابوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ تحریر تھے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ آخری نبی عرب کی سرزمین میں تشریف لائیں گے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اور خوبیوں کی وجہ سے خوب انہیں اچھی طرح پہچان چکے تھے بالکل ایسے ہی جیسے والدین اپنی اولاد کو پہچاننے میں غلطی نہیں کرتے اسی طرح انہوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب اچھی طرح پہچان لیا تھا کہ یہی اللہ تعالی کے اخری نبی ہیں لیکن ضد ہٹ دھرمی کفر اور معصیت کی بنیاد پر وہ اللہ کے نبی پر ایمان نہیں لا رہے تھے ۔کیونکہ انہیں اس بات کا غم اور غصہ تھا کہ اخری نبی ان کی نسل سے کیوں نہیں آئے اہل عرب سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کیوں آگئے ہیں ۔
8 تفصیلی جوابات

وَهُمۡ يَنۡهَوۡنَ عَنۡهُ وَيَنۡـَٔوۡنَ عَنۡهُۖ وَإِن يُهۡلِكُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 26)

ترجمہ اور وضاحت کریں

ترجمہ

اور یہ لوگ دوسروں کو اس قران سے روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں اور اس طرح وہ صرف اپنے اپ کو یہ ہلاک کر رہے ہیں اور وہ کچھ خبر نہیں رکھتے

مفہوم

جواب اس آیت مبارکہ میں کفار کے سرداروں کا طرز عمل بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی عوام کو قرآن پر ایمان لانے سے روکتے ہیں اور دوسری طرف خود بھی اس سے گریز کرتے ہیں اور پہلو تہی کرتے ہیں یعنی کفار کے سردار مختلف حربے استعمال کرتے تھے اور مختلف سازشیں اور چالیں کرتے تھے تاکہ اسلام قبول کرنے کی طرف جن لوگوں کے دل مائل ہو رہے ہیں انہیں اسلام سے بدظن کر دیا جائے اللہ تعالی فرماتے ہیں یہ لوگ اپنے اس طرز عمل سے اپنے اپ کو ہی ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور اس عذاب اور اس برے انجام سے بالکل بے خبر ہیں جو ان کو عنقریب ملنے والا ہے۔
9 تفصیلی جوابات

وَقَالُوٓاْ إِنۡ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنۡيَا وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوثِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 29)

ایت کا ترجمہ کریں اور بتائیں آیت کریمہ میں منکرین کے کس قول کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اور وہ کہتے ہیں ہماری تو دنیا ہی کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد نہیں اٹھائے جائیں گے

جواب قریش کی اکثر لوگ اور عرب کے بیشتر مشرکین اللہ کو مانتے تھے آخرت کو مانتے تھے بعض بعد الموت کو بھی مانتے تھے لیکن اس کے ساتھ وہ دیوی اور دیوتاؤں کی سفارش اور شفاعت کی بھی قائل تھے کہ ہمیں فلاں چھڑا لے گا فلاں بچا لے گا فلاں مددگار ہوگا لیکن ایک طبقہ ان میں ایسا بھی تھا جو کہتا تھا کہ زندگی بس یہی دنیا کی ہے اس کی بعدکوئی اور زندگی نہیں یہاں اس ایت میں ان لوگوں کا ہی تذکرہ ہے ۔دراصل آج بھی ایسے لوگ دنیا میں موجود ہیں جو اللہ کو تو مانتے ہیں اخرت کو نہیں مانتے ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ اور اخرت کو مانتے ہیں لیکن رسالت کو نہیں مانتے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بالکل ملحد اور مادہ پرست ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ہم خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور خود ہی اپنی طبعی موت مر جاتے ہیں اور اب ہماری زندگی یہی ہے مرنے کے بعد اٹھنے والا کوئی معاملہ نہیں ۔اس ایت مبارکہ میں انہی لوگوں کی طرف اشارہ کیا جا رہا۔
10 تفصیلی جوابات

وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا طَـٰٓئِرٖ يَطِيرُ بِجَنَاحَيۡهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمۡثَالُكُمۚ مَّا فَرَّطۡنَا فِي ٱلۡكِتَٰبِ مِن شَيۡءٖۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ يُحۡشَرُونَ (سورۃ الانعام ۔ آیت 38)

ترجمہ اور وضاحت کریں

ترجمہ

اور زمین میں جتنے بھی چلنے والے جانور ہیں اور جو پرندہ بھی اپنے دونوں بازوں سے اڑتا ہے یہ سب تمہاری طرح کی جماعتیں ہیں ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی پھر وہ سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے

وضاحت

جواب جانوروں اور پرندوں کوانسانوں کی طرح کی جماعتیں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام جانوروں پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کے رہنے سہنے کے بھی اپنے اپنے طور طریقے اور نظام ہیں ان کے اپنے لیڈر ہوتے ہیں جیسے چیونٹیوں کی بھی ایک ملکہ ہوتی ہے جس کے ماتحت وہ رہتی ہے اور کام کرتی ہے اسی طرح شہد کی مکھیوں کی بھی ملکہ ہوتی ہے اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا کہ ہم نے اپنی کتاب میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رکھی یعنی قران مجید میں ہم نے ہر طرح کے دلائل دے دیے ہیں ہر طرح کے شواہد پیش کر دیے ہیں ہر طرح سے وضاحت کر دی ہے ان سب کو اخر کار اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے وہاں ہر ایک کو اپنے کیے کا پورا پورا بدلہ ملے گا

سرگرمیاں

11 سرگرمیاں

اللہ نے جو منفرد صلاحیتیں ہمیں عطا فرمائی ہیں، ان سے ہم دینِ اسلام کی دعوت، تنفیذ و اشاعت میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کوئی نہ کوئی ایسی صلاحیت عطا فرمائی ہے جو دوسروں سے مختلف ہے، اور دینِ اسلام کی دعوت و اشاعت کسی ایک طبقے کا کام نہیں بلکہ ہر اُس شخص کی ذمہ داری ہے جس تک یہ پیغام پہنچ جائے۔ خود اسی سورت میں یہ ذمہ داری ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے:

اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں اور رہنما اصول

1 قُلۡ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ وَإِنَّنِي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُشۡرِكُونَ …اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں اور ہر اُس شخص کو ڈراؤں جس تک یہ پہنچے۔ (سورۃ الانعام ۔ آیت 19)
2 اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — قوتِ گفتار — جسے اللہ نے بولنے کی صلاحیت اور اثر انگیز اندازِ بیان دیا ہو، وہ درس، خطاب، ہم جماعتوں سے گفتگو اور گھر میں تعلیم کے ذریعے حق کی بات پہنچا سکتا ہے۔
3 اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — قلم اور تحریر — لکھنے کی صلاحیت رکھنے والا مضامین، ترجمے، خلاصے اور آسان فہم مواد تیار کر کے دین کی بات اُن لوگوں تک پہنچا سکتا ہے جہاں زبان نہیں پہنچتی۔
4 اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — علم و تدریس — استاد اپنے شاگردوں کو قرآن سمجھ کر پڑھنا سکھا کر، اور طالبِ علم اپنے ساتھیوں کی مدد کر کے، سب سے پائیدار صدقۂ جاریہ جاری کر سکتا ہے۔
5 اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — مال و وسائل — صاحبِ استطاعت مساجد، مدارس، قرآن کی طباعت اور مستحق طلبہ کی تعلیم پر خرچ کر کے اُس کام میں حصہ دار بنتا ہے جو وہ خود نہیں کر سکتا۔
6 اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — ہنر اور پیشہ ورانہ مہارت — ڈاکٹر، انجینئر، کاریگر اور تاجر اپنے شعبے میں دیانت، معیار اور حسنِ سلوک کے ذریعے اسلام کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں — یہ خاموش دعوت اکثر تقریر سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
7 اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — جدید ذرائع ابلاغ — کمپیوٹر، موبائل اور انٹرنیٹ کی مہارت رکھنے والا نوجوان مستند دینی مواد کی ترسیل، ترجمہ اور اشاعت میں وہ کام کر سکتا ہے جو پہلے برسوں میں ممکن نہ تھا۔
8 اپنی صلاحیتوں کو دین کے لیے استعمال کرنے کی صورتیں — حسنِ اخلاق اور عملی نمونہ — سچائی، وعدے کی پابندی، والدین سے حسنِ سلوک اور پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی — یہ ہر شخص کے بس میں ہے اور یہی دعوت کا سب سے بنیادی ذریعہ ہے۔
9 رہنما اصول — حکمت اور نرمی — دعوت کا حکم قرآن نے حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین انداز کے ساتھ دیا ہے؛ سختی اور طعنہ دعوت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
10 رہنما اصول — اپنی ذات سے آغاز — جس بات کی دعوت دی جائے پہلے خود اس پر عمل کیا جائے، ورنہ بات دل تک نہیں پہنچتی۔
11 رہنما اصول — تسلسل اور صبر — نتیجہ فوراً ظاہر نہ ہو تو مایوس نہ ہوں؛ ہدایت دینا اللہ کا کام ہے، پہنچا دینا ہمارا۔
12 رہنما اصول — اخلاص — کام صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، شہرت یا داد کے لیے نہیں۔
12 سرگرمیاں

سورہ انعام کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ کی بیان ہونے والی صفات کی فہرست بنائیں۔

سورۃ الانعام کا دوسرا رکوع آیات 11 تا 18 پر مشتمل ہے۔ اس مختصر رکوع میں اللہ تعالیٰ کی متعدد صفات یکے بعد دیگرے بیان ہوئی ہیں، جن کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ کائنات کا مالک، رازق، نافع و ضار اور غالب صرف ایک اللہ ہے۔

دوسرے رکوع میں مذکور صفاتِ باری تعالیٰ

1 مالکِ کائنات — رات اور دن میں بسنے والی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے (وَلَهُۥ مَا سَكَنَ فِي ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ) — آیت 13۔
2 السمیع، العلیم — وہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے — آیت 13۔
3 کاتبِ رحمت — اس نے اپنی ذات پر رحمت کو لازم کر لیا ہے (كَتَبَ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَ) — آیت 12۔
4 جامعِ قیامت — وہی تمام مخلوق کو قیامت کے دن جمع کرنے والا ہے، جس میں کوئی شک نہیں — آیت 12۔
5 فاطرِ سماوات و ارض — آسمانوں اور زمین کو عدم سے پیدا کرنے والا — آیت 14۔
6 رازقِ مطلق اور بے نیاز — وہ کھلاتا ہے اور خود نہیں کھایا جاتا (وَهُوَ يُطۡعِمُ وَلَا يُطۡعَمُ) — آیت 14۔
7 صاحبِ عذابِ عظیم — اس کی نافرمانی پر ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے — آیت 15۔
8 الرحیم — جسے اُس دن عذاب سے بچا لیا گیا، یہی اس پر اللہ کی رحمت اور کھلی کامیابی ہے — آیت 16۔
9 کاشفُ الضُّر — اگر وہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں — آیت 17۔
10 القدیر — اور اگر وہ بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے — آیت 17۔
11 القاہر فوق عبادہ — وہ اپنے بندوں پر پورے غلبے اور اقتدار والا ہے — آیت 18۔
12 الحکیم، الخبیر — اس کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے — آیت 18۔
جواب وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے، اور وہی حکمت والا، خبر رکھنے والا ہے۔ (سورۃ الانعام ۔ آیت 18)
13 سرگرمیاں

سورہ انعام میں مذکور حلال جانوروں کے نام تحریر کریں۔

سورۃ الانعام کا نام ہی “مویشیوں” کے حوالے سے ہے۔ اس سورت کی آیات 143 اور 144 میں چار قسم کے چوپائے بطورِ حلال جانور شمار کرائے گئے ہیں، اور ہر ایک کا نر اور مادہ الگ گنا گیا ہے، اس لیے قرآن انہیں “آٹھ جوڑے” (ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖ) کہتا ہے۔

چار اقسام ۔ آٹھ جوڑے (آیات 143 تا 144) اور متعلقہ اہم نکات

1 چار اقسام ۔ آٹھ جوڑے (آیات 143 تا 144) — الضَّأۡن ۔ بھیڑ — دنبہ اور بھیڑ؛ نر اور مادہ دونوں حلال — پہلا جوڑا۔
2 چار اقسام ۔ آٹھ جوڑے (آیات 143 تا 144) — الۡمَعۡز ۔ بکری — بکرا اور بکری؛ نر اور مادہ دونوں حلال — دوسرا جوڑا۔
3 چار اقسام ۔ آٹھ جوڑے (آیات 143 تا 144) — الۡإِبِل ۔ اونٹ — اونٹ اور اونٹنی؛ نر اور مادہ دونوں حلال — تیسرا جوڑا۔
4 چار اقسام ۔ آٹھ جوڑے (آیات 143 تا 144) — الۡبَقَر ۔ گائے — بیل اور گائے (بشمول بھینس)؛ نر اور مادہ دونوں حلال — چوتھا جوڑا۔
5 متعلقہ اہم نکات — بوجھ اٹھانے والے اور چھوٹے چوپائے — آیت 142 میں انہی مویشیوں کو حَمُولَةٗ وَفَرۡشٗا کہا گیا ہے، یعنی کچھ بوجھ اٹھانے کے قابل بڑے اور کچھ زمین سے قریب چھوٹے قد کے۔
6 متعلقہ اہم نکات — مشرکین کی خود ساختہ تحریم کا رد — یہ فہرست اس لیے دی گئی کہ مشرکینِ عرب بحیرہ، سائبہ اور وصیلہ جیسے نام رکھ کر بعض حلال جانوروں کو اپنی طرف سے حرام ٹھہرا لیتے تھے؛ قرآن نے واضح کیا کہ حلال و حرام ٹھہرانے کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔
7 متعلقہ اہم نکات — ذبح پر اللہ کا نام — آیات 118 اور 121 کے مطابق حلال جانور بھی اسی صورت میں حلال رہتا ہے جب اس پر اللہ کا نام لیا جائے؛ جس پر غیر اللہ کا نام لیا جائے وہ حرام ہے۔
8 متعلقہ اہم نکات — حرام کردہ اشیاء — آیت 145 میں چار چیزیں حرام قرار دی گئیں: مُردار، بہتا ہوا خون، خنزیر کا گوشت، اور وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.