دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 18: سبق 18: سورۃ بنی اسرائیل (آیات 1 تا 40) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 13 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِي لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِيْرًا

آیت میں قرآن میں کیا صفات بیان فرمائی گئی ہیں ؟

ترجمہ

بیشک یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا (اور درست) ہے اور ایمان والوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری سناتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے

جواب سورہ بنی اسرائیل (الاسراء) میں قرآن مجید کی اہم صفات ہدایت (سب سے سیدھا راستہ دکھانے والا)، شفا (دلوں کی بیماریوں کا علاج) اور رحمت (مومنین کے لیے فضل) بیان کی گئی ہیں
2 مختصر جوابات

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا

آیت میں کن احکام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ؟

ترجمہ

اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور محتاجوں اور مسافروں کو بھی (دو) اور (اپنا مال) فضول خرچی سے مت اڑاؤ

1 اس آیت میں بیان کردہ اہم احکام — صلہ رحمی اور رشتہ داروں کے حقوق — قریبی رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم
2 اس آیت میں بیان کردہ اہم احکام — صلہ رحمی اور رشتہ داروں کے حقوق — ان کی خبر گیری رکھنے اور ضرورت کے وقت ان کی مالی امداد کرنے کا حکم۔
3 محتاجوں اور مساکین کی امداد — معاشرے کے غریب، نادار اور محتاج افراد کی ضرورت پوری کرنے کا فریضہ۔
4 محتاجوں اور مساکین کی امداد — مسافروں کا خیال رکھنا — ایسے مسافر جو سفر میں محتاج ہو گئے ہوں، انہیں تعاون فراہم کرنا۔
5 فضول خرچی اور تبذیر سے ممانعت — مال کو بے جا طریقوں، گناہ یا ناجائز کاموں میں ضائع کرنے (تبذیر) سے اجتناب۔
6 فضول خرچی اور تبذیر سے ممانعت — مال خرچ کرنے میں میانہ روی اور اعتدال کا اختیار کرنا۔
3 مختصر جوابات

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا

آیت میں کن لوگوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے؟

ترجمہ

بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بہت بڑا ناشکرا ہے

سورہ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت نمبر 27 میں فضول خرچوں اور بے جا مال اڑانے والوں (المبذرین) کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے

اہم نکات اور تشریح

1 مبذرین کون ہیں؟ — جو اپنے مال کو ناجائز، فضول اور بے کار کاموں میں ضائع کرتے ہیں یا ضرورت سے زیادہ اڑاتے ہیں۔
2 شیطان کا بھائی قرار دینے کی وجہ — فضول خرچ لوگ نافرمانی اور برے کاموں کی عادت میں شیطان کے ساتھی اور اس کے طریقِ کار پر چلنے والے ہوتے ہیں۔
3 ناشکری کی عادت — جس طرح شیطان اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا اور ناشکرا بنتا ہے، اسی طرح فضول خرچ بھی مال جیسی نعمت کو غلط راہ میں بہا کر اپنے رب کا ناشکرا بنتا ہے
4 مختصر جوابات

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا

آیت میں زنا کے بارے میں کیا تنبیہ کی گئی ہے؟

ترجمہ

ور زنا کے قریب بھی مت جاؤ، بے شک وہ بے حیائی کا کام ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے

سورہ بنی اسرائیل (الاسراء) کی آیت نمبر 32 میں زنا کے قریب جانے سے بھی سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے اور اسے ایک انتہائی قبیح بے حیائی اور بدترین راستہ قرار دیا گیا ہے

زنا کے بارے میں تنبیہ کے اہم نکات

1 قریب جانے کی ممانعت — زنا نہ کرو" کے بجائے "زنا کے قریب بھی نہ جاؤ" کا حکم دیا گیا ہے۔
2 اس میں ہر وہ قدم، عمل، اور ذریعہ شامل ہے جو انسان کو اس گناہ کی طرف لے جا سکتا ہے (جیسے بری نظر، خلوت، یا فحش ماحول)۔
3 فاحشہ (بڑی بے حیائی) — اسے عقل، فطرت اور شریعت کے لحاظ سے ایک انتہائی گھناؤنی اور شرمناک بے حیائی قرار دیا گیا ہے۔
4 برا راستہ (ساء سبیلا) — اسے زندگی اور معاشرے کے لیے تباہ کن، گمراہ کن اور بدترین انجام والا راستہ بتایا گیا ہے جو اخلاقی اور خاندانی نظام کو برباد کر دیتا ہے
5 مختصر جوابات

ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِۚ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا

آیت میں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں کا کیا انجام ذکر کیا گیا ہے؟

ترجمہ

یہ ان حکمت والی باتوں میں سے ہے جو تمہارے رب نے تمہاری طرف بھیجی ہیں، اور تو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرا، ورنہ تجھے ملامت زدہ اور دھتکارا ہوا کر کے جہنم میں جھونک دیا جائے گا

انجام کے اہم نکات

1 جہنم میں داخلہ — مشرک کو بطور سزا جہنم کی آگ میں ڈال دیا جائے گا۔
2 ملامت زدہ (ملوم) — وہ خود اپنے آپ کو اور اسے سب لوگ ملامت کریں گے۔
3 دھتکارا ہوا (مدحور) — وہ اللہ کی رحمت سے بالکل دور اور ذلیل و مردود کر د

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

پاکی ہے اس ذات کو جو اپنے بندے کو رات کے تھوڑے سے حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیا، جس کے گردو نواح کو ہم نے برکت دی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانییاں دکھائیں۔ بے شک وہی خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے

مفہوم و تشریح

1 واقعہ معراج — اس آیت میں معراج کے مقدس سفر کا ذکر ہے جب اللہ تعالی نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو راتوں رات مکہ مکرمہ (مسجد حرام) سے بیت المقدس (مسجد اقصی) کی سیر کرائی۔
2 قدرتِ الٰہی — سبحان" کہہ کر یہ واضح کیا گیا کہ اللہ ہر قسم کے عیب اور کمزوری سے پاک ہے، اور وہ ایسی قدرت رکھتا ہے کہ جو کام انسان کے نزدیک طویل وقت یا ناممکن معلوم ہو، وہ اسے پل بھر میں پورا کر سکتا ہے۔
3 مسجدِ اقصی کی فضیلت — مسجد اقصی اور اس کے آس پاس کے علاقے کو دینی و دنیاوی برکتوں سے نوازا گیا ہے۔
4 مشاہدۂ قدرت — اس سفر کا ایک بڑا مقصد نبی کریم ﷺ کو اپنی عظیم نشانیوں اور عجائبِ غیب کا مشاہدہ کرانا تھا۔
7 تفصیلی جوابات

وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا

آیت کا ترجمہ اور وضا حت کریں

ترجمہ

ور آپ کے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو "اف" بھی مت کہو، نہ ان کو جھڑکاو، اور ان سے نرمی اور عزت کے ساتھ بات کرو

1 وضاحت — سورۃ بنی اسرائیل (الإسراء) کی آیت نمبر 23 میں اللہ تعالی نے توحید یعنی صرف اسی کی عبادت کرنے اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، بالخصوص بڑھاپے میں ان کا ادب کرنے کا تاکیدی حکم دیا ہے
2 توحید اور والدین کے حقوق کا ربط — ترتیب — اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔
3 توحید اور والدین کے حقوق کا ربط — وجہ — اللہ انسان کا حقیقی خالق ہے، اور والدین اس دنیا میں انسان کے وجود کا ظاہری سبب ہیں۔
4 توحید اور والدین کے حقوق کا ربط — اہمیت — اس ربط سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد میں سب سے پہلا اور بڑا حق والدین کا ہے۔
5 2۔ بڑھاپے کا خصوصی ذکر ("عِندَكَ الْكِبَرَ") — بڑھاپے کی نفسیات — بڑھاپے میں انسان کمزور، بیمار اور چڑچڑا ہو جاتا ہے۔
6 2۔ بڑھاپے کا خصوصی ذکر ("عِندَكَ الْكِبَرَ") — آزمائش — اس عمر میں والدین کو اولاد کی توجہ اور خدمت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
7 2۔ بڑھاپے کا خصوصی ذکر ("عِندَكَ الْكِبَرَ") — شرط — اللہ نے "عِندَكَ" (تمہارے پاس) فرمایا، یعنی جب وہ تمہارے رحم و کرم پر ہوں تو ان کا پورا خیال رکھنا تمہاری ذمہ داری ہے۔
8 3۔ "اف" کہنے کی ممانعت — اف" عربی میں بیزاری، تھکن یا ناگواری کے اظہار کا سب سے چھوٹا لفظ ہے۔
9 3۔ "اف" کہنے کی ممانعت — حکم — جب اللہ نے "اف" کہنے سے بھی منع کر دیا، تو گالی دینا، ہاتھ اٹھانا یا دل دکھانا سخت ترین گناہ اور حرام ہے۔
10 3۔ "اف" کہنے کی ممانعت — صبر کی تلقین — والدین کی کسی بات پر غصہ آئے تو بھی زبان اور جذبات پر مکمل قابو رکھنا فرض ہے۔
11 4۔ جھڑکنے کی ممانعت ("وَلَا تَنْهَرْهُمَا") — تیز آواز — والدین کے سامنے آواز اونچی کرنا یا انہیں ڈانٹنا سخت ممنوع ہے۔
12 4۔ جھڑکنے کی ممانعت ("وَلَا تَنْهَرْهُمَا") — ادب — ان کی بات کو ہمیشہ عاجزی اور نیچی آواز میں سننا چاہیے۔
13 5۔ معزز گفتگو ("قَوْلًا كَرِيمًا") — اندازِ گفتگو — والدین سے بات کرتے وقت الفاظ کا انتخاب نہایت خوبصورت، نرم اور تعظیمی ہونا چاہیے۔
14 5۔ معزز گفتگو ("قَوْلًا كَرِيمًا") — مثال — ایسے بات کریں جیسے ایک مجرم اپنے بادشاہ کے سامنے یا ایک غلام اپنے شفیق آقا کے سامنے انتہائی ادب سے بات کرتا ہے۔
8 تفصیلی جوابات

سورہ بنی اسرائیل کی ابتدائی

آیات میں کس واقعہ کا ذکر ہے؟

سورہ بنی اسرائیل (سورہ الاسراء) کی ابتدائی آیات میں واقعہ معراج اور بنی اسرائیل کی سرکشی کا ذکر ہے، جس میں مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک رات کے سفر اور زمین پر ان کے دو بار فساد مچانے کی سرگزشت بیان کی گئی ہے۔

معراج اور سرکشی کی تفصیل

1 واقعہ معراج — نبی کریم ﷺ کو رات کے وقت مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک سیر کرانے کا ذکر ہے
2 آسمانی سفر — اس مقدس سفر کے دوران اللہ تعالی نے اپنی نشانیاں دکھائیں۔
3 بنی اسرائیل کا پہلا فساد — تورات میں سرکشی اور زمین پر بڑا غرور کرنے کا واقعہ۔
4 پہلی سزا — اللہ تعالی نے سخت جنگجو قوم "قوم عمالقہ "کو ان پر مسلط کیا۔
5 دوسرا فساد اور سزا — دوبارہ سرکشی کرنے پر دشمنوں (بخت نصر اور ایرانیوں)کو مسلط کیا گیا تاکہ وہ ان کے چہروں کو بگاڑ دیں۔
9 تفصیلی جوابات

وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور جب ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور جب تول کر دو تو ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہت بہتر ہے

1 مفہوم: ۔ معاشی دیانت داری اور انصاف — اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تجارت اور لین دین کا ایک بنیادی اصول بیان فرمایا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کو کوئی چیز ناپ کر یا تول کر دے، تو اس میں کسی قسم کی کمی یا ڈنڈی مارنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ "قسطاس مستقیم" سے مراد وہ سیدھا اور درست ترازو ہے جس میں کوئی خرابی نہ ہو۔
2 2۔ معاشرتی اثرات — تجارت میں ناپ تول کی کمی معاشرے میں بے اعتمادی، لڑائی جھگڑے اور نفرت کا باعث بنتی ہے۔ جب تاجر دیانت داری اختیار کرتے ہیں تو ،گاہک کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔ رزق میں برکت ہوتی ہے۔معاشرے سے دھوکہ دہی کا خاتمہ ہوتا ہے۔
3 3 — دنیا اور آخرت کا بہترین انجام۔آیت کے آخری حصے ("ذلک خیر و احسن تأویلاً") کا مطلب یہ ہے کہ ایمانداری کا راستہ اختیار کرنا ہی دنیا اور آخرت دونوں میں بہترین انجام کا حامل ہے۔
4 3 — دنیا میں — ایماندار تاجر کا کاروبار چمکتا ہے اور اس کی نیک نامی ہوتی ہے۔
5 3 — آخرت میں — وہ اللہ کے ہاں سرخرو ہوگا اور سخت عذاب سے بچ جائے گا (جیسا کہ سورہ المطففین میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت کی وعید آئی ہے)۔

سرگرمیاں

10 سرگرمیاں

واقعہ معراج نبیﷺ کا بہت بڑا معجزہ ہے وضاحت کریں

واقعہ معراج النبیﷺ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور حضور اکرمﷺ کا عظیم ترین معجزہ ہے، جس میں آپ نے مسجد الحرام سے مسجد اقصی اور پھر سات آسمانوں سے آگے عالمِ لامکاں کا سفر بیداری کی حالت میں ایک ہی رات کے قلیل ترین حصے میں طے کیا واقعہ معراج کے عقلی، سائنسی اور قرآنی شواہد پر مبنی تفصیلی مذاکرہ درج ذیل ہے۔

1 1۔ قرآنی شواہد اور ثبوت — سورہ بنی اسرائیل — اسراء (زمینی سفر) کا ذکر قرآن کی آیت "سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً" سے ثابت ہے۔
2 1۔ قرآنی شواہد اور ثبوت — سورہ النجم — معراج (آسمانی سفر) اور سدرۃ المنتہیٰ کا تفصیلی ذکر اسی سورت میں موجود ہے۔
3 1۔ قرآنی شواہد اور ثبوت — روحانی یا جسمانی — جمہور علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ یہ سفر خواب نہیں بلکہ بیداری میں جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوا تھا۔
4 2۔ عقلی اور سائنسی تشریح — وقت کا سمٹنا (Time Dilation) — جدید فزکس (آئن سٹائن کی تھیوری) کے مطابق رفتار بڑھنے سے وقت سست ہو جاتا ہے۔
5 2۔ عقلی اور سائنسی تشریح — کائناتی سفر — مادی رکاوٹوں کو عبور کرنا اللہ کی دی ہوئی طاقت اور براق کی غیر معمولی رفتار سے ممکن ہوا۔
6 2۔ عقلی اور سائنسی تشریح — تسخیرِ کائنات کا اشارہ — یہ واقعہ انسان کے لیے زمین سے باہر کائنات کی وسعتوں کو تسخیر کرنے کا پہلا عملی نمونہ ہے۔
7 3۔ تعلیمی اور اخلاقی پہلو — صبر کا انعام — یہ واقعہ "عام الحزن" (غم کے سال) کے بعد پیش آیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ تنگی کے بعد آسانی ہے۔
8 3۔ تعلیمی اور اخلاقی پہلو — نماز کی اہمیت — تمام احکامات زمین پر نازل ہوئے، مگر نماز کا تحفہ دینے کے لیے نبی ﷺ کو آسمانوں پر بلایا گیا۔
9 3۔ تعلیمی اور اخلاقی پہلو — حق اور باطل کا فرق — مکہ کے مشرکین کے لیے یہ آزمائش تھی اور ایمان والوں کے لیے ایمان کی پختگی کا ذریعہ بنی۔
11 سرگرمیاں

معاشرے میں بے جامال خرچ کرنے کی صورتیں اور ان سے کیسے بچا جائے؟

معاشرے میں بے جا مال خرچ کرنے کی بڑی صورتیں فضول خرچی، نمود و نمائش (نمائش اور دکھاوا)، اور اسراف شامل ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے سادگی اپنانا، ضرورت اور خواہش میں فرق کرنا، اور حلال و حرام کا دھیان رکھنا بہت ضروری ہے

بے جا مال خرچ کرنے کی صورتیں اور بچنے کے طریقے

1 بے جا مال خرچ کرنے کی صورتیں — شادی بیاہ اور تقریبات — جہیز کی نمائش اور مہنگے کھانے،شادی ہالز کی سجاوٹ اور غیر ضروری رسومات
2 بے جا مال خرچ کرنے کی صورتیں — نمائش اور فیشن — مہنگے برانڈز کے کپڑے اور جوتے خریدنا ۔دکھاوے کے لیے بڑی گاڑیوں اور پرتعیش اشیاء کا حصول
3 بے جا مال خرچ کرنے کی صورتیں — غیر ضروری خریداری — ضرورت سے زیادہ اشیاءِ خورونوش خرید کر ضائع کرنا۔سیل اور آفرز کے نام پر بے کار چیزیں مول لینا
4 بچنے کے طریقے — سادگی کا اصول — زندگی کے ہر معاملے میں میانہ روی اور سادگی اختیار کریں
5 بچنے کے طریقے — بجٹ بنانا — ماہانہ آمدنی کا تخمینہ لگا کر خرچ طے کریں اور بچت کی عادت ڈالیں
6 بچنے کے طریقے — فرق سمجھیں — بنیادی ضروریات اور عارضی خواہشات کے درمیان فرق کو سمجھیں
7 بچنے کے طریقے — دکھاوے سے توبہ — لوگوں کی تنقید یا تعریف کی پرواہ کیے بغیر اپنی مالی حیثیت کے مطابق زندگی گزاریں
12 سرگرمیاں

سورۃ بنی اسرائیل کی رو شنی میں اسلام کی معاشرتی تعلیمات کی فہرست نیز متعلقہ عنوان کے سامنے آیت کا حوالہ دیں

سورۃ بنی اسرائیل (الإسراء) میں اسلام کی بنیادی معاشرتی، اخلاقی اور تمدنی تعلیمات کا ایک جامع منشور پیش کیا گیا ہے، جس میں والدین کے حقوق، رشتہ داروں کی امداد، اور مالی اعتدال جیسے اہم موضوعات شامل ہیں

سورۃ بنی اسرائیل کی معاشرتی تعلیمات اور آیات کے حوالے

1 والدين کے ساتھ حسن سلوک اور عاجزی — والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ، ان کو اف تک نہ کہنے اور نرمی سے بات کرنے کا حکم — آیت 23 اور 24
2 رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کے حقوق کی ادائیگی — قریبی رشتہ داروں، محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دینا — آیت 26
3 اسراف (فضول خرچی) سے ممانعت — مال کو بے جا اڑانے سے منع کیا گیا کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں — آیت 26 اور
4 معاشی اعتدال اور میانہ روی — نہ تو بالکل ہاتھ باندھ کر بیٹھ رہو اور نہ ہی اتنی کشادہ دستی کرو کہ خود ملامت زدہ اور محتاج ہو جاؤ — آیت 29
5 اولاد کی قتل سے ممانعت (غربت کے ڈر سے) — فقر اور غربت کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنے کی سخت تاکید — آیت 31
6 بے حیائی اور زنا کے قریب جانے کی ممانعت — زنا کو انتہائی برا اور فحش فعل قرار دیتے ہوئے اس کے پاس جانے سے بھی روکا گیا — آیت 32
7 ناحق جان لینے کی ممانعت: آیت 33 — کسی انسان کی جان کو ناحق قتل کرنا حرام ہے، البتہ حق کے ساتھ (قانون کے تحت) بدلہ لینا اس سے مستثنیٰ ہے
8 آیت ۔34یتیم کے مال کی حفاظت — یتیم کے مال کے قریب نہ پھٹکنا سوائے اس طریقے کے جو بہترین ہو (حفاظت اور بہتری کے لیے)، یہاں تک کہ یتیم جوانی کو پہنچ جائے
9 آیت 34۔عہد اور پیمان کی پاسداری — اپنے وعدوں اور معاہدوں کو پورا کرنا کیونکہ روزِ قیامت عہد کے بارے میں بازپرس ہوگی — آیت 34
10  ناپ تول میں انصاف — جب کسی کو ناپ کر یا تول کر دو تو پورا پورا ناپو اور سیدھے ترازو سے وزن کرو — آیت 35
11  لاعلمی اور بے ثبوت بات کی پیروی سے گریز: آیت 36 — جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو، کیونکہ کان، آنکھ اور دل سب سے اس بارے میں بازپرس کی جائے گا
12 زمین میں تکبر اور غرور سے چلنے کی ممانعت — زمین پر اکڑ کر نہ چلو کیونکہ تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتے ہو — آیت 37
13 سرگرمیاں

واقعہ معراج کے اہم نکات اور اسباق تحریر کریں

واقعہ معراج اللہ کے عظیم معجزات میں سے ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے مسجد حرام سے مسجد اقصی اور پھر ساتوں آسمانوں تک کا سفر کیا۔ اس کے اہم نکات میں اسراء و معراج کا فرق، امامتِ انبیاء اور فرضیتِ نماز شامل ہیں

اہم نکات اور اہم اسباق

1 اہم نکات — اسراء — مکہ سے بیت المقدس (مسجد اقصی) تک زمینی سفر۔
2 اہم نکات — معراج — مسجد اقصی سے سدرۃ المنتہیٰ اور عالم بالا تک آسمانی سفر۔
3 اہم نکات — امامت — بیت المقدس میں تمام انبیائے کرام کی نماز میں آپ ﷺ کی اقتدا کرنا۔
4 اہم نکات — تحفہ — معراج کی رات امتِ مسلمہ کے لیے پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی۔
5 اہم اسباق — نماز کی اہمیت — نماز مومن کی معراج اور اللہ سے قرب کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
6 اہم اسباق — صبر کا صلہ — سخت ترین حالات (عام الحزن) کے بعد اللہ نے اپنے محبوب کو یہ عظیم اعزاز عطا کیا۔
7 اہم اسباق — عظمتِ انبیاء — تمام انبیاء کی موجودگی اور امامت سے یہ ثابت ہوا کہ دینِ اسلام اور آپ ﷺ کی رسالت سب کے لیے مرکزِ اتحاد ہے۔
8 اہم اسباق — توحید اور قدرتِ الٰہی — کائنات کی حقیقتیں اور عوالمِ غیب آشکار ہوئے جو انسان کی عقل سے ماورا ہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.