آیت "وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ لَا تُحۡصُوۡهَاؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ" قرآن مجید کی ایک انتہائی جامع اور فکر انگیز آیت ہے، جس کا مطلب ہے: "اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک اللہ ضرور بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے". یہ آیت قرآن کریم میں دو جگہوں پر معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے: سورہ ابراہیم، آیت 34(جہاں آخر میں انسان کو ظالم اور ناشکرا کہا گیا ہے) اور سورہ النحل، آیت 18جہاں آخر میں اللہ کی صفتِ غفور و رحیم کا ذکر. ذیل میں مفسرینِ کرام کی روشنی میں اس آیت کی تفصیلی تشریح بیان کی گئی ہے:
1
1۔لفظ "نِعْمَةَ" کی بلاغت (واحد کے معنی میں جمع) — عربی زبان کے اصولوں کے مطابق یہاں لفظ "نِعْمَةواحداستعمال ہوا ہے، لیکن اس سے مراد جنسِ نعمت یعنی تمام نعمتیں ہیں. مفسرین کے مطابق اگر انسان اللہ کی کسی ایک نعمت کے ذیلی اجزاء کو بھی گننا چاہے، تو اس کا احاطہ کرنا ممکن نہیں.
2
2۔ انسانی وجود اور کائنات کی نعمتیں — اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر اور باہر نعمتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ پھیلا رکھا ہے۔
3
2۔ انسانی وجود اور کائنات کی نعمتیں — اندرونی (باطنی) نعمتیں — انسانی جسم کے اعضاء کا نظام، دل کا دھڑکنا، پھیپھڑوں کا سانس لینا، اور عقلِ سلیم کا ہونا. مثال کے طور پر، ہم دن میں ہزاروں بار بغیر سوچے سانس لیتے ہیں، جو کہ بذاتِ خود لاکھوں خلیات (cells) کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے.
4
2۔ انسانی وجود اور کائنات کی نعمتیں — بیرونی (ظاہری) نعمتیں — سورج کی روشنی، پینے کا صاف پانی، زمین کی پیداوار، اور ہوا کا دباؤ جو زندگی کو برقرار رکھتا ہے.
5
3۔ لفظ "لَا تُحْصُوْهَا" (تم احاطہ نہیں کر سکتے) کی وضاحت — عربی میں "احصاء" کا مطلب صرف گنتی کرنا نہیں، بلکہ کسی چیز کو مکمل طور پر اپنے ضبط اور قابو میں لانا ہے. مفسرین (جیسے ابنِ عاشور) فرماتے ہیں کہ انسان ان نعمتوں کے صرف اصولوں اور بنیادی اقسام کو جان سکتا ہے، لیکن ان کی گہرائی، تعداد، اور ان کے پسِ پردہ کام کرنے والے الٰہی نظام کا پورا احاطہ کبھی نہیں کر سکتا.
6
4۔ اللہ کی صفتِ غفور و رحیم سے ربط — آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا گیا کہبےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے مفسرین (جیسے ابنِ کثیر) اس کی حکمت یوں بیان کرتے ہیں
7
4۔ اللہ کی صفتِ غفور و رحیم سے ربط — تقصیر کا اعتراف — انسان پر اتنی نعمتیں ہیں کہ وہ کبھی بھی ان کا پورا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ تمام نعمتوں کے برابر شکر کا مطالبہ سختی سے کرے، تو کوئی انسان پورا نہیں اتر سکتا۔
8
4۔ اللہ کی صفتِ غفور و رحیم سے ربط — رحمت الٰہی — اللہ انسان کی اس کمزوری کو جانتا ہے، اس لیے وہ انسان کی کوتاہیوں اور شکر گزاری میں کمی کو اپنی مغفرت اور رحمت سے معاف فرما دیتا ہے اور تھوڑے شکر پر بھی راضی ہو جاتا ہے۔
9
خلاصہِ درس — یہ آیت انسان کو تکبر سے نکال کر عاجزی کی طرف لاتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان جب بھی اپنے آپ کو محروم سمجھے، تو وہ اپنے وجود اور کائنات میں پھیلی ان ان گنت نعمتوں پر غور کرے جو اسے بن مانگے عطا کی گئی ہیں، تاکہ اس کا دل ہر حال میں اللہ کی محبت اور شکر گزاری سے لبریز رہے۔