دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 17: سبق 17: سورۃ النحل (آیات 90 تا 128) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 22 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

آیت میں کیا تعلیمات بیان ہوئی ہیں ؟

ترجمہ

بے شک اللہ (تمہیں) عدل کا، احسان کا اور رشتہ داروں کو (ان کا حق) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کاموں اور ظلم و سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم دھیان رکھو

آیت مبارکہ میں اسلام کی اخلاقی اور معاشرتی تعلیمات کا نچوڑ درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔

آیت میں بیان کردہ بنیادی تعلیمات

1 عدل — ہر معاملے میں حق اور انصاف کا ساتھ دینا، خواہ دوستی ہو یا دشمنی، اور حقوق کو پورا کرنا।
2 احسان — عدل سے ایک قدم آگے بڑھ کر نرمی، رواداری اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا، یعنی بدلے میں پورا حق لینے کے بجائے درگذر سے کام لینا۔
3 صلہ رحمی — اپنے قریبی رشتہ داروں کی مالی اورجسمانی مدد کرنا اور ان کے حقوق کا خیال رکھنا
4 فحشاء سے ممانعت — ہر اس قول اور فعل سے بچنا جو شرعی اور اخلاقی لحاظ سے انتہائی قبیح اور بے حیائی کے زمرے میں آتا ہو۔
5 منکر سے ممانعت — ان تمام برے کاموں اور ناشائستہ حرکات سے رک جانا جنہیں عقلِ سلیم اور شریعت برا سمجھتی ہے
6 بغی سے ممانعت — کسی پر ظلم کرنا، زیادتی کرنا یا ناحق سرکشی اور تکبر کرنے سے گریز کرنا۔
2 مختصر جوابات

وَأَوْفُوا۟ بِعَهْدِ ٱللَّهِ إِذَا عَٰهَدتُّمْ وَلَا تَنقُضُوا ٱلْأَيْمَٰنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ ٱللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ

آیت میں وعدہ اور قسم کے حوالے ے کیا بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم آپس میں عہد کرو اور قسموں کو ان کے پختہ کرنے کے بعد مت توڑو، حالانکہ یقیناً تم نے اللہ کو اپنے آپ پر ضامن (گواہ یا نگران) بنایا ہے۔ بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

وعدہ اور قسم کے حوالے سے احکام و ہدایات

1 عہد کی پابندی — باہم کیے گئے تمام قول و اقرار، معاہدے اور بیعت کو پورا کرنا لازمی ہے کیونکہ ہر وعدہ اللہ ہی کے نام پر اس کا ذمہ بن جاتا ہے
2 قسموں کا استحکام — جب کسی بات پر پکی قسم کھا کر اسے مضبوط کر لیا جائے تو اسے بلاوجہ توڑنا منع ہے
3 اللہ کی ضمانت — عہد یا قسم کھاتے وقت انسان اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن اور نگران ٹھہراتا ہے، اس لیے غداری کرنے کا مطلب اللہ کے نام کی توہین کرنا ہے۔
4 فریب کاری کی ممانعت — موقع پرستی یا دشمن کی کثرت دیکھ کر مفاد کے تحت پرانے معاہدے ختم کرنا اور قسموں کو فریب کا ذریعہ بنانا سخت گناہ ہے
5 إلہی علم کا دائرہ — انسان خفیہ طور پر یا ظاہر میں جو بھی عمل کرتا ہے، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے اور وہ اس کا حساب لے گا۔
3 مختصر جوابات

فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

آیت میں تلاوت قرآن کا کیا ادب بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

پس جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو

تلاوتِ قرآن کا ادب اور حکمت

1 آغازِ تلاوت — تلاوت شروع کرنے سے پہلے زبان سے أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ کہنا
2 شیطانی وسوسوں سے حفاظت — قاری کے دل کو شیطانی وسوسوں، خیالات اور غلط فہمیوں سے بچانا۔
3 تدبر میں آسانی — قرآن کے معنی کو صحیح طور پر سمجھنا اور شیطانی مداخلت سے پاک ہو کر ہدایت حاصل کرنا۔
4 مختصر جوابات

اُدعُ اِلٰی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالحِکمَۃِ وَ المَوعِظَۃِ الحَسَنَۃِ وَ جَادِلهُم بِالَّتِی هِیَ اَحسَنُ اِنَّ رَبَّکَ هُو اَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیلِہٖ وَ هُو اَعلَمُ بِالمُهتَدِینَ

آیت میں کون سے اسلوب دعوت بیان ہوئے ہیں؟

ترجمہ

اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو، بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے گمراہ ہوا اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے

اسلوب دعوت (ادعوا الی سبیل...) کی وضاحت

1 الحکمت (حکمت) — بات کو اس کے صحیح موقع محل پر رکھنا، واضح اور پکی دلیل پیش کرنا۔
2 مخاطب کی ذہنی حالت اور فہم کو دیکھ کر مدلل بات کرنا
3 الموعظۃ الحسنۃ (اچھی نصیحت) — دل کو نرم کرنے والی، ترغیب و تہیب پر مشتمل مؤثر اور نرم باتیں۔ عام لوگوں کے لیے دلنشین انداز جو انہیں نیکی کی طرف مائل کرے۔
4 وجادلھم بالتی ھی احسن (بہترین انداز میں بحث) — اگر مخالف سے مکالمہ یا مناظرہ کرنا پڑے تو سختی یا بدزبانی کے بجائے نرمی، شرافت اور بہترین دلائل کا استعمال کرنا
5 مختصر جوابات

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ

آیت کی رو سے اللہ کا قرب کن لوگوں کو حاصل ہوتا ہے؟

ترجمہ

بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو ڈر گئے (پرہیزگار بنے) اور ان لوگوں کے جو نیکی کرنے والے ہیں

اللہ کا قرب حاصل کرنے والے لوگ

1 متقی (ڈرنے والے) — جو اللہ کی نافرمانی، گناہوں اور برائیوں سے بچتے ہیں۔
2 محسن (نیکی کرنے والے) — جو خلوصِ نیت کے ساتھ اچھے اعمال کرتے ہیں اور عبادت و معاملات میں حسنِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَٰكِنْ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے رہے، اس سے متعلق ضرور تمہاری بازپرس ہوگی

1 ۱. جبری ہدایت کے بجائے اختیاری امتحان — اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر وہ چاہتا تو دنیا کے تمام انسانوں کو پیداائشی طور پر ایسا بنا دیتا کہ سب ایک ہی دین پر ہوتے اور کوئی گمراہی کا راستہ اختیار نہ کرتا (جیسے فرشتے اللہ کے حکم کے پابند ہیں)۔ لیکن اللہ نے دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے اور انسان کو سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے۔
2 ۲. ہدایت اور گمراہی کا الٰہی قانون — آیت میں ذکر ہے کہ "وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے"۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات کی روشنی میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ:
3 ۲. ہدایت اور گمراہی کا الٰہی قانون — گمراہی کس کا حصہ بنتی ہے؟ — جو شخص خود حق سے منہ موڑتا ہے، ضد اور تکبر کرتا ہے، اللہ اس کی نیت کے مطابق اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے جسے گمراہی کہا گیا ہے۔
4 ۲. ہدایت اور گمراہی کا الٰہی قانون — ہدایت کسے ملتی ہے؟ — جو سچے دل سے حق کو تلاش کرتا ہے، نیکی کی تڑپ رکھتا ہے اور کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہدایت کے راستے کھول دیتا ہے۔
5 اعمال کی جوابدہی (حساب کتاب) — آیت کا آخری حصہ سب سے اہم ہےاور جو کچھ تم کرتے رہے، اس سے متعلق ضرور تمہاری بازپرس ہوگی"۔
جواب یہ جملہ واضح کرتا ہے کہ انسان مجبورِ محض نہیں ہے۔ اگر انسان بالکل مجبور ہوتا تو اس سے سوال جواب کرنا عدل کے خلاف ہوتا۔ چونکہ انسان کو اچھے اور برے راستے کا انتخاب کرنے کی آزادی دی گئی ہے، اس لیے قیامت کے دن ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہوگا اور اس سے ایک ایک عمل کا حساب لیا جائے گا۔
7 تفصیلی جوابات

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةًوَ لَنَجزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعمَلُوْنَ

پاکیزہ زندگی عطا کی جانے کی کیا شرائط بیان ہوئی ہیں ؟

ترجمہ

جو شخص نیک عمل کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور وہ باایمان ہو، تو ہم ضرور اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ان کے اچھے اعمال کا بہترین بدلہ بھی انہیں ضرور دیں گے

پاکیزہ زندگی کی شرائط اور اہم نکات

1 صحیح ایمان — دل میں اللہ اور اس کے رسول پر کامل یقین رکھنا شرطِ اول ہے۔
2 عملِ صالح — شریعت کے مطابق اچھے اور نیک کام کرنا ضروری ہے۔
3 برابری کا اصول — مرد اور عورت دونوں کے لیے نیکی اور اجر کا یکساں معیار ہے۔
4 دنیوی و اخروی انعام — اس شرط پر عمل کرنے والوں کو دنیا میں سکون اور آخرت میں بہترین اجر ملتا ہے
8 تفصیلی جوابات

وَلَا تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ إِنَّمَا عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔ مَا عِندَكُمْ يَفَندُ ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور اللہ کے عہد کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو، بیشک جو اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے، اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور دیں گے

1 ۔تفسیری پس منظر (شانِ نزول) اور 2۔ اہم تفسیری نکات)

1 1 ۔تفسیری پس منظر (شانِ نزول) — بیعت پر استقامت — یہ آیات مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئیں جب مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور کفارِ مکہ طاقتور تھے۔ مسلمانوں کو ترغیب دی جا رہی تھی کہ وہ حقیر دنیاوی فائدوں یا دباؤ میں آکر رسول اللہ ﷺ سے کیے گئے عہدو پیمان (بیعت) کو نہ توڑیں۔
2 2۔ اہم تفسیری نکات) — ثمنِ قلیل (تھوڑی قیمت) — مفسرین فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص عہد شکنی کے بدلے پوری دنیا کی دولت اور حکومت بھی حاصل کر لے، تو وہ بھی اللہ کے ہاں "تھوڑی قیمت" (ثمنِ قلیل) ہی ہے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے۔
3 2۔ اہم تفسیری نکات) — فانی اور باقی کا فرق — آیت 96 میں ایک آفاقی اصول بیان کیا گیا ہے۔ انسان کی جمع کردہ دولت، عہد "ینفد" باق ہیں یعنی ختم ہو جانے والی ہیں جبکہ اللہ کے پاس موجود ثواب، رحمت اور جنت ینفد یعنی ہمیشہ رہنے والی ہیں۔
4 2۔ اہم تفسیری نکات) — صبر کرنے والوں کا اجر — جو لوگ دنیاوی نقصانات پر صبر کرتے ہیں اور اللہ کے احکام پر جمے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال سے بڑھ کر بہترین اجر عطا فرمائے گا۔
9 تفصیلی جوابات

إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ۔ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ اجْتَبَىٰهُ وَهَدَىٰهُ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ

آیات کریمہ میں سیدنا ابراہیمؑ کی کیا شان بیان فرمائی گئی ہے؟

ترجمہ

بے شک ابراہیم ایک امت (پیشوا) تھے، اللہ کے فرمانبردار، ہر باطل سے الگ رہنے والے (حق کی طرف یکسو) اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں چن لیا تھا اور انہیں سیدھی راہ دکھائی تھی

سیدنا ابراہیمؑ کے اوصاف و شان

1 ایک پوری امت (جامع کمالات شخصیت) — آپ اکیلے ہی وہ فرد تھے جو پوری دنیا میں توحید کا علم بلند کیاوہ کام کر دکھایا جو ایک پوری جماعت یا امت کرتی ہے۔
2 قانت (دائمی فرمانبرداری) — آپ ہر حال میں اللہ کے مطیع اور اس کے احکام کے آگے سر جھکانے والے تھے۔
3 حنیف (یکسوئی) — آپ سب سے کٹ کر صرف ایک اللہ کی طرف مائل اور ہر قسم کے باطل سے بیزار تھے۔
4 شرک سے براءت — آپ کی پوری زندگی شرک سے پاک تھی اور آپ کبھی مشرکوں میں شامل نہیں رہے۔
5 شاكر لإنعمه (شکر گزاری) — آپ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا اعتراف اور شکر ادا کرنے والے بندے تھے۔
6 اجتباہ (اصطفا اور انتخاب) — اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالت اور قرب کے لیے خاص طور پر منتخب فرما لیا تھا۔
7 ہدایت علی صراط مستقیم — اللہ نے آپ کو ہمیشہ سیدھے اور سچے راستے پر قائم رکھا
10 تفصیلی جوابات

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیکُمُ المَیتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحمَ الخِنزِیرِ وَ مَا اُہِلَّ لِغَیرِ اللّٰہِ بِہٖ فَمَنِ اضطُرَّ غَیرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیمٌ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

س نے تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا ہے جس پر ذبح کے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ پھر جو شخص سخت مجبوری کی حالت میں ہو، اس طرح کہ نہ وہ خود لذت کے لیے کھانے کا خواہشمند ہو اور نہ ضرورت کی حد سے آگے بڑھنے والا ہو، تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت مہربان ہے،

چار چیزوں کی تخصیص اور اضطرار کی شرائط

1 چار چیزوں کی تخصیص — مردار — وہ جانور جو بغیر شرعی ذبح کے خود ہی مر جائے، کیونکہ اس کا خون اندر ہی جم جاتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
2 چار چیزوں کی تخصیص — بہتا ہوا خون — ذبح کرتے وقت جو خون نکلتا ہے، اس کا پینا یا استعمال حرام ہے۔
3 چار چیزوں کی تخصیص — سور کا گوشت — یہ بذاتِ خود ناپاک (نجس العین) ہے اور اس کی ممانعت قطعی ہے۔
4 چار چیزوں کی تخصیص — غیر اللہ کے نامزد جانور — وہ حلال جانور بھی حرام ہو جاتا ہے جس پر ذبح کرتے وقت اللہ کے علاوہ کسی اور (جیسے بتوں، جنوں یا بزرگوں) کا نام لیا جائے یا ان کے تقرب کے لیے منسوب کیا جائے۔
5 اضطرار کی شرائط — اسلامی فقہ کے مطابق جان بچانا فرض ہے۔ اگر کوئی شخص صحرا یا ایسی جگہ پھنس جائے جہاں بھوک سے موت کا خطرہ ہو، تو حرام کھانا اس کے لیے اس حد تک جائز ہو جاتا ہے جس سے زندگی باقی رہ سکے۔
6 اضطرار کی شرائط — غیر باغ — یعنی وہ قانونِ الٰہی سے سرکشی کرتے ہوئے یا لذت حاصل کرنے کے لیے نہ کھائے۔
7 اضطرار کی شرائط — ولا عاد — یعنی ضرورت سے زیادہ (پیٹ بھر کر یا ذخیرہ کرنے کے لیے) نہ کھائے، صرف اتنا کھائے جس سے جان بچ جائے۔
11 تفصیلی جوابات

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللّٰهِ فَأَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ

آیت میں ناشکرے لوگوں کی بستی کی کیا مثال بیان کی گئی ہےاور اس میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟

ترجمہ

ور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے

بستی کی مثال اور اس کا بیان اور ہمارے لیے سبق

1 بستی کی مثال اور اس کا بیان — امورِ سکون و فراوانی — بستی پوری طرح پُر امن، مطمئن اور ہر قسم کے خوف سے آزاد تھی.
2 بستی کی مثال اور اس کا بیان — وسعتِ رزق — وہاں کے باسیوں کو روزی اور غلہ ہر سمت اور ہر مقام سے وافر مقدار میں میسر تھا.
3 بستی کی مثال اور اس کا بیان — ناشکری کا انجام — لوگوں نے رب کی دی ہوئی ان بے شمار نعمتوں کی قدر نہ کی اور ناشکری (کفرانِ نعمت) کا راستہ اپنایا.
4 بستی کی مثال اور اس کا بیان — عذاب کی لپیٹ — ناشکری کے نتیجے میں اللہ نے ان سے امن اور سکون چھین لیا اور ان کے برے اعمال کے بدلے انہیں بھوک اور خوف کی مصیبت میں مبتلا کر دیا.
5 ہمارے لیے سبق — نعمتوں کی قدر — اللہ کی دی ہوئی سکون، صحت اور رزق کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا لازمی ہے۔
6 ہمارے لیے سبق — انجامِ ناشکری — ناشکری اور سرکشی انسان سے امن اور خوش حالی چھین لیتی ہے۔
7 ہمارے لیے سبق — عذابِ الٰہی — کفرانِ نعمت اور گناہوں کی نحوست معاشرے کو بھوک، بدامنی اور خوف سے دوچار کر دیتی ہے.

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

سورۃ النحل میں ناشکرے لوگوں کی مثال کی روشنی میں ملکی حالات کا جائزہ

سورۃ النحل کی آیت 112 میں اللہ تعالی نے امن، فراغت اور پھر ناشکری کی وجہ سے بھوک اور خوف کے عذاب میں مبتلا ہونے والی بستی کی مثال دی ہے۔ اس مثال سے موجودہ ملکی حالات کا جائزہ درج ذیل طرح سےلیا جا سکتا ہے

امن و وسائل کی فراوانی اور ناشکری اور بھوک اور خوف کا عذاب

1 امن و وسائل کی فراوانی اور ناشکری — نعمتوں کا حصول — اللہ تعالی نے ملک کو قیمتی وسائل، زرخیز زمین اور صلاحیتوں سے نوازا ہے، جو اس پرامن اور فراغت والی بستی کی مانند ہیں جہاں ہر طرف سے رزق آتا تھا۔
2 امن و وسائل کی فراوانی اور ناشکری — کفرانِ نعمت — اخلاقی زوال، حق تلفی، بدعتی رویے اور وسائل کی قدر نہ کرنے کی صورت میں ہم نے عملی طور پر ناشکری کا راستہ اپنایا ہے۔
3 بھوک اور خوف کا عذاب — معاشی تنگی (بھوک) — ناشکری اور بدانتظامی کے نتیجے میں آج ملک مہنگائی، غربت اور معاشی بحران کا شکار ہے، جسے قرآن نے "بھوک کا لباس" کہا ہے۔
4 بھوک اور خوف کا عذاب — بد امنی (خوف) — معاشرے میں بے چینی، عدم استحکام اور خوف کا ماحول اسی تمثیل کا عملی عکس ہے جہاں نعمت کا حق ادا نہ ہو تو سکون چھن جاتا ہے۔
13 سرگرمیاں

سورۃ النحل کی روشنی میں حالت مجبوری میں کلمہ کفر کہنا کیسا عمل ہے؟

سورۃ النحل (آیت 106) کے مطابق، شدید جبر یا جان کے خطرے کی حالت میں زبان سے کلمہ کفر کہنا جائز ہے، بشرطیکہ دل ایمان پر پکا اور مطمئن ہو۔ یہ اصول حضرت عمار بن یسر رضی اللہ عنہ کے واقعے پر نازل ہوا جب انہیں زبردستی کفر پر مجبور کیا گیا

اہم احکام و تفاصیل

1 جان بچانے کی اجازت — اگر کسی کو قتل یا شدید نقصان کا ڈر ہو تو جان بچانے کے لیے زبان سے کلمہ کفر بولنا گناہ نہیں۔
2 دل کا اطمینان — شرط یہ ہے کہ دل اندر سے ایمان پر قائم رہے اور کفر کی تائید نہ کرے۔
3 رضا مندی کا گناہ — جو لوگ بغیر کسی مجبوری کے خوشی اور رضا مندی سے کفر کو اپنائیں، ان پر اللہ کا سخت غضب اور عذاب ہے,
14 سرگرمیاں

اللہ کی طرف سے رزق کی تقسیم کی حکمتیں اور معاشرتی مساوات

اللہ تعالیٰ نے رزق میں کمی بیشی اپنی حکیمانہ حکمت کے تحت رکھی ہے، جیسے کہ باہمی تعاون، آزمائش، اور معاشرتی نظام کا استحکام۔ اس تقسیم کا مقصد کسی کی توہین نہیں بلکہ دنیا کے نظام کو چلانا ہے

رزق کی تقسیم کی حکمتیں اور معاشرتی مساوات اور ذمہ داریاں

1 رزق کی تقسیم کی حکمتیں — باہمی انحصار — اگر سب ایک جیسے مال دار ہوتے، تو کوئی کسی کی خدمت نہ کرتا اور معاشرہ نہ چلتا۔
2 رزق کی تقسیم کی حکمتیں — امتحان — مال و دولت اور غربت دونوں انسان کے لیے آزمائش ہیں۔
3 رزق کی تقسیم کی حکمتیں — صبر و شکر — غریب کے لیے صبر اور امیر کے لیے شکر کا موقع فراہم کرنا۔
4 معاشرتی مساوات اور ذمہ داریاں — زکوٰۃ و صدقات — اسلام دولت کے ارتکاز کو روکنے کے لیے زکوٰۃ کا نظام دیتا ہے۔
5 معاشرتی مساوات اور ذمہ داریاں — حقوق العباد — امیروں کے اموال میں غریبوں کا حصہ مقرر کیا گیا ہے۔
6 معاشرتی مساوات اور ذمہ داریاں — انصاف — معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور حاجت مندوں کی مدد کرنا۔

شان نزول

15 شان نزول

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ

1 شانِ نزول — جب نبی کریم ﷺ کفارِ مکہ کو اللہ کے عذاب اور قیامت سے ڈراتے تھے، تو وہ مضحکہ اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ "وہ عذاب کب آئے گا؟" یا "اگر تم سچے ہو تو عذاب جلدی کیوں نہیں لے آتے؟اس اصرار اور عذاب کے لیے جلدی مچانے پر یہ آیت نازل ہوئیاللہ کا حکم (عذاب یا قیامت) آ پہنچا، اب اس کی جلدی نہ مچاؤ"
16 شان نزول

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ

1 شانِ نزول — یہ آیت ابی بن خلف (یا بعض روایات کے مطابق عاص بن وائل) کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ مکہ کے دیگر سرداروں کے ہمراہ ایک بوسیدہ ہڈی لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اسے ہاتھ سے چورا چورا کر کے ہوا میں اڑاتے ہوئے بولا: "کیا اللہ اس مٹی ہو جانے والی ہڈی کو بھی دوبارہ زندہ کرے گا؟" اس پر اللہ نے انسان کی اوقات یاد دلائی کہ اسے ایک حقیر قطرے سے پیدا کیا گیا اور وہ اپنے ہی خالق کے سامنے کھلم کھلا جھگڑالو بن گیا ہے
17 شان نزول

ہجرت کرنے والوں کا اجر

1 شانِ نزول — یہ آیات حضرت صھیب رومیؓ، حضرت بلالؓ، حضرت عمار بن یاسرؓ اور خباب بن الارتؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کے حق میں نازل ہوئیں۔ ان مظلوم صحابہ کو قریش کے مکہ نے قبولِ اسلام کی وجہ سے شدید ترین جسمانی اور مالی اذیتیں دیں، یہاں تک کہ انہوں نے دین کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اللہ نے ان کی قربانی کے بدلے دنیا اور آخرت میں بہترین ٹھکانے کی ضمانت دی
18 شان نزول

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ...

1 شانِ نزول — حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت کے مطابق، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے کہ عثمان بن مظعونؓ وہاں سے گزرے۔ آپ ﷺ نے انہیں اپنے پاس بٹھایا اور گفتگو شروع فرمائی۔ اسی دوران آپ ﷺ پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی اور حضرت جبرائیلؑ یہ جامع آیت لے کر نازل ہوئے، جس میں تین اچھے کاموں (عدل، احسان اور صلہ رحمی) کا حکم اور تین برے کاموں (بے حیائی، برائی اور ظلم) سے روکا گیا ہے。 عثمان بن مظعونؓ کے دل پر اس آیت کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ ان کا ایمان پکا ہو گیا اور انہوں نے جا کر ولید بن مغیرہ کو یہ آیت سنائی۔
19 شان نزول

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ

1 شانِ نزول — مکہ کے مشرکین مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے یہ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ محمد (ﷺ) کو یہ قرآن اللہ کی طرف سے نہیں ملتا، بلکہ مکہ میں رہنے والا ایک جَبْر نامی رومی غلام (جو عیسائی یا اہل کتاب تھا اور تلواریں بناتا تھا) آپ ﷺ کو یہ باتیں سکھاتا ہے。 اس جھوٹے الزام کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ جس شخص کی طرف تم اشارہ کرتے ہو اس کی زبان تو عجمی (غیر عربی) ہے، جبکہ یہ قرآن بالکل واضح اور فصیح عربی زبان میں ہے
20 شان نزول

مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ...

1 شانِ نزول — جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، یہ آیت حضرت عمار بن یاسرؓ کے حق میں نازل ہوئی。 مشرکین نے ان پر، ان کے والد یاسرؓ اور والدہ سمیہؓ پر بے پناہ ظلم ڈھایا۔ والدین نے جان دے دی مگر کلمہ کفر نہ کہا۔ عمارؓ نے اپنی جان بچانے کے لیے بظاہر مجبوری میں زبان سے وہ الفاظ کہہ دیے جو مشرکین چاہتے تھے، لیکن دل ایمان پر قائم تھا۔ اس پر اللہ نے رخصت نازل فرمائی
21 شان نزول

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا...

1 شانِ نزول — یہ آیت مکہ کے ان کمزور مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ہجرتِ مدینہ کے وقت پیچھے رہ گئے تھے اور مشرکین نے انہیں دوبارہ کفر کی طرف لوٹانے کے لیے قید کر رکھا تھا اور فتنے میں ڈال دیا تھا۔ بعد میں جب ان صحابہ کو موقع ملا تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مدینہ بھاگ نکلے اور راہِ خدا میں جہاد کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فتنے میں ڈالے جانے اور ہجرت کرنے کے بعد (ان کی خطاؤں کے لیے) آپ کا رب بڑا غفور و رحیم ہے۔
22 شان نزول

غزوہ احد اور مثلہ کا بدلہ

1 شانِ نزول — سورہ النحل کا یہ آخری رکوع غزوہ احد کے بعد مدینہ منورہ میں نازل ہوا (اسی لیے ان آیات کو مدنی کہا جاتا ہے)。 جب مشرکین نے سید الشہداء حضرت حمزہؓ کا پیٹ چاک کیا اور ان کے اعضاء کاٹے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے چچا کی یہ حالت دیکھ کر شدید دکھ کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میں ان کے بدلے ان کے (کفار کے) 70 آدمیوں کا مثلہ کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھنے سے منع فرمایا اور صبر کو انتقام پر ترجیح دی، جس پر آپ ﷺ نے اپنا ارادہ ترک کر کے صبر فرمایا。

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.