دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 15: سبق 15: سورۃ النحل (آیات 1 تا 40) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 13 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ

آیت میں جوپایوں سے متعلق کس منظر کو رونق والا قرار دیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور تمہارے لیے ان میں رونق (اور دلکشی) ہے، جب تم شام کو (چراگاہ سے) واپس لاتے ہو اور جب تم صبح کو (چرانے کے لیے) لے جاتے ہو

رونق اور زینت والا منظر

1 صبح کا منظر — جب صبح کے وقت یہ جانور قطار در قطار یا ریوڑ کی شکل میں اپنے باڑوں سے نکل کر چرنے کے لیے جنگل یا چراگاہ کی طرف جاتے ہیں۔
2 شام کا منظر — جب شام کے وقت پیٹ بھرے ہوئے، صحت مند اور دودھ سے بوجھل جانور واپس اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹتے ہیں تو یہ ایک انتہائی خوش کن، شاندار اور دلفریب منظر ہوتا ہے۔
3 مال و دولت کا احساس — ان چوپایوں کی کثرت اور ان کی آمدورفت کے ان مناظر سے مالکوں کے صاحبِ ثروت ہونے، ان کی عزت و شان اور دیہاتی زندگی کے حسن و جمال کا اظہار ہوتا ہے
2 مختصر جوابات

وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

آیت میں سمندر کے کیا فوائد بیان ہوئے ہیں ؟

ترجمہ

اور وہی ہے جس نے سمندر کو تمہارے قابو میں دے دیا تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت (مچھلی) کھاؤ اور اس میں سے زیور (موتی اور صدف) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ پانی کو چیرتی ہوئی اس میں چلتی ہیں، اور (یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ تم اس کا فضل (روزی اور تجارت) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو

سمندر کے فوائد جو آیت میں بیان ہوئے ہیں

1 تازہ گوشت (خوراک — سمندر سے مچھلی اور دیگر حلال سمندری جانوروں کی شکل میں لذیذ اور تازہ خوراک کا حصول۔
2 زینت اور زیور — سمندر کی تہہ سے موتی، مونگے اور قیمتی سیپیاں نکالنا جنہیں انسان زیبائش اور زیورات کے لیے استعمال کرتا ہے۔
3 بحری سفر اور نقل و حمل — سمندر میں بڑی کشتیوں اور جہازوں کا پانی کا سینہ چیرتے ہوئے سفر کرنا
4 تجارتی فضل اور رزق — سمندری راستوں کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ سامان لے جا کر تجارت کرنا اور اللہ کا فضل (روزی) کمانا۔
5 شکرگزاری کا احساس — ان تمام عظیم نعمتوں کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی دی ہوئی آسانیوں کو پہچان کر اس کا شکر گزار بنے
3 مختصر جوابات

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ

آیت کے مطابق زمین میں پہاڑوں کو جمانے کا کیا مقصد بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے کہ وہ تمہیں ہلا نہ دے اور نہریں اور راستے بنائے، تاکہ تم منزل تک پہنچ جاؤ

پہاڑوں کو جمانے کے مقاصد (آیت کی روشنی میں)

1 زمین کا استحکام — زمین کو لنگر یا میخ کی طرح مضبوط کرنا تاکہ وہ اپنے اوپر بسنے والوں کو لے کر ڈول نہ جائے یا ایک طرف کو جھک نہ جائے۔
2 سکونت کا تحفظ — زمین پر انسانوں کے لیے پائیدار اور پُرسکون زندگی ممکن بنانا تاکہ شدید لرزش اور اضطراب سے بچاؤ رہے۔
3 راستے اور رہنمائی — پانی کی روانی کے لیے نہریں اور آنے جانے کے لیے راستے بنانا تاکہ لوگ اپنی منزلوں اور مقاصد تک باآسانی پہنچ سکیں۔
4 مختصر جوابات

وَعَلَامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ

آیت میں ستاروں کے کیا فوائد بیان ہوئے ہیں ؟

ترجمہ

اور (راستوں کے لیے) کئی نشانیاں بنائیں اور ستاروں سے بھی لوگ راستہ معلوم کرتے ہیں

آیت میں ستاروں کے فوائد

1 سمت کا تعین — رات کے تاریک اور طویل سفروں میں (خصوصاً صحراؤں اور سمندروں میں جہاں کوئی پختہ راستہ یا علامت نہ ہو) مسافر ستاروں کی پوزیشن دیکھ کر اپنی منزل اور صحیح سمت کا تعین کرتے ہیں۔
2 راہنمائی — یہ ستارے انسان کے لیے قدرت کا ایسا نظام ہیں جو بھٹک جانے کی صورت میں درست راستہ دکھاتے ہیں۔
5 مختصر جوابات

إِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ فَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٌ وَهُم مَّسْتَكْبِرُونَ

آیت کی روشنی میں منکرین آخرت کی دو خصلتیں بیان کریں

ترجمہ

تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، پس جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل (حق کے) منکر ہیں اور وہ تکبر کرنے والے ہیں

آیت مبارکہ کی روشنی میں منکرینِ آخرت کی درج ذیل دو بنیادی خصلتیں بیان کی گئی ہیں۔

منکرین آخرت کی دو خصلتیں

1 دلوں کا انکار (قلوبہم منکرۃ) — ان کے دل توحید اور حق بات کو تسلیم کرنے سے عاری اور ان کے منکر ہوتے ہیں، کیونکہ وہ اکیلے اللہ کی وحدانیت کو قبول کرنا نہیں چاہتے۔
2 تکبر و سرکشی (مستکبرون) — وہ غرور اور تکبر میں مبتلا ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے واضح دلائل اور حق سامنے آنے کے باوجود وہ اس کی پیروی نہیں کرتے

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ۔ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ۔ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو۔ اور اللہ کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو کسی شے کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ تو خود بنائے جاتے ہیں۔ وہ مُردے ہیں، زندہ نہیں ہیں، اور انہیں اتنا بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے

مفہوم و تشریح

1 اللہ کا کامل علم (آیت 19) — اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان خواہ اپنے دل میں کوئی بات چھپائے یا زبان سے کھلے عام کہے، اللہ تعالیٰ کی ذات سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں۔ وہ انسان کے ہر عمل اور نیت سے پوری طرح باخبر ہے اور اسی بنیاد پر قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
2 معبودانِ باطل کی عاجزی (آیت 20) — مشرکین جن بتوں یا ہستیوں کو اللہ کے سوا پکارتے اور ان کی پوجا کرتے ہیں، ان کی حقیقت یہ ہے کہ وہ خود مخلوق ہیں۔ وہ کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کے بھی خالق نہیں ہیں بلکہ انہیں تو خود انسان پتھروں یا لکڑیوں سے تراش کر بناتے ہیں۔
3 بے جان اور بے خبر معبود (آیت 21) — جن کی پوجا کی جا رہی ہے وہ بے جان پتھر یا مردہ ہستیاں ہیں جن میں زندگی اور حس کا نام و نشان نہیں۔ انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ قیامت کے دن انہیں یا ان کے پوجنے والوں کو دوبارہ کب زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ جو خود اتنے بے بس اور لاشعور ہوں، وہ کسی کو کیا نفع یا نقصان پہنچائیں گے۔
7 تفصیلی جوابات

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَن اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّن هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُم مَّن حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ ۚ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور بیشک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ (لوگو!) تم اللہ کی عبادت کرو اور شیطان (یا بت پرستی) سے بچو۔ پھر ان میں بعض وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور بعض وہ ہیں جن پر گمراہی ثابت ہو گئی۔ سو تم زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

مفہوم

جواب اللہ تعالی نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ سے یہ اصول رکھا ہے کہ ہر دور اور ہر قوم میں اپنے پیغمبر بھیجے، جن کا بنیادی اور مشترکہ پیغام صرف ایک اللہ کی بندگی اور ہر قسم کے باطل معبودوں یا طاغوت کی اطاعت سے انکار تھا۔ ان رسولوں کی دعوت پر کچھ لوگوں نے حق کو قبول کیا اور ہدایت پا گئے، جبکہ جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کا راستہ اپنایا وہ گمراہی کے مستحق ٹھہرے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انبیاء کو جھٹلانے والی قومیں آخرکار تباہی اور بربادی سے دوچار ہوئیں
8 تفصیلی جوابات

وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ بَلَى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ۔ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ كَانُوا كَاذِبِينَ۔ إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ

آیات کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور وہ لوگ بڑی پکی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ کسی مرنے والے کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔ کیوں نہیں! (ضرور زندہ کرے گا) یہ اس کا سچا وعدہ ہے جو اس کے ذمے ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ یہ دوبارہ اٹھانا اس لیے ہوگا) تاکہ وہ ان کے سامنے اس بات کو کھول دے جس میں وہ اختلاف کرتے تھے، اور تاکہ منکرین جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔ ہم جب کسی چیز (کے پیدا کرنے) کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمارا قول صرف یہی ہوتا ہے کہ ہم اس سے کہتے ہیں "ہو جا" تو وہ ہو جاتی ہے

1 تفصیلی تفسیر و نکات — ۱۔ منکرین کا اصرار اور اللہ کا جواب (آیت ۳۸) — جهد أيمانهم (پکی قسمیں) — مشرکینِ مکہ اللہ کے وجود کو مانتے تھے، اسی لیے اللہ ہی کی قسم کھاتے تھے، لیکن وہ اللہ کی قدرت کاملہ اور آخرت سے منکر تھے۔
2 تفصیلی تفسیر و نکات — ۱۔ منکرین کا اصرار اور اللہ کا جواب (آیت ۳۸) — وعداً عليه حقاً (سچا وعدہ) — اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا کوئی اتفاقی بات نہیں، بلکہ یہ کائنات کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہے جس کا وعدہ اللہ نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے، کیونکہ اس کے بغیر دنیا کا انصاف نامکمل ہے۔
3 ۲۔ دوبارہ زندہ کرنے کی حکمت (آیت ۳۹) — قیامت کیوں ضروری ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دو بڑی حکمتیں بیان فرمائیں
4 ۲۔ دوبارہ زندہ کرنے کی حکمت (آیت ۳۹) — حق کا واضح ہونا — دنیا میں انسانوں کے درمیان عقائد، نظریات اور دین کے معاملے میں جو اختلافات ہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سب کا آخری فیصلہ فرما کر حق کو بالکل صاف اور واضح کر دے گا۔
5 ۲۔ دوبارہ زندہ کرنے کی حکمت (آیت ۳۹) — مجرموں پر حجت قائم کرنا — جو لوگ دنیا میں آخرت اور رسالت کا مذاق اڑاتے تھے، انہیں عملاً دکھا دیا جائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور انبیاء کرام سچے تھے۔
6 ۳۔ اللہ کی قدرتِ کاملہ (آیت ۴۰) — کن فیکون (ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے) — انسان جب کوئی چیز بناتا ہے تو اسے مٹی، گارے، وقت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا چاہتا ہے، تو اسے کسی مادی ذریعے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
7 ۳۔ اللہ کی قدرتِ کاملہ (آیت ۴۰) — وہ صرف ارادہ فرماتا ہے اور حکم دیتا ہے "ہو جا" اور وہ چیز فوراً وجود میں آ جاتی ہے۔ جس رب کے لیے پہلی بار پیدا کرنا یا ایک لفظ سے کائنات بنانا ممکن ہے، اس کے لیے گلی سڑی ہڈیوں کو دوبارہ جوڑنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
9 تفصیلی جوابات

هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَكُمْ مِنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ۔ يُنْبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

آیات کی روشنی میں بارش سے حاصل ہونے والے فوائد بیان کریں

ترجمہ

وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، جس سے تم بھی پیتے ہو اور اس سے درخت بھی اگتے ہیں جن میں تم اپنے جانور چلاتے ہو۔ اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر طرح کے پھل اگاتا ہے، بے شک اس میں غور کرنے والے لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے

فوائد

1 پینے کا پانی — بارش کا پانی انسانوں کے لیے پیاس بجھانے اور زندگی کی بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
2 چارہ اور چراگاہی — اس پانی سے زمین پر سبزہ اور درخت اگتے ہیں جن پر جانور چرتے ہیں اور اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں۔
3 کھیتی باڑی اور غلہ — بارش کے سبب زمین سے غلے اور مختلف قسم کی فصلیں اگتی ہیں جو انسان کی خوراک بنتی ہیں۔
4 باغات اور قیمتی پھل — اس کے ذریعے زیتون، کھجور، انگور اور دیگر اقسام کے لذیذ پھل پیدا ہوتے ہیں جو معیشت اور خوراک کا اہم حصہ ہیں۔
5 فکر و تدبر — بارش کے اس مکمل نظام میں عقل مندوں اور غور و فکر کرنے والوں کے لیے اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے

سرگرمیاں

10 سرگرمیاں

موجودہ دور میں جدید ذرائع نقل وحمل کی فہرست بنائیں نیز یہ ذرائع دین کی نشر و اشاعت میں کیسے استعمال ہو سکتے ہیں

جدید ذرائع نقل و حمل میں ہوائی جہاز، تیز رفتار ریل گاڑیاں اور کاریں شامل ہیں، جو دین کی نشر و اشاعت کے لیے بین الاقوامی سفر، تبلیغی اجتماعات اور علمی کورسز کے انعقاد میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں

جدید ذرائع نقل و حمل کی فہرست اور دین کی نشر و اشاعت میں ان کا استعمال

1 جدید ذرائع نقل و حمل کی فہرست — ہوائی جہاز — چند گھنٹوں میں طویل فاصلے طے کرنے اور عالمی سطح پر علمی و تبلیغی دورے کرنے کے لیے۔
2 جدید ذرائع نقل و حمل کی فہرست — تیز رفتار ٹرینیں — زمینی راستے سے شہروں اور ملکوں کے درمیان محفوظ اور کم وقت میں سفری رابطے کے لیے۔
3 جدید ذرائع نقل و حمل کی فہرست — موٹر گاڑیاں اور بسیں — مقامی سطح پر، دیہات اور شہروں کے قریب علمی و دینی اجتماعات تک رسائی کے لیے۔
4 دین کی نشر و اشاعت میں ان کا استعمال — علماء کا سفر — داعیان اور مبلغین کم وقت میں دور دراز علاقوں تک پہنچ کر پیغامِ حق پہنچا سکتے ہیں
5 دین کی نشر و اشاعت میں ان کا استعمال — علمی وفود/تعلیمی اور تربیتی وفود مختلف ممالک میں جا کر ورکشاپس اور سیمینار منعقد کر سکتے ہیں۔
6 دین کی نشر و اشاعت میں ان کا استعمال — دینی اجتماعات — دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کرنے اور باہمی مشاورت کے لیے ان ذرائع سے بروقت رسائی ممکن ہوتی ہے۔
11 سرگرمیاں

آیت "و ان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا " کی وضاحت کریں

آیت "وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ لَا تُحۡصُوۡهَاؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ" قرآن مجید کی ایک انتہائی جامع اور فکر انگیز آیت ہے، جس کا مطلب ہے: "اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک اللہ ضرور بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے". یہ آیت قرآن کریم میں دو جگہوں پر معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے: سورہ ابراہیم، آیت 34(جہاں آخر میں انسان کو ظالم اور ناشکرا کہا گیا ہے) اور سورہ النحل، آیت 18جہاں آخر میں اللہ کی صفتِ غفور و رحیم کا ذکر. ذیل میں مفسرینِ کرام کی روشنی میں اس آیت کی تفصیلی تشریح بیان کی گئی ہے:

1 1۔لفظ "نِعْمَةَ" کی بلاغت (واحد کے معنی میں جمع) — عربی زبان کے اصولوں کے مطابق یہاں لفظ "نِعْمَةواحداستعمال ہوا ہے، لیکن اس سے مراد جنسِ نعمت یعنی تمام نعمتیں ہیں. مفسرین کے مطابق اگر انسان اللہ کی کسی ایک نعمت کے ذیلی اجزاء کو بھی گننا چاہے، تو اس کا احاطہ کرنا ممکن نہیں.
2 2۔ انسانی وجود اور کائنات کی نعمتیں — اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر اور باہر نعمتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ پھیلا رکھا ہے۔
3 2۔ انسانی وجود اور کائنات کی نعمتیں — اندرونی (باطنی) نعمتیں — انسانی جسم کے اعضاء کا نظام، دل کا دھڑکنا، پھیپھڑوں کا سانس لینا، اور عقلِ سلیم کا ہونا. مثال کے طور پر، ہم دن میں ہزاروں بار بغیر سوچے سانس لیتے ہیں، جو کہ بذاتِ خود لاکھوں خلیات (cells) کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے.
4 2۔ انسانی وجود اور کائنات کی نعمتیں — بیرونی (ظاہری) نعمتیں — سورج کی روشنی، پینے کا صاف پانی، زمین کی پیداوار، اور ہوا کا دباؤ جو زندگی کو برقرار رکھتا ہے.
5 3۔ لفظ "لَا تُحْصُوْهَا" (تم احاطہ نہیں کر سکتے) کی وضاحت — عربی میں "احصاء" کا مطلب صرف گنتی کرنا نہیں، بلکہ کسی چیز کو مکمل طور پر اپنے ضبط اور قابو میں لانا ہے. مفسرین (جیسے ابنِ عاشور) فرماتے ہیں کہ انسان ان نعمتوں کے صرف اصولوں اور بنیادی اقسام کو جان سکتا ہے، لیکن ان کی گہرائی، تعداد، اور ان کے پسِ پردہ کام کرنے والے الٰہی نظام کا پورا احاطہ کبھی نہیں کر سکتا.
6 4۔ اللہ کی صفتِ غفور و رحیم سے ربط — آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا گیا کہبےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے مفسرین (جیسے ابنِ کثیر) اس کی حکمت یوں بیان کرتے ہیں
7 4۔ اللہ کی صفتِ غفور و رحیم سے ربط — تقصیر کا اعتراف — انسان پر اتنی نعمتیں ہیں کہ وہ کبھی بھی ان کا پورا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ تمام نعمتوں کے برابر شکر کا مطالبہ سختی سے کرے، تو کوئی انسان پورا نہیں اتر سکتا۔
8 4۔ اللہ کی صفتِ غفور و رحیم سے ربط — رحمت الٰہی — اللہ انسان کی اس کمزوری کو جانتا ہے، اس لیے وہ انسان کی کوتاہیوں اور شکر گزاری میں کمی کو اپنی مغفرت اور رحمت سے معاف فرما دیتا ہے اور تھوڑے شکر پر بھی راضی ہو جاتا ہے۔
9 خلاصہِ درس — یہ آیت انسان کو تکبر سے نکال کر عاجزی کی طرف لاتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان جب بھی اپنے آپ کو محروم سمجھے، تو وہ اپنے وجود اور کائنات میں پھیلی ان ان گنت نعمتوں پر غور کرے جو اسے بن مانگے عطا کی گئی ہیں، تاکہ اس کا دل ہر حال میں اللہ کی محبت اور شکر گزاری سے لبریز رہے۔
12 سرگرمیاں

ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت " کی وضاحت کریں

أن اعبدوا الله واجتنبوا الطاغوت کا مفہوم ۔صرف اللہ کی عبادت کرنا اور ہر قسم کے باطل معبودوں، سرکشوں اور طاغوت سے بچنا ہے۔ یہ توحید کی بنیاد اور تمام انبیاء کی دعوت کا مرکزی نکتہ ہے

توحید اور عبادت اور طاغوت سے اجتناب

1 توحید اور عبادت — اللہ کی بندگی — اس کا مطلب ہے کہ انسان صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود مانے، اسی کے سامنے سجدہ کرے اور اسی سے دعا مانگے۔
2 توحید اور عبادت — تابعداری — زندگی کے ہر معاملے میں صرف اللہ کے حکم کو ماننا اور اس کی شریعت کو حتمی سمجھنا عبادت کا حصہ ہے۔
3 طاغوت سے اجتناب — طاغوت کی تعریف — ہر وہ چیز جو اللہ کی بندگی کی حد سے تجاوز کرے اور لوگوں کو اپنی بندگی یا نافرمانی کی طرف بلائے، طاغوت ہے۔
4 طاغوت سے اجتناب — بچنے کا طریقہ — شیطان، بت، اور ہر وہ حاکم یا قانون جو اللہ کے حکم کے خلاف ہو، طاغوت کہلاتا ہے۔ اس کی اطاعت سے انکار کرنا لازمی ہے۔
13 سرگرمیاں

موجودہ دور میں راستے معلوم کرنے کے جدید طریقے

جدید دور میں راستے معلوم کرنے کے لیے گلوبل پوزیشننگ سسٹم، ڈیجیٹل نقشے اور سمارٹ فون ایپس استعمال کی جاتی ہیں

جدید ٹیکنالوجی اور طریقے

1 جی پی ایس — خلائی سیاروں کے ذریعے زمین پر کسی بھی جگہ کی درست پوزیشن اور وقت کا تعین۔
2 گوگل میپس — دنیا بھر میں روٹس، ٹریفک کی صورتحال اور لائیو ڈائریکشنز تلاش کرنے کا مقبول ترین ذریعہ۔
3 وویز — ریئل ٹائم ٹریفک الرٹس، حادثات اور متبادل راستے بتانے والی ایپ۔
4 نیویگیشن — بول کر یا سن کر ہدایات حاصل کرنے کی سہولت، جو ڈرائیونگ کے دوران محفوظ رہنمائی کرتی ہے

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.